بلوچستان میں اغوا کے بعد پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو بس مسافروں سمیت 11 افراد قتل

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نامعلوم افراد کی طرف سے بس کو اغوا کرنے کے بعد پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو افراد سمیت کل 11 افراد کو قتل کر دیا گیا اور اس واقعے میں پانچ مسافر زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ایس ایس پی نوشکی اللہ بخش بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ نوشکی شہر سے اندازاً چھ کلومیٹر پہلے سلطان چڑھائی کے علاقے میں پیش آیا۔

خلاصہ

  • بلوچستان میں اغوا کے بعد پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو بس مسافروں سمیت 11 افراد کو قتل کر دیا گیا
  • بلوچستان میں حزب اختلاف کی چھ جماعتوں نے ’تحفظ آئین پاکستان‘ کے نام سے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے
  • پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب رمدے نے کہا ہے کہ’14 تاریخ کو ہم واشنگٹن جا رہے ہیں جہاں آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کے خدوخال پر مذاکرات کریں گے۔‘
  • سینیٹ کے نو منتخب چیئرمین یوسف رضا گیلانی اور ڈپٹی چیئرمین کے اپنے عہدوں کے حلف اٹھا لیے ہیں
  • پی ٹی آئی نے اس الیکشن کو ’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’سینیٹ میں وفاق کی تمام اکائیوں کی نمائندگی کے بغیر چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ناقابلِ قبول ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, بلوچستان میں اغوا کے بعد پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو بس مسافروں سمیت 11 افراد قتل, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    BUS

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نامعلوم افراد کی طرف سے کی جانے والی فائرنگ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو افراد سمیت کل 11 افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔

    ایس ایس پی نوشکی اللہ بخش بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ نوشکی شہر سے اندازاً چھ کلومیٹر پہلے سلطان چڑھائی کے علاقے میں پیش آیا۔

    پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک بس سے اتارنے کے بعد انھیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے کے پہاڑی علاقے میں مسلح شرپسندوں نے کوئٹہ سے تفتان جانے والی ایک بس کو روکا۔

    انھوں نے بتایا کہ اس بس سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو افراد کو اتارا گیا، جنھیں کچھ فاصلے پر لے جانے کے بعد فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے مسافروں کا تعلق پنجاب کے علاقے منڈی بہاِؤالدین اور دیگر دو علاقوں سے تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد کوئٹہ سے تفتان جانے کے لیے مسافر بس میں بیٹھے تھے۔ ایس ایس پی نوشکی نے بتایا کہ انہی شرپسندوں کی طرف سے سلطان چڑھائی کے علاقے میں ایک اور گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ گاڑی کے نہ رکنے پر شرپسندوں نے گاڑی پر فائرنگ کی تھی جس کے باعث گاڑی ایک کھائی میں گر گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ اور گاڑی کو پیش آنے والے حادثے کے باعث گاڑی میں سوار دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔

    ان کے مطابق فائرنگ کا نشانہ بننے والی گاڑی میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کا تعلق ضلع نوشکی کے علاقے کیشنگی سے ہے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نوشکی میں بیگناہ مسافروں کے قتل کی مذمت کی ہے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ ملوث دہشت گردوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ مسافروں کا قتل غیر انسانی فعل اور ناقابل معافی جرم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔‘

    صوبائی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ نہتے اور معصوم افراد پر بزدلانہ حملوں میں ملوث دہشت گردوں کا پیچھا کریں گے اور ان دہشت گردوں کا قلع قمع کرکے دم لیں گے۔

  2. حزب اختلاف کی چھ جماعتوں کا ’تحفظ آئین پاکستان‘ کے نام سے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    کوئٹہ میں جمعے اور سنیچر کی درمیانی رات کو چھ جماعتی متحدہ اپوزیشن جماعتوں نے ملک گیر تحفظ آئین پاکستان تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔

    تحریک انصاف کے سینیئر رہنما عمر ایوب نے کہا کہ ’اپوزیشن کے متحدہ جماعتوں کا دوسرا اجلاس ہوا ہے، جس کا مقصد اتحاد کو عملی جامعہ پنانا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان میں فام 47کی بیساکھیوں پر قائم حکومت مسترد کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ’جس ملک میں آئین اور قانونی کی بالادستی نہیں ہوگی تو ملک ترقی نہیں کرسکتا۔‘

    ان کے مطابق اس وقت ملک میں دوقوانیں چل رہے اس کو ہم ختم کرنا چاہتے ہیں، ملک میں پارلیمان کی بالادستی چاہتے ہیں۔

    عمر ایوب نے کہا کہ اس تحریک کے صدر محمود خان اچکزئی ہوں گے۔ طلبہ، وکلا، ٹریڈ یونین اور دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی رابطے کیے جائیں گے۔ اس تحریک کے دوران لاپتہ افراد اور مہنگائی سمیت تمام مسائل پر ہم بات کریں گے۔

  3. ریاستی ادارے ملک سے افراتفری اور انارکی ختم کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں: احسن اقبال

    AHSEN IQBAL

    ،تصویر کا ذریعہRADIO PAKISTAN

    وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے ریاستی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ملک سے افراتفری اور انارکی کو دور رکھنے کے لیے زیادہ عزم کا مظاہرہ کریں۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق جدہ میں اپنے اعزاز میں دیے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کے ہر ادارے کو اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ مزید افراتفری اور انارکی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ 70000 پوائنٹس کی رکاوٹ کو عبور کر چکی ہے جو اس بات کی گواہی ہے کہ معیشت درست سمت میں جا رہی ہے۔

    احسن اقبال نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی دوست ممالک پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہے ہیں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ وہاں رہ کر ’سیلز ایجنٹ‘ کا کردار ادا کریں اور مارکیٹوں کو پاکستانی مصنوعات سے بھر دیں۔

  4. عید کی چھٹیوں میں سپریم کورٹ کے جسٹس یحییٰ آفریدی اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط کے مقدمے سے بینچ سے الگ ہو گئے

    SC

    ،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT

    عدالفطر کی چھٹیوں کے دوران پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس یحییٰ آفریدی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط کے معاملے پر ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والے سات رکنی بینچ سے خود کو الگ کر لیا ہے۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے ججز کے خط کے معاملے پر ازخود نوٹس کی پہلی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کیا گیا ہے۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے خود کو ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والے بینچ سے علیحدہ کرنے کے ساتھ اضافی نوٹ بھی لکھا۔

    جسٹس آفریدی نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ ہائی کورٹس آئین کے تحت آزاد عدالتیں ہیں، آرٹیکل 184/3 ہائی کورٹس کی آزادی پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ انھوں نے مزید لکھا کہ ’از خود نوٹس اچھی نیت سے لیا گیا لیکن از خود نوٹس سے ہائی کورٹس اور ان کے چیف جسٹسز کی آزادی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘

    اس سے قبل جسٹس ریٹائرتصدق جیلانی کے انکوائری کمیشن کی سربراہی سے معذرت کے بعد چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے چھ ججز کے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط ارسال کرنے پرازخودنوٹس لیا تھا۔

    ججز کی طرف سے عدالتی امور میں مداخلت، اہل خانہ، رشتہ داروں اور دوستوں کے ذریعے دباؤ ڈالنے اور مختلف طریقوں سے اثرانداز ہونے کے ایجنسیوں پر الزامات پر مبنی خط کا ازخود نوٹس لے رکھا ہے۔

    اس معاملے پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ ’چھ ججز کے خط میں اٹھائے گئے معاملات سپریم جوڈیشل کونسل کے ضابطہ اخلاق میں دیکھے جانے چاہئیں، میں خود کو از خود نوٹس کے بینچ سے الگ کرتا ہوں۔‘

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا معاملہ ہے کیا؟

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز نے 25 مارچ کو عدلیہ پر ’دباؤ‘ سے متعلق خط میں سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کیا کہ آئی ایس آئی کے نمائندوں کی عدالتی امور میں مسلسل مداخلت پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔

    یہ خط میڈیا پر 26 مارچ کی شام کو سامنے آیا، جس میں نچلی عدالتوں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز پر دباؤ کے بارے میں چند واقعات کا ذکر شامل کیا گیا ہے۔ اس خط میں نچلی عدالت کے ایک جج کی شکایت کا بھی قصہ شامل ہے جس نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے آئی ایس آئی اہلکاروں کی شکایت لگائی اور پھر بعد میں اس سیشن جج کو او سی ڈی بنا دیا گیا۔

    خط میں ججز نے لکھا کہ جوڈیشل کنونشن سے پتا چلے گا کہ کیا ملک کی دیگر ہائیکورٹ کے ججز کو بھی اس صورتحال کا سامنا ہے۔

    اس خط میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ میں رہنمائی نہیں دی گئی ہے کہ ایسی صورتحال میں ججز کیسے رد عمل دیں؟ اور اس کے علاوہ یہ بھی واضح نہیں کہ ججز اس طرح کی مداخلت کو کیسے ثابت کریں۔

    اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ادارہ جاتی ’رسپانس‘ کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ دس مئی سنہ 2023 کو ہائیکورٹ ججز نے چیف جسٹس کو خط لکھا کہ آئی ایس آئی والوں کی مداخلت پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

    اس خط میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو انٹیلی جنس ادارے کی مداخلت کا بتانے پر 11 اکتوبر 2018 کوعہدے سے برطرف کیے جانے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

  5. بلوچستان حادثہ: ’ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی عمریں 15 سے 55 سال کے درمیان ہیں‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    شاہ نورانی حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    ،تصویر کا کیپشنشاہ نورانی کراس سے شاہ نورانی تک کا علاقہ ایک دشوار گزار علاقہ ہے

    بلوچستان کے ضلع حب میں زائرین سے بھرے ٹرک کو گزشتہ رات پیش آنے والے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔

    بدھ کی شب ویر آب کے علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے میں 40 سے زیادہ زائرین زخمی ہوگئے تھے جن کو علاج کی غرض سے کراچی منتقل کیا گیا۔ حادثے کا شکار تمام افراد کا تعلق صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹہ سے ہے۔

    اے ایس پی حب احمد طلحہ نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ ضلع ٹھٹہ کے گاؤں متھلی سے تعلق رکھنے والے زائرین ایک ٹرک میں ضلع خضدار کے علاقے میں واقع معروف درگاہ شاہ نورانی جارہے تھے۔

    ان کا کہنا تھا زائرین کی گاڑی نورانی کراس سے شاہ نورانی کی جانب جاتے ہوئی ویر آب کے علاقے میں حادثے سے دوچار ہوگئی۔

    اے ایس پی احمد ولی کا کہنا تھا کہ ویرآب کے علاقے میں موڑ کاٹتے ہوئے زائرین کی گاڑی ایک گہری کھائی میں جاکر گری۔ اس حادثے میں کم ازکم 17 افراد ہلاک جبکہ 40 زخمی ہوگئے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ زخمیوں کو حب میں طبی امداد کی فراہمی کے بعد مزید علاج معالجے کے لیے کراچی منتقل کیا گیا جبکہ ہلاک ہونے والوں میں افراد کی لاشوں کو شناخت کے بعد ان کے ورثا کے حوالے کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی عمریں 15سال سے 55 سال کے درمیان ہیں اور ان سب کا تعلق ایک ہی گاؤں سے ہے۔

    واضح رہے کہ شاہ نورانی کا مزار حب سے متصل بلوچستان کے دوسرے ضلع خضدار کے ایک دشوار گزار پہاڑی علاقے میں واقع ہے۔

    حب کے سینیئر صحافی اسماعیل ساسولی نے بی بی سی کو بتایا کہ جائے وقوعہ حب شہر سے شمال مشرق میں اندازاً 55 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    اسماعیل ساسولی نے بتایا کہ اس مزار پر ہر سال زائرین کی ایک بہت بڑی تعداد سندھ سے آتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شاہ نورانی کراس سے لیکر شاہ نورانی تک کا علاقہ ایک دشوار گزار علاقہ ہے جہاں باہر سے آنے والے ڈرائیوروں کو راستے کے بارے میں معلومات زیادہ نہ ہونے اور سڑک کے ٹوٹنے کے باعث حادثات پیش آتے رہتے ہیں جبکہ علاقے میں کمیونیکیشن کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ دشوار گزار علاقے میں حادثے کی صورت میں رابطے وغیرہ کے مسائل کے ریسکیو میں بعض اوقات تاخیر ہوتی ہے جس کے باعث انسانی جانوں کا ضیاع زیادہ ہوتا ہے۔

  6. لسبیلہ کے قریب زائرین کے ٹرک کو حادثہ: 17 افراد ہلاک، 50 سے زائد زخمی

    ٹرک حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab/PTV

    وزیر اعلیٰ سندہ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے علاقے لسبیلہ کے قریب زائرین کے ٹرک کو حادثے کے نتیجے میں 17 افراد ہوئے ہیں۔

    وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے ٹراما سینٹر کراچی میں زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’اس حادثے کے شکار ہونے والے 52 زخمیوں کو یہاں منتقل کیا گیا جس میں سے 40 کو ڈسچارج کر دیا گیا جبکہ پانچ کو سر پر شدید چوٹ آئی ہے جو وینٹی لیٹر پر ہیں۔‘

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سندھ کے علاقے ٹھٹھہ سے زائرین کا ٹرک بلوچستان میں واقع درگاہ شاہ نورانی کی زیارت کو جا رہا تھا کہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ حادثے میں شدید زخمیوں کو امدادی کارروائیوں کے دوران سول ہسپتال کراچی منتقل کیا گیا تھا۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ زیر علاج افراد میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’پوری کوشش ہے کہ ان زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔‘

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’حادثے سے متعلق ابھی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں اس کی تحقیقات بلوچستان کی حکومت کرے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سارے کے سارے بہت غریب لوگ تھے اور پتھر توڑنے والے (کرشنگ) مزدورتھے۔ اس وقت ہمارے قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران ہلاک ہونے والوں کے گاؤں میں موجود ہیں۔‘

  7. کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد شہروں میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے مظاہرے, محمد کاظم، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے متعدد شہروں میں عیدالفطر کے روز مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کی بازیابی کے لیے احتجاجی ریلیاں نکالی گئی ہیں۔

    کوئٹہ میں اس سلسلے میں احتجاجی ریلی ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب سے نکالی گئی۔ ریلی کے شرکا کے ہاتھوں میں لاپتہ افراد کی تصویروں کے علاوہ پوسٹرز تھے جن پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے مطالبات درج تھے۔

    ریلی کے شرکا مختلف شاہراؤں سے ہوتے ہوئے پریس کلب واپس پہنچے جہاں احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے سے مبینہ طور پر لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی ایک بڑی تعداد نے خطاب کیا جن میں ایک 9 سالہ بچی معصومہ بھی شامل تھی۔

    معصومہ نے کہا کہ وہ تین ماہ کی تھیں جب ان کے والد جہانزیب بلوچ کو 2016 میں کلی قمبرانی سے مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ’اب میری عمر 9 سال ہے۔ میں نے اپنے والد کو نہیں دیکھا۔ عید کے مواقع پر دوسری بچیاں اپنے والدین کے ساتھ شاپنگ کے علاوہ پارکوں میں جاتی ہیں۔ میں کس کے ساتھ شاپنگ کے لیے جاؤں اور کون مجھے گھومنے کے لیے پارک لے جائے گا؟‘

    انھوں نے اپنے ہاتھ میں موجود نئے کپڑوں اور جوتوں کو اوپر اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’میری دادی والد کے لیے ہر عید پر نئے کپڑے سلوانے کے علاوہ نئے چپل اس امید کے ساتھ خریدتی ہیں کہ کہیں میرے والد عید کی شب بازیاب ہو کر آ جائیں تو ان کی عید نئے کپڑوں اور جوتوں کے بغیر نہ ہو۔‘

    انھوں نے اپنے والد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

    اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کا احتجاج دو دہائیوں سے جاری ہے لیکن گذشتہ 16سال سے وہ ہر عید پر بھی اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان سے ہزاروں افراد جبری طورپر لاپتہ کیے گئے ہیں، جس کے باعث ایسے افراد کے اہلخانہ ایک نہ ختم ہونے والی اذیت سے گزر رہے ہیں۔

    ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ’ہمارا مطالبہ سادہ ہے اور وہ یہ کہ اگر لاپتہ افراد نے کوئی جرم کیا ہے تو ریاستی قوانین کے تحت ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے، اور اگر وہ بے گناہ ہیں تو ان کو فوری طور پر بازیاب کروایا جائے۔‘

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بھی کوئٹہ میں احتجاجی ریلی اور جلسے میں شریک تھیں۔ اس موقع پر اُن کا کہنا تھا کہ آج کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 25 شہروں میں لاپتہ افراد کی بازیابی اور جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئی ہیں۔

    تصویر

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ریاستی ادارے لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں، جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران مزید 25 افراد کو مبینہ طور پر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ کراچی میں دو لاپتہ افراد کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔‘

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ ’آج پوری دنیا میں لوگ عید کی خوشیاں منا رہے ہیں لیکن لاپتہ افراد کے رشتہ دار عید پر بھی سڑکوں پر اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج پر مجبور ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگی کے کرب اور اذیت کی شدت صرف وہ لوگ محسوس کر سکتے ہیں جن کو کوئی پیارا لاپتہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ ’ریاستی ادارے لاپتہ افراد کے مسئلے کو سنجیدہ لینے اور اس کو حل کرنے کی بجائے اسے متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک ایک فرد بھی جبری گمشدگی کا شکار ہو گا اس وقت تک لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کے احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔‘

    اگرچہ لاپتہ افراد کے رشتہ دار جبری گمشدگیوں کا الزام ریاستی اداروں پر لگاتے ہیں لیکن سرکاری حکام ماضی میں متعدد بار ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے رہے ہیں۔

    سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ بعض تنظیمیں اور عناصر لاپتہ افراد کے حوالے سے ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کر کے اُن کو بدنام کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔

  8. اڈیالہ جیل میں عمران خان سے اظہار یکجہتی کے لیے جانے والے پی ٹی آئی کارکنان جیل کی ویڈیوز بنانے کے الزام میں زیر حراست, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/PTI

    روالپنڈی پولیس نے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کرنے اور ویڈیوز بنانے کے الزامات کے تحت پاکستان تحریک انصاف کے چھ کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

    اڈیالہ جیل حکام کے مطابق یہ افراد عید کے روز جیل میں مقید سابق وزیراعظم عمران خان سے اظہار یکجہتی کے لیے یہاں پہنچے تھے۔

    گرفتاری کے بعد جیل انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مظاہرین جیل کے گیٹ نمبر پانچ کے سامنے کھڑے ہو کر جیل کی ویڈیوز بنا رہے تھے۔ پولیس نے ویڈیو بنانے والے کارکنوں کو حراست میں لے کر اڈیالہ جیل چوکی منتقل کر دیا ہے تاہم ان زیرحراست افراد کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔

    جیل حکام کے مطابق پی ٹی آئی کارکنان گیٹ نمبر ایک پر احتجاجی مظاہرے کے بعد جیل کے گیٹ نمبر پانچ گئے تھے اور جیل رولز کے مطابق غیر متعلقہ افراد کا جیل اور اس کے اطراف کی ویڈیوز بنانا قابل تعزیر جرم ہے۔

    دوسری جانب سابق وزیر اعظم کی اہلیہ بشری بی بی کی عدالتی احکامات پر عید کے روز ان کے شوہر سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کروائی گئی ہے۔

    جیل حکام کے مطابق یہ ملاقات ایک گھنٹہ جاری رہی جس کے بعد بشری بی بی کو بنی گالہ میں واقع سب جیل واپس منتقل کر دیا گیا۔

  9. وزیراعظم شہباز شریف کی بحرین کے بادشاہ سے گفتگو، پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

    وزیرِاعظم شہباز شریف نے بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ کو عیدالفطر کی مبارکباد دیتے ہوئے انھیں پاکستان کے دورے کی دعوت دی ہے۔

    وزیراعظم ہاؤس کے مطابق بدھ کو بحرین کے فرماں رواں سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے انھیں پاکستان میں سرمایہ کارری کے مواقعوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بحرین کے مابین برادرانہ تعلقات کی مضبوطی پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا اور مختلف شعبوں میں دو طرفہ باہمی تعاون کے فروغ کا اعادہ کیا۔

    خیال رہے بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ نے آخری مرتبہ پاکستان کا دورہ 2014 میں کیا تھا۔

  10. اسٹیبلشمنٹ کی موجودہ قیادت کے کوئی ذاتی مقاصد نہیں: رانا ثنا اللہ

    پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی موجودہ قیادت ’انتہائی دیانت دار‘، ’آزاد‘ اور ’بے غرض‘ ہے۔

    بدھ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اس وقت جو اسٹیبلشمنٹ کی مرکزی پوزیشنوں پر تعینات لوگ ہیں ’ان کے کوئی ذاتی مقاصد نہیں۔‘

    خیال رہے گذشتہ کئی دنوں سے رانا ثنا اللہ اپنی ہی حکومت کے کچھ وزرا خصوصاً وزیرِداخلہ محسن نقوی پر تنقید کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’محسن نقوی صاحب جو نیا عہدہ چاہیں گے ان کو مل جائے گا، ویسے میرا خیال ہے کہ محسن نقوی صاحب کا کافی محاسبہ ہوگیا ہے، اس لیے فیصل واوڈا صاحب کی اب بات کرلیں۔ فیص واوڈا صاحب، محسن نقوی صاحب، انوار الحق کاکڑ صاحب وہ سارے لوگ ایک ہی خاندان اور قبیلے سے ہیں۔‘

    لیگی رہنما نے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو بھی ان لوگوں کا ’کزن‘ قرار دیا۔

    خیال رہے فیصل واوڈا، محسن نقوی، محمد اورنگزیب اور انوار الحق کاکڑ آزاد حیثیت میں پاکستان کی سینیٹ کے رُکن منتخب ہوئے ہیں۔

  11. تنخواہوں کی عدم ادائیگی، بلوچستان یونیورسٹی کے اساتذہ اور عملے کا عید کے دن بھی احتجاج, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    Balochistan

    ،تصویر کا ذریعہKaleem Barech

    بلوچستان یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف عید کے روز بھی احتجاج کیا۔

    یونیورسٹی کے ملازمین نے نمازعید کی ادائیگی کے بعد یونیورسٹی کے احاطے سے سریاب روڈ پر یونیورسٹی کے مین گیٹ تک مارچ کیا۔

    اساتذہ اور ملازمین نے یونیورسٹی کے مین گیٹ کے سامنے روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ بلوچستان اسمبلی کے رکن پرنس عمر احمدزئی نے یونیورسٹی ملازمین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرے میں شرکت کی۔

    مظاہرے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ آج عید کی خوشیاں منارہے ہیں لیکن یونیورسٹی کے ملازمین اور اساتذہ احتجاج پر مجبور ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی ملازمین اور اساتذہ تین ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ تنخواہیں نہ ملنے سے یونیورسٹی کے ملازمین اور پینشنرز اور ان کے خاندان مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔

    انھوں نے بلوچستان حکومت اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی اور یونیورسٹی کے مالی بحران کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

  12. بلوچستان میں سیلاب متاثرین کی بحالی میں تاخیر پر تشویش, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں 2022 کے سیلاب متاثرین کی بحالی میں غیر معمولی تاخیر کی گئی۔

    یہ بات انھوں نے منگل کو بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں بحالی کے منصوبوں کی پیشرفت سے متعلق جائزہ اجلاس میں کہی۔

    سیلاب متاثرین کی بحالی کے منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر اسفندیار کاکڑ نے اجلاس کو منصوبے سے متعلق بریفنگ دی۔ وزیر اعلٰی نے بحالی منصوبوں کی تاخیر پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ان پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین اب بھی بُرے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وزیر اعلٰی نے کہا کہ بحالی کے منصوبوں میں مزید تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے پی ڈی ایم اے بلوچستان کو بھی شامل مشاورت رکھا جائے اور پروجیکٹ ڈائریکٹر ذاتی طور پر تمام امور کی نگرانی کو یقینی بنائیں۔

  13. پاکستان اور سعودی عرب میں عید ایک ہی دن، چاند دیکھنے کا معاملہ اتنا پیچیدہ کیوں؟

  14. بریکنگ, پاکستان میں شوال کا چاند نظر آگیا، عید الفطر 10 اپریل کو منائی جائے گی

    پاکستان میں شوال کا چاند نظر آگیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی رویت ہلال کمیٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں شوال کے چاند کی شہادتیں موصول ہوچکی ہے جس کے بعد ملک بھر میں عید الفطر 10 اپریل کو منائی جائے گی۔

    مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی عبدالخبیر آزاد نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ’آج پاکستان کے اکثر مقامات پر مطلع صاف رہا۔۔۔ مختلف مقامات سے چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہوئیں جن میں کراچی، دیر، فیصل آباد، سکردو اور دیگر علاقہ جات شامل ہیں جہاں چاند نظر آ گیا ہے۔ لہذا اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ یکم شوال 10 اپریل کو ہوگی۔‘

    ’آپ کو عید الفطر مبارک ہو۔‘

    انڈیا میں چاند نظر نہ آسکا

    انڈیا میں عید 11 اپریل کو منائی جائے گی۔ لکھنؤ کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے کہا کہ آج چاند نظر نہیں آیا اور اب عید 11 اپریل کو منائی جائے گی۔

    اسلامک سینٹر آف انڈیا کے چیئرپرسن مولانا خالد رشید نے کہا کہ ’9 اپریل 2024 کو آسمان صاف تھا لیکن چاند نظر نہیں آیا۔ ملک کے کسی اور حصے میں چاند نظر آنے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔‘ اس بنیاد پر یہ اعلان کیا گیا کہ کل 10 اپریل کو 30واں روزہ ہو گا اور عید 11 تاریخ کو ہو گی۔

    دلی کی جامع مسجد کے امام اور فتح پوری مسجد کے امام نے بھی 11 اپریل کو عید منانے کا کہا ہے۔

    تاہم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا اور ملائیشیا میں بدھ کو ہی عید منائی جا رہی ہے۔

  15. پاکستان سٹاک ایکسچینج: انڈیکس 70 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کر گیا ہے، مارکیٹ میں ’تاریخی‘ تیزی کی وجوہات کیا ہیں؟, تنویر ملک، صحافی

    سٹاک ایکسچینج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز بھی تیزی کا رجحان غالب رہا اور مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر مجموعی طور پر 694 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد 100 انڈیکس ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 70 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔

    منگل کے روز کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 70314 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ موجودہ مالی سال میں پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان غالب رہا ہے اور اب تک اس کے انڈیکس میں مجموعی طور پر 28863 پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    موجودہ سال 2024 کے آغاز سے لے کر اب تک انڈیکس میں 7884 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔

    بینک دولت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجوہات کیا ہیں؟

    سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار طاہر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ مارکیٹ میں حالیہ تیزی کی سب سے بڑی وجہ بظاہر پاکستان اور سعودی عرب کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد جاری ہونے والا اعلامیہ ہے، جس میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

    طاہر عباس کے مطابق پاکستان کے وزیر خزانہ 14 اپریل کو واشنگٹن جا رہے ہیں، جہاں وہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اجلاسوں میں شرکت کریں گے اور اس دوران پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے بڑے قرض پروگرام کے لیے بھی بات چیت ہو گی، اور اس ممکنہ پیشرفت نے مارکیٹ میں مثبت رجحان پیدا کیا۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کو مارچ کے مہینے میں زیادہ ترسیلات زر موصول ہوئی ہیں، جس کے باعث پاکستان کے بیرونی شعبے کی فنانسنگ میں بہتری آئی ہے اور اسی طرح مہنگائی کی شرح کم ہونے سے شرح سود میں کمی کی توقع نے بھی مارکیٹ میں تیزی کو فروغ دیا۔

    خواتین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کے ایس ای 100 انڈیکس کیا ہے اور یہ مارکیٹ میں کیسے اُتار چڑھاؤ کی عکاسی کرتا ہے؟

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی یا مندی کو کے ایس ای 100 انڈیکس میں اُتار چڑھاؤ کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے۔

    اس کے بارے میں طاہر عباس نے بتایا کہ کے ایس ای 100 انڈیکس سٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ 100 بڑی کمپنیوں پر مشتمل انڈیکس ہے، جو مارکیٹ میں ہونے والے کاروبار کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ انڈیکس مارکیٹ میں کمپنیوں کے فری فلوٹ حصص (یعنی وہ حصص جن کی خرید و فروخت کی جا سکے) میں اُتار چڑھاؤ کی بنیاد پر مرتب کیا جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا جب 100 انڈیکس میں درج کمپنیوں کے حصص میں تیزی آتی ہے تو انڈیکس اوپر چلا جاتا ہے اور کمی پر انڈیکس منفی ہو جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کیونکہ یہ انڈیکس 80 فیصد سٹاک مارکیٹ کو ظاہر کرتا ہے اس لیے اس میں کمی یا اضافے پر مارکیٹ کی صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے۔

  16. متنازع ٹک ٹاکر کاشف ضمیر ٹریننگ کالج میں مہمان خصوصی نہیں تھے، مدعو کرنے والے ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے: آئی جی پنجاب

    انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ ٹک ٹاکر کاشف ضمیر ٹریننگ کالج چوہنگ میں بطور مہمان خصوصی مدعو نہیں تھے۔

    ایک بیان میں پنجاب پولیس نے کہا ہے کہ ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کے معاملے پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی طرف سے تحقیقات کے بعد کاشف ضمیر کو کالج چوہنگ لانے والے اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے۔

    آئی جی نے واضح کیا کہ کاشف ضمیر کو قطعی طور پر مہمان خصوصی کے طور پر ٹریننگ کالج میں مدعو نہیں کیا گیا۔ وہ انچارج میڈیا ٹریننگ کالج کی طرف سے مدعو کیے گئے۔

    واضح رہے کہ مقامی میڈیا میں یہ خبریں شائع ہوئی تھیں کہ متعدد مقدمات میں ملوث ٹک ٹاکر ٹریننگ کالج چوہنگ میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیے گئے۔

    تفصیلات کے مطابق ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کے خلاف فراڈ، دھوکہ دہی سمیت متعدد مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جبکہ ترک اداکار کے ساتھ دھوکے پر بھی وہ گرفتار رہ چکے ہیں۔

    سابقہ ریکارڈ یافتہ ٹک ٹاکرکو چوہنگ پولیس ٹریننگ کالج میں بطور مہمان مدعو کیا گیا اور اسے پولیس کالج چوہنگ کے مختلف شعبوں کا دورہ بھی کرایا گیا جبکہ کاشف ضمیر نے پولیس اہلکاروں اور دفاتر کے اندر تصاویر بھی بنوائیں۔

    آئی جی پنجاب نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ متنازع ریکارڈ کے حامل ٹک ٹاکر کو مدعو کرنے والے میڈیا انچارج کو بھی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے جبکہ مدعو کیے جانے والے مہمانان کی فہرست بنانے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

  17. عید کے بعد واشنگٹن میں آئی ایم ایف پروگرام کے خدوخال پر مذاکرات ہوں گے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب رمدے

    محمد اورنگزیب رمدے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب رمدے نے کہا ہے کہ’14 تاریخ کو ہم واشنگٹن جا رہے ہیں جہاں آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کے خدوخال پر مذاکرات کریں گے۔‘

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم تمام صوبوں کی مشاورت سے کام کریں گے۔

    وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ مہنگائی میں بتدریج کمی آئے گی۔ انھوں نے کہا کہ مہنگائی میں کمی سے پالیسی ریٹ میں بھی کمی متوقع ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ’فیڈریشن میں جوکچھ ہوگا، صوبوں کی مشاورت سے ہوگا۔‘

    وزیراعظم کے ہمراہ اپنے حالیہ دورہ سعودی عرب پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ’محمد بن سلمان کے ساتھ بہت مثبت ملاقات ہوئی، انھوں نے اعادہ کیا کہ وہ سرمایہ کاری کی صورت میں پاکستان کی بھرپور مدد کریں گے۔‘

    واضح رہے کہ پیر کو وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی سعودی عرب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات ہوئی تھی، جس میں دونوں ملکوں کے درمیان پانچ ارب ڈالر سرمایہ کاری کو تیزی سے آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

    خیال رہے کہ 29 مارچ کو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا س کہ ہم معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ نئے پروگرام کے لیے سٹاف لیول معاہدہ جون تک کرنا چاہتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کچھ روز پہلے آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدے پر دستخط کیے جو میکرو اکنامک استحکام کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہم تھا اوراسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے آئی ایم ایف سے ایک طویل مدتی پروگرام میں داخل ہونے کی درخواست کی اور اس بات پر آئی ایم ایف نے مثبت ردعمل دیا، ہمارے 14 اور 15 اپریل کو آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ہوں گے۔

  18. وزیر اعظم شہباز شریف کی یوسف رضا گیلانی کو چئیرمین اور سیدال خان ناصر کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے پر مبارکباد

    Shehbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے یوسف رضا گیلانی کو چئیرمین سینیٹ اور سیدال خان ناصر کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

    وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سینیٹ کے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کےانتخابات جمہوری عمل کا تسلسل ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے تہنیتی پیغام میں مزید کہا ’امید ہے کہ آپ آئین کی سربلندی اور ملکی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ امید ہے کہ آپ عوامی فلاح و بہبود اور ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے مؤثر قانون سازی میں بھر پور کردار ادا کریں گے۔‘

    وزیر اعظم نے کہا کہ ’وفاقی اکائیوں کی مضبوطی اور جمہوری اقدار کی پاسداری کے لیے سینیٹ کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔‘

  19. پی پی پی کے یوسف رضا گیلانی سینیٹ کے بلامقابلہ چیئرمین منتخب

    پاکستان کی سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی بلامقابلہ چیئرمین اور پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار سیدال خان ناصر بلامقابلہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے ہیں۔

    منگل کو سینیٹ کے اجلاس میں نومنتخب سینیٹرز کی حلف برداری ہوئی جس کے بعد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن کا اعلان کیا گیا۔

    سید یوسف رضا گیلانی سیدال خان ناصر کے مقابلے میں کسی بھی امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے۔

    دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے سینیٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

    پی ٹی آئی نے اس الیکشن کو ’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’سینیٹ میں وفاق کی تمام اکائیوں کی نمائندگی کے بغیر چئیرمین و ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کا انتخاب غیرآئینی اور ناقابلِ قبول ہے۔‘

  20. سینیٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب آج، پی ٹی آئی کا بائیکاٹ کا اعلان

    پاکستان کی سینیٹ میں نو منتخب سینیٹرز نے حلف اُٹھا لیا ہے۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب دوپہر 12:30 پر ہوگا۔

    گذشتہ روز صدر آصف علی زرداری کی جانب سے سینیٹ کا اجلاس منگل (آج) کی صبح 9 بجے طلب کیا گیا تھا۔

    پاکستان پیپلز پارٹی اور حکمراں اتحاد کی دیگر جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ کے عہدے کے لیے سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کو نامزد کیا ہے۔ ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن نے سیدال خان ناصر کو نامزد کیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستانی تحریکِ انصاف نے سینیٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

    پی ٹی آئی نے اس الیکشن کو ’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’سینیٹ میں وفاق کی تمام اکائیوں کی نمائندگی کے بغیر چئیرمین و ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کا انتخاب غیرآئینی اور ناقابلِ قبول ہے۔‘