تفتیشی اداروں میں مبینہ حکومتی مداخلت پر سپریم کورٹ کا از خود نوٹس

پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تفتیشی اداروں میں مبینہ طور پر حکومتی مداخلت سے متعلق از خود نوٹس لیا ہے اور اس کی سماعت انیس مئی کو دن ایک بجے سپریم کورٹ کا پانچ لارجر بینچ دن ایک بجے اس کی سماعت کرے گا۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا !

    پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم اس صفحے کو مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    19 مئی 2022 سے بدلتی ملکی سیاسی صورتحال اور اس سے متعلق واقعات کے بارے میں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. بریکنگ, تفتیشی اداروں میں مبینہ حکومتی مداخلت پر سپریم کورٹ کا از خود نوٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تفتیشی اداروں میں مبینہ طور پر حکومتی مداخلت سے متعلق از خود نوٹس لیا ہے اور اس کی سماعت انیس مئی کوسپریم کورٹ کا پانچ لارجر بینچ دن ایک بجے اس کی سماعت کرے گا۔

    سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کے مطابق چیف جسٹس نے یہ از خود نوٹس سپریم کورٹ کے جج مظاہر علی نقوی کے نوٹ پر لیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تفتیشی افسران کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور انھیں ٹرانسفر کرنے سے متعلق جج نے نوٹ میں نشاندہی کی تھی۔

    جج کے نوٹ میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز افراد مبینہ طور پر فوجداری معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں اور اس مداخلت سے پراسیکیوشن کے معاملات پر اثر انداز ہونے کے ساتھ ساتھ ثبوتوں میں ردوبدل اور شہادتیں غائب ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

    جسٹس مظاہر علی نقوی نے اپنے نوٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس مبینہ مداخلت سے ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی اور عوام کا اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔ انھوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ اعلیٰ حکام کی جانب سے لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ حکومت کے اعلی حکام کی جانب سے پراسیکوشن کے معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے جس سے حکومتی شخصیات کے خلاف تحقیقات میں پراسکیوشن کی کارکردگی متاثر ہو گی۔

    اس پانچ رکنی بینچ میں چیف جسٹس کے جسٹس اعجاز الااحسن، جسٹس منیب اختر،جسٹس میاں مظہر عالم اور جسٹس مظاہر علی نقوی شامل ہیں۔

    چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس اعجاز آلااحسن اور جسٹس منیب اختر اس پانچ رکنی بینچ کا حصہ تھے جنھوں نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق رائے دی تھی کہ کسی بھی منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں کیا جائے گا۔

    جسٹس اعجاز الااحسن کو سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے خلاف پاناما سکنڈل کے حوالے سے بنائے گئے ریفرنس کی احتساب عدالتوں میں سماعت کا نگراں جج مقرر کیا گیا تھا۔

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان عوامی جلسوں میں اس بات کی نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف فوجداری مقدمات ہیں اور انھوں نے اقتدار میں آتے ہی منی لانڈرنگ کے مقدمے کی تفتیش کرنے والے ایف آئی اے کے افسر ڈاکٹر رضوان کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا اور وہ چند دنوں کے بعد ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔

    عمران خان جلسوں میں یہ الزام بھی عائد کرتے رہے ہیں کہ ڈاکٹر رضوان کو کھانے میں ایسی اشیا ملا کر کھلائی گئیں جو کہ ہارٹ اٹیک کا سبب بنتی ہیں۔

    عمران خان نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلی کے خلاف نچلی عدالتوں میں چلنے والے مقدمات کی سماعت وہاں سے منتقل کرواکر خود کرے۔

    سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے سپریم کورٹ کی طرف سے اس از خود نوٹس لینے کے بارے میں کہا ہے کہ عدلیہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے ایگزیکٹیو کے معاملات میں مداخلت کررہی ہے۔

  3. عمران خان کا گوجرانوالہ جلسہ: ’واقعی زرداری تم ن لیگ پہ بھاری ہو‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہCourtesy: PTI Official Twitter

    تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وہاں کے عوام کو اسلام آباد مارچ کی دعوت دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کو دو وجوہات پر اسلام آباد بلا رہا ہوں: ایک تو امریکی سازش کو بے نقاب کرنا ہے اور دوسرا ان ’چور اور ڈاکوؤں‘ کو یہ بتانا ہے کہ ہم ایک آزاد قوم ہیں۔ انھوں نے بار بار عوام سے پوچھا کہ کیا ان کی حکومت کے خلاف امریکی سازش تھی یا مداخلت۔

    عمران خان نے وزیرِ اعظم شہباز شریف پر بار بار حملے کیے اور کہا کہ وہ امریکیوں کے بوٹ پالش کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جو بھی امریکی سفارت خانے سے آتا تھا وہ اس کے جوتے پالش کرتے تھے۔ عمران خان نے مسلم لیگ ن کی رہنما اور مریم نواز کو بھی سخت الفاظ میں نشانہ بنایا: ’ایک دفعہ امریکی ایمبیسی سے ایک خاتون آئی اور مریم نے اس کو اپنے گھر بلایا، اسے گاڑی سے دروازہ کھول کے اندر لائی اور جس طرح وہ چل رہی تھی امریکی خاتون کے ساتھ، صرف ایک ہی کسر رہ گئی تھی کہ وہ اس کے آگے لیٹ جائے اور کہے کہ میرے اوپر سے چل کے جاؤ تاکہ جوتے گندے نہ ہوں۔‘

    عمران خان نے کہا کہ آصف زرداری، جس کو پیسوں کی بیماری ہے وہ آج کل بہت خوش ہے کہ ساری گالیاں شہباز شریف کو پڑ رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’زرداری سینٹر میں بھی ہے، سندھ میں بھی بیٹھا ہوا ہے، پیسے بھی بنا رہا ہے اور گالیاں مسلم لیگ ن کو پڑ رہی ہیں، واقعی زرداری تم ن لیگ پہ بھاری ہو۔‘

    عمران خان نے اسلام آباد مارچ کی ابھی تک کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے، لیکن انھوں نہے یہ ضرور کہا کہ وہ ملتان کے جلسے کے بعد اس کا اعلان کریں گے۔

    سابق وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب میں گوجرانوالہ کے عوام سے کہا: ’میں اپنی بہنوں، فیملی، بچوں سب کو دعوت دیتا ہوں، سب نے آنا ہے جس طرح آزادی کی تحریک میں سب نکلے تھے اسی طرح سب نے نکلنا ہے-‘

  4. بریکنگ, وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی

    وزیر اعلیٰ بلوچستان

    بلوچستان اسمبلی میں 14 ممبران نے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی ہے۔

    تحریک عدم اعتماد سابق وزیر اعلیٰ جام کمال، تحریک انصاف کے ناراض رکن سردار یارمحمد رند، عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی رہنما اصغر اچکزئی اور سابق وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی اسمبلی نے اسمبلی اسٹاف کے حوالے کی۔ اس تحریک پر بلوچستان عوامی پارٹی کے 8، تحریک انصاف کے 4 اور عوامی نیشنل پارٹی کے تین اراکین کے دستخط ہیں۔ تحریک عدم اعتماد پر جن اراکین کے دستخط ہیں وہ ان جماعتوں کا حصہ ہیں جو کہ بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل ہیں۔

    تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد جام کمال نے کہا کہ وفاق میں جب عدم اعتماد کی تحریک چلی تو اس میں بلوچستان عوامی پارٹی نے ان کا ساتھ دیا تھا۔ ’اس موقع پر اگرچہ ہم نے وفاق میں پی ڈی ایم کے جماعتوں کے ساتھ کوئی تحریری معاہدہ تو نہیں کیا تھا لیکن ہم نے انھیں کہا تھا کہ بلوچستان میں جو ہورہا ہے اس پر ہم خاموشی اختیار نہیں کرسکتے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہم نے پی ڈی ایم کی جماعتوں سے کہا تھا کہ جب ہم بلوچستان میں تبدیلی کے لیے قدم اٹھائیں گے تو آپ لوگوں سے مشاورت کریں گے۔ جام کمال کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے لوگوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ وہ اس سلسلے میں مشاورت کریں گے اس لیے ہم دوستوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب وقت ہے کہ تبدیلی کے لیے قدم بڑھائیں۔

    انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی پلیٹ فارم سے وعدہ کیا گیا کہ وہ دوست بھی آئیں گے اور پھر آئندہ کے وزیر اعلیٰ سمیت باقی تمام معاملات کے حوالے سے مشاورت کریں گے۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے ناراض رکن سردار یار محمد رند نے کہا کہ ہم سمجھ رہے تھے کہ قدوس بزنجو جب وزیر اعلیٰ بنیں گے تو یہاں ایک تبدیلی آئے گی لیکن بعد میں بدعنوانی میں اضافہ ہوا۔ سردار یار محمد رند نے کہا کہ اب جو صورتحال ہے اس میں ہمیں قدوس بزنجو کے مقابلے میں جام کمال فرشتہ نظر آرہے ہیں ۔

    خیال رہے کہ بلوچستان میں 2018ء کے عام انتخابات کے بعد یہ دوسری تحریک عدم اعتماد ہے۔ اس سے قبل گزشتہ سال اکتوبر میں تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی جس کے نتیجے میں جام کمال کو استعفیٰ دینا پڑا تھا اور ان کے بعد میر عبد القدوس بزنجو وزیر اعلیٰ بن گئے تھے۔

  5. ’حمزہ شہباز کے خلاف عدالت جا رہے ہیں‘

    فواد چوہدری

    رہنما تحریک انصاف اور سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت حمزہ شہباز کی وزارت اعلی کے خلاف جلد عدالت سے رجوع کرے گی۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں بہت جلد پٹیشن دائر ہوگی۔

    انھوں نے دعوی کیا کہ اس وقت پنجاب میں تحریک انصاف کے پاس مسلم لیگ ن اور اتحادیوں سے زیادہ ووٹ ہیں۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ بہت جلد عمر سرفراز چیمہ بھی بطور گورنر پنجاب واپس آئیں گے ’کیوںکہ ان کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں سنی جانی ہے۔‘

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں بہتری کی کوئی امید ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ پہلے الیکشن کا اعلان ہو جائے، اس کے بعد تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں کسی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ستمبر تک الیکشن ہو جائیں۔‘

  6. عطا تارڑ: پنجاب میں حکومت تبدیل نہیں ہوگی، حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ رہیں گے

    عطا تارڑ

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER

    رہنما مسلم لیگ ن عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب میں صوبائی حکومت تبدیل ہونے نہیں جا رہی ہے اور حمزہ شہباز ہی وزیر اعلی رہیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا کیس تھا کہ منحرف ایم پی ایز نے پارٹی ڈائریکشن کے خلاف ووٹ دیا۔

    عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے دعویٰ کیا گیا کہ سات کلب روڈ پر ایک پارلیمانی میٹنگ میں ووٹ پرویز الہی کو دینے کی ہدایت دی گئی تاہم ’میں نے سات کلب روڈ کا اس دن کا گیٹ کا ریکارڈ منگوایا کہ اس دن وہاں کون آیا اور سی سی ٹی وی کی فوٹیج کی مدد سے الیکشن کمیشن میں ثابت کیا کہ اس دن ایسی کوئی پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ ہی نہیں ہوئی۔‘

    ’اگر میٹنگ ہی نہیں ہوئی، اور ہدایت ہی نہیں آئی، تو پھر کیسا انحراف۔ یہ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے۔ سپریم کورٹ کی ایڈوائزری کا اطلاق تب ہو گا جب تحریک انصاف ثابت کرے کہ پارٹی کو ہدایت جاری کی گئی تھی جس کی خلاف ورزی ہوئی۔‘

    عطا تارڑ نے کہا کہ نمبر گیم کی بات کریں تو اگر یہ اراکین ڈی سیٹ ہو بھی جائیں، تو ن لیگ اور اتحادیوں کے پاس 173 کا نمبر ہے جبکہ تحریک انصاف کے پاس 168 ووٹ بنتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے بعد پی ٹی آئی والے پنجاب حکومت ختم ہونے کی خوشیاں منارہے ہیں اور گذشتہ روز سے قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ پنجاب حکومت ختم ہوگئی۔ ’اس طرح کی تمام باتیں من گھڑت ہیں۔ وقت سے پہلے خوشیاں نہیں منانی چاہییں، آپ نے بالکل گھبرانا نہیں ہے، کچھ نہیں ہونے جا رہا۔‘

  7. پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان دوحہ میں مذاکرات کا آغاز

    آئی ایم ایف

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    مقامی میڈیا کے مطابق پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے درمیان فنڈز جاری کرنے سے متعلق مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت پاکستان آئی ایم ایف سے فوری طور پر پہلے سے دستخط شدہ معاہدے کے تحت ایک بلین ڈالر قرض کی قسط کا مطالبہ کر رہا ہے۔

    یہ مذاکرات قطر کے درالخلافہ دوحہ میں ہو رہے ہیں جو 25 مئی تک جاری رہیں گے۔

    ان مذاکرات کے لیے پاکستان کے وفد کی قیادت وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کر رہے ہیں جبکہ انھوں نے ٹوئٹر پر اس ملاقات کی تصدیق کی ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ چھ بلین ڈالر قرض کے حصول کے لیے معاہدہ کر رکھا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اسلام آباد کو ابھی تک تین بلین ڈالر ہی مل سکے ہیں۔ یہ پروگرام رواں برس کے اختتام تک اختتام پذیر ہو جائے گا۔

    خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزارت خزانہ کے ترجمان نے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹرمفتاح اسماعیل، وزیرمملکت ڈاکٹرعائشہ غوث پاشا، سیکرٹری خزانہ حامد یعقوب شیخ، سٹیٹ بینک کے قائم مقام گورنر ڈاکٹرمرتضی سید، چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد اور وزارت خزانہ کے سینیئر افسران اجلاس میں ورچوئل شرکت کررہے ہیں اور وزارت خزانہ کی ٹیم ایک روز قبل دوحہ روانہ ہوگئی تھی۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت کے تحت ساتویں جائزہ کے لیے یہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے تقریباً ایک ارب ڈالر کی قسط مل جائے گی۔

  8. راجیو گاندھی قتل کیس میں موت کی سزا پانے والا مجرم 30 سال بعد سپریم کورٹ کے حکم پر رہا

  9. انٹر بنک میں ڈالر 197 اور اوپن مارکیٹ میں 200 کی حد عبور کر گیا, تنویر ملک، صحافی

    ڈالر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں روپے کی گرتی ہوئی قدر بدھ کے روز بھی نہ سنبھل سکی جب انٹربنک میں ایک ڈالر کی قیمت میں دو روپے کا اضافہ دیکھا گیا۔ ایک ڈالر کی قیمت جو گزشتہ روز 195.74 روپے پر بند ہوئی تھی اس میں بدھ کے روز کاروبار میں اب تک 2.01 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    اس وقت ایک ڈالر کی خرید و فروخت 197.75 روپے پر کی جا رہی ہے موجودہ حکومت کے قیام سے لے کر اب تک ایک ڈالر کی قیمت میں 14.82روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت نے 200 روپے کی حدعبور کر لی۔

    اس وقت اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر کی قیمت 200.50 پر موجود ہے، جس میں گزشتہ روز کے مقابلے میں 1.50 روپے کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    پاکستان میں کرنسی ڈیلرز ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کو ملک کی خراب معیشت صورت حال سے منسلک کرتے ہیں اور ملک میں بیرونی ذرائع سے اب تک کسی فنانسنگ کا نہ آنا روپے پر مستقل دباؤ رکھے ہوئے ہے۔

    انھوں نے بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ اپنی جگہ برقرار ہے تاہم دوسری جانب اب تک نئی حکومت میں کسی بیرونی ذریعے خاص کر آئی ایم ایف اور سعودی عرب سے فنڈنگ پر کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔

  10. میری ٹیم کے سارے عظیم کام پر پانی پھیر دیا گیا ہے: عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں شکوہ کیا ہے کہ امپورٹڈ حکومت کو برسر اقتدار لا کر میری ٹیم کی طرف سے کیے جانے والے عظیم کام پر پانی پھیر دیا گیا ہے۔

    عمران خان نے لکھا کہ جب تبدیلی سرکار کی امریکی سازش کے ذریعے پی ٹی آئی کی حکومت کو ہٹایا گیا تو ہم چھ فیصدکی معاشی شرحِ نموکےحصول کےقریب تھے۔ جبکہ این آر او 2 کو اپنی اولین ترجیح بنانے والے مجرموں کےاس ٹولے نے میری ٹیم کے کیےگئے سارے عظیم کام پر پانی پھیر دیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. اتحادی چاہتے ہیں کہ حکومت مدت پوری کرے: وزیردفاع خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے تصدیق کی ہے کہ حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں اگلے سال انتخابات کی خواہاں ہیں۔

    وفاقی کابینہ کے اجلاس کی اندرونی کہانی نجی چینل جیو ٹی کو بتاتے ہوئے خواجہ آصف نے بتایا کہ جس رستے کا تعین کیا گیا ہے، سب جماعتیں اس پر متفق ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے بتایا کہ ان کی جماعت اکتوبر یا نومبر تک انتخابات کرانا چاہتی ہے تاہم سیاست میں بات چیت سے معاملات آگے بڑھائے جاتے ہیں۔

    ان کے مطابق ایک بات طے ہے کہ یہ فوری انتخابات کے امکانات نہیں ہیں۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل سابق وزیرداخلہ شیخ رشید نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ چند گھنٹوں میں اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں گی اور نئے انتخابات کا اعلان کر دیا جائے گا۔

  12. احتساب عدالت نے سابق وزیرخزانہ اسحق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری دوبارہ جاری کر دیے

    قومی احتساب بیورو یعنی نیب کی اسلام آباد میں ایک احتساب عدالت نے سابق وزیرخزانہ کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ اسحق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس میں یہ وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔

    احتساب عدالت نے اسحق ڈار کی گرفتاری سے فیصلہ مشروط کر دیا ہے یعنی جب تک اسحق ڈار کو گرفتار کرکے عدالت پیش نہیں کیا جاتا ریفرنس کی کارووائی آگے نہیں بڑھے گی۔

    احتساب عدالت نے ریفرنس کی سماعت اسحق ڈار کی گرفتاری تک ملتوی کر دیا۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریفرنس پر سماعت کی شریک ملزمان کی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ اسحق ڈار کی گرفتاری سے مشروط کر دیا گیا۔ اس مقدمے میں شریک ملزمان نے نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت ریفرنس کو عدالت میں دوبارہ چیلنج کر رکھا تھا۔

  13. گوجرانوالہ میں عمران خان کی تصاویر والے پورٹریٹ پر سیاہی پھینک دی گئی, احتشام شامی، صحافی

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہEhtisham Shami

    پاکستان کے صوبے پنجاب کے ایک اہم شہر گوجرانوالہ میں پاکستان تحریک انصاف کا آج شام کو جلسہ ہے لیکن جلسہ سے پہلے ہی نامعلوم افراد نے جی ٹی روڈ پر پی ٹی آئی کے تشہیری پوسٹرز پر سیاہی پھینک دی ہے۔ ان نامعلوم افراد نے عمران خان کی تصاویر کو خصوصی طور پر ہدف بنایا ہے ہے۔ آج شام جناح سٹیڈیم گوجرانوالہ میں ہونے والے جلسہ سے پارٹی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان خطاب کریں گے۔

    پی ٹی آئی کی طرف سے جی ٹی روڈ سمیت شہر کی اہم شاہراہوں پر تشہیری ہورڈنگز اور سٹکرز لگائے گئے ہیں۔

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہEhtisham

    رات گئے نامعلوم افراد نے ان ہورڈنگز اور سٹکرز پر سیاہی پھینک دی ہے۔

    اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ نون چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے ایم پی اے اشرف انصاری کی تصاویر پر سیاہی سے لوٹا بھی لکھا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے کارکنوں میں اس معاملے پر اشتعال پایا جاتا ہے۔

    پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ شرانگیزی کرنے والوں کی تلاش جاری ہے اور اس سلسلے میں جی ٹی روڈ پر مختلف فیکٹریوں اور تجارتی مراکز کے باہر لگے سی سی ٹی وی کیمروں سے مدد لی جارہی ہے۔

  14. سپریم کورٹ کے فیصلے کے پنجاب کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

  15. موجودہ امپورٹڈ حکومت کو جانا ہی ہے خود نہیں جائیں گے تو نکالے جائیں گے: فواد چوہدری

    سابق وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ بجائے معاملات کو اور پیچیدہ کرنے کے بہتر تو تھا کہ سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن کی تشکیل نو اور بنیادی اصلاحات پر آگے بڑھیں اور جون کے پہلے ہفتے اسمبلیاں تحلیل کر کے نئے انتخابات منعقد کرائے جاتے لیکن نادانوں کی رائے ہمیشہ چِپکے رہنے کی ہوتی ہے اور اب بھی یہی ہو رہا ہے۔

    واضح رہے کہ ڈان اخبار کو ایک وفاقی وزیر نے بتایا ہے کہ گذشتہ روز کی کابینہ میں اتحادی جماعتوں نے یہ حکومت کو بتایا ہے کہ وہ مشکل فیصلے کرے اور اسمبلی کی مدت بھی پوری کرے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت اس فیصلے سے متعلق فوجی قیادت کو بھی آگاہ کرے گی۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ عقل کی بات کی دیر سے سمجھ آتی ہے، موجودہ امپورٹڈ حکومت کو جانا ہی ہے خود نہیں جائیں گے تو نکالے جائیں گے نکالے جانے کے عمل میں ملکی معیشت کو اور نقصان پہنچا کر امپورٹڈ حکومت کس کی خدمت کرنا چاہتی ہے؟ عملی طور پر حکومت ختم ہو چکی ہے حقیقت کا ادراک کریں اورعوام کو فیصلہ کرنے دیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. آئین کی تشریح: کیا سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے سب ادارے پابند ہیں؟

  17. عمران خان: سپریم کورٹ نے لوٹوں کے خلاف فیصلہ دیا

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لوٹوں کے ووٹ رد کر دیے گئے ہیں۔

    کوہاٹ جلسے سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ نے لوٹوں کے خلاف فیصلہ دیا ہے، ہم سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ نے ملک کی اخلاقیات کو گرنے سے بچایا ہے۔‘

    ’جو لوٹ اپنے ووٹ بیچنے ہیں وہ اپنے حلقے کے لوگوں اور جمہوریت سے غداری کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ان کے ووٹ کو رد کر دیا۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اب پنجاب میں مرغی کی قیمتیں بھی نیچے آ جائیں گی۔‘

    عمران خان نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ شریف خاندان کے خلاف کیسز کی سماعت خود کرے۔ ’شریف خاندان کے کرپشن کیسز سپریم کورٹ سنے۔ ورنہ ملک کے اندر ڈاکو راج ہوگا۔ یہ سپریم کورٹ کے ججز کی ذمہ داری ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے۔‘

    ’ایف آئی اے نے باپ بیٹے کو سزا دینی تھی مگر ہمارے انصاف کے نظام نے ایسا ہونے نہ دیا۔ سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ خود یہ کیسز سنے۔ اب ہمیں اور کسی پر اعتماد نہیں رہا۔‘

  18. ’صدر کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کا جواب منفی میں دیتے ہیں‘, اقلیتی فیصلے میں دو ججز کا اکثریتی فیصلے سے اختلاف

    اقلیتی فیصلے میں دو ججز کا اکثریتی فیصلے سے اختلاف

    ،تصویر کا ذریعہSC

    آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ نے تین دو کے اکثریتی فیصلے میں کہا ہے کہ منحرف اراکین کا ووٹ شمار نہیں ہوگا اور پارلیمان ان کی نااہلی کی مدت کے لیے قانون سازی کرسکتی ہے۔

    سیاسی جماعتوں کے منحرف اراکین سے متعلق اس ریفرنس کی سماعت سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی جس میں چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے۔

    مگر دوسری طرف بینچ کے ارکان جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے بنچ کے تین ارکان سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے اقلیتی فیصلے میں لکھا کہ آئین کا آرٹیکل 63 اے اپنے آپ میں ایک مکمل کوڈ ہے جو پارلیمان کے کسی رکن کی 'ڈیفیکشن' یعنی انحراف اور اس کے بعد کے اقدام کے بارے میں جامع طریقہ کار بیان کرتا ہے۔

    بینچ کے ان ارکان نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ان کی رائے میں ’آئین کی شق 63 اے کی مزید تشریح آئین کو نئے سرے سے لکھنے یا اس میں وہ کچھ پڑھنے کی کوشش ہو گی اور اس سے آئین کی دیگر شقیں بھی متاثر ہوں گی، جو صدر نے اس ریفرنس کے ذریعے پوچھا تک نہیں ہے۔ اس لیے ایسا کرنا ہمارا مینڈیٹ نہیں۔‘

    بینچ کے ان دونوں ارکان نے کہا کہ ہم صدر کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کا جواب منفی میں دیتے ہیں۔ 'تاہم اگر پارلیمان چاہتی ہے تو وہ انحراف کرنے والے ارکان کے بارے میں قانون سازی کر سکتی ہے۔‘

  19. ’دیکھنا ہوگا فیصلے کا اطلاق کب سے ہوگا‘

    عظمی بخاری

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے رہنما ن لیگ عظمی بخاری نے کہا ہے کہ قانون کا اصول ہے کوئی بھی فیصلہ ماضی پر لاگو نہیں کیا جاتا۔

    ’(فیصلہ) آنے والے وقتوں کے لیے ہوتا ہے۔ تفصیلی فیصلے میں دیکھنا ہوگا فیصلے کا اطلاق کب سے ہوگا۔ جب منحرف اراکین ووٹ ہی نہیں ڈالیں گے تو وہ منحرف کیسے ہوں گے۔ پھر منحرف کی ڈیفینیشن کیا ہوگی۔‘

  20. کیا اس عدالتی فیصلے کے بعد سادہ اکثریتی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہیں لائی جاسکے گی؟

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہوگا۔ اس سے اب یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا اس فیصلے کے بعد سادھ اکثریت والی کسی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا عمل غیر مؤثر ہوجائے گا؟

    موجودہ قوانین کے تحت کسی بھی حکومت کے خلاف اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لاسکتی ہے اور ایسی صورت میں تمام اراکین کے ووٹ شمار ہوں گے جس کے بعد یہ تحریک کامیاب یا ناکام ہوسکتی ہے۔

    اس موضوع پر بات کرتے ہوئے قانونی ماہر سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کے فیصلے کے بعد اب اس صورتحال نے جنم لیا ہے کہ کوئی بھی رکن اسمبلی پارٹی کی ہدایت کے خلاف تحریک عدم اعتماد، بجٹ یا آئینی ترامیم میں ووٹ نہیں دے سکتے کیونکہ ان کا ووٹ شمار ہی نہیں ہوگا۔

    جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد اب اسی صورت ممکن ہے جب ایک مخلوط حکومت ہو جیسے عمران خان کی تھی اور اتحادی اپوزیشن کے ساتھ مل جائیں۔

    ’گورنر پنجاب اب وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں‘

    ماہر قانون سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ہی اب آئین کے آرٹیکل 63 اے کو پڑھا و سمجھا جائے گا۔ ’گورنر پنجاب اب وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کا انتخاب، جس میں حمزہ شہباز کو فتح حاصل ہوئی، میں منحرف ارکان کے ووٹ شمار نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق اب وزیر اعلیٰ کا انتخاب دوبارہ ہوسکتا ہے اور معاملہ عدالت میں بھی جاسکتا ہے۔

    ’عدالت کے حکم کے تحت دونوں (امیدواروں) میں دوبارہ الیکشن ہوسکتا ہے۔‘

    ان کے مطابق اگر 26 منحرف ارکان ڈی سیٹ ہوتے ہیں تو کوئی امیدوار اکثریت حاصل نہیں کر سکے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں آئین کہتا ہے کہ کل تعداد کے 50 فیصد کی بجائے دوسرے راؤنڈ میں ووٹ کرنے والے ارکان کی اکثریت جس کسی کو حاصل ہوگی وہ وزیر اعلیٰ منتخب ہوجائے گا۔

    ’اگر منحرف ارکان کے ووٹوں کے بغیر بھی حمزہ شہباز کو اکثریت ملتی ہے تو وہ وزیر اعلیٰ بنیں گے ورنہ پی ٹی آئی کے امیدوار وزیر اعلیٰ ہوں گے۔‘

    ’فیصلے کے بعد عملی طور پر پنجاب حکومت ختم ہوچکی ہے‘

    سلمان اکرم راجہ کا خیال ہے کہ پنجاب میں ایک بار پھر وزیر اعلیٰ کا الیکشن کرانا ہوگا۔ ’فیصلے سے قبل آرٹیکل 63 اے کی تشریح یہی تھی کہ منحرف رکن کا ووٹ گنا جائے گا اور اس کے بعد اگر جماعت کا سربراہ چاہے گا تو اس رکن کے خلاف کارروائی ہوگی اور اس طرح پارلیمانی پارٹی کے حکم کے خلاف ووٹ دینے پر وہ ڈی سیٹ ہوجائے گا۔

    ’لیکن آج کے فیصلے کے بعد کوئی بے وقوف رکن ہی پارٹی کی ہدایت کے خلاف ووٹ ڈالے گا کیونکہ اس کا ووٹ تو گنا ہی نہیں جائے گا۔ یہ ایک بے سود عمل ہوگا۔‘

    دوسری طرف وکیل اظہر صدیق نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ منحرف اراکین نے قومی اسبمبلی میں ووٹ کاسٹ نہیں کیا، اس لیے یہ فیصلہ ان پر لاگو نہیں ہوگا مگر پنجاب اسمبلی میں ایسے ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے اور ان کے خلاف ریفرنس بھی الیکشن کمیشن میں گیا ہوا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ 'اس فیصلے کے بعد عملی طور پر پنجاب حکومت ختم ہوچکی ہے۔'