آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاکستان میں خواتین کے عالمی دن پر عورت مارچ: کب کیا ہوا؟

خواتین کے عالمی دن پر پاکستان کے کئی شہروں میں عورت آزادی مارچ کے تحت اتوار کو ریلیاں نکالی گئیں۔ اسلام آباد میں حیا مارچ کے شرکا کی جانب سے عورت مارچ پر پتھراؤ کیا گیا تاہم پولیس نے صورتِحال پر قابو پا لیا۔

لائیو کوریج

منزہ انوار, کومل فاروق, کاشان اکمل and حسن بلال زیدی

  1. عورت مارچ 2020: کب کیا ہوا, یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جائے گا۔

    پاکستان میں آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کئی چھوٹے بڑے شہروں میں عورت آزادی مارچ کا انعقاد کیا گیا۔

    اسلام آباد، لاہور، کراچی، کوئٹہ، سکھر اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں یہ مارچ منعقد ہوئے تاہم پشاور میں عورت مارچ نہیں ہوا۔

    مارچ کے شرکا میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کے علاوہ بڑی عمر کے افراد، خواجہ سرا اور دیگر گروہوں کے نمائندے بھی شامل تھے۔

    اس کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف شہروں میں عورت مارچ کے خلاف مذہبی تنظیموں اور دیگر گروہوں کی جانب سے ریلیاں بھی نکالی گئیں۔

    جماعتِ اسلامی، جمیعت علائے اسلام اور منہاج القران سمیت دیگر مذہبی تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ اسلام آباد میں پریس کلب کے باہر کشیدگی اس وقت بڑھی جب حیا مارچ کے شرکا نے عورت مارچ پر پتھراؤ کیا اور جوتے اور ڈنڈے برسائے تاہم پولیس صورتحال پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئی۔

    پولیس کی مطابق پتھراؤ کے نتیجے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے جنھیں طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ اس واقعے کی ابتدائی رپورٹ اسلام آباد کے کوہسار تھانے میں درج کر لی گئی ہے۔

    بی بی سی اردو کا لائیو کوریج یہاں ختم ہوا۔ عورت مارچ کے بارے میں تفصیلی رپورٹ کے لیے کلک کریں۔

  2. اسلام آباد میں عورت مارچ کے شرکا پر پتھراؤ

  3. زیادتی کی شکایت کرنے پر کہا جاتا ہے ’چپ کرو، دفع کرو اس بات کو‘

    پاکستان کےبڑے شہروں میں ہونے والے عورت مارچ سے متعلق کچھ لوگ یہ تنقید کرتے ہیں کہ مارچ میں شریک خواتین پاکستان کی عام عورتوں کی ترجمانی نہیں کرتی ہیں۔

    اس بنیادی تنقید کی حقیقت جاننے کے لیے ہماری نمائندہ ترہب اصغر نے اس سال کسی بڑے شہر کے بجائے پنجاب کے ایک چھوٹے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ کا رخ کیا ہے۔

  4. کراچی: عورت مارچ میٹروپول ہوٹل کی قریب اختتام پذیر

  5. اسلام آباد: عورت مارچ کا قافلہ ڈی چوک پہنچ گیا

    بی بی سی کے عابد حسین کے مطابق عورت مارچ کے شرکا کو اتاترک ایوینیو کی جانب موڑ دیا گیا ہے اور اس وقت مارچ کے شرکا ڈی چوک پہنچ گئے ہیں۔

    توقع کی جا رہی ہے کہ مارچ یہیں اختتام پزیر ہوگا۔

  6. سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والے عورت مارچ کے مزید دلچسپ بینر، پوسٹر اور نعرے

  7. اسلام آباد: بی بی سی کی نامہ نگار نے کیا دیکھا؟

  8. کراچی: عورت مارچ میں دھمال!

  9. بریکنگ, اسلام آباد: ناخوشگوار واقعے کے باوجود عورت مارچ کے شرکا پرعزم

    بی بی سی کے عابد حسین کے مطابق عورت مارچ کے دوران جب پنڈال سے تقریریں ختم ہوگئیں تو شرکا کو اسی راستے سے واپس جانا تھا جس سے وہ آئے تھے۔

    تاہم اس وقت مذہبی جماعتوں کی جانب سے نکالی جانے والی ریلی کی طرف سے عورت مارچ کے شرکا پر پتھراؤ کیا گیا اور جوتے اور دیگر چیزیں ماری گئیں۔

    ہمارے ساتھی کے مطابق اس سے عورت مارچ کے شرکا میں وقتی طور پر بھگدڑ مچی تھی تاہم پولیس معاملے پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئی۔

    مارچ اس واقعے کے بعد بھی جاری رہا تاہم پولیس نے واپسی کا راستہ بدل کر اسلام آباد کے ایف 6 مرکز کی جانب موڑ دیا گیا۔

    اس وقت عورت مارچ کا مرکزی جلوس ایف 6 مرکز کے قریب کھڑا ہے اور وہاں اب بھی کارکنان کی بڑی تعداد موجود ہے۔

  10. بریکنگ, اسلام آباد: عورت مارچ پر حیا مارچ کے شرکا کی جانب سے پتھراؤ کے مناظر

  11. بریکنگ, اسلام آباد: حیا مارچ کے شرکا کی جانب سے عورت مارچ پر پتھراؤ

    اسلام آباد میں بیک وقت جاری عورت مارچ اور حیا مارچ شرکا کے درمیان حالات کشیدہ ہہو گئے ہیں۔

    بی بی سی کے ذیشان حیدر اور فرحت جاوید کے مطابق جب عورت مارچ کا قافلہ سڑک پر آیا تو دونوں ریلیوں کے درمیان لگے باڑ کی دوسری جانب عورت مارچ پر سے پتھر، جوتے اور دیگر اشیا پھینکی گئیں۔

    اطلاعات کے مطابق موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے مشتعل مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی۔

  12. کراچی میں عورت مارچ کے شرکا کے منفرد بینرز: ’دوست بنو، باپ مت بنو!‘

  13. اسلام آباد: عورت مارچ کے مزید بینرز اور پوسٹرز

  14. اریب اظہر: ’جب مرد یہ نعرے سنتا ہے تو اسے لگتا ہے عورت جنسی آزادی مانگ رہی ہے‘

    کراچی میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار کریم الاسلام سے بات کرتے ہوئے گلوکار اور سماجی کارکن اریب اظہر کا کہنا ہے کہ ’معاشرے میں تبدیلی اُس وقت ہی ممکن ہوگی جب مرد و خواتین مل کر تمام انسانوں کے حقوق کے لیے کام کریں گے۔‘

    اریب اظہر کا کہنا تھا کہ ’عورت مارچ کے ’میرا جسم میری مرضی‘ جیسےنعروں پر تنازع نہیں بننا چاہیے تھا، یہ ان لوگوں کی سازش ہے جو اس مارچ کے مخالف ہیں۔‘

    ’معاشرے میں بہت سے مرد ایسے ہیں جب وہ ان نعروں کو سنتے ہیں تو ان کو لگتا ہے کہ خواتین ان کے ذریعے جنسی آزادی مانگ رہی ہیں۔ تاہم خواتین کو ان نعروں سے ایسا نہیں لگتا، بلکہ ان کے دماغ میں یہ چلتا ہے کہ ان کی مرضی کے بغیر ان کی شادی نہ ہو، انھیں کام کرنے کی آزادی ہو۔‘

  15. کراچی: عورت مارچ پر ہونے والی تنقید پر شیما کرمانی کا جواب

  16. سکھر: عورت مارچ سے بی بی سی اردو کی ریاض سہیل کا فیس بک لائیو

  17. کراچی: پدر شاہی معاشرے کے خلاف بینرز

  18. پشاور: جماعت اسلامی کی خواتین کی عورت مارچ کے خلاف ریلی

    جماعت اسلامی کی خواتین نے ضلع پشاور میں ’تقدس خواتین مارچ‘ شروع کر دیا ہے۔ یہ ریلی آرکائیوز ہال سے گورنر ہاؤس تک جائیگی۔

  19. اسلام آباد: حیا مارچ کا متعین وقت ختم لیکن مظاہرہ پھر بھی جاری

    نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق اسلام آباد میں پریس کلب کے باہر مذہبی جماعتوں کی جانب سے کیے جانے والے حیا مارچ کا اگرچہ مقررہ وقت ختم ہو چکا ہے لیکن اس مارچ کے شرکا اب بھی وہیں موجود ہیں۔

  20. چارسدہ: مزدور کسان پارٹی کی خواتین کے عالمی دن پر تقریب

    پاکستان مزدور کسان پارٹی کے زیر انتظام خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے چارسدہ میں تقریب آج منعقد ہوئی۔