آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسلام آباد: ’حساس عمارتوں کی حفاظت کے لیے فوج طلب‘

پاکستان کی وزارت داخلہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر فوج طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم فوج کی تعیناتی صرف حساس عمارتوں کی حفاظت کے لیے کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. یہ لائیو پیج اب بند کر دیا گیا ہے۔ دھرنے اور اس کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کی تفصیلی خبر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. حکومت کا اسلام آباد میں فوج طلب کرنے کا فیصلہ,

    وزارت داخلہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حکومت نے آئین کی دفعہ 245 کے تحت ملک کے دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر فوج طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس سوال پر کہ کیا فوج دھرنے کے مظاہرین کے خلاف جاری آپریشن میں شرکت کرے گی، وزارت داخلہ کے اہلکار نے کہا کہ فوج کی تعیناتی صرف حساس عمارتوں کی حفاظت کے لیے کی جائے گی۔

    یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایسا سنیچر کی شب کیا جائے گا یا اتوار کو۔

  3. کوئٹہ میں کیا صورتحال رہی؟,

    اسلام آباد میں دھرنے کے خلاف ہونے والی کارروائی کے خلاف کوئٹہ شہر میں بھی سنی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے کوئٹہ میں بھی دھرنا دیا۔ یہ دھرنا کوئٹہ شہر میں سول سیکریٹریٹ کے قریب ہاکی چوک پر دیا گیا۔ دھرنا چند گھنٹوں تک جاری رہا لیکن چند گھنٹے بعد دھرنے کے شرکا پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔ اس حوالے سے بلوچستان مجموعی طور پر امن رہا۔

  4. زخمیوں کی کل تعداد 200 سے زیادہ ہوگئی

    پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ترجمان کے مطابق ہسپتال میں دھرنے کے خلاف آپریشن کے بعد صبح سے 168 زخمیوں کو لایا جا چکا ہے جن میں سے 52 کے علاوہ باقی تمام کو گھر روانہ کیا جا چکا ہے۔ ترجمان کے مطابق ہسپتال میں داخل زخمیوں میں سے کسی کی بھی حالت نازک نہیں ہے۔ زخمیوں میں سے 64 کا تعلق پولیس سے ، 53 کا تعلق ایف سی سے جبکہ 51 شہریوں کو بھی ہسپتال طبی امداد کے لیے لایا گیا۔

    دوسری جانب راولپنڈی کے بینیظر بھٹو ہسپتال کے ترجمان نے بتایا کہ دن بھر میں ان کے پاس 41 زخمیوں کو لایا گیا ہے۔

  5. بریکنگ, کراچی: رینجرز کو پولیس کے ساتھ مل کر صورتحال معمول پر لانے کے لیے اقدامات کرنے کا حکم,

    ڈی جی رینجرز سندھ کا کہنا ہے کہ ’ شہری پرامن رہیں۔ رینجرز کو سڑکوں پر آنے کا حکم دیا ہے۔ کسی کو شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ کوئی بھی شہری قانون ہاتھ میں نہ لے۔ تیسرا ہاتھ حالات کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ صورتحال پرنظر رکھی ہوئی ہے‘۔

  6. فیض آباد دھرنا: کب کیا ہوا اور حالات اس نہج تک کیسے پہنچے؟

    الیکشن ایکٹ 2017 میں شامل چند ترامیم کا تنازع فیض آباد میں سنیچر کی صبح آپریشن تک کیسے پہنچا، تفصیل جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  7. بریکنگ, تازہ ترین صورتحال: کارروائی کی شدت میں کمی، ’بم حملے کا خطرہ ہے، اس لیے احتیاط سے کام لے رہے ہیں‘,

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے مظاہرین کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی شدت میں کمی آئی ہے۔ پولیس کی بھاری نفری دھرنے کے مقام کے قریبی علاقوں میں تو موجود ہے لیکن پولیس اہلکار اس طرح اکھٹے نہیں ہیں جس طرح وہ سنیچر کی صبح دھرنا دینے والوں کے خلاف متحرک تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق پولیس کی طرف سے اکا دکا ہوائی فائر کیے جاتے ہیں جبکہ دوسری طرف سے بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ اسلام آباد پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ اندھیرا کافی ہوچکا ہے اس لیے اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی ملک دشمن عناصر موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے خودکش حملہ یا بم دھماکہ کردے، اس لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔

  8. ملک بھر میں صحافی مظاہرین کی زد میں

    فیض آباد آپریشن اور اس کے بعد ملک بھر میں جاری ردعمل کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری کرنے میں مشکلات کاسامنا ہے۔ مظاہرین صحافیوں کو بھی تشددکا نشانہ بن رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ کراچی میں جیو نیوز کے رپورٹرز طلحہ ہاشمی اور طارق ابوالحسن مظاہرے کی کوریج کے دوران پتھراؤ کی زد میں آکر زخمی ہوئے ہیں جبکہ اسلام آباد میں مری روڈ پر سما ٹی وی کی ایک ڈی ایس این جی کو نذر آتش کر دیا گیا۔

  9. کراچی: ’لسانی جماعت نے احتجاج ہائی جیک کرنے کی کوشش کی‘,

    ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک مقامی اور لسانی تنظیم نے احتجاج کو ہائی جیک کرنے اور صورتحال کو سنگین بنانے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سٹار گیٹ کے سامنے یہ احتجاج صبح دس بجے سے جاری تھا اور چار بجے شاہراہ فیصل کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’ایک مقامی اور لسانی تنظیم کے لوگ بھی شاہ فیصل کالونی اور الفلاح سوسائٹی سے آکر اس احتجاج میں شامل ہوگئے، مولوی حضرات اور دوسروں میں فرق ہوتا ہے انھوں کی داڑھی، اور قمیض شلوار وغیرہ ہوتی ہے، لیکن یہ نوجوان تھے جنھوں نے پینٹ شرٹ پہن رکھی تھی، یہ انتشار پھیلانا چاہتے تھے تاکہ بھگدڑ مچے اور دونوں اطراف سے فائرنگ ہو، فائرنگ میں ہمارا ایک ایس ایچ او اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہوگیا ہے، تاہم صورتحال قابو میں کرلی گئی ہے‘۔

  10. وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے گھر پر پتھراؤ,

    ایس ایچ او سٹی پولیس سٹیشن پسرور خرم چیمہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ضلع سیالکوٹ میں پسرور شہرمیں واقع وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے گھر پر چند افراد نے گھیراؤ کر کے پتھراؤ کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حملے کے وقت گھر میں کوئی موجود نہیں تھا۔

  11. شیخوپورہ میں جاوید لطیف پر تشدد,

    کمشنر لاہور ڈویژن عبداللہ سنبل نے بی بی سی کو بتایا کہ رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف شیخوپورہ میں بھٹائی چوک پر جمع ہونے والے مظاہرین سے بات چیت کرنے گئے تھے تاہم اس دوران ہونے والی لڑائی میں ان کے سرمیں چوٹیں آئی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا ہےکہ ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال شیخوپورہ میں جاوید لطیف کا علاج جاری ہے اور ان کی حالت اب مستحکم ہے۔

  12. فوج کو اعلان کی کیا ضرورت تھی؟

    کالم نگار اور سماجی کارکن مشرف زیدی نے اپنی ٹوئیٹ میں سوال کیاہے کہ ’ فوج کو اس طرح کی فون کال کے عوامی سطح پہ اعلان کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اگر یہ حکومتی اختیارات کو کمزور کرنا نہیں ہے تو مجھے نہیں معلوم کیا ہے۔ یہ #rejected جیسا ہی ہے۔ ناقابلِ یقین ۔

  13. کراچی میں مشتعل افراد کی کارروائیاں,

    کراچی کےعلاقے بہادرآباد میں واقع ملٹی نیشنل فوڈ چین ’کے ایف سی‘ کی ایک شاخ کو مشتعل افراد نے نقصان پہنچایا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ مشتعل افراد نے ناتھا خان پل پر ایک ٹرک جبکہ نرسری پر ایک موٹر سائیکل کو نذر آتش کردیا۔

  14. ’جب پولیس نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال دیں ہیں، تو یہ!‘

    صحافی فصیح ذکا نے آئی ایس پی آر کی جانب سے کی گئی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ ’دو روز پہلے حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ جو بھی فیصلہ کرے گی اس فیصلے پرعمل کیا جائے گا۔ کریک ڈاؤن کے دوران جب پولیس نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال دیں ہیں تو یہ!‘

  15. مظاہرین سے بھی پرامن رہنے کی اپیل کرتا ہوں: عمران خان

  16. مظاہرین نے انڈیا سے رابطہ کیا، ہم تفتیش کر رہے ہیں: احسن اقبال

  17. مظاہرین کا رخ پنجاب اسمبلی کی جانب,

    جماعت لبیک یارسول اللہ کے کارکنان کی ایک بڑی تعداد پنجاب اسمبلی کے سامنے مظاہرہ کرنے کے لیے جمع ہورہی ہے۔ پہلے یہ افراد شاہدرہ چوک پر جمع ہورہے تھے لیکن اب ان سب کا رخ بھی پنجاب اسمبلی کی جانب ہے۔