یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
26 جولائی کی خبریں جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کے بینچ تشکیل دینے والی تین رُکنی ججز کی کمیٹی سے استدعا کی ہے کہ وہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ان کے اور پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات سننے والا بینچز میں شامل نہ کرے۔
بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
26 جولائی کی خبریں جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور وزیرِاعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ بانی تحریکِ انصاف عمران خان کا آرمی چیف کے نام مبینہ پیغام کافی دیر سے آیا ہے اور اس پیغام کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
بظاہر ان کا اشارہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے اس بیان کی طرف تھا جس میں انھوں دعویٰ کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے نام پیغام دیا ہے کہ موجودہ حکومت فوج اور پی ٹی آئی کو آمنے سامنے کرنا چاہتے ہیں۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے فوج مخالف بیانات کو دیکھتے ہوئے کوئی ان پیغامات پر کیسے یقین کر سکتا ہے۔‘
جمعرات کے روز جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ۃوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس بیان کی کوئی اہمیت نہیں ہے لیکن ہمیں نظر آرہا ہے کہ کچھ چیزیں ایسے انداز میں کی جارہی ہیں کہ ان کو اپنے تئیں لگتا ہے کہ اس طرح کا ایجنڈا پورا کر لیں گے، لیکن ایسا ہوگا نہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی رہنما نجی محفلوں میں کہہ رہے ہیں کہ ان کی بات ہوگئی ہے کہ نومبر میں جیسے ہی چیف جسٹس تبدیل ہوں گے، تو اس کے بعد نئے الیکشن کی تیاری کریں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوٰی کیا تھا کہ دسمبر تک ان کی جماعت حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی۔
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کے بینچ تشکیل دینے والی تین رُکنی ججز کی کمیٹی سے استدعا کی ہے کہ وہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ان کے اور پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات سننے والا بینچز میں شامل نہ کرے۔
جمعرات کو سپریم کورٹ کی تین رُکنی کمیٹی کو بھیجی گئی درخواست میں سابق وزیراعظم نے موقف اپنایا ہے کہ کمیٹی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو پی ٹی آئی اور سنّی اتحاد کونسل کے مقدمات سننے والے بینچز میں شامل نہ کرے۔
عمران خان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سنہ 2019 میں انھوں نے قانونی ماہرین کے مشورے کے بعد قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس بھیجنے کی سفارش کی تھی، جو کہ ان کی آئینی ذمہ داری تھی۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ نے اس ریفرنس کو ذاتی حملہ تصور کیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان سمجھتے تھے کہ چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ماضی کو بھلا دیں گے لیکن ’چیف جسٹس کے کنڈکٹ سے بالکل واضح ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔‘
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ’چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بینچ میں موجودگی سے آئین و قانون کے مطابق انصاف ملنے کی امید نہیں۔‘
واضح رہے اس سے قبل بھی عمران خان تحریری طور پر سپریم کورٹ سے یہ درخواست کر چکے ہیں کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ان کے اور ان کی جماعت سے متعلق مقدمات کو سننے والے بینچز میں شامل نہ ہوں۔
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ضلع ہوشاب میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی ایک کارروائی میں ایک شدت پسند ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔
جمعرات کو پاکستانی فوجی کے شعبہ ابلاغ عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہوشاب میں ایک آپریشن کے دوران پاکستانی فوج کے اہلکاروں اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور اس دوران علی جان نامی ایک شدپ پسند ہلاک ہوا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والا شدت پسند اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ سمیت دہشتگردی کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسند کے قبضے سے ہتھیار اور گولیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں ہونے والے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ بنوں واقعے کی جوڈیشل انکوائری کے لیے عدلیہ کو درخواست دی جائے گی۔
جمعرات کو ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت خود بھی بنوں واقعے کی انکوائری کروائے گی اور ذمہ داران کا تعین کرے گی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایپکس کمیٹی کی رائے میں پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ سب کا یہ فرض بھی ہے کہ قانون اور ضابطہ اخلاق کی پاسداری ہو، لاقانونیت اور پُرتشدد احتجاج سے گریز کیا جائے تاکہ دیگر عناصر اس کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہ کریں۔‘
خیال رہے بنوں میں گذشتہ ہفتے 19 جولائی کو تاجر برادری نے سیاسی جماعتوں اور دیگر تنظیموں کے ہمراہ ’شہر میں امن و امان کے قیام کے لیے‘ احتجاج کیا تھا۔
صوبائی محکمہ داخلہ کے مطابق یہ احتجاج پریٹی گیٹ پر ’پُرامن‘ طریقے سے ختم ہو گیا تھا لیکن بعد میں احتجاج کے شرکا نے سپورٹس کمپلیکس کی طرف جانا شروع کر دیا اور وہاں کچھ شرپسندوں نے سکیورٹی فورسز کے ڈپو پر نہ صرف پتھراؤ کیا بلکہ چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ بھی کی۔
محکمہ داخلہ کے مطابق علاقے میں تعینات پولیس اہلکاروں نے حالات پر قابو پانے اور مظاہرین کو حساس علاقے سے باہر نکالنے کی کوشش کی اور اس دوران ایک شخص ہلاک اور 25 زخمی ہو گئے تھے۔
ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ آپریشن کے متعلق عسکری اداروں نے واضح بتادیا ہے کہ صوبے میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا اور مقامی سطح پر دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی پولیس اور محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کرے گی۔
’مشکوک علاقہ جات و مدارس پر کارروائی سی ٹی ڈی کی ذمہ داری ہے اور یہ کارروائی سی ٹی ڈی ہی کرے گی۔‘
ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ عوام اور اداروں کے درمیان غلط فہمیاں کو دور کرنے کے لیے مقامی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جن میں عامی نمائندے، سویلین، عسکری اداروں اور پولیس کے نمائندے ہوں گے۔
اعلامیے کے مطابق یہ کمیٹیاں مسائل کے سدِباب کے لیے فوری جرگے بُلائیں گی اور ’قابلِ عمل حل‘ نکالیں گی۔
ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی فوج، پولیس، دیگر دفاعی اداروں اور عوام نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے لازوال قربانیاں دیں، اس لیے کسی بھی ایسے غیر جمہوری ایجنڈے یا پروپیگنڈے سے اجتناب کیا جائے سے ان کی یا ان کے خاندان والوں کی دل آزاری ہو۔‘
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے 39 اراکین قومی اسمبلی کو پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کا رُکن تسلیم کرلیا ہے۔
بدھ کو ان 39 اراکین کے حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ 12 جولائی کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سربراہی میں 13 رکنی بینچ نے مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی اپیل اکثریت رائے سے منظور کی تھی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے منتخب امیدواروں کو کسی اور جماعت کا رکن قرار نہیں دیا جا سکتا اور پی ٹی آئی ہی مخصوص نشستوں کے حصول کی حقدار ہے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن نے جمعرات کو مخصوص نشستوں کے فیصلے سے متعلق ابہام دور کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار کے مطابق ان کی قانونی ٹیم نے کمیشن کو بتایا کہ پی ٹی آئی ان کی نظر میں کوئی جماعت ہی نہیں ہے کیونکہ اس جماعت میں انٹرا پارٹی الیکشن ہی نہیں ہوئے ہیں۔
اجلاس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ جماعت میں سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟
الیکشن کمیشن کے اہلکار کے مطابق کمیشن نے سپریم کورٹ سے 13 رکنی بینچ کے فیصلے کے پیرا 10 کے تحت رجوع کیا ہے تاکہ رہنمائی لی جا سکے کہ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کی اتھارٹی کون ہے؟
اہلکار کے مطابق قانونی ٹیم کی بریفنگ کے مطابق ابھی تک پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کروائے اور نہ ہی پی ٹی آئی کا کوئی پارٹی سٹرکچر موجود ہے۔
جمعرات کو پاکستان میں آزادانہ حیثیت میں کام کرنے والے انسانی حقوق کمیشن (ایچ آر سی پی) کے چیئرمین اسد بٹ کو کراچی پولیس پوچھ گچھ کے لیے اپنی حراست میں گلبرگ تھانے لے کر گئی۔
ایس ایس پی کراچی وسطی ذیشان صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ اسد بٹ کو حراست میں نہیں لیا گیا بلکہ انھیں ڈی ایس پی کے دفتر میں پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا ہے۔ ایس ایس پی کے مطابق بلوچستان اور ریلیوں میں شرکت کے حوالے سے کچھ انٹلی جنس رپورٹس اس بارے میں ان سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔
اسد بٹ نے بی بی سی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان سے بلوچ مسنگ پرسنز پر سولات کیے گئے اور ان سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا۔ ان کے مطابق انھوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ اس مسئلے سے دور نہیں رہ سکتے۔
ان کے مطابق ان سے پوچھا گیا کہ آپ کوئٹہ گئے تھے تو انھوں نے بتایا کہ گذشتہ آٹھ سالوں میں وہ وہاں نہیں جا سکے۔ اسد بٹ کے مطابق اب پولیس کہتی ہے کہ ’وہ غلطی ہوگئی معذرت۔‘ پولیس نے پوچھ گچھ کے بعد اسد بٹ کو رہا کر دیا۔
ایچ آر سی پی پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے معاملے پر ریاستی پالیسیوں پر سوالات اٹھاتا آ رہا ہے۔
پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی تاریخ
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل کے مطابق جبری گمشدگی کا شکار وہ لوگ ہیں جو عملی طور پر غائب ہو چکے ہیں۔ وہ اس وقت لاپتہ ہو جاتے ہیں جب ریاستی اہلکار انھیں کسی گلی یا گھروں سے پکڑتے ہیں اور پھر یہ بتانے سے انکار کرتے ہیں کہ وہ کہاں ہیں۔
ایمنٹسی کے مطابق بعض اوقات مسلح غیر ریاستی عناصر، جیسے مسلح اپوزیشن گروپوں کی طرف سے گمشدگی کا ارتکاب کیا جا سکتا ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کے تحت جرم ہے۔
پاکستان میں ’جبری گمشدگیوں‘ کے مسئلے نے سنہ 2000 میں اس وقت زور پکڑا جب افغانستان پر امریکہ کے حملے کے بعد مذہبی اور مسلکی جماعتوں کے کارکنوں اور ہمدردوں کی گمشدگیاں ہونے لگیں۔
بلوچستان میں بزرگ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کی فوجی آپریشن میں ہلاکت کے بعد اس میں تیزی آئی۔
سپریم کورٹ سے لے کر چاروں صوبوں میں موجود ہائی کورٹس میں لاپتہ افراد کی جبری گمشدگیوں کے خلاف درخواستیں دائر ہیں۔ ہر درخواست پر وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کو نوٹس ہوتے ہیں جن میں اکثریت کے جوابات یہ ہی آتے ہیں کہ متعلقہ شخص ان کی تحویل میں نہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہی صرف 50 کے قریب بلوچ طلبہ کی گمشدگی سے متعلق کیس زیر سماعت ہے، جہاں گذشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل منصور اعوان نے عدالت کو بتایا کہ 22 بلوچ طلبہ کو ڈھونڈ لیا گیا ہے لیکن 28 تاحال لاپتہ ہیں اور یہ کہ تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
سنہ 2011 میں جبری گمشدگیوں کا پتا لگانے کے لیے کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔
کمیشن چاروں صوبوں کے کئی شہروں میں درخواستوں کی سماعت کر چکا ہے اور اس کی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب لاپتہ افراد کے لواحقین نے کمیشن سے رجوع کیا۔
کمیشن چاروں صوبوں کے کئی شہروں میں درخواستوں کی سماعت کر چکا ہے اور اس کی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ 1977 جبری طور پر لاپتہ افراد گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کا نو مئی کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ اور ویڈیو لنک پر عمران خان کی حاضری کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا۔
عمران خان نے دس روزہ جسمانی ریمانڈ کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ عمران خان کی 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواستوں پر سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم اور جسٹس انوار الحق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ اس مقدمے میں پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے دلائل دیتے ہوئے عمران خان کی درخواستوں کی مخالفت کی۔
عدالت نے 12 مقدمات میں عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواستوں پرفیصلہ سناتے ہوئے جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے دیا اور عمران خان کی ویڈیو لنک پر حاضری کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا۔
سماعت کے آغاز پر جسٹس انوار الحق نے دریافت کیا کہ درخواست گزار کتنے مقدمات میں نامزد ہیں؟ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ عمران خان تین مقدمات میں نامزد ہیں۔
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے عمران خان پر درج تمام مقدمات کا ریکارڈ اور ان مقدمات میں ہونے والی پیش رفت رپورٹ بھی عدالت کے سامنے پیش کردی۔
عمران خان کے خلاف نو مئی سے متعلقہ مقدمات کا پس منظر
لاہور پولیس نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں نو مئی کے 12 مقدمات میں عمران خان کی گرفتاری ڈالی تھی، جس کے بعد 5 جولائی کو عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
15 جولائی کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پولیس کی عمران خان کی 9 مئی کے بارہ مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر دس روزہ ریمانڈ دے دیا تھا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج خالد ارشد نے درخواست پر سماعت کی تھی۔
عمران خان نے 20 جولائی کو 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ دینے کے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے خلاف درخواستیں لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھیں۔ 24 جولائی کو لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی نو مئی کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر سماعت ملتوی کرتے ہوئے عمران خان پر درج مقدمات سے متعلق پراسیکیوٹر جنرل سے تفصیلی رپورٹ کی تھی۔ 23 جولائی کو عدالت نے عمران خان کی 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواستوں پر پراسکیوشن سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا۔
عمران خان نے ان درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا کہ لاہور کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے جسمانی ریمانڈ دیتے وقت ریکارڈ کا درست جائزہ نہیں لیا۔ عمران خان نے کہا کہ وہ جیل میں قید ہیں اور پولیس پہلے بھی تفتیش کر چکی ہے۔
درخواستوں میں مزید کہا گیا تھا کہ جسمانی ریمانڈ دیتے وقت قانون کو بھی مدنظر نہیں رکھا گیا، لہٰذا لاہور ہائی کورٹ سے استدعا ہے کہ وہ اے ٹی سی کی جانب سے 12 مقدمات میں دیا گیا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے۔
دوران سماعت جسٹس انوارا الحق نے ریمارکس دیے کہ جب درخواست گزار کو امید ہوئی کہ وہ جیل سے باہر آ جائیں گے تب آپ نے ان مقدمات میں گرفتاری ڈال دی۔ انھوں نے کہا کہ قانون تو یہ ہے کہ جیسے ہی آپ کو ملزم کا پتا چلے آپ اسے گرفتار کریں، آپ نے پہلے کیوں گرفتار نہیں کیا؟ جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کی گرفتاری کی ٹائمنگ اہم ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ عمران خان نے خود کہا انھیں جان کا خطرہ ہے وہ عدالتوں میں پیش نہیں ہو سکتے۔
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ ملزم تب عبوری ضمانت پر تھے جس کی وجہ سے انھیں گرفتار نہیں کر سکتے تھے۔ جسٹس انوارالحق نے دریافت کیا کہ آپ نے اس سے پہلے تفتیش کرنے کی کوشش کی؟
عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ پیمرا کی رپورٹس کیا ہے؟ اگر پیمرا لڑکی کو لڑکا کہہ دے تو اسے مانا تو نہیں جا سکتا، اگر ایک سیاسی بندہ تقریر کرتا ہے تو دیکھنا ہے کہ اس کی ذہنیت مجرمانہ ہے یا نہیں؟ آپ یہ بتائیں کہ جو درخواست گزار نے ٹویٹ کیا اس میں جرم کیا ہے؟ اور کس سیکشن کے تحت کارروائی ہو گی؟
پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ میں آپ کو ریکارڈ سے بتا سکتا ہوں کہ عمران خان نے ہمیں لکھ کہ دے دیا ہے کہ وہ تفتیش میں شامل نہیں ہوں گے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ’ہمارے پاس پیمرا کی رپورٹس ہیں لیکن درخواست گزار تفتیش جوائن نہیں کر رہے۔‘ اس پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیے کہ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ اتنے دن کے ریمانڈ کی ضرورت بھی تھی کہ نہیں، اگر درخواست گزار کوئی ٹیسٹ نہیں کراتا تو اس کے نتائج وہ خود بھگتیں گے۔
پراسکیوٹر جنرل نے بتایا کہ عمران خان نے تحریر ہمیں لکھ کر دی ہے کہ وہ اپنے وکیل کی موجودگی میں پولیس کو بیان دیں گے، انھیں پولیس پر اعتماد نہیں ہے۔
پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے بانی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاونٹس کی تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کیں۔انھوں نے عمران خان کی ٹویٹس پڑھ کر سنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مخصوص بیانیہ بنایا گیا۔ جسٹس انوار الحق نے کہا کہ جو آپ نے ٹویٹ پڑھی ہے اس سے زیادہ دھمکیاں تو آج کل ججز کو مل رہی ہیں۔
پراسیکیوٹر جنرل نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے بیانیہ بنایا گیا، اس پر جسٹس انوارالحق پنوں نے دریافت کیا کہ آپ یہ بتائیں کہ ووٹ کو عزت دو بیانیہ نہیں ہے؟ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ ووٹ کو آرمی چیف کی وجہ سے عزت نہیں مل رہی یہ کہنا تو بیانیہ نہیں ہے نا؟
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر درخواست گزار نے احتجاج کی کال دی تو یہ جرم کیسے بنے گا؟ اگر حملوں کو لیڈ کرتا تو پھر ضرور یہ جرم ہوتا، جسٹس انوارالحق نے کہا کہ درخواست گزار کے خلاف کیا مواد ہے؟ پراسیکیوٹر جنرل خود پڑھیں گے، ہم نہیں پڑھیں گے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ کا کہنا تھا کہ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو دیکھنا چاہیے تھا کہ ریمانڈ بنتا بھی ہے کہ نہیں۔ انھوں نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کے خلاف سیکشن کون سی لگے گی ؟
پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ سیکشن 121 کے تحت بغاوت کی کارروائی ہو گی، جسٹس طارق سلیم شیخ نے بتایا کہ یہ سیکشن لاہور ہائی کورٹ نے کالعدم کر دی ہوئی ہے۔
اس پر پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے بتایا کہ سیکیورٹی برانچ کے افسر نے بیان دیا ہے کہ عمران خان نے ہدایت جاری کی تھی کہ اگر مجھے رینجرز یا فوج گرفتار کرتی ہے تو ملک کو بند کریں، جی ایچ کیو پر حملہ کریں۔
پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے مؤقف اپنایا کہ ہماری تفتیش متاثر ہو گی لہذا عدالت درخواستیں خارج کرے، جن موبائل فونز سے ٹوئٹس کیے گئے وہ بھی برآمد کرنے ہیں۔
جسٹس انوارالحق پنوں نے کہا کہ اگر برآمدگی کرنی بھی ہے تو آپ تو درخواست گزار کو جیل سے باہر نہیں لے جا سکتے، برآمدگی کیسے کریں گے؟
بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ جس سرکاری وکیل کا بیان پڑھا گیا اس کیس میں تو عمران خان کی ضمانت ہو چکی ہے، نو مقدمات میں پولیس 425 دن سوئی رہی اور تین مقدمات میں پولیس 170 دن سوئی رہی۔
سلمان صفدر نے بتایا کہ جسمانی ریمانڈ کے لیے ضروری ہےکہ ملزم کو عدالت میں ہی پیش کیا جائے، ایسی کوئی مجبوری نہیں کہ عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکے، سیکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے، سیکیورٹی کا سہارا لے کر یہ جان بوجھ کر عمران خان کو جسمانی ریمانڈ کے لیے پیش نہیں کر رہے۔
اسلام آباد میں پیکا ایکٹ کے تحت قائم ہونے والی ایک خصوصی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن سمیت دیگر ملزمان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔
آج رؤف حسن سمیت دیگر ملزمان کو پیکا ایکٹ کے تحت قائم ہونے والی اس خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔
یاد رہے پیکا ایکٹ کے تحت قائم ہونے والی عدالت میں یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں ریاست یا کسی شخصیت کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے یا سوشل میڈیا کے ذریعے ملک دشمن عناصر کے ساتھ روابط رکھنے سے متعلق درج مقدمات کی سماعت ہوئی۔
واضح رہے رؤف حسن سمیت دیگر ملزمان پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔
رؤف حسن و دیگر ملزمان کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جوڈیشل مجسٹریٹ محمد شبیر بھٹی کی عدالت پیش کیا گیا ہے۔ عدالت میں رؤف حسن کے وکیل علی بخاری ایڈوکیٹ بھی پیش ہوئے ہیں۔
دورانِ سماعت ایف آئی اے کی جانب سے رؤف حسن سمیت دیگر ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔
ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ ابھی تک ریکور نہیں ہوئے، جی میل لاگ ان کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پیسوں کے عوض لوگ واٹس ایپ گروپ چلا رہے ہیں جس میں بیرون ملک سے لوگ شامل ہیں۔
ایف آئی اے پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے موبائل سے فیک اکاؤنٹس ملے ہیں۔ پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ رؤف حسن میڈیا کو ہیڈ کرتے ہیں اور ان کی جانب سے ڈائریکشن دی جاتی ہیں، عدلیہ اور انتظامیہ کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے۔
ایف آئی اے پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ایک ہی ٹیکنیکل ایکسپرٹ ہے لہذا مذید وقت درکار ہے۔ انھوں نے دلائل دیے کہ ترمیم کے بعد پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات میں 30 دن کا ریمانڈ لے سکتے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے صحافی ارشد شریف کے قتل پر اینکر پرسن حامد میر کی جانب سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ قانون کے مجاز افسران کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں اینکر پرسن حامد میر کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس عامر فاروق نے کی۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ آئی جی اور ایس جے آئی ٹی کے مطابق ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں کیونکہ اس کے ثبوت کینیا میں ہیں۔ انھوں نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ حکومت کا کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے کیا موقف ہے۔
جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں دو غیر ممالک اور ایک پاکستان شامل ہے۔ دوسرے ممالک میں ایم ایل اے کے ذریعے ہی رسائی دی جا سکتی ہے۔
اس پر عامر فاروق نے ان سے استفسار کیا کہ یہاں کا جو معاملہ ہے اس سے متعلق کیا کمیشن بن سکتا ہے ؟ اس حوالے سے کیا قباحت ہے ؟ اس کی تحقیقات تو ہونی چاہییں۔ آج نہیں تو دس سال بعد ہونی تو ہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے سامنے کمیشن کا معاملہ بھی تھا۔
دورانِ سماعت پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ یہاں پیچیدگی آئے گی مرکزی ملزم جب کینیا میں ہے تو اس کے بغیر کارروائی کیسے آگے بڑھ سکتی ہے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا مقصد کیا ہوتا ہے، کیا اُس نے چالان جمع کرانا ہوتا ہے؟ انھوں نے مزید ریمارکس دیے کہ جوڈیشل کمیشن نے انکوائری کرنی ہوتی ہے اور اس کی رپورٹ پبلش ہونی چاہیے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ قانون کے مجاز افسران کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن سمیت دیگر پندرہ ملزمان کو آج پیکا ایکٹ کے تحت قائم ہونے والی خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
پیکا ایکٹ کے تحت قائم ہونے والی عدالت میں یہ پہلا مقدمہ ہوگا جس میں ریاست یا کسی شخصیت کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے یا سوشل میڈیا کے ذریعے ملک دشمن عناصر کے ساتھ روابط رکھنے سے متعلق درج مقدمات کی سماعت ہوگی۔
اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ جج اعظم خان نے ایڈشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا کو پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ کی سماعت کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔
ایک ایف آئی اے اہلکار کے مطابق ملزمان کو متعلقہ عدالت میں پیش کرکے ان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی۔
وزارت قانون نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق سے مشاورت کے بعد پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت کےُ لیے علیحدہ عدالت قائم کی ہے۔
وزارت قانون کے اہلکار کے مطابق ملک بھر کے دیگر علاقوں میں بھی خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی جو پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت کریں گی تاہم اس ضمن میں متعقلہ صوبے کی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد کی مقامی عدالت نے چند روز قبل پی ٹی آئی سیکرٹریٹ پر پولیس کے چھاپے کے دوران گرفتار ہونے والی دو خواتین کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرلی ہیں۔
عدالت نے دونوں خواتین کے وکلا کو پچاس پچاس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
خیال رہے کہ اس چھاپے کے دوران ایف آئی اے اور پولیس نے رؤف حسن سمیت پندرہ افراد کر حراست میں لیا تھا۔
سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے لیڈر اسد قیصر نے دعوٰی کیا ہے کہ دسمبر تک ان کی جماعت حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی۔
بدھ کے روز جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ دسمبر تک حالات ٹھیک ہوجائیں گے میں سمجھتا ہوں کہ ہماری اتنی سیٹیں آجائیں گی کہ ہم اپنی حکومت بنا سکیں گے۔‘
ایک سوال کے جواب میں اسد قیصر کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ الیکشن ٹریبیونلز ان کے حق میں فیصلہ دیں گے کیوں کہ ان کی درخواستیں ’میرٹ کے مطابق ہیں۔،
’ہمارے پاس ڈاکیومنٹس بھی مکمل ہیں، کوئی ڈاکیومنٹ میں ابہام بھی نہیں ہے، انھوں نے جو جعلی ڈاکیومنٹس بنائے ہیں تو جعلی اور اصلی کا تو مقابلہ نہیں ہو سکتا نا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک چھٹی حس ہوتی ہے اس کی وجہ سے میں محسوس کرتا ہوں کہ آئندہ وقت تحریک انصاف کا ہے۔‘
خیال رہے کہ رواں مہینے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی بینچ نے مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی اپیل اکثریت رائے سے منظور کر لی جس سے براہ راست تحریک انصاف کو فائدہ پہنچا۔
سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو آٹھ ججز نے منظور کیا جبکہ پانچ ججز نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے منتخب امیدواروں کو کسی اور جماعت کا رکن قرار نہیں دیا جا سکتا اور پی ٹی آئی ہی مخصوص نشستوں کے حصول کی حقدار ہے۔ یوں اب تحریک انصاف سیاسی جماعت بن کر حزب اختلاف کی جماعت بن گئی ہے اور ایسی حزب اختلاف کہ جس کے پاس کسی بھی نشستوں کی تعداد کسی بھی جماعت سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
نیویارک میں 2022 میں برطانوی مصنف سلمان رشدی پر قاتلانہ حملے میں ملوث ملزم کو اب ایک شدت پسند تنظیم کی حمایت کے الزام کا بھی سامنا ہے۔
بدھ کے روز عام کیے گئے فرد جرم کے مطابق ہادی مطر پر لبنان میں مقیم عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کو مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
یہ الزامات مطر کی جانب سے استغاثہ کی اس پیشکش کو ٹھکرائے جانے کے چند ہفتوں بعد سامنے آئے ہیں جس کے تحت اگر وہ اقبالِ جرم کر لیتے تو ان کو ہونے والی سزا کا دورانیہ کم ہونے کے امکانات تھے۔
ہادی مطر پر الزام ہے کہ انھوں نے اگست 2022 میں نیویورک میں ایک تقریب کے دوران رشدی پر چاقو سے حملہ کیا تھا۔
اس حملے کے لیے انھیں اقدامِ قتل اور حملہ کرنے کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔ حملے کے نتیجے میں رشدی ایک آنکھ سے اندھے ہو گئے تھے۔
مطر کے وکیل ناتھینیئل بیرون نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے مؤکل خود پر لگے نئے الزامات کو رد کرتے ہیں اور اس کے خلاف درخواست دائرکرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا نے کہ، وہ اپنے مؤکل کے بھرپور دفاع کریں گے۔ مطر کے وکیل کا کہنا تھا ان کے مؤکل اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات تردید کرتے ہیں۔
ہادی مطر حملے کے بعد سے بنا ضمانت کے امریکہ میں قید ہیں۔
خیال رہے کہ سنہ 1988 میں سلمان رشدی کا متنازع ناول ’سٹینک ورسز‘ (شیطانی آیات) شائع ہوا تھا جس پر مسلم دنیا میں انتہائی غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ بہت سے مسلمانوں نے اسے ’توہین مذہب‘ کے مترادف قرار دیا تھا۔
اس کتاب کی اشاعت کے ایک سال بعد ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خمینی نے سلمان رشدی کے قتل کا فتویٰ جاری کیا تھا۔
گرفتاری کے بعد امریکی اخبار ’نیو یارک پوسٹ‘ کو دیے انٹرویو میں مطر نے بتایا تھا کہ انھوں نے سلمان رشدی کی متنازع کتاب ’سیٹنک ورسز‘ کے صرف دو صفحے پڑھ رکھے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سلمان رشدی ’وہ شخص ہیں جنھوں نے اسلام پر حملہ کیا۔‘
سینٹ کی لا اینڈ جسٹس کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ’پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کے حوالے سے وفاقی حکومت کے پاس میٹریل موجود ہے اور وفاقی حکومت اس معاملے پر سنجیدگی سے سوچ رہی ہے۔‘
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ ’سپریم کورٹ میں ریفرینس دائر کرنے سے پہلے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کو دیکھا جائے گا اُس کے بعد پی ٹی آئی پر فیصلے سے متعلق آگے بڑھیں گے۔‘
اُن کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس معاملے پر نہ صرف قانونی پہلوؤں کو دیکھا جا رہا ہے بلکہ اس پر حکومت اپنے تمام کر اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کر کے آگے بڑھے گی۔‘
پاکستان میں کسی سیاسی جماعت پر پابندی لگانے کا طریقہ کیا ہے؟
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 17 کے مطابق پاکستان کی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کر سکتی ہے جو پاکستان کی ’خودمختاری اور ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہو۔‘
سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج شائق عثمانی نے اس حوالے سے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’آئین کا آرٹیکل 17 یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت پاکستان کی خودمختاری یا ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہو تو اس سیاسی جماعت پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔
’اس کے لیے انھیں (کابینہ کے) فیصلہ کے بعد 15 دنوں میں سپریم کورٹ میں ایک ریفرنس دائر کرنا ہوتا ہے۔‘
ان کے مطابق اگر سپریم کورٹ یہ سمجھتی ہے کہ حکومت کے پاس موجود ثبوت کارروائی کے لیے کافی ہیں تو وہ الیکشن کمیشن کو حکم دے سکتی ہے کہ اس سیاسی جماعت کو تحلیل کر دیا جائے۔
تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ اور آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط کو بنیاد بنا کر پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی بات کی جا رہی ہے، ’لیکن میں نہیں سمجھتا کہ یہ وجوہات کسی سیاسی جماعت پر پابندی لگانے کے لیے کافی ہیں۔‘
تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر حکومت پی ٹی آئی پر پابندی لگانے جا رہی ہے تو ہو سکتا ہے ان کے پاس مزید کوئی ثبوت بھی ہوں کیونکہ حکومت تمام باتیں تو میڈیا پر آ کر نہیں کرتی۔
خیال رہے دو سال قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی نے غیرملکی ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی ہے۔
پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان میں الیکشن قوانین کے مطابق اگر کوئی سیاسی جماعت تحلیل کر دی جائے تو اس کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی بھی اسمبلیوں کی بقیہ مدت کے لیے نااہل ہو جاتے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کے کیسز میں جسٹس محسن اختر کیانی کے سربراہی میں لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے لاپتہ افراد کے کیسز کی سماعت کے لیے تشکیل دیے جانے والے اس لارجر بینچ میں جسٹس طارق محمور جہانگیری اور جسٹس ارباب محمد طاہر بھی شامل ہیں۔
لارجر بینچ 30 جولائی سے لاپتہ افراد کے کیسز کی سماعت کرے گا۔ یاد رہے کہ احمد فرہاد کیس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتہ افراد کیسز کے لیے لارجر بنچ کی تشکیل تجویز کی تھی۔ تاہم چیف جسٹس لاپتہ کیسز کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ میں شامل نہیں ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے شاعر احمد فرہاد 15 مئی کو اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے تھے۔
اُن کی اہلیہ عین نقوی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کے شوہر کو گذشتہ دو سال سے ’سنگین نتائج کی دھمکیاں‘ مل رہی تھیں۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اُن کے شوہر کو کہا جا رہا تھا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کے خلاف لکھنا چھوڑ دیں، ورنہ ان کے حق میں بہتر نہیں ہو گا۔
واضح رہے کہ 24 مئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتہ شاعر احمد فرہاد کی بازیابی سے متعلق کیس میں کوئی خاص پیشرفت نہ ہونے پر اس کیس میں 29 مئی کو ہونے والی آئندہ سماعت پر وفاقی وزیر قانون، سیکریٹری دفاع و داخلہ، سکیٹر کمانڈر آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلیجنس اور ڈائریکٹر انٹیلیجنس بیورو کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔
تاہم 29 مئی کو ہونے والی سماعت پر آئی ایس آئی، ایم آئی یا آئی بی کے افسران تو عدالت میں پیش نہیں ہوئے مگر وفاقی حکومت نے اٹارنی جنرل کی وساطت سے عدالت کو آگاہ کیا کہ احمد فرہاد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس کی حراست میں ہیں۔
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے نیویارک بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وزیراعظم عمران خان کو ہٹانے کی کوشش کی ہوتی تو یہ بھی امتحان ہوتا اوریہ امتحان اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہوتا کہ وہ آئین کی بالادستی کیلئے کھڑی ہوتی یا نہیں۔‘
واضح رہے کہ جسٹس اظہر من اللہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے اور جب عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی قراردار منظور ہوئی تھی تو اس وقت ایک درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم کو کسی بھی غیر آئینی اقدام سے روکا جائے تاہم اس درخواست پر سماعت نہیں ہوئی تھی۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے رات کو عدالتیں کھلنے پر شکوہ بھی کیا تھا۔
نیویارک بار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ 2022 تک میرے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے وہ اچانک تبدیل ہوگئے۔‘ انھوں نے کسی سیاسی جماعت یا سیاسی شخصیت کا نام لیے بغیر کہا کہ ’آج پراپیگنڈا وہ کر رہے ہیں جنھیں اُس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف ملا تھا اور اس وقت انھیں ملک کی کوئی ہائیکورٹ ریلیف نہیں دے رہی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ جب بھی مارشل لا کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں۔‘
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’کاش عدالتیں 5 جولائی 1977 کو بھی کھلی ہوتیں جب ملٹری ڈکٹیٹر ضیاء الحق نے منتخب وزیرِ اعظم کو ہٹایا تھا، کاش عدالتیں 12 اکتوبر 1999 کو بھی کھلی ہوتیں جب مشرف نے منتخب وزیرِ اعظم کو باہر پھینکا۔‘
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’جب میں نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ایک نوٹ لکھا تو میرے دو بیٹوں کا پرسنل ڈیٹا سوشل میڈیا پر ڈال دیا گیا اور ان کے بقول وہ ڈیٹا ایک سرکاری ادارے سے حاصل کیا گیا تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ میری بیوی جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اس پر ایک ڈاکیومنٹری بنا کر حملہ کیا گیا۔
حالیہ دنوں میں مُلک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضاف سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جن میں پاکستان کی عوام، فوج اور پولیس کے بہادر جوانوں نے بڑی تعداد میں قربانیاں دی ہیں۔‘
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان کے خلاف ایک منظم سازش ہے۔ دہشت گردی کی لہر قابل افسوس ہے اس میں کچھ ہمسایہ ممالک کی سرزمین استعمال ہورہی ہے۔‘
وزیر اعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم 40 سال سے ان کے پناہ گزینوں کی میزبانی کررہے ہیں،وہ ہمارے بھائی ہیں وہ یہاں رہیں، حالات سازگار ہونے پر واپس جائیں گے۔ لیکن مہمان نوازی کا بدلہ یہ دیا جارہا ہے کہ ان کی سرزمین سے ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کرے تو یہ قابل قبول نہیں، ہم اپنے شہریوں کی مکمل حفاظت یقینی بنانے کے لئے تیار ہیں تاہم ہم چاہتے ہیں کہ بات چیت سے مسئلہ حل ہو، ہم امن سے رہیں۔‘
اس کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے 9 مئی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’جس طرح نو مئی کو ایک ٹولے نے مُلک کے امن کو نقصان پہنچایا تھا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور پاکستان کی جڑیں ہلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’سب کے علم میں ہے کہ ماضی میں انھوں نے پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ کیا تھا۔ وزیر اعظم ہاؤس کے ارد گرد ان کے جتھے آئے تھے، آج وہی پاکستان کے خلاف نئے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں، پاک فوج کے خلاف منظم پراپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ آرمی چیف اور ان کے خاندان کو سوشل میڈیا پر ٹارگٹ کیاجارہا ہے، یہ سب ناقابل قبول ہے۔‘
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’اس کے خلاف بند باندھنا ہوگا پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لئے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کا اڈیالہ جیل سے ایک پیغام سوشل میڈیا پر ان کے ذاتی اکاؤنٹ سے شیئر کیا گیا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ 70 کی دہائی میں جینے والے چند افراد جو اس امر سے یکسر نابلد ہیں کہ سوشل میڈیا کام کیسے کرتا ہے، وہ ڈیجیٹل دہشتگردی کے لقب بانٹ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں فوج کے ادارے اور اس کی قیادت پر مبینہ فیک نیوز کی مدد سے تنقید کرنے والوں کو ’ڈیجیٹل دہشت گرد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان افراد کو قانون اور سزائیں ہی روک سکتی ہیں۔
اس بیان کی اہم بات یہ تھی کہ پاکستان فوج کے شعبہ ابلاغ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل احمد شریف چودھری نے شدت پسندوں اور ’ڈیجیٹل دہشت گردوں‘ کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ’دونوں کا ہدف فوج ہے۔‘
عمران خان نے اپنے بیان میں کہا کہ ’پوری پاکستانی قوم کو دہشتگرد کہہ کر قوم کو متنفر کیا جا رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کی 90 فیصد آبادی تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان کی 90 فیصد عوام نے آٹھ فروری کو تحریک انصاف کے حق میں ووٹ دیا تھا، ان سب کو اگر ڈیجیٹل دہشتگرد کہا جائے گا تو فوج اور عوام کے درمیان ایک خلیج پیدا ہو گی۔ اور یہ نفرت پیدا نہیں ہونی چاہیے۔‘
فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ ’ڈیجیٹل دہشت گرد فوج، فوج کی قیادت، فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور کرنے کے لیے فیک نیوز کی بنیاد پر حملے کر رہے ہیں۔‘ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے یہ بھی کہا تھا کہ ’جس طرح ایک دہشت گرد ہتھیار پکڑ کر اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح ڈیجیٹل دہشت گرد موبائل، کمپیوٹر، جھوٹ، فیک نیوز اور پراپیگنڈے کے ذریعے اضطراب پھیلا کر اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’سنہ 1971 میں بھی یہی کچھ ہوا تھا۔ 25 مارچ 1971 کو جب ڈھاکہ کے اندر یحییٰ خان نے لوگوں کی بڑی تعداد کے خلاف آپریشن کیا تھا تو اس کے نتائج ملک کے لیے اچھے نہیں نکلے۔ اب بھی اگر پاکستان کی اکثریت آبادی کو دہشتگرد کہا جائے تو اس کے ملک کے لیے خطرناک نتائج نکلیں گے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’جو بھی لوگ یہ کر رہے ہیں ان کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔‘
’آئین کی بالادستی اور حقیقی آزادی کا مطالبہ کرنا کوئی غداری نہیں ہے‘
عمران خان نے کہا کہ ’ملک، حکومتیں اور معاشرے اخلاقیات کی بنیاد پر بنتے ہیں۔ جس معاشرے میں اخلاقیات ختم ہوجائیں باقی کچھ نہیں رہتا۔ آج لوگ اگر آپ کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں تو وہ صرف آئین کی بالادستی کی بات کررہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ آئین کی بالادستی اور حقیقی آزادی کا مطالبہ کرنا کوئی غداری نہیں ہے۔ یہ جو مضحکہ خیز کیسز بنائے جارہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے لوگ بالکل پر امن طریقے سے کام کر رہے تھے اور جب آپ ان کو پر امن طریقے سے کنٹرول نہیں کر سکے تو پھر آپ نے ان کے خلاف فسطائیت کے حربے استعمال کرنا شروع کردیے۔
’نو مئی سے متعلق مخصوص ایجنڈے کے تحت بیانیہ بنایا گیا‘
عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’پرسوں میڈیا پر مخصوص ایجنڈے کے تحت بیانیہ بنایا گیا کہ میں نے عوام کو جی ایچ کیو جا کر احتجاج پر اکسایا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کی تقریباً تین دہائی پر محیط تاریخ میں پرتشدد احتجاج کی کوئی مثال نہیں ملتی۔‘
انھوں نے کہا کہ گذشتہ ڈھائی سال کے دوران تحریک انصاف کے خلاف بدترین ہتھکنڈے استعمال کر کے تشدد پر اکسایا گیا۔ ان کے مطابق ’نومبر 2022 میں مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور میری مرضی کی ایف آئی آر کاٹنے سے بھی انکار کیا گیا۔‘
عمران خان نے الزام عائد کیا کہ ’اس کے بعد دو مرتبہ میری رہائش گاہ پر عسکری ادارے نے حملہ کیا، ایک مرتبہ میری پیشی کے موقع پر مجھے قتل کرنے کا باقاعدہ منصوبہ بنا کر سادہ لباس میں لوگوں کو چھوڑا گیا۔‘
بانی پی ٹی آئی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’صرف یہی نہیں نو مئی کو عوام کو انتشار دلانے کے لیے ایک سابق وزیر اعظم اور پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت کے سربراہ کو جس ہتک آمیز انداز میں اغوا کیا گیا، وہ بھی کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا تھا لیکن تحریک انصاف کے کارکنان کی سیاسی تربیت میں تشدد کا کوئی عنصر شامل نہیں۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’تحریک انصاف سیاسی، آئینی و قانونی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’نو مئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا۔ جس نے نو مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی، وہی نو مئی کے حقیقی ذمہ داران ہیں۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’ان کی عقل کا یہ عالم ہے کہ یہ نو مئی کو امریکہ کے کیپیٹل ہل کے احتجاج سے تشبیہ دیتے ہیں حالانکہ وہاں باقاعدہ شفاف تفتیش اور سی سی ٹی وی کے باریک بینی سے جائزے کے بعد صرف ملوث افراد کو سزا دی گئی، پوری سیاسی پارٹی ’ریپبلکن‘ کو کچھ نہیں کہا گیا۔‘
عمران خان نے کہا کہ لیکن یہاں نہ صرف ثبوت مٹانے کی غرض سے فوٹیج غائب کر دی گئی بلکہ پورے پاکستان میں ایکشن لیا گیا ہے۔ پورے پاکستان میں پی ٹی آئی کے مختلف علاقوں کے لوگ جنھوں نے احتجاج میں حصہ نہیں لیا ان کو بھی اُٹھایا گیا، ان کا کیا قصور تھا؟
سابق وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’یہ بات بھی قابل غور ہے کہ امریکہ میں سابق صدر پر قاتلانہ حملہ ہوا تو سیکرٹ سروس کی چئیرپرسن نے ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے استعفیٰ دیا جبکہ پاکستان میں جس سابق وزیراعظم پر قاتلانہ حملہ ہوا، ’سیکرٹ سروس‘ نے اسی وزیراعظم کو قید کر دیا۔‘
امریکہ نے پاکستان میں تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے ایک صحافی کے سوال پر اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ ’ہم نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاری سے متعلق خبریں دیکھی ہیں۔ جب بھی ہم اپوزیشن رہنماؤں کو گرفتار ہوتا دیکھتے ہیں تو اس پر ہمیشہ ہمیں تشویش ہوتی ہے۔‘
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن کو اسلام آباد میں جماعت کے مرکزی سیکریٹریٹ سے پولیس نے گرفتار کیا ہے اور اس وقت وہ دو روزہ ریمانڈ پر ایف آئی اے کی حراست میں ہیں۔
رؤف حسن کی گرفتاری کے وقت سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں پولیس اہلکاروں کی ایک بھاری نفری کو پی ٹی آئی کے دفتر کے باہر دیکھا جاسکتا ہے۔
امریکی ترجمان نے صحافی کو بتایا کہ ’مجھے ذاتی طور پر بھی پریشانی ہوئی جب میں نے ایک ترجمان کو گرفتار ہوتے دیکھا۔‘
میتھیو ملر نے کہا کہ ’ہم آئین اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کی حمایت کرتے ہیں، جس میں قانون کی حکمرانی، انصاف کا بول بالا، انسانی حقوق کا تقدس، جس میں آزادی اظہار رائے اور اجتماع کی آزادی شامل ہے۔‘
امریکی ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ ’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ان اصولوں کے تقدس کو یقینی بنایا جائے۔‘
گذشتہ چند دنوں میں تحریک انصاف کے سوشل میڈیا سے وابستہ کارکنان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
تحریک انصاف کے بین الاقوامی میڈیا کے کوآرڈینیٹر احمد جنجوعہ کی گمشدگی کے بعد تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے ایک بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ تحریکِ انصاف کے میڈیا سیل سے منسلک پانچ افراد کو اغوا کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کی ٹیم کو کام کرنے اور عالمی میڈیا کو رپورٹنگ سے روکنے کی کوشش ہے۔‘
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی ترجمان متعدد بار پاکستان تحریک انصاف سے متعلق صحافیوں کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دے چکے ہیں۔
میتھیو ملر نے اپنی ایک گذشتہ پریس بریفنگ میں تحریک انصاف پر پابندی عائد کرنے سے متعلق حکومت پاکستان کے اعلان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’ایک پیچیدہ سیاسی عمل کا آغاز‘ قرار دیا تھا۔
انھوں نے پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’پاکستان میں سیاسی جماعت پر پابندی سے متعلق ہم نے حکومت کے بیانات دیکھے ہیں، یہ پیچیدہ سیاسی عمل کا آغاز ہے۔‘
خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی ایوان نمائندگان نے ایک قرارداد کے ذریعے پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس
پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکی ایوان نمائندگان کی طرف سے پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کے دعوؤں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی قرارداد کو حقائق سے منافی قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایسی قراردادیں نہ تو تعمیری ہیں اور نہ ہی بامقصد، امید ہے امریکی کانگریس باہمی تعاون کی راہوں پر توجہ مرکوز کرے گی۔
امریکہ کے جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے معاون وزیرِ خارجہ ڈونلڈ لو کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی اہم جنگ کو آگے بڑھانے کے لیے جمہوریت اور انسانی حقوق کی حمایت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
امریکہ کے ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی برائے امور خارجہ کے سامنے مالی سال 2025 کے بجٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انڈو-پیسیفک خطے میں اپنے اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے امریکہ جنوبی ایشیا میں اضافی وسائل لگا رہا ہے۔
ڈونلڈ لو کا کہنا تھا کی صدر جو بائیڈن نے مالی سال 2025 میں جنوبی ایشیا کے لیے 58 کروڑ ڈالرز سے زائد امداد کی درخواست کی ہے جو کہ مالی سال 2023 کے مقابلے میں 4.8 فیصد زیادہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس امداد سے خطے میں موجود امریکہ کے دوست ممالک کو مالیاتی نظام کو شفاف اور ان ممالک کے چین کے جبری قرضوں کے جال میں پھنسنے کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ ڈونلڈ لو کا کہنا تھا کہ مالیاتی سال 2025 کے لیے صدر بائڈن نے پاکستان کے لیے 10 کروڑ ڈالر سے زائد کی امداد مختص کرنے کی درخواست کی ہے۔
ان کے مطابق ’اس رقم کو پاکستان میں جمہوریت اور سول سوسائٹی کو مضبوط کرنے، دہشت گردی اور انتہا پسندی سے لڑنے اور ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے اور اس کے چین پر مزید انحصار کو روکنے کے لیے معاشی اصلاحات اور قرضوں کے انتظام میں مدد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔‘
واضح رہے کہ پاکستان کے ذمے واجب الادہ قرضوں میں گذشتہ سات سے آٹھ برسوں میں چین اور چینی کمرشل بینکوں سے حاصل کیے گئے قرضوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
ایسے میں پاکستان کے موجودہ معاشی بحران کی ایک بڑی وجہ غیر ملکی قرضوں کی واپسی کو قرار دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملکی زرمبادلہ ذخائر میں کمی کا سامنا رہتا ہے۔