آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پی ٹی آئی کا احتجاج: ’گرفتار افراد میں خیبرپختونخوا پولیس کے 11 اہلکار بھی شامل ہیں‘، وزیر داخلہ

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے 564 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں خیبرپختونخوا پولیس کے 11 اہلکار بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’اسلام آباد پر دھاوا بولا گیا۔ آرڈر کرنے والے سے لے کر کارکن تک، سخت سے سخت کارروائی ہو گی۔‘ دوسری جانب پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی غیرموجودگی میں بھی احتجاج جاری رہے گا۔

خلاصہ

  • اسلام آباد ہائی کورٹ سے جاری حکنامے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں غیرقانونی اجتماع کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مظاہرین انتظامیہ کی جانب سے مختص کردہ جگہ پر جا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔
  • لاہور میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان کے درمیان جھڑپ کے بعد پولیس نے متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔
  • پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو حراست میں لے لیا ہے۔ تاہم اسلام آباد پولیس نے ان دعوؤں کی تردید کر دی ہے۔
  • پاکستان کی حکومت نے ایس سی او اجلاس کی سکیورٹی کے لیے اسلام آباد میں فوج تعینات کی ہے
  • سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو اسلام آباد کے ڈی چوک سے پولیس نے حراست میں لے لیا ہے
  • پولیس نے فیض آباد اور 26 نمبر چونگی سمیت دیگر مقامات پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے جبکہ پی ٹی آئی کے درجنوں کارکنان کو حراست میں لیا ہے

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے

    یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ چھ اکتوبر اور اس کے بعد کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. خیبرپختونخوا اسمبلی کا ہنگامی اجلاس اتوار کے روز دن دو بجے طلب

    خیبرپختونخوا اسمبلی کا ہنگامی اجلاس اتوار کے روز دن دو بجے طلب کر لیا گیا ہے۔

    صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری نوٹیفیکشن کے مطابق اجلاس میں علی امین گنڈا پور کی مبینہ گمشدگی اور اسلام آباد میں خیبرپختونخوا ہاؤس میں پیش آنے والے مبینہ واقعے پر بحث کی جائے گی۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے سیاسی جماعتوں کا جرگہ بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اسد قیصر نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ’وزیراعلٰی کو حراست میں لینا پورے خیبرپختونخوا کی توہین ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے وزیراعلٰی خیبرپختونخوا کو فوری رہا کیا جائے۔‘

    خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا جمعے کے روز اسلام آباد کے ڈی چوک پر پی ٹی آئی کے احتجاج میں شامل ہونے کے لیے اپنے قافلے کے ہمراہ صوبے سے نکلے تھے۔ ایک رات مسلسل سفر کرنے کے بعد وہ سنیچر کی شام اسلام آباد کے جناح ایونیو پر نظر آئے اور پھر وہاں سے خیبرپختونخوا ہاؤس چلے گئے۔

    پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کو حراست میں لیا گیا ہے تاہم اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

  3. وزیر داخلہ محسن نقوی:’گرفتار افراد میں خیبرپختونخوا پولیس کے 11 اہلکار بھی شامل ہیں، ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہو گی‘

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے بارے میں بتایا کہ ’اسلام آباد میں پابندی کے باوجود احتجاج کرنے والے 564 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں خیبرپختونخوا پولیس کے 11 اہلکار بھی شامل ہیں۔

    ڈی چوک اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ’یہ مسلح جتھے تھے، ان کے پاس پاس لانگ رینج ٹیئر گیس تھی، جو انھوں نے استعمال کی۔‘

    ان کی خواہش تھی کہ ہماری طرف سے فائرنگ ہو، جو نہیں ہوئی۔ ہماری ترجیح تھی کہ کوئی جانی نقصان نہ ہو۔‘

    محسن نقوی نے کہا کہ ’اسلام آباد پر دھاوا بولا گیا۔ ہم اس دھاوے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آرڈر کرنے والے سے لے کر کارکن تک، ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہو گی اور یہ آپ کو اگلے آنے والے دنوں میں نظر آئے گا۔‘

    صحافی کے اس سوال پر کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کہاں ہیں؟ وزیرداخلہ محسن نقوی نے جواب دیا کہ آپ بتا دیں کہ وہ کہاں ہیں۔

  4. بلوچستان کے ضلع قلات میں دھماکہ، تین سکیورٹی اہلکار ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع قلات میں سنیچر کو ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم ازکم تین سیکورٹی اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

    قلات میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ قلات شہر کے قریب اسکلکو روڈ پر پیش آیا ہے۔

    پولیس اہلکار نے بتایا کہ اسکلکو روڈ پر دشت محمود کے مقام پر نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد نصب کیا ہوا تھا۔

    اہلکار کے مطابق دھماکہ خیز مواد اس وقت پھٹا جب سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی زد میں آنے کی وجہ سے گاڑی میں سوار تین اہلکار ہلاک جبکہ چار زخمی ہوگئے۔ زخمی اہلکاروں کو طبّی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    اہلکار نے بتایا کہ دھماکہ دیسی ساختہ بم کے زریعے کیا گیا ہے۔ اس واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔

    قلات کوئٹہ شہر سے جنوب میں اندازاً ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس ضلع کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔

    رواں سال 25 اور 26 اگست کی درمیانی شب قلات میں لیویز فورس کے ایک تھانے اور دیگر مقامات پر عسکریت پسندوں کے حملے میں لیویز اور پولیس کے اہلکاروں سمیت 11افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    جبکہ جون میں قلات شہر کے قریب اسکلکو کے علاقے میں پاکستان پیٹرولیم لیمیٹڈ کی ایک ایکسپلوریشن سائٹ کی سیکورٹی پوسٹ پر ہونے والے حملے میں ایف سی کے دو اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

    ماضی میں قلات میں ہونے والے زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔

  5. اسلام آباد: پولیس کا ڈی چوک کے اطراف آپریشن، 100 سے زائد مظاہرین گرفتار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    اسلام آباد پولیس نے چائنہ چوک اور ڈی چوک کے اطراف کے علاقوں سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مظاہرین کو منتشر کردیا ہے۔

    اسلام آباد پولیس کے مطابق ڈی چوک، چائنہ چوک، فضل الحق روڈ اور ناظم الدین روڈ پر ڈی آئی جی مصطفیٰ تنویر نے آپریشن کی قیادت کی۔

    مقامی پولیس کے مطابق آپریشن کے دوران 100 سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے اور ڈی چوک سے کلثوم چوک تک پولیس اور رینجرز اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

  6. ’علی امین گنڈاپور بظاہر حبس بے جا میں‘، گرفتاریوں کی صورت میں متبادل قیادت احتجاج کی قیادت کرے گی: حماد اظہر

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کا کہنا ہے کہ جماعت کی پولیٹیکل کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی غیرموجودگی میں بھی احتجاج جاری رہے گا۔

    سنیچر کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں پی ٹی آئی کے رہنما حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ’تحریکِ انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ پُرامن احتجاج جاری رہیں گے۔‘

    ’علی امین بظاہر حبس بے جا میں ہیں، گرفتاریوں کی صورت میں متبادل قیادت موجود ہے حو احتجاج کی قیادت کرے گی۔‘

    خیال رہے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا گذشتہ روز اسلام آباد کے ڈی چوک پر احتجاج میں شامل ہونے کے لیے اپنے قافلے کے ہمراہ صوبے سے نکلے تھے۔ ایک رات مسلسل سفر کرنے کے بعد وہ سنیچر کی شام اسلام آباد کے جناح ایونیو پر نظر آئے اور پھر وہاں سے خیبرپختونخوا ہاؤس چلے گئے۔

    پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ تاہم اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے کارکنان چائنہ چوک سے ڈی چوک تک جانے کی کوشش کر رہے ہیں اور پولیس آنسو گیس کے شیل فائر کرکے ان کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

  7. انڈیا اور پاکستان کے تعلقات پر بات چیت کرنے اسلام آباد نہیں جا رہا: انڈین وزیرِ خارجہ

    انڈیا کے وزیرِ خارجہ ایس جےشنکر نے تصدیق کی ہے کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان جا رہے ہیں۔

    سنیچر کو نئی دہلی میں گورننس کے موضوع پر منعقدہ ایک تقریب کے دوران انھوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کثیرالاقوامی (ایس سی او) اجلاس میں شریک ہونے جا رہے ہیں۔

    ’میں وہاں پاکستان اور انڈیا کے تعلقات پر بات چیت کرنے نہیں جا رہا۔ میں وہاں ایس سی او کا اچھا رُکن بننے جا رہا ہوں۔‘

    خیال رہے شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس 15 اور 16 اکتوبر کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔

    گذشتہ روز انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے بھی تصدیق کی تھی کہ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد جائیں گے۔

  8. لاہور میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان کے درمیان جھڑپ، متعدد مظاہرین گرفتار, عمردراز ننگیانہ، بی بی سی اردو لاہور

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ کے دوران پی ایم جی چوک پر پتھر لگنے سے ایک پولیس اہلکار شدید زخمی ہوگیا ہے۔

    پولیس کے مطابق مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے نتیجے میں چند مزید پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔

    امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پنجاب حکومت نے پولیس کی معاونت کے لیے رینجرز کو بھی مختلف مقامات پر تعینات کر دیا ہے۔

    پولیس اور انتظامیہ نے سنیچر کی صبح ہی سے کنٹیرز لگا کر اور رکاوٹیں کھڑی کر کے لاہور میں داخلے کے تمام راستے بند کر رکھے ہیں۔

    بی بی سی کے نامہ نگار عمردراز ننگیانہ کے مطابق لاہور کے اندر مینار پاکستان جانے والے تمام راستے بھی کنٹینرز لگا کر بند کیے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے چند مظاہرین جو مینار پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے انھیں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

    موٹروے، رنگ روڈ اور جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور میں داخلے اور اخراج کے تمام راستے تاحال بند ہیں۔ شہر میں انٹرنیٹ سروس بھی کئی مقامات پر بند اور صارفین کو خصوصاً واٹس ایپ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

  9. اسلام آباد میں غیرقانونی اجتماع کی اجازت نہیں دی جائے گی: اسلام آباد ہائی کورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلیو ایریا میں تاجر ایسوسی ایشن کے نمائندے کی جانب سے دائر پیٹیشن پر جاری حکمنامے میں کہا ہے کہ انتظامیہ یہ یقینی بنائے کہ وفاقی دارالحکومت میں کسی بھی غیرقانونی احتجاج کے سبب شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران امن کو نقصان نہ پہنچے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ سے جاری حکنامے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں غیرقانونی اجتماع کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مظاہرین انتظامیہ کی جانب سے مختص کردہ جگہ پر جا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔

    بلیو ایریا تاجر ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر پیٹیشن پر سماعت سینچر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے حکمنامے میں لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 16 اور 17 عوام کو اجتماع اور نقل و حرکت کے بنیادی حقوق فراہم کرتے ہیں، تاہم یہ بنیادی حقوق قانون کے مطابق لگائی گئی مناسب قدغن پر منحصر ہیں۔

    خیال رہے گذشتہ روز پی ٹی آئی نے مجوزہ آئینی ترامیم کے خلاف اسلام آباد کے ڈی چوک پر احتجاج کی کال دی تھی۔ اس احتجاج کو روکنے کے لیے انتظامیہ نے اسلام آباد اور راولپنڈی کی مرکزی شاہراؤں کو کنٹینر لگا کر بند کردیا تھا۔

    ان تمام رُکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور وہ ابھی اس وقت خیبرپختونخوا ہاؤس میں موجود ہیں۔

  10. پی ٹی آئی کا علی امین گنڈاپور کو حراست میں لیے جانے کا دعویٰ، اسلام آباد پولیس کی تردید

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور کو اسلام آباد میں خیبر پختونخوا ہاؤس سے حراست میں لے لیا گیا ہے، تاہم پولیس کے ترجمان نے انھیں حراست میں لیے جانے کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔

    قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو اسلام آباد میں خیبرپختونخوا ہاؤس سے غیر قانونی طور پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔‘

    دوسری جانب اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا ہے کہ ’وہ ابھی گرفتار نہیں ہوئے۔‘

    اس سے قبل پاکستان کے مقامی میڈیا نے بھی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے علی امین گنڈاپور کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات دی تھیں۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے اسلام آباد کی صورتحال پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور کو ’باضابطہ طور پر گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔‘

    تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری خیبر پختونخوا ہاؤس میں موجود ہے۔

    بی بی سی کو متعدد ذرائع سے موصول ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اور رینجرز نے اسلام آباد میں خیبرپختونخوا ہاؤس نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔

    خیال رہے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا گذشتہ روز اسلام آباد کے ڈی چوک پر احتجاج میں شامل ہونے کے لیے اپنے قافلے کے ہمراہ صوبے سے نکلے تھے۔ ایک رات مسلسل سفر کرنے کے بعد وہ سنیچر کی شام اسلام آباد کے جناح ایونیو پر نظر آئے اور پھر وہاں سے خیبرپختونخوا ہاؤس پہنچ گئے۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے کارکنان چائنہ چوک سے ڈی چوک تک جانے کی کوشش کر رہے ہیں اور پولیس آنسو گیس کے شیل فائر کرکے ان کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

  11. ’مذاکرات کی گنجائش نہیں‘: وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے احتجاج کو ’اسلام آباد پر حملہ‘ قرار دے دیا

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی مظاہرین کے ہمراہ اسلام آباد آمد کو ’اسلام آباد پر ایک دشمن قوت کا حملہ سمجھتے ہیں۔‘

    سنیچر کو سیالکوٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’وہ جو مرضی کرلیں، ہم اسے اسلام آباد پر، پاکستان پر ایک دشمن قوت کا حملہ سمجھتے ہیں۔‘

    پی ٹی آئی سے بات چیت کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’میرا نہیں خیال کہ مذاکرات کی کوئی گنجائش ہے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی والے ’لاشیں اٹھانا چاہتے ہیں‘ اور ’ہماری کوشش یہ ہے کہ اس سارے معاملے میں کوئی بھی لقمہ اجل نہ بنے۔‘

    ان کا کہنا تھا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے گذشتہ رات انڈین وزیرِ خارجہ جےشنکر کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

    انھوں نے انڈین وزیرِ خارجہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم تو بین الاقوامی فورمز پر کوشش کرتے ہیں کہ کہیں ان سے آمنا سامنا نہ ہوجائے، اس چیز سے بھی گریز کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہاتھ نہ ملانا پڑے اور یہ لوگ (پی ٹی آئی) انھیں ڈی چوک پر مدعو کر رہے ہیں۔‘

    خیال رہے گذشتہ رات پاکستان کے نجی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا تھا کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے انڈین وزیر خارجہ جے شنکر کو دعوت دیں گے کہ وہ پی ٹی آئی کے احتجاج میں شرکت کریں اور خطاب کریں۔

  12. علی امین گنڈاپور اسلام آباد میں داخل، ریڈ زون کے قریب پی ٹی آئی کارکنان اور پولیس کے درمیان تصادم

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور اسلام آباد میں داخل ہونے کے بعد ریڈ زون کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی ویڈیو میں علی امین گنڈاپور کو اسلام آباد شہر کے اندر احتجاجی مظاہرین کے ساتھ پیدل چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق ریڈ زون کے قریب پولیس اور پی ٹی آئی کے کارکنان کے درمیان تصادم بھی دیکھنے میں آیا ہے اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی جا رہی ہے۔

  13. کسی کو ریڈ زون کے قریب نہیں آنے دیں گے، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا ہوش کے ناخن لیں: وزیر اطلاعات

    وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو اسلام آباد کے ریڈ زون کے قریب کسی کو نہیں پھڑکنے دیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ ایس سی او کانفرنس کو سپوتاژ کرے۔‘ وزیراطلاعات نے کہا کہ ’کئی دہائیوں کے بعد 12 ممالک کے سربراہان پاکستان آ رہے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ جو یہاں آئے تو وہ کہے کہ یہ مواقع کی سرزمین ہے۔‘

    وزیراطلاعات نے کہا کہ ’ایس سی او پرامن اور بہترین طریقے سے چلے گی۔‘

    وزیراطلاعات نے کہا کہ ’ملک دشمنی کا حل یہی ہے کہ فوج طلب کر لی گئی ہے، رینجرز موجود ہے۔ ریڈ زون سیل کر دیا گیا ہے اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا کی پولیس آنسو گیس لے کر آئی ہے اور سرکاری تیل پر اسلام آباد کی طرف چڑھائی کے لیے آ رہے ہیں۔‘ وزیراعلیٰ علی مین گنڈا پور کا حوالہ دیتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہا کہ ’یہ سارا دن دھرنوں پر لگا ہے، اپنے لیڈر کو خوش کرنے پر لگا ہوا ہے۔‘

    وزیراطلاعات نے کہا کہ ’وہاں صوبے میں دہشتگردی صوبے میں چڑھائی کر رہے ہیں، اور یہ اسلام آباد کا رخ کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ان کے مقاصد یہی ہیں جو نو مئی کو تھے۔

    وزیراطلاعات نے کہا کہ ’یہ دھرنے اور مارچ کیوں کیے جا رہے ہیں۔ ان کو راتوں کو نیند نہیں آتی کہ پاکستان کے حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ ادھر پریشانی یہ ہے کہ ملک ترقی نہ کر جائے کہ ہمارا بیانیہ تو فوج کے خلاف ہے، ہمارا بیانیہ تو ریاست پاکستان کے خلاف ہے، ہمارا بیانیہ تو آرمی چیف کے خلاف ہے۔‘

    وزیراعظم کی ٹیم ڈیفالٹ سے متعلق پریشان تھی۔ ماہرین معیشت کہتے ہیں کہ معیشت استحکام کی راہ پر ہے۔

    عطااللہ تارڑ نے کہا کہ ’علی امین گنڈاپور غیرسنجیدہ آدمی ہیں۔ یہ لشکر کشی ملک تباہ کرنے والی بات ہے اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ ان کا اعلان لاہور میں بھی جلاؤ گھیراؤ اور آگ لگانے کا ارادہ تھا اس وجہ سے بھرپور حفاظتی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وہ صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں، انھیں چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’یہ حملہ کرنا چاہتے ہیں تو حملے کو پسپا کیا جاتا ہے، بات چیت نہیں کی جاتی۔‘

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے بیک ڈور رابطے ہیں۔ وہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں، رابطے کرتے ہیں۔ طے کچھ ہوتا ہے اور وہ کرتے کچھ ہیں۔‘ ان کے مطابق تحریک انصاف والے کبھی یہ بھی منتیں کرتے ہیں کہ ’بات کرلو، ہم بات کرنا چاہتے ہیں۔‘

    اختیار عمران خان کے پاس ہے، مجھ سے بات کرنے کا فائدہ ہے نہ اس کی ضرورت: علی امین گنڈا پور

    علی امین گنڈا پور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں لوگوں کے جذبے کو سلام پیش کرتا ہوں، کچھ بھی ہو جائے عمران خان کے حکم پر ہم آگے بڑھتے رہیں گے۔ جب تک ہم میں دم ہے، آگے بڑھتے رہیں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ اللہ نے یہاں تک پہنچایا ہے، وہ آگے بھی پہنچائے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ پہلے بھی بتایا ہے اور اب بھی بتا رہا ہوں کہ ہمارا اختیار عمران خان کے پاس ہے، کسی نے بات کرنی ہے تو عمران خان سے بات کرے۔‘ انھوں نے کہا کہ نہ مجھ سے بات کرنے کا فائدہ ہے اور نہ مجھ سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

  14. اسلام آباد میں تعینات فوجی دستوں کے پاس کیا اختیارات ہیں؟, فرحت جاوید، بی بی سی اردو

    اسلام آباد کی ایک مصروف شاہراہ جناح ایوینو پر جگہ جگہ شیلز کے خول اور پتھر بکھرے ہیں۔

    یہ شیلز اس وقت اسلام آباد پولیس نے فائر کیے جب گذشتہ شب پاکستان تحریک انصاف کے وہ حمایتی ڈی چوک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے جو جناح ایوینیو کے گرد و نواح کے علاقوں میں رہتے ہیں۔

    خیال رہے کہ جناح ایوینو اسلام آباد کی وہ بڑی شاہراہ ہے جو براہِ راست ڈی چوک کو لگتی ہے۔ ڈی چوک دارالحکومت کی کانسٹیٹیوشن ایوینیو اور جناح ایونیو کے ملاپ پر وہ مقام ہے جہاں پارلیمان، سپریم کورٹ سمیت دیگر سرکاری عمارتیں موجود ہیں، اور یہی وہ مقام ہے جہاں تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے اپنے کارکنان کو جمع ہونے کی ہدایت کی تھی۔

    لیکن یہاں پہنچنا تقریباً ناممکن ہے۔ اور اس کی وجہ ہے شہر میں مختلف مقامات پر رکھے کنٹینرز اور خاردار تاریں۔

    ہماری ٹیم نے شہر کی مختلف سڑکوں اور گلیوں سے ڈی چوک پہنچنے کی کوشش کی، لیکن ہر سڑک کے اختتام پر ایک عدد کنٹینر اور پولیس اہلکار جبکہ ہر گلی کے نکڑ پر خاردار تاریں موجود ہیں۔

    یہیں ایک سڑک پر تین اہلکار درختوں کے سائے میں بیٹھے ملے جو خیبر پختونخوا سے آئی ایف سی فورس کا حصہ تھے۔ ان میں سے ایک نے بتایا کہ ’ہم تین پہلے یہاں پہنچے ہیں اور یہ پتا نہیں کہ واپسی کب ہوگی۔‘

    وہیں موجود ایک اور اہلکار جن کا تعلق وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے آبائی علاقے سے ہے، یہ شکوہ کر رہے تھے کہ انھیں وزیراعلی کے قافلے میں کیوں نہیں رکھا گیا۔

    ’ہم ان کے گھر سے پندرہ منٹ کے فاصلے پر ہیں۔ ان کے الیکشن میں دن رات کام بھی کیا۔ اس وقت تو وہ ہمارے ساتھ ہوتے تھے، اب وزیراعلی بن کر بڑے آدمی بن گئے ہیں۔ وہ میری ڈیوٹی اپنے قافلے میں لگاتے تو ان کی حفاظت کرتے، اب یہاں آ گئے تو ہم حفاظت تو نہیں کریں گے۔‘

    دوسری جانب شہر میں جہاں ہر طرف پولیس، ایف سی اور رینجرز کے دستے نظر آ رہے ہیں، وہیں پاکستان آرمی کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

    وزارت داخلہ کی جانب سے رات جاری نوٹیفکیشن میں آرٹیکل 245 کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے لیے پاکستانی فوج کو طلب کیا گیا تھا۔ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کو طلب کیا جا سکتا ہے۔

    مگر آج مجسٹریٹ اسلام آباد نے پاکستانی فوج کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کو ایک مراسلہ لکھا ہے جس میں فوجی دستوں کے اختیارات کی وضاحت کی گئی ہے۔

    اس مراسلے میں جو اہم نقطہ ہے وہ فوجی دستوں کو گولی چلانے کا اختیار ہے۔ خیال رہے کہ فوج کے پاس یہ اختیار پہلے سے موجود ہوتا ہے، تاہم اس غیرمعمولی مراسلے میں ہر قسم کی صورتحال میں کیا راستہ اختیار کرنا ہے، وہ طے کر دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل 2014 میں عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنے کے دوران یہ صورتحال متعدد بار پیش آئی تھی، جب ڈیوٹی پر موجود بعض پولیس اہلکاروں نے اپنے افسران اور اس وقت کے وزیر داخلہ کے زبانی احکامات ماننے سے انکار کیا تھا اور یہ مطالبہ کیا تھا کہ انھیں ’اِن رائیٹنگ‘ ہدایات جاری کی جائیں۔

    یہ امکان ہے کہ پاکستانی فوج نے وفاقی حکومت سے واضح انداز میں ہدایت نامہ جاری کرنے کی درخواست کی جس کے بعد وفاق نے ’رولز آف انگیجمنٹ‘ طے کیے ہیں۔

    اس مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں تعیناتی کے دوران فوجی دستے ’ہوسٹائل‘ عناصر جن میں ’پرتشدد ہجوم‘ اور ’شرپسند افراد‘ شامل ہیں، کے خلاف کاروائی کریں گے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ:

    • ایسے ہجوم کو پہلے وارننگ جاری کی جائے۔
    • ’وارننگ شاٹس‘ یعنی ہوائی فائرنگ کی جائے۔
    • ہجوم کی جانب سے ہونے والی فائرنگ کا فوری اور موثر جواب دیا جائے۔
    • فورس کا کم سے کم استعمال کیا جائے

    تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’کوئی رُول، قانون کسی فرد کو اپنے دفاع یا اس عمارت یا اینٹیٹی کی حفاظت جو اس کو سونپی گئی ہے، کے راستے میں نہیں آ سکتا۔‘

    قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی عدم موجودگی میں فوج کے پاس کسی بھی شخص کو حراست میں لینے کا اختیار بھی ہوگا جو کسی جرم کا مرتکب ہو یا ایسا کرنے کی دھمکی دے۔

    اس کے علاوہ الیکٹرانک مانیٹرنگ کا لامحدود اختیار ہوگا۔

    دوسری جانب شہر میں موبائل نیٹ ورکس بند ہوئے 24 گھنٹے سے زائد وقت گزر چکا ہے اور اسلام آباد سمیت ملک بھر میں پی ٹی آئی کے کارکنان کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

  15. پی ٹی آئی کی لاہور میں بھی احتجاج کی کال، انتظامیہ نے رکاوٹیں لگا کر رستے بند کر دیے

    پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے لاہور میں احتجاج کی کال کے بعد انتظامیہ نہ سڑکوں پر کنٹینرز لگا کر رستے بند کر دیے ہیں۔

    تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’اسلام آباد کا احتجاج جاری رہے گا۔ اس کے علاوہ آج سے پنجاب کے تمام اضلاع میں احتجاج شروع کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’لاہور اور اس کے گرد و نواح کے افراد لاہور کے احتجاج میں شامل ہوں گے۔ باقی پنجاب کے تمام اضلاع میں آج سے پرامن احتجاج کی کال ہے۔‘

    تحریک انصاف کے رہنما اور وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں اپنے کارکنان سے کہا کہ ’احتجاج آپ کا، میرا حق ہے اوریہ احتجاج اس وقت فرض بن جاتا ہے جب آئینی ترمیم کے ذریعے آزادیاں چھینی جا رہی ہوں۔‘

  16. علی امین گنڈاپور کے قافلے پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی: تحریک انصاف

    تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی جانب گامزن وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے قافلے پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی ہے۔

    ایک بیان میں پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ’مسلم لیگ ن اور محسن نقوی کو سمجھنا ہوگا کہ وہ پُرامن پاکستانیوں پر حملہ آور ہیں۔ ان کے شرمناک اقدام پی ٹی آئی کو روک نہیں سکیں گے۔‘

    ادھر حکام کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد داخلے کے تمام راستے بند ہیں اور احتجاج کے لیے آنے والے قافلے کو روکنے کے لیے کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ شہر کے اکثر حصوں میں موبائل فون سروسز بدستور معطل ہیں۔

    علی امین گنڈا پور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں لوگوں کے جذبے کو سلام پیش کرتا ہوں، کچھ بھی ہو جائے عمران خان کے حکم پر ہم آگے بڑھتے رہیں گے۔ جب تک ہم میں دم ہے، آگے بڑھتے رہیں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ اللہ نے یہاں تک پہنچایا ہے، وہ آگے بھی پہنچائے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ پہلے بھی بتایا ہے اور اب بھی بتا رہا ہوں کہ ہمارا اختیار عمران خان کے پاس ہے، کسی نے بات کرنی ہے تو عمران خان سے بات کرے۔‘ انھوں نے کہا کہ نہ مجھ سے بات کرنے کا فائدہ ہے اور نہ مجھ سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

  17. پی ٹی آئی کے عزائم کچھ اور لگ رہے ہیں، کسی صورت میں ایس سی او کانفرنس کو سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے: وزیر داخلہ

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے عزائم کچھ اور لگ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پتھر گڑھ کے مقام پر پولیس پر فائرنگ بھی کی گئی ہے جس سے پولیس کے 80 سے 85 جوان زخمی ہو گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دھاوا بولنے کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ دھاوا بولنے والوں سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو سکتے ہیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ بنوں اور قبائلی علاقے سے لوگوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اسلحہ لے کر آئیں۔ انھوں نے کہ اس ساری صورتحال کو خیبر پختونخوا دیکھ رہے ہیں اور وہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ ان کے مطابق ’وہ وزیر اعلیٰ ضرور ہیں مگر آج اگر میں بھی کسی شہر پر جا کر دھاوا بولوں تو اس کی ایک قیمت ادا کرنا ہوتی ہے۔‘

    محسن نقوی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا ایجنڈا ایس سی او کانفرنس کو سبوتاژ کرنا ہے۔ وزیرداخلہ نے دعویٰ کیا کہ ’ان کی باقاعدہ پلاننگ چل رہی ہے کہ ایس سی او اجلاس نہ ہو، ایسے ثبوت آنے والے دنوں میں سامنے آ جائیں گے۔‘

    محسن نقوی نے کہا کہ ان کے عزائم کچھ اور لگ رہے ہیں۔ کسی صورت میں ایس سی او کانفرنس کو سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے۔‘ وزیر داخلہ نے کہا کہ اس ساری صوتحال کے ذمہ دار وزیر اعلی علی امین گنڈاپور ہوں گے اور اگر انھوں نے مزید لائن کراس کی تو انتہائی اقدام پر ہمیں نہ جانے دیں‘۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 124 افغان شہری گرفتار ہوئے ہیں جو کہ الارمنگ ہے۔

    محسن نقوی نے اسلام آباد کے شہریوں سے ایک بار پھر رکاوٹوں پر معذرت کی اور کہا کہ ایسا کرنا حکومت کی مجبوری ہے۔

    آئینی ترمیم میں ایس سی او کانفرنس تک تاخیر سے متعلق ایک سوال پر محسن نقوی نے کہا کہ ’اس طرح تو یہ کہیں گے کہ ایوان صدر بھی کام کرنا بند کر دے اور دیگر ادارے بھی کام نہ کریں تو ان کی خواہشات پر تو سب نہیں ہو سکتا۔‘

  18. شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں سے فائرنگ کے تبادلے میں لیفٹیننٹ کرنل سمیت چھ اہلکار ہلاک

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے علاقے شمالی وزیرستان میں فوج اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں لیفٹیننٹ کرنل سمیت چھ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں سکیورٹی فورسز اور ’خوارج‘ یعنی شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں چھ شدت پسند مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے میں پاکستانی فوج کے افسر اور جوان مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم کے خلاف چار اور پانچ اکتوبر کی درمیانی شب کارروائی کی گئی۔ فوج کے مطابق اس آپریشن کی قیادت مارے جانے والے لیفٹیننٹ کرنل محمد علی شوکت کر رہے تھے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 43 سالہ لیفٹیننٹ کرنل کا تعلق فیصل آباد سے ہے جبکہ دیگر پانچ جوانوں کا تعلق خیبر، لکی مروت، ٹانک، اورکزئی اور سوات سے ہے۔ فوج کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل کے سوگواران میں ان کی اہلیہ اور تین بیٹے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ’سکیورٹی فورسز دہشتگردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، ہمارے بہادر سپاہیوں کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔‘

  19. وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا قافلہ اسلام آباد کی طرف گامزن، دارالحکومت میں فوج تعینات

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا قافلہ اس وقت پشاور سے اسلام آباد موٹروے کے مقام برہان انٹرچینج سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انھوں نے کارکنان سے خطاب میں کہا کہ ’آگے بڑھو، ہم نے ڈی چوک پہنچنا ہے۔‘

    موٹروے پر اس مقام سے اسلام آباد تک پہنچنے تک عام حالات میں 20 سے 25 منٹ کا وقت درکار ہوتا ہے مگر ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ علی امین گنڈاپور اسلام آباد تک کب پہنچ سکیں گے۔

  20. اسلام آباد میں فوج کا گشت، عمران خان کی دو بہنوں سمیت پی ٹی آئی کے 85 کارکنان زیر حراست

    پولیس نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں احتجاج کے لیے آنے والے تحریک انصاف کے 85 سے زائد کارکنان کو حراست میں لے لیا ہے۔ گذشتہ روز پولیس نے عمران خان کی دو بہنوں کو بھی احتجاج کرنے پر گرفتار کر لیا۔

    تحریک انصاف کے گرفتار ہونے والوں کارکنان میں خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی واپسی تک لا اینڈ آرڈر صورتحال برقرار رہے گی۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق علی امین گنڈاپور قافلے کے ہمراہ آج پھر اسلام آباد کے لیے سفر شروع کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق جڑواں شہروں میں موبائل فون سروس متواتر بند رکھنے کا امکان ہے اور جڑواں شہروں میں لگی رکاوٹیں بھی نہیں ہٹائی جائیں گی۔

    اسلام آباد میں فوج نے شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ فوج کے دستوں کی جانب سے مختلف شاہراہوں پر گشت بھی جاری ہے۔