کلبھوشن جادھو کیس: ’پاکستان سزائے موت پر نظر ثانی کرے‘

عالمی عدالت انصاف دہشت گردی کے الزامات میں پاکستان کی فوجی عدالت سے موت کی سزا پانے والے مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو سے متعلق انڈیا کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان کو انھیں قونصلر رسائی دینے اور سزا پر نظرِثانی کرنے کا حکم دیا ہے۔

لائیو کوریج

شجاع ملک and عابد حسین

  1. ’پاکستان قونصلر رسائی دے، سزائے موت پر نظر ثانی کرے‘

    عدالت

    کلبھوشن جادھو کیس کے فیصلے پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج اختتام کو پہنچی۔ یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    • عدالت نے فیصلے میں کیا کہا

    عالمی عدالت انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے فیصلے کے مطابق پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی کی سہولت نہ دے کر ویانا کنونشن کی شق 36 کی خلاف ورزی کی ہے لیکن دوسری جانب فیصلے میں کلبھوشن کی سزائے موت کی معطلی اور بریت کی انڈین اپیل رد کر دی گئی ہے۔عدالتی فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان مبینہ جاسوس کی سزائے موت پر نظر ثانی کرے اور مبینہ جاسوس کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی دے۔

    فیصلے میں عدالت نے پاکستان کی جانب سے انڈیا کی جانب سے پیش کی گئی اپیل پر پاکستان کی جانب سے لگائے گئے اعتراضات مسترد کر دیے ہیں اور فیصلہ سنایا ہے کہ انڈین اپیل قابل سماعت ہے۔

    • انڈیا اور پاکستان کا ردِعمل، دونوں طرف کامیابی کے نعرے

    عالمی عدالت کے فیصلے کو دونوں ممالک میں اپنی اپنی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انڈیا کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے اس فیصلے کو اپنی جیت قرار دیا ہے جبکہ پاکستان وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور فیصلہ سننے کے بعد اب وہ قانون کی روشنی میں اگلے قدم اٹھائے گا۔‘

    وزارت خارجہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ’عالمی عدالت انصاف نے انڈین نیوی کے کمانڈر کلبھوشن جادھو کو رہا نہ کرنے کا فیصلہ سنا کر انڈین درخواست رد کر دی ہے۔‘

    تاہم انڈیا سے یہ رائے سامنے آ رہی ہے کہ قونصلر رسائی حاصل کرنا انڈیا کے موقف کی توثیق ہے۔

  2. بریکنگ, ملٹری کورٹ کے فیصلے کو معطل نہیں کیا گیا: شاہ محمود قریشی

  3. بریکنگ, ’عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ پاکستان کی فتح ہے‘

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ’کلبھوشن کے پاس صفائی اور بے گناہی پیش کرنے کا حق موجود ہے۔ عالمی عدالت انصاف نے پاکستان کی فوجی عدالت کا فیصلہ منسوخ نہیں کیا اور کلبھوشن جادھو سے پاکستانی قوانین کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔‘ ان کے مطابق عالمی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی فتح ہے۔

  4. بریکنگ, میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک مناسب فیصلہ ہے: شاہ محمود قریشی

  5. بریکنگ, شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس کا آغاز

  6. ’کمانڈر جادھو پاکستان میں رہیں گے‘

    پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی عدالت انصاف کی جانب سے سنائے جانے والے فیصلے کے بعد ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’کمانڈر جادھو پاکستان میں رہیں گے اور ان کے ساتھ پاکستانی قانون کے تحت سلوک کیا جائے گا۔‘

    دوسری جانب وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ کچھ دیر میں کلبھوشن جادھو کے کیس میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے حوالے سے پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. بریکنگ, فیصلے کے بعد پاکستان قانون کی روشنی میں اگلے قدم اٹھائے گا‘

    عالمی عدالت انصاف کی جانب سے مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کے مقدمے پر فیصلہ سنائے جانے کے بعد پاکستان وزارت خارجہ نے کہا ’پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور فیصلہ سننے کے بعد اب وہ قانون کی روشنی میں اگلے قدم اٹھائے گا۔‘

    وزارت خارجہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ’عالمی عدالت انصاف نے انڈین نیوی کے کمانڈر کلبھوشن جادھو کو رہا نہ کرنے کا فیصلہ سنا کر انڈین درخواست رد کر دی ہے۔‘

    وزارت خارجہ نے ایک بار پھر دہراتے ہوئے کہا کہ ’انڈین نیوی کمانڈر کلبھوشن جادھو اپنی جعلی شناخت بطور حسین مبارک پٹیل بغیر ویزا پاکستان داخل ہوئے تھے اور وہ ملک میں متعدد سبوتاژ، جاسوسی اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تھے جس کی وجہ سے پاکستان کے کئی شہریوں کی جان چلی گئی۔‘

    بیان میں کہا گیا کہ کلبھوشن جادھو نے پاکستان میں ان کارروائیوں کا اعتراف کیا ہے جس سے انڈیا کی جانب سے دہشت گردی صاف ظاہر ہے۔

    mofa

    ،تصویر کا ذریعہMinistry of Foreign Affairs

  8. X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. کلبھوشن جادھو کیس: ’پاکستان سزائے موت پر نظر ثانی کرے، کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی فراہم کرے‘, فیصلے کے مطابق پاکستان نے ویانا کنونشن کی شق 36 کی خلاف ورزی کی ہے

    عالمی عدالت انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے فیصلے کے مطابق پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی کی سہولت نہ دے کر ویانا کنونشن کی شق 36کی خلاف ورزی کی ہے لیکن دوسری جانب فیصلے میں کلبھوشن کی سزائے موت کی معطلی اور بریت کی انڈین اپیل رد کر دی گئی ہے۔عدالتی فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان مبینہ جاسوس کی سزائے موت پر نظر ثانی کرے اور مبینہ جاسوس کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی دے۔

    42 صفحات پر مشتل فیصلے میں عدالت نے پاکستان کی جانب سے انڈیا کی جانب سے پیش کی گئی اپیل پر پاکستان کی جانب سے لگائے گئے اعتراضات مسترد کر دیے ہیں اور فیصلہ سنایا ہے کہ انڈین اپیل قابل سماعت ہے۔

    واضح رہے کہ انڈیا کا موقف یہ رہا ہے کہ کوئی بھی ملک شق 36 ماننے کا پابند ہے کیونکہ یہ قانون سب کے لیے یکساں ہے اور اس کا جاسوس ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ویانا کنونشن پر دونوں ملکوں نے اتفاق کرتے ہوئے دستخط کیے ہوئے ہیں۔

    عدالت
    عدالت
  10. بریکنگ, ’پاکستان کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی فراہم کرے‘

  11. بریکنگ, ’عدالت کلبھوشن جادھو کی سزائے موت پر حکم امتناعی کے تسلسل کو نظرِ ثانی کا اہم حصہ سمجھے گی‘

  12. ’ یہ فیصلہ انڈیا کے لیے ایک زبردست جیت ہے‘

    انڈیا کی سابق وزیر خارجہ سشما سوراج نے عالمی عدالت انصاف کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کے بعد ٹوئٹر پر اپنے رد عمل میں اس کی تائید کی اور کہا کہ وہ اس فیصلہ کا خیرمقدم کرتی ہیں اور یہ انڈیا کے لیے ایک ’زبردست جیت‘ ہے۔ چار ٹویٹس پر مشتمل پیغام میں انھوں نے وزیر اعظم مودی کی جانب سے کلھبوشن جادھو کا کیس عالمی عدالت انصاف لے جانے کے قدم کی تعریف کی اور انڈین موقف پیش کرنے والے وکیل ہرش سالوے کا شکریہ ادا کیا۔

    انھوں نے اپنے آخری پیغام میں کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ اس فیصلے سے کلبھوشن جادھو کے گھر والوں کو تسلی ملے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 3

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 4

  13. پاکستان کو کلبھوشن جادھو کے خلاف فیصلے کی اپیل کا راستہ فراہم کرنا چاہیے: عالمی عدالت

    کلبھوشن

    ،تصویر کا ذریعہISPR

  14. بریکنگ, صدارتی یا آرمی چیف کے سامنے معافی کی اپیلیں نظرِ ثانی کا موثر طریقہ نہیں: عدالت

  15. بریکنگ, ’مؤثر تلافی کیس پر نظرِ ثانی ہوگی‘: عدالت

  16. ’دہلی کی ہار‘ یا ’انڈیا کی جیت‘؟

    عالمی عدالت انصاف کی جانب سے فیصلہ سامنے آنے پر دونوں ممالک کے صحافیوں نے ٹوئٹر مختلف آرا پیش کرنی شروع کر دی ہیں۔ پاکستانی صحافی طلعت حسین نے ٹویٹ میں کہا کہ ’دہلی کی ہار، کلھبوشن کے جاسوس ہونے کا عملی طور پر اقرار‘ جبکہ انڈیا کی صاحافی برکھا دت نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ بھاری اکثریت سے انڈیا کے حق میں۔ پاکستان کو قونصلر رسائی دینے اور سزائے موت سے روکنے کا حکم۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  17. X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. بریکنگ, ’انڈیا کی دیگر انٹرنشینل قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کا یہ مطلب نہیں کہ قونصلر رسائی روک دی جائے‘: عدالت

    کلبھوشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  19. بریکنگ, پاکستان نے قونصلر رسائی نہ دے کر ویانا کنوینشن کی خلاف ورزی کی: عدالت

  20. بریکنگ, پاکستان نے انڈین حکام کو وقت پر گرفتاری کی اطلاع نہیں دی: عالمی عدالتِ انصاف

    25 مارچ 2016 کو پاکستان نے انڈین ہائی کمیشن کو طلب کر کے احتجاج کیا جسے ویانا کنوینشن کے تحت مطلع کرنا مانا جا سکتا ہے۔

    جادھو