آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سیلابی ریلوں کی آمد کے باعث چناب اور راوی دریاؤں کے بہاؤ میں اضافہ، ملحقہ علاقوں میں انخلا جاری
نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے آئندہ دنوں کے لیے دریائے چناب اور راوی میں سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ لاہور کے نزدیک شاہدرہ کے علاقے سے بھی چند گھنٹوں میں پانی کا بڑا ریلا گزرنے کی توقع ہے۔
خلاصہ
- حکومت پنجاب کے مطابق سیلابی صورت حال کے پیش نظر اگلے چوبیس گھنٹے قصور، لاہور اور ساہیوال کے لیے اہم ہی جبکہ اگے چند گھنٹوں میں سیلابی ریلا چینوٹ اور جھنگ کو متاثر کر سکتا ہے۔
- حکومت پنجاب نے سیلابی ریلوں کے باعث صوبے کے مختلف علاقوں میں 17 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے
- سیلاب اور بارشوں کے باعث سیالکوٹ میں آج تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند ہیں
- نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ خلیجِ بنگال اور بحیرہ عرب سے مون سون ہوائیں ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہوگئی ہیں جس سے شدید بارشوں کا امکان ہے
لائیو کوریج
دریائے راوی سے متعدد شہریوں کو محفوظ مقام تک پہنچا دیا گیا: ترجمان ریسکیو 1122
دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر ریسکیو 1122 ہائی الرٹ ہے۔ ترجمان ریسکیو پنجاب فاروق احمد کا کہنا ہے کہ دریائے راوی کے ساتھ ملحقہ علاقوں میں سیلابی علاقے سے لوگوں کا انخلا کر کے محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق فرخا آباد میں سیلابی پانی آنے سے 72 افراد کو وہاں سے نکال کر کے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
فاروق احمد کا کہنا ہے کہ ریسکیو اہلکاروں نے مانگا منڈی کے علاقے سے اب تک ریسکیو بوٹ سے 40 افراد کو ریسکیو کر لیا ہے۔
ترجمان کے مطابق ریسکیو اہلکاروں نے تھیم پارک کے علاقے سے ریسکیو بوٹ سے سات افراد کو ریسکیو کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق نانوں ڈوگر کے علاقے سے تین سے چار افراد کے انخلا کی کال موصول ہوئی۔
’ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو 1122 کال کریں اور اپنی لوکیشن شئیر کریں۔‘
پنجاب میں غیرمعمولی سیلاب، آئندہ 24 گھنٹوں میں کیا کچھ متوقع ہے
نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے دریائے چناب میں سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا ہے وہیں دریائے راوی میں بھی پانی کی سطح میں تیزی سے اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ 29 اگست کو صبح سات بجے بلوکی بیراج پر ایک لاکھ 50 ہزار سے دو لاکھ کیوسک کے درمیان بلند سطح کا سیلاب متوقع ہے۔
اگلے 24 گھنٹوں میں مزید کیا ہو سکتا ہے؟ اس کی تفصیلات ترہب اصغر سے
کیمرہ ورک اور ایڈیٹنگ: فرقان الہیٰ
پاکستان میں اگلے چند دنوں میں کہاں کہاں بارشیں متوقع ہیں؟
پاکستان کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 29 اگست سے دو ستمبر تک ملک کے متعدد علاقوں میں وقفے وقفے سے مون سون کی مزید بارشوں کا قوی امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے دارالحکومت اسلام آباد اورصوبہ پنجاب میں راولپنڈی، مری، اٹک، چکوال، جہلم، حافظ آباد، وزیر آباد، لاہور، قصور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، میانوالی، فیصل آباد سمیت متعدد شہروں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کے امکانات موجود ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں دیر، چترال، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، بونیر، کوہاٹ، چارسدہ، ٹانک اور مردان میں بھی مون سون بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔
اس کے علاوہ سندھ میں مٹھی، تھر پارکر، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، دادو اور عمر کوٹ میں بھی وقفے وقفے سے بارشوں کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان میں بارکھان، موسیٰ خیل، سبّی، ژوب، قلات اور خضدار سمیت متعدد ضلعوں میں بھی بارش کے امکانات موجود ہیں۔
دریائے راوی میں پانی کی موجودہ صورتحال
نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے آئندہ دنوں کے لیے دریائے چناب اور راوی میں سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ سیلابی ریلوں کی آمد کے باعث دریائے چناب کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
دریائے راوی میں پانی کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کر رہے ہیں بی بی سی کے نامہ نگارعمر دراز
فلمنگ اور ایڈیٹنگ: فرقان الہی
راول ڈیم کے سپل ویز کھولنے کا فیصلہ، کورنگ نالے کے قریب رہائش پزیر شہری محتاط رہیں: این ڈی ایم اے
قدرتی آفات سے نمٹنے کے ذمہ دار ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ جمعے کی صبح چھ بجے اسلام آباد میں واقع راول ڈیم کے سپل ویز کھولے جائیں گے۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ راول ڈیم میں پانی کی سطح 1751 فٹ تک پہنچ چکی ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے اطلاع دی جا چکی ہے۔
این ڈی ایم اے نے کورنگ نالے سے ملحقہ آبادیوں میں رہائش پزیر افراد کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
’عوام سے التماس ہے کہ پانی کا بہاؤ تیز ہونے کی صورت میں نالے اور اس پر بنے عارضی پُل پار کرنے سے گریز کریں۔‘
اگلے چند دنوں میں سیلاب سے کن کن علاقوں کے متاثر ہونے کے خطرات ہیں؟
نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے آئندہ دنوں کے لیے دریائے چناب اور راوی میں سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ سیلابی ریلوں کی آمد کے باعث دریائے چناب کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق 31 اگست 2025 کو دوپہر چار بجے کے قریب تریموں بیراج پر پانی کا بہاؤ سات لاکھ سے آٹھ لاکھ کیوسک تک متوقع ہے جس سے شدید سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔
حکام کے مطابق ممکنہ شدید سیلابی صورتحال چنیوٹ، جھنگ اور اس کے ملحقہ علاقوں کو متاثر کرے گی۔
حکام کے مطابق دریائے چناب کے بائیں کنارے پر جھنگ کے قریب واقع 18 ہزاری کا علاقہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بریچنگ سائٹ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دریائے راوی میں بھی پانی کی سطح میں تیزی سے اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے اور 29 اگست کو صبح سات بجے بلوکی بیراج پر ایک لاکھ 50 ہزار سے دو لاکھ کیوسک کے درمیان بلند سطح کا سیلاب متوقع ہے۔
اس کے علاوہ لاہور کے نزدیک شاہدرہ کے علاقے سے بھی آئندہ 24 گھنٹے میں پانی کا بڑا ریلا گزرنے کی توقع ہے اور جمعرات کو وہاں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جاتا رہا ہے۔
دریائے راوی میں شاہدرہ کے علاقے میں ہائی رسک یونین کونسلز میں جیا موسیٰ، عزیز کالونی، قیصر ٹاؤن، فیصل پارک، دھیر اور بیگم کوٹ شامل ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق راوی میں سیلاب سے شیخوپورہ، فیروزوالہ میں فیض پور، برج عطاری، کوٹ عبدالمالک میں پانی آنے کا خطرہ ہے۔
ممکنہ خطرات والی دیگر جگہوں میں ضلع شیخوپورہ، ننکانہ صاحب کے علاقے گنیش پور اور ضلع قصور، پتوکی میں پھول نگر، رکھ خان کے، کوٹ سردار سمیت ملحقہ علاقے شامل ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق یکم ستمبر تک سیلابی ریلا دریائے راوی میں ملتان کے قریب واقع سدھنائی ہیڈ ورکس سے گزرے گا، جو خطرناک حد تک ایک لاکھ 25 ہزار سے ایک لاکھ 50 ہزار کیوسک تک رہنے کا امکان ہے۔
اس کی وجہ سے ضلع خانیوال میں غوث پور، میاں چنوں، امید گڑھ، کوٹ اسلام، عبدالحکیم اور کبیروالا سیلاب سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ سیلابی ریلے تین ستمبر 2025 کی دوپہر تک پنجند تک پہنچیں گے جہاں چھ لاکھ 50 ہزار سے سات لاکھ کیوسک کا بہاؤ متوقع ہے۔
اسی تناظر میں پنجند اور بہاولپور کے علاقوں میں انخلا کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ خیال رہے کہ پنجند وہ مقام ہے جہاں پنجاب سے آنے والے دریا دریائے سندھ میں شامل ہوتے ہیں۔
دریائے سندھ سے منسلک بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں سیلابی صورتحال کے خدشات ہیں: وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر ربابہ خان بلیدی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے دریائے سندھ سے منسلک بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے خدشات سے متنبہ کیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ملک کے بیشتر دریاؤں میں سیلابی صورتحال تشویشناک حد تک سنگین ہوچکی ہے۔ ایسے میں بلوچستان کے دریائے سندھ سے منسلک کینالز اور سرحدی علاقوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ سندھ میں سیلابی پانی آنے سے بلوچستان کے جن چار اضلاع کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے ان میں نصیرآباد، جعفر آباد ،اوستہ محمد اور صحبت پور شامل ہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ ماضی میں بھی یہ اضلاع سندھ میں آنے والے سیلابی ریلوں سے متاثر ہوتے رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حالیہ اطلاعات کے مطابق ممکنہ سیلابی صورتحال کے خدشات بڑھ رہے ہیں جس کے پیش نظر حکومت بلوچستان نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کردیے ہیں۔
ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان حکومت دریائی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں سندھ اور پنجاب حکومتوں سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ آنے والی کسی بھی ہنگامی صورتحال کا بروقت مقابلہ کیا جاسکے۔
انھوں نے واضح کیا کہ عوام الناس کو بھی چاہیے کہ وہ پیشگی احتیاطی تدابیر اختیار کریں خاص طور پر دریاؤں اور نہروں کے قریب آباد افراد اپنے تحفظ کے لیے محتاط رہیں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت جاری کردی ہے کہ وہ ممکنہ خطرے سے دوچار علاقوں میں حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں اور ہنگامی بنیادوں پر ریلیف پلان تیار رکھیں۔
انھوں نے کہا کہ متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مشینری، ریسکیو ٹیمیں اور طبی سہولیات ہائی الرٹ پر رکھیں۔
انھوں نے شہریوں سے حکومت اور اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کی اپیل بھی کی۔
ترک صدر کا پاکستان کے حالیہ سیلاب میں جانی و مالی نقصان پر اظہارِ افسوس اور مکمل تعاون کی یقین دہانی
ترک صدر رجب طیب اردوغان نے پاکستان کے مختلف حصوں میں آنے والے حالیہ سیلاب پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے اور ہر طرح کی مدد کی فراہمی کی پیشکش کی ہے۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے صدر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے جمعرات کو ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے اور پنجاب میں آنے والے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے قیمتی جانوں اور املاک کے نقصان پر پاکستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
یاد رہے کہ مون سون بارشوں کے آٹھویں سپیل اور پنجاب کے تین دریاؤں میں آنے والے غیر معمولی سیلاب سے اب تک 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق ترکی کے صدر نے پاکستان کو ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ترکی امداد اور بچاؤ کی کارروائیوں کے حوالے سے ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے۔‘
وزیراعظم شہباز شریف نے مشکل وقت میں مدد کی فراخدلانہ پیشکش پر ترک صدر کا شکریہ ادا کیا۔
پنجاب میں سیلاب، متاثرہ علاقوں سے انخلا کا کام جاری: ریسکیو 1122
پنجاب کے تین دریاؤں میں غیر معمولی سیلاب کے باعث لوگوں کو ریسکیو کرنے کے لیے امدادی اداروں کی کاروائیاں جاری ہیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق لاہور کے علاقے فخر آباد سے 64 لوگوں کا انخلا کیا جا چکا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق لاہور کے علاقے مانگا منڈی اور ملحقہ علاقوں سے چار افراد کو کشتی کے ذریعے ریسکیو کر کے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
دریائے راوی سے ملحقہ شاہدرہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا موجود: پی ڈی ایم اے
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے پنجاب نے سیلابی صورتحال سے متعلق متنبہ کیا ہے کہ اس وقت دریائے راوی پر شاہدرہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے روای پر شاہدرہ کے مقام سے دو لاکھ 15 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے اور جس کے سبب اس مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت پنجاب کے مطابق بارش کے آٹھویں سپیل اور غیر معمولی سیلابی صورت حال کے باعث صوبے میں اب تک 17 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے الرٹ کے مطابق دریائے راوی سے ملحقہ شاہدرہ کے مقام پر فرخا آباد، آمین پارک، تھیم پارک، افغان کالونی، شفق آباد اور مرید والا پانی سے متاثر ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ تمام ریسکیو اقدامات کی اداروں کے ساتھ مل کر مانیٹرنگ جاری ہے۔
پنجاب میں غیر معمولی سیلاب، چنیوٹ اور جھنگ اگلے چند گھنٹوں میں سیلاب سے شدید متاثر ہوسکتے ہیں: حکومت پنجاب
پنجاب میں تین دریاؤں میں غیر معمولی سیلابی صورتحال کے سبب امدادی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
حکومت پنجاب کے ایک اعلامیے کے مطابق اس وقت دریائے راوی میں پانی چڑھ رہا ہے اور اگلے چھ گھنٹے ایسے ہی رہنے کا امکان ہے جبکہ اگلے چوبیس گھنٹے قصور، لاہور اور ساہیوال کے لیے اہم قرار دے دیے گئے ہیں۔
پنجاب حکومت کے مطابق اگلے چند گھنٹے چنیوٹ اور جھنگ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ آٹھ سے نو لاکھ کیوسک پانی چنیوٹ اور تریموں کی طرف آگے چند گھنٹوں میں جائے گا اور اس حوالے سے تمام ادارے متحرک ہیں۔
پنجاب حکومت کے مطابق مون سون کے حالیہ سلسلے میں ابھی تک 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پنجاب میں شدید سیلاب، 11 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل: حکومت پنجاب
صوبہ پنجاب کی حکومت نے شدید سیلاب پیش نظر ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں کی تفصیلات جاری کی ہیں جس کے مطابق دریائے چناب میں سیلاب کے باعث اب تک مجموعی طور پر 10 لاکھ 9 ہزار لوگوں کا انخلا اور محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق دریائے چناب میں سیلاب کے باعث کل 991 موضع جات زیر آب آئے۔
دوسری جانب پنجاب کا شہر سیالکوٹ بھی سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق سیالکوٹ میں 395، جھنگ 127، ملتان 124، چنیوٹ 48، گجرات 66، خانیوال 51، حافظ آباد 45، سرگودھا 41، منڈی بہاوالدین 35 اور وزیر آباد میں 19 موضع جات سیلاب سے متاثر ہوئے۔
سیلاب سے جانور بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ریسکیو آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 73 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ ہے جبکہ جانوروں کے علاج کے لیے تمام متاثرہ اضلاع میں کل 72 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔
دریائے راوی کی صورتحال
دریائے راوی میں شدید سیلاب کے پیش نظر ریسکیو و ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق دریائے راوی میں سیلاب کے باعث اب تک مجموعی طور پر 11 ہزار لوگوں کا انخلا اور محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے تحت مجموعی طور پر چار ہزار 500 جانور کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ دریائے راوی میں سیلاب کے باعث کل 80 موضع جات زیر آب آئے۔ نارووال میں 75، شیخوپورہ 4 اور ننکانہ صاحب میں ایک موضع متاثر ہوا۔
دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال
دریائے ستلج میں شدید سیلاب کے پیش نظر ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں کے تحت اب تک مجموعی طور پرایک لاکھ 27 ہزار لوگوں کا انخلا اور محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے
دریائے ستلج میں سیلاب کے باعث کل 361 موضع جات زیر آب آئے۔
قصور میں 72، اوکاڑہ 86، پاکپتن 24، ملتان 27، وہاڑی 23، بہاولنگر 104 اور بہاولپور میں 25 موضع جات متاثر ہوئے۔
متاثرہ اضلاع میں 104 ریلیف کیمپس اور 105 میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 70 ہزار جانور کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق جانوروں کے علاج کے لیے تمام متاثرہ اضلاع میں کل 90 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔
جموں سے آنے والے نالے اور مبینہ تجاوزات: ضلع سیالکوٹ کیسے ڈوبا؟, احتشام شامی، صحافی
پاکستان میں صوبہ پنجاب کے تین دریاؤں میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے باعث متاثر ہونے والے شہروں میں ضلع سیالکوٹ بھی شامل ہے جس کے ہزاروں شہری سیلابی پانی کے باعث بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
تاہم دیگر پاکستانی علاقوں کے برعکس سیالکوٹ کے معاملے میں ایک بات مختلف یہ ہے کہ یہاں زیادہ تباہی دریا کے اپنے کناروں سے باہر آنے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس ضلع سے گزرنے والے تین بڑے نالوں میں پیدا ہونے والی طغیانی کے باعث ہوئی۔
ضلع کے مختلف علاقوں بشمول سیالکوٹ شہر میں اس وقت کئی کئی فٹ سیلابی پانی کھڑا ہے اور حکام اس پانی کی نکاسی کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔
سیالکوٹ کی ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کے مطابق سیلابی صورتحال کے باعث ضلع بھر میں پانچ اموات کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ چار افراد لاپتہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں میں ریسکیو اہلکاروں نے ضلع سیالکوٹ سے تقریباً سات ہزار افراد کو ریسکیو کیا ہے۔
سیالکوٹ میں بڑے نالے کون سے ہیں اور انھوں نے کن علاقوں کو متاثر کیا؟
وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا آبائی حلقہ انتخاب سیالکوٹ شہر ہے اور حال ہی میں انھوں نے اپنے حلقے میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور کہا سیالکوٹ سے گزرنے والے نالوں، اُن پر قائم ہونے والی تجاوزات بشمول ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کی وجہ سے سیالکوٹ میں زیادہ تباہی مچی۔
لگ بھگ 45 لاکھ کی آبادی والے ضلع سیالکوٹ کی جغرافیائی صورتحال کچھ یوں ہے کہ اِس کی سرحد انڈیا کے ساتھ موجود لائن آف کنٹرول سے ملتی ہے جس سے آگے انڈیا کے زیر انتظام جموں کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔
جموں سے آنے والے تین بڑے نالے، ’نالہ ایک‘، ’نالہ ڈیک‘ اور ’نالہ پلکھو‘ سیالکوٹ شہر میں داخل ہوتے ہیں۔
جموں سے آنے والا ’نالہ ایک‘ سیالکوٹ شہر کے عین وسط سے گزرتا ہے، جموں ہی سے آنے والا دوسرا ’نالہ ڈیک‘ ضلع نارووال کی تحصیل ظفر وال سے ہوتا ہوا سیالکوٹ کی تحصیل پسرور میں داخل ہوتا ہے جبکہ جموں ہی سے نکلنے والا تیسرا ’نالہ پلکھو‘ بھی سیالکوٹ کینٹ ایریا کی طرف سے ہوتا ہوا سیالکوٹ شہر میں آتا ہے۔ سیالکوٹ کی ’عسکری ٹو‘ کالونی، جہاں فی الوقت پانچ پانچ فٹ پانی کھڑا ہے، وہ بھی نالہ پلکھو کے قریب ہی بنائی گئی ہے اور اسی نالے سے خارج ہونے والے سیلابی پانی کے باعث شہر کی یہ پوش رہائشی کالونی گذشتہ تین روز سے پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔
نالہ پلکھو کا پانی سیالکوٹ شہر سے ہوتا ہوا تحصیل سمبڑیال جاتا ہے اور یوں سمبڑیال میں نالہ پلکھو کے پانی نے تباہی مچائی جوکہ یہاں سے پھر آگے گزرتا ہوا وزیر آباد جاکر دریائے چناب میں گر جاتا ہے۔
جموں سے آنے والے ان تین نالوں کے علاوہ سیالکوٹ شہر میں دو اور نالے بھی ہیں جن میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہوئی۔
جموں سے آنے والے ’نالہ ایک‘ اور ’نالہ ڈیک‘ کے ملاپ سے بننے والے نالے کا نام ’نالہ بسنتر‘ ہے جو ظفروال سے ہوتا ہوا سیالکوٹ کی تحصیل پسرور میں داخل ہوتا ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق تحصیل پسرور میں سیلابی پانی سے ہونے والی تباہی نالہ ڈیک اور نالہ بسنتر میں آنے والی طغیانی کے باعث ہوئی۔
اسی طرح ’نالہ بھیڈ‘ پاکستان سے ہی شروع ہوتا ہے اور یہ بھی سیالکوٹ شہر کے وسط سے گزرتا ہے۔ ضلع کچہری، ڈسٹرکٹ پولیس آفس، سیشن کورٹس سمیت سرکاری رہائش گاہوں میں داخل ہونے والا پانی نالہ بھیڈ سے ہی خارج ہوا تھا۔
سیالکوٹ کے رہائشی اور بلدیاتی نمائندے چودھری نصیر احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کے نالوں کے کناروں پر قائم تجاوزات کی تصدیق کی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ برسوں کے دوران کم از کم 15 نجی ہاؤسنگ سوسائٹیاں اِن نالوں کے اوپر یا دہانوں پر غیرقانونی طریقوں سے بنائی گئی ہیں اور یہ سارا عمل ٹاؤن پلاننگ کے بنیادی اصولوں کے برخلاف ہے۔
انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ماضی میں یہ رپورٹس سامنے آ چکی ہیں کہ کیسے چند سوسائیٹیوں کے مالکان نے نالوں کے اردگرد کی جگہوں پر قبضے کیے اور پانی کی وہ گزرگاہیں جہاں پانی خال ہی ہوتا تھا وہاں نالوں کی چوڑائی کم کروائی گئی۔
’اب زیادہ پانی آ گیا، تو پانی نے تو اپنے نکاس کےلیے جگہ بنانی ہی ہے۔ پانی ان نالوں سے اوور فلو ہوا اور شہریوں کے گھروں اور دکانوں میں داخل ہوا۔
انھوں نے کہا کہ تین روز گزرنے کے باوجود بھی سیالکوٹ شہر کے کئی مقامات پر تین سے پانچ فٹ تک پانی کھڑا ہے اور کوئی ادارہ اس کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں۔
پنجاب حکومت نے سیالکوٹ میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہونے کے بعد مبینہ غفلت اور کوتاہی پر ایم ڈی واسا سیالکوٹ ابوبکر عمران کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے اُن کی جگہ چیف آفیسر ڈسٹرکٹ کونسل سیالکوٹ فیصل شہزاد کو ایم ڈی واسا کا اضافی چارج سونپا ہے۔
صوبائی سیکریٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے میڈیا کو بتایا کہ ہنگامی صورتحال میں بروقت انتظامات نہ کرنے اور غفلت برتنے پر ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے اور جو افسران ڈیوٹی میں غفلت کے مرتکب پائے گئے، وہ سیٹوں پر نہیں رہیں گے۔
ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی نے اندرون شہر رنگ پورہ، نیکاپورہ اور نشیبی علاقوں کا دورہ کیا اور نکاسی آب کیلئے جاری کوششوں کا جائزہ لیا۔
ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر میڈیا کو بتایا کہ سیالکوٹ شہر میں 512 ملی میٹر بارش ہوئی جو کہ شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا مظہر ہے اور اسی باعث اندرون شہر میں بہنے والے تینوں برساتی نالوں، نالہ ایک، نالہ بھیڈ اور نالہ پلکھو، میں گنجائش سے زائد پانی آ گیا ہے جس کی وجہ سے کئی جگہ سپل اوور اور شگاف پیدا ہوئے۔
انھوں نے مزید کہا کہ جب تک اِن نالوں میں پانی نارمل سطح پر نہیں آ جاتا، تب تک نشیبی علاقوں سے پانی نکالنا ممکن نہیں ہو گا۔
پنجاب کے تین دریاؤں میں سیلاب، لودھراں میں امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے فوج طلب
پاکستان کے صوبے پنجاب کے تین دریاؤں، چناب، راوی اور ستلج، میں غیر معمولی سیلابی صورتحال کے باعث محکمہ داخلہ پنجاب نے ضلع لودھراں میں امدادی سرگرمیوں کے لیے فوج طلب کر لی ہے۔
یاد رہے کہ اب تک پنجاب کے نو اضلاع میںسیلاب سے متعلق امدادی کاروائیوں کے لیے فوج تعینات کر دی گئی ہے۔
اس سے قبل لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال، اوکاڑہ، سرگودھا اور حافظ آباد میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے فوج طلب کی گئی تھی۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق پاکستان کی فوج کے دستوں کو ضلعی انتظامیہ کی امداد اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
پنجاب کے تین دریاؤں میں غیر معمولی سیلاب، اب تک کی خبروں کا خلاصہ
پاکستان کے صوبے پنجاب میں تین دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ کئی مقامات سے شہریوں کا انخلا کروا لیا گیا ہے۔
سیلاب کے حوالے سے بی بی سی کی خصوصی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں یہاں ایک نظر صبح سے اب تک کی اہم خبروں پر ڈال لیتے ہیں۔
- پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اپڈیٹ کے مطابق پنجاب کے تین دریاؤں، چناب، راوی اور ستلج، میں غیر معمولی سیلابی صورتحال بدستور جاری ہے۔
- سینیئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے تصدیق کی ہے کہ پنجاب میں سیلابی صورتحال کے باعث اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 12 ہو گئی ہے۔
- سیلابی صورتحال کے باعث سیالکوٹ ایئرپورٹ پر فلائیٹ آپریشنز معطل ہے۔
- حکومت سندھ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔ محکمہ آبپاشی سندھ کا کہنا ہے کہ تین ستمبر کو گڈو کے مقام پر چھ لاکھ 30 ہزار اور چار ستمبر کو سکھر کے مقام پر پانچ لاکھ 60 ہزار کیوسکس پانی کی آمد متوقع ہے۔
- پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ خلیجِ بنگال اور بحیرہ عرب سے آنے والی شدید مون سون ہوائیں ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہوگئی ہیں جس سے شدید بارشوں کا امکان ہے۔
- پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں قادر آباد ہیڈ ورکس پر پانی کے دباؤ میں کمی ہو رہی ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ قادر آباد ہیڈ ورکس میں پانی کا بہاو کل کی نسبت 1 لاکھ کیوسک کم ہو کر 9 لاکھ 96 ہزار کیوسک پر آ گیا ہے۔قادر آباد ہیڈ ورکس کی مجموعی صلاحیت آٹھ لاکھ کیوسک پانی کی ہے۔
- پنجاب میں سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر ضلع سیالکوٹ کی حدود میں آج تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اِدارے بند ہیں
- پی ڈی ایم اے پنجاب کا کہنا ہے کہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، آئندہ 12 گھنٹوں میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
چناب، راوی اور ستلج پر کون کون سے ہیڈ ورکس ہیں اور وہاں سیلاب کی کیا صورتحال ہے؟
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تین دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب آیا ہوا ہے جس سے اب تک لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ وزیرِ اعلی پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ صوبے کے تینوں دریاؤں میں پانی کا شدید دباؤ بدستور موجود ہے۔
پنجاب میں بہنے والے تین دریا چناب، راوی اور ستلج پر مجوموعی طور پر 12 ہیڈ ورکس ہیں جہاں سے پانی کے بہاؤ کو ریگولیٹ کیا جاتا ہے ۔
دریائے چناب کی صورتحال
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق، دریائے چناب میں اس وقت قادرآباد ہیڈ ورکس کے مقام پر سب سے زیادہ پانی کا دباؤ ہے جہاں آٹھ لاکھ 13 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔ قادرآباد سے آٹھ لاکھ 7 ہزار کیسوک پانی باآسانی گزر سکتا ہے۔
دریائے چناب پر بنے خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر اس وقت انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں سے 6 لاکھ 20 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔ خانکی ہیڈ ورکس 11 لاکھ کیسوک پانی ریگیولیٹ کرنے کے صلاحیت رکھتا ہے۔
قادرآباد اور خانکی ہیڈورکس پر پانی کے دباؤ میں کمی آ رہی ہے۔
اس کے علاوہ دریائے چناب پر مرالہ، تریموں اور پنجند پر بھی ہیڈ ورکس موجود ہیں۔
مرالہ پر آٹھ لاکھ 13 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔ یہ ہیڈ ورکس 11 لاکھ کیسوک پانی کو ریگیولیڑ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تریموں ہیڈ ورکس پر اس وقت پانی کی سطح معمول کے مطابق ہے لیکن اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تریموں سے اس وقت 93 ہزار 500 کیوسک پانی گزر رہا ہے جبکہ اس کی کپیسٹی چھ لاکھ 45 کیوسک ہے۔
پنجند کے مقام پر اس وقت پانی کا بہاؤ 58 ہزار کیوسک ہے جو کہ معمول کے مطابق ہے اور اس میں کمی آ رہی ہے۔ پنج ند ہیڈ ورکس سات لاکھ کیسوک پانی کو ریگیولیڑ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دریائے ستلج کی صورتحال
دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا، سلیمانکی اور اسلام ہیڈ ورکس موجود ہیں۔
گنڈا سنگھ والا ہیڈ ورکس کے مقام پر اس وقت انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں سے دو لاکھ 61 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔
دریائے ستلج پر بنے سلیمانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ اس وقت ایک لاکھ 9 ہزار کیوسک ہے۔ اس ہیڈ ورکس سے تین لاکھ 25 ہزار کیوسک با آسانی گزر سکتا ہے۔
اسلام ہیڈ ورکس سے اس وقت 52 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے جو کہ نچلے درجے کے سیلاب کے زمرے میں آتا ہے۔ اسلام ہیڈ ورکس تین لاکھ کیسوک پانی کو ریگیولیڑ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دریائے راوی کی صورتحال
دریائے راوی پر اس وقت سب سے زیادہ پانی جسڑ اور شاہدرہ کے مقام پر ہے۔ جسڑ وہ مقام ہے جہاں سے انڈیا سے پانی پاکستان مِں داخل ہوتا ہے جبکہ شاہدرہ لاہور کے نزدیک واقع ہے۔ دریائے راوی پر بلوکی اور سدھنائی کے مقامات پر ہیڈ ورکس موجود ہیں۔
اس وقت جسڑ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور یہاں سے ایک لاکھ 21 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے جبکہ سے شاہدرہ سے اس وقت ایک لاکھ 88 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔
بلوکی کے مقام پر اس وقت پانی کا بہاو 94 ہزار کیوسک سے زائد ہے جبکہ یہاں سے تین لاکھ 80 ہزار کیوسک پانی باآسانی گزر سکتا ہے۔ بلوکی کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دریائے راوی پر چوتھا ہیڈ ورکس سدھنائی کے مقام پر موجود ہے جو ایک لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی ریکیولیٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہاں اس وقت پانی کی سطح معمول کے مطابق ہے اور بہاؤ نو ہزار کیوسک سے کچھ اوپر ہے۔
ہیڈورکس یا بیراج کیا ہوتے ہیں؟
کسی بھی دریا پر پانی کی نگرانی کرنے کے لیے ہیڈ ورکس یا بیراج بنائے جاتے ہیں جن کا مقصد دریا میں پانی کے بہاؤ کو ریگولیٹ کرنا ہوتا ہے تاکہ دریا میں پانی کی سطح اس حد تک رہے کہ پانی نہروں میں جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف دریاؤں پر بنائے گئے بیراج پانی کے بہاؤ کے مطابق ڈیزائن کیے جاتے ہیں اور ہر بیراج سے پانی گزرنے کی ایک مخصوص حد ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر دریا میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہو اور بیراج کے تمام دروازے کھولنے کے باوجود بھی پانی کا بہاؤ کم نہ ہو رہا ہو تو بیراج کو محفوظ بنانے کے لیے دریا یا اُن سے نکلنے والی نہروں کی پشتوں پر شگاف ڈالا جاتا ہے۔
کیوسک کیا ہوتا ہے؟
کیوسک پانی کے بہاؤ کی مقدار ناپنے کا پیمانہ ہے۔ یعنی اگر کسی جگہ سے ایک سیکنڈ میں ایک کیوبک فٹ یا 28 لیٹر پانی گزرے تو پانی کی وہ مقدار ایک کیوسک ہو گی۔
سیلاب کی صورتحال میں دریاؤں سے ہزاروں کیوسک پانی گزرتا ہے۔ دریائے راوی بدھ کے دن جب جسر کے مقام پر پاکستان کے صوبہ پنجاب میں داخل ہوا تو اس وقت اس میں پانی کا بہاؤ دو لاکھ 29 ہزار کیوسک بتایا گیا تھا۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن پنجاب کے ایک سینئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک لاکھ کیوسک ریلے کا مطلب یہ ہے کہ دریا کے اُس مخصوص مقام سے ایک سکینڈ میں 283170 لیٹر پانی گزر رہا تھا۔
درمیانے اور اونچے درجے کا سیلاب کیا ہوتا ہے؟
صوبہ پنجاب کے تین دریاؤں میں اس وقت سیلابی صورتحال ہے لیکن اس بات کا تعین کیسے ہوتا ہے کہ کسی دریا میں اس وقت درمیانے، اونچے یا انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے؟
اس بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر دریا میں سیلاب کا تعین دریا کی گنجائش، اس کی چوڑائی کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔
پنجاب کے محکمہ آبپاشی کے سابق چیف انجینیئر ملک شبیر احمد نے بتایا کہ دریائے راوی اور ستلج چھوٹے دریا ہیں اور عمومًا ان میں پانی کم ہوتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ بدھ کے دن ان دریاؤں سے دو سے ڈھائی لاکھ کیوسک پانی کا ریلہ گزر رہا تھا جو ان دریاؤں کی گنجائش سے بہت زیادہ تھا اور اسی لیے راوی اور ستلج میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب تھا۔
ماہر آپباشی کے مطابق دریائے چناب میں راوی کے مقابلے میں بہت زیادہ پانی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد ساڑھے سات لاکھ کیوسک سے بھی زیادہ تھی اور وہاں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب بتایا گیا تھا۔
دوسری جانب دریائے سندھ میں چشمہ کے ہیڈ ورکس پر اسی وقت دو لاکھ 84 ہزار کیوسک پانی گزر رہا تھا لیکن دریائے سندھ میں اتنے پانی کے باوجود بھی دریا معمول سے بھی کم سطح پر تھا اور وہاں سیلابی صورتحال نہیں بتائی گئی۔
پنجاب کے دریاؤں میں موجودہ سیلابی صورتحال سے کون کون سے علاقے متاثر ہو سکتے ہیں؟
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے، این ڈی ایم اے، کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اپڈیٹ کے مطابق پنجاب کے تین دریاؤں، چناب، راوی اور ستلج، میں غیر معمولی سیلابی صورتحال بدستور جاری ہے۔
دریائے چناب
این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب میں قادرآباد اور خانکی ہیڈورکس کے مقامات پر شدید سیلابی صورتحال موجود ہے۔ خانکی ہیڈورکس پر 8 لاکھ 59ہزار کیوسک کا شدید بہاؤ ہے جبکہ قادر آباد ہیڈورکس میں شدید سیلابی صورتحال کے ساتھ بہاؤ نو لاکھ1ہزار کیوسک رہے۔ خانکی اور قادر آباد ہیڈورکس سے گزرنے والے یہ سیلابی ریلے اس کے بعد تریمو ہیڈورکس سے گزریں گے۔
دریائے چناب میں اس سیلابی صورتحال کے باعث ضلع گجرات، ضلع حافظ آباد، ضلع سرگودھا، ضلع چنیوٹ اور ضلع جھنگ کے مزید علاقے ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔
دریائے راوی
این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر فی الحال 1 لاکھ 39 ہزار کیوسک ریلے کے ساتھ شدید سیلابی صورتحال موجود ہے۔
شاہدرہ کے مقام پر پہنچتے ہوئے سیلابی ریلا تقریباً 1 لاکھ 64 ہزار 160 کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔ یہ سیلابی ریلا شاہدرہ اور نارووال کو ممکنہ طور پر متاثر کر سکتا ہے۔
شاہدرہ کے مقام پر لاہور میں کوٹ منڈو، جیا موسیٰ، عزیز کالونی، قیصر ٹاؤن، فیصل پارک، ڈھیر اور کوٹ بیگم کے علاقے متاثر ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح ضلع شیخوپورہ میں فیض پور کھوہ، دھمیکی، ڈکا، برج اٹاری، کوٹ عبدلما جبکہ ضلع ننکانہ صاحب میں گنیش پور کے علاقے ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔
ضلع خانیوال میں غوث پور (میاں چنوں)، امید گڑھ، کوٹ اسلام اور عبدلحکیم کے علاقوں کو بھی دریائے راوی کے سیلابی ریلے متاثر کریں گے۔
دریائے ستلج
این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اس وقت تقریباً 2 لاکھ 61 ہزار کیوسک سیلابی ریلے کے ساتھ شدید سیلابی صورتحال موجود ہے۔
یہاں موجود سیلابی ریلے کے باعث گنڈا سنگھ والا کے نشیبی علاقوں میں بشمول ہیڈ سلمیانکی میں بھی پانی کے بہاؤ میں تیز ی آ چکی ہے، جہاں اس وقت تقریباً 1 لاکھ 9 ہزار کیوسک بہاؤ موجود ہے۔
دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال کے باعث ضلع قصور میں پھول نگر، رکھ خانکے، نتھے خلص، لمبے جاگیر، کوٹ سردار، ہنجارے کلہ، بھٹروالکا اور نوشیرہگائے کے علاقے ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔
ستلج کی صورتحال کے باعث ضلع پاکپتن، وہاڑی، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ، بہاونگر میں بھی سیلابی صورتحال متوقع ہے۔
پنجاب کے تینوں دریاؤں میں پانی کا شدید دباؤ بدستور موجود ہے: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ اُن کی پوری زندگی لاہور میں گزری ہے مگر انھوں نے کبھی راوی میں اتنا پانی نہیں دیکھا جتنا اب ہے۔
شاہدرہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پنجاب کے تینوں دریاؤں میں پانی کا شدید دباؤ بدستور موجود ہے۔
انھوں نے کہا کہ پانی ایک نعمت ہے اور انھوں نے اپنے صوبائی اداروں سے کہا ہے کہ آئندہ سال کے لیے اس طرح کا میکنزم بنایا جائے کہ پاکستان آنے والا پانی سمندر میں گر کر ضائع نہ ہو بلکہ جمع ہو جائے اور ہم اسے استعمال کر سکیں۔ ’ہمیں ڈیمز اور پانی کی سٹوریج کی صورتحال کو بہتر کرنا ہو گا۔ اور اس کے لیے ہمیں سیاست سے بالاتر ہو کر اور قومی مفاد میں سوچنا ہو گا۔‘
انھوں نے کہا کہ نارووال مکمل ڈوبا ہوا ہے جبکہ سیلابی صورتحال کے باعث سیالکوٹ کا بُرا حال ہے۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب کے اداروں بالخصوص 1122 کا اس پورے معاملے میں نہایت اہم کردار رہا ہے جس پر وہ شاباش کے مستحق ہیں۔
پنجاب میں سیلابی ریلوں کے باعث 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں: مریم اورنگزیب
سینیئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ پنجاب میں سیلابی صورتحال کے باعث اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 12 ہو گئی ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ ایک بڑے ریسکیو آپریشن کے تحت ستلج، راوی اور چناب کے کناروں پر واقع آبادیوں سے مجموعی طور پر سوا دو لاکھ افراد کا انخلا کر کے انھیں محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔ انھوں نے کہا کہ انسانوں کے علاوہ ان علاقوں سے پونے دو لاکھ مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔
مریم اورنگزیب کے مطابق تمام تر پیشگی حفاظتی اقدامات کے باوجود اب تک لگ بھگ 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ دور دراز کے علاقوں میں کشتیوں کے ذریعے تاحال ریسکیو آپریشن جاری ہے اور متاثرہ افراد اور مویشیوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کا عمل جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ متاثرہ اضلاع میں انتظامی افسران کے کاموں کے نگرانی 24 گھنٹے مرکزی فلڈ روم میں کی جا رہی ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ ریسکیو کیے گئے افراد کو کھانا اور پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔