سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ نے فیصلے میں کہا کہ متحدہ عرب امارات میں کیپیٹل ایف زیڈ ای جبل علی کمپنی کے بارے میں 2013 میں اپنے کاغذات نامزدگی میں ذکر نہ کرنے کے باعث میاں محمد نواز شریف آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت صادق نہیں رہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صادق نہ رہنے کے باعث وہ ممبر قومی اسمبلی سے نااہل قرار دیے جاتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ وہ نواز شریف کو فوری ڈی نوٹیفائی کرنے نوٹیفیکیشن جاری کرے۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں مزید کہا کہ احتساب عدالتیں میاں نواز شریف، ان کے بیٹے حسن نواز، حسین نواز اور ان کی بیٹی مریم نواز اور مریم کے شوہر کیپٹن صفدر کے خلاف ریفرنس دائر کرے۔اس کے علاوہ ایک ریفرنس وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف بھی ریفرنس دائر کیا جائے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو ان ریفرنس کا فیصلہ چھ ماہ کے اندر کریں۔
اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کی گئی ہے کہ ایک جج کو تعینات کیا جائے گا جو قومی احتساب بیورو کی ان ریفرنس کی کارروائی کی نگرانی کریں گے۔