یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔20 جولائی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
پاکستان کے صوبے پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 20 سے 25 جولائی کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشوں اور آندھی کی پیشگوئی ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔20 جولائی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
فلسطینی خبر رساں ادارے (WAFA) کے مطابق سنیچر کی صبح سے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فائرنگ اور گولہ باری سے 43 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں انسانی امداد کے منتظر 32 افراد بھی شامل ہیں جو امداد کی تقسیم کے متنازع مراکز کے قریب ہلاک ہوئے۔
شہری دفاع کے ترجمان محمود بسال نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور کئی بچے شامل ہیں جو انسانی امداد کے منتظر تھے۔
ان کے مطابق اس دوران 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے اور جنوبی غزہ کی پٹی میں ’خان یونس اور یہ واقعہ رفح کے مغرب میں دو امدادی مراکز کے قریب‘ پیش آیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ جب سینکڑوں فلسطینی خان یونس کے قریب اسرائیلی اور امریکی حمایت یافتہ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے زیرِ انتظام امداد کی تقسیم کے مرکز کے ارد گرد جمع ہوئے تو اسرائیلی فوجیوں نے فائرنگ کر دی۔
خبر رساں ادارے کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے بارے میں تصدیق کر رہی ہے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور حماس کے مذاکرات کار چھ جولائی سے دوحہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کے تازہ ترین دور میں حصہ لے رہے ہیں، جہاں وہ 60 دن کی جنگ بندی کے لیے امریکی حمایت یافتہ تجویز پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی ریاست لاس اینجلس میں ہجوم پر گاڑی چڑھانے کے واقعے میں کم سے کم 28 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
لاس اینجلس کے فائر ڈپارٹمنٹ کے مطابق اس واقعے میں سات افراد شدید زخمی ہیں جبکہ چھ کی حالت نازک ہے۔
فائر ڈپارٹمنٹ کے مطابق یہ واقعہ رات دو بجے شمالی ورمونٹ ایوینیو میں ایک نائٹ کلب کے قریب پیش آیا جو سانٹا مونیکا شاہراہ کے قریب ہے اور یہ سڑک اپنی نائٹ لائف کے باعث جانی جاتی ہے۔
فائر ڈپارٹمنٹ کے کیپٹن ایڈم وینگیرپین کا کہنا ہے کہ ’ایک زخمی شخص کو گولی لگی ہوئی تھی اور عینی شاہدین نے گولیاں چلنے کی آوازیں سنی ہیں۔ تاہم پولیس ابھی اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔‘
کیپٹن وینگرپین کا مزید کہنا تھا کہ جس شخص کو گولی لگی ہے وہ ڈرائیور بھی ہو سکتا ہے لیکن ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم تاحال اس کی تصدیق نہیں کر سکے۔‘
جائے وقوعے سے سامنے آنے والی تصاویر میں ایک سرمئی رنگ کی گاڑی فٹ پاتھ پر مخدوش حالت میں دیکھی جا سکتی ہے جس کا کچھ ملبہ زمین پر پڑا ہوا ہے اور اردگرد متعدد پولیس اہلکار نظر آتے ہیں۔
تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ گاڑی ہجوم پر چڑھانے کی وجہ کیا تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شامی ایوان صدر کی جانب سے سنیچر کو ملک کے جنوب میں واقع دروز اکثریتی صوبے سویدا میں فوری جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔
ان ہلاکت خیز جھڑپوں میں 700 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ایوانِ صدر کی جانب سے جاری بیان میں تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی پر عمل کریں اور تمام علاقوں میں فوری طور پر تناؤ ختم کریں۔
شام کے عبوری صدر احمد الشراع نے ہفتے کے روز ایک تقریر میں کہا کہ ’شامی ریاست مشکل حالات کے باوجود حالات کو معمول پر لانے میں کامیاب رہی لیکن اسرائیلی مداخلت نے ملک کو ایک خطرناک صورتحال میں دھکیل دیا ہے جو دمشق کے جنوب اور سرکاری اداروں پر بمباری کے نتیجے میں اس کے استحکام کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔‘
احمد الشراع نے مزید کہا کہ ’کچھ علاقوں سے ریاست کے انخلا کے ساتھ سویدا کے مسلح گروہوں نے بدوؤں اور ان کے خاندانوں کے خلاف انتقامی حملے شروع کر دیے تھے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ساتھ ان انتقامی حملوں نے دوسرے قبائل کو سویدا کے اندر بدوؤں کا محاصرہ ختم کرنے کے لیے جوق در جوق آنے پر آمادہ کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس کے مطابق ضلع ہنگو میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کے دوران ڈی پی او ہنگو محمد خالد، ایس ایچ او نبی خان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک افسر زخمی ہو گئے ہیں جبکہ نو دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں۔
خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے آئی جی کے پی ذوالفقار حمید کے حوالے سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہنگو کے علاقے زرگری شناواری میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائی کی۔
’اس آپریشن کے دوران دہشت گردوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔‘
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بتایا ہے کہ ڈی پی او ہنگو محمد خالد کو تین گولیاں لگیں۔‘
آئی جی کے پی ذوالفقار حمید کے مطابق ’ڈی پی او خالد خان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے اور انھیں کوہاٹ منتقل کر دیا گیا ہے جہاں سی ایم ایچ میں وہ زیرِ اعلاج ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبے پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 20 سے 25 جولائی کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشوں اور آندھی کی پیشگوئی ہے۔
محکمے کے ترجمان کے مطابق راولپنڈی، مری گلیات، اٹک، چکوال، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، گجرات، جہلم اور گجرانوالہ میں بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، نارووال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، سرگودھا اور میانوالی میں بھی بارشیں متوقع ہیں۔ ایسی ہی پیش گوئی ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، بہاولنگر اور ملتان کے کے حوالے سے بھی کی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق صوبے بھر کی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کے مطابق ’مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں و ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔ دریائے سندھ میں تربیلا اور کالا باغ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’ دریائے سندھ میں چشمہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے سندھ میں چشمہ کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جبکہ چشمہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے جس کے پیشِ نظر انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔‘
21 جولائی سے دریائے راوی جہلم ستلج اور جناب کے بہاؤ میں اضافے کا پر ی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
ڈی جی عرفان علی کاٹھیاکے مطابق ’ ریاؤں کے بالائی علاقوں میں مون سون بارشوں کے باعث پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ ہے۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ موسمی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔‘
بیان کے مطابق رواں سال مون سون سیزن مختلف حادثات میں 123 شہری جانبحق 462 زخمی ہوئے اور 150 عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ اموات آسمانی بجلی گرنے کرنٹ لگنے نہاتے ہوئے ڈوبنے اور مخدوش و بوسیدہ مکانات گرنے کے باعث ہوئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق کسانوں کی فصلوں کے نقصانات کا بھی ازالہ کیا جائے گا۔ بارشوں و سیلاب سے متاثرہ فصلوں کے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شامی صدارت کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب میں بدو اور دروز جنگجوؤں کے درمیان مہلک فرقہ وارانہ جھڑپوں کو روکنے کے لیے ایک نئی فورس تعینات کی جائے گی۔
شام کے عبوری صدر احمد الشراع کے دفتر نے جمعے کو السویدا شہر کے قریب نئی جھڑپوں کی اطلاعات کے درمیان ’تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے‘ کی اپیل کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اتوار سے شروع ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں اب تک تقریباً 600 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ علاقے میں تعینات حکومتی فوجیوں پر مقامی باشندوں نے دروز شہریوں کو قتل کرنے اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کا الزام لگایا ہے۔
اسی دوران اسرائیل نے شام میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے تاکہ فوجی السویدا صوبے سے پیچھے ہٹ جائیں۔ جمعے کو ترکی میں امریکی سفیر نے کہا کہ اسرائیل اور شام نے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پیغام میں امریکی سفیر ٹام بیرک نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو اور الشراع نے ایک ایسی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے جسے شام کے ہمسایہ ممالک ترکی اور اردن کی حمایت حاصل ہے۔
مسٹر ٹام بیرک نے کہا کہ ’ہم دروز، بدو، اور سنی برادریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں اور دیگر اقلیتوں اور ہمسایوں کے ساتھ مل کر امن اور خوشحالی کے ساتھ ایک نئی اور متحد شامی شناخت تعمیر کریں۔‘
اسرائیل اور شام نے اس مبینہ جنگ بندی معاہدے پر تاحال کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا۔
الشارع کے دفتر کی جانب سے جنوب میں فوجی تعیناتی کے منصوبے کے اعلان سے کچھ دیر قبل، ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ اسرائیل نے شامی داخلی سکیورٹی فورسز کو 48 گھنٹوں کے لیے السویدا میں محدود داخلے کی اجازت دی ہے تاکہ ’موجودہ غیر مستحکم صورتحال‘ کے پیش نظر دروز شہریوں کی حفاظت کی جا سکے۔
السویدا کی اکثریتی دروز آبادی ایک خفیہ اور منفرد عقیدے کی پیروکار ہے جو شیعہ اسلام سے اخذ کیا گیا ہے، اور وہ دمشق میں موجود موجودہ حکومت پر اعتماد نہیں رکھتی ہے۔
شام کے دارالحکومت میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ اب دروز برادری کے خلاف فرقہ وارانہ نفرت پورے ملک میں پھیل رہی ہے۔
دروز فرقے والے شام میں اقلیت میں ہیں۔ وہ پڑوسی ممالک لبنان اور اسرائیل میں بھی اقلیتی برادری ہیں۔
اس ہفتے کے اوائل میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ فولکر ترک نے کہا کہ ان کے دفتر کو قابلِ اعتماد اطلاعات موصول ہوئی ہیں جو وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور زیادتیوں، بشمول فوری سزاؤں اور من مانی قتل و غارت، کی نشاندہی کرتی ہیں۔
فولکر ترک کے مطابق ان خلاف ورزیوں میں مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کے ارکان، عبوری حکومت سے منسلک افراد، اور مقامی دروز و بدو جنگجو شامل ہیں۔
انھوں نے خبردار کیا: ’یہ خونریزی اور تشدد بند ہونا چاہیے۔‘ اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔‘
بی بی سی نے ماورائے عدالت ہلاکتوں اور دیگر خلاف ورزیوں کے الزامات پر شامی حکومت اور سکیورٹی فورسز سے رابطہ کیا ہے۔
جمعرات کی صبح ایک نشریاتی خطاب میں صدر الشراع نے وعدہ کیا کہ ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور دروز برادری کا تحفظ ’ترجیحات‘ میں شامل ہوگا۔
انھوں نے کہا: ’ہم ان لوگوں کا احتساب کرنے کے لیے پُرعزم ہیں جنھوں نے ہمارے دروز بھائیوں کے ساتھ زیادتی کی، کیونکہ وہ ریاست کی حفاظت اور ذمہ داری میں ہیں۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان جھڑپوں کے پیچھے ’باغی گروہ‘ ہیں، اور کہا کہ ان کے رہنماؤں نے ’کئی مہینوں سے بات چیت کو مسترد کیا ہوا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں حکام کے مطابق مشرقی لاس اینجلس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک تربیتی مرکز میں دھماکے کے نتیجے میں تین افسران ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہ دھماکہ جمعے کو مقامی وقت کے مطابق صبح 7:30 بجے بسکالوز سینٹر اکیڈمی ٹریننگ میں ہوا جہاں شیرف کے خصوصی انفورسمنٹ بیورو اور بم سکواڈ سمیت آتش گیر مواد سے متعلق شعبہ موجود ہے۔
دھماکے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہ ہو سکی ہے۔ تاہم لاس اینجلس کاؤنٹی شیرف رابرٹ لونا نے اسے ایک ’آئیسولیٹڈ واقعہ‘ قرار دیا ہے۔ اس واقعے میں مزید کوئی زخمی نہیں ہوا۔
شیرف کے مطابق دھماکے میں مرنے والے تینوں افسران ’ماہر اور تجربہ کار‘ تھے، جنھوں نے محکمے میں 19 سے 33 سال تک خدمات انجام دی تھیں۔
حکام نے ہلاک ہونے والے افسران کے نام ظاہر نہیں کیے، کیونکہ ان کے اہلِ خانہ کو پہلے اطلاع دینا ضروری ہے۔ تینوں افسران شیرف کے آتش گیر مواد سے متعلق شعبے میں تعینات تھے۔
شیرف لونا کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ محکمہ کے سنہ 1857 میں قیام سے لے کر اب تک کسی ایک واقعے میں سب سے بڑا جانی نقصان ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ابتدا سے تحقیق کرنی ہوگی کہ کیا ہوا تھا۔‘
فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) اور الکوحل، تمباکو، آتشیں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کے بیورو تفتیش میں مدد کر رہے ہیں۔
امریکی اٹارنی جنرل پم بانڈی نے اس واقعے کو ’ہولناک‘ قرار دیا اور کہا کہ وفاقی ایجنٹس جائے وقوعہ پر پہنچ چکے ہیں اور مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ تربیتی مرکز کے خصوصی انفورسمنٹ بیورو کی پارکنگ میں ہوا۔
بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس کے مطابق، جمعرات کو لاس اینجلس کاؤنٹی شیرف ڈیپارٹمنٹ کے بم سکواڈ کو سانتا مونیکا کے ایک گیراج میں بلایا گیا، جہاں کم از کم ایک دستی بم ملا۔
سی بی ایس نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ دستی بم جمعے کے روز تربیتی مرکز لایا گیا، جہاں افسران اسے ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ پھٹ گیا۔
مرکز کے آس پاس کا علاقہ خالی کرا لیا گیا ہے اور اب سیل کر دیا گیا ہے تاکہ تفتیش کار اپنا کام جاری رکھ سکیں۔
لاس اینجلس کاؤنٹی بورڈ آف سپروائزرز کی سربراہ کیتھرین بارجر نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ’صورتحال پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں اور متاثرہ افراد کی حالت کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میرا دل افسردہ ہے اور میرے خیالات اس مشکل وقت میں شیرف ڈیپارٹمنٹ کے بہادر مردوں و خواتین کے ساتھ ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ نے مالی سال 2025 میں، جو جون میں ختم ہوا، 14 سال بعد پہلی بار سرپلس ریکارڈ کیا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں کرنٹ اکاؤنٹ کا سرپلس 2.1 ارب ڈالر یا جی ڈی پی کا 0.5 فیصد رہا، جبکہ پچھلے سال یہ 2.1 ارب ڈالر خسارے (جی ڈی پی کا 0.6 فیصد) میں تھا۔
کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافے اور خدمات کے خسارے میں کمی کے باعث ممکن ہوا، صرف جون کے مہینے میں 328 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا، جو مئی میں 84 ملین ڈالر خسارے اور جون 2024 میں 500 ملین ڈالر خسارے کے برعکس ہے۔
ٹاپ لائن سکیورٹیز نے کرنٹ اکاؤنٹ پر اپنے تبصرے میں کہا مالی سال 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ کا سرپلس گذشتہ پانچ سال کے اوسط 6 ارب ڈالر (جی ڈی پی کا 1.8 فیصد) خسارے کے مقابلے میں ایک نمایاں بہتری ہے۔
اس سرپلس کی بنیادی وجوہات میں ترسیلات زر میں 27 فیصد اضافہ اور خدمات کے خسارے میں 16 فیصد کمی شامل ہے۔ تاہم، مصنوعات کا خسارہ سالانہ بنیاد پر 21 فیصد بڑھ کر 27 ارب ڈالر ہو گیا، جبکہ خدمات کا خسارہ 16 فیصد کم ہو کر 2.6 ارب ڈالر رہا۔
بروکریج ہاؤس نے مزید بتایا کہ مالی سال 2025 میں ترسیلات زر 38.3 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں۔
اس کی وجہ مالیاتی اداروں کو رسمی ذرائع سے ترسیلات لانے پر زیادہ مراعات دینا، افرادی قوت کی برآمدات میں اضافہ، اور سرکاری و غیر سرکاری مارکیٹوں کے مابین شرح مبادلہ کے فرق میں کمی تھی، جس نے ترسیلات کو رسمی چینلز کے ذریعے بھیجنے کی حوصلہ افزائی کی۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
بلوچستان کے ضلع مستونگ کے دو مختلف علاقوں میں نامعلوم مسلح افراد کے حملوں میں ایک قائم مقام ڈی ایس پی سمیت دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔
ہلاک ہونے والے اہلکاروں کا تعلق بلوچستان کانسٹیبلری سے تھا۔
مستونگ پولیس کے ڈی ایس پی محمد یونس مگسی نے بتایا بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکار ایک گاڑی میں قلات سے کوئٹہ جا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی گاڑی پر چُھوتُو کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا۔
انھوں نے بتایا کہ حملے میں بلوچستان کانسٹیبلری کے قائم مقام ڈی ایس پی عبدالرزاق سمیت دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔
انھوں نے کہا کہ زخمی اہلکاروں کو مستونگ میں طبی امداد کی فراہمی کے بعد علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکاروں پر حملے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
انھوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات امن دشمنوں کی مایوسی کا مظہر ہیں۔ بلوچستان کے عوام اور سکیورٹی فورسز کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔
ان کا کہنا ہے کہ حملے کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
مستونگ میں کردگاپ کے علاقے سربند میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے لیویز فورس کی ایک پوسٹ پر حملہ کیا ہے۔ لیویز فورس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں فورس کے تین اہلکار زخمی ہوگئے ہیں جن کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہNadia Baloch
کوئٹہ کی ایک عدالت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت چھ رہنماؤں کے ریمانڈ میں مزید 15 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔ ان میں ماہ رنگ بلوچ کے علاوہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے چار رہنما بھی شامل ہیں۔
گذشتہ دس روزہ ریمانڈ پورا ہونے پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بی وائی سی کے دیگر رہنماؤں صبغت اللہ شاہ جی، بیبرگ بلوچ، بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ کے علاوہ نیشنل پارٹی کے رہنما غفار بلوچ کو جمعے کے روز سخت سکیورٹی میں انسداد دہشت گردی کوئٹہ کے جج محمد علی مبین کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
غفار بلوچ بیبو بلوچ کے والد بھی ہیں۔ ان پر دو تھانوں میں کل تین ایف آئی آرز درج ہیں۔ ان میں سے ایک ایف آئی آرسول لائنز پولیس سٹیشن اور دو بروری روڈ پولیس سٹیشن میں درج ہیں۔
پولیس کی جانب سے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ گرفتار افراد مزید تفتیش کے لیے مطلوب ہیں اس لیے ان کی ریمانڈ میں توسیع کی جائے۔
پولیس کی درخواست پر عدالت کے جج نے انہی دو تھانوں میں درج مقدمات میں ڈاکٹر ماہ رنگ سمیت تمام افراد کی ریمانڈ میں مزید 15 یوم کی توسیع کی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ کے وکیل اسرار جتک ایڈووکیٹ نے مزید پندرہ روزہ ریمانڈ کو بلا جواز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت ایکٹ میں 14 یوم کی بجائے زیادہ ریمانڈ کی گنجائش ہے لیکن اس کے لیے پولیس جواز اور اس پر پیشرفت سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب گذشتہ دس روز ریمانڈ میں پولیس کوئی پیشرفت نہ دکھا سکی تو مزید پندرہ یوم میں وہ کیا کرسکے گی کیونکہ ان کے مؤکلین کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرنے سے پہلے ڈاکٹر ماہ رنگ سمیت دیگر افراد کو تین ماہ سے زائد کے عرصے تک 3 ایم پی او کے تحت زیر حراست رکھا گیا تھا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے کہا کہ حکومت اور پولیس مبینہ طور پر اسیران کے حوالے سے تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ بی وائی سی کے رہنمائوں کی ریمانڈ میں مزید توسیع کرائی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مارچ میں حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد سے لے کر اب تک اسرائیل نے غزہ میں ہزاروں عمارتوں کو مسمار کیا ہے۔ زمین بوس کی گئی ان عمارتوں میں غزہ میں جنگ کے آغاز سے قبل ہزاروں فلسطینی رہائش پذیر تھے۔
تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے پتا چلا ہے کہ جن علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی نظر آ رہی ہے یہ وہ علاقے ہیں جن کے بارے میں اسرائیل کی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ اسرائیل کے ’آپریشنل کنٹرول‘ میں ہیں۔
زمین بوس کی گئی عمارتوں میں وہ عمارتیں بھی شامل ہیں جو پہلے ہی اسرائیلی بمباری کے باعث تباہ شدہ تھیں۔ ان عمارتوں کو ’کنٹرولڈ ڈیمولیشن‘ کے ذریعے زمین بوس کیا گیا ہے۔
تصدیق شدہ فوٹیج میں بڑے دھماکوں کو دکھایا گیا ہے جبکہ اسرائیلی فورسز ٹاور بلاکس، سکولوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی کنٹرولڈ طریقے سے مسماری کر رہی ہیں۔
متعدد قانونی ماہرین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اسرائیل نے ممکنہ طور پر جنیوا کنونشن کے تحت جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے، کیونکہ عالمی قوانین کے تحت قابض ملک پر طاقت کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر پابندی عائد ہے۔
اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس نے بین الاقوامی قانون کے مطابق کام کیا ہے کیونکہ حماس نے شہری علاقوں میں ’عسکری اثاثے‘ چھپائے ہوئے ہیں اور یہ کہ 'املاک کی تباہی صرف اس وقت کی جاتی ہے جب ایک لازمی فوجی ضرورت ہو۔‘
جولائی میں اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے رفح کے کھنڈرات پر ایک ’انسانی ہمدردی کا شہر‘ قائم کرنے کے منصوبے کا خاکہ پیش کیا جس میں ابتدائی طور پر 600,000 فلسطینیوں کو رکھا جائے گا۔
اس منصوبے کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے۔ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس تجویز کو ’حراستی کیمپ کے مترادف سمجھا جائے گا۔‘
تل السلطان رفح شہر کے سب سے زندہ جاوید محلوں میں سے ایک تھا۔ اس کی گنجان گلیوں میں رفح کا واحد خصوصی زچگی ہسپتال اور یتیم اور لاوارث بچوں کی دیکھ بھال کرنے والا مرکز تھا۔
پہلے ہی گولے باری اور دھماکوں میں یہ علاقہ تباہ ہو چکا ہے۔ یہ ہسپتال ان مٹھی بھر عمارتوں میں سے ایک ہے جو کھڑی رہ گئی ہیں۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان جاری ہے اور جمعہ کی صبح کاروبار کے آغاز پر 1400 پوائنٹس کے اضافے کے بعد انڈیکس 140122 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا ہے۔
یاد رہے کہ سٹاک ایکسچینج کے انڈیکس نے پہلی بار 14 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کی ہے۔ جمعرات کو بھی انڈیکس میں تیزی دیکھی گئی تھی اور مجموعی طور پر اس میں دو ہزار پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ہوا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق معاشی استحکام اور آنے والے دنوں میں شرحِ سود میں مزید کمی کے امکان کی وجہ سے سٹاک ایکسچینج میں تیزی دیکھی جا رہی ہے
تجزیہ کار محمد سہیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ملکی معیشت میں مستحکم ہوتے اشاریوں کی وجہ سے مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ انھوں نے کہا ملک میں شرحِ سود میں مزید کمی کا امکان ہے جس کی وجہ سے پیسہ بینکوں سے نکل کر سٹاک ایکسچینج میں حصص کی خریداری میں لگ رہا ہے جو تیزی کو فروغ دے رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTI via MoD
انڈیا کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی جوہری صلاحیت کے حامل اور کم فاصلے تک مار کرنے والی بیلسٹک میزائلوں پرتھوی-ٹو اور اگنی-ون کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
انڈین حکومت کے مطابق یہ تجربہ جمعرات کی رات ریاست اوڈیشہ (اڑیسہ) کے علاقے چندی پور میں واقع انٹیگریٹڈ ٹیسٹ رینج (آئی ٹی آر) سے کیا گیا ہے۔
انڈین وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ کامیاب تجربہ ’سٹریٹجک فورسز کمانڈ‘ کی نگرانی میں کیے گئے ہیں اور اِن میں تمام عملی اور تکنیکی پہلوؤں کی تصدیق کی گئی۔
وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق: ’کم فاصلے تک مار کرنے والی بیلسٹک میزائلوں، پرتھوی-ٹو اور اگنی-ون، کو 17 جولائی کو اڑیسہ کے شہر چندی پور میں انٹیگریٹڈ ٹیسٹ رینج سے کامیابی کے ساتھ لانچ کیا گیا۔ ان لانچز میں تمام عملی اور تکنیکی پہلوؤں کی کامیابی سے تصدیق کی گئی ہے۔‘
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس کامیابی پر انڈین فوج، ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) اور وزارت دفاع کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ’یہ ایک قابلِ ذکر کامیابی ہے۔‘
یاد رہے کہ دو روز قبل یعنی بدھ کے روز انڈیا نے لداخ میں آکاش پرائم میزائل کا بھی ’کامیاب تجربہ‘ کیا تھا۔ وزارت دفاع کے مطابق انڈین فوج کے لیے تیار کیا گیا یہ جدید فضائی دفاعی میزائل نظام 4,500 میٹر سے بلند علاقوں میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’انڈیا نے 16 جولائی کو لداخ میں آکاش پرائم میزائل کے ذریعے دو تیز رفتار بغیر پائلٹ والے فضائی اہداف کو ہائی آلٹیچیوڈ (بلندی) پر کامیابی سے تباہ کرکے ایک اہم سنگِ میل عبور کیا۔ یہ آکاش ہتھیار اس نظام کا جدید ورژن ہے جو انڈین فوج کے لیے تیار کیا گیا ہے۔‘
ان میزائلوں کے کامیاب تجربے انڈیا اور پاکستان کے درمیان 7 سے 10 مئی تک جاری رہنے والی عسکری کشیدگی کے دو ماہ بعد سامنے آئے ہیں۔
پرتھوی-ٹو میزائل کی رینج تقریباً 350 کلومیٹر ہے اور یہ 500 کلوگرام تک ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل روایتی اور جوہری دونوں طرح کے وار ہیڈز لے جانے کے قابل ہے۔
اگنی-ون میزائل کی رینج 700 سے 900 کلومیٹر تک ہے اور یہ 1,000 کلوگرام تک کا وار ہیڈ لے جا سکتا ہے۔ یہ دونوں میزائلیں انڈیا کی جوہری دفاعی صلاحیت کا اہم حصہ ہیں۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور مارکیٹ انڈیکس میں 2285 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انڈیکس نے 138000 پوائنٹس کی سطح پہلی بار عبور کی۔
مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 138665 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں گذشتہ روز بھی تیزی دیکھی گئی تھی۔
آج مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری کی وجہ سے انڈیکس میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ تجزیہ کار سٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی جانب سے مالیاتی تنائج کے اعلانات کو مارکیٹ میں تیزی کی وجہ قرار دیتے ہیں۔
تجزیہ کار جبران سرفراز کے مطابق اس وقت معاشی شعبے میں کوئی ایسی خبر نہیں کہ جس کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ میں تیزی ہو تاہم کمپنیوں کی جانب سے مالیاتی نتائج کے اعلانات نے مارکیٹ میں تیزی کو فروغ دیا۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت فارماسوٹیکل، تیل، توانائی اور ریفائنری سیکٹر کی کمپنیوں کے سٹاک میں تیزی کی وجہ سے مارکیٹ انڈیکس میں اضافہ ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عراقی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے ایک شاپنگ سینٹر میں آگ لگنے سے کم از کم 60 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
عراق کے شہر کوت العمارہ میں اس شاپنگ مال کا افتتاح صرف سات روز قبل ہوا تھا تاہم بدھ کی رات یہاں آگ لگ گئی۔
سوشل میڈیا ویڈیوز میں فائر فائٹرز کو شاپنگ سینٹر کی چھت سے لوگوں کو بچاتے ہوئے دیکھا گیا لیکن سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ بہت سے لوگ ابھی بھی لاپتہ ہیں۔
آگ پر اب قابو تو پا لیا گیا ہے تاہم لاپتہ افراد کی تلاش کا کام ابھی تک جاری ہے۔
کوت العمارہ کے گورنر نے اس واقعے کے بعد تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ پنجاب کی تحصیل ہارون آباد میں بارش کے پانی میں کھیلتے تین بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔
ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ انھیں کنٹرول روم سے کال موصول ہوئی کہ ہارون آباد کے علاقے چک 18 ون ار میں تین بچے بارش کے پانی میں کھیلتے ہوئے ڈوب گئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ریسکیو کنٹرول روم نے فورا قریبی ایمبولنسز جائے وقوعہ کی جانب روانہ کردیں اور امدادی کارکنوں نے موقع پر پہنچ کر بچوں کو سی پی ار دیا لیکن وہ بچ نہیں پائے۔

،تصویر کا ذریعہPDMA
قدرتی آفات سے نمٹنے کے وفاقی ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری شدید بارشوں کے باعث اگلے 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں سیلابی صورتحال جبکہ ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کے متعدد اضلاع بشمول لاہور، چکوال، اٹک، جہلم، خوشاب، سرگودھا، گجرات، گوجرانوالہ، فیصل آباد، سیالکوٹ، نارووال، اوکاڑہ، قصور، شیخوپورہ اور حافظ آباد میں اگلے 12 گھنٹوں میں آندھی اور طوفان کے ساتھ شدید بارش کا امکان ہے۔
بیان کے مطابق، راولپنڈی اور اسلام آباد میں اگلے 24 سے 48 گھنٹوں تک وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش جاری رہنے کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ موسلادھار بارش کے باعث نالہ لئی میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال کا امکان ہے۔
وفاقی ادارے نے نالہ لئی کے قریبی اور نشیبی علاقوں کے مکینوں کو خطرے کا سائرن بجنے کی صورت میں فوری انخلا کے لیے تیاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
این ڈی ایم نے لوگوں سے تیز بہاؤ کی صورت میں ندی نالوں، پلوں اور پانی میں ڈوبی سڑکوں سے گزرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے جبکہ حساس علاقوں کے مکینوں کو ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر 3 سے 5 دن کی خوراک، پانی اور ادویات پر مشتمل ایمرجنسی کٹ تیار رکھنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔
گذشتہ روز سے جاری بارشوں کے باعث اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آنے اور وہاں سے روانہ ہونے والی پروازوں کا شیڈول متاثر ہے۔
سول ایوی ایشن حکام کے مطابق، اب تک 30 پروازیں کی روانگی میں کئی گھنٹوں کی تاخیر ہو چکی ہے۔
ایئرلائن حکام کا کہنا ہے کہ مسافر کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے فلائٹ انکوائری نمبر اور متعلقہ ائیرلائن کی ہیلپ لائن سے ضرور رابطہ کریں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بارش کی وجہ سے مسافر ایئرپورٹ پر بروقت پہنچیں۔
شدید بارشوں کی وجہ سے اسلام آباد ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمد بھی معمولی تاخیر کا شکار ہے۔

،تصویر کا ذریعہSajjad Haider
پنجاب کے شہر چکوال میں دھرابی ڈیم کے نزدیک بنایا گیا ایک نجی ڈیم ٹوٹ گیا ہے۔
مقامی شہری سجاد حیدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ روز سے جاری شدید بارشوں کے نتیجے میں دھرابی ڈیم کے سپل وے کے نالے پر تعمیر کیا گیا ایک چھوٹا ڈیم ٹوٹ گیا ہے۔
تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ ڈیم کے ٹوٹنے کے نتیجے میں کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ 12 گھنٹوں سے جاری مسلسل بارشوں کے باعث علاقے میں رابطہ سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے اور بنا رکاوٹ کے پانچ کلومیٹر بھی سفر کرنا مشکل ہے۔
سجاد حیدر کا کہنا ہے کہ بارشوں سے علاقے میں بنائے گئے اس طرز کے کئی چھوٹے نجی ڈیموں کو نقصان پہنچا ہے۔