یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
آٹھ ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی گہرائی 111 کلومیٹر اور مرکز کوہ ہندوکش افغانستان ریجن تھا۔ محکمہ موسمیات نے 7 ستمبر سے 9 ستمبر تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے مزید بارشوں، آندھی، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلادھار بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
آٹھ ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
05 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں کا کہنا ہے کہ 26 مغربی اتحادیوں نے جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کے صورت میں اگلے دن ہی یوکرین میں ’زمینی، سمندری یا فضائی راستے‘ سے فوجیوں کو تعینات کرنے کا باضابطہ طور پر وعدہ کیا ہے۔
فرانسیسی رہنما نے 35 ممالک کے سربراہ اجلاس کے بعد کہا کہ کئیو کے لیے سکیورٹی گارنٹی اس وقت نافذ العمل ہو جائے گی جب گولیاں چلنا رک جائیں گی۔
تاہم گزشتہ ماہ الاسکا میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد جنگ کے خاتمے کے معاہدے کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔
پوتن اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان براہ راست بات چیت کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں، حالانکہ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ’ہم ایسا کرنے جا رہے ہیں۔‘
ٹرمپ نے جمعرات کو ہونے والی ملاقات کے بعد مغربی رہنماؤں سے فون پر بات چیت کی اور میخواں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ان کی سکیورٹی کے لیے بھیجی جانے والی ’فورس‘ کے لیے امریکی حمایت کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔
یوکرین کے معاملے میں امریکہ کی طرف سے براہ راست شامل ہونے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے، تاہم میخواں نے کہا تھا کہ انھیں یوکرین کے لیے سلامتی کی ضمانتوں کا حصہ بننے کی امریکی آمادگی پر کوئی شک نہیں ہے۔
ٹرمپ نے حال ہی میں اشارہ دیا تھا کہ امریکی حمایت ’ممکنہ طور پر‘ فضائی مدد کی شکل میں آ سکتی ہے اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ انھوں نے امریکی صدر سے ’یوکرین کی فضائی حدود کے لیے زیادہ سے زیادہ تحفظ‘ کے بارے میں بات کی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ کئیو نے امریکہ کے لیے غور کرنے کے لیے ایک پلان تجویز کیا تھا۔
فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب کی فون کال کے مطابق ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین کو روس کے تیل اور گیس کی درآمد کو روکنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔
27 رکنی یورپی یونین نے 2027 کے آخر تک گیس اور تیل کی تمام درآمدات ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے نشاندہی کی کہ روس نے ایک سال میں یورپی یونین سے ایندھن کی فروخت کے طور پر 1.1 بلین یورو وصول کیے ہیں، حالانکہ اصل اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہیں۔
10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے ایک ترجمان کے مطابق برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ مغربی اتحادیوں نے اب یوکرین کے ساتھ ’پختہ عہد‘ کیا ہے، جسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے اور انھیں جنگ کے خاتمے کے لیے روس پر دباؤ ڈالنا ہوگا۔
واضح رہے کہ معاہدے کی صورت میں کچھ ممالک نے یوکرین میں فوج تعینات کرنے کا ببانگ دہل اعلان کر رکھا ہے اور امریکہ پہلے ہی اس طرح کے اقدام سے انکار کر چکا ہے۔
یورپی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اس موقع پر فوجیوں کی تعیناتی سے شاید مغرب کے خلاف پوتن کے بیانیے میں مدد ملے گی۔
ماسکو نے واضح کیا ہے کہ یوکرین میں کسی بھی مغربی افواج کو تعینات نہیں کیا جانا چاہیے اور اس نے اصرار کیا ہے کہ اسے ’ضامن‘ کے طور پر کام کرنے والے ممالک میں سے ایک ہونا چاہیے۔ اس خیال کو کئیو اور اس کے اتحادیوں نے مسترد کردیا ہے۔
فرانس کے صدر نے شکایت کی کہ جنگ بندی مذاکرات سے متعلق تازہ ترین کوششوں کے باوجود روس یوکرین میں اپنی فوجیں بھیجنا جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان کے سیلاب اور شدید بارشوں سے متاثرہ صوبے خیبر پختونخوا میں رواں ماہ 7 سے 9 ستمبر تک مزید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے اس حوالے سے ہائی الرٹ بھی جاری کر دیا ہے۔
پی ڈی ای ایم اے خیبرپختونخوا نے محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کی روشنی میں 7 ستمبر سے 9 ستمبر تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے مزید بارشوں، آندھی، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلادھار بارشوں کا امکان ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
الرٹ کے مطابق اس دوران تیز بارشوں کے باعث بالائی و وسطی اضلاع گلیات، مانسہرہ، کوہستان (بالائی و زیریں)، کولائی پالس، ایبٹ آباد، بونیر، باجوڑ، بٹگرام، ہنگو، تورغر، ہری پور، کرک، چترال (بالائی و زیریں)، دیر (بالائی و زیریں)، سوات، شانگلہ، خیبر، کوہاٹ، نوشہرہ، صوابی، مردان، کرم، لکی مروت، ملاکنڈ، مہمند، اورکزئی، بنوں، وزیرستان (شمالی و جنوبی) اور ٹانک میں مقامی نالوں، برساتی چشموں اور دریاؤں میں فلیش فلڈ کا خدشہ ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور مقامی ندی نالوں، برساتی چشموں اور دریاؤں میں فلیش فلڈ کا خدشہ ہے۔ جبکہ صوبہ کے شہری اور نیشبی علاقوں میں تیز بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔
پی ڈی ایم اے نے ایک مراسلے کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے باعث کمزور مکانات، بجلی کے کھمبے، اشتہاری بورڈز اور سولر پینلز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اس سلسلے میں تمام ضلعی انتظامیہ کو ضروری احتیاطی اقدامات، نکاسی آب کے نظام کی صفائی، اور مقامی آبادی، سیاحوں اور مسافروں کو بروقت آگاہی فراہم کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے کاشتکاروں، مال مویشی پال حضرات اور سیاحوں کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فصلوں اور جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور سیاح خطرناک مقامات پر جانے سے گریز کریں۔
مزید براں، متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایمرجنسی سروسز، طبی امداد، خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔
جمعرات کی شب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی گہرائی 111 کلومیٹر اور مرکز کوہ ہندوکش افغانستان ریجن تھا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاوہ پشاور، ہری پور، ایبٹ آباد، چارسدہ، اٹک، ملاکنڈ، سوات، ہنگو، مانسہرہ اور ہزارہ کے دیگر اضلاع میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
خیال رہے کہ دو روز قبل بھی اسلام آباد اور پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔
بدھ کو چین نے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ طاقت کا یہ مظاہرہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ فوجی پریڈ میں کیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہزاروں کلومیٹر دور واشنگٹن ڈی سی میں بھی اس پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’وہ چاہتے تھے کہ میں اسے دیکھوں، اور میں واقعی اسے دیکھ رہا تھا‘۔
امریکی صدر نے تیانان سکوائر میں منعقد ہونے والی اس شاندار تقریب کے بارے میں تفصیل سے کچھ نہیں کہا لیکن اسے ’بہت، بہت متاثر کن‘ ضرور قرار دیا۔
ٹرمپ اور باقی دنیا کو چین کا پیغام بہت واضح تھا۔
اور وہ پیغام تھا کہ دنیا میں اب طاقت کا ایک نیا مرکز ابھر رہا ہے، جو سو سال سے رائج امریکی تسلط کے نظام کو چیلنج کرنے کے لیے تیار ہے۔
جس دن اس فوجی پریڈ کا اہتمام کیا جا رہا تھا، ٹرمپ اوول آفس میں پولینڈ کے صدر کرول ناورٹسکی سے ملاقات کر رہے تھے۔
اس دوران انھوں نے چین کی اس فوجی پریڈ کے بارے میں زیادہ بات نہیں کی۔
چین کے ساتھ ٹیرف وار کے دوران پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے بیانات میں بے پرواہی، شکایت اور تشویش کا مرکب واضح طور پر نظر آتا تھا۔
پوڈ کاسٹ انٹرویو کے دوران، ٹرمپ پریڈ کے بارے میں بے فکر نظر آئے۔
انھوں نے کہا کہ وہ پوتن، شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن اور دو درجن سے زائد دیگر سربراہان مملکت کے سامنے چین کی طاقت کے مظاہرے سے ’پریشان نہیں‘ ہیں۔
تاہم، منگل کی رات تک اس نے ایک مختلف لہجہ اختیار کر لیا تھا اور ٹروتھ سوشل پر شکایت کر رہے تھے کہ دوسری عالمی جنگ میں ’چین امریکہ کو اپنے تعاون کا کریڈٹ نہیں دے رہا‘۔
انھوں نے لکھا کہ ’براہ کرم ولادیمیر پوتن اور کم جونگ اُن کو میری نیک خواہشات کا اظہار کریں کیونکہ امریکہ کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔‘
کیا چین کی قیادت میں نیا عالمی نظام ابھر رہا ہے؟
ان سب چیزوں سے ہٹ کر دیکھا جائے تو ٹرمپ کو پریڈ اور فوجی طاقت کے مظاہروں کا خاص شوق ہے۔
پچھلے مہینے انھوں نے الاسکا میں پوتن کا سرخ قالین بچھا کر استقبال کیا- سٹیلتھ بمبار فلائی اوور اور امریکی جیٹ طیارے ان کے سر پر اڑ رہے تھے۔
صرف دو ماہ قبل انھوں نے امریکی فوج کی 250 ویں سالگرہ منانے کے لیے واشنگٹن میں ایک فوجی پریڈ کا اہتمام کیا تھا۔
جہاں چین کی تازہ ترین فوجی پریڈ اپنے ہائی ٹیک ہتھیاروں اور نظم و ضبط کے ساتھ مارچ کرنے کی وجہ سے خبروں میں تھی۔
امریکا کی فوجی تاریخ کی یاد میں ہونے والی امریکی پریڈ ایک سادہ تقریب تھی۔ دوسری عالمی جنگ میں استعمال ہونے والے ٹینک اور انقلابی دور کے فوجیوں کو وائٹ ہاؤس کے قریب کانسٹیٹیوشن ایونیو پر آرام سے چلتے ہوئے دیکھا گیا۔
امریکا کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہوئے یہ ٹرمپ کے نعرے ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ پر مبنی ایک پرانی یادوں کا واقعہ تھا اور اس تقریب کے ذریعے ٹرمپ کو 19ویں صدی کے اس دور کو یاد کرتے ہوئے دیکھا گیا، جسے وہ ’امریکی تاریخ کا عظیم ترین دور‘ کہتے ہیں۔
چین کی اس فوجی پریڈ میں اس کے مستقبل کے ہتھیاروں کی نمائش کی گئی اور وہاں کی کمیونسٹ حکومت نے بھی یہ دکھانے کی کوشش کی کہ دوسری عالمی جنگ میں فسطائیت اور سامراج کو شکست دینے میں چین نے بڑا کردار ادا کیا۔
اگر اس جنگ نے نام نہاد ’امریکن صدی‘ کا آغاز کیا تو اب چین شاید امید کر رہا ہے کہ نئے دور میں وہ چین پر مبنی ورلڈ آرڈر بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔
اپنی پہلی مدت کے دوران ٹرمپ کے سابق معاون رچرڈ ولکی نے کہا کہ ’قواعد کو دوبارہ لکھنے کی منصوبہ بند کوشش کا یہ پہلا قدم ہے۔ اور پہلی چیز جو آپ کرتے ہیں وہ تاریخ کو دوبارہ لکھنا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی شکست میں چینی قوم پرستوں اور امریکی افواج کا تعاون چینی کمیونسٹ فوج سے کہیں زیادہ تھا۔‘
نئی دوستی
تاہم اس ہفتے چین کی فوجی پریڈ ہی واحد وجہ نہیں تھی جو امریکہ کے لیے تشویش کا باعث بنی۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزیں تھیں جنھوں نے امریکی پالیسی سازوں کو پریشان کیا ہوگا۔
پیر کو چین کے صدر شی جن پنگ اور روسی صدر پوتن نے تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔
یہ اس بات کی علامت ہے کہ چین اور انڈیا کے درمیان برف پگھل رہی ہے اور اس کی بڑی وجہ ٹرمپ کی جانب سے انڈیا پر عائد کردہ محصولات ہیں جس نے انڈیا اور امریکا کی دوستی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
عالمی تجارت پر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی نے دنیا کی معاشی اور سیاسی پولرائزیشن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
چین، روس اور انڈیا کی ابھرتی ہوئی مثلث اس بات کی مضبوط مثال ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں حریف سمجھے جانے والے ممالک کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے ٹیرف کو امریکی صنعت کے تحفظ اور حکومت کے لیے نئی آمدنی بڑھانے کے اپنے منصوبے کے حصے کے طور پر بیان کیا۔
ٹرمپ کے حمایت یافتہ امریکا فرسٹ فارن پالیسی انسٹیٹیوٹ میں امریکن سکیورٹی کے شریک چیئر رچرڈ ولکی کہتے ہیں کہ ’کورین، جاپانی، فلپائنی اور ویتنامی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اصل خطرہ امریکا کے ساتھ ان کی تجارتی شراکت میں معمولی رکاوٹیں نہیں بلکہ چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت ہے۔‘
ٹرمپ اکثر دوسرے ممالک کے تنازعات اور خدشات سے لاتعلق رہے ہیں۔
اس کے بجائے، انھوں نے جغرافیائی طور پر امریکہ کے قریب ممالک، جیسے گرین لینڈ، پاناما اور کینیڈا میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔
لیکن ٹرمپ کے لیے خطرہ یہ ہے کہ امریکا کے لیے فائدہ مند ہونے کے بجائے ان کی تجارتی پالیسیاں فلاپ ہونے کا خطرہ ہے۔
ایسے بڑھتے ہوئے اشارے مل رہے ہیں کہ ٹرمپ کی طرف سے ان کے امریکی مرکزی تجارتی انتظام کے تحت عائد کردہ محصولات کو امریکی عدالتیں ختم کر سکتی ہیں۔
پچھلے ہفتے، ایک اپیل کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ٹرمپ کے بہت سے ٹیرف وفاقی قانون کی غلط تشریح پر مبنی تھے۔
لیکن ٹرمپ نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ سپریم کورٹ میں قدامت پسند ججوں کی اکثریت ہے جو ٹرمپ کے حامی سمجھے جاتے ہیں لیکن انھوں نے ان صدور کے خلاف انتہائی سخت موقف اپنایا ہے جنھوں نے پارلیمنٹ کی اجازت کے بغیر بڑی پالیسیوں کو نافذ کرنے کی کوشش کی۔ ایسے میں اس بات کا امکان نہیں ہے کہ وہ ٹرمپ کے ٹیرف کے حوالے سے کوئی لبرل موقف اپنائیں گے۔
جہاں تک تجارت کا تعلق ہے، ٹرمپ نے ہمیشہ وہی کیا جو دل میں آیا۔
انھوں نے بہت سی روایتی پالیسیوں کو تبدیل کیا ہے اور نئے تجارتی شراکت دار بنائے ہیں۔
یہ ایک بہت جذباتی حکمت عملی ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تجارتی پالیسی امریکہ کو’دوسرے سنہری دور‘ کی طرف لے جائے گی۔
لیکن چاہے وہ تیانان مین سکوائر میں چینی فوجی پریڈ ہو یا امریکی عدالتیں، ٹرمپ کے محصولات سے لاحق خطرہ خیالی نہیں بلکہ بالکل حقیقی ہے۔
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد الیکشن کمیشن نے صوبے میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے نو حلقوں میں ضمنی انتخابات غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دیے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ایسے حالات میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے جب سیلاب کی وجہ سے سڑکیں بہہ گئی ہیں، آبادی متاثر ہوئی ہے اور عملہ ریسکیو کے کاموں میں مصروف ہے اور ان کی دستیابی نہیں ہے۔
سکیورٹی عملے کی عدم فراہمی کو بھی انتخابات ملتوی کرنے کی وجہ بتایا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق آبادی کے نقل مکانی کے سبب ٹرن آؤٹ کم رہنے کا امکان ہے۔
الیکشن کمیشن اب دوبارہ ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری کرے گا۔ کمیشن کے مطابق صورتحال معمول کے آنے کے بعد الیکشن شیڈول کا اعلان کیا جائے گا۔
یہ تمام نشستیں تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کو عدالتوں سے سزاؤں ملنے کے بعد خالی قرار دی گئی تھیں۔
پنجاب میں جن قومی اسمبلی کے حلقوں میں انتخابات ملتوی ہوئے ہیں ان میں این اے 66 وزیر آباد، این اے 129 لاہور، این اے 96 فیصل آباد، این اے 104 فیصل آباد اور این اے 143 ساہیوال شامل ہیں۔ صوبائی حلقے کی نشستوں میں پی پی 73 سرگودھا، 87 میانوالی، 98 فیصل آباد اور پی پی 203 ساہیوال شامل ہیں۔
اسرائیل نے غزہ جنگ کے خاتمے اور تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جامع معاہدے کی حماس کی نئی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر نے اس تجویز کو الفاظ کے ہیر پھیر سے تعبیر قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
حماس نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گروپ سے ’فوری طور پر 20 یرغمالیوں کو رہا کرنے‘ کا مطالبہ کیا گیا کہ اس کے بدل فوراً فلسطینی قیدیوں کو رہائی مل سکے گی۔
حماس کے مطابق کل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پراس یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
ادھر اسرائیل نے غزہ شہر پر اپنے فوجی حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 46 افراد ہلاک ہوئے۔
غزہ شہر کے رہائشیوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہاں جانے کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔
حالیہ دنوں میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ہزاروں اسرائیلی فوج کے ریزرو فورس کو بلا لیا ہے کیونکہ ملک نے غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے لیے اپنی زمینی کارروائی کا ایک نیا مرحلہ شروع کیا ہے۔
اسرائیلی زمینی افواج غزہ کی پٹی کے سب سے بڑے شہر کے مضافات میں داخل ہو گئی ہیں۔ غزہ شہر شدید فضائی اور توپ خانے کے حملوں کا نشانہ بنا ہے۔
اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے مکینوں سے فوری طور پر نکل کر جنوب کی طرف جانے کی اپیل کی ہے۔
اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں میں تقریباً 20,000 افراد شہر چھوڑ چکے ہیں لیکن تقریباً دس لاکھ افراد اب بھی وہاں موجود ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ غزہ شہر پر مکمل حملے شروع کرنے کے نتائج شہر کے مکینوں اور پوری غزہ پٹی کے لیے ’تصور سے کہیں زیادہ تباہ کن‘ ہو سکتے ہیں۔
گذشتہ ماہ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ ’آپریشن گیڈونز چیریٹس 2‘ کے دوران تقریباً 60,000 ریزرو فوجی بلائے گی، زمینی کارروائی کا ایک نیا مرحلہ جو مئی میں شروع ہوا تھا اور اب تک غزہ کی پٹی کے کم از کم 75 فیصد پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے۔
20,000 ریزر فورس جو پہلے متحرک تھی ان کی سروس کی مدت بھی بڑھا دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ حماس نے 48 اسرائیلی اور غیر ملکی یرغمال بنائے ہوئے ہیں جن میں سے 20 کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔
مغربی کنارے کے الحاق کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے: متحدہ عرب امارات کی تنبیہ
متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو مغربی کنارے کے الحاق کی صورت میں سنگین نتائج سے متعلق خبردار کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کا الحاق ایک ’ریڈ لائن‘ پار کرے گا اور ابراہیمی معاہدے کو نقصان پہنچائے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آئے۔
ایک سینیئر اماراتی اہلکار لانا نسیبہ نے کہا کہ ایسا اقدام اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کے لیے ’موت کا پروانہ‘ ثابت ہو گا۔
فلسطینی اتھارٹی کی وزارت خارجہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کے موقف کا خیر مقدم کرتی ہے۔
اسرائیلی حکومت نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
سنہ 1967 کی جنگ کے دوران مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے، اسرائیل نے اس علاقے میں تقریباً 160 بستیاں تعمیر کیں، اور وہاں 700,000 یہودیوں کو آباد کیا۔
ایک اندازے کے مطابق تقریباً 3.3 ملین فلسطینی بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں رہتے ہیں۔ مغربی کنارہ، غزہ کے ساتھ، فلسطینی علاقے ہیں، جو انھیں مستقبل کی ریاست کی امید دلاتے ہیں۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں۔
یاد رہے کہ ابراہمی معاہدہ 2020 میں امریکی ثالثی سے طے پایا تھا جس کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔
ابراہمی معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی اہم شرائط کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سابقہ حکومت نے مغربی کنارے کے کچھ حصوں بشمول بستیوں اور وادی اردن کو ضم کرنے کے اپنے منصوبے کو روک دیا تھا۔
نیتن یاہو نے اس وقت کہا تھا کہ انھوں نے منصوبوں کو ’معطل‘ کرنے پر اتفاق کیا ہے، مگر وہ ابھی زیر غور ضرور ہیں۔
امریکا نے دو ستمبر کو کوئٹہ میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے ایک جلسے پر ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ اس حملے میں 15 افراد جان سے گئے اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔
یہ بیان پاکستان میں امریکی سفارتخانے کی طرف سے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ’ہم جان سے جانے اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔‘
امریکا کے مطابق پاکستانی عوام کو تشدد اور خوف سے آزاد زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ دہشت گردی اور ان قابلِ گرفت گروہوں کے خلاف، جیسے کہ داعش–ولایتِ پاکستان، جس نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔‘
'دھماکہ اس وقت ہوا جب ہم جلسہ گاہ سے نکل رہے تھے‘
یہ جلسہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے بانی سردار عطا اللہ مینگل کی تیسری برسی کی مناسبت سے منعقد کیا گیا تھا جس سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترمینگل، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، نیشنل پارٹی کے رہنما میر کبیر احمد محمد شئی، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی کے علاوہ دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
سردار اختر مینگل نے بی بی سی کے نمائندے ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ خیریت سے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جلسہ ان کے والد سردار عطا اللہ مینگل کی برسی کے حوالے سے منعقد کیا گیا تھا جس میں محمود خان اچکزئی سمیت دیگر جماعتوں کے رہنما بھی شریک تھے۔
ان کے مطابق جلسے کے بعد وہ جیسے ہی گیٹ سے باہر نکلے تو پیچھے دھماکہ ہو گیا۔
انھوں نے بتایا پچھلے دنوں لک پاس پر دھرنے کے وقت بھی ایک خودکش حملہ ہوا تھا اور ان سے پولیس کے سکیورٹی گارڈ واپس لے لیے گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ جلسے کے لیے پولیس اور واک تھرو گیٹ دیے گئے تھے لیکن اس کے باوجود یہ حملہ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ کسی کی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹرنے دریاؤں میں سیلابی صورتحال اور ممکنہ بارشوں کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا ہے۔
مون سون کے نویں سپیل کے دوران سندھ کے جنوبی اضلاع بشمول ٹھٹھہ، سجاول، بدین، مٹھی، تھرپارکر، عمرکوٹ، سانگھڑ، کراچی، حیدرآباد اور جامشورو میں بارشوں کا امکان ہے۔
شمالی اضلاع بشمول سکھر، گھوٹکی، لاڑکانہ، خیرپور، دادو اور جیکب آباد میں بھی ہلکی سے درمیانی بارشیں متوقع ہیں۔
دریائے چناب میں قادرآباد کے مقام پر پانچ لاکھ سات ہزارجبکہ چنیوٹ میں پانچ لاکھ 24 ہزارکیوسک کا بہاؤ ہے۔ خانکی کے مقام پر دو لاکھ 59 ہزار کیوسک کے ساتھ اونچے درجے کا بہاؤ ہے جبکہ مرالہ اور تریموں کے مقام پر درمیانے سے اونچے درجے کا بہاؤ برقرار ہے۔
ریواز پل پر پانی کی سطح 520.3 فٹ، ہیڈ محمد والا اور شیرشاہ کے مقام پر بہاؤ میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق قادرآباد سے تریموں تک نشیبی علاقوں کے مکین محتاط رہیں۔ دریائے چناب کے ملحقہ نالوں ایک اور پلکھو میں بھی غیر معمولی بہاؤ اور قریبی دیہات میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔
دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر ایک لاکھ اور بلوکی کے مقام پر ایک لاکھ 34 ہزارکیوسک بہاؤ ہے۔ ہیڈ سدھنائی پر ایک لاکھ 35 ہزار کیوسک کے ساتھ شدید اونچے درجے کا بہاؤ برقرار ہے۔
جسڑ پر درمیانے تا اونچے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پرتین لاکھ 27 ہزار کیوسک بہاؤ کے ساتھ اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
سلیمانکی اور اسلام ہیڈ ورکس پر بھی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔
بارشوں کے ساتھ ساتھ انڈین ڈیموں سے پانی کے مسلسل اخراج کے باعث مشرقی دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرارہے۔
دوسری جانب این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹرنے گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کا الرٹ جاری کیا ہے۔
گلگت بلتستان اور کشمیر میں ممکنہ بارشوں کے پیش نظر حساس علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے جبکہ کشمیر کے اضلاع بلخصوص مظفرآباد، نیلم ویلی، حویلی، باغ، پونچھ اور سدھنوتی میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔
پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں کیبل کار حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔
بدھ کی شام سینٹرل لزبن میں کیبل کار پٹری سے اُتر کر تباہ ہو گئی تھی جس میں پرتگالی، ہسپانوی اور جرمن سیاح سوار تھے۔
ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔ لیکن ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ ان میں سات مرد، آٹھ خواتین اور پرتگالی شہری اور غیر ملکی دونوں شامل ہیں۔
لزبن کے میئر نے حادثے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے پرتگال میں ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔
پرتگالی حکام نے شہر کی دیگر تین کیبل کار لائنز کو انسپکشن کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
حادثے کی جگہ کے قریب رہائش پذیر ایک خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ اُنھوں نے زبردست دھماکے کی آواز سنی اور وہ سمجھیں کہ یہ کسی تعمیراتی کام کی وجہ سے اتنی شدید آواز آئی ہے۔ لیکن اس کے فوری بعد بڑی تعداد میں ایمبولینسیز جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔
پرتگال میں کیبل کار کے ذریعے مختلف مقامات کی سیر سیاحوں کے لیے پرکشش سمجھی جاتی ہے۔ لزبن شہر میں 19 ویں صدی سے کیبل کار سروس فراہم کی جا رہی ہے جن میں سالانہ 30 لاکھ افراد سفر کرتے ہیں۔
بلوچستان کی چھ سیاسی جماعتوں نے منگل کی شب بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے میں خود کش دھماکے کے خلاف آٹھ ستمبر کو پہیہ جام ہڑتال اور احتجاج کی کال دے دی ہے۔
جمعرات کو کوئٹہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ اس جلسے میں ہم سب لوگ تھے اور جو بچے اس دھماکے میں مارے گئے ان کی جگہ اس میں ہم سب اُڑ سکتے تھے۔
انھوں نے استفسار کیا کہ اگر ہم مارے جاتے تو اس کا پاکستان کو کیا فائدہ ہوتا؟
خیال رہے کہ منگل کی شب کوئٹہ میں سریاب کے علاقے میں واقع شاہوانی سٹیڈیم میں بی این پی کے جلسے کے اختتام پر اس وقت دھماکہ ہوا جب اس کے شرکا واپس اپنے گھروں کو جارہے تھے۔ دھماکے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے تھے۔
محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ اس واقعے پر ہم کوئٹہ کے تمام تھانوں کو جلا سکتے تھے لیکن ہم نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا کیونکہ ہم جمہوریت اور پر امن جدوجہد کے حامی ہیں۔
انھوں نے عوام سے اپیل کی وہ 8 ستمبر کو ہونے والے احتجاج میں بھرپور شرکت کرکے ایہ بتادیں کہ ایسے واقعات کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارے تاجروں کو افغانستان اور ایران سے تجارت کا حق حاصل ہے جس پر ہم کوئی پابندی قبول نہیں کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں اس پر مجبور نہ کیا جائے کہ ہم ان پابندیوں اور بے انصافیوں کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف سے رابطہ کریں۔
بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ اگر ایسے کام کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات سے ہم اپنی سیاست اور سیاسی جدوجہد کو ترک کریں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ دریائے راوی کا پانی ستلج میں ملنے کے بجائے واپس آ رہا ہے جس کی وجہ سے راوی میں پانی کی سطح بلند رہے گی۔
بدھ کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا کہ جب تک احمد پور سیال میں پانی کم نہیں ہوگا تو سدھنائی میں پانی کم نہیں ہو گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگلا بڑا چیلنج ہیڈ محمد والا میں ہے۔ ہیڈ محمد والا میں چار سے پانچ فٹ پانی کی گنجائش ہے۔
عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا کہ ملتان میں شیر شاہ بریج پر بھی اس وقت پانی کا کافی دباؤ ہے۔ شیر شاہ کے مقام پر دو فٹ کا مارجن رہ گیا ہے۔ ملتان میں بریچنگ کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جاچکے ہیں۔
چناب سے دریائے راوی کا پانی واپس آنے کی وجہ کیا ہے؟
لاہور کی لمز یونیورسٹی میں واٹر انفارمیٹکس اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو بکر کہتے ہیں کہ دریائے راوی سدھنائی کے مقام پر دریائے چناب میں گرتا ہے۔
اُن کے بقول چوں کہ دریائے چناب میں تقریباً آٹھ لاکھ کیوسک پانی موجود ہے، ایسے میں دریائے راوی سے آنے والا پانی اس میں گرنے کے بجائے واپس آیا، اسے اصظلاح کو ’بیک واٹر‘ کہا جاتا ہے۔
اس کی مثال دیتے ہوئے ڈاکٹر ابو بکر کا کہنا تھا کہ یہ اسی طرح ہے کہ آپ کے گھر کے باہر گلی میں پانی کھڑا ہے جس کا لیول آپ کے گھر سے اُوپر ہے تو اگر آپ گھر کا پانی گلی کی جانب دھکیلنے کی کوشش کریں گے تو یہ پانی شدت سے واپس آئے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ دریائے راوی کے پانی کے ریورس آنے کی وجہ سے بھی کئی دیہات زیر آب آئے ہیں۔
دریائے راوی ہیڈ سدھنائی سے تقریباً 20 کلو میٹر آگے دریائے چناب میں گرتا ہے۔
دریائے راوی جسڑ، نارووال، شاہدرہ، شیخوپورہ، اوکاڑہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہوتا ہوا ہیڈ سدھنائی سے تقریباً 20 کلو میٹر آگے چناب میں شامل ہوتا ہے۔
مُلکی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کی جانب سے پنجاب کے دریائے ستلج میں سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا موجودہ بہاؤ تین لاکھ 35 ہزار کیوسک سے زیادے ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کہ غیر معمولی طور پر بلند ہے۔
نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق ستلج کے پانی میں اس اضافے کی وجہ انڈین ڈیمز پونگ اور بھاکرا سے پانی کا اخراج ہے۔ یہ دونوں انڈین ڈیمز بلترتیب 98 فیصد اور 96 فیصد بھرے ہوئے ہیں۔
نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دریائے ستلج کے قریب واقع چھ اضلاع جن میں قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بورے والا، عارف والا اور بہاولنگر شامل ہیں کو اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔ تاہم زرعی زمینوں، دیہی آبادیوں اور کمزور انفراسٹرکچر کو نمایاں طور پر سیلابی ریلوں سے خطرہ ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج میں ہیڈ سلیمانکی میں ہائی فلڈ کی صورتحال متوقع ہے، جس سے پانی کا اخراج تقریباً 132,000 کیوسک بتایا جا رہا ہے۔
تاہم اسے کے ساتھ قتلج میں ہی ہیڈ اسلام کے مقام پر درمیانے سے اونچے سیلاب درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے جہاں سے اس وقت پانی کا اخراج تقریباً 95,700 کیوسک کے قریب ہے۔
نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق انڈین ڈیمز کی جانب سے مسلسل پانی کے اخراج کی وجہ سے دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال مزید بڑھ سکتی ہے۔
انڈیا نے دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال کے حوالے سے پاکستان سے سفارتی سطح پر رابطہ کرتے ہوئے انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
پاکستان کی وزارت آبی وسائل کے مطابق انڈین ہائی کمیشن نے پاکستان کو دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال سے آگاہ کیا ہے، اور بتایا ہے کہ دریائے ستلج میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ انڈیا نے گزشتہ روز بھی دریائے ستلج کی سیلابی صورتحال کے حوالے سے رابطہ سفارتی سطح پر پاکستان سے رابطہ کیا تھا، جس کے بعد دریائے آبی وسائل نے ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے دریائے ستلج پر فیروز پور کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
وزارت آبی وسائل کے مطابق دریائے ستلج میں ہریک اور فیروز پور کے مقامات پر سیلاب کا خدشہ ہے اور چار ستمبر کو دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے کا امکان ہے۔
پاکستان میں صوبہ پنجاب کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے دریائے راوی ستلج اور چناب میں سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دریائے راوی ستلج اور چناب میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث 39 سو سے زائد موضع جات متاثر ہوئے ہیں۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق دریاؤں میں سیلابی صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 38 لاکھ 75 ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم سیلاب میں پھنس جانے والے 18 لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
ریلیف کمشنر پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ سیلاب میں اب تک 46 شہری مختلف واقعات میں ہلاک ہوئے ہیں۔
ریلیف کمشنر پنجاب کے کا کہنا ہے کہ شدید سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 410 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ اضلاع میں 444 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔
ریلیف کمشنر پنجاب مویشیوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے 395 ویٹرنری کیمپس بھی مختلف علاقوں میں قائم کیے گئے ہیں۔ تاہم متاثرہ اضلاع میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں 13 لاکھ 22 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔ کسانوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔نبیل جاوید
تاہم ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارش کا بھی امکان ہے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تین بڑے دریاؤں چناب، راوی اور ستلج میں سیلاب سے متعلق تازہ ترین صورتحال جاری کی گئی ہے۔ صوبائی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے پنجاب کی کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق پنجاب کے تینوں دریاؤں میں مختلف مقامات پر اونچے درجہ جبکہ کُچھ مقامات پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری تازہ اعدادوشمار کے مطابق دریائے چناب میں ہیڈ خانکی، ہیڈ قادر آباد اور چنیوٹ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ہیڈ خانکی میں پانی کی آمد اس وقت چار لاکھ 57 کیوسک سے زیادہ ہے جبکہ قادرآباد میں پانی کی آمد پانچ لاکھ 30 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے تاہم چنیوٹ کے مقام پر پانی کی آمد چار لاکھ 94 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے۔
اس کے علاوہ دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد دو لاکھ 44 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے۔
دریائے چناب کی ہی طرح دریائے راوی میں ہیڈ سدھنائی میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہےت جہاں پی ڈی ایم اے کے مطابق پانی کی آمد ایک لاکھ 39 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے۔ دریائے راوی میں دو مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے جن میں شاہدرہ اور ہیڈ بلوکی شامل ہیں۔
جبکہ پنجاب کے تیسرے بڑے دریا ستلج میں گنڈا سنگھ والا میں بھی انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے جہاں پانی کی آمد تین لاکھ 35 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے۔
تاہم دریائے ستلج میں بھی ہیڈ سلیمانکی پر اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے اس ہیڈ پر پانی کی آمد ایک لاکھ 32 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطی ضلع گجرات میں بارش اور سیلاب کے باعث ضلع بھر کے تعلیمی ادارے آج بند رہیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نور العین قریشی کی طرف سے اس سلسلے میں نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
موسلا دھار بارش سے متعدد دیہات زیرآب آگئے اور اندرون شہر کے علاقوں میں پانی کھڑا ہوگیا ہے۔ رات گئے گجرات میں 577 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جس کے بعد برساتی نالے بپھر گئے جس سے کئی دیہات زیر آب آگئے۔
گجرات شہر کے متعدد علاقے اب بھی گزشتہ شب ہونے والی ریکارڈ بارش کی وجہ سے زیرآب ہیں اور شہریوں کو شدید مُشکلات کا سامنا ہے۔
محکمہ زراعت کے حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب اور بارشوں سے مونجی (چاول) کی کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ جس کی کٹائی ماہ اکتوبر میں ہونا تھی۔ اس کے علاوہ سبزیوں اور پھلوں کی فصلیں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔
گجرات کی ڈسٹرکٹ جیل اور احاطہ سیشن کورٹ میں بھی بارش کا پانی داخل ہوگیا اور سیالکوٹ کے بعد اب گجرات سے بھی کئی قیدیوں کو لاہور اور گوجرانوالہ کی جیلوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔
اس سے پہلے سیالکوٹ کی جیل سے ایک ہزار سات قیدیوں کو گوجرانوالہ، حافظ آباد اور نارووال کی جیلوں میں منتقل کیا گیا تھا۔
فلڈ کنٹرول حکام کے مطابق گجرات میں 24 گھنٹوں میں 577 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ مدینہ سیداں کے قریب حفاظتی بند باندھ کر پانی کو برساتی نالے میں موڑا جا رہا ہے جبکہ گجرات میں پانی کی نکاسی کے لیے گوجرانوالہ سے بھی ہنگامی بنیادوں پر مشینری اور گاڑیاں گجرات بھجوائی گئی ہیں۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تین بڑے دریاؤں میں گزشتہ کئی روز سے سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن پنجاب کے مطابق اس وقت ہیڈ سدھنائی اور گنڈا سنگھ والا پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہے اور ان انتہائی اونچے درجے کا سیلاب کا سامنا ہے۔
اس کے علاوہ دریائے چناب کے ہیڈ خانکی، ہیڈ قادر آباد اور چنیوٹ برج پر بھی رات گئے پانی کی سطح بلند ہوگئی اور آج صبح انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق ہیڈ مرالہ، راوی سائفن، شاہدرہ، بلوکی اور ہیڈ سلیمانکی پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاہم ادارے کے مطابق دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر اونچے درجےکا سیلاب ہے۔
جمعرات کی صبح جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق بلوکی کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج ایک لاکھ 14 ہزار 130 کیوسک ہے۔ دریائے راوی میں سدھنائی کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جہاں پانی کی آمد ایک لاکھ 60 ہزار 580 کیوسک ہے جبکہ پانی کا اخراج ایک لاکھ 57 ہزار 580 کیوسک ہے۔
تریموں، جسڑ، اسلام اور میلسی سائفن پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ پانی کی آمد اور اخراج 85 ہزار980 کیوسک ہے۔ گڈو، سکھر، کوٹری، اور پنجند پر پانی کی سطح کم ہوچکی ہے اور یہاں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
دریائے چناب سے ملحقہ نالہ ایک میں بہت اونچے اور نالہ پلکھو میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے راوی کے ملحقہ نالہ بسنتر اور نالہ نئیں میں پانی کی سطح میں آج کمی آچکی ہے اور نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
تربیلا ڈیم 100 فیصد اور منگلا ڈیم 87 فیصد بھرچکا ہے۔ تربیلا ڈیم کا لیول 1549 فٹ، منگلا ڈیم کا لیول 1228 فٹ خانپور ڈیم کا لیول 1979 فٹ، راول ڈیم کا لیول 1751 فٹ اور سملی ڈیم کا لیول 2315 فٹ ہے۔
دوسری جانب دریائے راوی کا سیلابی ریلا ملتان تک پہنچ چکا ہے جبکہ کبیر والا اور اس کے گردونواح کے درجنوں دیہات پانی میں ڈوب چکے ہیں۔ ملتان کی تحصیل شجاع آباد میں سیلابی ریلے سے متعدد بستیاں زیرِآب آ گئی ہیں اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کر رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ لوگوں کو دو روز سے کہا جارہا تھا کہ یہ علاقے خالی کردیں لیکن لوگوں کی اکثریت گھر بار چھوڑنے کو تیار نہ تھی۔ ضلع لودھراں میں پانچ بستیوں کے بند ٹوٹ گئے جنھیں جس سے پانی فصلوں میں داخل ہوگیا اور دیہات کا زمینی رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔
پاکستان میں سکھر ملتان موٹروے پر بددھ اور جمعرات کی درمیانی شب رات گئے کچے کے درجنوں مسلح ڈاکوؤں نے موٹروے پر آکر مسافر بس اور گاڑیوں پر فائرنگ کردی۔
ڈاکوؤں کی فائرنگ کی وجہ سے خاتون اور بچوں سمیت چار افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر شیخ زید ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ فائرنگ سے مسافر بس اور ایمبولینس سمیت گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
ڈاکوؤں کا نشانہ بننے والے مسافروں کا بتانا ہے کہ ڈاکوؤں نے فائرنگ کے بعد تمام گاڑیوں کو روک کر لوٹ مار کی۔ تاہم واقعے کے بعد امن و امان اور حفاظتی انتظامات کے پیش نظر موٹروے پولیس نے اعظم پور سروس ایریا اور گڈو انٹر چینج کے قریب دونوں اطراف سے ٹریفک کو عارضی طور روک دیا۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کے بعد ڈاکو کچے کی جانب فرار ہوگئے۔