’اپنے اوپر مقدمات کی سنچری کی طرف بڑھ رہا ہوں‘
سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’ڈرٹی ہیری کے تشدد اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کا معاملہ اجاگر کرنے پر‘ وہ اپنے خلاف مقدمات کی سنچری کی طرف بڑھ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہTwitter
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات ڈیجیٹل مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں کے بعد ہی ممکن ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ آئین کے تحت مردم شماری نوٹیفائی ہونے پر چار ماہ تک الیکشن نہیں ہوسکتے بلکہ نئی حلقہ بندیوں میں ’اگر کسی صوبے میں سیٹیں بڑھتی ہیں تو بڑھیں گی۔‘
سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’ڈرٹی ہیری کے تشدد اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کا معاملہ اجاگر کرنے پر‘ وہ اپنے خلاف مقدمات کی سنچری کی طرف بڑھ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا ذریعہAPP
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات ڈیجیٹل مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں کے بعد ہی ممکن ہوسکتے ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’الیکشن عمران خان کے مطابق ہوئے تو ملک مکمل طور پر عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا، ملک انارکی اور افراتفری کا شکار ہوجائے گا۔ مردم شماری ہونی چاہیے اور اس کی بنیاد پر سیٹیں تقسیم ہونی چاہیے۔ اگر کسی صوبے کی سیٹیں بڑھتی ہیں تو بڑھیں۔ اس کے مطابق یہ الیکشن پورے ملک میں جنرل الیکشن ہونا چاہیے۔ دو اسمبلیوں کا پھر تین کا، یہ نہیں ہونا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مردم شماری 30 مارچ تک مکمل ہوجائے گی۔ اگر 30 مارچ کو مردم شماری مکمل ہونے کے بعد نوٹیفائی ہوگئی تو اس کے بعد آئین کے تحت آپ اگلے چار ماہ تک الیکشن نہیں کروا سکتے۔ اس چار ماہ میں ہر صورت نئی حلقہ بندی کرنا ہوگی اور اس حلقہ بندی کے بعد الیکشن ہوں گے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’31 جولائی تک حلقہ بندی ہوگی لہذا الیکشن نہیں ہوسکیں گے۔ 31 جولائی سے آگے 90 روز میں الیکشن ہوجائیں گے۔‘
’اس وقت وہ مردم شماری ہو رہی ہے جس کی منظوری اس کابینہ نے دی تھی جس کے سربراہ عمران خان تھے۔ یہ فیصلہ ہوا تھا کہ اگلا الیکشن ڈیجیٹل مردم شماری کے بغیر نہیں ہوگا۔‘
ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا نے کہا کہ ’وزیر اعظم نے کب کہا ہے کہ الیکشن کرانا میری ذمہ داری ہے؟ الیکشن کرانا چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ اگر مردم شماری نوٹیفائی ہوجائے تو یہ تو آئین کہتا ہے، میں تھوڑی کہہ رہا ہوں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’الیکشن تو ہونے ہی ہیں، معاملہ یہ ہے کہ دو مہینے پہلے یا چار مہینے آگے۔ ہم الیکشن میں جا چکے ہیں۔ کارکنان کو یہی پیغام دوں گا کہ آپ سمجھیں الیکشن میں ہیں اور بھرپور تیاری کریں۔ عمران خان کو ووٹ کی طاقت سے مائنس کریں گے۔‘
انتخابات کی تاریخ کے معاملے میں گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے 7 یا 8 مارچ کو الیکشن کمیشن کے حکام کو مشاورت کی دعوت دی ہے۔
گورنر حاجی غلام علی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں الیکشن کمیشن کے خط کا جواب دیا ہے اور اعلیٰ عدلیہ کے احکامات پر من وعن عمل کیا جائے گا۔
بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں مدعی کا الزام ہے کہ انھوں نے اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
مقدمے میں درج ہے کہ ’عمران خان نے ریاستی اداروں پر بے بنیاد الزامات لگائے۔ بے بنیاد الزام لگا کر عمران خان نے عوام میں ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال پھیلایا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
سابق چیف جسٹس ریٹائر جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ انھوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کو تمام معاملات میں صادق و امین قرار نہیں دیا تھا۔
ڈان نیوز کے اینکر عادل شاہزیب کے مطابق انھیں ثاقب نثار نے بتایا کہ ان کا واٹس ایپ ہیک ہو چکا ہے جس کا مواد استعمال کر کے جعلی آڈیوز بنانے کا خدشہ ہے۔
ثاقب نثار نے کہا کہ ’سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید دعا سلام بھجواتے ہیں‘ لیکن ان کا عمران خان سے ’کوئی رابطہ نہیں‘۔
گفتگو کے دوران جب سابق چیف جسٹس سے سوال کیا گیا کہ ’پاناما لیکس کیس میں آپ پر سابق وزیراعظم اور قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف کو نااہل کروانے کے لیے جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید نے دباؤ ڈالا؟‘ تو انھوں نے جواب دیا کہ ’فیض حمید کون ہے جو مجھ پر دباؤ ڈالتا؟‘
انھوں نے کہا کہ ’میں ابھی سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ ) قمر جاوید باجوہ سے اس دعوے کے بارے میں بات کروں گا، یہ کہتے ہیں کہ میں عمران خان کے لیے عدلیہ میں لابنگ کر رہا ہوں، میں کیوں ان کے لیے لابنگ کروں گا، مجھے اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت میرے سامنے زیر سماعت جو مقدمہ تھا، میں نے انھیں اس کیس میں صادق و امین قرار دیا تھا۔ عمران خان کے باقی معاملات کا مجھے کچھ نہیں پتا تو میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ مکمل طور پر صادق و امین ہیں۔‘
اپنے فیصلے پر کی جانے والی تنقید کے حوالے سے سابق چیف جسٹس نے کہا کہ ’میں بھی انسان ہوں، مجھ سے بھی کچھ غلط فیصلے ہوئے ہوں گے، وہ فیصلے جن پر مجھے ندامت ہے یا جو مجھ سے غلط ہوئے، وہ معاملات جب عدالت میں آئیں گے تب دیکھیں گے، لیکن ایک عدالت اللہ کی بھی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہPTI
نیب لاہور کی دو رکنی ٹیم ممنوعہ فنڈنگ کیس میں نوٹس وصول کرانے زمان پارک پہنچ گئی ہے۔
تاحال نیب کی ٹیم کو عمران خاں کے گھر تک رسائی نہیں مل سکی۔ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ٹیم کو رہائش گاہ میں داخل ہونے نہیں دیا گیا۔
خیال رہے کہ نیب نے توشہ خانہ کیس میں نو مارچ کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو طلب کر رکھا ہے۔ جبکہ اسی روز عمران خان کو ممنوعہ فنڈنگ کیس میں بھی نیب لاہور کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہRADIO PAKISTAN
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو اپنے اوپر عائد الزامات کا سامنا کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہونا پڑے گا ورنہ ’انھیں پیش کر دیا جائے گا۔‘
پیر کو پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بند کمرے میں بے لگام بکواس نہیں ہوگی، نہ اداروں کو بدنام کیا جائے گا۔
’جو (اسلام آباد پولیس کی) ٹیم وارنٹ گرفتاری لے کر زمان پارک لاہور گئی تھی اس پر ڈرامہ کیا گیا۔ وہ دیوار پھلانگ کر چلے گئے۔۔۔ پھر انھوں نے وہاں آکر تقریر کر دی۔
’پولیس عدالت کے حکم سے آگاہ کرنے گئی تھی۔ وہ خود کہتے کہ مجھے عدالت کے سامنے پیش کر دیں۔ یا حاضری کی حامی بھرتے۔‘
رانا ثنا نے واضح کیا کہ ’عمران خان کو عدالت میں آ کر جواب دینا ہوگا۔ ’ہم اسے گرفتار کرنے کا کوئی شوق نہیں رکھتے۔ عدالت میں اپنے اوپر الزامات کا جواب دیں۔ عدالت سزا دیتی ہے تو بھگتیں۔۔۔ اب اپنی باری آئی ہے تو عدالت کا سامنا کرے۔ ہم عدالت کا فیصلہ تسلیم کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر وہ (عمران خان) عدالت میں پیش نہ ہوئے تو انھیں پیش کر دیا جائے گا۔‘
دریں اثنا وزیر داخلہ نے خیبر پختونخوا میں الیکشن سے متعلق مولانا فضل الرحمان کی رائے کو اہم قرار دیا اور کہا کہ پی ڈی ایم جماعتوں کے اجلاس میں اس پر غور کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے عمران خان کی طرف سے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔
سیشن جج ظفر اقبال کی جانب سے توشہ خان کیس میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری گیے گئے ہیں، جن میں انھیں سات مارچ کو پیش کرنے کا حم دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں عمران خان کے گرفتاری کے لیے اسلام آباد پولیس اتوار کے روز لاہور بھی گئی تھی تاہم کارکنوں کی جانب سے مزاحمت کے باعث یہ گرفتاری ممکن نہیں ہو سکی تھی۔
عمران خان کے وکلا نے پیر کو ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں اس وارنٹ کی منسوخی کے لیے درخواست دائر کی، جسے مختصر سماعت کے بعد سیشن جج ظفر اقبال نے مسترد کر دیا اور کہا کہ عمران خان کے وارنٹ گرفتاری برقرار ہیں۔
عمران خان کے وکیل علی بخاری نے اس حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب اس معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا عمران خان کل عدالت میں پیش ہوں گے یا نہیں۔
سپریم کورٹ کےجسٹس مظاہراکبر نقوی کے خلاف میاں داود ایڈووکیٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل میں نئی درخواست دائرکر دی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ ’جسٹس مظاہراکبر نقوی کے خلاف دائر ریفرنس کو نہ صرف جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے اور اس ریفرنس پر فیصلہ نہ آنے تک انھیں مختلف مقدمات کی سماعت کرنے والے کسی بینچ میں شامل نہ کیا جائے۔‘
درخواست گزار کے مطابق ’سپریم کورٹ کی رواں ہفتےکی پیشی فہرست سے معلوم ہوا ہے کہ جوڈیشل ریفرنس کو سماعت کے لئے مقرر نہیں کیا گیا جبکہ چیف جسٹس نےسنگین الزامات کا سامنا کرنے والےجسٹس مظاہر نقوی کو نہ صرف ایک بنچ کا سربراہ بنا دیا ہے بلکہ انھیں اپنے ساتھ بنچ میں بھی شامل کر کے ان کے سامنے مقدمات سماعت کے لیے مقرر کر دیئے ہیں جو انصاف کے اصولوں کی صریحا خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’چیف جسٹس پاکستان کے اس اقدام سے سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کے فیصلوں کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگے گا کیونکہ جس بھی بنچ میں جسٹس مظاہر نقوی شامل ہوں گے اس بنچ میں زیر سماعت تمام مقدمات کے بارے میں انصاف کے متلاشی سائلین کے دل و دماغ میں یہ شکوک و شہبات پیدا ہوں گے۔‘
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف مس کنڈکٹ، کرپشن ، اختیارات اور عہدے کے ناجائز استعمال، سیاسی و کاروباری شخصیات کے ساتھ رابطوں اور بعض شخصیات کے کہنے پر سپریم کورٹ میں بنچوں کی مشکوک تشکیل الزامات اور معلومات کی بنیاد پر ایک ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں 23 فروری 2023 کو دائر کیا۔‘
درخواست کے مطابق ’سربراہ سپریم جوڈیشل کونسل اور سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کے علاوہ اس ریفرنس کی کاپی بمعہ دستاویزات سپریم جوڈیشل کونسل کے دیگر ممبران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ احمد علی شیخ اور چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ قیصر رشید خان کو بھی ارسال کی جا چکی ہیں۔‘
دو صفحات پر مشتمل درخواست میاں داود ایڈووکیٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل میں د ائر کی ہے جس کی نقول سربراہ سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ کونسل کے دیگر4 ممبران کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط میں کو اپنی زندگی کو لاحق خطرے کا نوٹس لینے کی درخواست کی ہے اور کہا ہے کہ اگر عدالت میں پیشی انتہائی ضروری ہے تو انھیں مناسب سیکیورٹی فراہم کی جائے۔
چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’اپریل 2022 سے انھیں اپنی حکومت ختم کیے جانے کے بعد سے خطرات کا سامنا ہےجس میں ان کے خلاف ایف آئی آرز کا اندراج ، دھمکیوں اور بالآخر قتل کی ایک کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہPTI
عمران خان کے مطابق ’سابق وزیر اعظم ہونے کے باوجود مجھے مناسب سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی اور قتل کی کوشش پر ایف آئی آر درج کرنے کی بھی اجازت نہیں ملی۔‘
پی ٹی آئی کے سربراہ نے خط میں دعویٰ کیا کہ ’میرے قتل کی ایک اور کوشش کے بھی واضح اشارے مل رہے ہیں۔‘
خط کے متن کے مطابق ’ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا چیئرمین ہوں اور جہاں بھی میں جاتا ہوں قدرتی طور پر ایک بڑا ہجوم جمع ہوتا ہے جس سے سیکیورٹی کا خطرہ مزید بڑھتا ہے۔‘
چیئرمین پی ٹی آئی نے چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کی کہ وہ اقتدار میں موجود لوگوں کی جانب سے ان کو لاحق خطرات پر کارروائی کریں۔‘
چیئرمین پی ٹی آئی نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ ’موجودہ خطرات اور قتل کی ممکنہ سازش کے باعث میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ اس کا نوٹس لیں اور اگر میری عدالت میں پیشی ضروری ہو تو مناسب سیکیورٹی یقینی بنائی جائے‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایسی مثال موجود ہیں کہ سیکیورٹی کے خطرات کی صورت میں پیشی کے لیے ویڈیو لنک کی سہولت فراہم کی گئی ہے لہذا مجھے بھی ویڈیو لنک کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ بڑے ہجوم کو بھی یہاں تک آنے سے روکا جاسکے ۔‘

،تصویر کا ذریعہلیویز فورس
بلوچستان کے علاقے بولان میں بم دھماکے کے نتیجے میں بلوچستان کانسٹیبلری کے 9 اہلکار ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
کمشنر نصیر آباد ڈویژن بشیر احمد بنگلزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دھماکے کا نشانہ بننے والی گاڑی سبی سے کوئٹہ کی جانب جارہی تھی اس دوران کنبڑی پل پر ایک خود کش حملہ آور نے اپنی مو ٹر سائکل گاڑی سے ٹکرا دی۔‘ کمشنر نصیر آباد ڈویژن کے مطابق ’زخمی اہلکاروں کوطبی امداد کی فراہمی کے لیے سبی منتقل کیا گیا ہے۔‘
ببشیر احمد بنگلزئی کے مطابق ’حملے کا نشانہ بننے والے اہلکار کوئٹہ سے سبی میلے سیکورٹی فرائض سرانجام دینے کے لیے سبی گئے تھے۔‘
اس واقعے کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے ۔بلوچستان میں 24 گھنٹوں کے دوران دہشت گردی کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔
واضح رہے کہ اتوار کے روز ضلع گوادر میں زیروپوائنٹ کے قریب نلینٹ کے علاقے میں ایک پل پرسیکورٹی فورسز کی ایک گاڑی کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
گوادر میں انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق اس دھماکے میں سیکورٹی فورسز کا ایک اہلکار ہلاک اور 8 زخمی ہوگئے تھے۔ اس دھماکے سے گاڑی اور پل دونوں کو نقصان کو پہنچا تھا ۔ اس دھماکے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی ہے۔
وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے سیکیورٹی اہلکاروں کی گاڑی پر بم دھماکے کی مذمت کی ہے اور اسے دہشت گردی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے ہلاک اور زخمیوں ہونے والوں کے لواحقین سے دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اپنے بیان میں وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو انھوں نے کہا ہے کہ ’بدامنی اور عدم استحکام پیدا کر کے بلوچستان کو پسماندہ رکھنے کی سازش کی جارہی ہے۔ ایسی تمام سازشوں کو عوام کی حمایت سے ناکام بنایا جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں پیر کی صبح اوپن اور انٹر بینک میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ہفتے کے پہلے کاروبار روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں تین روپے کی کمی دیکھی گئی اور ایک ڈالر کی قیمت 279 تک گر گئی ہے ۔
واضح رہے کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں دو کاروباری دنوں میں نو روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ انٹر بینک میں بھی ڈالر کی قیمت میں تقریباً دو روپے کی کمی واقع ہو چکی ہے اور ایک ڈالر کی قیمت اس وقت 276.50 پر ٹریڈ ہو رہی ہے ۔
واضح رہے کہ دو کاروباری دنوں میں اب تک ڈالر کی قیمت میں مجموعی طور پر 8.59 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے
عمران خان کی جانب سے وارنٹ منسوخی کی درخواست سیشن کورٹ اسلام آباد میں دائر کر دی گئی ہے۔
گرفتاری کے وارنٹ منسوخ کی درخواست ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں درخواست دائر کی گئی ہے۔عمران خان کے وکیل علی بخاری عدالت میں موجود ہیں۔
واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں ایڈشنل سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کی عدم حاضری کی بنا پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہوئے ہیں۔
اسلام آباد پولیس اتوار کے روز لاہور میں عمران خان کے ناقابل عدالتی حکم کی تعمیل کروانے کے لیے زمان پارک لاہور ان کی رہائش گاہ پر پہنچی تھی ۔

لاہور ہائی کورٹ آفس نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواستوں پر اعتراض لگا دیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ آفس کے مطابق ’عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواستوں میں کچھ دستاویزات نہیں لگائیں گئی ہیں۔‘
ہائی کورٹ آفس نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواستوں کے ساتھ متعلقہ دستاویزات لف کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی قانونی ٹیم کے وکیل اظہر صدیق کی جانب اے گزشتہ رات یہ دعوی کیا گیا تھا کہ عمران خان کے خلاف تین مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواستیں چیف جسٹس ہاؤس میں دائر کی گئی ہیں۔ جبکہ چیف جسٹس نے بذریعہ رجسٹرار درخواستوں کو صبح کے لیے مقرر کر دیا ہے اور اس کی سماعت پیر کی صبح نو بجے ہو گی۔
اظہر صدیق کے مطابق حفاظتی ضمانت کی درخواستیں رمنا پولیس سٹیشن کے دو مقدمات اور توشہ خانہ کیس میں دائر کی گئی ہیں۔ ت
یاد رہے کہ اتوار کے روز اسلام آباد پولیس توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے نا قابل ضمانت وارنٹ لے کر انھیں گرفتار کرنے ان کی رہائش گاہ پر پہنچی تھی۔ لیکن ان کی گرفتاری ممکن نہیں ہو پائی تھی۔
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے اے آر وائی نیوز کا لائسنس معطل کر دیا ہے۔
پیمرا کے اعلامیے کے مطابق ’اے آر وائی نے پابندی کے اعلامیے کے باوجود رات 9 بجے کی ہیڈ لائنز میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا بیان نشر کیا۔‘
پیمرا کی جانب سے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’پیمرا نے اپنے نوٹس میں تمام ٹی وی چینلز پر عمران خان کی تقاریر پریس ٹاک ،براہ راست اور ریکارڈنگ ،دونوں صورتوں میں نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔‘
پیمرا کے نوٹس کے مطابق ’اے آر وائی نیوز نے پانچ مارچ رات 9:00 بجے اپنے نیوز بلیٹن میں عمران کی زمان پارک لاہور میں کی جانے والی تقریر کے کلپس کا مواد نشر کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہPEMRA
پیمرا نے اپنے نوٹس میں اے آر وائی کے سینئر ایگزیکٹو نائب صدر کا رات کیا جانے والا ٹویٹ شیئر کیا ہے
نوٹس میں یہ کہا گیا ہے کہ ’عماد یوسف نے پیمرا کی پابندی سے متعلق 8 بجکر 26 منٹ پرٹویٹ کی اور پھر اس کے بعد انھوں نے امتناع کے حکم کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کی ہے۔‘
پیمرا کے مطابق اے آر وائے نیوز کا لائسنس اگلے حکم تک معطل کیا جاتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی قانونی ٹیم کے وکیل اظہر صدیق کے مطابق عمران خان کے خلاف تین مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواستیں چیف جسٹس ہاؤس میں دائر کی گئی ہیں۔
اظہر صدیق نے بتایا کہ چیف جسٹس نے بذریعہ رجسٹرار درخواستوں کو صبح کے لیے مقرر کر دیا ہے اور اس کی سماعت پیر کی صبح نو بجے ہو گی۔
انھوں نے بتایا کہ حفاظتی ضمانت کی درخواستیں رمنا پولیس سٹیشن کے دو مقدمات اور توشہ خانہ کیس میں دائر کی گئی ہیں۔
اظہر صدیق کے مطابق توشہ خانہ کیس کی سماعت سنگل بینچ جبکہ تھانہ رمنا کے کیسز کی سماعت دو رکنی بینچ کرے گا۔
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی تقاریر اور بیانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
پیمرا نے تمام سیٹلائٹ چینلز کو ہدایت کی ہے کہ عمران خان کا لائیو یا ریکارڈ کوئی بھی خطاب، بیان یا گفتگو نشر نہ کی جائے۔
پیمرا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عمران خان ریاستی اداروں پر بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں اور اپنے اشتعال انگیز بیانات سے ریاستی اداروں اور افسران کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر نہیں ہو سکی ہے جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وکلا عدالت سے واپس روانہ ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ آج شام توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت لے کر پی ٹی آئی رہنما اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ لاہور ہائی کورٹ پہنچے تھے۔
اس سے قبل اسی کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے لیے اسلام آباد پولیس کی ٹیم آج دوپہر زمان پارک پہنچی تھی۔
تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر نے اعلان کیا ہے کہ عمران خان بدھ سے انتخابی مہم شروع کریں گے۔ ‘
ان کے مطابق ’پہلی انتخابی مہم بدھ سے لاہور سے شروع کریں گے اور اس کے وقت اور روٹ سے متعلق تفصیلات سے کل آگاہ کیا جائے گا۔‘
انھوں نے دعوی کیا کہ ’یہ عام ریلی نہیں ہو گی بلکہ اس کی قیادت عمران خان کریں گے۔
حماد اظہر نے کہا ’جہاں جہاں سے اس ریلی کا گزر ہو گا وہاں پورے لاہور سے لوگ عمران خان کا استقبال کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ ’سندھ حکومت سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کر رہی ہے۔ تاہم اگر سیلاب متاثرین سے متعلق وعدے پورے نہ کیے گئے تو معاملہ برداشت سے باہر ہو جائے گا۔‘
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ’ سیلاب متاثرین کی مدد کا وزیر اعظم نے وعدہ کیا ہے تو اس کو انھیں پورا کرنا ہو گا۔ ایسا نہ ہوا تو پیپلز پارٹی کو وزارتوں میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔‘
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس وقت حکومت کی تمام توجہ معاشی بحران کو دور کرنے کے لیے ہونا چاہیے۔