یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ تفصیلی رپورٹ کے لیے دیکھیں۔ https://www.bbc.com/urdu/pakistan-45576121
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر اڈیالہ جیل سے رہا ہوگئے ہیں اور جلد لاہور روانہ ہو جائیں گے۔
عابد حسین، حسن زیدی، طاہر عمران
یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ تفصیلی رپورٹ کے لیے دیکھیں۔ https://www.bbc.com/urdu/pakistan-45576121

لیگی رہنما نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ محمد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر نور خان ائیربیس کی جانب روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ نجی طیارے کے ذریعے لاہور روانہ ہوں گے۔
کارکنوں کی بڑی تعداد نواز شریف، مریم شریف اور کیپٹن (ر) صفدر کا جیل کے باہر استقبال کرنے کے لیے موجود ہے اور ان کی گاڑی پر پھول نچھاور کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPML-N

اڈیالہ جیل کے باہر موجود بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کا کہنا ہے کہ شہباز شریف، مریم اورنگزیب، جاوید ہاشمی اور دیگر رہنما جیل کے اندر ہیں لیکن دانیال عزیز کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ حکام کا کہنا تھا کہ لسٹ میں ان کا نام موجود نہیں ہے۔
نامہ نگار کے مطابق وہاں موجود ایک پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ بڑے ہجوم کی موجودگی کی وجہ سے ممکن ہے کہ ملزمان کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے نور خان ائیر بیس لے جایا جائے گا۔
بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق اڈیالہ جیل جانے والے راستے لیگی کارکنان کی بڑی تعداد کی وجہ سے جام ہو گئے ہیں۔ احسن اقبال سمیت نون لیگ کی قیادت بھی جیل کے راستے میں ہے۔




،تصویر کا ذریعہbbc
جب نواز شریف اور مریم نواز 13 جولائی کو لندن سے واپس پاکستان کے سفر میں تھے تو جہاز میں ان کے ساتھ بی بی سی کے طاہر عمران بھی موجود تھے۔ انھوں نے طیارے میں کیا دیکھا تھا، جاننے کے لیے ان کا مضمون پڑھیے۔
تجزیہ کار اور ماہر قانون ریما عمر نے ٹوئٹر پر اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے آنے والے مختصر فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آج کا فیصلہ یہ بتاتا ہے کہ احتساب عدالت کے جج بشیر نے ایون فیلڈ میں انصاف کے ساتھ کیسا گھناؤنا مذاق کیا اور کیسے ایک ناقص فیصلے نے پاکستان کے سیاسی منظرنامے کو بدل دیا۔ تو ’انصاف ہر حال میں ہوتا ہے‘ اور پورسیجرل لا کی تکنیکی باریکیاں‘ اس بات پر منتج نہیں ہونی چاہیں کہ ایک مجرم مہینوں اور سالوں قید میں گزارے، آزادی سے محروم ہو اور اس کا کوئی مداوا نہ ہو۔ تو عدالت کیسے CRPC کے S246 کے تحت کس بنا پر یہ فیصلہ معطل کرنے کا فیصلہ کرتی ہے؟عدالت تمام شواہد کا اپیل کے وقت ازسرِنو جائزہ نہیں لے سکتی لیکن اگر فیصلے میں بہت بڑا قانونی نقص ہو تو عدالت سزا معطل کر کے ضمانت دے سکتی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
لاہور میں لیگی کارکنان نے نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف دی جانے والی سزا کی معطلی کے فیصلے کے بعد جشن منایا اور ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلائیں۔


مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز نے عدالت کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سچ کبھی چھپ نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس کی سماعت کے دوران ججز کے سوالات اور نیب وکیل کے جواب پوری قوم نے سنے جس سے اس کیس کی اصلیت ثابت ہو گئی۔ ’احتساب عدالت کا فیصلہ بہت کمزور تھا۔ اسی طرح باقی مقدمات میں بھی نواز شریف سرخرو ہوں گے۔‘

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے فیصلے پر نیب کا اعلی سطح کا اجلاس ہوا ہے جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کی سزا کی معطلی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
لندن کے علاقے پارک لین میں واقع ایون فیلڈ فلیٹس اور ان سے متعلقہ شریف خاندان کے خلاف ریفرنس کے بارے میں مزید جانیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

،تصویر کا ذریعہGoogle Street View


،تصویر کا ذریعہEPA
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد کہا کہ عدالتوں کا مکمل احترام کرتے ہیں اور پاکستان میں عدالتیں آزاد ہیں۔ ’پہلے فیصلوں کیطرح آج کے فیصلے کا احترام واجب سمجھتے ہیں۔ قوم چاہتی ہے کہ اسکی کی لوٹی گئی دولت واپس لائی جانی چاہئیے۔‘
مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے نجی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف جیل سے رہائی کے بعد لاھور جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف لاھور جہاز کے ذریعے جائیں گے کیونکہ آج ان کے حالات بہت مختلف ہیں۔ ’جب جی ٹی روڈ سے جانے کا وقت تھا تو جی ٹی روڈ سے گئے تھے اب مختلف وقت ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے عدالتی فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رائے میں یہ نان پی سی او انصاف کی ایک جھلک ہے۔ ’نیب کے ٹرائل کے دوران اگر پاکستان میں کوئی اندھا شخص تھا تو اسے بھی صاف نظر آ گیا کہ ان مقدمات میں نہ کوئی آئین نہ ہی قانون تھا، صرف اور صرف انتقام اور انتخابات سے قبل کی گئی دھاندلی تھی۔ جس کا مقصد نواز شریف کو انتخابی میدان سے باہر نکال کر عمران خان کی جلد کامیابی کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔
حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عارضی فیصلہ ہے اور شریف خاندان کی حتمی منزل اڈیالہ جیل ہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تو اپیل کی سماعت ہونا باقی ہے اور اس میں بھی چند ہفتے لگیں گے جس کے بعد نواز شریف، ان کی بیٹی اور داماد واپس جیل میں ہوں گے۔ ’ان کی آخری منزل اڈیالہ جیل ہی ہے۔‘