سید موسیٰ کلیم پوچھ رہے ہیں کہ کیا پاکستان کا پہلی بار منفی جی ڈی پی والا بجٹ عوام کے لیے آئندہ سال مزید مشکلات کا باعث بنے گا؟ جبکہ محمد رحمان کا سوال ہے کہ ایسی صورت میں حکومت بیرونی قرضے کیسے واپس کرے گی؟ علی رضا خان جاننا چاہتے ہیں کہ کیا یہ بجٹ آئی ایم ایف کی ایما پر بنایا گیا ہے؟
لاک ڈاؤن کی وجہ سے جب ملک کی معاشی سرگرمیاں رک گئیں تو اس کا براہ راست اثر ان تینوں شعبوں میں کام کرنے والے افراد اور اداروں پر ہوا جس کا نتیجہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے منفی ہونے کی صورت میں بر آمد ہوا۔ پاکستان کی نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق موجودہ مالی سال میں مجموعی قومی پیداوار کی شرح منفی 0.38 فیصد رے گی۔
70 سال میں یہ پہلا موقع ہے جب ملک کی مجموعی قومی پیداوار منفی رہے گی۔ آخری بار قیامِ پاکستان کے چند سالوں بعد مالی سال 1951-52 میں ملک کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح منفی ایک فیصد رہی تھی۔
آصف فاروقی کہتے ہیں کہ حکومت کو اگلے چند مہینوں میں تین ہزار ارب روپے کا قرضہ واپس کرنا ہے جبکہ ستمبر میں حکومت کو آئی ایم ایف سے ایک مرتبہ پھر گفتگو کرنی ہے جس کی وجہ سے بیرونی قرضوں کا معاملہ حکومت کے لیے مشکل ہو رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے انتظامی اخراجات کم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے باوجود خسارہ ہے جس کی وجہ لوگوں کا ٹیکس نہ دینا ہے۔
ہماری ساتھی سارہ عتیق آئی ایم ایف کے معاملے پر کہتی ہیں کہ حفیظ شیخ نے آج اپنی پریس کانفرنس میں اس تاثر کو رد نہیں کیا کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کی ایما پر بنایا گیا ہے لیکن حفیظ شیخ کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ہم اپنی آمدنی کے حساب سے ہی اخراجات کریں۔