لائیو, ایران پر امریکی حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک: ہرمزگان میں شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا گیا، ایرانی حکام کا دعویٰ

منگل کی شب امریکی فوج کی جانب سے جنوبی ایران پر حملوں کے بعد ایرانی ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ صوبہ ہرمزگان کے پہاڑی گاؤں ’سیریک‘ میں ایک شادی کی تقریب پر ہونے والے امریکی حملے میں پانچ افراد ہلاک اور تقریباً 68 دیگر زخمی ہوئے ہیں جبکہ خوزستان میں سات افراد ہلاک اور آٹھ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔۔ دوسری جانب ایرانی فوج نے اردن اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

خلاصہ

  • ہرمزگان میں شادی کی تقریب پر امریکی فضائی حملے میں ایک بچے سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک، 68 زخمی: ایرانی ذرائع ابلاغ
  • جرمنی کا روس پر لیپزگ ہوائی اڈے پر ہونے والے ڈرون حملے میں ملوث ہونے کا الزام
  • ایرانی وزارتِ خارجہ کا امریکہ پر شادی کی تقریب پر حملے کا الزام: 'بمباری سے زیادہ خطرناک اس عمل کو معمول بنانا ہے'
  • ایرانی افواج کا اردن اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
  • اردن کا ایران کی جانب سے داغے گئے 10 میزائل روکنے کا دعویٰ
  • اگر ایران نے جوابی کارروائی کی تو 'سخت' جواب دیں گے: صدر ٹرمپ کا انتباہ

لائیو کوریج

  1. ایران کے صوبے خوزستان میں امریکی حملوں میں سات افراد ہلاک

    ایران کے صوبے خوزستان کے ایک مقامی عہدیدار کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات امریکی حملوں کے بعد صوبے میں تین مقامات پر سات افراد ہلاک اور آٹھ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

    سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق خوزستان کے نائب سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے امور کے عہدیدار ولی اللہ حیاتی نے بتایا کہ منگل کی رات امریکی فضائی حملوں میں اہواز اور آغاجاری شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔

    اسی نوعیت کے حملوں کی اطلاعات ساحلی صوبے ہرمزگان کے مختلف علاقوں سے بھی موصول ہوئی ہیں۔ حکام کے مطابق ضلع سیریک کے گاؤں دہستک میں شادی کی تقریب میں ہونے والے ایک حملے میں ایک بچے سمیت کم از کم پانچ شہری ہلاک جبکہ 60 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

  2. جرمنی کا روس پر لیپزگ ہوائی اڈے پر ہونے والے ڈرون حملے میں ملوث ہونے کا الزام

    Leipzig airport drone attack

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جرمنی کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ لیپزگ ہوائی اڈے پر ہونے والے ڈرون حملے کے پیچھے روس کا ہاتھ تھا۔

    چار اگست کو مشرقی جرمنی کے لیپزگ ایئرپورٹ پر یوکرینی مال بردار طیاروں کے قریب سے ایک ایسا ڈرون ملا تھا جس میں دھماکہ خیز مواد نصب تھا۔

    بظاہر ڈرون کا ڈیٹونیٹر خراب ہونے کی وجہ وہ پھٹ نہیں سکا تھا۔ تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ ایک دوسرا ڈرون قریبی علاقے میں ایک مال بردار طیارے سے ٹکرا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق تیسرا ڈرون 10 روز بعد ہوائی اڈے کے نزدیک سے برآمد ہوا۔

    جرمنی کے وزیرِ داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ کا کہنا ہے کہ لیپزگ ہوائی اڈے پر حملہ ’یورپ میں روسی ہائبرڈ کارروائیوں کے طریقہ کار‘ سے مطابقت رکھتا ہے، اور ان کا خیال ہے کہ جرمنی کو دوبارہ بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    ڈوبرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے لیے استعمال کیے گئے آلات کے معائنے اور انٹیلی جنس اداروں کی معلومات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس حملے میں روس ملوث تھا۔

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے منگل کو الزام عائد کیا کہ جرمنی نے لیپزگ ہوائی اڈے پر ڈرون حملے کی کوشش کا الزام ماسکو پر عائد کرنے کے لیے خود شواہد تیار کیے ہیں۔

    تاہم پوتن نے اس الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

    دوسری جانب برلن میں روسی سفارت خانے نے جرمنی کے الزام کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا ہے۔

  3. صدر ٹرمپ: آخر ایرانی عوام کب اٹھ کھڑے ہوں گے اور لڑیں گے؟

    Donald Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ وہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    اپنے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کی پرواہ نہیں اگر ایرانی کوئی ایسا معاہدہ کر بھی لیتے ہیں جسے وہ بے معنی سمجھتے ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ موجودہ صورتِ حال کو کہیں زیادہ ترجیح دیتے ہیں ’‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی صرف ایک ناگزیر انجام کو ٹالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’آخر ایرانی عوام کب اٹھ کھڑے ہوں گے اور لڑیں گے؟‘

  4. ایرانی وزارتِ خارجہ کا امریکہ پر شادی کی تقریب پر حملے کا الزام: ’بمباری سے زیادہ خطرناک اس عمل کو معمول بنانا ہے‘

    Esmail Baghaei

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    منگل کی شب جنوبی ایران پر امریکی فضائی حملوں اور سیریک کے گاؤں کوہستک میں شادی کی تقریب پر حملے کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کی اطلاعات پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’آج رات سیریک میں ایک رہائشی گھر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس حملے کے نتیجے میں 50 سے زائد بے گناہ خواتین، مرد اور بچے ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

    اسماعیل بقائی نے ایران اور امریکہ۔اسرائیل جنگ کے دوران پیش آنے والے سابقہ واقعات بشمول میناب کے ایک سکول اور لامرد سپورٹس کمپلیکس پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’بمباری سے زیادہ خطرناک چیز بمباری کو معمول بنانا ہے، اور خاموشی سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ اس خاموشی کو جواز کے طور پر تعبیر کیا جائے۔‘

  5. ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان میں شادی کی تقریب پر فضائی حملے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    ایران پر تازہ امریکی فضائی حملوں کے آغاز کے تقریباً ایک گھنٹے بعد ایرانی ذرائع ابلاغ نے خبر دی کہ اس حملے میں سیریک کے پہاڑی گاؤں کوہستک میں ایک شادی کی تقریب کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

    منگل کی شب ہونے والے حملوں کے متعلق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا ہدف جنوبی ایران میں پاسدارانِ انقلاب کی تنصیبات اور ہتھیاروں سے متعلق مقامات تھے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں ایک بچے سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے جبکہ کم از کم 68 افراد زخمی ہوئے۔

    • ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے سمیت متعدد ایرانی ذرائع ابلاغ نے حملے کی جگہ سے منسوب تصاویر شائع کی ہیں۔
    • اس حوالے سے ایک مقامی ذریعے نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ان کے خیال میں فضائی حملے کا اصل ہدف ایک ’ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور‘ تھا، جو اس مکان کے قریب واقع تھا جہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔
    • مقامی ذریعے کے مطابق اس وقت ’خون کے عطیات کی شدید ضرورت‘ ہے، جبکہ حملے سے متاثرہ علاقے کی جانب جانے والی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔
    • دوسری جانب سینٹکام کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز نے بی بی سی فارسی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ اس واقعے سے متعلق اطلاعات سے ’آگاہ‘ ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’امریکی افواج اپنے حملوں میں کبھی جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ نہیں بناتیں۔‘
  6. اردن کا ایران کی جانب سے داغے گئے 10 میزائل روکنے کا دعویٰ

    اردن کی فوج نے منگل کی شب ملک پر ہونے والے میزائل حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ’ایرانی سرزمین سے داغے گئے 13 میں سے 10 میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا،‘ جبکہ دیگر تین میزائل ’آبادی سے دور دور دراز علاقوں‘ میں گرے۔

    اس سے قبل پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں امریکی اڈوں پر میزائل حملوں کا دعویٰ کیا تھا اور ان حملوں اور اردن کی فضا میں میزائلوں کی پرواز سے منسوب تصاویر بھی جاری کی تھیں۔

    پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ’بیلسٹک میزائلوں نے اردن میں خلیجِ عقبہ کے ساحل پر واقع امریکی میرینز کی بیرکوں کو نشانہ بنایا، جسے کیمپ ٹائٹن کے نام سے جانا جاتا ہے۔‘

    ادھر کویتی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے فضائی دفاعی نظام فعال کر دیے ہیں اور شہریوں سے کہا ہے کہ وہ جاری کردہ سکیورٹی ہدایات پر عمل کریں۔

  7. ایرانی افواج کا اردن اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’فارس‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھے جانے والے خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی جوابی کارروائی میں میزائل اور ڈرونز داغے جا رہے ہیں۔

    کرمان کے نائب گورنر برائے سیاسی و سکیورٹی امور رحمان جلالی نے کہا کہ امریکی حملوں میں جیرفت ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    ایرانی ذرائع نے اردن میں واقع ’موفق السطلی‘ اڈے کو پاسدارانِ انقلاب کے نئے میزائل حملوں کا ہدف قرار دیا ہے اور اردن میں خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات بھی دی ہیں۔

    اس کے علاوہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ انھوں نے عراق کے شہر اربیل میں واقع امریکی فوجی اڈے کے ایک ایسے مقام پر حملہ کیا ہے جسے ان کے بقول ’مرمتی مرکز اور تکنیکی آلات کے گودام‘ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا، جبکہ یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہاں امریکی فوج کے ’جاسوس غباروں کی رہنمائی نظام‘ کا مرکز موجود تھا۔ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ان تنصیبات کو ’تباہ‘ کر دیا ہے۔

  8. اگر ایران نے جوابی کارروائی کی تو ’سخت‘ جواب دیں گے: صدر ٹرمپ کا انتباہ

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے جوابی کارروائی کی تو اس بار امریکہ کا ردِعمل ’سخت اور وسیع‘ ہو گا۔

    اس سے پہلے امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا تھا کہ امریکہ نے پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ منگل کی شب امریکہ نے ایران پر ’جائز‘ حملے کیے، جواب میں اگر ایران نے کارروائی کی تو امریکہ دوبارہ حملہ کرے گا۔

    اس سے پہلے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اُردن میں امریکی اڈوں پر پاسدارانِ انقلاب کے حملے کا ’سخت‘ جواب دیں گے۔ ایران نے اس حملے کو امریکی حملوں کا جواب قرار دیا۔

  9. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق امریکی طیاروں نے منگل کو پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔ سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور خطے میں تعینات امریکی فوج پر پاسدارانِ انقلاب کے حملوں کا ردِعمل ہیں۔

    ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ’اگر دشمن کی خواہش یہ ہے کہ ہم خلیجِ فارس سے تیل برآمد نہ کریں، تو پھر یہاں سے کوئی بھی تیل برآمد نہیں کر سکے گا۔‘

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کو ’کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کو ’سراہتے‘ ہوئے کہا ہے کہ ماسکو ’اس مشکل دور‘ میں تہران کی مدد کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق اقدامات کر رہا ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ پیر کی شب بلوچستان میں پیش آئے دو مختلف واقعات میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 21 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ ان واقعات میں سکیورٹی فورسز کے دو افسران سمیت پانچ اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

  10. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔