آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام بنا کر 25 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا: آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 24 اور 25 اکتوبر کو شدت پسندوں کے دو بڑے گروپس نے ضلع کرم میں جنرل ایریا غاخی اور شمالی وزیرستان میں سپن وام میں افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش کر رہے تھے جنھیں سکیورٹی فورسز نے روکا۔

خلاصہ

  • سر کریک سے جیوانی تک، ہم اپنی خودمختاری اور سمندری حدود کا دفاع کرنا جانتے ہیں: سربراہ پاکستان بحریہ
  • وزیر اعلی خیبر پختونخوا کا وفاق سے 550 ارب روپے دینے اور این ایف سی اجلاس بلانے کا مطالبہ
  • شمالی وزیرستان میں خود کش حملہ ناکام، تین شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر
  • سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس کا دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے کا عندیہ
  • مذاکرات سے معاملات حل نہیں ہوتے تو افغانستان کے ساتھ ہماری کھلی جنگ ہے: وزیر دفاع خواجہ آصف

لائیو کوریج

  1. افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام بنا کر 25 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا: آئی ایس پی آر

    پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں چار خود کش حملہ آوروں سمیت 25 شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں سکیورٹی فورسز کے پانچ اہلکار بھی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 24 اور 25 اکتوبر کو شدت پسندوں کے دو بڑے گروپس نے ضلع کرم میں جنرل ایریا غاخی اور شمالی وزیرستان میں سپن وام میں افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش کر رہے تھے جنھیں سکیورٹی فورسز نے روکا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق شدت پسندوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد قبضے میں لیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دراندازی ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب استنبول میں پاکستان اور افغان وفود ترکی میں مذاکرات میں مصروف ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دراندازی کی یہ کوشش عبوری افغان حکومت کے ارادوں پر شکوک و شبہات پیدا کر رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عبوری افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ دوحہ معاہدے پر عمل کرے اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت دراندازی سے متعلق پاکستانی فوج اور حکومت کے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔

  2. وزیرِ اعظم شہباز شریف 27 سے 29 اکتوبر تک سعودی عرب کا دورہ کریں گے: دفترِ خارجہ

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر 27 اکتوبر سے 29 اکتوبر 2025 تک ریاض کا دورہ کریں گے۔

    دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، اس دورے پر وزیرِ اعظم کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ہو گا جس میں نائب وزیر اعظم سینیٹر اسحاق ڈار سمیت وفاقی کابینہ کے اہم وزرا شامل ہوں گے۔

    وزیرِ اعظم کی سربراہی میں جانے والا وفد نویں مستقبل سرمایہ کاری اقدام (ایف آئی آئی 9) کانفرنس میں شرکت کرے گا۔

    سعودی عرب میں اپنے قیام کے دوران وزیر اعظم سعودی قیادت سے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے مواقع پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    ایف آئی آئی 9 کے موقع پر وزیر اعظم کانفرنس میں شریک دیگر شریک ممالک کے رہنماؤں اور بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

  3. میں پاکستان اور افغانستان کا مسئلہ جلد حل کروا دوں گا: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع جلد حل کروا دیں گے۔

    ملائیشیا میں کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کے موقع پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’جیسے کہ آپ جانتے ہی ہیں کہ یہ ان آٹھ جنگوں میں سے ایک ہے جو میری انتظامیہ نے گذشتہ آٹھ ماہ میں ختم کروائی ہے، یہ اوسطاً ہر ماہ ایک جنگ بند کروانے کے برابر ہے۔ اب صرف ایک ہی باقی ہے۔‘

    ’میں نے سنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان نے [جنگ] شروع کر دی ہے لیکن میں بہت جلد یہ حل کروا دوں گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیرِ اعظم دونوں کو جانتے ہیں اور وہ بہت زبردست لوگ ہیں۔ ’مجھے کوئی شک نہیں کہ ہم بہت جل یہ کر پائیں گے جو کچھ روز پہلے شروع ہوا ہے۔‘

    واضح رہے کہ رواں مہینے پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئی تھیں اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا بھاری جانی و مالی نقصان کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

    ان جھڑپوں کا خاتمہ 19 اکتوبر کو دونوں ممالک کے درمیان قطر میں ہونے والے مذاکرات کے سبب ہوا تھا۔

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے بعد دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت مذاکرات کا دوسرا دور سنیچر کو ترکی کے شہر استنبول میں شروع ہوا ہے۔

    استنبول میں ہونے والے مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک میں جنگ بندی سمیت مسائل کے طویل مدتی حل پر بات چیت ہے۔

    پاکستان الزامات عائد کرتا آیا ہے کہ شدت پسند افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر حملے کرتے ہیں۔ افغانستان ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں جنگیں رکوانے کا کام ایک ایسا کام ہے جو وہ کر سکتے ہیں۔

    ’اگر میں کچھ وقت لگا کر لاکھوں لوگوں کی زنگیاں بچا سکتا ہوں تو مجھے نہیں لگتا کہ اس سے بہتر کچھ اور ہے کرنے کو۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان سے قبل کسی صدر نے کبھی کوئی جنگ حل نہیں کروائی، ’جنگیں شروع ضرور کرتے لیکن رکواتے نہیں۔ ایسا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہے۔‘

    اتوار کے روز صدر ٹرمپ کی موجودگی میں تھائی لینڈ کے وزیر اعظم انوتین چرنویراکول اور کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن مانیٹ نے ایک مشترکہ ’امن معاہدے‘ پر دستخط کیے۔

    آج کے معاہدے کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ کا کمبوڈیا کے ساتھ تجارتی معاہدے اور تھائی لینڈ کے ساتھ نایاب معدنیات کا معاہدہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی انتظامیہ ان تحارتی معاہدوں کو دوسرے ممالک پر سفارتی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتی رہے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب تک کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان امن قائم رہے گا، امریکہ ان کے ساتھ بہت ساری لین دین کرے گا۔

    اس سے قبل پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ رکوانے کا دعویٰ کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان لڑائی رکوانے کے تجارت کا استعمال کیا تھا۔

  4. تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان ’امن معاہدے‘ پر دستخط، امریکی صدر ملائیشیا پہنچ گئے

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کے لیے ملائیشیا کے شہر کوالالمپور پہنچ گئے ہیں۔

    ملائیشیا کے دورے سے قبل اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ’زبردست امن معاہدے‘ پر دستخط کے لیے ملائیشیا جا رہے ہیں جس کے متعلق انھیں فخر ہے کہ انھوں نے کروایا تھا۔

    اپنے دورہ ملائیشیا کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔

    امریکی صدر مختلف ایشیائی ممالک کے ایک ہفتے کے دورے پر ہیں۔ اس دوران وہ جاپان بھی جائیں گے جہاں ان کی جاپان کی نو منتخب وزیرِ اعظم سانائے تکائچی سے ملاقات ہو گی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ جنوبی کوریا میں ایشیا پیسیفک اکانومک فورم کے سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔

    تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان تنازع

    تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی تنازع ایک صدی سے بھی پرانا ہے ہے لیکن حالیہ کشیدگی رواں سال مئی میں اس وقت شروع ہوئی جب سرحد پر ہونے والی جھڑپوں میں ایک کمبوڈین فوجی مارا گیا تھا۔

    اس کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر سرحدی پابندیاں عائد کر دیں۔ کمبوڈیا نے تھائی لینڈ پھل اور سبزیوں کی درآمد کے علاوہ بجلی اور انٹرنیٹ سروسز حاصل کرنا بند کر دی تھیں۔

    اس کے علاوہ دونوں ممالک نے سرحد تعینات فوجیوں کی تعداد بھی بڑھا دی تھی۔

    26 جولائی کا ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’میں تھائی لینڈ کے نگران وزیر اعظم سے کہتا ہوں کہ جنگ بندی کریں اور جنگ کو ختم کریں۔‘

    دو دن بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک ہفتے جاری رہنے والی لڑائی کے بعد فوری اور غیر مشروط جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا۔

    ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر دونوں ممالک نے لڑائی نہیں روکی تو امریکی محصولات میں کمی پر جاری بات چیت ختم کر دی جائے گی۔ دونوں ممالک امریکہ کو برآمدات کرتے ہیں۔

    سات اگست کو تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے معاہدہ بھی ہوا۔

  5. غزہ میں جلد امن فوج بھیجی جائے گی: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ غزہ میں جلد امن فوج بھیجی جائے گی۔

    امریکی صدر دورہ ملائیشیا پر جا رہے تھے کہ ان کا طیارہ قطر کے دارالحکومت میں ایندھن بھرنے کے لیے رکا۔

    اس دوران، قطر کے امیر تمیم بن حمد الثانی نے امریکی صدر کے طیارے ایئر فورس ون پر ان سے ملاقات کی۔

    اس موقع پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جلد غزہ میں ایک بین الاقوامی امن فوج بھیجی جائے گی۔

    اس سے قبل گذشتہ روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ بہت سے ممالک نے غزہ میں بین الاقوامی امن فورس کا حصہ بننے کی پیشکش کی ہے۔

    دورہ اسرائیل کے دوران، مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امن فوج کی تشکیل کے لیے بات چیت جاری ہے اور جتنی جلدی ممکن ہو سکا اسے تعینات کر دیا جائے گا۔

    تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کہ حماس کے ساتھ سمجھوتے کے بغیر ایسی فورس کو کیسے تعینات کیا جائے گا۔

    غزہ میں امن و امان کو یقینی بنانے کے کی غرض سے کثیرالقومی امن فوج کی تعیناتی صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کا حصہ ہے۔

    غزہ امن منصوبے کے تحت امریکہ اپنے عرب اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر غزہ میں فوری طور پر تعیناتی کے لیے ایک عارضی انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) تیار کرے گا جو غزہ میں جانچ شدہ فلسطینی پولیس فورسز کو تربیت اور مدد فراہم کرے گا۔

    اس کے علاوہ یہ فورس طویل مدتی داخلی سلامتی کا حل ہو گی۔ آئی ایس ایف اسرائیل اور مصر کے ساتھ مل کر سرحدوں محفوظ بنانے میں مدد دے گی۔

  6. سر کریک سے جیوانی تک، ہم اپنی خودمختاری اور سمندری حدود کا دفاع کرنا جانتے ہیں: سربراہ پاکستان بحریہ

    پاکستان بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف کا کہنا ہے کہ سر کریک سے لے کر جیوانی تک، پاکستانی بحریہ اپنی خودمختاری اور سمندری سرحدوں کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنا جانتی ہے۔

    انھوں نے یہ بات سر کریک کے علاقے میں اگلے مورچوں کے دورے کے دوران کی جہاں انھوں نے آپریشنل اور جنگی تیاریوں کا جائزہ لیا۔

    ایڈمرل نوید اشرف کے دورے کے دوران تین جدید ترین 2400 ٹی ڈی ہوورکرافٹ بھی پاکستان بحریہ میں شامل کیے گئے۔

    پاکستان بحریہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، جدید 2400 ٹی ڈی ہوورکرافٹس کی شمولیت سے بحریہ کی ملٹی ڈومین آپریشنل صلاحیتیں میں اضافہ ہو گا۔

    پاکستان کے سرکاری میڈیا پی ٹی وی کے ایکس ہینڈل سے جاری ایک بیان کے مطابق، یہ ہوورکرافٹ بیک وقت اتھلے پانیوں، ریت کے ٹیلے اور دلدلی ساحلی علاقوں میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ زمین اور پانی میں بیک وقت آپریشن کرنے کی منفرد صلاحیت پاکستان بحریہ کو ان کے تفویض کردہ کاموں کی انجام دہی میں برتری فراہم کرتی ہے۔

    اس موقع پر افسران اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی بحریہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان ہوورکرافٹس کی شمولیت بحریہ کو جدید بنانے اور ملک کی بحری سرحدوں، ساحلی پٹی بالخصوص کریکس ایریا کے دفاع کو مضبوط بنانے کے غیر متزلزل عزم کی علامت ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سر کریک سے جیوانی تک، ہم اپنی خودمختاری اور سمندری سرحدوں کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔‘

    پاکستان بحریہ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انڈیا نے اپنی مغربی سرحدوں پر اپنی تینوں افواج کی مشترکہ مشقوں کا اعلان کیا ہے۔

    یہ مشقیں 30 اکتوبر سے 10 نومبر جاری رہیں گی۔ اس حوالے سے انڈین حکام نے ہوائی جہازوں کو مشقوں کے دوران راجستھان اور گجرات کے سرحد کے نزدیک پرواز نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

    دوسری جانب، پاکستان ایئر پورٹس اتھارٹی نے بھی سنیچر کے روز آنے والے ہفتے کے لیے کراچی اور لاہور کے فلائٹ ریجنز کے مخصوص روٹس میں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔

    ایئر پورٹس اتھارٹی کی جانب سے جاری نوٹم کے مطابق، اس پابندی کا اطلاق منگل (28 اکتوبر) کے روز صبح پانچ بجے سے بدھ (29 اکتوبر) کے روز صبح 9 بجے تک ہو گا۔

    نوٹم کے مطابق، ’آپریشنل وجوہات‘ کی بنا پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے اور یہ ایک معمول کی آپریشنل سکیورٹی کا معاملہ ہے۔

  7. شمالی وزیرستان میں خود کش حملہ ناکام بنا کر تین شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا: آئی ایس پی آر

    پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کے دوران تین شدت پسندوں کو ہلاک کر کے خود کش حملے کے لیے تیار کی جانے والی گاڑی کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں ہونے والی کارروائی میں خود کش حملے کے لیے تیار کی جانے والی گاڑی کو ناکارہ بنا دیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے مہارت کے ساتھ مذکورہ جگہ پر کارروائی کی اور اس دوران تین شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔

  8. وزیر اعلی خیبر پختونخوا کا وفاق سے 550 ارب روپے دینے اور این ایف سی اجلاس بلانے کا مطالبہ

    خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا کا ہوا، لہذا وفاقی حکومت اس کے ازالے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کو 550 ارب روپے ادا کرے۔

    سہیل آفریدی نے نیشنل فنانش کمیشن (این ایف سی) کا فوری اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    سنیچر کو ضلع خیبر میں ’امن جرگے‘ سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اتفاقِ رائے کے بغیر شروع کی گئی۔ خیبر پختونخوا میں لوگوں کو اپنے گھر بار، کاروبار چھوڑنا پڑے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں کئی فوجی آپریشن کیے گئے، ڈرون حملے یہاں معمول بن چکے تھے۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ سنہ 2018 سے سکیورٹی فورسز کی جانب سے یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ صوبے کو دہشت گردی سے پاک کر دیا گیا ہے۔ لیکن ایک بار پھر ایک اور فوجی آپریشن کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

    وزیر اعلی کا مزید کہنا تھا کہ پہلے بھی فوجی آپریشنز کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوتی رہی ہیں۔ لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہونے دیں گے اور اب ایک بھی جان جانے پر احتساب ہو گا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ امن کے حصول کے لیے خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، لیکن کسی بھی حالت میں عام شہریوں کا نقصان نہیں ہونے دیں گے۔

    جرگے میں پارٹی قائدین، قبائلی عمائدین اور مشران کے علاوہ شہریوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔

  9. سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس کا دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے کا عندیہ, لورا کونسبرگ، بی بی سی

    امریکہ کی سابق نائب صدر کملا ہیرس کا کہنا ہے کہ وہ دوبارہ صدارتی انتخاب لڑ سکتی ہیں۔

    بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کملا ہیرس کا کہنا تھا کہ وہ ایک دن ممکنہ طور پر صدر بنیں گی اور اُنھیں یقین ہے کہ مستقبل میں وائٹ ہاؤس میں ایک خاتون ہوں گی۔

    انٹرویو کے دوران کملا ہیرس کا کہنا تھا کہ اُن کی نواسیاں اپنی زندگی میں یقینی طور پر ایک خاتون صدر کو دیکھیں گی۔ کملا سے سوال ہوا کہ کیا وہ آپ ہوں گی؟ اس پر سابق نائب صدر کا کہنا تھا کہ ’جی ہاں کیونکہ میں دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے پر غور کر رہی ہوں۔‘

    کملا ہیرس کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے اس سے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، لیکن وہ اب بھی اپنا مستقبل سیاست میں دیکھتی ہیں۔

    کملا ہیرس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران اُن سے متعلق جو خدشات ظاہر کیے گئے تھے، وہ درست ثابت ہو رہے ہیں۔

    ڈیموکریٹک پارٹی ایک سال قبل ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ کی فیصلہ کن فتح کے بارے میں جوابات کی تلاش میں ہے، زیادہ تر الزام سابق صدر جو بائیڈن پر عائد کیا گیا ہے کہ وہ جلد دستبردار نہیں ہوئے جس کی وجہ سے پارٹی کو صدارتی الیکشن میں شکست ہوئی۔

    لیکن یہ سوالات بھی اُٹھائے جاتے رہے ہیں کہ اگر جو بائیڈن بہت پہلے صدارتی دوڑ سے دستبردار ہو بھی جاتے تو پھر بھی کیا ہیرس موثر انتخابی مہم اور معیشت سے متعلق اپنا ایجنڈا واضح کر سکتی تھیں یا نہیں۔

  10. ٹرمپ کا کم جانگ ان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار: ’ان کے پاس بہت سے جوہری ہتھیار ہیں‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ دورہ ایشیا کے دوران شمالی کوریا کے سربراہ کم جانگ ان سے ملاقات کرنا پسند کریں گے۔

    ٹرمپ نے اس خواہش کا اظہار دورہ ایشیا کے لیے روانگی سے قبل کیا اور یہ بھی کہا کہ ان کا کم جانگ ان کے ساتھ ’بہت اچھا تعلق ہے۔‘

    یاد رہے کہ ٹرمپ اپنے پہلے دور صدارت کے دوران سنہ 2019 میں شمالی کوریا گئے تھے، یہ وہ تاریخی اقدام تھا جس کی بدولت وہ امریکہ کے پہلے ایسے صدر بن گئے جنھوں نے شمالی کوریا کی سر زمین پر قدم رکھا۔

    جب ٹرمپ سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا وہ شمالی کوریا کو ایک جوہری ریاست کے طور پر تسلیم کر لیں گے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ’میرے خیال میں وہ ایک طرح سے جوہری طاقت ہی ہیں۔ ان کے پاس بہت سے جوہری ہتھیار موجود ہیں۔‘

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اپنے حالیہ دورہ ایشیا کے دوران ملائیشیا اور جاپان جا رہے ہیں جس کے دوران وہ چینی صدر شی جن پنگ سمیت کئی عالمی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

    اس دورے کے دوران ٹرمپ سب سے پہلے ملائیشیا جائیں گے اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی ایسوسی ایشن (آسیان) کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    امید کی جا رہی ہے کہ بدھ کے روز صدر ٹرمپ ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اپیک) کے اجلاس سے قبل جنوبی کوریا کے شہر بوسان جائیں گے۔ یہاں امریکی صدر جنوبی کوریا کے سربراہ لی جائی میونگ سے ملاقات کریں گے۔

  11. بریکنگ, مذاکرات سے معاملات حل نہیں ہوتے تو افغانستان کے ساتھ ہماری کھلی جنگ ہے: وزیر دفاع خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر مذاکرات سے معاملات حل نہیں ہوتے تو افغانستان کے ساتھ ہماری کھلی جنگ ہے۔

    سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ دوست ممالک قطر اور ترکیے بہت خلوص کے ساتھ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کروا رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ قطر میں مذاکرات کے بعد سے ابھی تک کوئی واقعہ نہیں ہوا۔

    ’ہماری ان (افغان طالبان) کے ساتھ جو گفت و شنید ہوئی، ان میں مجھے نظر آیا کہ وہ امن چاہتے ہیں لیکن کن شرائط پر امن چاہتے ہیں وہ آہستہ آہستہ کچھ وہاں (قطر) اور کچھ جو آج بات چیت ہو رہی ہے اس میں واضح ہو جائیں گی۔‘

    خواجہ آصف نے کہا کہ ان کی شرائط اگر ہمارے فائدے میں ہوئیں تو معاہدہ ضرور ہو گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے بعد اب دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے کے بعد مذاکرات کا دوسرا دور آج (سنیچر) کو ترکی کے شہر استنبول میں ہو رہا ہے۔

    وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ ’ہم نے افغانستان کے لوگوں کی 40 برس مہمان نوازی کی اور اس وقت بھی 40 لاکھ یا اس سے کچھ کم افغان یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اسی سر زمین سے اپنی روزی کمائی، ان کی تین چار نسلیں یہاں پر جوان ہوئیں۔ جن لوگوں سے ہم دوحہ میں بات کر رہے تھے، وہ سارے پاکستان میں ہی جوان ہوئے ہیں۔‘

    خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جس قوم نے آپ کی اتنی مہمان نوازی کی ہو، آپ اس کے خلاف دہشتگردی کو سپورٹ کریں۔ اس سے زیادہ دکھ کی بات کیا ہو سکتی ہے۔‘

  12. لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے خلاف تربت میں لیویز اہلکاروں کا احتجاج, محمد کاظم، بی بی سی اُردو کوئٹہ

    لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے خلاف لیویز اہلکاروں نے ہفتے کو تربت میں ریلی نکالی اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    گذشتہ روز پشین اور چمن میں اس سلسلے میں دو بڑی ریلیاں نکالی گئی تھیں جبکہ اس سے قبل قلات، قلعہ عبداللہ، ژوب، چاغی اور نوشکی میں فورس کے اہلکاروں نے اس طرح کا احتجاج کیا تھا۔

    لیویز فورس کے اہلکاروں اور بلوچستان کی اکثر سیاسی جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے فیصلے کو واپس لیا جائے۔

    بلوچستان کے چھ انتظامی ڈویژنز میں لیویز فورس کو پولیس میں دوبارہ ضم کیا گیا ہے۔

    قیام پاکستان سے قبل بلوچستان انتظامی لحاظ سے دو حصوں اے اور بی ایریاز میں تقسیم تھا۔

    اے ایریا شہری علاقوں پر مشتمل تھا جو کہ پولیس فورس کے زیرِ انتظام تھا جبکہ دیہی یا قبائلی علاقوں پر مشتمل بی ایریاز لیویز فورس (قبائلی پولیس ) کے زیرِ انتظام تھا۔

    قیامِ پاکستان کے بعد نہ صرف لیویز فورس کو برقرار رکھا گیا بلکہ اس کی نفری میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا گیا۔

    سابق صدر پرویز مشرف کے اقتدار سے قبل لیویز فورس کا زیرِ انتظام علاقہ رقبے کے لحاظ سے 90 فیصد سے زیادہ تھا۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے اعدادو شمار کے مطابق کم نفری اور کم وسائل کے باوجود پولیس کے علاقوں کے مقابلے میں لیویز فورس کے علاقوں میں جرائم کی شرح کم رہی ہے۔

    عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر مخالفت کے باوجود سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں 2002 کے عام انتخابات کے بعد لیویز فورس کو خطیر رقم خرچ کر کے پولیس میں ضم کردیا گیا۔

    تاہم جب 2008 کے عام انتخابات کے نتیجے میں نواب محمد اسلم رئیسانی کی قیادت میں مخلوط حکومت بنی تو لیویز فورس کو دوبارہ بحال کردیا گیا تھا۔ لیکن اب دوبارہ اسے پولیس میں ضم کرنے میں فیصلہ کیا گیا ہے۔

  13. پی آئی اے کا پانچ سال بعد برطانیہ کے لیے فلائٹ آپریشن بحال، پہلی پرواز اسلام آباد سے مانچسٹر روانہ

    پاکستان کی قومی فضائی ایئر لائن (پی آئی اے) نے برطانیہ کے لیے اپنا فضائی آپریشن دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

    سنیچر کو پی آئی اے کی پرواز پانچ سال کے وقفے کے بعد اسلام آباد سے مانچسٹر کے لیے روانہ ہوئی۔

    برطانیہ کے لیے پی آئی اے کی ہفتے میں دو پروازیں چلائی جائیں گی۔ فلائٹ آپریشن بحال ہونے کے پہلے مرحلے میں مانچسٹر کے لیے پروازیں شروع کی گئی ہیں جبکہ دوسرے مرحلے میں برمنگھم اور لندن کے لیے فلائٹ آپریشن شروع ہو گا۔

    اس موقع پر وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پانچ سال بعد برطانیہ کے لیے فلائٹ آپریشن شروع ہونا خوش آئند ہے اور پروازوں کی بحالی کے لیے بہت محنت کی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ پی آئی اے کو منافع بخش ادارہ بنائے جائے۔

    پاکستانی ائیر لائن کے مسافر طیارے کے حادثے کے بعد اُس وقت کے وزیرِ ہوا بازی کے متنازع بیان کے بعد یکم جولائی 2020 کو برطانیہ نے پاکستان کی ایئر لائن پر پابندی عائد کر دی تھی۔

    پاکستان کے اُس وقت کے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ پاکستانی پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں، جس کے بعد برطانیہ اور یورپی ممالک نے پی آئی اے پر پابندی لگا دی تھی۔

    یکم جولائی 2020 کو برطانیہ نے پی آئی اے پر پابندی عائد کردی تھی۔

    گذشتہ ماہ برطانوی حکام نے معائنے کے بعد پاکستان کے سکیورٹی کو اطمینان ظاہر کرتے ہوئے اسے بین الااقوامی معیار کے مطابق قرار دیا تھا۔

  14. سلامتی کونسل میں انڈیا کی طرف سے کشمیر کو ’اٹوٹ حصہ‘ قرار دینے پر پاکستان کا جواب: ’نئی دہلی حقیقت نہیں بدل سکتا‘

    اقوام متحدہ میں پاکستان اور انڈیا کے مندوب کے مابین تکرار اور سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

    سلامتی کونسل میں انڈیا کے مستقل مندوب نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر انڈیا کا اٹوٹ حصہ ہے اور وہاں کی عوام جمہوری روایات کے تحت ملنے والے بنیادی حقوق سے لطف و اندوز ہو رہے ہیں جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کیقراردادیںموجود ہیں اور یہ انڈیا کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔

    اقوام متحدہ کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر سلامتی کونسل میں بحث کے آغاز پر انڈیا کے مستقل مندوب پارواتھانینی ہریش نے کہا کہ ’ریاست جموں و کشمیر انڈیا کا ناقابل تقسیم اور اٹوٹ حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جموں و کشمیر کی عوام انڈیا کے آئین اور جمہوری روایات کے تحت ملنے والے بنیادی حقوق سے لطف و اندوز ہو رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں یہ سب پاکستان کے لیے نیا ہے۔‘

    انڈیا کے مستقل مندوب نے کہا کہ ’ہم پاکستان سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ غیر قانونی طور پر قبضہ کیے گئے علاقے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے۔‘

    انڈیا کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب حال ہی میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرے ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ افراد کھلے عام پاکستانی فوج کے قبضے، جارحیت، استحصال اور وسائل کے غیر قانونی استعمال کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے نے بھارتی مندوب کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر انڈیا کا اندرونی معاملہ نہ کبھی تھا، نہ کبھی ہے اور نہ ہو گا۔

    پاکستانی نمائندہ گل قیصر سروانی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی تمام دستاویزات میں کشمیر کو متنازع تسلیم کیا گیا ہے اور نئی دہلی کی کوئی بھی تحریف، انکار یا آڈر اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’انڈیا اپنی ریاستی دہشت گردی ختم کرے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے فرائض پورے کرے جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد بھی شامل ہے۔‘

    پاکستان کا کہنا ہے کہ انڈیا نے وعدہ کیا تھا کہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کروائی جائی گی لیکن وہاں نو لاکھ فوج تعینات کر دی گئی۔

    پاکستان کے نمائندے نے انڈیا کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’آزاد کشمیر پاکستان کے جمہوری طرزِ حکمرانی اور بنیادی آزادیوں کے عزم کو ظاہر کرتا ہے اور وہاں کے عوام اپنے رہنماؤں کو خود منتخب کرتے ہیں اور اپنے معاملات خود چلاتے ہیں ‘

    یاد رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ستمبر کے آخر میں مظاہرے ہوئے تھے جن کی کال تاجروں اور عام عوام پر مشتمل نمائندہ تنظیم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے دی تھی۔

    ایکشن کمیٹی کے 38 نکاتی مطالبات میں حکومتی اخراجات میں کمی، مفت صحت اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی، بین الااقوامی ہوائی اڈے کی تعمیر سمیت قانون ساز اسمبلی کی نشستوں کے طریقہ کار میں ترمیم شامل تھی۔

  15. پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول مذاکرات آج سے: ’دراندازی روکنے کے لیے طریقہ کار بنانے کی اُمید‘، پاکستانی دفتر خارجہ

    پاکستان اور افغانستان کے مابین دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے کے بعد مذاکرات کا دوسرا دور آج (سنیچر) ترکی کے شہر استنبول میں ہو رہا ہے۔

    افغان عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ترکی میں ہونے والے دوحہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں افغان وفد نائب وزیر داخلہ حاجی نجیب کی صدارت میں شرکت کر رہا ہے۔ انھوں نے بی بی سی پشتو کو بتایا کہ اس ملاقات میں ’باقی رہ جانے والے مسائل‘ پر بات چیت ہو گی۔

    طالبان حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات تین دن تک جاری رہ سکتے ہیں اور اس میں جنگ بندی، سکیورٹی میں تعاون، تجارت کے علاوہ سرحد پر شدت پسندوں کی دراندازی روکنے پر بات ہو گی۔

    اس ملاقات میں دونوں ممالک جنگ بندی میں توسیع، سکیورٹی میں تعاون، دو طرفہ تجارت اور افغان مہاجرین کی روانگی پر بات کریں گے۔

    استنبول میں ہونے والے مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک میں جنگ بندی سمیت مسائل کے طویل مدتی حل پر بات چیت ہو گی۔

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے اُمید ظاہر کی تھی کہ اس ملاقات میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تیز اور مصدقہ تصدیق کا طریقہ کار بنایا جائے گا۔

    جمعے کو ایک بریفنگ کے دوران پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ ’ہم دوحہ، قطر میں 19 اکتوبر کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں‘ اور اسے ’خطے میں امن اور استحکام کو یقینی بنانے کی طرف پہلا قدم سمجھتے ہیں۔‘

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان 25 اکتوبر کو استنبول میں ہونے والی بات چیت میں پاکستان کو امید ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مانیٹرنگ کا تیز اور مصدقہ میکینزم تشکیل دیا جائے۔

    سکیورٹی کی باعث تجارت تاحال معطل

    افغانستان اور پاکستان کے مابین امن معاہدے کے باوجود سرحدی آمدورفت اور تجارت تاحال بحال نہیں ہو سکی ہے۔ تجارتی بندش کے سبب سرحد کے دونوں جانب ٹرکوں کی لمبی قطاریں ہیں۔

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اس وقت بند ہے اور سکیورٹی صورتحال کے جائزے تک بند ہی رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانیوں کی جانیں کسی بھی تجارتی سامان سے زیادہ قیمتی ہیں۔

    پاکستان کی ٹیکس اتھارٹی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت سکیورٹی خدشات کے سبب بند ہے۔

    سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ایف بی آر نے کہا کہ تجارت بند ہونے سے قبل ایف بی آر طورخم، غلام خان، خرلاچی اور انگور اڈہ کراسنگ پر 363 ٹرک کلئیر کیے تھے۔

    باڈر بند ہونے کے سبب برآمدی اشیا سے لدے 255 ٹرک طورخم پر اور 200 ٹرک لنڈی کوتل روڈ پر کھڑے ہیں جبکہ چمن باڈر پر کھڑے ٹرکوں کی تعداد کم ہے۔

    ایف بی آر کا کہنا ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ یعنی افغانستان کی برامدی اشیا لے جانے والے ٹرک جو پاکستان سے گزر کر کراچی پورٹ تک آتے ہیں اُن کی تعداد 495 ہے۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ سرحد کھلتے ہی ان ٹرکوں کو کلیئر کر کے گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔

  16. دنیا کا سب سے بڑا جنگی جہاز بھیج کر امریکہ ’جنگ مسلط‘ کر رہا ہے: وینزویلا کے صدر

    لاطینی امریکہ کے ملک وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ دنیا کے سے بڑے جنگی جہاز کو بحیرہ کیربیئن کے جانب بھیج کر ’جنگ مسلط‘ کر رہا ہے۔

    امریکہ کے سیکریٹری دفاع پیٹر ہیگسھ نے امریکہ کے طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ (USS Gerald R Ford) جو بحیرہ روم میں تھا۔ اُسے وہاں سے نکلنے کا حکم دیا تھا۔ دنیا کے اس سب سے بڑی بحری بیڑے پر 90 لڑاکا طیارے آ سکتے ہیں۔

    صدر مادورو نے سرکاری میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ایک نئی ابدی جنگ مسلط‘ کر رہے ہیں۔ انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کبھی جنگوں میں شامل نہیں ہوں گے اور وہ جنگ مسلط کر رہے ہیں۔‘

    حالیہ کچھ عرصے کے دوران امریکہ نے کیربیئن کے علاقے میں جنگی جہاز، جوہری آبدوز اور ایف – 35 طیارے بھیج کر اپنی عسکری میں موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ منشیات کے خلاف جنگ کر رہا ہے۔

    اس سے قبل امریکہ نے ڈرگز ٹریفکنگ کے لیے استعمال ہونے والی کشتیوں پر بھی فضائی حملے کیے ہیں۔ جمعے کو ایسے ہی ایک حملے میں بقول امریکہ سیکریٹری دفاع کے ’چھ نارکو دہشت گرد‘ مارے گئے ہیں۔

    امریکہ کا کہنا ہے کہ کیربیئن سمندر میں یہ کارروائی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تنظیم سے وابستہ جہاز پر کی گئی۔

    امریکہ کی اس حملے کی دیگر علاقائی ممالک نے مذمت کی ہے اور ماہرین اس کی قانونی حیثیت پر سوال اُٹھا رہے ہیں۔

    امریکہ میں صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ منشیات کے سمگلروں کے خلاف جنگ کر رہے ہیں لیکن امریکی کانگریس کے اراکین سمیت کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی اس کارروائی کا مقصد وینزویلا کے صدر کی حکومت کو غیر مستحکم کرنا ہے۔

  17. پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ترکی میں: ’مقصد پاکستانی زندگیوں کے مزید ضیاع کو روکنا ہے‘

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور سنیچر کو ترکی کے شہر استنبول میں ہوگا۔

    پاکستان کے دفترِ خارجہ اور افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے استنبول میں ہونے والے مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔

    جمعے کو ایک بریفنگ کے دوران پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ ’ہم دوحہ، قطر میں 19 اکتوبر کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں‘ اور اسے ’خطے میں امن اور استحکام کو یقینی بنانے کی طرف پہلا قدم سمجھتے ہیں۔‘

    انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں ’تعمیری کردار‘ ادا کرنے پر ترکی اور قطر کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    انھوں نے تصدیق کی کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ترکی کے شہر استنبول میں ہوگا اور اس مذاکرات کا مقصد ’افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشتگردی اور پاکستانی زندگیوں کے مزید ضیاع کو روکنا ہے۔‘

    دوسری جانب افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ہونے والے مذاکرات کے لیے نائب وزیرِ داخلہ حاجی نجیب کے قیادت میں افغان وفد ترکی کے لیے روانہ ہوگیا ہے، جہاں پاکستان کے ساتھ ’باقی مسائل کے حوالے سے مذاکرات ہوں گے۔‘

    خیال رواں مہینے پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئی تھیں اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا بھاری جانی و مالی نقصان کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

    ان جھڑپوں کا خاتمہ 19 اکتوبر کو دونوں ممالک کے درمیان قطر میں ہونے والے مذاکرات کے سبب ہوا تھا۔ ان مذاکرات میں پاکستانی وفد کی سربراہی وزیرِ دفاع خواجہ آصف اور افغان وفد کی سربراہی افغان وزیرِ دفاع ملّا یعقوب کر رہے تھے۔

    پاکستان متعدد مرتبہ یہ الزامات عائد کرتا رہا ہے کہ شدت پسند افغانستان کی سرزمین کا استعمال کر کے ملک کے اندر حملے کرتے ہیں۔ افغانستان ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

  18. اسرائیلی وزیر اپنے بیان پر تنقید کی زد میں:’سعودی عرب کے لوگ صحرا میں اونٹوں کی سواری ہی کریں‘

    اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل سموترچ سعودی عرب کے حوالے سے اپنے ایک بیان کے سبب تنقید کی زد میں ہیں۔

    جمعرات کو زومیت انسٹٹیوٹ اور مکور ریشون اخبار کی جانب سے منعقد کروائی گئی ایک تقریب میں اسرائیلی وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ وہ سعودی عرب سے سفارتی تعلقات استوار کرنے پر اس وقت ہی رضامند ہوں گے جب ان کے مطالبات میں فلسطینی ریاست کا قیام شامل نہیں ہوگا۔

    اپنی گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ: ’اگر سعودی عرب ہمیں کہتا ہے کہ تعلقات اس وقت ہی استوار ہوں گے جب فلسطین ایک ریاست بنے گا، تو ہم ایسا نہیں چاہتے۔ سعودی عرب کے لوگ صحرا میں اونٹوں کی سواری ہی کریں۔‘

    بیزلیل سموتریچ کے بیان پر انھیں اسرائیلی سیاستدانوں کی طرف سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    اسرائیلی کے سابق وزیرِ اعظم يائير لپید نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ: ’سعودی عرب اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنے دوستوں کو میں کہوں گا کہ سموتریچ اسرائیل کی نمائندگی نہیں کرتے۔‘

    اسرائیلی وزیر عميحائی شيكلی نے بھی وزیرِ خزانہ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ: ’میں فلسطینی ریاست کے قیام کی سخت مخالفت کرتا ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ایک ممکنہ اتحادی کی تضحیک کریں۔‘

    اسرائیلی وزیرِ خزانہ کے بیان کو سعودی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صارف سعود بن سلمان الدوسری نے ’بچکانہ‘ قرار دیا ہے۔

    ’سموتریچ کے بچکانہ بیان کی کوئی حیثیت نہیں ہے، معنی یہ رکھتا ہے کہ کیسے اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ فوری طور پر بوکھلا گئی اور فوراً معذرت کرنے پر مجبور ہوئی۔‘

    تنقید کے بعد بیزلیل سموترچ نے سعودی عرب کے حوالے سے اپنے بیان پر معذرت کرلی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ: ’سعودی عرب سے متعلق میرا بیان نامناسب تھا اور میں اس سے ہونے والی تکلیف پر میں معذرت خواہ ہوں۔‘

    ’مجھے امید ہے کہ سعودی عرب ہمیں نقصان نہیں پہنچائے گا اور ہمارے ورثے، روایات اور یہودیہ اور سامرہ پر یہودی لوگوں کے تاریخی حقوق کو مسترد نہیں کرے گا۔‘

  19. پاکستان میں سونے کی قیمت میں تین دنوں میں فی تولہ 13 ہزار روپے سے زیادہ کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں جمعے کے روز سونے کی قیمت میں دو ہزار روپے فی تولہ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد سونے کی قیمت 431872 روپے فی تولہ پر آ گئی ہے۔

    دس گرام سونے کی قیمت میں بھی 1714 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 370252 روپے پر آگئی ہے۔

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں مسلسل تین روز سے کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور اس کی مجموعی قیمت 13 ہزار سے زیادہ گِر چکی ہے۔

    گزشتہ جمعے کو پاکستان میں سونے کی قیمت 456900 روپے فی تولہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔

    آل پاکستان صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان میں سونے کی قیمت میں کمی کی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی ہے جو 4095 ڈالر فی اونس تک گر گئی ہے، جو کہ گزشتہ ہفتے 4258 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔

  20. ہنگو میں فائرنگ کے تبادلے میں دو شدت پسند ہلاک: پولیس, بلال احمد، بی بی سی اردو پشاور

    ہنگو پولیس کا دعویٰ ہے کہ ضلع میں ایس پی آپریشنز اسد زبیر خان سمیت تین پولیس اہلکاروں کے بعد ایک آپریشن میں دو شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

    ہنگو پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا اور اس دوران ’فائرنگ کے شدید تبادلے کے بعد دو دہشتگرد‘ ہلاک ہوئے۔

    پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔

    خیال رہے جمعے کی شام میں خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں ایک بم دھماکے میں ایس پی آپریشنز سمیت تین پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

    ڈی آئی جی کوہاٹ عباس مجید مروت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’غلمینہ نامی چیک پوسٹ کو جس وقت نشانہ بنایا گیا اُس وقت وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔‘

    ’تاہم اس پوسٹ پر ہونے والے آئی ای ڈی حملے کے بعد جب ایس پی آپریشن اسد زبیر اپنی نفری کے ساتھ اس جانب روانہ ہوئے تو چیک پوسٹ سے کُچھ فاصلے پر ایک اور زیادہ طاقتور آئی ڈی کی مدد سے اُن کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے اُس کے ساتھ پولیس وین میں سوار اُن کے ڈرائیور اور گارڈ موقعے پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ایس پی آپریشن اسد زبیر کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے اور ہلاک ہو گئے۔‘