آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران خان کا فوری الیکشن کے لیے 25 مئی کو لانگ مارچ، جب ہم چاہیں گے الیکشن تب ہو گا، مریم اورنگزیب کا جواب

تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان ملک میں عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے مطالبے پر لانگ مارچ کے لیے 25 مئی کی تاریخ دی ہے اور فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں غیرجانبدار رہے۔

لائیو کوریج

  1. ’کان کھول کر سن لیں جب ہم چاہیں گے الیکشن تب ہو گا‘: مریم اورنگزیب

    پاکستان کی اتحادی حکومت کی وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے ’کان کھول کے سُن لیں جب ہم چاہیں گے الیکشن تب ہو گا۔

    پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے فوری الیکشن کے لیے 25 مئی کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کا اعلان ہم نے کرنا ہے، چیخیں پیٹیں روئیں دھمال ڈالیں الیکشن کا فیصلہ حکومت اور اتحادیوں نے کرنا ہے، الیکشن چاہئیے تھا تو تب کرواتے جب اقتدار سے چمٹے ہوئے تھے اور اختیار رکھتے تھے۔‘

    پاکستان مسلم لیگ ن کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر سلسلہ وار ٹویٹ پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’الیکشن سے متعلق آپ کے پاس اب کوئی اختیار نہیں ہے۔ چار سال ملک اور عوام کو لوٹنے والا 25 مارچ کو پھر اسلام آباد لوٹ مار کے نئے ایجنڈے کے ساتھ آرہا ہے۔

    عمران صاحب چار سال کی ناکامیوں، نااہلیوں اور کرپشن کی معافی مانگنے اسلام آباد آرہے ہیں۔‘

  2. پی ٹی آئی لانگ مارچ: اسلام آباد پولیس کے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ

    پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 25 مئی کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلان کے پیش نظر اسلام آباد پولیس کے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر نے آئی جی اسلام آباد کی منظوری سے نوٹفکیشن جاری کر دیا۔

    نوٹیفیکشن کے مطابق بائیس مئی سے اگلے حکم تک ملازمین کی ماسوائے ایمرجنسی کے چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

  3. لانگ مارچ کے اسلام آباد داخلے پر فیصلہ اتحادی حکومت کے سربراہی اجلاس میں ہو گا: رانا ثنا اللہ

    عمران خان کے لانگ مارچ کے حوالے سے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اتحادی حکومت کے سربراہاں کا فورم جو فیصلہ کرے گا اس کے مطابق اس معاملے کو دیکھا جائے گا۔

    پاکستان کے مقامی نیوز چینل جیوز نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان شہزاد اقبال کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتےہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی ذاتی رائے میں عمران خان کے لانگ مارچ کو اسلام آباد داخلے کی اجازت نہیں دینی چاہیے اور انھیں وہیں روکنا چاہیے۔ تاہم یہ فیصلہ اتحادی حکومت کے سربراہی اجلاس میں ہو گا۔

    انھوں نے پروگرام میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ عمران خان کا ماضی کا ریکارڈ خراب ہے، وہ جھوٹے اور یو ٹرن کے ماہر ہیں، وہ سڑکوں پر فساد پھیلانا چاہتے ہیں اس لیے ان کے لانگ مارچ کو وفاقی دارالحکومت میں آنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    ان کا کہنا تھا کہ سربراہی اجلاس میں جو بھی فیصلہ ہو گا اس کے مطابق حکمت عملی اپنائی جائے گی، اگر انھیں آنے کی اجازت دی گئی تو اس کے مطابق عوام کے جان و مال کو محفوظ بنائے گے۔ انھوں نے کہا اگر انھیں روکنا کا کہا گیا تو ’انھیں گھروں سے نہیں نکلنے دیں گے۔‘

  4. اب پاکستان دشمنی کے خلاف ڈٹ جانے کا وقت آ گیا ہے: مریم نواز شریف

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے تحریک انصاف کے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جب بھی ملک ترقی کی طرف بڑھنے لگتا ہے، عمران خان اپنا جتھہ لے کر پاکستان پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔

    اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ’ 22 کروڑ عوام کی تقدیر کے فیصلے جتھوں اور فتنہ بازوں کے ہاتھ میں نہیں دے سکتے۔ اب اس پاکستان دشمنی کے خلاف ڈٹ جانے کا وقت آ گیا ہے۔ ڈٹ جانا چاہیے۔‘

  5. اگر عمران خان پرامن رہتے ہیں تو انھیں اسلام آباد آنے دینا چاہیے، قمر الزمان کائرہ

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور موجودہ حکومت کے مشیر قمر الزمان کائرہ کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان پر امن لانگ مارچ کرنا چاہتے ہیں تو میری ذاتی رائے میں انھیں اسلام آباد میں آنے کی اجازت دے دینی چاہیے۔

    پاکستان کے مقامی نیوز چینل جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان شہزاد اقبال کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے، وہ شوق سے اسلام آباد آئیں اور اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کریں۔

    انھیں قانون کی خلاف ورزی اور صورتحال خراب نہیں کرنی چاہیے۔

  6. حکومت کو گھر بھیج کر نئے انتخابات کی طرف بڑھنے کا وقت آ گیا: شاہ محمود قریشی

  7. لانگ مارچ کا اعلان پاکستان کے خلاف ’عمرانی سازش‘ ہے: حمزہ شہباز

    وزیر اعلٰی پنجاب حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان پاکستان کے خلاف ’عمرانی سازش‘ ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد لانگ مارچ کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اور ان کے حواریپاکستان اور پاکستانی عوام کے خیرخواہ نہیں۔ یہ وقت لانگ مارچ کا نہیں بلکہ مل کر ملک کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کا ہے۔

    حمزہ شہباز کے جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں منفی رویے ملک کے استحکام کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔قومی مفاد ات کے خلاف مصروف عمل کرداروں کو اتحاد کی قوت سے روکنا ہوگا۔ ماضی میں بھی انہی کرداروں نے دھرنوں اور احتجاج کی سیاست سے قومی معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں فیصلے سڑکوں پر نہیں ہوتے، عمران خان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی سیاست نے ان کے غیر جمہوری طرز عمل کو بے نقاب کر دیاہے۔

    قوم کسی کو بھی انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی اور عمران خان اپنی انا کی تسکین کی خاطر پوری قوم کو یرغمال نہیں بنا سکتے۔

  8. ’عمران خان اگر ملک میں خانہ جنگی چاہتے ہیں تو ان کا گریبان اور قوم کا ہاتھ ہو گا‘

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان اگر خدانخواستہ ملک میں خانہ جنگی کرانا چاہتے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے، قوم یہ سازش ناکام بنا دے گی۔

    لاہور میں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) کے دورے کے موقع پر میڈیا سےگفتگو کر تے ہوئےوزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی جانب سے اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’عمران خان اگر ملک میں خانہ جنگی کروانا چاہتے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے، قوم انھیں نہیں چھوڑے گی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ قوم عمران نیازی کو معاف نہیں کرے گی، تمہارا گریبان ہوگا اور اس قوم کا ہاتھ ہوگا۔‘

    وزیراعظم شہباز شریف نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نے اس قوم کو اخلاقی طور پر تباہ کر دیا ہے، جو الفاظ انھوں نے استعمال کیے اس سے پوری قوم کے سر شرم سے جھک گئے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’عمران نیازی دن رات نیب پر سوار رہتا تھا، میں کوٹ لکھپت جیل آیا تو کہا گیا شہباز شریف کو زمین پر سلاؤ، مجھے بکتر بند گاڑی میں بٹھایا تاکہ ہچکولے لگیں اور کمر میں درد ہو، میں نے 2018 میں کہا تھا کہ چارٹرآف اکانومی کریں، لیکن اسے حقارت سےٹھکرا دیا گیا۔‘

  9. دارالحکومت کے گھیراؤ کی اجازت نہیں مل سکتی: سعد رفیق

  10. ’عمران خان خیبرپختونخوا سے لانگ مارچ کی قیادت کریں گے‘

    25 مئی کو لانگ مارچ کے اعلان کے بعد ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں جہاں سابق وزیراعظم عمران خان نے ساری قوم کی اسلام آباد کی سرینگر ہائی وے پہنچنے کی خواہش ظاہر کی ہے وہیں یہ بھی بتایا ہے کہ وہ خیبرپختونخوا سے آنے والے قافلے کی قیادت کریں گے۔

    خیال رہے کہ خیبر پختونخوا وہ واحد صوبہ ہے جہاں عمران خان کی جماعت تحریکِ انصاف کی حکومت ہے۔

  11. عمران خان کی حکومت کو ان کے احتجاج میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی وارننگ

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے عوام سے کہا ہے کہ وہ اسلام آباد پہنچنے کے لیے جلد از جلد نکلیں کیونکہ اُنھیں خدشہ ہے کہ اس مارچ کو روکنے کے لیے مواصلاتی ذرائع بند کیے جا سکتے ہیں۔

    اُنھوں نے بیوروکریسی اور پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اُنھوں نے کوئی غیر قانونی کام کیا تو وہ ان کے خلاف ایکشن لیں گے۔

    عمران خان نے کہا کہ اگر آپ نے ہمارے پرامن احتجاج کے خلاف کوئی کارروائی کی تو یہ غیر قانونی ہو گا۔

    اُنھوں نے فوج کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نیوٹرل ہیں تو اس میں بھی نیوٹرل رہیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان اس سے پہلے کئی مرتبہ فوج پر تنقید کر چکے ہیں کہ ملک کے خلاف سازش کے دوران وہ ’نیوٹرل‘ رہے۔

    عمران خان نے اسمبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کی تاریخ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن صاف اور شفاف ہونے چاہییں، اگر قوم ان چوروں کو لانا چاہتی ہے تو بے شک لے آئے مگر کوئی باہر سے ہم پر ان کو مسلط نہ کرے۔

  12. بریکنگ, لانگ مارچ 25 مئی کو، اسلام آباد پہنچیں میں آپ کو سری نگر ہائی وے پر ملوں گا: عمران خان

    تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے عوام سے اپیل کی ہے وہ 25 مئی کو اسلام آباد پہنچیں جہاں وہ دوپہر تین بجے ان سے سرینگر ہائی وے پر ملیں گے۔

    اُنھوں نے کہا کہ جتنی بھی دیر اسلام آباد میں رہنا پڑے گا، رہیں گے۔ صرف مطالبہ یہ ہے کہ الیکشن کی تاریخ دی جائے اور اسمبلیاں تحلیل کی جائیں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی جماعت کے پرامن احتجاج کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو یہ غیرقانونی عمل ہو گا اور وہ ایسا کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیں گے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس، بیورکریسی، فوج سب ان کے اپنے ادارے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ’میں اپنی فوج کو بھی کہتا ہوں کہ آپ نیوٹرل ہیں، آپ نے کہا کہ آپ نیوٹرل ہیں، نیوٹرل رہیں اس میں۔‘

  13. عمران خان کی پریس کانفرنس: لانگ مارچ کے حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا ہے

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔

    اُنھوں نے اپنی پریس کانفرنس کے آغاز میں کہا کہ کور کمیٹی کے اجلاس میں لانگ مارچ سمیت دیگر معاملات پر اہم فیصلے ہوئے ہیں۔

    اس وقت وہ اپنی حکومت کے خلاف مبینہ امریکی سازش اور اپنی حکومت کی کامیابیوں کا تذکرہ کر رہے ہیں۔

  14. پرویز الہٰی کے خلاف دوبارہ تحریکِ عدم اعتماد جمع کروا دی گئی, ترہب اصغر، بی بی سی اردو، لاہور

    پنجاب اسمبلی میں اتوار کو سپیکر پرویز الہی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد نمٹائے جانے کے بعد اتوار کو ہی مسلم لیگ ن کی جانب سے سپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف دوبارہ تحریک عدم اعتماد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی ہے۔

    یہ تحریک مسلم لیگ ن کے رکن خلیل طاہر سندھو نے وفد کے ہمراہ جمع کروائی۔

    ادھر مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما رانا مشہود نے کہا ہے کہ اتوار کو پنجاب اسمبلی میں جو کچھ ہوا وہ غیرقانونی تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ آئین سے انحراف پر پرویز الہی اور اتحادیوں کے خلاف کارروائی بھی ہوگی۔

  15. کیا اب وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا کہا جا سکتا ہے؟

    پارلیمانی امور کے ماہر احمد بلال محبوب نے بی بی سی کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے 25 منحرف اراکین کی اسمبلی رکنیت ختم کرنے کے بعد اب حکومت اور اپوزیشن کسی کے پاس اکثریت نہیں رہی ہے۔ ان کے مطابق عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے اسمبلی کے کل ارکان کی اکثریت درکار ہوتی ہے جو کہ پنجاب اسمبلی میں 186 ارکان بنتے ہیں۔

    احمد بلال محبوب کے مطابق سپیکر پرویز الہیٰ نے یہ اجلاس اس وجہ سے بھی جلدی بلایا ہوگا تا کہ اب وہ قائقام گورنر کا حلف اٹھا کر دس دن سے قبل یعنی نئے گورنر کی تعیناتی سے پہلے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا کہہ سکیں۔ اگر انھوں نے ایسا کیا تو پھر وزیراعلیٰ کو اس وقت 186 ارکان کی حمایت حاصل نہیں ہے اور یوں وہ اپنی وزارت سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو وزیراعظم نے ان کے عہدے سے ہٹا دیا اور اس فیصلے کے خلاف انھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

    خیال رہے کہ ن لیگ کے متعدد اراکین اسمبلی نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ جن اراکین کے خلاف الیکشن کمیشن کا فیصلہ آیا ہے انھیں ابھی تک ڈی نوٹیفائی نہیں کیا گیا ہے اور چند منحرف اراکین نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق ایسے میں پرویز الہیٰ کے لیے قائمقام گورنر کی حیثیت سے بھی یہ آسان کام نہیں گا کہ وہ سپیکر کی نشست خالی چھوڑیں۔

    تاہم ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کے خلاف ابھی عدم اعتماد کی قرارداد پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے تو ایسے میں وہ بھی ایوان کی کارروائی کی صدارت نہیں کر سکیں گے۔ احمد بلال محبوب کے مطابق ڈپٹی سییکر سے یہ خطرہ ہو سکتا ہے کہ اگر وہ صدارت کریں تو کہیں حکومتی اراکین کی رکنیت منسوخ نہ کر دیں اور مزید کوئی چیلنج نہ کھڑا کر دیں۔

  16. پنجاب اسمبلی کا اجلاس مختصر کارروائی کے بعد 6 جون تک ملتوی, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس مختصر کارروائی کے بعد 6 جون تک ملتوی ہو گیا۔ اجلاس کی صدارت پینل آف چیئر کے وسیم خان بدوزئی نے کی اور سب سے پہلے سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر کارروائی ایجنڈے پر سرفہرست تھی۔

    مگر اس وقت اجلاس میں اس قرارداد کو پیش کرنے والے مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی سمیع اللہ خان ہال میں موجود نہیں تھے جس پر اس قرارداد کو بغیر ووٹنگ کے ہی نمٹا دیا گیا یعنی یہ قراردار خارج کر دی گئی۔

    خیال رہے کہ ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک انصاف کی تحریک عدم اعتماد پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی حالانکہ پہلے ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تھی۔

    جب سپیکر پرویز الہیٰ کے خلاف قرارداد پیش کی گئی تو اس وقت پاکستان مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے ارکان اسمبلی ہال میں موجود نہیں تھے۔ جب بعد ن لیگ اور اتحادی جماعتوں کے اراکین آئے تو پھر وہ حکومتی بینچز پر بیٹھ گئے مگر اس وقت تک اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہونے کا اعلان کیا جا چکا تھا۔

  17. پنجاب اسمبلی کا دروازہ کھول دیا گیا، ارکان پنجاب اسمبلی ایوان کے اندر جانا شروع

    پنجاب اسمبلی کا دروازہ کھول دیا گیا ہے۔ اس وقت ارکان پنجاب اسمبلی ایوان کے اندر جانا شروع ہو گئے ہیں۔ کچھ دیر میں اجلاس شروع ہونے کا امکان ہے۔

  18. پنجاب اسمبلی جائیں گے، اسے واگزار کرائیں گے: حکومتی ارکان

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا مشترکہ اجلاس ہوا ہے، جس میں اس پر اتفاق ہوا کہ اسمبلی کے ایوان میں غیرمتعلقہ افراد کا قبضہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ میڈیا کو اندر جانے کی اجازت دی جائے اور تمام اراکین پنجاب اسمبلی کو اندر جانے کی اجازت دی جائے۔

    ان کے مطابق پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کا ابھی نوٹیفکیشن نہیں ہوا۔ ہمارے پاس 197 اراکین صوبائی اسمبلی کی اکثریت موجود ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی سیکیورٹی ٹیم کو اسمبلی میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی، اسمبلی کو مکمل سیل کیا گیا ہے۔

    سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی ہوئی ہے لیکن اس پر کارروائی نہیں کروائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اسمبلی کو سیل کرنا غیرقانونی و غیرآئینی اقدام ہے۔ سپیکر خود بھی ابھی تک اپنے گھر پر چھپ کر بیٹھا ہے۔

    پی پی پی کے پارلیمانی لیڈر سید مرتضیٰ حسن نے کہا کہ ہماری کسی سے ذاتی لڑائی نہیں ہے، یہ پارلیمان کی بالادستی کی لڑائی ہے۔ ہم ایوان کو غیر متعلقہ افراد سے آزاد کروائیں گے، پرامن لوگ ہیں اور پرامن احتجاج ہمارا حق ہے۔

    ملک احمد خان نے کہا کہ اسمبلی کے بیرونی دروازوں پر سیاہ یونیفارم والے اپنے لوگ تعینات کر رکھے ہیں۔ جب ڈپٹی سپیکر پر حملہ ہوا تو پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کردار ادا نہ کرتے تو کیا کرتے ہائی کورٹ کے حکم پر وزیراعلیٰ کا الیکشن کروایا گیا۔ صدر کے حکم پر پنجاب اسمبلی کے ایوان کو انڈر مائن کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے ایوان کے اندر غنڈے بٹھائے ہوئے ہیں، ان سب کے خلاف قانونی کارروائی پر شور شرابا کیسا ہے۔ میڈیا کو اندر جانے کی اجازت ملنی چاہیے۔

  19. ترین اور علیم گروپ فارغ، میں ابھی بھی وزیراعلیٰ کا امیدوار ہوں: سپیکر پنجاب اسملبی پرویز الہیٰ

    سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہیٰ نے جیو ٹی وی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب سے ترین اور علیم گروپ کا صفایا ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن کے منحرف اراکین کے خلاف فیصلے کے بعد اب صورتحال یہ ہے کہ اب ان کا ایک بندہ بھی نہیں بچا۔

    چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا کہ جس طرح پولیس کا استعمال کیا جا رہا ہے اور اسمبلی اجلاس کے رستے میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں یہ آئین کی توہین کر رہے ہیں، یہ قانون کی توہین کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب اسمبلی کا یہ روٹین کے مطابق اجلاس ہوگا اور حکومتی فسطائیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ابھی بھی تحریک انصاف اور اپنی جماعت کی طرف سے وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں۔