عمران خان کے بیٹے پاکستان آئیں گے، ان کی گرفتاری کی بات کرنا کم ظرفی ہے: علی امین گنڈاپور
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے بیٹے پاکستان آئیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو بچے صرف اپنے والد سے ملنے آ رہے ہیں، ان کی گرفتاری کی بات شرمناک ہے۔
خلاصہ
- پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس 1 لاکھ 36 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا
- روس سے ناخوش ٹرمپ عسکری سامان یوکرین بھیجیں گے: ’پوتن اچھی باتیں کرتے ہیں اور پھر بم برسا دیتے ہیں،‘ ٹرمپ
- پی ٹی آئی نے 26ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر پانچ اراکینِ قومی اسمبلی کو جماعت سے نکال دیا
- پشاور میں جے یو آئی ف کے زیر اہتمام جرگہ، قبائل میں دہشت گردی کے واقعات اور ٹارگٹ کلنگ پر تشویش کا اظہار
لائیو کوریج
عمران خان کے بیٹے پاکستان آئیں گے اور ان کی گرفتاری کی بات کرنا کم ظرفی ہے: علی امین گنڈاپور

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے بیٹے پاکستان آئیں گے اور ان کی گرفتاری کی بات کرنا انتہائی کم ظرفی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ سیاسی انتقام سے دنیا میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو بچے صرف اپنے والد سے ملنے آ رہے ہیں، ان کی گرفتاری کی بات شرمناک ہے۔
انھوں نے کہا کہ میں اپنے دفاع کی بات کرتا ہوں تو اُسے دھمکی کہا جاتا ہے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا، ’اگر مجھے یقین ہو کہ کوئی مجھے گولی مارنے آ رہا ہے تو میں بھی جواب دوں گا — یہ میرا ذاتی مؤقف ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ہمارے مذہب اور آئین میں سیلف ڈیفنس کی اجازت موجود ہے اور خاموش رہنا اور جواب نہ دینا خودکشی کے مترادف ہے۔
پی ٹی آئی میں دھرے بندی کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں گروپ بندی نہیں ہونی چاہیے۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ سب کو متحد ہو کر آگے بڑھنا چاہیے۔
وزیرِ اعلی کا کہنا ہے کہ اگر خیبرپختونخوا کی حکومت گری تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔
انھوں نے کہا کہ سینیٹ سے متعلق تمام فیصلے بانی پی ٹی آئی ہی کریں گے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
علی امین گنڈا پور نے احتجاج کے حق پر قدغن پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جبر کی صورت میں جلد لائحہ عمل پیش کیا جائے گا۔
ریاستی ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے سنجیدہ نہیں، جرگے بلا کر دھمکیاں دے رہے ہیں: مولانا فضل الرحمان کا دعویٰ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان الزام عائد کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کریں لیکن ریاستی ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہیں۔
انھوں نے چارسدہ میں میڈیا رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’چار گھنٹوں میں انڈیا کو لپیٹنے والی ہماری ریاست اتنی کمزور نہیں اور اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ چار دہائیوں سے جاری دہشت گردی پر قابو کیوں نہیں پایا جاتا۔‘
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’ریاستی ادارے عوام پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگا رہے ہیں۔ عوام نے سوات سے لے کر وزیرستان تک چند گھنٹوں میں علاقے خالی کیے۔ آج بھی وہ لوگ اپنے ہی ملک میں مہاجر ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سکیورٹی ادارے ایک بار پھر عوام کو علاقے خالی کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ ریاستی ادارے اپنی ناکامی کی ذمہ داری عوام پر نہ ڈالیں۔ ادارے اپنے گریباں میں جھانک اپنا امتحان لیں۔‘
فضل الرحمان کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ ’ریاستی ادارے ہر میٹنگ اور جرگہ میں عام لوگوں کو اپنے لہجے سے مرعوب کر رہے ہیں، اپنا لب و لہجہ سیدھا کر لیں اور ہمارے ساتھ انسان اور پاکستانی بن کر بات کریں۔
’اداروں کے لوگ مافوق الفطرت نہیں ہیں اور نہ یہ عوام سے بالاتر ہیں۔ ریاستی اداروں کے لوگ ہماری طرح کے انسان ہیں اور ہمارا اور ان کا شناختی کارڈ ایک ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے اس بات پر تشویش ہے کہ ریاستی ادارے جرگے بلا کر ان کو دھمکیاں دیتے ہیں۔ صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ موجودہ حالات کی ذمہ دار ہے۔‘
’کالے کپڑوں والی پولیس آئی اور لڑکوں کو لے گئی‘: پہلگام حملے کے بعد گرفتاریوں پر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں تشویش, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو سرینگر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں رواں برس 22 اپریل کو مسلح حملہ آوروں کے ہاتھوں 25 انڈین سیاحوں اور ایک کشمیری گھوڑے بان کی ہلاکت سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی جنگ تک پہنچ گئی تھی۔
دونوں ممالک کی سرحدوں پر 10 مئی سے اب تک جنگ بندی کا نفاذ ہے لیکن پہلگام اور اس کے پڑوسی قصبوں میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں سے وادی بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سنیچر کی رات کو پلوامہ میں آڑا گاوٴں سے 10 شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جس کے بعد خیموں میں رہنے والے اُن کے رشتے دار طرح طرح کے خدشات میں مبتلا ہیں۔
سیاسی اور سماجی ردعمل کے بعد ان میں سے دو افراد کو رہا کیا گیا ہے۔
واضح رہے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی قبائلی گجر برادری کے لوگ بھیڑ بکریاں چراتے ہیں اور گرمیوں میں انہیں سرینگر اور دوسرے قصبوں میں فروخت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پکّے گھروں میں نہیں بلکہ خیموں میں رہتے ہیں۔
’رات کو کالے کپڑوں والی پولیس آئی اور ہمارے لڑکوں کو لے گئی‘
آڑا میں دیگر گجر مزدوروں کے ہمراہ 22 سالہ صادق اور 17 سالہ امیتاز بھی رہتے ہیں۔ وہ بھی اُن آٹھ نوجوانوں میں شامل ہیں جو ابھی تک پولیس کی حراست میں ہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کے چچا محمد زبیر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ خمیوں میں رہنے والے سب ہی لوگ دو راتوں سے نہیں سوپائے ہیں۔
’اُس رات کالے کپڑوں والی پولیس آئی اور ہمارے لڑکوں کو لے گئی۔ ہم کو بہت ڈر لگتا ہے، کیا پتا کیا ہوگا ہمارے بچوں کے ساتھ۔‘
طویل عرصے تک بیمار رہنے کے بعد زبیر کے بھائی کی کئی برس قبل موت ہوچکی ہے جس کے بعد وہی بھتیجوں کی کفالت کرتے ہیں۔
’یہاں سب کے فون ضبط کئے گئے ہیں، ہم لوگوں کی سمجھ نہیں آتا کیا ہوگا۔ دو کو چھوڑ دیا اور باقی لوگوں کو بھی رہا کرنے کا وعدہ کیا ہے، لیکن ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔‘
گجر برادری کی نمائندگی کرنے والے ایک مقامی رضاکار طالب حسین نے بی بی سی کو بتایا: ’پہلے تو پولیس (گرفتاری کی) ذمہ داری بھی نہیں لے رہی تھی، لیکن جب ہم نے افسروں کی منتیں کیں اور سیاسی رہنماؤں سے بھی مداخلت کی اپیل کی تو اب کہتے ہیں کہ پوچھ تاچھ ہورہی ہے۔‘
طالب حسین کہتے ہیں کہ کئی برسوں سے کشمیر کی گجر اور بکروال برادری ایسے ہی خطروں کی زد میں ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’گزشتہ برس بھی راجوری کے ٹوپا پیر علاقے میں حملے کی تحقیقات کے دوران دو گجر نوجوان حراست کے دوران مارے گئے تھے۔ پھر فوج نے تحقیقات میں غلطی کا اعتراف بھی کیا اور متاثرین کی مالی مدد بھی کی۔‘
’لیکنجب بھی فورسز پر حملہ آوروں کو پکڑنے کا دباؤ ہوتا ہے، ہمارے ہی لوگ ہر بار شکار بن جاتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو و بتایا کہ ’پہلگام حملے کی تحقیقات کئی مرحلوں میں ہورہی ہے۔ پوچھ تاچھ کے عمل میں لوگوں کو پولیس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیئے۔
’جہاں بھی شک ہوگا وہاں پوچھ تاچھ لازمی ہے۔ کسی بے قصور کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔‘
پہلگام حملہ کی تفتیش کہاں تک پہنچی؟
پہلگام حملے کے اگلے ہی روز انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس نے دو مبینہ پاکستانی اور ایک کشمیری عسکریت پسند کے خاکے جاری کرکے انہیں حملے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔
لیکن دو ماہ کی تفتیش کے بعد انڈیا کے سب سے بڑے تحقیقاتی ادارہ این آئی اے نے 22 جون کو ان تصویروں میں نظر آنے افراد کے دہشتگرد ہونے تردید اور قیاس آرائیوں سے بچنے کی تلقین کی۔
تاہم این آئی اے نے کہا ہے کہ تفتیش کے دوران ایک بڑی کامیابی ملی ہے جس کے تحت دو کشمیری بھائیوں پرویز احمد جوٹھار اور بشیر احمد جوٹھارکو گرفتار کیا گیا ہے۔
ایجنسی کے مطابق پہلگام کے ان دونوں نوجوانوں نے تین مبینہ پاکستانی حملہ آوروں کو نہ صرف پناہ دی تھی بلکہ انہیں کھانا بھی دیا تھا۔
انہیں این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت نے 16 جولائی تک پولیس ریمانڈ میں رکھنے کا حکم سنایا ہے۔
خیال رہے اپریل میں پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ حملے میں دو مبینہ پاکستانی شہری ہاشم موسیٰ اور علی ملوث ہیں جن کا ساتھ کشمیری عسکریت پسند عادل حسین ٹھوکر نے دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اننت ناگ میں عادل ٹھوکر کا گھر اُن نو مکانوں میں شامل ہے جو تلاشی کی کارروائی کے دوران دھماکوں سے منہدم کے باعث گئے تھے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ تلاشی کے دوران مکانوں میں بارودی مواد ملا جو حادثاتی طور پھٹ گیا۔
’شکر ہے کشمیری ملوث نہیں‘
تقریباً دو ماہ کی تحقیقات کے بعد ابھی بھی پہلگام حملے میں ملوث عسکریت پسندوں کی شناخت نہیں کی گئی ہے۔
تاہم این آئی اے نے جب دعویٰ کیا کہ سب ہی حملہ آور پاکستانی ہیں اور انہیں مبینہ طور پر دو کشمیری بھائیوں نے پناہ دی تھی تو وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا تھا کہ: ’شکر ہے کہ اس میں کوئی کشمیری براہ راست ملوث نہیں ہے۔ دو بھائیوں سے زبردستی مدد لی گئیہوگی اور خوف کے مارے انہوں نے کھانا دیا ہوگا۔ امید ہے کہ تحقیقات جلد مکمل ہوگی۔‘
اُدھر انڈین کانگریس نے مودی حکومت پر سخت تنقید کی: ’پہلے غلط تصویریں جاری کر دیں ، پھر خود ہی تردید بھی کردی۔ تحقیقات کے عمل پر تشویشناک سوالات اُٹھ رہے ہیں جن کا حکومت کو جواب دینا پڑے گا۔‘
واضح رہے پاکستان نے پہلگام حملے کے فوراً بعد ہی انڈیا کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مشترکہ تحقیقات یا غیرجانبدار بیرونی ایجنسی کے ذریعہ تحقیقات پر تیار ہے۔ تاہم انڈیا نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس 1 لاکھ 36 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز اس وقت تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا جب کے ایس ای انڈیکس نے کاروبار کے دوران 1 لاکھ 35 ہزار اور 1 لاکھ 36 ہزار پوائنٹس کی سطح کو عبور کیا۔
آج مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز 134300 پوائنٹس سے ہوا تھا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری میں دلچسپی کی وجہ سے انڈیکس میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس نے 136140 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھو لیا۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاشی فرنٹ پر مثبت اشارے مارکیٹ میں اضافے کا سبب بنے ہیں۔
معاشی تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا مارکیٹ میں تیزی کی مختلف وجوہات ہیں، جن میں آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان میں معاشی اصلاحات کی تعریف سب سے نمایاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے آئندہ ہونے والے مانیٹری پالیسی اجلاس میں شرح سود میں کمی کا امکان ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی وجہ سٹاک مارکیٹ لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے مالیاتی نتائج کے اعلان کا آغاز ہے جس میں یو بی ایل کی جانب سے اچھا مالیاتی نتیجہ دیا گیا۔
دریں اثنا وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان سٹاک ایکسچینج کے 1 لاکھ 36 ہزار پوائنٹس کی بلند ترین سطح عبور کرنے پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا پاکستان سٹاک ایکسچینج کا تاریخی سطح عبور کرنا کاروباری برادری کے اعتماد کا مظہر ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کاروباری برادری کو ملک میں کاروبار دوست ماحول فراہم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔
پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل میں مبینہ غیرقانونی بھرتیوں کے مقدمے میں صدارتی ایوارڈیافتہ سائنسدان گرفتار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہX/@ParcPk
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے چیئرمین اور صدارتی ایوارڈ یافتہ سائنسدان ڈاکٹر غلام محمد علی کو مبینہ بدعنوانی اور غیرقانونی بھرتیوں سے متعلق مقدمے میں گرفتار کر لیا ہے۔
بی بی سی کو دستیاب ایف آئی آر کے مطابق اس مقدمے میں پی اے آر سی کے چیئرمین کے علاوہ ادارے کے 18 مزید افسران کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر غلام محمد علی اور دیگر افسران پر الزام ہے کہ انھوں نے 164 آسامیوں کا اشتہار دے کر غیرقانونی طور پر 332 عہدوں پر بھرتیاں کیں۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ نامزد ملزمان نے اپنے عہدوں کو غلط استعمال کرتے ہوئے غیرقانونی مالی فائدہ حاصل کیا، تنخواہوں کی مد میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔
ایف آئی آر کے مطابق ’موجودہ قوانین اور ایس او پیز کو بالائے طاق رکھ کر 164 آسامیوں کو بڑھا کر 332 صرف اس لیے کیا گیا تاکہ اپنے رشتے داروں اور دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔‘
روس سے ناخوش ٹرمپ عسکری سامان یوکرین بھیجیں گے: ’پوتن اچھی باتیں کرتے ہیں اور شام میں بم برسا دیتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کو جدید عسکری سازوسامان بھیج رہے ہیں۔
پیر کو ایئرفورس ون کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’بنیادی طور پر ہم یوکرین کو بہت سا جدید عسکری ساز و سامان بھیج رہے ہیں۔‘
اتوار کی رات کو ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ اس ساز و سامان میں پیٹریاٹ ایئر ڈیفینس سسٹم بھی شامل ہوسکتا ہے۔
بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ امریکی صدر یوکرین میں سیزفائر کے لیے روسی اقدامات سے ناخوش ہیں۔ انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ ’پوتن اچھی باتیں کرتے ہیں اور شام میں سب پر بم برسا دیتے ہیں۔‘
’یہ ایک مسئلہ ہے جو کہ مجھے بالکل پسند نہیں۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’وہ ہمیں 100 فیصد قیمت ادا کریں گے۔‘ یہاں یہ واضح نہیں کہ ’وہ‘ سے ان کی مراد یوکرین ہے، یورپی یونین ہے یا نیٹو کے اراکین ہیں۔
لندن کے ساؤتھ اینڈ ایئرپورٹ پر طیارہ گِر کر تباہ، عینی شاہدین نے ’آگ کا گولہ‘ دیکھا, ہیریٹ ہیوڈ، بی بی سی نیوز ایسیکس

،تصویر کا ذریعہUKNIP
ایک طیارے کے گِر کر تباہ ہونے کے سبب لندن کے ساؤتھ اینڈ ایئرپورٹ کو تاحکم ثانی بند کر دیا گیا ہے۔
ایسیکس پولیس کو برطانوی وقت کے مطابق اتوار کی شام کو چار بجے 12 میٹر لمبے جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع دی گئی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق انھوں نے ایئرپورٹ کے قریب ’آگ کے گولے‘ کو دیکھا تھا۔
ساؤتھ اینڈ ایئرپورٹ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکام عوام کو مزید پیش رفت سے آگاہ رکھیں گے اور پیر کو ایئرپورٹ سے ہوائی سفر کرنے والے مسافر اپنی اپنی ایئرلائنز سے رابطے میں رہیں۔
اس حادثے میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی ہے۔
ڈچ کمپنی زیوش ایوی ایشن نے تصدیق کی ہے کہ لندن کے ساؤتھ اینڈ ایئرپورٹ پر اس کی فلائٹ ایس یو زیڈ ون ’حادثے کا شکار‘ ہوگئی ہے۔
نیدرلینڈز کی کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ حادثے کی تحقیقات میں حکام کی مدد کر رہی ہے اور ان کی نیک خواہشات ’متاثر ہونے والے افراد‘ کے ساتھ ہیں۔
یہ جہاز ساؤتھ اینڈ ایئرپورٹ کی طرف سفر سے قبل یونان کے دارالحکومت ایتھنز سے کروشیا کے شہر پولا گیا تھا۔ اس جہاز کو اتوار کی شام کو لیلیستات ایئرپورٹ روانہ ہونا تھا۔
ایسیکس سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ جون جونسن اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ جہازوں کو دیکھ رہے تھے اور اسی وقت انھوں نے جہاز کے زمین پر گِرنے کے بعد ایک ’آگ کا بڑا گولہ‘ دیکھا۔

،تصویر کا ذریعہFrazer Brooks
جون جونسن کے بیٹے ’جہازوں میں دلچسپی‘ رکھتے ہیں اور اسی لیے وہ اپنے بچوں اور اہلیہ کے ہمراہ ایئرپورٹ آئے تھے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آپ پائلٹس کو مسکراتا ہوا دیکھ سکتے تھے اور ہم بھی مُسکرا دیے۔ پھر اس جہاز نے 180 ڈگری کا موڑ لیا اور ٹیک آف کے مقام پر چلا گیا۔ اس کے انجنوں نے کام کرنا شروع کر دیا تھا اور وہ رن وے پر چل رہا تھا۔‘
’تین یا چار سیکنڈز کے بعد یہ ٹیک آف کر گیا۔ اس کے بعد اس نے بائیں طرف جھکنا شروع کر دیا۔‘
جون جونسن مزید کہتے ہیں کہ ’میں نے اپنی اہلیہ کو کہا کہ یہ عجیب سا منظر ہے کیونکہ نارمل حالات میں ہم اڑان کے اس مرحلے پر جہاز کو مُڑتا ہوا نہیں دیکھتے۔‘
’اس کے بعد کچھ ہی سیکنڈوں میں جہاز نے ایک قلابازی سی کھائی اور زمین پر آ گِرا۔ وہاں ایک آگ کا بڑا سا گولہ تھا۔‘
اس کے بعد انھوں نے 999 پر فون کال کر کے اس حادثے کی اطلاع دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہUKNIP
’سب پریشان تھے‘
جیمز فلپوٹ روچفورڈ ہنڈرڈ گالف کلب میں بطور بار ٹینڈر کام کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ گالف کورس میں ایک ہٹ میں موجود تھے جب انھوں نے ’گرمی کی ایک بڑی لہر‘ محسوس کی۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نے اوپر دیکھا تو ایک آگ کا بڑا گولہ نظر آیا۔‘
’سب لوگ کافی پریشان تھے، ہم نے کبھی کچھ ایسا نہیں دیکھا۔ لوگ اس مقام کی طرف بھاگ رہے تھے تاکہ دیکھ سکیں کہ کہیں کوئی زخمی تو نہیں ہے۔‘
حادثہ گالف کورس کے قریب ہوا تھا اس لیے وہاں سے لوگوں کو فوراً نکال لیا گیا تھا، تاہم جیمز کہتے ہیں کہ ان سمیت کچھ افراد وہیں موجود رہے تھے۔
ویسٹ کلف رگبی کلب ساؤتھ اینڈ کے قریب واقع ہے اور اس کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ طیارہ حادثے کے بعد ان کے کلب کو خالی نہیں کروایا گیا تھا۔
پیٹ جونز مزید کہتے ہیں کہ: ’کلب کو خالی نہیں کروایا گیا کیونکہ آخر میں پولیس کا ذہن تبدیل ہو گیا تھا۔‘
’وہاں ایک بڑا ایونٹ ہو رہا تھا، تقریباً 250 لوگ موجود تھے، ہمیں بتایا گیا کہ آپ کو کلب خالی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
پیٹ جونز کہتے ہیں کہ یہ طیارہ کلب ہاؤس سے تقریباً 1000 میٹر کے فاصلے پر گِر کر تباہ ہوا تھا اور لوگ اپنی آنکھوں سے دھواں دیکھ سکتے تھے۔
ایسیکس پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تحقیقات کے لیے ایئر ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن برانچ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
برطانوی ٹرانسپورٹ سیکریٹری ہیڈی ایلگزینڈر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’مجھے ساؤتھ اینڈ ایئرپورٹ پر رونما ہونے والے واقعے کا علم ہے۔‘
’میں صورتحال کی نگرانی کر رہی ہوں اور مجھے تمام پیش رفت سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔‘
اسلام آباد میں غیرقانونی کال سینٹر پر چھاپے میں پانچ غیرملکیوں سمیت 65 افراد گرفتار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد
پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اسلام آباد میں ایک غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپے کے دوران پانچ غیر ملکیوں سمیت 65 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی اتوار کو اسلام آباد کے علاقے جی 10 مرکز میں کی گئی تھی اور اس دوران پانچ غیرملکیوں کے علاوہ 60 پاکستانی مردوں اور خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔
تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد غیر قانونی کال سینٹر چلانے میں ملوث تھے۔
این سی سی آئی اے نے اعلان کیا ہے کہ ان افراد کو سہولتیں اور سیکیورٹی فراہم کرنے والے دیگر عناصر کے خلاف بھی مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اس سے قبل رواں مہینے 8 جولائی کو این سی آئی آئی اے نے فیصل آباد کے علاقے شاہ کوٹ میں ایک گھر پر چھاپہ مارا تھا۔ اس کارروائی کے دوران 71 غیرملکیوں سمیت 149 افراد گرفتار کیے گئے تھے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار ہونے والے افراد میں 48 چینی باشندے، آٹھ نائجیرین شہری، چار فلپائنی شہری، دو سرلنکن باشندے، چھ بنگلہ دیشی شہری، میانمار کے دو شہری اور زمبابوے کا ایک شہری بھی شامل ہیں۔ گرفتار کیے جانے والے افراد میں 18 خواتین بھی شامل ہیں۔
این سی سی آئی اے کی جانب سے بی بی سی کو بھیجے گئے ایک اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ایجنسی نے ایک اور تحقیقاتی ادارے کے ہمراہ فیصل آباد میں ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کی اور اس دوران وہاں ایک بڑے غیرقانونی کال سینٹر کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا۔
پی ٹی آئی نے 26ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر پانچ اراکینِ قومی اسمبلی کو جماعت سے نکال دیا
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے ہدایات کے برخلاف 26ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر پانچ اراکینِ قومی اسمبلی کو جماعت سے نکال دیا ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری انفارمیشن شیخ وقاص اکرم کے مطابق جماعت سے نکالے گئے اراکین قومی اسمبلی میں این اے 142 ساہیوال سے منتخب ہونے والے عثمان علی، این اے 8 باجوڑ سے منتخب ہونے والے مبارک زیب، این اے خانیوال 146 سے منتخب ہونے والے ظہور حسین قریشی، این اے ویہاڑی 159 سے منتخب ہونے والے اورنگزیب خان کھچی اور این اے 62 گجرات سے محمد الیاس چودھری شامل ہیں۔
شیخ وقاص اکرم کے مطابق ان اراکین کو پارٹی سے ’وفاداری‘ اور ’حلف‘ کی خلاف ورزی پر نکالا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اپنے عمل کے بعد وہ قومی اسمبلی میں ایک دوسری پارلیمانی پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں۔‘
’یہ کہنے کی بھی ضرورت نہیں کہ وہ اپنے عمل کے سبب نااہل ہو گئے ہیں۔‘
26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ سمیت اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتی سے متعلق آرٹیکل 175 اے میں تبدیلی کی گئی ہے جس کے مطابق سپریم جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس کے علاوہ سپریم کورٹ کے چار سینیئر ججز سمیت چار اراکین پارلیمنٹ بھی ہوں گے۔
اس ترمیم کے مطابق ججز کی تقرری سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے 12 ارکان ہوں گے جن میں سے آٹھ کا تعلق قومی اسمبلی جبکہ چار کا تعلق سینیٹ سے ہو گا۔
بل کے مطابق سپریم کورٹ میں سینیئر جج کو بطور چیف جسٹس تعینات کرنے کی بجائے تین نام اس پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے جائیں گے اور 12 رکنی کمیٹی ان ناموں میں سے ایک کو بطور چیف جسٹس تعینات کرنے کی سفارش کرے گی۔ جس کے بعد وزیر اعظم اس ضمن میں صدر کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کی سفارش کریں گے۔
پشاور میں جے یو آئی ف کے زیر اہتمام جرگہ، قبائل میں دہشت گردی کے واقعات اور ٹارگٹ کلنگ پر تشویش کا اظہار
پشاور میں جمیعت العما اسلام ف کے زیر اہتمام خیبر پختونخوا کے ضم قبائلی اضلاع کے جرگے کے اعلامیے میں امن کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قبائل میں عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جرگے کے اعلامیے میں قبائل میں دہشت گردی کے واقعات، ٹارگٹ کلنگ پر افسوس اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور امن کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قبائل میں عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جرگے نے قبائل میں جرگہ سسٹم کی بحالی کے لیے قائم کردہ کمیٹی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ تمام قبائل کا جرگہ عوام کی نمائندگی اور ان کی رائے کے بغیر کوئی فیصلہ قابل قبول نہیں ہوگا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ جرگہ قبائل کے نقشہ مکانی کے غلط فیصلے کو مسترد کرتا ہے ساتھ ہی یہ مطالبہ کیا گیا کہ پشتونوں کی قیادت اور قبائلی مشران کو دوبارہ طلب کرکے ایک مؤثر لائحہ عمل کے ساتھ آگے کی طرف بڑھا جائے۔
جرگے سے سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان اور دیگر قبائلی مشران نے خطاب کیا۔
دشمن ریاست کے لیے جاسوسی پر جائیداد ضبط اور پھانسی کی سزا ہو گی‘: ایرانی پارلیمنٹ نے جاسوسی کی سزا سخت کرنے والی ترمیمی قرارداد منظور کر لی

،تصویر کا ذریعہICANA
ایرانی پارلیمنٹ نے ملک کے لیے جاسوسی کی سزا میں اضافے سے متعلق ترمیمی قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی ہے۔
نظر ثانی شدہ متن کے مطابق اگر کوئی دشمن ریاستوں اور گروہوں کے لیے کسی بھی انٹیلیجنس اور جاسوسی کی سرگرمی اور آپریشنل کارروائی میں ملوث پایا گیا تو اس کو پھانسی کی سزا سے لے کر جائیداد تک کا ضبط کیا جانا شامل ہے۔
قرارد کے متن میں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کو دشمن ریاستوں اور گروہوں کی شناخت کرنے کے اختیار کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے اور وزارت انٹیلیجنس کو دشمن نیٹ ورکس کی شناخت کے لیے ذمہ دار اتھارٹی کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
نئی قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ( جنھیں پہلے سے ہی دشمن ریاستیں تصور کیا جاتا ہے) کو چھوڑ کر سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل دیگر دشمن ریاستوں اور گروہوں کی نشاندہی کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
اس سے پہلے پیش کردہ اس قرارداد میں مخالف ریاست یا گروہ کی کوئی خاص تعریف فراہم نہیں کی گئی تھی اور گارڈین کونسل نے قرارداد کو پارلیمنٹ واپس بھیجنے کی ایک وجہ وضاحت کی اس کمی کو قرار دیا تھا۔
اصل قرارداد کا ایک اور آرٹیکل جس میں ترمیم کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے سزاؤں کے تعین سے متعلق ہے جو دشمن یا غیر ملکی نیٹ ورکس کو ویڈیوز یا معلومات بھیجتے ہیں اور اس کا مقصد عوام میں تقسیم پیدا کرنا یا قومی سلامتی کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔
نئی قرارداد کے تحت ان اقدامات کو جرم قرار دے کر اس کی سزا قید اور حکومت اور عوامی خدمات سے مستقل برخاستگی ہے۔
حتمی قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سزائے موت کے علاوہ دیگر سزاؤں کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی جبکہ سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ میں زیادہ سے زیادہ 10 دن کے اندر اپیل کی جا سکتی ہے۔
یہ قراردار ایسے وقت میں منظور کی گئی ہے جب ایران پر اسرائیلی حملے کے آبعد سے شائع ہونے والی متعدد رپورٹس میں ایرانی سرزمین کے اندر وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس اور آپریشنل دراندازی کی نشاندہی کی گئی تھی۔
پارلیمنٹ میں اس بل کی منظوری ایران میں متعدد وکلاء کی جانب سے تنقید اور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق کی جانب سے تشویش کا باعث بنی۔
ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے میزائل پروگرام پر پابندی شرائط کا حصہ ہو گی: نیتن یاہو

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے اپنی تین شرائط سے آگاہ کیا ہے جس میں ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیاں عائد کرنا شامل ہے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ ایک ’غیر معمولی‘ معاہدے کے لیے تین شرائط کے ساتھ تیار ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’افزودگی کو روکنا، 300 میل (482 کلومیٹر) سے زیادہ کی رینج کے بیلسٹک میزائلوں پر پابندی عائد کرنا جو کہ بین الاقوامی معاہدوں کی طرف سے مقرر کردہ حد ہے اور دہشت گردی کے محور کو ترک کرنا شرائط کا حصہ ہیں۔‘
یاد رہے کہ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ وہ افزودگی ترک نہیں کریں گے۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر وہ مذاکرات کی میز پر واپس آتے ہیں تو ان کا مقصد صرف جوہری پروگرام پر بات چیت ہو گا۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور ایران کے یہ مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں فریق 23 جون (تقریباً تین ہفتے قبل) سے جنگ بندی پر قائم ہیں۔
نیتن یاہو نے اس انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر ایرانی حکومت ان تین شرائط پر راضی ہو جاتی ہے تو یہ ایک مختلف حکومت ثابت ہو گی۔
ساتھ ہی نیتن یاہو نے اس بات پر زور دیا کہ اگر تہران ان شرائط کو قبول نہیں کرتا تو انھیں ایران کو انھیں قابو میں بھی رکھنا ہو گا اور ایران میں ہونے والی پیشرفت کو بھی جاری رہنے دینا ہو گا۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ نیتن یاہو میزائل رینج کو 300 میل (482 کلومیٹر) تک محدود کرنے والے جن بین الاقوامی معاہدوں کا حوالہ دے رہے ہیں وہ کون سے ہیں، تاہم وہ ممکنہ طور پر میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم کی جانب اشارہ کر رہے ہیں جو 35 ممالک کے درمیان ایک غیر رسمی سیاسی مفاہمت ہے جس کا مقصد میزائل پروگراموں اور ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کو محدود کرنا ہے۔‘
دوسری جانب یہ بھی یاد رہے کہ ایران اسغیر رسمی سیاسی تفہیم کا فریق نہیں۔
نیتن یاہو نے یہ انٹرویو گزشتہ ہفتے اپنے دورہ واشنگٹن کے دوران دیا تھا تاہم اسے نشر اب کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے نیتن یاہو کے ساتھ اپنی ملاقات سے قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ ملاقات کے دوران اسرائیل اور ایران کے درمیان بحران کا ’مستقل حل‘ تلاش کریں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ روز اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ’ہم کوئی ایسا معاہدہ نہیں کریں گے جس میں افزودگی کو روکنا شامل ہو۔‘
انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر مذاکرات ہوتے ہیں تو بات چیت کا واحد موضوع نیوکلیئر ہو گا اور کوئی دوسرا مسئلہ مذاکرات سے مشروط نہیں ہوگا۔‘
یاد رہے کہ ایرانی حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کی فوجی اور دفاعی صلاحیتوں پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی۔
اسرائیلی فضائی حملے میں واٹر ٹینکر سے پانی بھرنے کے منتظر چھ بچوں سمیت 10 افراد ہلاک: غزہ حکام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ میں محکمہ ایمرجنسی کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملے میں پانی کے مرتبان بھرنے کے منتظر چھ بچوں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
وسطی غزہ کے علاقے نصیرت میں العودہ ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں اور 16 زخمی ان کے ہسپتال لائے گئے تھے۔
ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں سات بچے بھی شامل ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ نصیرت مہاجر کیمپ میں ایک ڈرون نے اس وقت میزائل فائر کیا جب لوگ ایک واٹر ٹینکر سے پانی بھرنے کے لیے خالی مرتبان لیے قطاروں میں کھڑے تھے۔
اسرائیلی فوج سے اس حملے پر تبصرہ کرنے کا کہا گیا ہے۔
حملے کے بعد آن لائن شیئر کی جانے والی غیرتصدیق شدہ ویڈیوز میں خون میں لت پت بچوں اور لاشوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
حملے کے بعد علاقے کے رہائشی حملے کے مقام پر پہنچے اور زخمیوں کو نجی گاڑیوں اور گدھا گاڑیوں میں ہسپتال پہنچایا گیا۔
غزہ میں حالیہ دنوں میں اسرائیلی فضائی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
غزہ کی ایجنسی برائے شہری دفاع کے مطابق اتوار کو غزہ میں تین رہائشی عمارتوں پر علیحدہ حملوں میں بھی 19 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
عمران خان ’فیصلہ سازوں‘ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار، 90 دنوں میں ’آر یا پار‘ کریں گے: گنڈاپور

،تصویر کا ذریعہScreengab
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلی علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے پیغام دیا ہے کہ وہ ’فیصلہ سازوں‘ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
اتوار کو لاہور میں پریس کانفرس کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے واضح بتایا ہوا ہے کہ فیصلہ سازوں کے ساتھ مذاکرات ہوں گے۔ جن کے پاس اختیارات نہیں ہیں ان سے کیا بات ہو سکتی ہے؟‘
خیال رہے گذشتہ روز خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ نے نئی احتجاجی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’90 دن کے اندر یا تو ہم عمران خان کو رہا کرائیں گے یا پھر سیاست چھوڑ دیں گے۔‘
لاہور میں پی ٹی آئی کے دیگر قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ’ہماری تحریک کا اعلان عمران خان نے کیا ہے اور وہ خود اس کی قیادت کریں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’90 دن کل رات سے شروع ہو گئے ہیں اور ان 90 دنوں میں ہم آر یا پار کریں گے۔‘
اس موقع پر بات کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ نے اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ریاستی ادارے اپنا کام چھوڑ کر دوسرے کاموں میں لگ گئے ہیں اور اس کے سبب خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالات خراب ہو گئے ہیں۔‘
’ان حالات کے ذمہ دار وہ ہیں جن کی ذمہ داری سرحدوں کو کلیئر کرنا ہے لیکن بدقسمتی سے وہ سرحدوں کو چھوڑ کر تحریکِ انصاف کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ سیاست کرنا ریاستی اداروں کا کام نہیں ہے لیکن ’وہ حکومتیں بنانے، چلانے اور گرانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔‘
’پھر وہ کہتے ہیں کہ ہم تو غیر سیاسی ہیں، ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ نے اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے مل کر بیٹھنے، غلطیوں کو ماننے اور آگے بڑھنے کا مشورہ دیا۔
غربِ اردن میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے میں امریکی شہری سمیت دو افراد ہلاک: فلسطینی وزارتِ صحت, ڈیوڈ گرٹن، بی بی سی نیوز

،تصویر کا ذریعہAFP
فلسطین کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی آبادکاروں کے ایک حملے میں مقبوضہ غربِ اردن کے شمالی علاقے میں دو فلسطینی ہلاک ہوگئے ہیں۔
وزارتِ صحت کا کہنا تھا کہ فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے دوہری شہریت کے حامل امریکی شہری 20 سالہ سیف اللہ کو جمعے کی رات سنجل کے علاقے میں تشدد کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والے دوسرے شخص کی شناخت 23 سالہ محمد الشلابی کے نام سے ہوئی ہے جنھیں سینے پر گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیلوں پر پتھراؤ کیا گیا تھا جس کے باعث ’علاقے میں پرتشدد ٹکراؤ کی کیفیت بن گئی تھی۔‘
اسرائیلی فوج کا مزید کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز ایک فلسطینی شہری کی ہلاکت کی اطلاعات کو دیکھ رہی ہیں، جبکہ دوسرے واقعے سے متعلق بھی تحقیقات جاری ہیں۔
سیف اللہ کی موت کی خبر پر امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ’غربِ اردن میں امریکی شہری کی موت کی خبروں کے حوالے سے آگاہ ہے‘ لیکن ’خاندان کی پرائیویسی کا احترام‘ کرتے ہوئے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔
سیف اللہ کے خاندان کے مطابق وہ ایک کاروباری شخصیت تھے جو فلوریڈا میں پیدا ہوئے تھے اور 4 جون کو ’اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گزارنے‘ غربِ اردن گئے تھے۔
ان کے خاندان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سیف اللہ کو ’اسرائیلی آبادکاروں نے بے دردی سے تشدد کر کے اس وقت قتل کیا جب وہ اپنے خاندان کی زمینوں پر ہونے والے قبضے کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘
’طبِی کارکنان سیف اللہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے لیکن آبادکاروں نے تین گھنٹوں سے زیادہ انھیں گھیرے رکھا، آبادکاروں کے جتھے نے ایمبولینس اور طبی کارکنان کو سیف اللہ کی جان بچانے سے روکا۔‘
’جب اسرائیلی آبادکاروں کا جتھہ وہاں سے منتشر ہوا تو سیف کے چھوٹے بھائی انھیں ایمبولینس تک لے گئے۔ سیف ہسپتال جانے سے پہلے ہی ہلاک ہوگئے۔‘
سیف اللہ کے خاندان کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہمارا مطالبہ ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ اس واقعے کی تحقیقات کرے اور ان جرائم پر اسرائیلی آبادکاروں کا احتساب کرے۔‘
خیبر پختونخوا حکومت میں تبدیلی پی ٹی آئی کے اندر سے آئے تو زیادہ مناسب ہوگا: مولانا فضل الرحمان

،تصویر کا ذریعہX/@juipakofficial
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مشورہ دیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت میں ’تبدیلی‘ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر سے آئے تو ’زیادہ مناسب‘ ہوگا۔
سنیچر کو پشاور میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’میری ترجیح یہ ہوگی کہ صوبے میں تبدیلی آئے لیکن اگر پی ٹی آئی اکثریت میں ہے تو پی ٹی آئی کے اندر سے ہی (تبدیلی) آئے۔‘
’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہماری (صوبائی حکومت کی) اکثریت جعلی ہے، دھاندلی کی پیداوار ہے۔ تاہم صوبہ سیاسی کشمکش کا متحمل صوبہ شاید نہ ہو۔‘
’اگر ان کی اپنی پارٹی کے اندر سے تبدیلی آتی ہے تو وہ زیادہ مناسب ہوگا۔‘
مولانا فضل الرحمان کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ مہینے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے 12 جولائی 2024 کے اس اکثریتی فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا جس کے تحت فروری 2024 میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دی گئی تھیں۔
اس فیصلے کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی نشستوں کی تعداد 27 سے بڑھ کر 52 ہوگئی ہے جبکہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی تعداد 93 ہے۔
90 دن کے اندر یا تو ہم عمران خان کو رہا کرائیں گے یا سیاست چھوڑ دیں گے: وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا

،تصویر کا ذریعہPTI
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے لاہور میں پارٹی کارکُنان اور ممبران صوبائی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں دہائیوں سے ادارے اور پارٹیاں مسلّط ہیں۔‘
سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’90 دن کے اندر یا تو ہم عمران خان کو رہا کرائیں گے یا سیاست چھوڑ دیں گے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم آئین اور قانون کی پاسداری پر یقین رکھتے ہیں۔ اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہمیں غلام ابن غلام بننا ہے تو بس پھر ٹھیک ہے۔ اگر میں عوامی ٹیکس کے پیسوں کا جواب دہ ہوں تو تمام ادارے اور حکومتیں جواب دیں ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’پنجاب کی محبت اور جذبہ ناقابلِ بیان ہے، ہر دل سے عمران خان کی آواز بلند ہو رہی ہے۔‘
لاہور میں چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیرِ صدارت پنجاب اور کے پی کی پارلیمانی پارٹی کی اہم بیٹھک ہوئی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بیان میں کہا کہ قافلہ پنجاب اسمبلی سے نکالے گئے نمائندوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ہے صرف امن، محبت، بھائی چارے اور رواداری کا پیغام لے کر لاہور جا رہے ہیں۔
لاہور پہنچنے پر اُن کا کہنا تھا کہ ’میں پنجاب کے ہر اُس فرد کا مشکور ہوں جو عمران خان کا سپاہی بن کر کھڑا ہے۔ پنجاب پی ٹی آئی کا دل ہے، یہاں کا ہر شہری تحریک انصاف کا محافظ ہے۔‘
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا قافلہ اسلام آباد سے لاہور پہنچا تھا، لاہور روانگی سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا ہاؤس میں جمع ہوئے، جہاں اجلاس میں پارٹی قیادت، قومی اسمبلی، خیبرپختونخوا اور پنجاب اسمبلی کے اراکین نے شرکت کی۔
وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا قافلہ لاہور پہنچ گیا
اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر کا کہنا ہے کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا قافلہ لاہور پہنچ گیا ہے۔
ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ پنجاب کی عوام اپنے لیڈر عمران خان کی رہائی کے لیے پرجوش ہے اور ہم تمام آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ لاہور کی عوام استقبال کے لیے سڑکوں پر موجود تھی مگر پولیس کو اتنا خوف ہے کہ ہمارے کارکنوں کو مار کر بھگانا چاہتی ہے۔ اس طرح کسی ڈکٹیٹرشپ میں نہیں ہوتا۔
تحریک انصاف کو صرف احتجاج کرنا آتا ہے، پہلے بھی پنجاب نہیں نکلا تھا اور اب بھی نہیں نکلے گا: عظمی بخاری

،تصویر کا ذریعہAzma Bukhari/Twitter
وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو صرف احتجاج آتا ہے اور وہ وہی کریں گے لیکن پہلے بھی پنجاب نہیں نکلا تھا اور اب بھی نہیں نکلے گا۔
عظمی بخاری سنیچر کے روز ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف نے اپنے دور میں قومی وسائل کا جلسے جلوسوں پر بے دریغ استعمال کیا، قومی اداروں میں کرپشن کی انتہا کر دی، سرکاری تحائف کو اپنی ذاتیات کے لیے استعمال کیا۔
عظمی بخاری نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو احتجاج کرنا ہی آتا ہے اور وہ وہی کریں گے، ہمیں پتا چلا ہے کہ اس کے لیے کے پی کے میں فنڈز نکلوائے جارہے ہیں، پہلے بھی پنجاب نہیں نکلا تھا، اب بھی نہیں نکلے گا۔
