پاناما کیس سماعت کا چوتھا روز: کب کیا ہوا

پاناما کیس سے متعلق جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے کہا ہے کہ بادی النظر میں عدالت میں جعلی دستاویزات پیش کی گئیں اور اس جعلسازی کے بارے میں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ’تمہارے احتساب کو کوئی نہیں مانے گا‘

    وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ کہ گارنٹی سے کہہ سکتا ہوں کہ پورے پاکستان میں اس احتساب کو کوئی نہیں مانے گا۔

    اپر دیر میں لواری ٹنل کے افتتاح پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ احتساب نہیں استحصال ہے۔

    ’تمہارے احتساب کو کوئی نہیں مانے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میرے صبر کا امتحان نہ لو۔ صبح سے بھیک مانگنا شروع کر دیتے ہیں کہ نواز شریف استعفیٰ دے۔‘

  2. ’سلمان اکرم راجہ سکتے میں‘

    ٹوئٹر پر ایک صارف سجاد ایم اشفاق نے لکھا ’جسٹس اعجاز الاحسان چھا گئے، سلمان اکرم راجہ سکتے میں‘۔

  3. ٹوئٹر پر ٹرینڈ

    پاکستان میں ٹوئٹر پر اس وقت ’پاناما کیس‘ اور ’سلمان اکرم راجہ‘ پہلے دو ٹرینڈ ہیں۔

    ٹوئٹر

    ،تصویر کا ذریعہtwitter

  4. ’اپوزیشن کو ہم نے اکٹھا کیا پی ٹی آئی نے نہیں‘

    اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے تمام اپوزشن جماعتوں کو پاناما سامنے آنے کے بعد اکٹھا کیا۔

    انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اس کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔

    انھوں نے عدالت میں قطری شہزادے کے تیسرے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’آج عدالت میں قطری تھری آگیا ہے۔‘

  5. سماعت جمعہ کی صبح تک ملتوی

    سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ نے پاناما کیس میں جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ پر سماعت 21 جولائی کی صبح تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کے بچوں مریم، حسن اور حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ اب جمعے کو اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

    scp

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  6. ’کیس آج بھی وہیں کھڑا ہے‘

    وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے عہدے کا کبھی بھی غیر ضروری استعمال نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کوئی ثبوت سامنے آیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پٹیشنر جو درخواست لے کر آیا تھا کہ وزیراغظم نے منی لانڈرنگ کی ہے، اثاثے چھپائے ہیں اس میں اب تک کرپشن ثابت نہیں ہوئی اور کیس آج بھی وہیں کھڑا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی پر جو تحفظات پہلے تھے وہ اب بھی برقرار ہیں۔

    MARYAM AURANGZEB

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  7. بریکنگ, قطری شہزادہ تو آپ کا ’سٹار وٹنس‘ تھا

    بینچ کے سربراہ اعجاز افضل نے کہا کہ قطری شہزادے نے کہا ہے کہ میرے محل آ جائیں، ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے محل سے باہر جانے کو تیار نہیں ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے سلمان اکرام راجہ سے کہا کہ قطری شہزادہ آپ کا ’سٹار وٹنس‘ یا کلیدی گواہ تھا اور اس کو پیش کرنا بھی آپ کی ذمہ داری تھی۔

    اس کے جواب میں سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وزیراعظم اور ان کے بچوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

  8. بریکنگ, حمد بن جاسم پیش ہو جاتے تو ان پر جرح ہوتی اور معاملہ ختم ہو جاتا

    جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ قطری شہزادے نے پاکستانی اداروں کے دائرہ کار کو تسلیم نہیں کیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیوں نہ ہم سب مل کر دوحہ چلے جائیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر قطرے شہزادے حمد بن جاسم پیش ہوجاتے تو ان پر جرح ہوتی تو معاملہ ختم ہوجاتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ تو ویڈیو لنک پر بھی بیان دینے سے انکاری ہیں، ایسا لگتا ہے کہ وہ فوٹو جینک نہیں ہیں۔

  9. جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ بعض غیر ملکی تلور کے شکار کے لیے تو پاکستان آتے ہیں لیکن جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوتے۔

  10. بریکنگ, ’اگر اکاؤنٹ ہی بتا دیں تو معاملہ ختم ہو جائے‘

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ حسن نواز کو فلیٹس اور کاروبار کے لیے رقم سابق قطری وزیراعظم حمد بن جاسم نے دی۔ جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ رقم کس اکاؤنٹ سے گئی۔ اگر اکاؤنٹ ہی بتا دیں تو معاملہ ختم ہو جائے۔

  11. کیلیبری فونٹ کا معمہ

  12. کوئی قانونی فرم فونٹ چوری کرکے استعمال کر سکتی ہے؟

    کیلیبری فونٹ کے حوالے سے جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کیا کوئی قانونی فرم فونٹ چوری کرکے استعمال کر سکتی ہے؟

    ان کا کہنا تھا کہ یہ کام کالج یا یونیورسٹی کا کوئی طالبعلم تو کر سکتا ہے لیکن قانونی فرم نہیں کر سکتی۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی نے اس بارے میں لا فرم لکھا تھا لیکن انھوں نے اس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا۔

  13. بریکنگ, ’بادی النظر میں عدالت میں جعلی دستاویزات پیش کی گئی ہیں‘

    جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں عدالت میں جعلی دستاویزات پیش کی گئی ہیں اورعدالت میں جعلی دستاویزات پیش کرنے کی سزا سات سال قید ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس جعلسازی کے بارے میں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔

  14. عدالت نے سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ کیلیبری فونٹ کے بارے میں ان کا موقف کیا ہے اور ماہرین کی رپورٹ میں مریم نواز کے دستخطوں کو بنیاد بنایا گیا ہے اور یہ غلطی ایک جیسی ہی ہے۔

    جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ چار فروری 2006 کو جب یہ دستخط کیے گئے اور فونٹ استعمال ہوا وہ سنیچر کا دن تھا اور برطانیہ میں عام تعطیل تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کی تصدیق نوٹری پبلک سے جب کروائی گئی اس دن بھی سنیچر تھا۔

  15. بریکنگ, جس کی جائیداد ہے اسے وضاحت دینا ہوگی

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نجی کمپنی حسین نواز کے بارے میں کچھ بھی لکھ سکتی ہے۔

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ کسی رانگ ڈوئنگ کا معاملہ سامنے نہیں آیا جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ رائٹ ڈوئنگ کے بارے میں بھی تو کچھ نہیں کہا گیا۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ رونگ ڈوئنگ کا ثبوت سامنے آئے تب ہی نیب کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔

    اس پر جسٹس عظمت کا کہنا تھا کہ اثاثوں میں عدم توازن پایا جائے تو نیب کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے اور جس کی جائیداد ہے اس کو وضاحت دینا ہوگی

    فلیٹس
  16. عدالت نان ریزیڈنٹ پاکستانی کی جائیداد کی تحقیقات نہیں کر سکتی

    سلمان اکرم راجا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ برٹش ورجن آئی لینڈ اور ایف آئی اے فنانس انویسٹی گیشن اتھارٹی یو کے درمیان خط و کتابت خفیہ تھی۔

    اس پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ جب سے پاناما کا معاملہ سامنے آیا ہے کیا آپ نے موزیک فونسیکا سے رابطہ کیا ہے، کیا آپ یہ چاہتے ہیں باہمی قانونی معاونت ایم ایل اے کے تحت جو دستاویزات سامنے آئی ہیں اس کو مسترد کر دیا جائے۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت نان ریزیڈنٹ پاکستانی کی جائیداد کی تحقیقات نہیں کر سکتی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ نے نجی کمپنی کی جو دستاویزات دی ہیں انھیں تسلیم کر لیا جائے۔

  17. جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ کیا قطری خاندان کے ساتھ قابلِ قبول ہیں تو سلمان اکرم کا کہنا تھا کہ یقیناً ایسا ہی ہے اور ان سے کسی طور انکار نہیں کیا جا سکتا

  18. بریکنگ, ’جے آئی ٹی نے اپنا کام مکمل نہیں کیا‘

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے اپنا کام مکمل نہیں کیا اور مزید تحقیقات کی ضرورت ہے

    اس پر بینچ کے سربراہ اعجاز افضل کا کہنا تھا اب آپ یہ نئی بات کر رہے ہیں۔ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ معاملہ نیب میں بھیج دیا جائے۔

    اس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ وہ جامع تحقیقات کی بات کر رہے ہیں۔

    jit

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  19. ’سوال یہی ہے کہ پیسہ کہاں سے آیا؟‘

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دستاویزات ہمیں نہیں دکھائیں گے تو کس کو دکھائیں گے۔ بینچ کے سربراہ جسٹسن اعجاز افضل نے کہا کہ سوال یہی ہے کہ پیسہ کہاں سے آیا؟

  20. بریکنگ, ’ یہ زبانی باتیں ہیں، دستاویزی ثبوت نہیں ہیں‘

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے والد میاں محمد شریف نے کاروبار کے لیے رقم حسن اور حسین نواز کو دی جس پر جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ یہ زبانی باتیں ہیں، دستاویزی ثبوت نہیں ہیں