یہ صفحہ اب لائیو نہیں ہے
پاکستان اور افغانستان میں برفباری، درجنوں ہلاک
پاکستان اور افغانستان میں شدید برفباری اور برفانی تودے گرنے کے باعث درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
لائیو کوریج
’امدادی سامان پشاور یا چترال خاص میں ہوگا، جائے وقوع تک کچھ نہیں پہنچا‘
اس سوال کے جواب میں کہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کے پاس امدادی سامان موجود ہے، سردا حسین نے کہا کہ انتظامیہ کے پاس امدادی سامان پشاور یا چترال خاص میں موجود ہوگا، جائے وقوع تک ابھی کچھ بھی نہیں پہنچا۔
’برفانی تودے گرنے یا لینڈ سلائڈنگ کے واقعات ہونے کا امکان ہے‘
سردا حسین کا دعویٰ ہے کہ تحصیل گرم چشمہ کے علاقے شیرسال اور افغان سرحد کے قریب دھمیال میں ہونے والے واقعات کے علاوہ چترال کے بہت سے علاقوں میں ممکنہ طور پر برفانی تودے گرنے یا لینڈ سلائڈنگ کے واقعات ہونے کا امکان ہے جن کی اب تک اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔
،آڈیو کیپشن’قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ابھی تک چترال میں جائے وقوع تک نہیں پہنچے‘ ’خوراک کا بڑا مسئلہ درپیش ہوگا‘
ممبر صوبائی اسمبلی سردا حسین کا کہنا ہے کہ چترال کے مختلف علاقوں میں سڑکیں ابھی بھی بند ہیں اور اگر ان علاقوں تک رسائی کو بحال نہ کیا گیا تو لوگوں کو خوراک کا بڑا مسئلہ درپیش ہوگا۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ این ڈی ایم اے یا پی ڈی ایم اے نے برفانی تودے گرنے کے ممکنہ واقعات کے بارے میں اطلاعات موجود ہونے کے باوجود ان علاقوں کے لیے کوئی احتیاطی تدابیر نہیں کیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنچترال سکاؤٹس کے اہلکار چترال کے متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی کوشش میں بریکنگ, ’نو پی ڈی ایم اے، نو این ڈی ایم اے‘
ہمارے نامہ نگار شجاع ملک سے سے بات کرتے ہوئے چترال سے منتخب ہونے والے ممبر صوبائی اسمبلی سردا حسین کا کہنا ہے کہ حادثے کے مقام پر اب تک نہ پی ڈی ایم اے اور نہ ہی این ڈی ایم اے کا کوئی کارکن پہنچا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنچترال سکاؤٹس کے اہلکار چترال کے متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی کوشش میں 
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنچترال سکاؤٹس کے اہلکار چترال کے متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی کوشش میں بریکنگ, افغانستان کا علاقہ نورستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے
افغانستان کا علاقہ نورستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ نورستان میں برفانی تودہ گرنے سے 45 افراد ہلاک جبکہ 16 زخمی ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ابھی بھی کئی افراد لاپتہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
،تصویر کا کیپشنافغانستان کے دارالحکومت کابل میں شدید برفباری ہوئی ہے۔ 
،تصویر کا ذریعہAFP
،تصویر کا کیپشنافغانستان کے دارالحکومت کابل میں شدید برفباری ہوئی ہے بریکنگ, شاہراہ قراقرم بند
صحافی انور شاہ نے بتایا کہ سکردو سے ملنے والے معلومات کے مطابق برف باری سے اب تک دو رابطہ پل، چار مکانات اور بجلی کے کھمبے گر گئے ہیں جس کی وجہ سے بجلی کی سپلائی معطل ہے سکردو انتظامیہ کے مطابق بجلی کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔گلگت ، غدر اور ہنزہ میں بھی شدید بارش اور برف باری سے نظام زندگی متاثر ہے جبکہ شاہراہ قراقرم کوہستان میں لوٹر کے مقام پر بند ہوگئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنافغانستان کے دارالحکومت کابل میں شدید برفباری ہوئی ہے جس کے باعث کابل ایئرپورٹ بند کر دیا گیا ہے۔ صحافی انور شاہ نے بتایا کہ گلگت بلتستان کے ضلع سکردو میں گذشتہ رات دس بجے سے جاری برف باری سے شہر میں ڈھائی فٹ جبکہ دیہات میں چار سے پانچ فٹ تک برف پڑچکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہKPK Updates
،تصویر کا کیپشنچترال میں امدادی کام جاری ’24 گھنٹوں میں 14 چھوٹے بڑے برفانی تودے‘
چترال کے ڈسٹرکٹ کمشنر شہاب یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ چترال کے مختلف علاقوں میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں 14 چھوٹے بڑے برفانی تودے گرے ہیں تاہم شیرسال اور دھمیال کے علاوہ کہیں سے بھی کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
’کسی چیز کی کوئی کمی نہیں‘
چترال کے ڈی سی شہاب یوسفزئی کا کہنا ہے کہ چترال میں عوام کو برفانی تودے اور فلیش فلوڈز کا اکثر سامنا رہتا ہے اسی لیے ان کی انتظامیہ اس حوالے سے مکم ل تیاری کیے ہوئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ علاقے میں گندم سمیت دیگر اشیائے خوردونوش کی کوئی کمی نہیں ہے۔ نیا ڈی ایم اے کی جانب سے امدادی سامان سے لدی ہیلی کاپٹر کے حوالے سے شہاب یوسفزئی نے بتایا کہ موسمی خرابی کی وجہ سے اسے سوات کے علاقے خوازہ خیل میں اترنا پڑا اور امید ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر کل تک چترال پہنچ جائے گا۔
