بلوچستان
کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے بلیلی میں ایک خودکش دھماکے میں کم از کم ایک
پولیس اہلکار سمیت تین افراد ہلاک جبکہ پولیس اہلکاروں سمیت 25 افراد زخمی ہو گئے
ہیں۔
سول
ہسپتال کوئٹہ کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق دھماکے میں ایک پولیس اہلکار سمیت
تین افراد ہلاک ہوگئے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے ۔
ہلاک
ہونے والے افراد کی شناخت زینب ، محمد ابراہیم اور عدنان کے ناموں سے ہوئی ۔
دھماکے
میں 24افراد زخمی ہوگئے جن میں ڈی آئی جی پولیس کے مطابق 20 پولیس اہلکار شامل ہیں
۔
پولیس
حکام کے مطابق دھماکے کا نشانہ پولیس اہلکار تھے جو کہ پولیو ٹیم کی حفاظت کرنے کی
ڈیوٹی سرانجام دینے کے لیے ایک ٹرک میں کچلاک کی جانب جا رہے تھے ۔
دھماکے
کی شدت زیادہ ہونے کے باعث پولیس اہلکاروں کا ٹرک الٹ گیا اور پولیس اہلکار کی
ہلاکت ٹرک کے نیچے آنے کے باعث ہوئی۔
ڈی
آئی جی کوئٹہ پولیس اظفر مہیسر کا کہنا ہے کہ دھماکہ خود کش تھا جس کے لیے اندازاً
20 سے 25 کلو گرام دھماکہ خیز مواد
استعمال کیا گیا۔
دھماکہ کے واقعہ کا کہاں پیش آیا ؟
دھماکے کا واقعہ کوئٹہ شہر سے اندازاً 15 کلومیٹر دور شمال میں بلیلی کے علاقے میں پیش آیا۔
دھماکے کی زد میں آنے کے باعث پولیس کی گاڑی سمیت تین گاڑیایوں کو نقصان پہنچا۔ دھماکے میں جن دو دیگر گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے ان میں ایک مہران کار اور ایک کرولا کار شامل ہے۔
ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی شدت زیادہ ہونے کے باعث پولیس اہلکاروں کا ٹرک سڑک کے قریب ایک کھائی میں جا گرا۔
دھماکے کے بارے میں پولیس حکام کا کیا کہنا ہے؟
دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس اظفر مہیسر نے بتایا کہ پولیس اہلکار ڈیوٹی دینے جارہے تھے کہ ان کو بلیلی میں نشانہ بنایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں پولیس کے ٹرک سے ایک رکشہ ٹکرا۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو دھماکہ خیز مواد رکشے میں تھا یا اس کے اندر خود کش حملہ آور تھا کیونکہ ایک خود کش حملہ آور کی لاش دھماکے کی جگہ سے کچھ فاصلے پر پڑی ملی ہے۔
ڈی آئی جی پولیس نے کہا کہ فوری طور پر یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ دھماکے کے لیے کتنا مواد استعمال میں کیا گیا تاہم جائے وقوعہ سے جو اندازہ ہوتا ہے اس کے مطابق دھماکے کے لیے 20سے25 کلو دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا ہوگا کیونکہ اس سے پولیس کی گاڑی الٹ گئی۔
پولیس اہلکار کہاں جارہے تھے ؟
پولیس اہلکار بلیلی بائی پاس سے شہر سے کچلاک کی جانب پولیو مہم کے سلسلے میں ڈیوٹی دینے جارہے تھے ۔
ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس کا کہنا تھا کہ سکیورٹی خطرات ہر وقت رہتے ہیں لیکن پولیو کا خاتمہ ایک قومی مسئلہ ہے جس کے لیے ڈیوٹی ہمیں دینا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی پولیو ٹیموں پر حملے ہوتے رہے ہیں چونکہ پولیو کا خاتمہ ہمارا مشن ہے اس لیے یہ ہماری ڈیوٹی ہے کہ پولیو کے خلاف مہم میں جو ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں ان کو ہم مکمل تحفظ فراہم کریں۔
بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے کوئٹہ میں پہلے بھی بم دھماکوں اور اس نوعیت کی بدامنی کے دیگر واقعات پیش آتے رہے ہیں تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں ایسے واقعات میں کمی آئی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور وزیر برائے داخلہ امور میر ضیاءاللہ لانگو نے کوئٹہ میں پولیس ٹرک پر دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بزدلانہ حملہ قرار دیا ہے۔
اپنے اپنے الگ الگ بیانات میں انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں سے امن کے ہمارے عزم کو کمزور نہیں کیا جاسکتا اور سکیورٹی فورسز کے حوصلے بلند اور عزم مضبوط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بیرونی قوتوں کی ایما پر بننے والے دہشتگردی کے منصوبے کو خاک میں ملا کر اپنے محافظوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔