نواز شریف، مریم اور صفدر پر فردِ جرم عائد: کب کیا ہوا؟

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جمعرات کو سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر لندن میں فلیٹس کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’ہم بھاگنے والوں میں سے نہیں‘

  2. ’آئین اور قانون کا تماشا نہ بنائیں‘

  3. بریکنگ, ’ادارے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں، لوگ خود عزت کریں گے‘

    مریم نواز نے کہا کہ ’ادارے جب اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں گے تو پھر یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ ان کی عزت کی جائے، لوگ خود عزت کریں گے۔‘

    مریم نواز
  4. بریکنگ, ’احتساب کا بھی احتساب ہوگا‘

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ اگر ایک ٹیم ثبوت لینے اب لندن گئی ہے تو جے آئی ٹی کہ بڑے بڑے صندوقوں میں کیا تھا؟ انھوں نے مزید کہا کہ ’جنہوں نے احتساب کو انتقام بنایا اس احتساب کا بھی احتساب ہوگا۔‘

  5. بریکنگ, ’شفاف ٹرائل بنیادی حق ہے اس کا تماشا نہ بنائیں‘

    فرد جرم عائد ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ’شفاف ٹرائل ایک بنیادی حق ہے اس کا تماشا نہ بنائیں۔ یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں فیصلہ پہلے سنایا گیا ہے اور ثبوت بعد میں اکھٹے کیے جا رہے ہیں۔ میں کہہ چکی ہوں کے ایک ہی بار فیصلہ سنا دیں۔‘

    مریم نواز
  6. بریکنگ, ایک ریفرینس میں فردِ جرم عائد دو کی سماعت جاری

    احتساب عدالت میں جمعرات کو نواز شریف پر ان کی غیر موجودگی میں ایک ریفرینس میں تو فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے تاہم باقی دو ریفرینسز میں فردِ جرم عائد کیے جانے کے بارے میں صورتحال تاحال واضح نہیں ہے۔ احتساب عدالت کی کارروائی جاری ہے۔

  7. بریکنگ, ملزمان کی جانب سے صحتِ جرم سے انکار

    نواز شریف پر فردِ جرم ان کی غیر موجودگی میں عائد کی گئی اور ان کے نمائندے وکیل ظافر خان نے اپنے موکل کی ہدایت پر صحتِ جرم سے انکار کیا۔ ان کے علاوہ عدالت میں موجود مریم نواز اور کیپٹن صفدر نے بھی صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔

  8. بریکنگ, نواز، مریم، صفدر پر ایک ریفرینس میں فرد جرم عائد

    اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جمعرات کو سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر لندن میں فلیٹس کے معاملے یعنی ایون فیلڈ ریفرنس میں فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

  9. بریکنگ, کارروائی روکنے کی درخواستیں مسترد

    احتساب عدالت نے نواز شریف اور ان کے بچوں کی جانب سے فرد جرم عائد نہ کرنے اور کارروائی روکنے کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ اس وقت عدالت میں ایک بار پھر وقفے کے بعد کارروائی کا دوبارہ آغاز ہو گیا ہے۔

  10. بریکنگ, عدالتی کارروائی پھر سے شروع

    احتساب عدالت میں ایک بار پھر وقفے کے بعد کارروائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے، جبکہ وقفے سے قبل سماعت کرنے والے جج محمد بشیر کا کہنا تھا کہ نیب ریفرنسز سے متعلق فیصلہ آج ہی سنایا جائے گا۔

    اسلام آباد
  11. بریکنگ, عدالتی کارروائی میں پھر وقفہ

    احتساب عدالت میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی کارروائی کے بعد دوبارہ وقفہ ہوا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس وقفے کے بعد عدالت نواز شریف کی جانب سے دائر نیب ریفرنسزکی کارروائی روکنے کی درخواست پر فیصلہ سنائے گی۔

  12. دیوالی کے روز اپنے قائد سے اظہار یکجہتی

    وزیر مملکت برائے بین الصوبائی امور ڈاکٹر درشن بھی احتساب عدالت پہنچے۔ ان کا کہنا تھا دیوالی کے روز اپنے قائد سے اظہار یکجہتی کے لیے نیب کورٹ آیا ہوں۔ ڈاکٹر درشن کے مطابق گذشتہ سال سابق وزیر اعظم نے دیوالی ہمارے ساتھ منائی تھی۔ ان کے بقول وزیر پاکستان کی اقلیتی برادری محمد نواز شریف کے ساتھ ہے۔

    ڈاکٹر درشن
  13. بریکنگ نیوز کے منتظر صحافی

    احتساب عدالت کے باہر صحافی اور کیمرہ مین عدالتی فیصلے کو سب سے پہلے براڈکاسٹ کرنے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ واضح رہے کہ عدالتی کارروائی ایک وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو چکی ہے اور اس وقت مریم نواز اور کیپٹن صفدر کمرۂ عدالت میں موجود ہیں۔

    عدالت

    ،تصویر کا ذریعہْْBBC

  14. فیصلے کا انتظار

    اسلام آباد

    احتساب عدالت میں وقفے کے بعد کارروائی جاری ہے۔ تاحال کمرۂ عدالت سے کوئی نئی اطلاع نہیں آئی جبکہ عدالت کے باہر بھی ماحول پر سکون ہے۔ عدالت کے باہر موجود سیاسی کارکن بھی طویل خاموشی سے اکتا کر منتشر ہو چکے ہیں۔

  15. بریکنگ, عائشہ حامد سابق وزیر اعظم کی وکیل

    عائشہ حامد احتساب عدالت پہنچ گئی ہیں جو نواز شریف کی درخواست پر ان کی جانب سے احتساب عدالت میں دلائل دیں گی۔

    عائشہ حمید
  16. نواز شریف کی درخواست

    نواز شریف کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں دائر ایک آئینی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت ان کے خلاف دائر ہونے والے تینوں ریفرنسز کو ایک ریفرینس میں بدلنے کا حکم دے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ جب تک سپریم کورٹ آئینی درخواست پر فیصلہ نہیں سنا دیتی اس وقت تک کارروائی روکی جائے۔

  17. احتساب عدالت میں کارروائی روکنے کی استدعا

    سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست کا فیصلہ آنے تک احتساب عدالت میں کارروائی روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔

  18. ’تمام دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں‘

    مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے احتساب عدالت میں کہا ہے کہ نیب ریفرنسز میں تمام دستاویزات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد نمبر دس فراہم نہیں کی جاتیں تب تک فرد جرم عائد نہ کی جائے۔