پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہروں راولاکوٹ اور باغ میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائینٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی غیر معینہ مدت تک ہڑتال کی کال پر پونچھ ڈویژن کے علاقے راولاکوٹ اور باغ میں تاجروں نے اپنی دوکانیں بند رکھی ہوئی ہیں جبکہ ان علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی۔
مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق جیل کی جانب سے ہڑتال کی کال پر ان دونوں شہروں کے علاوہ نیلم ویلی میں جزوی ہڑتال ہے انہوں نے کہا کہ جیک کی قیادت کی جانب سے اتوار کو ہڑتال کی کال دیتے ہوئے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ اگلے دو ماہ کے لیے راشن کا بندوبست کرلیں۔
انھوں نے کہا کہ اس اعلان کے بعد ان علاقوں میں واقع دو کانوں پر لوگوں کا رش نظر آیا ہے۔
جیک کے کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کی جانب سے ہڑتال کی کال پر کشمیر کے زیادہ تر حصوں میں ہڑتال جاری ہے راولاکوٹ کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق جیک کی جانب سے ہڑتال کی کال صرف ان علاقوں تک ہی محدود ہے جہاں پر جیک کے کارکنان دھرنا دیے ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پونچھ ڈویژن کے دیگر علاقوں میں حالات معمول کے مطابق ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کے ڈپٹی کمشنر محمد عاصم کے مطابق شہر میں حالات نارمل ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں پر رواں دواں ہے۔
انھوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر اور سکولوں میں طلبا طالبات کی تعداد بھی معمول کے مطابق ہے دوسری جانب کالعدم تنظیم جیک کی کور کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر کی جبری گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ہائی کورٹ کے جج جسٹس خالد چوہدری کے میر پور ڈویژن بینچ میں ہونے کی وجہ سے نہیں ہوسکی۔
شوکت نواز میر کی بہن نے اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست دے رکھی ہے اس درخواست کی سماعت کرنے والے جج جسٹس خالد رشید نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو ذاتی حثیت میں طلب کر رکھا تھا۔
درخواست گزار کے وکیل شاہد اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ جسٹس خالد رشید اگلے دو ہفتے میر پور ڈویژن میں ہی مقدمات کی سماعت کریں گے۔