یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔ تازہ ترین خبروں کے لیے یہاں کلک کیجیے
دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 19 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان میں اب تک دو لاکھ 37 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ حکومت نے 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کی مشروط اجازت دی ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔ تازہ ترین خبروں کے لیے یہاں کلک کیجیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر تیزی سے اضافے کے بعد انڈیا میں ریاست مغربی بنگال نے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سخت لاک ڈاؤن نافذ کرنا شروع کر دیا ہے۔
علاقے میں تمام دفاتر بند کر دیے گئے ہیں، ٹرانسپورٹ کا نظام عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور کسی قسم کی کوئی کاروباری سرگرمی جاری رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔
بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل اس ریاست کی کل آبادی 90 ملین ہے۔ آج سے لاگو ہونے والے نئی پابندیاں ایک ہفتے تک برقرار رکھی جائیں گی۔
مغربی بنگال 24،823 متاثرین کے ساتھ انڈیا کی سب سے متاثرہ ریاست بن چکی ہے۔ صرف منگل کو ہی اس ریاست میں 800 سے زائد متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہArif Ali
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایس او پیز کے ساتھ 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ ہوا ہے اور اس فیصلے پر ساتھ ساتھ نظرثانی کی جاتی رہے گی۔
وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ عید کے بعد دور دراز کے علاقوں کے طلبا کو ہاسٹل میں آنے کی اجازت مل جائے گی تاہم ان طلبا کی تعداد 30 فیصد سے زیادہ نہیں ہو گی۔
شفقت محمود نے بتایا کہ تمام تعلیمی ادارے عید کے بعد اپنے اساتذہ اور ضروری عملے کو بلا سکتے ہیں تاکہ وہ کلاسز کے لیے تیاری کر سکیں اور ایس او پیز پر آگاہی دے سکیں۔
ان کے مطابق اگر ایس او پیز پر عمل نہ کیا گیا تو وہ ادارہ بند کر دیا جائے گا اور فیڈرل پبلک کمیشن اور پبلک سروس کمیشن کے امتحانات کی بھی ایس او پیز کے ساتھ اجازت دی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPM House
وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں آئسولیشن اور وبائی امراض سے متعلق ایک نئے ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے عیدالاضحیٰ پر ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
انھوں نے کہا کہ سب نے اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں تعاون کیا ہے اور اب ہم دنیا کے ان ممالک میں ہیں جہاں متاثرین کی تعداد کم ہو رہی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ خدا کا کرم ہے کہ پاکستان میں اس وبا سے بہت کم اموات ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں آج سب کو کہنا چاہتا ہوں کہ ”اگر ہم نے اس عید پر بداحتیاطی کی تو پھر خطرہ یہ ہے کہ ایک دم یہ وائرس پھیل جائے گا۔ پھر متاثرین کی تعداد بڑھ جائے گی، جس سے ہسپتالوں پر دباؤ پڑے گا۔ اس لیے میں اپیل کرتا ہوں کہ بڑی عید سادگی سے منائیں۔‘‘
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ یہ پورے ملک کے لیے اور معیشت کے لیے ضروری ہے۔ ”ہمارے بوڑھے اور بیمار لوگوں کے لیے جن کی جان خطرے میں آجاتی ہے ان کے لیے میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ یہ عید سادگی سے منائیں۔‘‘

،تصویر کا ذریعہEPA
انڈیا کی وزارت صحت کے مطابق ملک میں ایک ہی دن میں سب سے زیادہ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 24،879 افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، جو اب تک کسی ایک دن میں متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد بنتی ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں میں انڈیا میں کورونا وائرس سے 487 افراد ہلاک بھی ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں کورونا وائرس متاثرین کی کل تعداد سات لاکھ 67 ہزار 296 ہو گئی ہے۔ ان متاثرین میں سے دو لاکھ 69 ہزار 789 افراد میں اس وائرس کی علامات پائی جاتی ہیں۔
اس وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد چار لاکھ 76 ہزار 378 بنتی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق انڈیا میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 21،129 ہو گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا پاکستان میں کورونا وائرس کی انتہا گزر چکی ہے، چل رہی ہے یا پھر ابھی آنی باقی ہے، اس سوال کا جواب ہر پاکستانی اس لیے جاننا چاہتا ہے کیونکہ اس حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
ہمارے ساتھی شجاع ملک اور ترہب اصغر نے اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس کی صورتحال کیا ہے۔ مکمل سٹوری یہاں پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیوزی لینڈ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں ہر آئسولیشن سنٹر اور قرنطینہ مرکز پر پولیس مامور رہے گی۔
یہ حکم اس وقت دیا گیا جب کورونا وائرس کا ایک 32 سالہ مریض آئسولیشن سے نکل کر آکلینڈ کی سپر مارکیٹ سیر کے لیے چلا گیا۔
اطلاعات کے مطابق وہ ایک ایسی جگہ سے باہر نکلا جہاں دوبارہ حفاظتی تار کو تبدیل کیا جا رہا تھا۔
اسی طرح اس سے قبل ایک خاتون ایک تار پر چڑھتے ہوئے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ دو گھنٹوں کے بعد وہ قریبی علاقے میں پائی گئی۔
آئسولیشن سنٹرز کی ذمہ دار وزیر میگن ووڈز کا کہنا ہے کہ جو ان آئسولیشن سنٹرز سے باہر نکلے گا وہ ایک سنگین خود غرضی مرتکب ہو گا اور ہم ایسے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹیکساس میں کورونا وائرس کی وجہ سے پانچ ماہ بعد بدھ سے سزائے موت پر دوبارہ عمل درآمد شروع ہو رہا ہے۔
سزائے موت کے قیدی 45 سالہ جو وارڈلو کی کو بدھ کو موت کی نیند سلا دیا جائے گا۔ انھوں نے 1993 میں، جب وہ 18 سال کے تھے، چوری کی تھی اور ایک 82 سالہ شخص کو قتل کیا تھا۔
منگل کو ٹیکساس نے 10 ہزار انفیکشنز کے ساتھ اپنا روزانہ انفیکشنز کا ریکارڈ تورا تھا۔
ٹیکساس کورونا وائرس کی وجہ سے لگائے گئے لاک ڈاؤن کے بعد سزائے موت کے قیدیوں کی سزا پر عمل درآمد کرنے والی پہلی ریاست نہیں ہے، اس سے قبل 19 مئی کو مائیسوری نے بھی ایک قیدی کی سزائے موت پہ عمل درآمد کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس کے متاثرین میں تیزی سے اضافے کے بعد آسٹریلین حکام نے ملک کے دوسرے بڑے شہر ملبرن میں دوبارہ لاک ڈاؤن کرنا شروع کر دیا ہے۔
ملبرن کے شہریوں کو ضروری اشیا کی خریداری کے علاوہ غیر ضروری طور پر چھ ہفتوں تک گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے چیک پوائنٹ کے ساتھ شہر کے اردگرد ایک 'سٹیل کی رِنگ` لگار رہے ہیں۔
ریاست وکٹوریا جس کا ملبرن دارالحکومت ہے کی سرحدیں منگل سے بند کی جا رہی ہیں تاکہ پڑوسی ریاستوں سے کوئی نہ آ سکے۔
وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے بدھ کو ملبرن کے رہنے والوں کے حوصلے اور استقامت کو داد دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے ایک اعلیٰ طبی عہدیدار نے کہا ہے کہ گذشتہ ماہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اوکلاہوما میں متنازع انتخابی جلسہ وہاں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں اضافے کی ممکنہ طور پر وجہ بنا۔
یہ جلسہ ریاست اوکلاہوما کے شہر ٹلسا میں منعقد کیا گیا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے شہر کے ہیلتھ ڈائریکٹر ڈاکٹر بروس ڈارٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹلسا میں گذشتہ دو روز میں کورونا کے سینکڑوں نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔
جب ان سے ایک رپورٹر نے پوچھا کہ کیا بینک آف اوکلاہوما سینٹر میں 20 جون کو ہونے والا جلسہ اس اضافے کی وجہ ہے تو انھوں نے کہا: ’گذشتہ چند دنوں میں یہاں تقریباً 500 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ اور ہم جانتے ہیں کہ تقریباً دو ہفتے قبل ہمارے پاس کئی بڑے ایونٹ منعقد ہوئے، چنانچہ میرا خیال ہے کہ ہمیں نقطے ملانے چاہییں۔‘
ان کا اشارہ بظاہر ٹرمپ کے انتخابی جلسے اور اس سے منسلک مظاہروں کی جانب تھا۔
انھوں نے خبردار کیا کہ کئی دنوں تک مزید ٹیسٹنگ کے بعد یہ معلوم ہو سکے گا کہ متاثرین کی تعداد میں اضافہ نیا رجحان ہے یا نہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیلی میکینانی نے کہا کہ انھوں نے بروس ڈارٹ کے اخذ کردہ نتائج کی بنیاد میں موجود ڈیٹا نہیں دیکھا ہے۔
ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ترجمان ٹم مرٹاؤ نے کہا ہک ’جب ہزاروں لوگ سڑکوں پر مظاہرے، فساد اور لوٹ مار کر رہے تھے تو کوئی حفاظتی تدابیر اختیار نہیں کی گئی تھیں اور میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اس سے کورونا کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا۔‘
پاکستان میں کئی لیبارٹریاں کورونا وائرس کے لیے اینٹی باڈی ٹیسٹ کر رہی ہیں۔ برطانوی ادارے پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے بھی کورونا وائرس کے لیے ایک نیا اینٹی باڈی ٹیسٹ منظور کرلیا ہے۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ اینٹی باڈی ٹیسٹ کیا ہوتا ہے اور اس کی اہمیت کیوں زیادہ ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس ان ریاستوں اور برادریوں کا بہت احترام کرے گا جو فیصلہ کرتی ہیں کہ وہ مکمل طور پر سکول نہیں کھول سکتیں۔
انڈیانا کے سابق گورنr نے رپورٹروں کو بتایا کہ ’ہم یہاں مدد کے لیے ہیں۔‘
’ہم نہیں چاہتے کہ وفاقی ہدایات مقامی قوانین اور قواعد اور ہدایات کا متبادل بنیں۔ ہم یہاں مشترکہ مقصد میں مدد کے لیے ہیں، جو کہ میرے خیال میں امریکہ میں سبھی والدین کا ہے کہ ہمارے بچے کلاس رومز میں واپس آ جائیں۔‘
ان کا لہجہ صدر ٹرمپ سے کہیں مختلف تھا جنھوں نے اس سے قبل ان سکولوں کی وفاقی فنڈنگ بند کرنے کی دھمکی تھی جو موسمِ خزاں میں نہیں کھل رہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشنز (سی ڈی سی) کی سکولوں کو دوبارہ کھولنے کی ہدایات ’بہت سخت اور مہنگی ہیں۔‘
امریکہ میں عموماً سکول اگست یا ستمبر کے اوائل میں کھلتے ہیں۔
سی ڈی سی ہدایات کے مطابق طالب علموں اور عملے کے اراکین کے لیے لازمی ہے کہ وہ چہرے کو ڈھانپے رہیں اور اگر ضروری ہو تو گھروں پہ رہیں۔ ان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سکولوں میں وقفے وقفے سے کلاسیں ہوں اور نشستیں بھی سماجی دوری کے فاصلے کے مطابق ہوں۔
تاہم مائیک پینس نے کہا کہ ایجنسی نئی ہدایات جاری کرے گی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے صوبہ سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا کے 1736 کیس سامنے آئے ہیں جن کی چیدہ چیدہ تفصیلات کچھ یوں ہیں:
سندھ میں سب سے زیادہ 1003 کیس صوبائی دارالحکومت کراچی میں سامنے آئے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر حیدرآباد آتا ہے جہاں نئے مریضوں کی تعداد 122 ہے۔
اس کے علاوہ 121 نئے کیس گھوٹکی، 77 خیرپور اور 53 دادو سے سامنے آئے ہیں۔
گذشتہ 24 گھنٹے میں تھرپارکر سے کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی گلوکار کانیے ویسٹ نے اس اعلان کے بعد کہ وہ امریکی صدارتی انتخاب میں حصہ لیں گے اپنے پہلے بڑے انٹرویو میں ویکسینیشنز کے متعلق سازشوں کی تشہیر کی ہے۔
جریدے فوربز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ کورونا وائرس کی ویکسین کے متعلق ’بہت محتاط‘ ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ ہمارے اندر چپس ڈالنا چاہتے ہیں۔‘
وہ آن لائن پڑھے جانے والے سازشی اینٹی ویکسین نظریات پر بات کررہے تھے۔ ان کے بیان نے فیس بک پر موجود ان بڑے ویکسین مخالف گرہوں کو اور مواد دیا ہے جو وبا کے متعلق بہت بے بنیاد اور عجیب و غریب دعوے کرتے رہتے ہیں۔
کورونا وائرس نے اینٹی ویکسین سازشی نظریات کو ایک نئی زندگی دی ہے، جو کہ اکثر زیادہ روایتی گروہوں میں پھیلتے ہیں، جیسا کہ مقامی علاقوں اور والدین میں۔
پبلک ہیلتھ کے ماہرین اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ویکسین منظور کر لی گئی اور دستیاب بھی ہو گئی تو اس قسم کی باتیں وبا کو روکنے کی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔
دنیا میں اب تک لاکھوں افراد کووڈ 19 سے مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں لیکن صحت یابی کا دورانیہ مختلف لوگوں میں مختلف ہو سکتا ہے۔
کم علامات والے متاثرین ایک ہفتے میں صحت یاب ہو سکتے ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق سنگین معاملات میں یہ دورانیہ ایک سال سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔


پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں کورونا کے 371 نئے کیس سامنے آنے کے بعد صوبے میں کورونا متاثرین کی تعداد 29052 ہو گئی ہے۔
خیبرپختونخوا میں مزید نو افراد اس وائرس کی وجہ سے دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد صوبے میں اس وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 1054 ہو گئی ہے۔
اب تک صوبے میں 18791 افراد اس مرض سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کورونا کے 133 نئے کیس سامنے آنے کے بعد صوبے میں متاثرین کی مجموعی تعداد 11052 ہو گئی ہے جبکہ اموات کی تعداد 124 ہے۔
محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق 8 جولائی 2020 کو کورونا کے 534 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 133 مثبت آئے۔
بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر 52243 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے41191 کے نتائج منفی آئے۔
بلوچستان میں کورونا وائرس سے اب تک 6658 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہM A Jarral
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر صحت ڈاکٹر نجیب کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 17 خواتین سمیت 40 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1459 ہو گئی ہے۔
ان کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں میں ایک ڈاکٹر اور 4 پیرا میڈکس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
ڈاکٹر نجیب نقی کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی 6 خواتین سمیت 15 افراد کا تعلق میرپور، 4 خواتین سمیت 8 افراد کا بھمبر اور 4 خواتین سمیت 9 افراد کا تعلق کوٹلی سے ہے۔
حکام کے مطابق مظفرآباد میں کورونا وائرس سے 3 خواتین سمیت 6 افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ کورونا سے متاثر ہونے والے دو افراد کا تعلق راولاکوٹ سے ہے۔
وزیر صحت مطابق مزید 40 افراد صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد اس خطے میں صحتیاب افراد کی تعداد 828 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق اب تک اس خطے میں 18476 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ لیے گئے ہیں۔
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات کے پیش نظر مزید دو علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی اصغر کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے مزید دو علاقوں میں کل 9 جولائی سہ پہر چار بجے سے زریاب کالونی اور فقیر کلے میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے گا۔
سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران ان علاقوں سے ان آوٹ انٹری بند رہے گی اور صرف ضروری اشیائے خوردنوش، ادویات، جنرل سٹور، تندور اور ایمرجنسی سروس کی دکانیں کھلی رہیں گی۔ خلاف ورزی کر نے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق ان علاقوں کی مساجد میں صرف پانچ افراد کو باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہDC Peshawar
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکہ میں ان افراد کی تعداد جن کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آئے ہیں 30 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔
امریکہ میں اب تک کووڈ۔19 سے ایک لاکھ 31 ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت بھی ہو چکی ہے۔