آرٹیکل 370: پاکستان میں پارلیمان کا مشترکہ اجلاس: کب کیا ہوا؟

کشمیر کے معاملے پر پاکستان میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس اور انڈین لوک سبھا میں آرٹیکل 370 کے خاتمے پر بحث پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔

لائیو کوریج

ذیشان حیدر, عابد حسین and دانش حسین

  1. انڈین آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی پر پاکستانی پارلیمان کا مشترکہ اجلاس, بی بی سی اردو کی لائیو کوریج اختتام کو پہنچی

    پاکستان میں کشمیر کی صورتحال پر منعقد ہونے والے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج اختتام کو پہنچی۔

  2. ’ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تاریخ کبھی حقائق مسخ نہیں کرتی۔ کوئی ایک مثال دیں کہ پاکستان کو کوئی مسئلہ درپیش ہوا ہو اور چین مدد کے لیے نہ آیا ہو۔

    انھوں نے کہا یہ واحد موقع ہے کہ چین اور سعودی عرب کی طرف سے کوئی ایک مذمتی لفظ پاکستان کی سپورٹ میں نہیں آیا۔ کیا یہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے یا ہم دنیا میں اکیلے ہونے جا رہے ہیں؟

  3. ’اب کام صرف باتوں سے نہیں چلے گا‘

    قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ ’ہم امن ضرور چاہتے ہیں مگر وقار کے ساتھ بےتوقیری کے ساتھ نہیں۔ ہم افغانستان میں امن کے لیے کوشش کریں اور سٹیج سجائیں مگر دوسری طرف ہماری اس کوشش کا بدلہ اس طرح دیا جائے۔ کیا یہ صدر ٹرمپ کا ٹرمپ کارڈ تھا یا ٹریپ کارڈ تھا؟

    شہباز شریف نے کہا کہ ’میں پورے پارلیمان اور پاکستان کی عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ آج ہم دو راہے پر کھڑے ہیں۔ جھکنا ہمارا آپشن یقینا نہیں اور اگر ایسا نہیں تو فیصلہ کر لیں کہ کام صرف باتوں سے نہیں چلے گا۔

  4. ’اب صرف متفقہ قرارداد سے کام نہیں چلے گا‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پارلیمان میں اس حوالے سے کافی گفتگو ہو گی، تقریریں کی جائیں گی اور تجاویز آئیں گی لیکن اب صرف پارلیمان کی ایک متفقہ قرارداد سے کام نہیں چلے گا بلکہ جرات مندانہ فیصلے کرنے ہوں گے۔

    kashmir

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  5. ’کشمیریوں کا خون دن رات بہایا جا رہا ہے‘

    وزیراعظم عمران خان کے بعد اب قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب جاری ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ کشمیر کے وجود کے ساتھ پاکستان کا براہ راست تعلق ہے اور وہاں دن رات کشمیریوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت نے پاکستان کی عزت کو للکارا ہے اور اقوام متحدہ کے چہرے پر زناٹے دار تھپڑ رسید کیا ہے۔

    kashmir

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  6. بریکنگ, ’ہر فورم پر اس معاملے کو اٹھائیں گے‘

    پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کشمیر کی تحریک کو دبایا نہیں جا سکتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت مغربی ممالک کو بتائے گی کہ کس طرح کشمیر میں ظلم ہو رہا ہے۔ ’یہ ہمارا کام ہے کہ دنیا کو بتائیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ وہاں جو ظلم ہو رہا ہے اور جو حقوق دبائے جا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وہ مغربی ممالک کہتے ہیں کہ ہماری اپنے اقدار ہیں۔ ہم ہر موقع پر، ہر مقام پر اس معاملے کو اٹھائیں گے۔ہم سوچ رہے ہیں کہ عالمی عدالت جائیں گے اور مغربی ممالک کو بتائیں گے اس بارے میں۔‘

  7. ’نقصان پوری دنیا کا ہو گا‘

    پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ ’دنیا نے صورتحال کا ادراک نہیں کیا تو حالات خراب ہوں گے، ساری دنیا کو نقصان پہنچے گا اور ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔‘

  8. ’انڈیا نام نہاد جمہوریت ہے‘

    عمران خان کے مطابق ’مودی سرکار کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ دنیا کی نام نہاد جمہوریت کشمیریوں کے خلاف طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ پلوامہ حملے کے بعد بھی کہا تھا کہ دنیا ایٹمی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔‘

  9. بریکنگ, ’جو یہ پارٹی کرتی ہے وہ نازی پارٹی کرتی تھی‘

    ’جو یہ پارٹی کرتی ہے وہ نازی پارٹی کرتی تھی۔‘ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بی جے پی نے انتخابات میں وہ کیا جو دوسری جنگ عظیم کے موقع پر جرمنی میں نازیوں نے کیا تھا۔

  10. بریکنگ, ’بہادر شاہ ظفر کا راستہ ہے یا پھر ٹیپو سلطان کا راستہ‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا نے پھر دباؤ ڈالنا ہے اور انھوں نے ایکشن لینا ہے تو ہم جواب دیں گے۔ پھر کیا ہوگا؟ روایتی جنگ ہو سکتی ہے۔ بات آگے تک جائے گی۔ اگر ایسی بات ہوتی ہے تو ہمارے پاس صرف دو راستے ہیں۔ یا تو بہادر شاہ ظفر کی طرح ہار یا ٹیپو سلطان کی طرح جان دے دیں گے اور ہماری قوم جان دینے سے نہیں ڈرتی۔‘

  11. ’جب انڈیا کشمیریوں پر دباؤ ڈالے گا تو ردعمل آئے گا‘

    عمران خان نے کہا کہ جب کشمیریوں کو دبانے کی کوشش کی جائے گی تو ردعمل آئے گا اور پلوامہ جیسے واقعات ہوں گے۔

    ن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مجھے خوف ہے کہ انھوں نے اب کشمیر میں نسل کشی کرنی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ جب ردعمل آئے گا انڈیا پاکستان کو مورد الزام ٹھہرائے گا اور وہ حالات خراب ہوتے دیکھ رہے ہیں۔

  12. ’کشمیر کی آبادیاتی شکل بدلنے کی کوشش‘

    کشمیر میں بی جے پی نے اپنی سوچ کے مطابق مگر رائج قوانین اور اقوام متحدہ کی قردادوں کے خلاف اقدام کیا ہے۔ کشمیر کا نقشہ تبدیلی کر کے آبادیاتی شکل بدلنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    مودی سرکار کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ دنیا کی نام نہاد جمہوریت کشمیریوں کے خلاف طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔

  13. بریکنگ, ’آرٹیکل 370 کو ختم کرنا اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے‘

    عمران خان نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے پر کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے اور انڈیا نے اپنے ملک کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے لیکن وہ اپنے نظریے پر چل رہے ہیں۔

  14. ’ہمارا مقابلہ نسل پرستانہ نظریے سے ہے‘

    وزیر اعظم عمران خان نے انڈیا کی حکومت کو آڑے ہاتھ لیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں جو انھوں نے اقلیتوں کے خلاف ظلم کیا ہے وہ ان کا اپنا نظریہ ہے۔ ’ہمارا آج مقابلہ نسل پرستانہ نظریے سے ہے۔‘

  15. بریکنگ, ’قائد اعظم کا نظریہ ریاست مدینہ کا ہے‘

    میں انڈیا میں کئی کانفرنسز میں گیا تو وہاں کئی دوست کہتے تھے کہ پاکستان غلط بنا۔ آج وہی لوگ کہہ رہے ہیں کہ قائد اعظم کا دو قومی نظریہ ٹھیک تھا۔ سپیکر اسدد قیصر کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے قائد اعظم کی 11 اگست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم غلطی سے کہتے ہیں کہ قائد اعظم سیکولر تھے، جبکہ قائد اعظم کا نظریہ تھا کہ سب انسان برابر ہیں اور یہ نظریہ انھوں نے ریاست مدینہ سے لیا تھا۔ قائد اعظم نے جب 11 اگست کی تقریر کی تو وہ مسلم کارڈ نہیں کھیل رہے تھے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ سامنے والا نظریہ کیا ہے۔

  16. بریکنگ, انڈیا کو بات چیت میں دلچسپی نہیں

    عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم نے انڈیا کا رویہ دیکھا تو ہمیں لگا کہ وہ ہمیں کمزور سمجھ رہے ہیں۔ تو ہم نے سوچا کے اس کے بعد اب آگے بات نہیں کریں گے۔ ’جب میں امریکہ گیا تو وہاں صدر ٹرمپ کو دعوت دی کہ اس معاملے میں پڑ جائیں ’گڈ فیتھ‘ میں۔

    جب ہماری بشکیک میں ان سے ملاقات ہوئی تھی تو اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے بات کرنے کا۔

    بشکیک میں اندازہ ہوگیا تھا کہ بھارت کو ہم سے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں اور اس حوالے سے مجھے جو شبہ تھا وہ کل سامنے آگیا۔‘

  17. عمران خان کا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. وزیراعظم کی تقریر کے بعد مدلل جواب دیں گے

    آصف ذرداری کی آمد پر لگنے والے نعروں کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اگر پارلیمان کی کارروائی متاثر کرنی ہے تو میں بیٹھ جاتا ہوں۔

    اس کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف نے اپوزیشن کو خاموش بیٹھنے کا کہہ دیا۔ شہباز شریف کے مطابق وہ وزیراعظم کی تقریر کے بعد مدلل جواب دیں گے

  19. آصف زرداری کی پارلیمان آمد پر نعرے

    سابق صدر اور نیب کی زیرِ حراست پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی پارلیمان آمد پر گیلری میں بیٹھے افراد کی جانب سے نعرے لگائے گئے ہیں۔

  20. بریکنگ, وزیراعظم عمران خان کا مشترکہ اجلاس سے خطاب شروع

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب شروع کر دیا ہے اور سپیکر نے ان سے کہا ہے کہ وہ پالیسی بیان دیں