یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
تفصیلی رپورٹ کے لیے یہاں کلک کریں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مسلم لیگ نواز کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز لندن کے ہسپتال میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئی ہیں۔ وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں۔
تفصیلی رپورٹ کے لیے یہاں کلک کریں۔
نامہ نگار فراز ہاشمی نے جب حسین نواز سے تدفین سے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا میاں صاحب سے رابطہ نہیں ہوا ہے اور ان سے بات کے بعد ہی اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
تاہم جماعت کے بعض مقامی رہنماؤں کے مطابق لندن کی ریجنٹ پارک مسجد میں جنازے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں اور ’جمعے کو پاکستان میں تدفین‘ کی جائے گی۔
لاہور کے ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں شریف خاندان کے گھر پر تعزیت کے لیے لوگوں کی آمد شروع ہو گئی ہے۔ بی بی سی کے وقاص انور کی جانب سے تصاویر۔
پنجاب کے محکمۂ داخلہ کے مطابق بیگم کلثوم نواز کی تدفین میں شرکت کے سلسلے میں مجرمان نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدرکی پیرول پر رہائی کے لیے درخواست دینا ضروری ہے۔
پنجاب کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار نے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ یہ درخواست ہوم سیکریٹری کو دی جائے گی جس پر ہوم سیکرٹری اڈیالہ جیل کے سپریٹنڈنٹ سے رائے لیں گے۔
اُنھوں نے کہا کہ چونکہ یہ تینوں مجرمان سزا یافتہ قیدی ہیں اس لیے ان کی پیرول پر رہائی کی منظوری ہوم سیکریٹری کے اختیار میں جبکہ ان کی رہائی کا آرڈر ڈی سی آفس سے جاری کیا جائے گا۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ ہوم سیکرٹری زیادہ سے زیادہ 12گھنٹے تک مجرمان کی پیرول ہر رہائی کے احکامات دے سکتے ہیں۔
تاحال مسلم لیگ نواز یا شریف خاندان کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی درخواست جمع نہیں کروائی گئی ہے
وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے بھی بیگم کلثوم نواز کی رحلت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ ان کی تمام ’ہمدردیاں شریف خاندن کے ساتھ ہیں۔‘
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی رہنما الطاف حسین نے بیگم کلثوم نواز کو شاندار خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ جمہوریت کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
مرتضی بھٹو کی صحابزادی اور معروف مصنف فاطمہ بھٹو نے ٹویٹ میں شریف خااندان سے اظہار افسوس کیا ہے اور لکھا کہ یہ نہایت ہی افسوسناک بات ہے کہ اپنے چاہنے والوں سے دور ہوتے ہوئے اُن کی موت کی خبر سنی جائے۔
بی بی سی اردو کے فراز ہاشمی کے مطابق جماعت کے مقامی رہنماوں کا کہنا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ ریجنٹ پارک مسجد میں ادا کی جائے گی جبکہ ان کی میت ہسپتال سے مردہ خانے منتقل کر دی گئی ہے۔
نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق 1999 میں نواز شریف کی رہائی کی لیے چلنے والی تحریک کی سربراہی بیگم کلثوم نواز کے سپرد کیوں کی گئی، اس بارے میں مختلف نظریات سامنے آئے۔ ان میں سے جو وجہ سب سے اہم بتائی جاتی ہے وہ یہ کہ نواز شریف کے جیل میں جانے کے بعد ان کی جماعت میں پھوٹ پڑنے کا اندیشہ تھا۔
کہا جاتا ہے کہ کلثوم نواز ان مشکل سیاسی حالات میں ایک ایسی غیر متنازعہ شخصیت کے طور پر سامنے آئیں جن کے پیچھے پوری مسلم لیگی قیادت متحد ہو گئی۔ خدشات تھے کہ اگر کلثوم نواز اس وقت سیاسی میدان میں نہ آتیں تو مسلم لیگ ن اندرونی انتشار کا شکار ہو جاتی۔
بیگم کلثوم نواز اس کے بعد بھی مختلف موقعوں پر ان سیاسی رہنماؤں سے ملتی اور ان کی بات سنتی رہیں جو نواز شریف سے ناراض ہوئے۔ انھیں مسلم لیگ ن میں ایک غیر متنازع شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
سینٹرل لندن میں ہارلے سٹریٹ پر واقع ہارلے سٹریٹ کلینک کے باہر مسلم لیگ نون کے کارکن اور صحافی موجود ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار حسین عسکری کے مطابق جب ہسپتال کے اہلکار سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ کچھ دیر میں پریس ریلیز جاری کی جائے گی۔
حسین عسکری کے مطابق ہسپتال کی کھڑکی سے حسین نواز نظر آئے لیکن ابھی تک خاندان کے کسی فرد نے باہر آ کر میڈیا سے بات نہیں کی ہے اور اس وقت میت کو حاصل کرنے کے لیے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ سمیت دیگر کاغذات تیار کیے جا رہے ہیں۔
سابق وزیراعظم نواز شریف جب 1999 میں فوج کے ہاتھوں حکومت سے بے دخل ہونے کے بعد اٹک جیل میں قید تھے بیگم کلثوم نواز نے ان کی رہائی کے لیے تحریک چلائی
اپنے شوہر اور خاندان کے دیگر مرد افراد اور مسلم لیگ ن کے بیشتر اہم سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کے باعث وہ اچانک ایک خاتون خانہ سے سیاسی رہنما بن گئیں۔
انہوں نے اس وقت کے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے خلاف ایک بھرپور سیاسی تحریک چلائی۔
کہا جاتا ہے کہ بعض دوست ملکوں کی مداخلت کے ساتھ ساتھ یہ بیگم کلثوم نواز کی طرف سے جنرل مشرف پر ڈالا جانے والا سیاسی دباؤ تھا جس نے ان کے شوہر کی رہائی ممکن بنائی۔
اپنے سیاسی کیرئیر میں جب دوسری مرتبہ نواز شریف مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں تو کلثوم نواز ان کی مدد کے لیے موجود نہیں ہیں۔
پاکستان کے نو منتخب صدر، عارف علوی کی جانب سے بھی تعزیتی پیغام جاری کیا گیا ہے جس میں انھوں نے شریف خاندان سے بیگم کلثوم نواز کی وفات پر اظہار افسوس کیا ہے۔
لندن میں ہارلے سٹریٹ پر موجود بی بی سی اردو کے فراز ہاشمی کے مطابق پاکستان مسلم لیگ کے کارکن اور رہنما ہسپتال کے باہر جمع ہو چکے ہیں لیکن ہسپتال کی انتظامیہ کچھ نہیں کہہ رہی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو کی بہن بختاور بھٹو نے ٹویٹ میں بیگم کثوم نواز کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ نہ صرف ایک اہلیہ اور ماں تھیں بلکہ وہ خاتون اول بھی تھیں۔
حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ٹویٹ میں بیگم کلثوم نواز کی وفات پر اظہار افسوس کیا گیا ہے اور اس پیغام میں انھوں نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ایک آمر کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہیں۔