لائیو, گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا کی پولیس اور بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبادلے
گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا میں انتظامی اور پولیس ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ پولیس میں 18 افسران کے تبادلے کیے گئے ہیں، جبکہ صوبائی بیوروکریسی میں بھی ایک درجن سے زیادہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو تبدیل کر کے نئے افسران تعینات کیے گئے ہیں۔
خلاصہ
گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا کی پولیس اور بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبادلے
خیبر پختونخوا میں امن و امان اور انسدادِ دہشت گردی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے گورنر کی صدارت میں اجلاس
نقاب پوش افراد رات تین بجے گھر میں داخل ہوئے اور اقرار الحسن کو ساتھ لے گئے: اہلیہ فرح اقرار کا دعویٰ
ترکی میں بس اور ٹرک کا تصادم، 11 افراد ہلاک، 27 زخمی
امریکہ کا فضائی کمپنیوں کو سعودی عرب کی فضائی حدود کے بارے میں انتباہ
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے اور آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ
لائیو کوریج
ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا میں اب حکومت کون اور کیسے چلائے گا؟
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پشاور کی چند سڑکوں اور چوراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور
گورنر راج کے نفاذ کے بعد آج پشاور میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات دیکھنے
میں آئے، جہاں بکتر بند پولیس گاڑیوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں گشت کیا جبکہ پولیس
کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی۔
دوسری جانب ایمرجنسی کے باعث کئی
تعلیمی ادارے بند رہے اور طلبہ گھروں کو واپس جاتے دکھائی دیے۔
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پشاور میں متعدد تعلیمی ادارے بند رہے، جس کے باعث طلبہ کو گھروں کو واپس جاتے دیکھا گیا
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور
گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت نے صوبے میں فوج کی تعیناتی اور صوبائی
معاملات آگے بڑھانے کے لیے 11 رُکنی مشاورتی کونسل قائم کی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے آئین کے
آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کے ذریعے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا،
صوبائی وزرا، مشیران، معاونین، ایڈوکیٹ جنرل اور دیگر کئی آئینی عہدیداران کو فوری
طور پر غیر فعال کر دیا گیا ہے۔
جبکہ آرٹیکل 245 کے تحت افواج
پاکستان کو صوبائی حکومت کی معاونت کے لیے تعینات کرنے کا حکم بھی جاری کیا گیا
ہے۔
جانیے
کہ 11 رکنی مشاورتی کونسل میں کون کون شامل ہیں، اور یہ صوبے کے معاملات کیسےچلائے گی؟
گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا کی پولیس اور بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبادلے
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنخیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد سکیورٹی سخت ہونے پر بکتر بند پولیس گاڑیاں پشاور کی ایک سڑک پر گشت کر رہی ہیں
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور
ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی انتظامیہ اور پولیس کے ڈھانچے میں تبدیلیوں کا
سلسلہ جاری ہے۔ ایک جانب ایک درجن سے زائد اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کے تبادلے اور
نئی تعیناتیاں عمل میں لائی گئی ہیں، تو دوسری جانب اعلیٰ پولیس افسران کے تبادلوں
اور تقرریوں کا بھی نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق چار پولیس افسران
کو اسلام آباد میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے؛ ہزارہ،
ملاکنڈ اور کوہاٹ کے ریجنل پولیس آفیسرز تبدیل کیے گئے ہیں، اور کئی اضلاع کے ڈی
پی اوز (ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز) سمیت کُل 18 افسران کے تبادلے کیے گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل
پولیس کے دستخط سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ ڈاکٹر فصیح
الدین اور ڈی آئی جی لیگل ہمایوں مسعود سندھو کو عہدوں سے ہٹا کر
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کوہاٹ کے ریجنل
پولیس آفیسر (آر پی او) عرفان طارق کو بھی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد رپورٹ
کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور ان کی جگہ شاکر حسین داور کو تعینات کیا گیا ہے۔
نوٹیفیکیشن کے
مطابق ملاکنڈ ریجن کے آر پی او سید فدا حسن شاہ کو صوبے کا ڈی آئی جی آپریشنز
لگا دیا گیا ہے۔
اسی طرح
مانسہرہ، سوات، کرک، چترال اور ہری پور کے ضلعی پولیس افسران (ڈی پی او) بھی تبدیل
کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب،
صوبائی بیوروکریسی میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
حکومت نے پشاور، مردان،
صوابی، چترال لوئر، دیر اپر، شانگلہ، ملاکنڈ، سوات، اپر سوات، بٹگرام، مانسہرہ،
ایبٹ آباد، ہری پور، چارسدہ، بنوں، لکی مروت اور کرک سمیت متعدد اضلاع کے
ڈپٹی کمشنروں کو تبدیل کرتے ہوئے انھیں ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو رپورٹ
کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کی جگہ نئے ڈپٹی کمشنر تعینات کیے گئے ہیں۔
امریکہ کا فضائی کمپنیوں کو سعودی عرب کی فضائی حدود کے بارے میں انتباہ
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
،تصویر کا کیپشنریاض میں کنگ خالد ایئرپورٹ (فائل فوٹو)
امریکی ہوابازی کے ادارے )فیڈرل
ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن، ایف اے اے) نے امریکی ایئرلائنز اور امریکی رجسٹریشن رکھنے
والے طیاروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی عرب آنے جانے یا اس کی فضائی حدود سے
گزرنے کے دوران غیر معمولی احتیاط برتیں۔
ادارے نے موجودہ صورتحال کو ’ممکنہ
طور پر خطرناک‘ قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ یہ خطرات ہر بلندی پر پرواز کرنے
والے طیاروں کو متاثر کر سکتے ہیں، خواہ وہ سعودی فضائی حدود سے گزر رہے ہوں،
لینڈنگ کی تیاری کر رہے ہوں یا ٹیک آف کر رہے ہوں۔
یہ ہدایت 10 دسمبر تک
مؤثر رہے گی۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں جاری کیا گیا
ہے جب ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سنیچر اور اتوار کو ہونے والے حملوں کے بعد
سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں میں 13 افراد
ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
دوسری
جانب سعودی دار الحکومت کے مرکزی ہوائی اڈے کی بندش میں بھی توسیع کی جا چکی ہے
اور تازہ فضائی اطلاع (نوٹم) کے مطابق ایئرپورٹ پیر
کی شام تک پروازوں کے لیے بند رہے گا۔
اسلام آباد پولیس کا ریپ کے جھوٹے مقدمات درج کرانے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
اسلام آباد پولیس نے ریپ کے جھوٹے
مقدمات درج کرانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق ڈی
آئی جی اسلام آباد علی وسیم نے اینٹی
ریپ ایکٹ کے تحت سات مقدمات کے مدعیان اور گواہان کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم
دے دیا ہے۔
پولیس کے مطابق ایسے افراد کے خلاف
کارروائی کی جائے گی جو ریپ جیسے سنگین جرم کے جھوٹے مقدمات درج کراتے ہیں یا بعد
میں بڑی رقوم کے عوض ملزمان کے حق میں بیانات دے کر مقدمات کے اخراج کا باعث بنتے
ہیں۔
ڈی آئی جی علی وسیم نے کہا کہ ریپ
جیسے حساس اور سنگین جرم کا جھوٹا الزام لگا کر ذاتی مفادات حاصل کرنے اور قانون
کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ان
کا کہنا تھا کہ اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت اس کارروائی کا مقصد قانون کے غلط استعمال
کی حوصلہ شکنی کرنا اور انصاف کی فراہمی کے نظام کو مؤثر بنانا ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کے چھ ہزار سے زائد شدت پسند افغانستان میں ہیں: پاکستان کا الزام
،تصویر کا ذریعہPTV
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا ہے کہ افغانستان میں 20 ہزار سے زائد شدت پسند
موجود ہیں جبکہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے چھ ہزار سے زائد جنگجو افغان
سر زمین پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔
انسداد دہشت گردی کے بدلتے ہوئے
منظرنامے پر اسلام آباد میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا
کہ پاکستان مختلف بین الاقوامی اور سفارتی فورمز پر افغان حکومت سے مطالبہ کرتا
رہا ہے کہ وہ اپنی سر زمین شدت پسندوں کو استعمال نہ کرنے دے۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ شدت
پسند افغان سر زمین پر محفوظ ٹھکانوں میں مقیم ہیں اور وہاں مختلف نوعیت کی تربیت
حاصل کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اس سے پہلے بھی یہ الزام لگا چکا ہے کہ شدت پسند افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان پر حملے کرتے ہیں یا حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، تاہم افغانستان میں طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان
افغانستان میں انتہا پسندی اور شدت پسندی کے خاتمے کا خواہاں ہے اور خطے میں امن و
استحکام کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
کانفرنس سے خطاب میں وزیر اطلاعات نے
کہا کہ پاکستان اس وقت شدت پسندی کے سنگین چیلنج کا سامنا کر رہا ہے، تاہم ملک نے شدت
پسندی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے کر نہ صرف اپنی بلکہ دنیا کی سلامتی کے
لیے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ شدت پسندی کے
خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور ملک کو 100 ارب ڈالر سے
زائد کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کو
انتہا پسندی کے چیلنج کا بھی سامنا ہے، لیکن ریاستی ادارے اور عوام مل کر اس خطرے
کے مقابلے کے لیے پرعزم ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ
اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر بھی کردار ادا کیا اور علاقائی امن و استحکام
کے لیے مثبت سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔
وزیر
اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ ایک پُر امن اور مستحکم افغانستان نہ صرف پاکستان
بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے، اور پاکستان خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے
اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
ترکی میں بس اور ٹرک کا تصادم، 11 افراد ہلاک، 27 زخمی
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
ترکی کے مغربی علاقے میں ایک مسافر
بس اور ٹرک کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، صوبہ
مانیسا کے گورنر آفس نے بتایا کہ یہ حادثہ سیاحتی شہر بورسا اور ساحلی شہر ازمیر کے
درمیان ایک شاہراہ کے داخلی مقام کے قریب پیش آیا۔
ترکی کے وزیر داخلہ مصطفیٰ چیفتچی نے
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امدادی ٹیمیں فوری طور پر
جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور وہ خود صورت حال کی نگرانی کر رہے ہیں۔
حادثے کے بعد لی گئی تصاویر میں
دیکھا جا سکتا ہے کہ بس سڑک کے کنارے حفاظتی رکاوٹوں پر چڑھی ہوئی ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق، تحقیقات کے
سلسلے میں بس اور ٹرک دونوں کے ڈرائیوروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان کی
جسمانی حالت کے بارے میں فی الحال کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
خیبر پختونخوا میں امن و امان اور انسدادِ دہشت گردی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے گورنر کی صدارت میں اجلاس
،تصویر کا ذریعہx.com/fkkundi
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم
کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور انسدادِ دہشت گردی کی
کوششوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں مشیر
برائے داخلہ کفایت اللہ خان، چیف سیکریٹری ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، انسپکٹر
جنرل پولیس ذوالفقار حمید اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری
بیان میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ حکومت پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی
ٹی ڈی) کو مزید مضبوط بنانے اور اہلکاروں کو درکار سہولیات اور معاونت فراہم کرنے
کے لیے پُرعزم ہے۔
انھوں
نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا پہلے ہی بہت قربانیاں دے چکا ہے اور حکومت کی اولین
ترجیح عوام کا تحفظ اور صوبے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔
نقاب پوش افراد رات تین بجے گھر میں داخل ہوئے اور اقرار الحسن کو ساتھ لے گئے: اہلیہ فرح اقرار کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہSocial Media
صحافی اور سیاسی
جماعت عوام راج تحریک کے بانی اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے دعویٰ کیا ہے کہ نا معلوم افراد اتوار اور سوموار کی درمیانی شب، تقریباً تین بجے، لاہور میں ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کے شوہر کو ’اغوا کر کے
لے گئے۔‘
فرح اقرار کے مطابق اقرار الحسن کو
اپنے ساتھ لے جانے والے افراد گھر سے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر
اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی لے گئے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر اپ
لوڈ کی گئی ویڈیو میں فرح اقرار نے کہا کہ رات وہ سو رہی تھیں جب دروازے کی گھنٹی مسلسل
بجنے لگی، جس پر وہ دیکھنے کے لیے باہر آئیں۔
ان کے بقول جب انھوں نے ٹیرس سے نیچے
جھانک کر دیکھا تو ’چند افراد گھر کے صحن میں اور چند باہر موجود تھے۔‘
فرح کا کہنا ہے کہ اُن افراد نے
چہروں پر ماسک پہن رکھے تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ ’اقرار کو باہر نکالو۔‘
فرح اقرار کے مطابق بعد ازاں یہ
افراد نچلا دروازہ توڑ کر گھر کے اندر داخل ہوئے اور اوپر آ گئے۔
فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں فرح
کا کہنا تھا کہ اِن افراد کے ساتھ خواتین بھی موجود تھیں، جن کے بازوؤں پر انھوں
نے ’این سی سی آئی اے‘ لکھا ہوا دیکھا۔
واضح رہے کہ ’این سی سی آئی اے‘
پاکستان کے سرکاری ادارے نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کا مخفف ہے۔
فرح اقرار نے دعویٰ کیا کہ جب ان کے
شوہر نیند سے بیدار ہو کر باہر آئے تو گھر آنے والے افراد نے انھیں پکڑ لیا اور ’اغوا
کر کے لے گئے۔‘
بی بی سی کی
لاہور میں موجود نامہ نگار ترہب اصغر سے گفتگو میں فرح اقرار نے بتایا کہ مذکورہ افراد کے جانے کے
بعد وہ اقرار الحسن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے این سی سی آئی اے کے
دفتر بھی گئیں، تاہم انھیں بتایا گیا کہ متعلقہ عملہ اس وقت موجود نہیں اور وہ صبح
10 بجے دفتر کھلنے کے بعد آئیں۔
ان کے مطابق، اس کے بعد لاہور کے تھانہ ڈیفنس میں ایف آئی آر (فرسٹ انفارمیشن رپورٹ) درج کرانے کی کوشش کی گئی لیکن وہاں بھی ان کی درخواست وصول نہیں کی گئی۔
بی بی سی سے گفتگو میں فرح اقرار نے
بتایا کہ درخواست وصول کرنے اور مقدمہ درج کرنے پر اصرار پر پولیس
نے انھیں بتایا کہ انٹرنیٹ سروس دستیاب نہیں، اس لیے اس وقت کارروائی ممکن نہیں۔
ان کے بقول پولیس کا کہنا تھا کہ ڈی
آئی جی آفس کی جانب سے انٹرنیٹ بند ہے۔
فرح اقرار کے مطابق مسلسل اصرار کے بعد
پولیس نے ایک رسید پر تحریری طور پر درج کر دیا کہ ’انٹرنیٹ کی بندش کے باعث
درخواست کو سسٹم میں ٹیگ نہیں کیا جا سکتا۔‘
فرح اقرار نے کہا کہ تا حال انھیں یہ
معلوم نہیں کہ ’اقرار کہاں ہیں، انھیں کون اپنے ساتھ لے کر گیا اور وہ کس کی تحویل
میں ہیں۔‘
ان کے مطابق اہلِ خانہ کے لیے یہ طے
کرنا بھی مشکل ہے کہ یہ ’گرفتاری کا معاملہ ہے یا اغوا کا، کیونکہ گھر آنے والے
افراد سادہ لباس میں ملبوس تھے اور انھوں نے اپنے چہروں پر ماسک پہن رکھے تھے۔‘
لاہور میں بی بی سی کی نمائندہ ترہب
اصغر سے گفتگو میں فرح اقرار کا کہنا تھا کہ اہلِ خانہ نے بار ہا ان افراد سے
پوچھا کہ آیا ان کے پاس گرفتاری کے وارنٹ موجود ہیں اور وہ کس ادارے سے تعلق رکھتے
ہیں، تاہم ان کی جانب سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی انھوں نے اپنی
شناخت ظاہر کی۔
دوسری جانب اقرارالحسن کے وکیل میاں
اشفاق علی نے بی بی سی کو بتایا کہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ اقرارالحسن کو کس
مقدمے میں حراست میں لیا گیا ہے۔
ان
کا کہنا تھا کہ اقرارالحسن کے ’اغوا‘ کی ایک درخواست جمع کرانے کی کوشش کی گئی
تھی، تاہم حکام نے اسے وصول نہیں کیا۔
ایران نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے آمادگی ظاہر کر دی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران
کی جانب سے سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے
آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
یہ آمادگی انھوں نے سعودی عرب کے
وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں ظاہر کی۔
یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب
پر حملوں میں شدت آنے کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان یہ پہلی رپورٹ
شدہ بات چیت ہے۔
حوثیوں نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران
کئی مرتبہ سعودی عرب کو نشانہ بنایا ہے۔ سنیچر کے روز ریاض کے بین الاقوامی ہوائی
اڈے پر ہونے والے حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
یہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں
سعودی عرب میں ہونے والا سب سے مہلک حملہ تھا۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے اور آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی،
یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافے اور خطے میں آئل ٹینکروں
پر حملوں کے باعث تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات مزید بڑھ چکے ہیں۔
اسی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافے
کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 76 سینٹ
اضافے، یعنی 0.73 فیصد، کے بعد 105 ڈالر 48 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ امریکی
ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 59 سینٹ اضافے، یعنی 0.64 فیصد، کے بعد
92 ڈالر 44 سینٹ تک پہنچ گئی۔
ستمبر میں مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی
برآمدات بڑھی تھیں، تاہم حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں پر ہونے
والے عملے برآمدات کا یہ عمل متاثر کر سکتے ہیں۔
برطانوی تنظیم میری ٹائم ٹریڈ
آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے رپورٹ کیا ہے کہ عمان کے قریب ایک آئل ٹینکر ڈرون
حملے کا نشانہ بنا، جبکہ آبنائے ہرمز عبور کرنے والے ایک اور آئل ٹینکر پر میزائل
حملہ کیا گیا۔
اسی دوران پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ
نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں کے سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے اور آگ
لگنے کی اطلاع دی ہے۔ پاسداران کے مطابق یہ آئل ٹینکر غیر مجاز راستوں سے گزرتے
ہوئے بارودی سرنگوں سے ٹکرائے۔
پاسدارنِ انقلاب نے یہ بھی خبردار
کیا ہے کہ وہ جہاز جو آبنائے ہرمز میں اپنے نیویگیشن اور شناختی نظام بند کریں گے،
انھیں مخالف تصور کیا جائے گا اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ حوثیوں کی
جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آنے کے بعد بھی دیکھنے میں آیا۔ سنیچر اور
اتوار کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں میں 14 افراد ہلاک
اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ
واشنگٹن حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شمولیت کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔
ٹرمپ کا روس اور یوکرین میں ’انرجی سیز فائر‘ کا دعویٰ: زیلنسکی کا خیر مقدم، روس خاموش
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا
ہے کہ روس اور یوکرین ایک ’انرجی سیز فائر‘ پر متفق ہو گئے ہیں۔ یعنی دونوں ممالک
نے اتفاق کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے نہیں کریں گے۔
کیئو کا کہنا ہے کہ وہ ایسے اقدام کی
حمایت کرے گا، تاہم ماسکو نے تا حال اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
امریکی صدر نے اصرار کیا کہ یہ جنگ بندی
’فوری طور پر‘ مؤثر ہو چکی ہے، تاہم انھوں نے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے
ابتدا میں اس اعلان پر حیرت کا اظہار کیا، لیکن بعد میں کہا کہ اگر ماسکو اس کی
حمایت کرتا ہے تو کیئو بھی اس کی حمایت کرے گا۔
زیلنسکی نے امریکی نیوز ویب سائٹ
ایگزیوس سے گفتگو میں کہا کہ انرجی سیز فائر کی اطلاع ان کے لیے ’خبر‘ تھی، قبل
ازیں انھوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ان کے حکام ’روس کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات
کی واضح تفصیلات کے منتظر ہیں۔‘
انھوں نے کہا: ’یوکرین روسی توانائی
تنصیبات پر حملہ نہ کرنے کے لیے تیار ہے اور ہم روس کی جانب سے بھی اسی طرح کی
آمادگی کے منتظر ہیں۔‘
بی بی سی نے مزید تفصیلات کے لیے
وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔
سابق صدر عارف علوی کی ایمرجنسی اور گورنر راج پر تنقید، ’یہ جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ہے‘
پاکستان کے سابق صدر عارف علوی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور صوبائی حکومت کی معطلی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے ’جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل‘ قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں عارف علوی نے کہا کہ جس صوبے کے ’دو تہائی مینڈیٹ کو چرایا نہ جا سکا‘، اسے اسلام آباد کی ’غیر نمائندہ اور جعلی حکومت‘ نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو ہٹانے کا حق صرف خیبر پختونخوا کے عوام کو حاصل تھا۔
سابق صدر نے دعویٰ کیا کہ تمام اطلاعات کے مطابق اس بحران کی واحد وجہ سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات تھی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کے پیغام کو عوام تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ذاتی عناد ملک کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
عارف علوی نے اپنے بیان میں ملک میں سیاسی کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک پر بھی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ منتخب پی ٹی آئی نمائندوں کو اغوا اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ قانون کی حکمرانی کمزور پڑ رہی ہے۔
انھوں نے بلوچستان اور کشمیر کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی پالیسی اب خیبر پختونخوا تک پھیلائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور اس کے حامی پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
سابق صدر نے کہا کہ عمران خان تشدد کے خلاف ہیں اور ان کی جماعت ہر صورت آئینی اور پرامن راستہ اختیار کرے گی۔ اپنے پیغام کے اختتام پر انھوں نے حکومت کے اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ عمران خان اور ان کے حامی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے آج اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا
،تصویر کا ذریعہPID
گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، سکیورٹی چیلنجز اور انتظامی امور کا جائزہ لینے کے لیے آج (پیر کو) اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔
گورنر ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں سکیورٹی اداروں، سول انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس کے دوران صوبے میں امن و امان کی موجودہ صورتحال، دہشت گردی کے واقعات، سرحدی علاقوں کی سکیورٹی اور ایمرجنسی و گورنر راج کے نفاذ کے بعد انتظامی معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی جبکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور حکومتی رٹ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا جائے گا۔
یہ اجلاس ایسے وقت طلب کیا گیا ہے جب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سیاسی اور انتظامی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلوں اور آئندہ کے لائحۂ عمل کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اپیکس کمیٹی صوبے میں سول و عسکری قیادت کے درمیان رابطے کا اہم فورم سمجھی جاتی ہے اور اس کے اجلاسوں میں امن و امان، انسدادِ دہشت گردی اور سکیورٹی سے متعلق امور پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔
آئین اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دینا ناگزیر ہو گیا تھا، محسن نقوی کی وضاحت
،تصویر کا ذریعہPresident House
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں نے خیبرپختونخوا حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت کے ساتھ پارلیمانی رابطوں، براہِ راست مذاکرات اور پسِ پردہ سفارت کاری سمیت تمام ممکنہ ذرائع آزمائے، تاہم تعاون کی راہ ہموار نہ ہو سکی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھانے والے صوبوں میں شامل رہا ہے، جہاں سکیورٹی فورسز اور شہریوں نے امن کے قیام کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول ایسے حالات میں تصادم کے بجائے تعاون کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنخیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پشاور میں ریڈ زون جانے والے پل پر ایک پولیس اہلکار آنسو گیس لانچر کے ساتھ پہرہ دے رہا ہے
انھوں نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کوئی سیاسی فیصلہ یا آسان قدم نہیں تھا، بلکہ زمینی حقائق کے پیشِ نظر ایک مشکل آئینی اقدام تھا۔ محسن نقوی کے مطابق جب تعاون کے تمام راستے ختم ہو جائیں تو آئین اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دینا ضروری ہو جاتا ہے۔
وزیر داخلہ نے اپنے بیان کے اختتام پر پاکستان کے لیے امن و استحکام کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ملک کو محفوظ رکھے اور قوم کو پائیدار امن سے نوازے۔
پی ٹی آئی کا وزیراعلیٰ سمیت متعدد رہنماؤں کی گرفتاری کا دعویٰ، خیبرپختونخوا میں بڑے پیمانے پر انتظامی تبادلے, بلال احمد، بی بی سی اردو، پشاور
،تصویر کا ذریعہPID
پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ پارٹی کے دیگر سینیئر رہنما بھی حراست میں لے لیے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری اکرام کھٹانہ کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں صوبائی صدر جنید اکبر، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک بھی شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ خیبرپختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ پر حملہ ہے اور منتخب عوامی نمائندوں کی گرفتاری قابل مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کارکن جلد سڑکوں پر ہوں گے کیونکہ صوبائی صدر پہلے ہی اس حوالے سے ہدایات جاری کر چکے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہPID
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبے میں امن و امان اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سکیورٹی اداروں اور صوبائی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں مشیر داخلہ کفایت اللہ خان، چیف سیکرٹری ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم امجد علی خان، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ محمد کاشف عالم، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید، جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل آئی بی ارشد علی خان سمیت دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران گورنر کو صوبے میں امن و امان، انسداد دہشت گردی اقدامات اور مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ موجودہ حالات کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا کہ صوبے بھر کے تعلیمی ادارے آج بند رکھے جائیں گے۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ پشاور میں نصب کنٹینرز کو مرحلہ وار ہٹایا جائے گا، جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی ضرورت کے مطابق جزوی طور پر بحال کی جائے گی تاکہ معمولاتِ زندگی بتدریج بحال ہو سکیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے انتظامیہ اور پولیس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کے باوجود کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کا پیش نہ آنا خوش آئند ہے۔
انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
،تصویر کا ذریعہPID
صوبے میں انتظامی تبدیلیاں
دوسری جانب گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی بیوروکریسی اور پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک درجن سے زیادہ ڈپٹی کمشنروں کو تبدیل کرتے ہوئے انھیں ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تبادلوں کی زد میں آنے والے افسران میں واصف رحمان (مردان)، طارق اللہ (صوابی)، مقبول حسین (چترال لوئر)، منظور آفریدی (دیر اپر)، عبداللہ شاہ (شانگلہ)، فیاض شیرپاؤ (ملاکنڈ)، سلیم جان (سوات)، سہیل احمد (اپر سوات)، محمد شعیب (بٹگرام)، خالد اقبال (مانسہرہ)، سرمد سلیم (ایبٹ آباد)، اصلاح الدین (ہری پور)، کیپٹن ثناء اللہ (پشاور)، فضل رحیم (چارسدہ)، محمد فہیم (بنوں)، حمیداللہ (لکی مروت) اور اسد سرور (کرک) شامل ہیں۔
حکومت کی جانب سے متعدد اضلاع میں نئے ڈپٹی کمشنر بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔ ان میں شاہ سعود کو مردان، نصر اللہ کو صوابی، وسیم احمد کو ہری پور، احسان اللہ کو چترال لوئر، عارف خان کو ملاکنڈ، دلنواز خان کو دیر اپر، شہریار قمر کو اپر سوات، گوہر علی کو بٹگرام، یاسر علی کو مانسہرہ، میاں بہزاد عادل کو ایبٹ آباد، شاہد رفیق کو لکی مروت، منصور ارشد کو چارسدہ، آفاق وزیر کو پشاور، ضیاء الرحمان کو بنوں اور عدنان ابرار کو سوات کا ڈپٹی کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں: حوثی ترجمان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یمن کے حوثی گروہ نے ہفتے کے روز سعودی عرب کے شہر ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے اور اپنی اس تنبیہ کو دہرایا ہے کہ لوگ سعودی عرب کے ایئرپورٹس کا استعمال نہ کریں۔
حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلی گرام پر کہا کہ یہ کارروائی ’ہمارے ملک اور ہمارے عوام کے خلاف سعودی جارحیت‘ کے جواب میں کی گئی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں کے زیرِ کنٹرول یمنی علاقوں پر 124 فضائی حملے کیے۔
سریع کے مطابق حوثیوں نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چار کارروائیاں کیں، جن میں کنگ خالد ایئرپورٹ پر تین مراحل میں حملے، شُگدم گیس فیسلٹی پر حملہ، آرامکو کی تنجیب آئل ریفائنری پر حملہ اور دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ شامل ہیں۔
حوثیوں کے ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا: ’ہم تمام بین الاقوامی کمپنیوں، ماہرین، ملازمین، کارکنوں اور دنیا بھر سے سفر کرنے والوں کے لیے اپنی تنبیہ دوبارہ دہراتے ہیں کہ وہ سعودی ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں نہ چلائیں کیونکہ وہ محفوظ نہیں ہیں، سوائے مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود کے۔‘
گذشتہ روز کی اہم خبریں
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر شدید ردعمل دیا جا رہا ہے۔ صوبے میں پی ٹی آئی کے جنوبی ریجن کے صدر شاہد خٹک نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’کوئی کسی لیڈر کا انتظار نہ کرے نکلو پشاور کی طرف۔‘
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان اب بھی برقرار ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ انھیں پی ٹی آئی نے بتایا تھا کہ مطالبات پورے ہونے کی صورت میں وہ اپنا لانگ مارچ ختم کرنے کو تیار ہیں۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے ریاض ایئرپورٹ پر ’حوثیوں کے حملے‘ کی مذمت کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اس میں چھ پاکستانی شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاض پر کیے گئے حملے کو ’ہولناک‘ قرار دیتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف فوجی مداخلت پر غور کر سکتے ہیں۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں
خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی
بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔