یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے آپ اس لنک پر کلک کریں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں میں غیر ملکی ہتھیاروں اور آلات کا استعمال واضح ثبوت ہے کہ افغانستان اب بھی ان عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے آپ اس لنک پر کلک کریں۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرین اور امریکہ جنگ بندی سے متعلق اگلے ہفتے سعودی عرب میں بات چیت کا آغاز کریں گے۔
سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرین کے مذاکرات کار اگلے ہفتے سعودی عرب میں امریکی حکام سے ملاقات کریں گے۔
یوکرین کے صدر نے مزید کہا کہ اگلے پیر کو وہ خود سعودی عرب کا دورہ کریں گے اور وہاں ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس ملاقات کے بعد میری ٹیم سعودی عرب میں ہی موجود رہے گی اور اپنے امریکہ پارٹنرز کے ساتھ (جنگ بندی سے متعلق) معاملات طے کرے گی۔
روسی وزات خارجہ کی ترجمان ماریا زخاروا نے یورپی ممالک کی جانب سے یوکرین میں فوجی دستوں کی تعیناتی اور ایک ماہ کے سیز فائر کرنے کی تجویز پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ قابل قبول نہیں ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزارت خارجہ کی ترجمان نے عارضی جنگ بندی کے امکان کو مسترد کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ٹھوس معاہدوں اور حتمی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔
روسی وزات خارجہ کی ترجمان ماریا زخاروا کا کہنا تھا یورپی دستوں کو یوکرین بھجوانے کے خیال سے لگتا ہے کہ یورپ نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا۔
برطانوی وزیراعظم کئیر سٹارمر نے کہا ہے کہ ہمارے ملک، یورپ اور یوکرین کا دفاع اس وقت دنیا میں سب سے اہم ہے۔
انھوں نے یہ بات جمعرات کو میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہی۔
جب ان سے یوکرین کو دی جانے والی ممکنہ فوجی مدد کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جو چیز اہم ہے وہ دیرپا امن ہے، جو کہ جنگ کو ختم کرے گا اور یوکرین کو اس قابل بنائے گا کہ وہ اپنے فیصلے خود کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ڈیل ہوئی تو ہم اس کی حمایت کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس بات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے کہ ممکنہ سکیورٹی گارنٹی کیا ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اس میں قائدانہ کردار ادا کرے گا۔
اطلاعات کے مطابق 20 کے قریب ممالک نے یوکرین کی مدد کرنے کے خواہاں اتحاد کا حصہ بننے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
برطانوی حکام نے کہا ہے کہ گذشتہ روز ہونے والی ملاقات میں کسی بھی امن معاہدے کے بعد سکیورٹی کی گارنٹی فراہم کرنے پر بات چیت ہوئی تھی۔
یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بات چیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ یورپ اور کامن ویلتھ میں شامل تمام ممالک اپنے فوجی دستے وہاں بھجوائیں گے لیکن کچھ ممالک اس کے علاوہ بھی مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
وفاقی حکومت کی قائم کردہ جے آئی ٹی نے مبینہ طور پر منفی پروپگینڈا کرنے والی پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کے 10 افراد کو جمعے کو طلب کرلیا ہے۔
یاد رہے کہ جے آئی ٹی کو بذریعہ نوٹیفیکیشن الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ 2016 کے سیکشن 30 کے تحت تشکیل دیا گیا تھا۔
جے آئی ٹی انسپکٹر جنرل آف اسلام آباد پولیس کی سربراہی میں تحقیقات کر رہی ہے۔
جے آئی ٹی ان افراد کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے جنھوں نے سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف بات کی اور بے بنیاد الزامات عائد کیے۔
جے آئی ٹی کا مقصد قانون کے مطابق مجرموں کی شناخت اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خواجہ سراؤں کے لیے انڈیا کے پہلے طبّی مرکز کو غیر ملکی امداد کی فراہمی روکے جانے کے بعد تین شہروں میں بند کر دیا گیا ہے۔
جنوبی شہر حیدرآباد میں سنہ 2021 میں کام شروع کرنے والے میٹر (فرینڈ) کلینک نے ہزاروں خواجہ سراؤں کو ایچ آئی وی کے علاج کے لیے مدد اور مشاورت فراہم کی۔
مغربی انڈیا کے تھنے اور پونے شہروں میں اسی سال قائم کیے جانے والے دو اور میٹر کلینکس کو بھی امداد میں کٹوتی کے بعد سے بند کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے تحت تمام غیر ملکی امداد کو 90 دن کے لیے روک دیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ غیر ملکی اخراجات کو ان کے 'امریکہ فرسٹ' نقطہ نظر کے ساتھ قریبی طور پر منسلک کیا جائے۔
سنہ 1960 کی دہائی سے بیرونی ممالک کو انسانی امداد کی نگرانی کرنے والے امریکی ادارے یو ایس ایڈ کے خلاف ان کے کریک ڈاؤن کو اس مقصد کے لیے ایک قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یو ایس ایڈ کے فنڈز کی بندش نے دنیا بھر میں خاص طور پر غریب اور ترقی پذیر ممالک میں درجنوں ترقیاتی پروگراموں کو متاثر کیا ہے۔
انڈیا میں میٹر کلینکس کی بندش نے ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی اہم طبّی امداد تک رسائی کو متاثر کیا ہے۔
یہ منصوبہ سنہ 2003 میں امریکی صدر کے ادارہ برائے ایڈز ریلیف (پیپفار) کے تحت وجود میں آیا تھا جب امریکہ کے صدر جارج بش تھے۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی نے یو ایس ایڈ اور انڈین حکومت کے تعاون سے اسے قائم کیا تھا۔
عملے کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ تینوں کلینک تقریباً 6000 لوگوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور تقریبا 6 سے 8 فیصد مریضوں کا ایچ آئی وی کا علاج کیا جا رہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ 'یہ سبھی کیسز 30 سال سے کم عمر مریضوں کے تھے اور اس آبادی کے 75 سے 80 فیصد لوگوں کو پہلی مرتبہ صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل ہوئی تھی۔
حیدر آباد میں میٹر کلینک ہر ماہ 150 سے 200 خواجہ سرا مریضوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے، جن میں سے بہت سے ایچ آئی وی کے خطرناک مرض میں مبتلا تھے۔ کلینک میں ڈاکٹروں، ماہرِ نفسیات اور تکنیکی عملے کی ایک چھوٹی سی ٹیم کام کر رہی تھی۔
کلینک کی انچارج اور خواجہ سرا رچنا مدربوینا نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ 'مریضوں کی مدد کے لیے ہمیں ماہانہ ڈھائی لاکھ روپے مل رہے تھے۔'
غریب لوگوں خصوصاً خواجہ سراؤں کو طبّی امداد فراہم کرنے والے ان کلینکس کی بندش کی خبر کسی صدمے سے کم نہیں۔
علاج کی غرض سے کلینک آنے والی ایک خواجہ سرا ویجینتی وسنتا موگلی نے انڈین ایکسپریس اخبار کو بتایا کہ 'ہم پر یہ خبر بجلی بن کر گری ہے، اب نا جانے ہمارا کیا ہوگا کیونکہ یہ کلینک رعایتی نرخوں پر علاج فراہم کرتا تھا۔'
ایک اور خواجہ سرا جو بند ہو جانے والے کلینک سے علاج کروانے کا ابھی سوچ ہی رہی تھیں کہ کلینک بند ہو گیا۔ انھوں نے انڈین ایکسپریس نامی اخبار کو بتایا کہ انھیں افسوس ہے کہ اب وہ اپنا علاج نہیں کروا پاییں گی۔
ایک اندازے کے مطابق انڈیا میں خواجہ سرا افراد کی تعداد تقریباً 20 لاکھ ہے تاہم سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
سنہ 2014 میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے باوجود جس میں انھیں دیگر جنسوں کے لوگوں کے برابر حقوق دیے گئے بہت سے لوگ اب بھی بدنامی اور امتیازی سلوک کی وجہ سے تعلیم اور صحت کی سہولیات سے محروم ہیں۔
سرکاری اور نجی ہسپتال ہیں جو کمیونٹی کو طبّی مدد فراہم کرتے ہیں لیکن بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ میٹر کلینکس جانے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ انھیں زیادہ فائدہ مند سمجھتے ہیں۔
میٹر کلینک کمیونٹی کے لیے اتنے اہم کیوں تھے رچنا کا کہنا ہے کہ 'عام ہسپتالوں میں خواجہ سراؤں کا مناسب علاج نہیں کیا جاتا۔'
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر ملکی امداد منجمد کرنے کے حکم پر بہت سے لوگوں نے تنقید کی ہے۔
ایک وکیل ببر جنگ وینکٹیش نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یو ایس ایڈ نے صحت اور تعلیم کے شعبے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اسے بند کرنے سے ترقی پذیر ممالک پر اثر پڑے گا۔'
اُن کا مزید کہنا ہے کہ 'یہ ایک بڑا دھچکا ہے ایچ آئی وی کی روک تھام کے لئے ان کلینکس کا کردار انتہائی اہم تھا۔'
گذشتہ جمعرات کو ٹرمپ انتظامیہ نے کہا تھا کہ وہ یو ایس ایڈ کے 90 فیصد سے زائد غیر ملکی امداد کے معاہدوں کو ختم کرنے جا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت کم منصوبے کارآمد یعنی انی خدمات فراہم کرتے رہیں گے اور آنے والے وقت میں اس بات کے امکانات انتہائی کم ہیں کہ باقی رہ جانے والے منصوبوں میں میٹر کلینکس نہیں ہوں گے۔
ٹرمپ کے قریبی ساتھی ایلون مسک جو وفاقی اخراجات اور ملازمتوں میں کمی کے ذمہ دار ایک سرکاری محکمے کے سربراہ بھی ہیں نے خواجہ سراؤں کے لیے فنڈنگ کے منصوبوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
دریں اثنا کلینک کے عملے کا کہنا ہے کہ وہ دوسرے ذرائع سے فنڈز کی تلاش کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ریاستی حکومت مدد کے لئے آگے آئے گی۔
رچنا کہتی ہیں کہ 'ہم نے صرف طبّی مدد فراہم کرنے کے علاوہ بھی بہت کچھ کیا ہے۔ کلینک نے ہمیں کمیونٹی کے ساتھ بات چیت کرنے، مختلف سرکاری سکیموں اور صحت کی سہولیات کے بارے میں مشورہ دینے کے لئے ایک جگہ بھی فراہم کی۔'
وہ کہتی ہیں کہ 'ہم (کلینک چلانا) جاری رکھنا چاہتے ہیں اور عطیہ دہندگان کو تلاش کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔'
امریکہ اور اسرائیل نے جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے عرب منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔
منگل کو قاہرہ سربراہی اجلاس میں عرب رہنماؤں کی جانب سے منظور کی جانے والی یہ تجویز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کا متبادل ہے جس کے تحت امریکہ غزہ کی پٹی کا کنٹرول حاصل کرے گا اور اس کے رہائشیوں کو مستقل طور پر آباد کرے گا۔
فلسطینی اتھارٹی اور حماس نے عرب منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ غزہ کا انتظام عارضی طور پر آزاد ماہرین کے پینل کے ذریعے کیا جائے اور غزہ میں بین الاقوامی امن دستوں کی تعیناتی کی جائے۔
وائٹ ہاؤس اور اسرائیلی وزارت خارجہ نے عرب منصوبے کو غزہ کے حقائق سے نمٹنے میں ناکام قرار دیا ہے۔ وہ اس معاملے میں ٹرمپ کے وژن پر قائم ہیں کہ فلسطینوں کو نکال کر غزہ کی تعمیر نو کی جائے۔
عرب سربراہ اجلاس اس تشویش کے پیش نظر منعقد کیا گیا کہ غزہ میں جنگ بندی کا نازک معاہدہ ہفتے کے روز چھ ہفتوں پر محیط معاہدے کے پہلے مرحلے کی میعاد ختم ہونے کے بعد ختم ہو سکتا ہے۔
اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں امداد داخل ہونے سے روک دی ہے تاکہ حماس پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ جنگ بندی میں عارضی توسیع کی نئی امریکی تجویز کو قبول کرے، جس کے دوران فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے غزہ میں قید مزید یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا۔
حماس نے اصرار کیا کہ معاہدے کے مطابق دوسرا مرحلہ شروع ہونا چاہیے جس سے جنگ کا خاتمہ ہو اور اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ہو سکے۔
تین مراحل پر مشتمل منصوبہ
مصر نے منگل کے روز عرب لیگ کے ایک ہنگامی اجلاس میں جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ کی تعمیر نو کے لیے 53 ارب ڈالر (41 ارب پاؤنڈ) کا عرب منصوبہ پیش کیا۔
اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں فلسطینی عوام کی کسی بھی قسم کی بے دخلی کو واضح طور پر مسترد کرنے پر زور دیا گیا اور اس خیال کو 'بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی، انسانیت کے خلاف جرم اور نسلی صفائی' قرار دیا گیا۔
منصوبے میں تعمیر نو کا عمل تین مرحلوں میں ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو پانچ سال تک جاری رہے گا، جس کے دوران تقریبا 1.5 ملین بے گھر غزہ کے باشندوں کو 20 لاکھ پہلے سے تعمیر شدہ رہائشی یونٹوں اور 60 ہزار مرمت شدہ گھروں میں منتقل کیا جائے گا۔
پہلا مرحلہ چھ ماہ پر محیط ہوگا، جس پر تین ارب ڈالر لاگت آئے گی اور لاکھوں ٹن ملبے اور غیر پھٹنے والے ہتھیاروں کو ہٹایا جائے گا۔
دوسرا مرحلہ دو سال تک جاری رہے گا، جس پر 20 ارب ڈالر لاگت آئے گی، اور ہاؤسنگ اور عوامی سہولیات کی تعمیر نو کی جائے گی۔
تیسرے مرحلے میں ایک ہوائی اڈے، دو بندرگاہوں اور ایک صنعتی زون کی تعمیر ہوگی اور اس مرحلے میں مزید دو سال لگیں گے اور اس پر 30 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔
عرب منصوبے میں جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کو عبوری مدت کے لیے چلانے کے لیے آزاد فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک 'انتظامی کمیٹی' تشکیل دینے کی بھی تجویز دی گئی ہے، ایسے وقت میں جب 'فلسطینی اتھارٹی کو واپس آنے کے قابل بنانے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔'
اسرائیل، امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے والے حماس نے 2007 سے غزہ کا مکمل کنٹرول حاصل کر رکھا ہے اور پارلیمانی انتخابات جیتنے کے ایک سال بعد پرتشدد جھڑپوں میں فتح کے زیر اثر فلسطینی اتھارٹی کی افواج کو بے دخل کر دیا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر حکمرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔
اجلاس کے دوران فلسطینی صدر محمود عباس نے عرب منصوبے کا خیر مقدم کیا اور ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ اس کی حمایت کریں۔
حماس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے لوگوں کو بے گھر کرنے کی کوششوں کو مسترد کرنے کے عرب موقف کو سراہتا ہے۔
عرب منصوبہ حقیقت کو حل نہیں کرتا
اسرائیلی وزارت خارجہ نے مصر ی منصوبے کی توثیق کرنے والے عرب لیگ کے بیان کو فوری طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد کی صورتحال کے حقائق پر توجہ نہیں دیتا اور فرسودہ نظریات پر مبنی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اب، صدر ٹرمپ کے خیال کے ساتھ، غزہ کے لوگوں کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنی مرضی کی بنیاد پر آزادانہ انتخاب کریں، اور اس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے!‘
اس کے بجائے عرب ریاستوں نے اس موقع کو مناسب سمجھے بغیر اسے مسترد کر دیا اور اسرائیل کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرتے رہے۔
غزہ معاہدے کے پہلے مرحلے کے اختتام کے بعد اسرائیل اور حماس کے پاس کیا آپشنز ہیں؟
وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان برائن ہیوز نے کہا ہے کہ عرب منصوبے میں اس حقیقت پر توجہ نہیں دی گئی ہے کہ غزہ اس وقت ناقابل رہائش ہے اور رہائشی ملبے اور غیر پھٹے ہوئے ہتھیاروں سے ڈھکے ہوئے علاقے میں انسان زندگی نہیں گزار سکتے۔
’صدر ٹرمپ حماس سے پاک غزہ کی تعمیر نو کے اپنے وژن پر قائم ہیں اور ہم خطے میں امن اور خوشحالی لانے کے لیے مزید مذاکرات کے منتظر ہیں۔‘
ٹرمپ نے گذشتہ ماہ تجویز پیش کی تھی کہ امریکہ غزہ کا مالک ہو اور اس کی آبادی کو منتقل کرے تاکہ اسے دوبارہ تعمیر کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بے گھر فلسطینیوں کو واپسی کا حق حاصل نہیں ہوگا کیونکہ ان کے پاس مصر، اردن اور دیگر ممالک میں بہتر رہائش ہوگی۔
عرب لیگ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل حسام ذکی نے بدھ کے روز بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ کا رویہ ناقابل قبول ہے کیونکہ یہ 'فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور زمینوں سے جبری بے دخلی پر مبنی ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔
انھوں نے عرب منصوبے پر اسرائیلی وزارت خارجہ کے ردعمل کو ’انسانیت کے خلاف اور اخلاقیات کے خلاف‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کی طرف سے شروع کی جانے والی اس جنگ کا جزوی مقصد فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنا ہے۔‘
خیال رہے کہ 1948 میں اسرائیل کی ریاست کے قیام سے پہلے اور اس کے بعد ہونے والی جنگ کے دوران لاکھوں افراد فرار ہو گئے تھے یا اپنے گھروں سے بے دخل کر دیے گئے تھے۔
ان پناہ گزینوں میں سے بہت سے غزہ پہنچ گئے، جہاں وہ اور ان کی اولادیں آبادی کا تین چوتھائی ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق مغربی کنارے میں 9 لاکھ رجسٹرڈ مہاجرین رہائش پذیر ہیں جبکہ اردن، شام اور لبنان میں 34 لاکھ رجسٹرڈ مہاجرین مقیم ہیں۔
اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر 2023 کو سرحد پار سے ہونے والے ایک غیر معمولی حملے کے جواب میں حماس کو تباہ کرنے کی مہم شروع کی تھی، جس میں تقریبا 1200 افراد ہلاک اور 251 یرغمال بنائے گئے تھے۔
غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق اس وقت سے اب تک غزہ میں 48 ہزار 400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
غزہ کے زیادہ تر باشندے کئی بار بے گھر ہو چکے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق تقریبا 70 فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، صحت کی دیکھ بھال، پانی، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کے نظام تباہ ہو چکے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ خوراک، ایندھن، ادویات اور پناہ گاہوں کی بھی قلت ہے۔
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں میں غیر ملکی ہتھیاروں اور آلات کا استعمال واضح ثبوت ہے کہ افغانستان اب بھی ان عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔
فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق جنرل عاصم منیر نے بنوں کا دورہ کیا۔
خیال رہے کہ منگل کو بنوں میں ہونے والے حملے میں شہر میں موجود چھاؤنی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس حملے میں پانچ فوجیوں اور 13 شہریوں کی ہلاکت جبکہ 32 شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ بنوں میں ہونے والے گھناؤنے حملے کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی اتحاد ناگزیر ہے۔
انھوں نے سی ایم ایچ بنوں میں زخمی اہلکاروں کی عیادت کی اور ان کی مستقل مزاجی اور غیر متزلزل عزم کو سراہا، پاک فوج کے سربراہ نے زخمی اہلکاروں کے بلند حوصلے اور عزم کی تعریف کی۔
جنوبی کوریا میں ایک فوجی مشق میں حصہ لینے والے دو لڑاکا طیاروں نے حادثاتی طور پر آٹھ بم ایک آبادی پر گِرا دیے جس کے نتیجے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔
جنوبی کوریا کی جانب سے کی جانے والی اس معمول کی فوجی مشق کا مقصد شمالی کوریا کے کسی بھی ممکنہ حملے کے خلاف اپنے جنگی طیاروں کو برقرار رکھنا تھا۔
یہ واقعہ جنوبی کوریا کے شہر پوچیون میں پیش آیا جب دو ’کے ایف 16‘ طیاروں سے غلطی سے آٹھ بم آبادی کے قریب گر گئے۔
جنوبی کوریا کی فضائیہ نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس سے ہونے والے نقصان پر وہ معذرت خواہ ہیں۔ فضائیہ نے مزید کہا ہے کہ متاثرہ افراد کو معاوضہ ادا کیا جائے گا۔
جنوبی کوریا میں اگرچہ فوجی مشقوں کے دوران بم اور گولے بعض اوقات شہری علاقوں کے قریب گرتے رہتے ہیں لیکن ان سے شاذ و نادر ہی لوگ زخمی ہوتے ہیں۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دو افراد کی گردن اور کندھے میں فریکچر ہوا ہے۔
مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا تو ایک 60 سالہ بزرگ شہری اپنی گاڑی میں گزر رہا تھا اور طیاروں سے گرنے والے بموں سے نکلنے والا چھرا اس شہری کی گردن میں پیوست ہو گیا۔
اس زخمی شہری نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ’میں گاڑی چلا رہا تھا جب میں نے دھماکے کی آواز سُنی۔ اور جب مجھے ہوش آیا تو میں ایمبولینس میں تھا۔‘
جنوبی کوریا کی فضائیہ نے بی بی سی کو دیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمارے کے ایف 16 لڑاکا طیاروں نے غیر معمولی طور پر آٹھ گولے گرائے۔ یہ گولے فائرنگ کی مقررہ حد سے باہر کے علاقے میں جا گرے۔‘
فوج نے کہا کہ جیٹ طیاروں میں سے ایک کے پائلٹ نے غلطی سے طیارے کے سسٹم میں غلط کوآرڈینیٹ داخل کر دیے جس کی وجہ سے اس سے داغے گئے بم شہری آبادی پر جا گرے۔
فوج نے کہا کہ اس کیس کی تفتیش سے منسلک اہلکاروں نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ دوسرے جیٹ طیارے سے بم کیوں گرائے گئے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس واقعے کے بعد لائیو فائر کی تمام فوجی مشقیں معطل کر دی گئی ہیں۔
اس واقعے کے نتیجے میں آبادی میں موجود ایک چرچ کی عمارت اور چند مکانات کو بھی جزوی نقصان پہنچا ہے۔ مقامی میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر میں ایک عمارت کی ٹوٹی ہوئی کھڑکیاں اور چرچ کی چھت کو پہنچنے والا نقصان واضح ہے۔
ایک مقامی شخص نے بتایا کہ جب واقعہ پیش آیا تو وہ اپنے گھر میں ٹی وی دیکھ رہے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا جس نے ان کے گھر کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
اس گھر کے قریب واقع معمر افراد کے ایک کیئر سینٹر کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ ان کی عمارت کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ اس شخص زخمی ہوا جسے قریبی ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کیئر سینٹر میں موجود معمر افراد اتنے خوفزدہ ہوئے کہ انھیں ان کے گھروں میں واپس بھیجنا پڑا ہے۔
مقامی حکام کے مطابق چند نہ پھٹنے والے بموں کو بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکاروں نے ناکارہ بنا دیا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے فرانسیسی صدر میکخواں کے اس بیان کی مذمت کی ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں امن کے لیے معاہدے کے بعد وہاں یورپی یونین کے فوجی دستوں کو تعینات کیا جا سکتا ہے۔
دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ میکخواں نے جو کچھ کہا ہے اس سے یہ لگتا ہے کہ فرانس جنگ کو مزید جاری رکھنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
انھوں نے فرانسیسی صدر کے نام پیغام دیتے ہوئے کہا کہ نہایت ادب کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس میں سفارتی طور پر بہت سی غلطیاں ہیں۔
انھوں نے میکخواں کے خطاب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے شاید ہی کسی ایسے حکمران کے بیان کے طور پر دکھائی دے سکتا ہے جو کہ امن کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
دوسری جانب روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس نے ملک کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی افواج کی یوکرین میں موجودگی کا مطلب یورپی ملکوں کی جانب سے روس کے خلاف براہ راست جنگ ہو گا۔
انھوں نے کہا ہے کہ روس یورپی ممالک کی امن فوجوں کی روس میں موجودگی کو نیٹو کی فوجوں کی مانند ہی دیکھے گا۔
انھوں نے میکخواں کے تقریر کو روس کے خلاف دھمکی قرار دیا۔
خیال رہے کہ میکخواں نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا تھا کہ یورپ اب روسی لیڈروں کے الفاظ پر اعتبار نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں یورپی فوجوں کی تعیناتی امن معاہدے کے تحفظ کے لیے بطور گارنٹی ہو سکتی ہے۔
برطانوی وزیراعظم سٹارمر نے بھی کہا تھا کہ سیز فائر کے بعد وہ زمین پر فوجیں بھجوانے کے خواہاں ہیں۔
خیال رہے کہ امریکہ کی جانب سے یوکرین کے ساتھ انٹیلیجنس شیئرنگ کو روکے جانے کے بعد یورپی رہنماؤں کے بیانات سامنے آ رہے ہیں اور اسی صورتحال پر غور کرنے کے لیے یورپی رہنما آج برسلز میں ہنگامی اجلاس میں مل رہے ہیں۔
ا
فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں یوکرین کی صورتحال پر منعقدہ ایمرجنسی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ گئے ہیں۔
خیال رہے کہ میکخواں یوکرین میں قیام امن کے لیے اہم کردار ہیں اور وہ کیئف کی امداد اور انٹیلیجنس شیئرنگ کے لیے کوشیں کر رہے ہیں۔
برسلز میں یورپی رہنماؤں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
جرمنی کے ممکنہ طور پر اگلے چانسلر فریڈرک مرز بھی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ گئے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ فرانسیسی صدر کے ساتھ نیوز کانفرنس کریں گے۔
ایک مختصر پریس کانفرنس سے خطاب میں یورپی کمیشن کی صدر ارسولاوان ڈی نے کہا کہ یورپی رہنما آج ’یورپ کو پھر سے مسلح‘ کرنے اور یوکرین کے دفاع کے لیے مل رہے ہیں۔
صوبہ پنجاب کے صحرائی علاقے چولستان میں جھگیوں میں آگ لگنے کے باعث ایک خاتون اور چار بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔
پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ خاتون چائے بنا رہی تھی کہ چولہے سے آگ لگ گئی۔
’آگ گنےکی فصل کی باقیات سے بنائی گئی جھگیوں میں پھیل گئی۔‘
بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں بالترتیب ایک سال سے چار سال کے درمیان ہیں۔
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور واقعے کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔
سپریم کورٹ میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے آئینی بینچ کے جج جسٹس محمد علی مظہرنے کہا ہے کہ مارشل لا ماورائے آئین اقدام ہے اس کی آئین میں کوئی اجازت نہیں ہے۔
سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آئینی بینچ نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی جس دوران لاہور بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل حامد خان کے دلائل دیے۔
سماعت کے آغاز میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے تحریری معروضات عدالت میں پیش کی گئیں جن میں کہا گیا کہ شہریوں کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل نہیں ہونا چاہیے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی معروضات میں کہا گیا کہ آرمی ایکٹ کی شقوں کو مختلف عدالتی فیصلوں میں درست قرار دیا جا چکا ہے، آرمی ایکٹ کی شقوں کو غیر آئینی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ شہریوں کا ملٹری ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں؟
وکیل حامد خان نے جواب دیا آرمی ایکٹ مئی 1952 میں آیا، اس سے قبل پاکستان میں گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ تھا۔
اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ان ساری باتوں کا ملٹری ٹرائل سےکیا تعلق ہے؟ ملک میں کب مارشل لا لگا، اس کا ملٹری کورٹ کیس سے کیا لنک ہے؟ آئین میں مارشل لا کی کوئی اجازت نہیں۔
اس پر وکیل حامد خان نے کہا مارشل لا کا کوئی نہ کوئی طریقہ نکال لیا جاتا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے مارشل لا کا راستہ بند ہوا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آئین میں مارشل لا کا کوئی ذکر نہیں، مارشل لا ماورائے آئین اقدام ہوتا ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کے بیٹے گورگین مینگل سمیت گیارہ سو افراد پر درج مقدمے کو واپس نہ لینے کے خلاف پارٹی کارکنوں نے بلوچستان کی تین اہم شاہراہوں کو بند کیا ہے۔
ان شاہراہوں میں کوئٹہ کراچی، کوئٹہ تفتان اور کوئٹہ جیکب آباد شاہراہ شامل ہیں۔
دوسری جانب بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل گزشتہ کئی روز سے اپنے بیٹے گورگین مینگل سمیت لوگوں کی بڑی تعداد کی گرفتاری پیش کرنے کے لیے ضلع خضدار کے علاقے وڈھ کی پولیس سٹیشن میں موجود ہیں۔
وڈھ میں پولیس اور لیویز فورس کے تھانوں میں چند روز قبل چار ایف آئی آر درج کیے گئے تھے جن میں گورگین مینگل سمیت 11سو افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔
وڈھ کے تاجروں کی جانب سے ان کے خلاف کوئٹہ کراچی شاہراہ کو دو روز تک بند کرنے کے بعد وڈھ انتطامیہ نے ان سے مذاکرات کیا تھا اور تاجروں نے شاہراہ سے دھرنا ایف آئی آرز کو واپس لینے کی شرط پر ختم کیا تھا لیکن مقررہ وقت پر ایف آئی آر واپس نہ لینے پر سردار اختر مینگل دو سو سے زائد افراد کے ہمراہ پولیس تھانہ گئے تھے تاکہ گرفتاری عمل میں لائی جائے۔
لیکن محکمہ داخلہ کی جانب سے تین ایف آئی آرز کو واپس لیا گیا تھا جبکہ چوتھی ایف آئی آر کو 24 گھنٹے میں واپس لینے کی یقین دہانی پر یہ لوگ تھانے سے چلے گئے تھے۔ تاہم 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود ایف آئی آر واپس نہ ہونے پر سردار اختر مینگل گزشتہ سینیچر کی کو سہہ پہر تین بجے دوبارہ لوگوں کے ہمراہ گئے تھے اور اس وقت سے تاحال وہ تھانے میں ہیں۔
وڈھ پولیس کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے چوتھی ایف آئی آر کو واپس لینے کے محکمہ داخلہ درخواست بھیج دی گئی ہے۔
بڑی تعداد میں لوگوں کے خلاف درج ایف آئی آرز میں کیا ہے؟
وڈھ پولیس سٹیشن میں درج کیے جانے والے ایک ایف آئی ار کے مطابق پولیس پہلے سے ایک مقدمے میں مطلوب تین ملزمان کو گرفتار کرنے گئی جو کہ وڈھ کے تاجر رہنما میر مجیب الرحمان مینگل کی دکان پر موجود تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق گرفتاری کے بعد لوگوں کی ایک ہجوم نے نہ صرف ان افراد کو چھڑا لیا بلکہ پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ ان کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا۔
ایف آئی آر کے مندرجات کے مطابق ان لوگوں نے سردار اختر مینگل کے بیٹے میر گورگین کی ایما پر ایسا کیا۔
تاہم وڈھ کے تاجر رہنما مجیب الرحمان نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ پولیس جن تین لوگوں کو گرفتار کرنے آئی تھی وہ ملزم نہیں بلکہ بازار کی حفاظت کے لیے رکھے گئے پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز تھے۔
دوسری جانب سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ جب تاجروں کو تحفظ دینے میں ناکام ہوئے تو انھوں نے اپنی مدد آپ کے تحت چند ماہ قبل پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز رکھ دیے جس کے بعد بھتہ خوری اور وڈھ شہر کی دوکانوں میں چوری کا سلسلہ بند ہوگیا۔
ان کے بقول جن لوگوں کا بھتہ خوری بند ہوگیا تو ان کے دباو میں آکر پولیس نے وڈھ بازار میں مبینہ طور پر پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز کو گرفتار کرنے گئی جس کے خلاف لوگوں کی بڑی تعداد نکل آئی اور انھوں نے پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز کو گرفتار نہیں ہونے دیا۔
پاکستان میں دہشت گردی کے رجحان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس بات کے شواہد گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 کی رپورٹ سے مل رہے ہیں جس میں دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں پاکستان 163 ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ سال کے دوران دہشت گردی کے حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 45 فیصد اضافے کے ساتھ 1081 ہوگئی ہے اور وہ 2024 میں چوتھے نمبر سے نکل کر 2025 میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس (آئی ای پی) کی شائع کردہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 میں گزشتہ 17 برسوں کے دوران دہشت گردی کے اہم رجحانات اور نمونوں کا جامع خلاصہ فراہم کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں دہشت گردی کے اثرات کے لحاظ سے 163 ممالک کی درجہ بندی کی گئی ہے جن میں دہشت گردی کے واقعات، ہلاکتوں، زخمیوں اور یرغمالیوں کی تعداد شامل ہے۔
یہ مسلسل پانچواں سال ہے جس میں دہشت گردی سے متعلق اموات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور پاکستان کے لیے گزشتہ دہائی میں سال بہ سال سب سے بڑا اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 12 ویں سالانہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس (جی ٹی آئی) کے مطابق دہشت گرد حملے ریکارڈ کرنے والے ممالک کی تعداد 58 سے بڑھ کر 66 ہوگئی ہے۔
ایف آئی اے نے لیبیا کشتی حادثے میں ملوث اہم ملزم کو گوجرانوالہ سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور مزید تحقیقات کے لیے ملزم کو تھانہ ایف آئی اے گوجرانوالہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
ترجمان ایف آئی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتار ملزم کا نام وزارت داخلہ کی ریڈ بک میں شامل تھا اور وہ درجنوں مقدمات میں ایف آئی اے کو مطلوب تھا۔
ترجمان کے مطابق ملزم نے یورپ بھجوانے کے لیے ایک شہری سے 24 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔
یاد رہے کہ لیبیا سے اٹلی جاتے وقت غیرقانونی تارکین وطن کی تین کشتیوں کو دسمبر 2024 میں حادثہ پیش آ گیا تھا جس میں متعدد پاکستانی ہلاک ہوئے تھے اور ان میں زیادہ تر تعداد نوعمر لڑکوں کی تھی۔
یونان میں موجود سفارتخانے کے حکام کے مطابق 47 پاکستانی شہریوں کو ریسکیو کر لیا گیا تھا جبکہ فوری طور پر پانچ پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی۔
ایف آئی اے گوجرانوالہ کے ترجمان کے مطابق ملزم کا بھجوایا گیا شہری زندہ بچنے میں کامیاب ہوا تھا اور واپس پاکستان پہنچا تھا جہاں پہنچ کر متاثرہ شہری نے بھی ملزم کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عسکریت پسند تنظیم حماس کو ’آخری وارننگ‘ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا گیا توحماس کو اس کی بڑی قیمت چکانا پڑے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ٹروتھ سوشل کے ذریعے حماس کو براہ راست دھمکی دیتے ہوئے تمام یرغمالیوں کی فوری رہائی اور ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان جنگ بندی کے معاہدے کے تحت رہا ہونے والے یرغمالیوں کے گروہ سے ملاقات کے فوری بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے حماس کے خلاف نئی دھمکی جاری کی۔
اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں اسرائیل کو وہ سب کچھ مہیا کر رہا رہا ہوں جو اسے اپنا کام مکمل کرنے کے لیے درکار ہے، اگر میرے کہنے کے مطابق عمل نہ کیا گیا توحماس کا ایک بھی رکن محفوظ نہیں رہے گا۔
امریکی صدر نے تحریک کی قیادت کو ایک پیغام بھی بھیجا ہے جس میں ان سے غزہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ’جب تک کہ ان کے پاس موقع موجود ہے۔‘
غزہ کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’آپ کے سامنے ایک خوبصورت مستقبل ہے، لیکن ااس کے لیے آپ کو یرغمالیوں کو چھوڑنا ہو گا یا پھر بعد میں بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔‘
ایسا پہلی بار نہیں جب صدر ٹرمپ نے حماس کو دھمکایا ہو۔ اس سے قبل دسمبر میں اقتدار سنبھالنے سے قبل صدر ٹرمپ نے مغویوں کو چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یرغمالیوں کو نہ چھوڑا گیا تو وہ حماس کے لیے جہنم کا دروازہ کھول دیں گے۔
چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی پابندیوں کا جواب دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ چین ’کسی بھی قسم کی جنگ‘ کے لیے تیار ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے چین کی تمام مصنوعات پر مزید محصولات عائد کرنے بعد جواباً چین نے فوری طور پر امریکی زرعی مصنوعات پر 10 سے 15 فیصد ٹیرف کا نفاذ یوں ظاہر کر رہا ہے گویا دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ چھڑنے کے قریب ہے۔
چین کے سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سرکاری بیان میں لکھا ہے کہ ’اگر جنگ وہی ہے جو امریکہ چاہتا ہے، چاہے وہ محصولات یا تجارتی جنگ ہو یا کسی اور قسم کی جنگ، تو ہم آخر تک لڑنے کے لیے تیار ہیں۔‘
چین کی جانب سے ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے اب تک کا یہ سب سے سخت بیان کہا جا رہا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب بیجنگ میں نیشنل پیپلز کانگریس کا سالانہ اجلاس ہو رہا ہے۔
بدھ کے روز چین کے وزیراعظم لی ژیانگ نے اعلان کیا کہ چین اس سال بھی اپنے دفاعی اخراجات میں سات اعشارعہ دو فیصد اضافہ کرے گا۔
دفاعی اخراجات میں حالیہ اضافہ متوقع تھا اور گزشتہ سال کے اعلان کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہے تاہم چینی صدر نے اپنے خطاب میں خبردار کیا کہ ’دنیا میں ایسے تغیرات تیزی سے رونما ہو رہے ہیں جن کا ایک صدی میں کہیں ذکر نہ تھا۔‘
بیجنگ کے رہنما یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ ملک کی معیشت کے حوالے سے پُراعتماد ہیں، چاہے تجارتی جنگ کا خطرہ ہی کیوں نہ ہو۔
چین خود کو ایک مستحکم اور پُرامن ملک کے طور پر پیش کرنے کا خواہاں ہے جبکہ وہ امریکہ پر مشرق وسطیٰ اور یوکرین میں جنگوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتا ہے۔
چین یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا اور میکسیکو جیسے امریکی اتحادیوں پر عائد محصولات سے فائدہ اٹھائے لیکن وہ عالمی سطح پر اپنے نئے شراکت داروں کو خوفزدہ کرنے سے بھی گریزاں ہے۔
بدھ کے روز اپنی تقریر میں چینی وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ چین اپنی معیشت کو مزید پھیلائے گا اور مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش کرے گا۔
یاد رہے کہ چین ماضی میں بھی جنگ کے لیے تیاری کی بات کرتا رہا ہے۔
گزشتہ سال اکتوبر میں صدر شی جن پنگ نے اپنی فوج کو جنگ کی تیاری بڑھانے کا حکم دیا تھا جب انھوں نے تائیوان کے ارد گرد فوجی مشقیں کی تھیں۔
تاہم یہ بھی یاد رہے کہ فوجی تیاری اور جنگ کے لیے مکمل آمادگی میں فرق ہوتا ہے۔
واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کی پوسٹ میں وزارتِ خارجہ کے ایک بیان کا حوالہ دیا گیا تھا جس میں امریکہ پر چینی مصنوعات پر محصولات بڑھانے کے لیے فینٹینل (ایک ڈرگ) کے مسئلے کو جواز بنانے کا الزام لگایا گیا تھا۔
بیجنگ کے حکام کو امید تھی کہ ٹرمپ کے تحت امریکہ چین تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں خاص طور پر جب صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کو اپنی تقریبِ حلف برداری میں مدعو کیا تھا۔
صدرشی جن پنگ پہلے ہی کمزور صارفین کے اخراجات، پراپرٹی بحران اور بے روزگاری جیسے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔
چین نے اپنی کمزور معیشت میں بہتری کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کا منصوبہ نیشنل پیپلز کانگریس کے اجلاس میں پیش کیا گیا، جو کہ محض رسمی منظوری دینے والا ایک ادارہ ہے اور اس کے فیصلے پہلے ہی بند دروازوں کے پیچھے کیے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ چین دنیا کا دوسرا سب سے بڑا دفاعی بجٹ رکھتا ہے جو 245 ارب ڈالر ہے، لیکن یہ امریکہ کے بجٹ سے بہت کم ہے۔
بیجنگ اپنی جی ڈی پی کا 1.6فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے جو امریکہ اور روس کے مقابلے میں کم ہے۔
امریکی صدر نے چین، میکسیکو اور کینیڈا پر ٹیرف لگائے اور مزید ٹیرف لگانے کی تیاری کر رہے ہیں، جواب میں یہ ممالک اس اقدام کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی مصنوعات پر بھی ٹیرف عائد کر رہے ہیں۔
بی بی سی نے یہاں اپنے قارئین کی جانب سے پوچھے گئے کچھ سوالات کے جواب ڈھونڈے کی کوشش کی ہے۔
امریکی عوام کب عالمی سطح پر لگنے والے ٹیرف کے اثرات محسوس کریں گے، کیا یہ مثبت ہو گا یا منفی؟
نیویارک سے بی بی سی کی نامہ نگار نتالی شرمن نے اس کا جواب ڈھونڈے کی کوشش کی۔ وہ کہتی ہیں کہ امریکہ میں مختلف کاروباروں میں پہلے ہی سرحدوں پر ٹیکس لگنے کے بعد اشیا کی قیمتیں بڑھانے پر بات ہو رہی ہے۔
اس میں بڑے ریٹیلرز نشانہ بن رہے ہیں۔ مثال کے طور پر منگل کو ایوکاڈو کی قیمت بڑھنے کے بعد لگتا ہے ایک ہفتے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا۔
لیکن کچھ ایسے کاروبار ہیں جن میں قیمتوں کے بدلے جانے میں وقت لگے گا۔ جیسا کہ کچھ کھلونے کا کاروبار کرنے والوں نے مجھے بتایا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اس سال کے آخر تک انھیں قیمتیں بڑھانے کا موقع ملے گا۔
لیکن یہ ہچکچاہٹ کیوں ہے؟
اس کے جواب میں بزنس مالکان کا کہنا ہے کہ قیمتیں زیادہ کرنے سے گاہک کم ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر فاسٹ فوڈ سے وابستہ لوگ ممکنہ طور پر قیمتیں زیادہ کرنے کے بجائے ان بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ برداشت کرنے کی کوشش کریں گے۔
کیا برطانیہ کو یورپی یونین اور دیگر ممالک پر عائد ہونے والے ٹیرف کا فائدہ ہو سکتا ہے؟
بی بی سی نیوز کے بزنس ایڈیٹر سائمن کہتے ہیں کہ یہ بین الاقوامی تجارت کے بارے میں وزیر اعظم سٹارمر کی حکمت عملی کا مرکز یہی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم ایک انتہائی نازک توازن قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ جس میں برطانیہ سے درآمد کی جانے والی اشیا پر امریکی ٹیرف سے بچنا ہے اور یہ بھی کہ وہ امریکہ کے اتنے قریب نہ آئیں کہ اس سے یورپی یونین ناراض ہو۔
اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ کمپنیاں اور ممالک ممکنہ طور پر یہ سمجھتے ہوئے برطانیہ میں اپنی کچھ پیداوار کی بنیاد رکھیں کہ برطانیہ میں تیار کردہ اشیا کو امریکہ تک ٹیرف فری رسائی مل سکتی ہے۔
تو کیا کینیڈا یورپی یونین کا ممبر بن سکتا ہے؟
یورپ میں بی بی سی کے نامہ نگار نک بیک نے اس کا جواب دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں عام حالات میں کینیڈا کا یورپی یونین میں شامل ہونے کا کوئی امکان نہیں، مگر یہ عام وقت نہیں ہے، صدر ٹرمپ نے قواعد کو ختم کیا ہے۔
خیال رہے کہ یورپی یونین میں شمولیت کے لیے جغرافیائی طور پر بہت سخت قواعد ہوتے ہیں۔
آپ کو ایک ’یورپی‘ ملک ہونا چاہیے لیکن یورپی رہنما اب ہم خیال اتحادیوں کو بنیاد پرستانہ اقدامات کرنے کی ضرورت کے بارے میں سخت ترین زبان میں بات کر رہے ہیں۔
کینیڈا کے سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو حالیہ ہفتوں میں لندن سمٹ سمیت یورپ کے اہم رہنماؤں کے اجلاسوں میں نظر آئے ہیں۔
یورپی یونین کا رکن بننے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ متعلقہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہو، مستحکم جمہوری ادارے ہوں، انسانی حقوق کی پاسداری کی جاتی ہوں اور وہاں ایک فعال معیشت ہو۔
تاہم اہم بات یہ ہے کہ اگر کینیڈین چاہیں تو یورپی یونین کی رکنیت کے قوانین کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ہوگا۔
خیال رہے کہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یورپی یونین خود محصولات کی قطار میں ہے- لہذا اگر کینیڈا کل جادوئی طور پر اس میں شامل ہو جاتا ہے، تو بھی وہ ان سے بچ نہیں سکتا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے تجارتی ٹیکس کو بڑھائے جانے کے بعد چین نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی جنگ لڑنے کے لیے تیار ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے چین کی تمام مصنوعات پر مزید ٹیرف عائد کرنے کے بعد دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتیں اس وقت تجاری جنگ کے قریب پہنچ چکی ہیں۔
ٹرمپ کے اقدام کے بعد چین نے بھی جلد ردعمل دیتے ہوئے امریکہ کی فارم کی مصنوعات پر 10 سے 15 فیصد ٹیکس لگا دیا ہے۔
چینی سفارتخانے نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’اگر جنگ وہ ہے جو امریکہ چاہتا ہے، تجارتی جنگ یا کسی اور قسم کی جنگ، ہم آخر تک لڑنے کے لیے تیار ہیں۔
خیال رہے کہ چینی حکومت نے بھی گذشتہ روز یہی بیان دیا تھا اور آج سفارتخانے نے اسی موقف کو ایکس پر پوسٹ کیا ہے۔
ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے چین کی جانب سے اب تک سامنے آنے والا یہ سب سے سخت بیان ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سالانہ نیشنل پیپلز کانگریس کے لیے رہنما بیجنگ میں جمع ہوئے ہیں۔