یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
جمعہ 15 اگست کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں امدادی تنظیم ریڈ کراس کے ضلع کشتوار میں ڈسٹرکٹ سیکرٹری اصغر علی شیخ کے مطابق جمعرات کے روز بادل پھٹنے کے واقع میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 42 ہو گئی ہے۔ تاہم اب تک اس حادثے میں 102 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنھیں علاقے کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے اور متعدد افراد تاحال لاپتا ہیں۔
یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
جمعہ 15 اگست کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں امدادی تنظیم ریڈ کراس کے ضلع کشتوار میں ڈسٹرکٹ سیکرٹری اصغر علی شیخ نے بی بی سی اردو کے سرینگر میں نامہ نگار ریاض مسرور کو بتایا ہے کہ جمعرات کے روز بادل پھٹنے کے واقع میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 42 ہو گئی ہے۔
اصغر علی شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے 42 افراد کی لاشوں کو اپنی نگرانی میں انتظامیہ کہ حوالے کیا ہے۔ تاہم اُن کا مزید کہنا ہے کہ اب تک اس حادثے میں 102 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنھیں علاقے کے مختفل ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
امدادی تنظیم ریڈ کراس کے ڈسٹرکٹ سیکرٹری اصغر علی شیخ کے مطابق اس حادثے کے بعد سے اب بھی متعدد افراد لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں تاہم سیلابی ریلے کی وجہ سے متعدد مقامات سے سڑکوں کے بہہ جانی کی وجہ سے امدادی کاموں میں انتہائی مُشکلات کا سامنا ہے۔
اس حادثے پر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’میری دعائیں جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں بادل پھٹنے اور سیلاب سے متاثر ہونے والے تمام لوگوں کے ساتھ ہیں۔ ہماری انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقے میں صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔‘
انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’بادل پھٹ جانے کی وجہ سے متاثر ہونے والے علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور مُشکل میں پھنسے مقامی لوگوں اور سیاحوں کی ہر ممکن مدد کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
واضح رہے کہ یہ حادثہ کشتواڑ میں واقع ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے ایک مقدس مقام کے قریب پیش آیا جہاں ہر سال ان دنوں میں سینکڑوں ہندو یاتری ’مچیل یاترا‘ کے لیے مُلک کے دور دراز علاقوں سے یہاں پہنچتے ہیں۔ مقامی شہری سوربھ شکلا نے بتایا کہ ظغیانی میں درجنوں یاتری اب بھی پھنسے ہوئے ہیں جن کی مدد کے لیے امدادی اداروں کی جانب سے کوششیں جاری ہیں مگر خراب موسم اور متعدد مقامات سے سڑک کے بہہ جانے کی وجہ سے مُشکلات کا سامنا ہے۔
کشتواڑ کے ضلع صدر مقا سے چشوتی گاؤں 50 کلومیٹر دور سطحِ سمندر سے 10 ہزار فٹ کی بلندی پر دشوار گزار پہاڑوں کے بیچ ایک وادی میں واقع ہے۔
انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک حالیہ بیان میں پاکستان کو اپنے بیانات میں تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
جمعرات کو انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ’ہم نے پاکستانی قیادت کی جانب سے انڈیا کے خلاف جنگی جنون اور نفرت انگیز تبصروں کے تسلسل کے بارے میں رپورٹس دیکھی ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے بار بار انڈیا مخالف بیان بازی کرنا پاکستانی قیادت کا طریقہ کار سب کو معلوم ہے۔‘
جمعرات کو وزارت خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران جب نامہ نگاروں کی جانب سے ترجمان دفترِ خارجہ سے امریکہ کے دورے کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بیانات اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور بعض دیگر رہنماؤں کے حالیہ بیانات سے متعلق سوال ہوا تو اس کے جواب میں رندھیر جیسوال نے پاکستان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اپنی بیان بازی میں نرمی لائے اور تحمل کا مظاہرہ کیا جائے کیونکہ کسی بھی مہم جوئی کے دردناک نتائج برآمد ہوں گے جیسا کہ حال ہی میں سامنے آئے ہیں۔‘
واضح رہے کہ 10 اگست کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق امریکہ کے دورے پر موجود فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا تھا کہ انڈیا ’اب بھی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے پر بضد ہے۔ پاکستان واضح کرچکا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔‘
جس کے بعد 11 اگست کو بھی انڈین وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ہماری توجہ ان بیانات کی طرف مبذول کرائی گئی ہے جو اطلاعات کے مطابق پاکستانی چیف آف آرمی سٹاف نے امریکہ کے دورے کے دوران دیے۔ مزید یہ کہ انڈیا یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ نیوکلیئر بلیک میل نہیں ہو گا۔‘
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی ضلع کشتواڑ میں جمعرات کو جاری بارش کے دوران اچانک بادل پھٹنے سے ایک دور دراز ’چشوتی‘ نامی گاؤں میں یشتر گھر پانی کے ریلے میں بہہ گئے۔
سیلابی ریلے کی وجہ سے سڑک کے بہہ جانے سے امدادی کارروائیوں میں مُشکلات کا سامنا ہے۔ امدادی کارروائیوں میں مصروف اداروں اور اہلکاروں کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے سے اب تک 12 افراد کی لاشیں نکالی جا چُکی ہیں۔
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’میری دعائیں جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں بادل پھٹنے اور سیلاب سے متاثر ہونے والے تمام لوگوں کے ساتھ ہیں۔ ہماری انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقے میں صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔‘
انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’بادل پھٹ جانے کی وجہ سے متاثر ہونے والے علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور مُشکل میں پھنسے مقامی لوگوں اور سیاحوں کی ہر ممکن مدد کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
انڈین حکومت کے وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جتیندر سنگھ رانا نے ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے کشتواڑ کی انتظامیہ سے رابطہ کیا جس پر انھیں یہ بتایا گیا ہے کہ اب تک کم از کم 12 لاشیں ملبے سے نکالی جا چُکی ہیں، جبکہ درجنوں لوگ ابھی بھی لاپتہ ہیں۔
یہ حادثہ کشتواڑ میں واقع ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے ایک مقدس مقام کے قریب پیش آیا جہاں ہر سال ان دنوں میں سینکڑوں ہندو یاتری ’مچیل یاترا‘ کے لیے مُلک کے دور دراز علاقوں سے یہاں پہنچتے ہیں۔ مقامی شہری سوربھ شکلا نے بتایا کہ ظغیانی میں درجنوں یاتری اب بھی پھنسے ہوئے ہیں جن کی مدد کے لیے امدادی اداروں کی جانب سے کوششیں جاری ہیں مگر خراب موسم اور متعدد مقامات سے سڑک کے بہہ جانے کی وجہ سے مُشکلات کا سامنا ہے۔
کشتواڑ کے ضلع صدر مقا سے چشوتی گاؤں 50 کلومیٹر دور سطحِ سمندر سے 10 ہزار فٹ کی بلندی پر دشوار گزار پہاڑوں کے بیچ ایک وادی میں واقع ہے۔
کشتواڑ کے رہنے والے محسن الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جموں کشمیر کے محکمہ برائے انسداد بحران کے اہلکار گاؤٴں سے تھوڑی دُور ہیں کیوں کہ گاؤں کی طرف جانے والی سڑک بادل پھٹنے کے آنے والے سیلابی ریلے میں بہہ چکی ہے اور گاؤٴں تک پہنچنے کا کوئی اور متبادل راستہ نہیں ہے۔‘
مقامی انتظامیہ کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج سے بھی مدد طلب کی جارہی ہے اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعہ لوگوں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں مسلح شدت پسندوں نے تین مختلف اضلاع میں پولیس اہلکاروں پر حملے کیے ہیں جس میں ایڈیشنل ایس ایچ سمیت چھ اہلکار ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔
یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب خیبر پختونخوا سمیت ملک میں آزادی کا جشن منایا جا رہا ہے۔ مسلح شدت پسندوں کی جانب سے یہ حملے خیبر پختونخوا کے ضلع کرم اپر دیر، پشاور اور بنوں میں کیے ہیں۔
ضلع کرم سے پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ مسلح مشتبہ افراد کے خلاف ایک کارروائی کی جا رہی تھی جس کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کی بھاری نفری موجود تھی۔ اس کارروائی کی دوران دونوں جانب سے ایک دوسرے پر فائرنگ ہوئی اور اس میں ایڈیشنل ایس ایچ او قیصر حسین ہلاک ہو گئے۔ مقامی پولیس اہلکار نے بتایا کہ یہ کارروائی اہم مطلوب گروپ کے خلاف کی جا رہی تھی۔
ضلع کرم کے پولیس افسر ملک حبیب نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مطلوب شحض کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایسے بیانات جاری کیے گئے تھے جن سے نقص امن کا خطرہ تھا اور اس کے لیے ایک سرچ آپریشن اس علاقے میں کرنے کے لیے قانون نافد کرنے والے اداروں کے اہلکار گئے تھے جہاں سے پولیس پر حملہ کر دیا گیا۔
اس سے پہلے ضلع اپر دیر میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کی ایک موبائل وین پر حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ پناہ کوٹ میں سٹی پولیس تھانے کی حدود میں کیا گیا ہے۔ اس حملے میں اکبر حسین، نصراللہ اور ڈرائیور اسماعیل کی ہلاکت ہوئی، جبکہ محمد اسحاق، رحیم اللہ، نیاز محمد، عبدالغفار، جلال الدین اور ریاست خان اس کارروائی کے دوران زخمی ہوئے۔
اس کے علاوہ لوئر دیر میں میدان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے پولیس چوکیوں پر حملے کیے ہیں جس میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوئے۔
پشاور میں تھانہ حسن خیل پر نامعلوم افراد نے گزشتہ رات حملہ کیا جس میں ایک اہلکار جہانگیر خان ہلاک ہوئے۔
اسی طرح بنوں میں پولیس چوکی پر مسلح افراد نے حملہ کیا ہے لیکن پولیس کی جوابی کارروائی سے حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے ان واقعات میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی نماز جنازہ کی اداییگی کے بعد کہا کہ ’یہ ایک چینلج ہے اور پولیس اس کا بہادری سے مقابلہ کر رہی ہے اور یہ حملے ایسے وقت میں کئے گئے ہیں جب قوم جشن آزادی منا رہی ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’بہت جلد صوبے میں امن قائم کیا جائے اور اس کے لیے مقامی افراد اور قبائل پولیس کا ساتھ دیں تاکہ ایسے شرپسند عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔‘
انڈیا نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ’انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن‘ کے تحت چار نئے سیمی کنڈکٹر فیکٹریوں کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے جسے الیکٹرانکس اور چِپ کی پیداوار میں خود انحصاری کی جانب بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ منصوبے انڈیا کو عالمی سیمی کنڈکٹر مرکز بنانے کی قومی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ملک میں چِپ ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ کا نظام قائم کرنا، درآمدات پر انحصار کم کرنا، اور ٹیلی کام، آٹو انڈسٹری اور دفاع جیسے اہم شعبوں کو مدد فراہم کرنا ہے۔
چار ہزار 600 کروڑ انڈین روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ حال ہی میں اعلان کردہ منصوبے کے تحت دو سیمی کنڈکٹر فیکٹریاں اوڈیشہ میں قائم کی جائیں گی جبکہ ایک آندھرا پردیش اور ایک پنجاب میں لگائی جائے گی۔
اس اعلان کے ساتھ انڈیا نے اب چھ ریاستوں میں دس سیمی کنڈکٹر منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ ان منصوبوں میں کل1.6 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
تاہم یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ انڈیا سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کی کوششیں کر رہا ہے۔
انڈین اور غیر ملکی کمپنیوں نے 1960 کی دہائی میں ہی انڈیا میں چِپ بنانے کی کوشش کی تھی، لیکن یہ عمل بیوروکریسی کی جانب سے تاخیر اور عدم فعالیت کی نذر ہو گیا۔
انڈیا نے اس جانب اہم قدم 1984 میں چندی گڑھ میں ’سیمی کنڈکٹر کمپلیکس لمیٹڈ‘ قائم کر کے اٹھایا۔ یہ وہ وقت تھا جب سیمی کنڈکٹر کے میدان میں پاور ہاؤس سمجھے جانے والے ملک تائیوان نے بھی اس میدان میں قدم نہیں رکھا تھا۔
تاہم 1989 میں لگنے والی ایک آگ کے نتیجے میں یہ فیکٹری تباہ ہو گئی اور حکومت اسے دوبارہ تعمیر یا جدید بنانے میں ناکام رہی۔
اکیسویں صدی کے آغاز میں بھی انڈین پالیسی کی غیر یقینی صورتحال اور ناقص انفراسٹرکچر، جو سیمی کنڈکٹر ویلیو چین کے تمام مراحل جیسے ڈیزائن، فیبرکیشن، پیکیجنگ اور ٹیسٹنگ کے لیے ضروری ہیں، کی وجہ سے ملک ویتنام سے پیچھے رہ گیا۔
موجودہ کوششیں کووڈ وبا کی رکاوٹوں اور امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر چِپ انڈسٹری میں پیدا ہونے والی ہلچل کے بعد سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اب کئی ممالک سیمی کنڈکٹرز کے لیے چین اور تائیوان جیسے مارکیٹ لیڈرز پر انحصار کرنے کے بجائے دوسرے ذرائع کی تلاش میں ہیں۔
اس کی ایک وجہ روزمرہ زندگی میں ان چِپس کا بڑھتا استعمال ہے۔ موبائل فون سے لے کر گاڑیوں تک کوئی بھی چیز ان کے بغیر کام نہیں کرتی اور یہ دفاعی ٹیکنالوجی کے لیے بھی اتنی اہم ہیں۔
انڈیا تقریباً 80 فیصد الیکٹرانک آلات درآمد کرتا ہے اور مقامی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کی ترقی کو قومی سلامتی کے لیے اہم سمجھتا ہے۔
اس مقصد کے حصول کے لیے انڈیا نے 10 ارب ڈالرز کا ترغیبی پروگرام شروع کیا ہے جو مینوفیکچررز کو 50 فیصد تک سبسڈی فراہم کرتا ہے۔ تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود ان پروجیکٹس پر پیش رفت سست روی کا شکار رہی ہے۔
مثلا تائیوان کی ٹیکنالوجی کمپنی فاکسکون نے 2023 میں انڈین کمپنی ویدانتا کے ساتھ 19.5 ارب ڈالر کے مشترکہ منصوبے کو منسوخ کر دیا تھا۔
امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن انڈیا پر مزید محصولات عائد کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ جمعے کے روز امریکی ریاست الاسکا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ہونے والی ملاقات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
بدھ کے روز بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ انڈیا پر روس سے تیل خریدنے پر اضافی ٹیرف عائد کیے گئے تھے۔ ’میں دیکھ سکتا ہوں کہ اگر معاملات صحیح نہ ہوئے، تو پابندیوں یا ٹیرف میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔‘
یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں، امریکی صدر نے انڈیا پر 25 فیصد ٹیرف کے علاوہ روس سے تیل اور ہتھیار خریدنے پر 25 فیصد جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’انڈیا کی روس سے تیل کی درآمدات روس کی نقصان دہ سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے لیے امریکی اقدامات کو کمزور کر رہی ہیں۔‘
بیان کے مطابق ’یوکرین میں روس کی کارروائیاں امریکہ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے لیے مسلسل خطرہ ہیں اور قومی سطح پر اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مضبوط اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔‘
صدر ٹرمپ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں۔ بدھ کے روز انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ماسکو امن معاہدے پر راضی نہیں ہوا تو اسے ’سنگین نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ اور پوتن یوکرین میں جنگ کو ختم کرنے کے طریقے پر تبادلہ خیال کے لیے جمعے کے روز الاسکا کے اینکریج میں مل رہے ہیں۔
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرینگر سے 101 کلومیٹر شمال میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نزدیک اوڑی میں گذشتہ دو روز کے دوران فوج اور مبینہ مسلح دراندازوں کے درمیان جھڑپوں میں انڈین فوج کے دو اہلکار مارے گئے ہیں۔
کشمیر میں قائم انڈین آرمی کی پندرہویں کور کے ترجمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
فوجی ترجمان کے مطابق، بدھ کے روز اُوڑی میں ایل او سی کے قریب ’آپریشنل ڈیوٹی‘ کے دوران حوالدار انکِت کمار پر مبینہ دراندازوں نے فائرنگ کی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے اور ہسپتال لے جاتے ہوئے انھوں نے دم توڑ دیا۔
اس سے ایک روز قبل، اُوڑی سیکٹر میں ایل او سی کے نزدیک ہونے والی ایک جھڑپ میں انڈین فوج کے سپاہی بنوتھ انِل کمار مارے گئے تھے۔ انڈین فوج کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ ان واقعات کے بعد مسلح درانداز فرار ہونے میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔
تاہم فوج کا کہنا ہے کہ اس سیکٹر میں ایل او سی کے قریب کئی پوسٹوں کو ’جوابی کارروائی‘ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور وسیع علاقے کا محاصرہ کرکے حملہ آوروں کو تلاش کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ بدھ کے روز انڈین فوج نے اعلان کیا تھا کہ ضلع کولگام میں وسیع جنگلاتی علاقہ اکہال میں ڈیڑھ ہفتے سے جاری فوجی آپریشن ختم کر دیا گیا ہے۔
انڈین فوج کے ترجمان کے مطابق، آپریشن کے دوران گھنے جنگلوں اور غاروں میں چھپے عسکریت پسندوں کی فائرنگ سے دو فوجی ہلاک جبکہ دس دیگر زخمی ہو گئے۔
فوج نے آپریشن کے دوران ایک عسکریت پسند کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پانچ سال قبل انڈیا اور پاکستان نے ایل او سی پر سیز فائر کے معاہدے پر سختی سے عمل کرنے کے لئے ایک اور معاہدہ کیا تھا۔ آپریشن سندور کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایل او سی کے قریب فوجیوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
ایسے وقت میں جب غزہ میں بھوک اور غذائی قلت کا بحران انتہائی شدت اختیار کر چکا ہے، سو سے زائد امدادی تنظیموں نے ایک مشترکہ خط پر دستخط کیے ہیں جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں ’امداد کا بطورِ ہتھیار استعمال‘ بند کرے۔
امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا جا رہا ہے کہ جب تک کہ وہ سخت اسرائیلی ضوابط کی تعمیل نہیں کرتے، انھیں امداد پہنچانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
خط میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی گروپ اسرائیلی ریاست کی ’قانونی‘ حیثیت پر سوال اٹھاتا ہے یا اپنی تنظیم کے لیے کام کرنے والے فلسطینی عملے کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم نہیں کرتے تو ان پر پابندی لگنے کا خطرہ ہے۔
اسرائیل امداد کی ترسیل اور تقسیم پر پابندیوں کی تردید کرتا آیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مارچ میں متعارف کروائے گئے قواعد کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ امدادی سرگرمیاں اسرائیل کے ’قومی مفادات‘ سے ہم آہنگ ہوں۔
مشترکہ خط کے مطابق، بڑی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں دو مارچ سے زندگی بچانے والے سامان کا ایک ٹرک بھی غزہ نہیں پہنچا پائی ہیں۔
امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام نے نئے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے غزہ میں زندگی بچانے کی اشیا پہنچانے کی درجنوں درخواستوں کو مسترد کیا ہے۔ صرف جولائی میں ہی 60 سے زیادہ درخواستیں مسترد کی گئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امدادی گروپوں کی جانب سے امدادی سامان فراہم نہ کر پانے کی وجہ سے غزہ کے ’ہسپتالوں میں بنیادی سامان ختم ہو گیا ہے جب کہ بچے، معذور افراد، اور بوڑھے بھوک اور قابل علاج بیماریوں سے مر رہے ہیں۔‘
امریکی امدادی تنظیم انیرا کے سی ای او شان کیرول کا کہنا ہے کہ غزہ سے محض چند کلو میٹر دور انیرا کے پاس غزہ پہنچانے کے لیے 70 لاکھ ڈالرز سے زیادہ مالیت کا جان بچانے کا سامان ترسیل کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سامان میں 744 ٹن چاول بھی شامل ہے جو 60 لاکھ افراد کو ایک وقت کا کھانا کھلانے کے لیے کافی ہے۔
ایسے وقت میں جب غزہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے غزہ کا مکمل کنٹرول سنبھالنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، غزہ میں جنگ کے خاتمے کے بعد اس انتظام سنبھالنے کے لیے ایک مشترکہ عرب فورس تشکیل دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
نتن یاہو کی جانب سے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق، اسرائیلی فورسز غزہ کی پٹی کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد حماس کو وہاں سے دخل کر دیں گی، اور پھر اس علاقے کا کنٹرول ایک مشترکہ عرب فورس کے حوالے کر دیں گی۔ تاہم اب تک اس منصوبے کو اب تک بین الاقوامی ٘مخالفت کا سامنا ہے۔
اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے اپنے آخری اجلاس میں غزہ شہر کا کنٹرول سنبھالنے کے منصوبے کی منظوری دی تھی تاہم پورے غزہ پر کنٹرول کرنے کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
بدھ کے روز اسرائیلی چیف آف سٹاف نے غزہ شہر کا کنٹرول سنبھالنے کے اصولی منصوبے کی منظوری دی تھی۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی مان نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس وقت امریکی وساطت سے ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی، غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلا، امریکی نگرانی میں عرب افواج کا داخلہ اور انتظامی اور سکیورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے فلسطینی گورنر کی تقرری کا معاملہ شامل ہے۔
مشترکہ فورس کی تشکیل کی تفصیلات تاحال واضح نہیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ اسرائیل اور حماس کس حد تک اس پر متفق ہوں گے۔
دوسری جانب، مغربی کنارے میں قائم فلسطینی اتھارٹی نے اسے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کو علیحدہ کرنے کا ’اسرائیلی منصوبہ‘ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
فلسطینی ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے غزہ فلسطینی ریاست کا اٹوٹ انگ ہے، اور اس کی انتظامیہ مکمل طور پر فلسطینی نیشنل اتھارٹی اور فلسطینی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو کی جانب سے ’گریٹر اسرائیل‘ کے تصور کے حوالے سے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے عرب ممالک کی تنظیم عرب لیگ نے اسے ’عرب ریاستوں کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور خطے کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے بیانات ’توسیع پسند اور جارحانہ عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔‘
اسرائیلی اخبار ’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق، اسرائیلی چینل i24 کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران جب نتن یاہو کو گریٹر اسرائیل کا نقشہ دکھا کر سوال کیا گیا کہ کیا وہ گریٹر اسرائیل کے اس تصور سے متفق ہیں تو ان کا کہنا تھا ’بالکل۔‘
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ انھیں لگتا ہے کہ وہ ایک ’تاریخی اور روحانی مشن‘ پر ہیں اور وہ گریٹر اسرائیل کے وژن کے لیے ’بہت پرعزم‘ ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، نتن یاہو کا کہنا تھا کہ گریٹر اسرائیل کے اس تصور میں فلسطینی علاقوں کے علاوہ شاید اردن اور مصر کے بھی کچھ حصے شامل ہوں گے۔
عرب لیگ نے نتن یاہو کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیانات عرب ممالک کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ اور بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے۔ عرب لیگ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بیان ’توسیع پسند اور جارحانہ عزائم کی عکاسی کرتے ہیں جنھیں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘
دریائے نیل سے نہرِ فرات تک پھیلے ’گریٹر اسرائیل‘ کا تصور
رواں سال چھ جنوری کو اسرائیل کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے ایک نقشے میں فلسطین، شام، لبنان، اور اردن کے کچھ حصوں کو اسرائیل کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔
اسرائیل کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شئیر کیے گئے نقشے کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ مملکت اسرائیل تقریباً 3000 سال پہلے قائم ہوئی اور اس کے پہلے تین بادشاہوں میں شاہ شاؤول، شاہ داؤد اور شاہ سلیمان شامل تھے جنھوں نے مجموعی طور پر 120 سال تک حکمرانی کی۔ ان کے دور میں یہودی ثقافت، مذہب اور معیشت میں ترقی ہوئی۔
اس پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ931 قبل مسیح میں شاہ سلیمان کی وفات کے بعد داخلی تنازعات اور بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے مملکت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی: شمال میں مملکت اسرائیل اور جنوب میں مملکت یہودہ۔ شمالی مملکت اسرائیل 209 سال بعد آشوریوں کے ہاتھوں (722 قبل مسیح) اور جنوبی مملکت یہودہ 345 سال بعد بابل کے بادشاہ نبوکدنضر کے ہاتھوں (568 قبل مسیح) ختم ہو گئی۔
’یہ تقسیم صدیوں تک سیاسی تنازعات کا باعث بنی لیکن جلاوطنی کے دوران یہودی قوم اپنی ریاست کی بحالی کی خواہاں رہی جس کا قیام 1948 میں ریاست اسرائیل کے طور پر ہوا جو آج مشرق وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست ہے۔‘
اگرچہ گریٹر اسرائیل کا تصور کوئی نیا خیال نہیں مگر یہ تصور کہاں سے آیا اور ’دا پرومسڈ لینڈ‘ میں کون کون سے علاقے شامل ہیں، یہ جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی 78ویں جشن آزادی اور معرکہ حق میں کامیابی کی مناسبت سے اسلام آباد کے جناح گراؤنڈ میں منعقد کی گئی تقریب سے خطاب میں کہا کہ وقت آچکا ہے ہم سیاسی تقسیم، ذاتی مفادات اور کھوکھلے نعروں سے آگے بڑھ کر پاکستان کے لیے اجتماعی سوچ اپنائیں۔
انھوں نے کہا کہ ’میں آج کے اس عظیم دن پر تمام سیاسی جماعتوں، سٹیک ہولڈرز، سول سوسائٹی کو میثاق استحکام پاکستان کا حصہ بننے کے لیے ایک بار پھر دعوت دیتا ہوں۔‘
وزیراعظم کے علاوہ اس تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری، فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت اعلیٰ سول و عسکری قیادت نے شرکت کی۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی اس تقریب سے خطاب کیا۔
وزیراعظم نے آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی تشکیل کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی حامل اور دشمن کو ہر سمت سے نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھنے والی یہ فورس ہماری روایتی جنگی صلاحیت کو مزید مضبوط کرنے کے حوالے سے ایک اور سنگ میل ثابت ہوگا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے اس جشن آزادی کو معرکہ حق کا نام دیا ہے، حال ہی میں کس طرح انڈیا نے ایک جھوٹے اور خود ساختہ الزام کی آڑ لے کر اچانک پاکستان پر حملہ کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ انڈیا کو یہ گھمنڈ تھا کہ وہ اپنی جنگی طاقت کے بدولت پاکستان کو زیر کرلے گا لیکن وہ یہ بھول گیا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں کے بل بوتے پر نہیں لڑی جاتیں بلکہ اس کے لیے ایسے نڈر بیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان جنگ میں کود پڑتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ صرف چار دنوں میں انڈیا کا غرور خاک میں مل گیا کیوں کہ اس کا مقابلہ ایسی فوج سے ہوا جس کی پشت پر سپاہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جیسے بہادر اور قابل عسکری سالار کھڑے تھے اور ان کی کمان میں وہ جوان تھے جنہوں نے بھارت کو تاریخ کا وہ سبق سکھایا جو ان کی آنے والی نسلیں بھی قیامت تک یاد رکھیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر قوم کا وہ عظیم بیٹا ہے، جس نے انڈیا کے جنگی جنون کے خلاف ایسی دلیرانہ اور دانشمندانہ حکمتی عملی بنائی جس کا اعتراف دوست اور دشمن سب کرتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا ’فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سول حکومت کا نیشنل ایکشن پلان سے لے کر نیشنل اکنامک پلان تک ہر شعبے میں بھرپور ساتھ دیا ہے۔ امریکہ کے ساتھ تجارت اور ٹیرف معاہدے میں بھی فیلڈ مارشل کا کلیدی کردار ہے۔‘
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جس طرح 14 اگست 1947 کو ایک نئے آزاد ملک نے جنم دیا ایسے ہی 10 مئی 2025 کو ایک نئی قوم سامنے آئی، معرکہ حق نے ثابت کر دیا کہ ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دے کر جو آزادی حاصل کی تھی، ہم اس کی حفاظت کرنے کی پوری صلاحیت اور طاقت رکھتے ہیں۔
’معرکہ حق کی کامیابی میں دوستوں کا بھی ہاتھ ہے‘
تقریب میں ترکی اور آذربائیجان کی مسلح افواج کے دستوں نے بھی مارچ پاسٹ کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’معرکہ حق میں کامیابی پر ہمارے مخلص دوستوں کا بھی ہاتھ ہے، جنھوں نے سفارتی سطح پر ہمارا ساتھ دیا اور مشکل گھڑی میں ہمارا حوصلہ بڑھایا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے بااعتماد دوست چین، سعودی عرب، ترکیہ، یو اے ای، ایران اور آذربائیجان نے جس طرح عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کی کھل کر حمایت کی پاکستان ان کا شکریہ ادا کرتا ہے۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ہماری ایٹمی طاقت کسی طور پر بھی جارحانہ سوچ نہیں رکھتی بلکہ ہم نے انڈیا کی جوہری طاقت کے مقابلے میں اپنی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے کے لیے ایٹمی طاقت کا راستہ اپنایا۔
’صدر ٹرمپ نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر جنگ بندی کے لیے مثبت کردار ادا کیا‘
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر جنگ بندی کے لیے مثبت کردار ادا کیا، مجھے امید ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے ٹرمپ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل کروانے میں اپنا کردار اد اکریں گے۔
انھوں نے کہا کہ معرکہ حق کی کامیابی کا جشن مناتے ہوئے ہماری آنکھوں کے سامنے ان لوگوں کے دکھوں کے دلخراش مناظر آتے ہیں جو آزادی سے محروم ہیں، غزہ کی خون آلود گلیاں ہوں یا پھر وادی کشمیر کا مقتل، جہاں دن رات بے گناہ کشمیریوں کا خون بہتا ہے اور کشمیر کی وادی ان کے خون سے سرخ ہوچکی ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اصولی اور غیر متزلزل موقف کے ساتھ ہمیشہ اپنے مظلوم بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے، فلسطین کا مسئلہ آج انسانیت کی ضمیر کا امتحان بن چکا ہے، پاکستان مظلوموں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت اس وقت جاری رکھے گا جب تک فلسطین اور کشمیر کے لوگوں کے ان کے حقوق نہیں مل جاتے، عالمی فورم پر ریاست فلسطین کے قیام اور کشمیروں کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔
امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس یوکرین میں جنگ بندی پر آمادہ نہ ہوا تو پھر اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دارالحکومت واشٹگٹن ڈی سی میں کینیڈی سینٹر میں صحافیوں کے یوکرین اور روس سے متعلق سوالات پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر روسی صدر پوتن جمعے کی ملاقات کے بعد جنگ ختم کرنے پر راضی نہیں ہوئے تو اس کے ’انتہائی سنگین نتائج‘ ہوں گے۔
واضح رہے کہ جمعے کو صدر ٹرمپ اپنے روسی ہم منصب پوتن سے امریکی ریاست الاسکا میں ملاقات کریں گے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کی پوتن کے ساتھ ’اچھی بات چیت‘ ہوئی ہے، لیکن پھر اس کے بعد جب وہ گھر جا کر دیکھتے ہیں کہ ’ایک راکٹ نرسنگ ہوم سے ٹکرا گیا یا ایک راکٹ اپارٹمنٹ کی عمارت سے ٹکرا گیا اور لوگ سڑکوں پر مرے پڑے ہیں۔‘
ایک صحافی نے ان سے ان رپورٹس کے بارے میں پوچھا کہ روس نے امریکی وفاقی عدالت کے دستاویزات کا انتظام کرنے والے کمپیوٹر سسٹم کو ہیک کر لیا ہے۔ ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ وہ جمعے کی ملاقات کے دوران پوتن سے اس بارے میں استفسار کریں گے۔
انھوں نے صحافی سے مزید کہا کہ ’کیا آپ حیران ہیں کہ وہ ہیک کرتے ہیں۔‘
پوتن اور زیلنسکی کی دوسری ملاقات کا امکان ہے
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ روسی صدر پوتن اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے درمیان دوسری ملاقات کا امکان موجود ہے۔ ان کے مطابق یہ جمعے کی ملاقات سے بھی زیادہ ثمرآور ثابت ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ ’جمعے کو ہونے والی پہلی ملاقات میں وہ یہ پتا چلانے کی کوشش کریں گے کہ ہم اب کہاں کھڑے ہیں اور ہم کیا کر رہے ہیں۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں اسے فوری طور پر کروں گا اور اس کے بعد میری موجودگی میں صدر پوتن اور صدر زیلنسکی کے درمیان دوسری ملاقات ہوگی اگر انھوں نے مجھے اس ملاقات میں بیٹھنے کا کہا تو وہ دستیاب رہیں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ وہ پوتن کے ساتھ جمعے کی ملاقات کے بعد صدر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کو فون کال کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ یورپی رہنماؤں اور زیلنسکی سے گفتگو سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ یہ بات چیت بہت مفید رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ بہت دوستانہ (گفتگو) تھی اور میں اسے دس (میں سے دس) نمبر دوں گا۔‘
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ نے ہماری مدد کرنے کے لیے رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
یوکرینی صدر نے یہ بات یورپی رہنماؤں اور امریکی صدر کے ساتھ آن لائن ملاقات کے بعد کہی۔
خیال رہے کہ امریکی صدر جمعے کو الاسکا میں روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے جس میں یوکرین جنگ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یوکرین کے بارے میں جو کچھ بھی ہو وہ یوکرین کو بتایا جانا چاہیے اس سے بات چیت کی جانی چاہیے۔
انھوں نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے آج ہماری حمایت کی ہے اور امریکہ ہماری حمایت جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ امریکی ہم منصب نے انھیں بتایا ہے کہ وہ صدر پوتن سے ملاقات کے بعد انھیں فون کریں گے۔
اس سے قبل جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے جرمنی پہچنے پر زیلنسکی کا استقبال کیا۔ صدر پوتن اور دیگر یورپی رہنماؤں کے ساتھ ورچول میٹنگ کے بعد دونوں رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی۔
اس موقع پر جرمن چانسلر نے کہا کہ امریکی اور روسی صدور کی ملاقات کا ایجنڈا تیار کرنے کے لیے تمام کوششیں کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ الاسکا میں ہونے والی ملاقات میں یورپ اور یوکرین کے سکیورٹی مفادات کی حفاظت یقینی بنائی جانی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلےسیز فائر پر رضامندی ہونی چاہیے اور اس کے بعد دوسرا معاہدہ ہو جو کہ پائیدار امن کے لیے ہو تاہم انھوں نے واضح کیا کہ یوکرین پر روس کی ملکیت کو قانونی طور پر تسلیم کیا جانا ممکن نہیں ہے۔
جرمن چامنسلر نے یہ بھی کہا کہ اگر روس سیز فائر پر آمادہ نہیں ہو گا تو یورپ اور امریکہ اس پر مزید دباؤ ڈالیں گے۔
برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اقوام متحدہ کو بتایا ہے کہ اگر ایران اگست کے آخر تک مذاکرات دوبارہ شروع کرنے میں ناکام رہتا ہے تو وہ اس کے جوہری پروگرام پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ای تھری کے نام سے جانے جانے والے تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ اگر ایران مذاکرات دوبارہ شروع نہیں کرتا تو وہ ’اسنیپ بیک‘ میکانزم متعارف کرانے کے لیے تیار ہیں جس کا مطلب ہے کہ سابقہ پابندیاں بحال کر دی جائیں گی۔
ای تھری مُمالک کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ انھوں نے مذاکرات کے لئے ڈیڈ لائن کو اگست کے آخر تک بڑھانے کی پیش کش کی تھی جس پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
ایران کے قانون ساز منوچہر موتاکی نے کہا ہے کہ اگر نئی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو ایرانی پارلیمنٹ جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہے۔
ای 3 کی جانب سے اقوام متحدہ کو لکھا جانے والا یہ خط گزشتہ ماہ ترکی کے شہر استنبول میں ایرانی سفارتکاروں اور وفود کے درمیان ابتدائی مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔
اقوام متحدہ اور اس کے سربراہ انتونیو گوتریس کو لکھے گئے خط میں تین وزرائے خارجہ فرانس کے جین نوئل باروٹ، برطانیہ کے ڈیوڈ لیمی اور جرمنی کے جوہان واڈیفل نے کہا ہے کہ ’اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر رضامند نہیں ہوتا تو وہ اس پر سخت پابندیاں عائد کریں گے۔‘
خط میں کہا گیا ہے کہ ’ہم (ای تھری) نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران اگست 2025 کے اختتام سے قبل سفارتی حل تک پہنچنے کے لیے تیار نہیں ہے یا توسیع کے موقع سے فائدہ نہیں اٹھاتا ہے تو ای 3 اسنیپ بیک میکنزم شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ’تمام سفارتی ذرائع‘ استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کرے۔‘
گزشتہ ماہ ایران نے کہا تھا کہ وہ مزید مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن صرف اس وقت جب پہلے سے عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں اور سویلین جوہری پروگرام پر اس کے حق کو تسلیم کیا جائے۔
ایران کے جوہری پروگرام پر عائد پابندیاں اس سے قبل 2015 میں اس وقت اٹھالی گئی تھیں جب ایران نے ای تھری، امریکا، روس اور چین کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں اس کے جوہری آپریشنز کو محدود کرنے اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کو اس کے جوہری مقامات پر داخلے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ یہ معاہدہ اکتوبر میں ختم ہونے والا ہے۔
خیال رہے کہ 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں امریکا نے اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کرلی تھی اور صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس نے ایران کو جوہری بم بنانے سے روکنے کے لیے بہت کم کام کیا تھا۔
تاہم اُن کے حکومت کے جانے سے بعد ایران پر تمام امریکی پابندیاں دوبارہ عائد کر دی گئیں تھیں۔
اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اشارہ دیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کی کوششیں اب باقی تمام یرغمالیوں کو ایک ساتھ رہا کرنے کے لئے ایک جامع معاہدے پر مرکوز ہیں۔
اس سے پہلے جس منصوبے پر زور دیا جا رہا تھا وہ ابتدائی طور پر 60 دن کی جنگ بندی اور زندہ یرغمالیوں کی جزوی رہائی تھا۔
حماس کا کہنا ہے کہ اس کے رہنماؤں کا ایک وفد مصری حکام کے ساتھ ’ابتدائی مذاکرات‘ کے لیے قاہرہ میں ہے۔
گذشتہ ماہ اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے ختم ہو جانے کے بعد اسرائیل نے اپنی فوجی کارروائی کو وسیع کرنے اور غزہ کی تمام پٹی پر قبضہ کرنے کے ایک متنازع منصوبے کا اعلان کیا تھا جس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جہاں اس کے 20 لاکھ فلسطینی باشندوں میں سے زیادہ تر نے پناہ لی ہے۔
دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی فوج کے شدید حملے جاری ہیں اور حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز کم از کم 123 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے خاص طور پر غزہ شہر پر اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
غزہ شہر سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں شہر کے مشرق میں زیتون کے علاقے میں حملوں اور انہدام کے نتیجے میں بڑے دھماکے دکھائے گئے ہیں۔
الشفا ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ شہر کے جنوب میں واقع تل الحوا میں خیموں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک ہو گئے جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔ الاہلی ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر کے مشرق میں زیتون کے علاقے میں ایک گھر پر ہونے والے حملے میں 10 افراد ہلاک ہو گئے۔
ان حملوں کے حوالے سے آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اُن کی جانب سے زیتون میں نئی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے غزہ کی پٹی میں آئی ڈی ایف کے آپریشنل منصوبے کے مرکزی فریم ورک کی بھی منظوری دے دی ہے۔
بلوچستان ہائیکورٹ نے موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس کی بندش کے خلاف ایک آئینی درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری کردیا ہے۔
یہ آئینی درخواست چیئرمین کنزیومر سوسائٹی خیرمحمد شاہین نے دائر کی ہے۔
درخواست کی سماعت بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی نے کی۔
درخواست گزار نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ موبائل فون پر انٹرنیٹ کا استعمال آج کل زندگی کے ہر شعبے کی ضرورت ہے لیکن کسی مناسب جواز کے بغیر بلوچستان بھر میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا گیا جس سے طلبا کی تعلیم اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ غیر معینہ مدت کے لیے سروس کی بندش بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔
ہائیکورٹ کے بینچ نے کہا کہ درخواست گزار نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی معطل کیا گیا ہے جس سے عام لوگ متاثر ہورہے ہیں۔
عدالت نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت سے پہلے جواب دعویٰ دائر کریں۔ عدالت نے کہا کہ ناکامی کی صورت میں وفاقی سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن آئندہ سماعت پر ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہوں۔ درخواست کی آئندہ سماعت 15اگست کو ہوگی۔
سندھ کے شہر میرپورخاص میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ڈاکٹر شاہنواز کنبہار کے پولیس تحویل میں ہلاکت کے مقدمے میں ڈی آئی جی جاوید جسکانی، انسپیکٹر عبدالستار سموں سمیت چار پولیس اہلکاروں کو اشتہاری مجرم قرار دیا ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے بتایا گیا کہ ان کی ٹیمیں ملزمان کی گرفتاریوں کے لیے متعلقہ رہائشی پتوں پر چھاپے مار چکی ہیں لیکن انہیں کامیابی نہیں مل سکی۔
عدالت نے اپنے تحریری حکمنامے میں کہا ہے کہ ایس ایس پی چوہدری اسد پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور اسلام آباد کے رہائشی ہیں متعلقہ علاقوں کے ایس ایس پیز عدالت کو مطمئن نہیں کر پائے کہ انھوں نے گرفتاری کے لیے کیا کارروائی کی ہے۔
ایڈووکیٹ ابراہیم کنبہار کا کہنا ہے کہ اگلی سماعت پر متعلقہ ایس ایس پی اپنی رپورٹ پیش کریں گے جس کے بعد ان کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ عدالت نے مزید سماعت 29 اگست تک ملتوی کردی۔
خیال رہے کہ عمرکوٹ سول ہسپتال کے ڈاکٹر شاہنواز کنبہار پر ستمبر 2024 میں توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا جس کے بعد کراچی سے ان کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔ اس کے بعد پولیس نے ایک مقابلے کے دوران ان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جبکہ تدفین کے وقت مشتعل افراد نے ورثا سے لاش چھین کر اسے آگ لگا دی تھی۔
سندھ میں سول سوسائٹی کے احتجاج کے بعد حکومت سندھ نے پولیس کی ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی رپورٹ ٹیم تشکیل دی جس نے 27 ستمبر کو انکشاف کیا کہ ڈاکٹر شاہنواز کو حراست میں لے کر جعلی مقابلے میں ہلاک کیا گیا ہے جس کے بعد ڈی آئی جی میرپورخاص، ایس ایس پی میرپورخاص اور ایس ایس پی عمرکوٹ کو معطل کر دیا گیا تاہم ملزمان کی عدم گرفتاری پر ورثا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا تھا۔
اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر شاہنواز کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے والے پولیس اہلکاروں سمیت دیگر 45 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔
ڈاکٹر شاہنواز کے کزن ایڈووکیٹ ابراہیم کنبہار کی جانب سے ڈی آئی جی جاوید جسکانی، ایس ایس پی میرپور خاص کیپٹن اسد چوہدری، ایس ایس پی عمرکوٹ، ایس ایچ او سندھڑی نیاز کھوسو، سی آئی اے انچارج اور مقامی مذہبی رہنما پیر عمر جان سرہندی سمیت 45 افراد کے خلاف سندھڑی تھانے میں مقدمہ درج کروایا گیا۔
مقدمے میں قتل، انسداد دہشت گردی اور ہنگامہ آرائی کی دفعات شامل کی گئیں۔ پولیس افسران سمیت دیگر افراد کے خلاف درج مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز تحصیل ہسپتال عمرکوٹ میں 18ویں گریڈ میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے وہ ذہنی دباؤ کا شکار تھے جس کا علاج جاری تھا۔
درج مقدمے کے مطابق 17 ستمبر کو مذہبی گروہوں کے پر تشدد احتجاج کے بعد ڈاکٹر شاہنواز پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد وہ عمرکوٹ سے چلے گئے اسی روز انھوں نے اپنی اصلی فیس بک آئی ڈی سے تردیدی بیان بھی جاری کیا۔
مقدمے میں پیر عمر جان سرہندی کے خلاف الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے ایک مشتعل احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف ڈاکٹر شاہنواز کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا بلکہ لوگوں کے مذہبی جذبات بھی بھڑکائے۔
انڈیا میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کی رہنما پرینکا گاندھی کی جانب سے اسرائیل پر نسل کشی کے الزام پر اسرائیلی سفیر کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے حماس کے 25 ہزار عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔
منگل کے روز پرینکا گاندھی نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام لگاتے ہوئے اس سارے عمل پر انڈیا کی خاموشی کو شرمناک قرار دیا تھا۔
اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں پرینکا گاندھی نے الزام لگایا تھا کہ اسرائیلی ریاست نسل کشی کی مرکتب ہو رہی ہے۔
پریینکا گاندھی کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں 60 ہزار سے زائد افراد کو قتل کیا ہے جن میں 18,430 بچے بھی شامل ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بچوں سمیت سینکڑوں افراد غذائی قلت کے باعث مارے گئے ہیں جبکہ لاکھوں لوگوں کے بھوک سے مرنے کا خطرہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی مظالم پر انڈین حکومت کی خاموشی شرمناک ہے۔
بدھ کے روز، پرینکا گاندھی کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے انڈیا میں اسرائیل کے سفیر ریوون ازار کا کہنا تھا کہ آپ کا فریب شرمناک ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اسرائیل نے حماس کے 25 ہزار عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔‘
اسرائیلی سفیر نے الزام لگایا کہ غزہ میں ہونے والی ہولناک ہلاکتوں کی وجہ حماس کے گھناؤنے ہتھکنڈے ہیں جن میں عام شہریوں کے پیچھے چھپنا، غزہ سے انخلا یا امداد حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو گولی مارنا اور حماس کی جانب سے راکٹ فائر کرنا شامل ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ میں کوئی نسل کشی نہیں ہو رہی اور پچھلے 50 سالوں میں وہاں کی آبادی میں 450 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے اسرائیلی سفیر کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی سرکار اسرائیل کے خلاف آواز اٹھانے میں بزدلی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈین حکومت سے اسرائیلی سفیر کے بیان کی مذمت کی توقع کرنا بیکار ہے۔
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کولگام میں وسیع جنگلاتی علاقہ اکہال میں ڈیڑھ ہفتے سے جاری فوجی آپریشن منگل کی شب ختم ہو گیا۔
انڈین فوج کے ترجمان کے مطابق، آپریشن کے دوران گھنے جنگلوں اور غاروں میں چھپے عسکریت پسندوں کی فائرنگ سے دو فوجی ہلاک جبکہ دس دیگر زخمی ہو گئے۔
فوج نے آپریشن کے دوران ایک عسکریت پسند کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
پندرہویں کور کے کمانڈر نے اعلیٰ فوجی اور نیم فوجی افسروں کے ہمراہ اس آپریشن کی نگرانی کی۔
اس آپریشن میں پہلی مربتہ بمبار ڈرونز کا استعمال کیا گیا جن کے ذریعہ مشتبہ ٹھکانوں پر کئی روز تک بمباری کی گئی۔ انڈین فوج نے آپریشن ختم کرتے وقت بتایا کہ عسکریت پسند گھنے جنگلوں اور گہرے پہاڑی دروں کا فائدہ اُٹھا کر فرار ہو گئے ہیں۔
فوج کا کہنا ہے کہ منگل کی شب پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک دراندازی کی کوشش کی گئی جس کے دوران ایک فوجی ہلاک ہو گیا تاہم درانداز فرار ہو گئے۔
’جنگلوں میں گوریلا وار فئیر ایک چیلنج ہے‘
اکہال آپریشن میں شامل رہ چکے ایک فوجی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گھنے جنگلوں اور دشوار گزار پہاڑوں پر عسکریت پسندوں کو گھیرنے کے لےے بڑی تعداد میں فوجی دستوں کی ضرورت پڑتی ہے۔
’کشمیر میں دہائیوں پہلے دہشت گرد بستیوں میں رہتے تھے، اور شاہراہوں پر حملے کیا کرتے تھے۔ جنگلوں میں گوریلا وارفئیر اب ایک نیا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لئے ہم نئی حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں اور اس میں جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جائے گی۔‘
انتہا پسند جنگل میں پناہ کیوں لے رہے ہیں؟
بی بی سی ہندی کے نامہ نگار ماجد جہانگیر سے بات کرتے ہوئے جموں و کشمیر پولیس کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل منیر خان کہتے ہیں کہ گذشتہ دو برسوں میں جنگل میں ہونے والی جنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند جنگلوں میں چھپنا اس لیے پسند کرتے ہیں کیونکہ وہاں وہ آسانی سے پکڑے نہیں جاتے۔
منیر خان کے مطابق، جنگل میں ہونے کی وجہ سے سکیورٹی فورسز ان تک جلدی نہیں پہنچ پاتی اور وہ سکیورٹی فورسز کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پہلے جب عسکیرت پسند آبادی والے علاقوں میں چھپا کرتے تھے تو وہ بہت جلدی پکڑے جاتے تھے۔ ’جنگل میں وہ کئی دن گزار سکتے ہیں۔ وہ بالآخر مارے تو جاتے ہیں لیکن سکیورٹی فورسز کو انھیں ہلاک کرنے کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
واضح رہے 2021 سے اکہال جیسے کئی آپریشن پونچھ، راجوری، کشتواڑ اور جنوبی کشمیر کے کوکرناگ اور کولگام اضلاع میں کیے گئے۔ تاہم اکثر طویل محاصرے کے بعد بھی عسکریت پسند فرار ہوجانے میں کامیاب ہو جاتے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق، چار سالہ عرصے میں ایسے ہی آپریشنز کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں کئی افسروں سمیت 50 سے زیادہ فوجی اہلکار مارے گئے ہیں۔
گذشتہ برس جموں کے اُودھمپور ضلع کے قریب جنگلاتی علاقے میں بھی عسکریت پسندوں فوج پر حملہ کرنے کے بعد جنگلوں میں چھپ گئے۔ انھیں تلاش کرنے کے لیے اسرائیلی ساختہ ’ہیرون ایم کے 2‘ ڈرون اُڑایا گیا لیکن وہ ڈرون جموں ایئرپورٹ کے ایک ٹاور کے ساتھ ٹکرا کر کریش ہوگیا۔ اس حادثہ میں انڈین فضائیہ کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا تھا۔
دریں اثنا جموں کے ضلع سانبہ میں پاکستانی سرحد کے دو کلومیٹر کے دائرے میں حکام نے منگل کی شب سے شبانہ کرفیو کا اعلان کیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ 15 اگست کے روز انڈیا کے یوم آزادی کے موقع پر تقریبات کی سکیورٹی کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔
’قبائلی بستیوں کو ناراض کرنا سیکورٹی رِسک ہے‘
انسداد دہشت گردی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے ساتھ وابستہ رہ چکے مصنف اور محقق لَو پُوری نے بی بی سی کو بتایا ’جنگلاتی علاقوں میں جو مبینہ پاکستانی دہشت گرد پناہ لیتے ہیں وہ گجر اور پہاڑی آبادی کے ساتھ نسلی، ثقافتی اور مذہبی ہم آہنگی رکھتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ راجوری اور پونچھ تو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کا ہی ایکسٹینشن ہے اور وہاں کے بیشتر خاندانوں کے رشتہ دار یہاں آباد ہیں۔
لَو پُوری کہتے ہیں کہ دہائیوں سے انڈین فوج کے لیے گجر اور پہاڑی آبادیاں ’فرنٹ لائن آف ڈیفینس‘ رہی ہیں۔
’لیکن بدقسمتی سے کچھ واقعات ایسے ہوئے جن میں فوج پر الزام لگا کہ گجر اور پہاڑی شہریوں کو حراستی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان آبادیوں کو ناراض کرنا سیکورٹی رِسک ہے۔ عسکریت پسندوں کے نئے حربوں سے نمٹنے کے لئے لوگوں کا تعاون لازمی ہے۔‘