آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسحاق ڈار عرب اسلامی وزرائے خارجہ کے رابطہ اجلاس میں شرکت کے لیے سوموار کو ترکی روانہ ہوں گے: دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کے مطابق استنبول اجلاس کے دوران پاکستان غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد، فلسطینی سرزمین بالخصوص غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا معاملہ اٹھائے گا اور فلسطینیوں کے لیے امداد کی بلاتعطل فراہمی اور غزہ کی تعمیرنو کی ضرورت پر زور دے گا۔

خلاصہ

  • پاکستان کے دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مزید کشیدگی نہیں چاہتا تاہم مستقبل میں ہونے والی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
  • امریکہ کے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور انڈیا کے درمیان 10 سالہ دفاعی تعاون کے فریم ورک پر دستخط کیے گئے ہیں جس دوران معلومات کی شیئرنگ کو بڑھایا جائے گا۔
  • بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں 'سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر' موبائل فون انٹرنیٹ سروس کو بند کیا گیا ہے۔
  • افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ استنبول مذاکرات کے بعد ’دونوں فریق دوبارہ ملاقاتیں کریں گے

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    تین نومبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. اسحاق ڈار عرب اسلامی وزرائے خارجہ کے رابطہ اجلاس میں شرکت کے لیے سوموار کو ترکی روانہ ہوں گے: دفتر خارجہ

    پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار استنبول میں ہونیوالے عرب اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ کے رابطہ اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی کا ایک روزہ دورہ کریں گے۔

    اتوار کو دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اسحاق ڈار ترک وزیرِ خارجہ کی دعوت پر سوموار تین نومبر کو ایک روزہ دورے پر استنبول روانہ ہوں گے، جہاں وہ عرب اسلامی وزرائے خارجہ کے رابطہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    دفتر خارجہ سے جاری اعلامیے کے مطابق استنبول اجلاس کے دوران پاکستان غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد، فلسطینی سرزمین بالخصوص غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا معاملہ اٹھائے گا اور فلسطینیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی بلاتعطل فراہمی اور غزہ کی تعمیرنو کی ضرورت پر زور دے گا۔

    اعلامیے کے متن کے مطابق پاکستان1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے حصول کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دے گا جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

    یاد رہے کہ پاکستان، سات دیگر عرب و اسلامی ممالک کے ہمراہ، اس امن اقدام میں سرگرم رہا ہے جس کے نتیجے میں شرم الشیخ میں ’غزہ امن معاہدے‘ پر دستخط ہوئے۔

    اعلامیے کے مطابق پاکستان امن، انصاف اور فلسطینی عوام کی عزتِ نفس کی بحالی اور ان کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔

  3. نائجیریا نے مسیحیوں کے قتل بند نہ کیے تو امریکہ امداد بند اور عسکری کارروائی کر سکتا ہے: ٹرمپ کا انتباہ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’اگر نائجیریا کی حکومت مسیحیوں کے قتل رکوانے میں ناکام رہتی ہے تو امریکہ فوراً نائجیریا کو دی جانے والی تمام امداد اور معاونت بند کر دے گا اور ضرورت پڑنے پر اس ملک میں داخل ہو کر اُن اسلامی دہشت گردوں کو سختی سے ختم کر سکتا ہے جو یہ بہیمانہ مظالم کر رہے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ وہ اپنے محکمہِ دفاع کو ممکنہ کارروائی کی تیاری کا حکم دے رہے ہیں اور اگر حملہ ہوا تو وہ تیز، جارحانہ اور فیصلہ کن ہوگا۔

    ٹرمپ نے تنبیہ کی ہے کہ ’بہتر ہو گا کہ نائجیریا کی حکومت جلدی کرے۔‘

  4. ہنگو: دوآبہ میں پولیس قافلے پر حملہ، ایس ایچ او سمیت دو اہلکار زخمی

    خیبر پختونخوا کے شہر ہنگو کے علاقے دوآبہ میں پولیس قافلے کو آئی ای ڈی حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایس ایچ او سمیت دو اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔

    پولیس ذرائع کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب پولیس افسران البرق کمانڈوز اور ضلعی نفری کے ہمراہ سرچ آپریشن سے واپسی پر تھے۔

    دھماکے کے نتیجے میں ایس ایچ او تھانہ دوآبہ انسپکٹر عمران الدین، آئی ایچ سی جہاد علی اور ڈی ایس پی اہلکار عابد زخمی ہو گئے۔

    زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال ہنگو منتقل کر دیا گیا ہے اور تمام اہلکاروں کا حالت خطرے سے باہر ہے۔

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع ہنگو کے علاقے دوآبہ میں پولیس گاڑی پر ہونے والے آئی ای ڈی حملے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تفصیلی رپورٹ آئی جی پولیس سے طلب کر لی ہے۔

    وزیر اعلیٰ نے واقعے میں زخمی اہلکاروں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بزدلانہ کارروائیوں میں ملوث عناصر کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

    دھماکے کے فوراً بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

    سکیورٹی فورسز نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ضلع بھر میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    کچھ روز قبل ہنگو میں پولیس کی گاڑی پر بم حملے میں ایس پی آپریشنز اسد زبیر سمیت تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

    ڈی آئی جی کوہاٹ عباس مجید مروت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’غلمینہ نامی چیک پوسٹ کو جس وقت نشانہ بنایا گیا اُس وقت وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔‘

    ’تاہم اس پوسٹ پر ہونے والے آئی ای ڈی حملے کے بعد جب ایس پی آپریشن اسد زبیر اپنی نفری کے ساتھ اس جانب روانہ ہوئے تو چیک پوسٹ سے کُچھ فاصلے پر ایک اور زیادہ طاقتور آئی ڈی کی مدد سے اُن کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے اُس کے ساتھ پولیس وین میں سوار اُن کے ڈرائیور اور گارڈ موقعے پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ایس پی آپریشن اسد زبیر کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے اور ہلاک ہو گئے۔‘

  5. ذبیح اللہ مجاہد کے انٹرویو پر خواجہ آصف کا ردعمل: ’پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت میں مکمل اتفاق رائے ہے‘

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے تبصروں کو بدنیتی پر مبنی اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی سکیورٹی پالیسیوں پر تمام پاکستانیوں بشمول ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت میں مکمل اتفاق رائے موجود ہے۔‘

    خواجہ آصف نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’پاکستانی عوام بالخصوص خیبر پختونخواہ کے لوگ، افغان طالبان رجیم کی طرف سے انڈیا کی سرپرستی میں ہونے والی وحشیانہ دہشت گردی سے پوری طرح آگاہ ہیں اور اس کے ارادے یا طرز عمل کے بارے میں کوئی وہم نہیں رکھتے۔‘

    خیال رہے اس سے قبل افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا تھا کہ ’پاکستان کی سویلین حکومت افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتی ہے لیکن پاکستانی فوج تعلقات کو بہتر بنانے کی ان کوششوں کو ناکام بنا رہی ہے۔‘

    پاکستانی فوج نے طالبان حکومت کے ترجمان کے اس الزام پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا ہے۔

    تاہم خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ’یہ غیر نمائندہ افغان طالبان رجیم ہے جو اندرونی دھڑے بندی کا شکار ہے اور وہ افغان نسلوں، خواتین، بچوں اور اقلیتوں پر مسلسل جبر کی ذمہ دار ہے، جبکہ اظہار، تعلیم اور نمائندگی کے بنیادی حقوق کو بھی سلب کر رہی ہے۔‘

    پاکستان کے وزیرِ دفاع نے کہا ’چار سالہ اقتدار میں رہنے کے بعد بھی افغان طالبان رجیم بین الاقوامی برادری سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے اور اب بیان بازی کے ذریعے اور بیرونی عناصر کے لیے پراکسی کے طور پر کام کر کے اپنی ہم آہنگی، استحکام اور حکمرانی کی صلاحیت کی کمی کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کی پالیسی اپنے شہریوں کو سرحد پار دہشت گردی اور خوارج کے گمراہ کن نظریے سے بچانے کے لیے متحد، غیر متزلزل، اور قومی مفاد کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و استحکام کے حصول کے لیے بھی ہے۔‘

    ایک نجی پاکستانی ٹیلی ویژن چینل خیبر نیوز کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں طالبان حکومت کے ترجمان نے کہا تھا کہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے پاکستان میں دو طرح کے خیالات پائے جاتے ہیں۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے قطر اور ترکی میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کے دوران پاکستانی وزیر دفاع کے سخت بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’مذاکرات کے دوران ایسا کرنے سے مذاکرات میں کسی اور کو فائدہ ہو یا نہ ہو لیکن جب کوئی افغانوں سے بات کرنے بیٹھتا ہے اور پھر پیچھے سے دھمکی دیتا ہے تو اس سے مذاکرات کے ماحول پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔‘

    افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے صادق خان کے گذشتہ سال کے اواخر میں دورہ کابل کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوجیوں نے پکتیکا پر اس وقت فضائی حملہ کیا جب صادق خان کابل میں طالبان حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات میں مصروف تھے۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ: ’جس رات صادق خان کابل میں مہمان تھے پکتیکا پر حملہ ہوا، فضائی حملے کیے گئے۔ پاکستان کی طرف دو نظریات ہیں: سویلین حکومت کچھ کرتی ہے، تعلقات بنانا چاہتی ہے، فوج آ کر اسے دوبارہ خراب کرنا چاہتی ہے اور اس عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے۔ اس طرح ہمارے تعلقات مزید خراب ہو گئے۔‘

    طالبان حکومت کے ترجمان نے مزید کہا کہ انھیں پاکستان سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن انھوں نے الزام عائد کیا کہ انھیں شک ہے کہ ’موجودہ پاکستانی حکومت اور خاص طور پر فوج پر ہمیں شک ہے کیونکہ وہ جنگ کسی اور کی طرف سے لڑ رہے ہیں۔‘

    ذبیح اللہ مجاہد نے کسی مخصوص ملک کا نام لیے بغیر الزام عائد کیا کہ ’شاید یہ کسی اور کی طرف سے کہا جا رہا ہو، شاید وہ اس جنگ کے ذریعے کسی کے قریب جانا چاہتے ہیں۔‘

    مجاہد نے الزام عائد کیا کہ ان کی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج میں ’ماحول کو خراب کرنے کا کام جاری ہے۔‘

  6. برطانیہ میں ٹرین پر چاقو حملہ، 10 زخمیوں میں سے نو کی حالت تشویشناک

    برطانیہ میں سنیچر کے روز ٹرین پر چاقو حملے کے نتیجے میں میں کم از کم 10 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    حملے کی پہلی اطلاع سنیچر کی شام مقامی وقت کے مطابق 7:42 منٹ پر موصول ہوئی جس کے بعد برطانیہ کے شہر ڈونکاسٹر سے لندن جانے والی ٹرین کو کیمبرج شائر کے مقام پر روک لیا گیا۔

    پولیس نے تصدیق کی ہے کہ زخمی ہونے والے 10 میں سے نو افراد کی حالت تشریشناک ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دسویں شخص کو بھی ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے تاہم ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں۔

    اس حملے کے شبہے میں اب تک دو افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جو فی الحال پولیس کی حراست میں ہیں جبکہ کاؤنٹر ٹیررازم افسران بھی تحقیقات میں حصہ لے رہے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال علاقے میں ٹرین سروس بند ہے۔

    اب تک پولیس کی جانب سے اس حملے میں زخمی ہونے والوں کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے جس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ پہلے زخمی ہونے والوں کے خاندان والوں کو اس متعلق اطلاع دینا چاہتے ہیں۔

    پولیس نے حملے کے بعد حراست میں لیے گئے افراد کی شناخت بھی ظاہر نہیں کی ہے۔

  7. بنوں: پولیس اہلکار کے اغوا کے بعد امن کمیٹی نے طالبان کمانڈر کے والد اور بھتیجے کو ’یرغمال‘ بنا لیا, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    بنوں میں ایک پولیس اہلکار کے اغوا کے واقعے کے بعد مقامی امن کمیٹی طالبان کے ایک کمانڈر کے والد اور بھتیجے کو اغوا کر کے ساتھ لے آئے ہیں۔

    اور اب مقامی عمائدین عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ پولیس اہلکار کو بازیاب کرایا جا سکے۔

    یہ واقعہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں تھانہ ہوید کی حدود میں پیش آیا ہے۔

    بنوں کے ضلعی پولیس افسر سلیم عباس کلاچی نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی سطح پر عمائدین اور امن پسند لوگوں نے امن کمیٹیاں قائم کی ہیں تاکہ اپنے علاقے اور لوگوں کی حفاظت کر سکیں۔

    انھوں نے بتایا کہ تھانہ ہوید کے حدود میں قائم کمیٹی نے ایک پولیس اہلکار کے اغوا کے واقعے کے بعد ایک عسکریت پسند طالبان کمانڈر کے والد اور بھتیجے کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی قبائلی روایات کے مطابق کی گئی ہے تاکہ علاقے میں پولیس اہلکاروں اور دیگر افراد کے اغوا اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کو روکا جا سکے۔

    اس علاقے میں قائم امن کمیٹی کے سربراہ ملک خوب نواز ہیں۔ جب ان سے رابطہ کیا گیا تو ان کے مطابق یہ واقعہ کچھ یوں پیش آیا تھا کہ دو روز پہلے ہوید بازار میں معمول کی زندگی رواں دواں تھی، لوگ خرید و فروخت کے لیے بازار آئے تھے۔

    اس بازار میں قریبی دیہاتوں سے بھی لوگ آتے ہیں۔ پولیس کانسٹیبل شفیع اللہ بھی بازار میں موجود تھے کہ اتنے میں بڑی تعداد میں مسلح عسکریت پسند بازار میں آئے اور کانسٹیبل کو اسلحے کی نوک کر اغوا کرنا چاہا۔

    اس موقع پر مسلح افراد نے بازار میں موجود لوگوں کو دھمکیاں دیں اور ڈرایا کہ کوئی قریب آیا تو اس کی خیر نہیں ہو گی۔

    انھوں نے بتایا کہ مسلح افراد کانسٹیبل شفیع اللہ کو اغوا کر کے نا معلوم مقام کی جانب لے گئے۔

    امن کمیٹی کے لوگوں کو جب اس کا علم ہوا تو مقامی پولیس اور سی ٹی ڈی کے حکام کو آگاہ کیا اوران کا عملہ بھی ساتھ ہو گیا ۔ انھوں نے بتایا کہ امن کمیٹی کے اس وقت 20 افراد مسلح ہو کر اغوا کاروں کے تعاقب میں گئے اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا تھا۔

    پولیس اہلکار اس علاقے میں تختی خیل کی طرف اور امن کمیٹی کے لوگ سری درگے کی طرف گئے اور یہاں گھنے جنگل ہیں جہاں مسلح عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کی اطلاع تھی۔

    ملک خوب نواز نے بتایا کہ امن کمیٹی کے لوگوں نے عسکریت پسندوں کے ایک کمانڈر کے والد اور بھتیجے کو ان کے گھر سے اٹھایا اور اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور اب انھیں کہا ہے کہ اگر پولیس اہلکار کو کچھ ہوا تو ویسا ہی جواب انھیں دیا جائے گا۔

    امن کمیٹی کے لوگوں نے رات 11 بجے سے رات دیر تین بجے تک علاقے میں سرچ آپریشن کیا اور عسکریت پسندوں کے ان راستوں پر ناکے لگائے جہاں سے وہ اکثر گزرتے ہیں۔

    اس امن کمیٹی میں کوئی 3000 افراد شامل ہیں۔

    ایسی اطلاعات ہیں اب علاقے میں قبائلی رہنما اور عمائدین طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ کانسٹیبل کو بازیاب کرایا جا سکے۔

    خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں سرکاری ملازمین اور پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    گزشتہ سال 50 کے لگ بھگ سرکاری افراد کو اغوا کیا گیا تھا جبکہ اس سال اب تک ایک سو سے زیادہ افراد کو اغوا کیا جا چکا ہے جن میں کچھ بازیاب کرائے گئے ہیں اور کچھ اب تک شدت پسندوں کی تحویل میں ہیں۔

  8. ’اگر دہشت گرد پاکستانی ہیں تو انھیں پاکستان کے حوالے کیا جائے‘، پاکستان کی طالبان ترجمان سے منسوب بیان کی تردید

    پاکستان نے افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے منسوب اس بیان کہ ’استنبول مذاکرات کے دوران پاکستانی فریق کو بتایا گیا کہ امارت اسلامی ایسے افراد کو ملک بدر کرنے کے لیے تیار ہے جنھیں اسلام آباد سکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، تاہم پاکستان نے یہ پیشکش قبول نہیں کی‘، کی تردید کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔

    افعانستان کی خبررساں ایجنسی آریانہ نیوز کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستانی چینل خیبر نیوز سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان نے امارت اسلامی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان افراد کو افغانستان کے اندر ہی قابو میں رکھے، بجائے اس کے کہ انھیں ملک بدر کیا جائے۔‘

    ذبیح اللہ مجاہد نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امارت اسلامی کی پالیسی مہاجرین کو اسلحہ لے جانے سے روکتی ہے اور اگر پاکستان قابلِ اعتماد معلومات دے کہ کوئی خطرہ موجود ہے تو امارت اسلامی مناسب کارروائی کرے گی۔

    پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ افغان ترجمان نے استنبول مذاکرات سے متعلق حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی طرف سے کہا گیا کہ افغانستان میں موجود وہ دہشت گرد جو پاکستان کے لیے خطرہ ہیں، ان پر قابو پایا جائے یا انھیں گرفتار کیا جائے۔ افغان فریق نے جب کہا کہ یہ افراد پاکستانی شہری ہیں تو پاکستان نے فوراً تجویز دی کہ انھیں مقررہ سرحدی چوکیوں کے ذریعے حوالے کیا جائے، جیسا کہ پاکستان کی دیرینہ پوزیشن رہی ہے۔‘

    پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کے برعکس کوئی بھی دعویٰ جھوٹا اور گمراہ کن ہے۔

  9. جب کوئی پیچھے سے دھمکی دے تو مذاکرات پر بُرا اثر پڑتا ہے: طالبان حکومت کے ترجمان

    افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا ہے کہ ’پاکستان کی سویلین حکومت افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتی ہے لیکن پاکستانی فوج تعلقات کو بہتر بنانے کی ان کوششوں کو ناکام بنا رہی ہے۔‘

    پاکستانی فوج نے طالبان حکومت کے ترجمان کے اس الزام پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا ہے۔

    ایک نجی پاکستانی ٹیلی ویژن چینل خیبر نیوز کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں مجاہد نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے پاکستان میں دو طرح کے خیالات پائے جاتے ہیں۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے قطر اور ترکی میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کے دوران پاکستانی وزیر دفاع کے سخت بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’مذاکرات کے دوران ایسا کرنے سے مذاکرات میں کسی اور کو فائدہ ہو یا نہ ہو لیکن جب کوئی افغانوں سے بات کرنے بیٹھتا ہے اور پھر پیچھے سے دھمکی دیتا ہے تو اس سے مذاکرات کے ماحول پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔‘

    افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے صادق خان کے گذشتہ سال کے اواخر میں دورہ کابل کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوجیوں نے پکتیکا پر اس وقت فضائی حملہ کیا جب صادق خان کابل میں طالبان حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات میں مصروف تھے۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ: ’جس رات صادق خان کابل میں مہمان تھے پکتیکا پر حملہ ہوا، فضائی حملے کیے گئے۔ پاکستان کی طرف دو نظریات ہیں: سویلین حکومت کچھ کرتی ہے، تعلقات بنانا چاہتی ہے، فوج آ کر اسے دوبارہ خراب کرنا چاہتی ہے اور اس عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے۔ اس طرح ہمارے تعلقات مزید خراب ہو گئے۔‘

    طالبان حکومت کے ترجمان نے مزید کہا کہ انھیں پاکستان سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن انھوں نے الزام عائد کیا کہ انھیں شک ہے کہ ’موجودہ پاکستانی حکومت اور خاص طور پر فوج پر ہمیں شک ہے کیونکہ وہ جنگ کسی اور کی طرف سے لڑ رہے ہیں۔‘

    ذبیح اللہ مجاہد نے کسی مخصوص ملک کا نام لیے بغیر الزام عائد کیا کہ ’شاید یہ کسی اور کی طرف سے کہا جا رہا ہو، شاید وہ اس جنگ کے ذریعے کسی کے قریب جانا چاہتے ہیں۔‘

    مجاہد نے الزام عائد کیا کہ ان کی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج میں ’ماحول کو خراب کرنے کا کام جاری ہے۔‘

  10. انڈیا پاکستان کو مشرقی اور مغربی دونوں محاذوں پر مصروف رکھنا چاہتا ہے: وزیرِ دفاع خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ملک کے تمام سیاستدان، اسٹیبلشمنٹ، تمام متعلقہ ادارے اور عوام اس معاملے پر متفق ہیں کہ افغانستان کے مسئلے کا فوری حل ناگزیر ہے اور وہ حل یہی ہے کہ افغان سرزمین سے ہماری سرزمین میں والی دہشت گردی بالکل بند ہونی چاہیے۔

    نجی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر دونوں ریاستیں معمول کے تعلقات برقرار رکھ سکیں تو وہ ترجیحی حل یہی ہوگا اور گذشتہ 70-78 سال کی تاریخ اس کی گواہ ہے۔

    پاکستان کے وزیرِ دفاع نے کہا کہ اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے اور ’اگر بعد میں ثبوت درکار ہوئے تو ہمارے پاس ثبوت بھی ہیں کہ انڈیا کس طرح اس (افعانستان سے ہونے والی) دہشت گردی میں ملوث ہے اور وہ ہمیں دو محاذوں پر مصروف رکھنا چاہتا ہے، ایک مشرقی اور دوسرا مغربی۔‘

    انھوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ہماری افعانستان کے ساتھ جو بات چیت جاری ہے وہ کسی اچھے انجام تک پہنچے گی اور دوست ملکوں کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

    خیال رہے کہ پاکستان کی مشرقی سرحد پر انڈیا واقع ہے۔ مئی میں چار روزہ فوجی لڑائی کے دوران پاکستان اور انڈیا نے ایک دوسرے پر میزائل اور ڈرون حملوں کا الزام لگایا تھا اور امریکی صدر ٹرمپ نے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کرانے کا اعلان کیا تھا۔ جبکہ مغربی سرحد سے مراد افغانستان ہے جس کے ساتھ پاکستان نے دوحہ اور استنبول میں مذاکرات کے بعد جنگ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔

  11. انڈین خفیہ ایجنسی نے پاکستانی مچھیرے اعجاز ملاح کو جاسوسی کے لیے استعمال کیا، پاکستان کا دعویٰ

    پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا دعویٰ ہے کہ اعجاز ملاح نامی ایک مچھیرے کو گرفتار کیا گیا ہے جنھیں انڈیا کی ایک خفیہ ایجنسی نے اپنے لیے کام کرنے پر آمادہ کیا تھا۔

    اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران عطا تارڑ نے کہا کہ انڈیا نے اعجاز ملاح نامی مچھیرے کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کیا جس کے بعد انھیں دباؤ ڈال کر اپنے لیے کام کرنے پر آمادہ کیا گیا۔

    عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ مچھیرے اعجاز ملاح کو پاکستان بھیج کر ’ٹاسک‘ دیا گیا کہ وہ پاکستانی سکیورٹی فورسز (آرمی، نیوی اور رینجرز) کی وردیاں خریدیں اور ان کے ناموں کے ساتھ رسیدیں حاصل کریں۔ جب اعجاز ملاح یہ وردیاں خرید رہے تھے تو پاکستانی ایجنسیوں نے ان کی نگرانی شروع کر دی۔

    انھوں نے کہا کہ ان سے موبائل سمز، پاکستانی کرنسی اور دیگر سامان بھی برآمد ہوا ہے۔

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے بعد یہ انڈیا کی ایک اور مذموم کوشش تھی جسے پاکستان نے ناکام بنا دیا۔

    عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ انڈیا پاکستان کی معرکہ حق میں فتح اور سفارتی کامیابیوں سے پریشان ہے اور آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد انڈیا نے جھوٹی مہمات شروع کیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ انڈیا اپنی میدانِ جنگ میں شکست کو بھلا نہیں پا رہا اور اب اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ پورا انڈین میڈیا جھوٹا بیانیہ پھیلانے میں مصروف ہے تاکہ پاکستان کو بدنام کیا جا سکے۔

    پریس کانفرنس کے دوران اعجاز ملاح کا ایک اعترافی بیان بھی چلایا گیا جس میں وہ بتاتے ہیں کہ کیسے انڈین ایجنسیوں نے انھیں سمندر سے گرفتار کیا اور کہا کہ ’اگر ہمارے لیے کام نہ کیا تو جیل میں رہو گے۔‘

    اعجاز ملاح نے کہا ’ہم مچھلی پکڑنے گئے تو انڈیا نے ہمیں پکڑ لیا۔ انھوں نے کہا کہ آرمی، نیوی اور رینجرز کی وردیاں لینی ہیں، زونگ سم، پاکستانی سگریٹ اور کرنسی لانی ہے۔‘

    اعجاز ملاح نے بیان میں کہا کہ ان ہدایات کے بعد انڈین خفیہ ایجنسی نے انھیں رہا کر دیا۔ ’میں نے خفیہ ایجنسی کے افسر کو کچھ تصاویر بھیجیں اور جب دوبارہ سمندر میں گیا تو پاکستان کی ایجنسی نے مجھے پکڑ لیا۔‘

    انڈیا نے تاحال اس الزام پر کوئی ردِعمل نہیں دیا ہے۔

  12. بلوچستان: ضلع کوہلو میں تعمیراتی کمپنی کی سائٹ پر حملہ، ایک لیویز اہلکار ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع کوہلو میں نامعلوم مسلح افراد کے تعمیراتی کمپنی کی سائٹ پر ہونے والے حملے میں لیویز فورس کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ ایک اور اہلکار سمیت دو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    سرکاری حکام کے مطابق یہ حملہ گذشتہ شب کوہلو سے اندازاً 20 کلومیٹر دور کوہلو ڈیرہ غازی خان روڈ پر کیا گیا۔

    لیویز فورس کے رسالدار میجر شیر محمد مری نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ لیویز فورس کے اہلکاروں کی مزاحمت کی وجہ سے حملہ آور کیمپ میں داخل نہیں ہو سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مزاحمت کے دوران گولی لگنے سے لیویز فورس کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔ حملہ آوروں کی فائرنگ سے ایک مزدور بھی زخمی ہوا۔

    کوہلو میں انتظامیہ کے ایک اور سینئر اہلکار کے مطابق تعمیراتی کمپنی کوہلو ڈیرہ غازی روڈ کی تعمیر کررہی ہے جس کا کیمپ لاسے زئی کے علاقے میں قائم ہے۔

    اہلکار کے مطابق کیمپ میں سو کے لگ بھگ مزدور اور کارکن تھے جن میں پچاس کے لگ بھگ دیگر صوبوں سے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ لیویز فورس کے اہلکاروں کی بروقت کارروائی کی وجہ سے حملہ آور مزدوروں کو نقصان نہیں پہنچا سکے۔

    خیال رہے کہ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے شاہراہوں کی تعمیر کے علاوہ معدنیات نکالنے اور تلاش کرنے والی کمپنیوں پر حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    چند روز قبل بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے نال میں پولیس کے زیر انتظام علاقے میں شاہراہ کی تعمیر کرنے والی کیمپ پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔

    اس کیمپ سے متعدد مزدوروں کو اغوا کرنے کے علاوہ اس کی مشنری کو نذر آتش کیا گیا تھا۔

    اس سے قبل ضلع قلات کے علاقے دشت گوران سے تعمیراتی کمپنی سے وابستہ پانچ مزدوروں کے علاوہ ضلع مستونگ کے علاقے دشت سے 7 مزدوروں کو اغوا کیا گیا تھا۔

  13. پاکستان میں پھنسے افغان پناہ گزینوں کے لیے طورخم سرحد کھول دی گئی, عزیز اللہ خان، بی بی سی پشاور

    پاکستان نے افغانستان کے ساتھ جھڑپوں کے بعد بند کی جانے والی طورخم سرحد لگ بھگ 20 روز بعد پاکستان میں پھنسے افغان مہاجرین کے لیے کھول دی ہے۔

    حکام کے مطابق صرف اُن لوگوں کو سرحد پار کرنے کی اجازت دی جائے گی جو لڑائی کی وجہ سے سرحد بند ہونے سے پھنس کر رہ گئے تھے۔

    یہ مہاجرین جمرور اور اضاخیل کے علاقوں میں موجود تھے جنھیں مقامی افراد اور مخیر حضرات کی جانب سے طبی سہولیات اور خوراک فراہم کی جا رہی تھی۔

    چند روز قبل پاکستان میں افغان سفیر سردار احمد شکیب نے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ سرحد کی بندش کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، راہداری اور لوگوں کی آمد و رفت مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے جس کی وجہ سے پھنسے ہوئے افغان مہاجرین کی حالت انتہائی ابتر ہو گئی ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ایک طرف پولیس کو مبینہ طور پر پناہ گزینوں کو گرفتار کرنے اور ملک بدر کرنے کی مہم تیز کر دی گئی ہے۔

    اُن کے بقول افغان باشندے گرفتاری کے خوف سے، اپنا سامان باندھ کر گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور کراسنگ پوائنٹس بند ہونے کی وجہ سے آگے بڑھنے سے قاصر ہیں۔

    سردار احمد شکیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مختلف حصوں خصوصاً صوبہ پنجاب سے آنے والے مہاجرین کے قافلے پر جمرود سے طورخم تک سڑک پر تقریباً 400 بڑے ٹرکوں میں پھنسے ہوئے ہیں، جنھیں انتہائی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان میں بچے، خواتین، بوڑھے اور بیمار شامل ہیں۔

  14. نایاب معدنیات سے متعلق امریکی وفد کی پاکستان آمد، سپلائی چین اور سرمایہ کاری پر بات چیت

    نایاب معدنیات سے متعلق امریکی حکومت کے ادارے کریٹیکل منرلز فورم (سی ایم ایف) کے صدر رابرٹ لوئس سٹریئر نے اسلام آباد میں پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سمیت دیگر حکام سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں پاکستان میں امریکہ کی ناظم الامور نتالی بیکر بھی موجود تھیں۔

    وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق جمعے کو ہونے والی ملاقات میں پاکستان امریکہ تعلقات کو مضبوط بنانے، معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون اور سپلائی چین سکیورٹی کو یقینی بنانے پر بھی بات چیت کی گئی۔

    بیان کے مطابق ملاقات کے دوران پاکستان کے پاس موجود اہم معدنیات کے تناظر میں ذمے دارانہ اور پائیدار سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر بھی غور کیا گیا۔

    بیان کے مطابق وزیرِ خزانہ نے پاکستان میں جاری اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور مثبت عالمی نقطہ نظر کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ معدنیات کی ایک مضبوط پالیسی پاکستان کو ترقی اور طویل مدتی اقتصادی استحکام کی طرف لے جا سکتی ہے۔

    ستمبر میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ اس دوران پاکستان کی طرف سے امریکی صدر کو قیمتی پتھر پیش کیے گئے تھے۔

    اس کے بعد پاکستان اور امریکہ کی دو بڑی کمپنیوں کے درمیان معدنیات اور لاجسٹکس کے شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے۔ وزیر اعظم پاکستان کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق یہ کمپنیاں ابتدائی طور پر پاکستان میں معدنیات کے شعبے میں تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی۔

    نایاب معدنیات کیا ہیں؟

    نایاب معدنیات یا 'ریئر ارتھس' سے مراد 12 ایلیمنٹس ہیں جو کیمیائی اعتبار سے ملتے جلتے ہیں۔ انھیں جدید ٹیکنالوجی کی مصنوعات بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

    قدرتی طور پر ان کی بہتات پائی جاتی ہے مگر انھیں اس لیے 'نایاب' سمجھا جاتا ہے کیونکہ انھیں خالص شکل میں تلاش کرنا غیر معمولی ہوتا ہے۔ انھیں زیرِ زمین سے نکالنا بھی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

    اگرچہ آپ اِن نایاب معدنیات جیسے نیوڈیمیئم، یٹریئم اور یوروپیئم کے ناموں سے واقف نہیں ہوں مگر آپ کو ایسی مصنوعات کا علم ہوگا جن میں یہ استعمال ہوتے ہیں۔

    مثلاً نیوڈیمیئم کو ایسے طاقتور مقناطیس بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو لاؤڈ سپیکر، کمپیوٹر ہارڈ ڈرائیو، الیکٹرک کار کی موٹر اور طیاروں کے انجن میں استعمال ہوتے ہیں۔ یوں یہ مصنوعات کا حجم کم رہتا ہے اور یہ موثر کارکردگی دکھاتے ہیں۔

    اِن نایاب معدنیات کی کھوج اور ریفائننگ میں چین کا غلبہ ہے۔ ریفائننگ کے عمل میں انھیں دیگر معدنیات سے الگ کیا جاتا ہے۔

  15. ایران پر ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ رکھنے کی پالیسی، امریکی محکمہ خزانہ کے اہلکار مشرقِ وسطیٰ جائیں گے

    ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد ایران پر ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی کو جاری رکھنے کے لیے امریکی محکمہ خزانہ کے ایک سینئر اہلکار مشرقِ وسطیٰ اور یورپی ممالک کا دورہ کر رہے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی انڈر سیکرٹری برائے خزانہ برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس جان ہرلی عہدہ سنبھالنے کے بعد مشرق وسطیٰ کے اپنے پہلے دورے پر آنے والے دنوں میں اسرائیل، متحدہ عرب امارات، ترکی اور لبنان کا دورہ کرنے والے ہیں۔

    اقتدار سنبھالنے کے تقریباً دو ہفتے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد امریکی انتظامیہ کے مطابق ایران کو ’جوہری ہتھیار‘ تیار کرنے سے روکنا ہے۔

    بیان میں مسٹر ہرلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے: ’صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کی عدم استحکام اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کو مستقل اور مربوط دباؤ کے ساتھ روکا جائے گا۔‘

    نیویارک میں بی بی سی کے نامہ نگار بہمن کلباسی کا کہنا ہے کہ یہ واضح ہے کہ اس دورے کا مقصد ایران پر مالی دباؤ بڑھانا اور اس کے حکام کی اپنے مالی وسائل یا ذرائع آمدن تک رسائی کو محدود کرنا ہے۔

    امریکی محکمہ خزانہ کے ایک بیان کے مطابق، مسٹر ہرلی اسرائیل میں زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم کو آگے بڑھانے پر بات کریں گے، خاص طور پر خطے میں ایران کے پراکسی گروپس پر بھی دباؤ بڑھایا جائے گا۔

    ہرلی کے متحدہ عرب امارات کے دورے میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے نمٹنے پر بھی بات ہوگی۔

  16. پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ

    پاکستانی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔

    جمعے کو فنانس ڈویژن سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں دو روپے 43 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے اور یکم نومبر سے اس کی فی لیٹر قیمت 265 روپے 45 پیسے ہوگی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی تین روپے دو پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا جا رہا ہے اور یکم نومبر سے فی لیٹر ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 278 روپے 44 پیسے ہوگی۔

  17. کوئٹہ میں پراسرار ’دھماکے‘ میں چھ سے زائد نوجوان زخمی، انتظامیہ واقعے کی تفصیلات سے لاعلم, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب چلتن کے پہاڑی علاقے میں پکنک منانے آنے والے چھ سے زیادہ نوجوان منگل کے روز ایک پراسرار ’دھماکے‘ میں زخمی ہوگئے تھے، تاہم تین روز گزر جانے کے باوجود بھی وزیر اعلیٰ سمیت انتظامیہ اور پولیس افسران کو اس واقعے کی نوعیت کا علم نہیں ہو سکا ہے۔

    زخمی ہونے والے نوجوانوں نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ وہ فائرنگ یا زمین پر پڑے کسی بارودی مواد کے پھٹنے کے نتیجے میں زخمی نہیں ہوئے بلکہ ان کے قریب فضا سے آنے والی کوئی چیز پھٹی تھی۔

    یہاں حیران کُن بات یہ ہے کہ زخمی نوجوانوں کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں طبی امداد دی گئی ہے لیکن صوبے کے وزیرِ اعلیٰ سمیت انتظامیہ اور پولیس افسران کو ایسے کسی دھماکے یا واقعے کے بارے میں علم ہی نہیں۔

    ایک پریس کانفرنس کے دوران جب وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے چلتن میں ہونے والے واقعے کے بارے میں پوچھا گیا تھا انھوں نے کہا کہ : ’اس کی تفصیل میرے پاس نہیں ہے جوں ہی آئے گی میں شیئرکردوں گا۔‘

    تاہم چلتن میں زخمی ہونے والے ایک نوجوان نے سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر کے باہر بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’منگل کے روز پود گلی چوک سے تعلق رکھنے والے ہم 13 دوست پکنک منانے کے لیے چلتن کے پہاڑی علاقے میں گئے تھے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’شام کے وقت جب گھروں کی طرف واپس آرہے تھے کہ اچانک ایک دھماکہ ہوا جس میں مجھ سمیت بہت سارے دوست زخمی ہوئے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بدھ کی صبح سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا جہاں کم زخمی ہونے کے باعث ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد انھیں گھر بھیج دیا گیا۔

    زخمی ہونے والے ایک اور نوجوان نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ چونکہ وہ زیادہ زخمی ہونے کی وجہ سے ہوش و حواس کھو چکے تھے اس لیے صورتحال کا درست طریقے سے جائزہ نہیں لے سکے۔

    تاہم ان کا بھی کہنا تھا کہ وہ ’اوپر سے آنے والی کسی چیز‘ کی وجہ سے زخمی ہوئے تھے۔

    اس واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد کتنی تھی اور ان کے زخموں کی نوعیت کیا تھی، یہ جاننے کے لیے ٹراما سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر ارباب کامران سے رابطہ کیا لیکن انھوں نے اس سلسلے میں کوئی بات کرنے سے گریز کیا۔

    ان واقعے کے حوالے سے کمشنرکوئٹہ ڈویژن اور ڈپٹی کمشنرکوئٹہ سے فون پر رابطے کی کوشش کرنے کے علاوہ ان کو واٹس ایپ پر پیغامات بھی بھیجے گئے لیکن انھوں نے نہ کال وصول کی اور نہ ہی میسیج کا جواب دیا۔

    تاہم قائمقام ایس ایس پی آپریشنزکوئٹہ آصف یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ واقعہ مستونگ کی جانب پیش آیا تھا۔

  18. کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان کے سابق ٹکٹ ہولڈرز کا پارٹی سے لاتعلقی کا اظہار

    ملتان اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ٹکٹ ہولڈرز نے پارٹی سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔

    ملتان میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سابق ٹکٹ ہولڈر محمد حسین بابر کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کی جانب سے احتجاج کی کال دینے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ یہ کال ایسے وقت میں دی گئی جب ملک کو پہلے ہی بیرونی چیلنجز کا سامنا تھا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ وہ اور اُن کے ساتھی ناموسِ رسالت اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ٹی ایل پی میں شامل ہوئے تھے، لہذا اس کے پرتشدد ایجنڈے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔

    محمد حسین بابر کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی ملک دُشمن قوتوں کے ایجنڈے پر چل رہی تھی۔ اس لیے ہم سب نے فیصلہ کیا کہ ہم اس کے ساتھ مزید نہیں چل سکتے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کی وفاقی کابینہ نے مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کو انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کالعدم جماعت قرار دینے کی منظوری دے دی تھی۔

    یہ منظوری وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دی گئی تھی۔ پنجاب حکومت نے 17 اکتوبر کو تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی سفارش کے حوالے سے وفاقی حکومت کو سمری بھیجی تھی۔

    ٹی ایل پی نے غزہ امن معاہدہ طے پا جانے کے بعد اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کرنے کے لیے لاہور سے اسلام آباد کی جانب 'غزہ مارچ' کا آغاز کیا تھا اور لاہور میں پرتشدد جھڑپوں کے بعد مریدکے کے مقام پر پولیس اور مظاہرین کے مابین دوبارہ شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔

    مریدکے واقعے کے بعد ٹی ایل پی کی قیادت اور کارکنان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تھا اور پنجاب پولیس کے مطابق اب تک صوبے بھر سے اس جماعت کے سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

  19. توہین مذہب کے مقدمے میں ملزم کو سزائے موت اور 10 لاکھ روپے جرمانہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی محمد طارق ایوب نے توہینِ مذہب کے مقدمے میں نامزد ملزم کو موت کی سزا سنا دی ہے عدالت نے ملزم کو 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے۔

    تھانہ سول لائن پولیس نے گذشتہ سال ستمبر میں کامران خان نامی شہری کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ 50 سالہ ملزم نے لالکرتی کے ایک ہوٹل میں لوگوں کے سامنے توہینِ مذہب کی۔

    اس مقدمے کا ٹرائل مکمل ہونے پر عدالت نے ملزم کو سزائے موت کا حکم سنانے کے ساتھ ساتھ 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

    واضح رہے کہ سیشن کورٹ نے بھی اس مقدمے میں ملزم کو موت کی سزا سنائی تھی جس پر ملزم نے عدالتی فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اس مقدمے کو ریمانڈ کرتے ہوئے سیشن عدالت کو از سرِ نو سماعت کا حکم دیا تھا۔

  20. کراچی میں ای چالان کا معاملہ عدالت میں پہنچ گیا، جماعتِ اسلامی کی سندھ اسمبلی میں مذمتی قرارداد, ریاض سہیل، بی بی سی کراچی

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ای چالان کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھرپور مزاحمت سامنے آ رہی ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ نے اس فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رُجوع کر لیا ہے جبکہ جماعتِ اسلامی نے سندھ اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع کرا دی ہے۔

    دوسری جانب کراچی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ شہر میں سرکاری گاڑیوں کے بھی کئی ڈرائیورز دورانِ سفر سیٹ بیلٹ نہیں لگاتے۔

    کراچی پولیس نے حال ہی میں ٹریفک چالان سے متعلق اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق گذشتہ پانچ روز میں تقریباً 35 سرکاری گاڑیوں کے چالان کیے گئے ہیں جن میں اکثریت سیلون کارز کی تھی۔ ان میں سے 30 کا سیٹ بیلٹ نہ لگانے پر چالان کیا گیا۔

    ٹرئفک پولیس کی رپورٹ کے مطابق سرکاری گاڑیوں کے سب سے زیادہ چالان حسن سکوائر پر کیے گئے دوسرے نمبر پر میٹروپول اور بلوچ پل شاہراہ فیصل شامل ہیں۔

    ای چالان کے اجرا سے لے کر جمعرات کی شب تک کل پانچ ہزار 791 چالان کیے گئے ان میں سے سب سے زیاہ سیٹ بیلٹ چالان تھے، جن کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے زائد ہے۔ یاد رہے کہ سیٹ بیلٹ نہ لگانے کی خلاف ورزی پر جرمانہ 10 ہزار اور کمرشل گاڑی پر 15 ہزار رپے جرمانہ ہے۔

    دوسرے نمبر پر موٹر سائیکل سوار ہیں جن میں سے ساڑھے پندرہ سو سے زائد افراد پر ہیلمٹ نہ پہننے پر جرمانہ عائد کیا گیا۔ تیسرے نمبر پر سگنل کی خلاف ورزی آئی جس میں 352 افراد پر جرمانہ ہوئے، چوتھے نمبر پر دوران ڈرائیونگ موبائل استعمال کرنے پر 166 افراد کے چالان ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب سیاسی جماعتیں ای چالان کو سیاسی میدان اور عدالت میں لے آئی ہیں، مرکزی مسلم لیگ نے کراچی میں ای چالان سسٹم کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کردی ہے۔

    جماعتِ اسلامی کی جانب سے سندھ اسمبلی میں مذمتی قرار داد جمع کرائی گئی، رکن اسمبلی محمد فاروق نے کہا ہے کہ پنجاب میں جہاں سڑکیں بہتر ہیں وہاں جرمانہ سندھ کے مقابلے میں کم ہے یعنی سندھ میں 5 ہزار اور پنجاب میں 200 کا ہے یہ شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔

    قرارداد میں ای چالان کا نوٹیفیکیشن واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما سردار عبدالرحیم نے بھی کہا ہے کہ کراچی میں شناختی کارڈ بلاک کرنے کی دھمکی سمجھ سے بالاتر ہے، نادرا وضاحت کرے کہ یہ فیصلہ صرف سندھ کے لیے ہے یا دیگر صوبوں پر بھی لاگو ہو کا۔

    سردار عبدالرحیم کا کہنا تھا کہ ای چالان کے نام پر حکومت شہریوں سے بھاری رقوم وصول کرنا چاہتی ہے۔