یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
بی بی سی کی تازہ ترین لائیو کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فروری 2022 میں روس کی مداخلت کے بعد اسے یوکرین کی سب سے بڑی جوابی کارروائیوں میں سے ایک کہا جا رہا ہے۔ دوسری جانب روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کیئو پر الزام لگایا ہے کہ اس نے روس کی پُرامن آبادی کو اشتعال دلانے کی کوشش کی ہے۔
بی بی سی کی تازہ ترین لائیو کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔
یوکرینی دستوں نے روس میں داخل ہو کر 30 کلو میٹر تک پیش قدمی کی ہے۔
فروری 2022 میں روس کی مداخلت کے بعد اسے یوکرین کی سب سے بڑی جوابی کارروائیوں میں سے ایک کہا جا رہا ہے۔
روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ روسی دستوں کی کورسک کے خطے میں یوکرینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔
روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کیئو پر الزام لگایا ہے کہ اس نے روس کی پُرامن آبادی کو اشتعال دلانے کی کوشش کی ہے۔
صدر زیلنسکی نے یوکرینی حملے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ کو ’جارحیت دکھانے والے کے خطے میں داخل کر رہا ہے۔‘
’یوکرین نے ثابت کیا کہ وہ انصاف بحال کر سکتا ہے اور ظالم پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔‘
ادھر اتوار کو روسی وزارت دفاع نے کہا کہ اس کے دستوں نے روسی علاقے میں داخل ہونے والے دشمن گروہوں کے عزائم کو ناکام کیا ہے۔
اس نے اعتراف کیا ہے کہ یوکرینی دستے سرحد پار 25 سے 40 کلومیٹر اندر آ چکے ہیں۔
یوکرین کا دعویٰ ہے کہ اس نے کورسک میں آباد کاریوں پر قبضہ کیا ہے۔ فوجیوں کی بعض ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ انتظامی عمارتوں پر سے روسی پرچم ہٹا رہے ہیں۔
یوکرینی دستوں نے کم آبادی والے علاقوں میں بعض انتظامی عمارتوں کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔
بی بی سی ویریفائی کی جانب سے ان تصاویر کی تصدیق کی گئی ہے جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ روس کورسک جوہری پلانٹ کے قریب دفاعی تعمیرات کر رہا ہے۔
روس کا کہنا ہے کہ سرحدی خطے سے 76 ہزار لوگوں کا انخلا کیا گیا ہے اور علاقے میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ کورسک حملے کا مقصد مشرقی یوکرین سے روسی دستوں کو نکالنا ہے تاکہ یوکرین پر دفاعی دباؤ کم ہوسکے۔
ماسکو نے یوکرینی حملے کے جواب میں کیئو پر میزائل حملہ کیا ہے جس میں ایک شخص اور اس کا چار سالہ بیٹا ہلاک ہوئے ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق گذشتہ شب سے 57 میں سے 53 ڈرون حملوں کو ناکام بنایا گیا۔
چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کی ’خودمختاری، سکیورٹی اور قومی عصمت‘ کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کو وزیرِ خارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب علی باقری سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے 31 جولائی کو تہران میں حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس حملے سے ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور خطے میں استحکام کو خطرہ لاحق ہوا ہے۔
ایران اور حماس نے اسماعیل ہنیہ کے قتل کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔
چین کی وزارتِ خارجہ کے مطابق چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب علی باقری کو بتایا کہ اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت سے ’غزہ میں جنگ بندی سے متعلق مذاکراتی عمل، خطے میں امن اور استحکام کو نقصان پہنچا ہے۔‘
’چین قوانین کے مطابق ایران کے اپنی خودمختاری، سکیورٹی اور قومی عصمت کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے، اور خطے میں امن اور استحکام کی کوششوں کو نہ صرف جاری رکھے گا بلکہ اس کے حصول کے لیے ایران سے بھی گفتگو جاری رکھے گا۔‘
خیال رہے علی باقری بطور ایران کے عبوری وزیرِ خارجہ خدمات انجام دے رہے تھے۔ اتوار کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عباس عراقچی کو ملک کا نیا وزیرِ خارجہ مقرر کر دیا ہے۔
اسرائیل کو ممکنہ ردِ عمل دینے کے حوالے سے گذشتہ روز اقوامِ متحدہ میں ایران کے نمائندے علی شمخانی کا کہنا ہے کہ غزہ میں ممکنہ جنگ بندی کے معاہدے کا ان کے ملک کے حقِ دفاع سے کوئی تعلق نہیں لیکن انھیں امید ہے کہ اسرائیل کے خلاف ان کے جوابی حملے سے غزہ میں ممکنہ جنگ بندی کو نقصان نہیں پہنچے گا۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کے نمائندے علی شمخانی کا کہنا تھا کہ ’اسرائیلی حکومت کی حالیہ دہشتگرد سرگرمیوں سے ہماری قومی سلامتی اور خود مختاری کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔‘
’ہمیں اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے اور اس کا غزہ میں جنگ بندی سے کوئی تعلق نہیں، لیکن ہمیں امید ہے کہ ہماری طرف سے ردِ عمل ایک ایسے وقت اور ایک ایسے طریقے سے دیا جائے گا جس سے غزہ میں ممکنہ جنگ بندی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔‘
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق نیویارک میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں علی شمخانی نے مزید کہا کہ ’غزہ میں جنگ بندی ہماری اولین ترجیح ہے اور جو معاہدہ حماس کو قبول ہوگا وہ ہمیں بھی قبول ہوگا۔‘
پاکستان میں نیشنل ڈیزازٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے وارننگ جاری کی ہے کہ اگلے دو روز میں ملک بھر میں موسلادھار بارشوں اور خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں گلیشیئر پگھلنے (گلوف) کے سبب سیلاب آنے کا خدشہ ہے۔
سنیچر کی رات کو ایک ایڈوائزری میں این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ موجودہ موسمی صورتحال میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے علاقوں دیر، سوات، کوہستان، استور، گلگت، سکردو اور شگر میں گلیشیئر پگھلنے کے سبب سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
این ڈی ایم اے نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان علاقوں میں سفر کرنے سے گریز کریں۔
بارشوں کی پیش گوئی
این ڈی ایم اے کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے متعدد علاقوں بشمول وادی نیلم، مظفرآباد، پونچھ، روالاکوٹ، باغ، کوٹلی، بھمبر اور ہٹیاں میں آندھی اور تیز بارشوں کے امکانات موجود ہیں۔
ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ اگلے دو روز میں پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں بھی تیز بارشیں متوقع ہیں۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں حکام کا کہنا ہے کہ موسلا دھار بارشیں صوبے کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا سبب بن سکتی ہیں۔
صوبائی ڈیزازٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق صوبے کے پہاڑی علاقوں کے حساس مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ موسلادھار بارش، آندھی اور بجلی گرنے کے سبب روزمرہ کے معمولات متاثر ہو سکتے ہیں۔
دُنیا کی دوسری بڑی چوٹی کے ٹو کی بوٹل نیک سے حسن شگری کی لاش کو واپس لانے والی ٹیم کے رُکن مراد سدپارہ دو غیر ملکی کوہ پیماؤں کے ساتھ اوپر چڑھتے ہوئے ایک حادثے میں زخمی ہوگئے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مراد سدپارہ ایک خاتون پیما کے ہمراہ کے ٹو کے کیمپ ون پر تھے، جہاں وہ لینڈ سلائیڈنگ کے سبب زخمی ہوگئے۔
مراد سدپارہ کی خدمات پرتگالی خاتون کوہ پیما نے حاصل کی تھیں، جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ کیمپ ون میں دیگر کوہ پیماؤں کے ہمراہ محفوظ ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حادثہ گزشتہ روز شام کو پیش آیا تھا اور فی الحال مراد سد پارہ کو ہیلی کاپیٹر کے زریعے نیچے لانا ممکن نظر آتا ہے۔
ان کی ساتھی کوہ پیما نائلہ کیانی نے ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ ’ہم کوشش کررہے ہیں کہ مراد سد پارہ کو ہیلی کاپیٹر کی مدد مل جائے مگر کوئی نہیں سن رہا ہے۔‘
الپائن کلب آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری کرار حیدر ی نے بھی ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ہم آرمی ایوی ایشن سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جلدی سے براڈ پیک پر ہیلی کاپیٹر روانہ کریں، جو زخمی مراد سد پارہ کو کیمپ ون سے ہسپتال تک پہنچا سکے۔
بعد میں کرار حیدری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’اس وقت ریسیکو آپریشن شروع ہوگیا ہے۔ تین کوہ پیما کے ٹو کی براڈ پیک پر جانے کو تیار ہیں، جبکہ آرمی ایوی ایشن نے اپنی ابتدائی تیاری کرلی ہے۔ امید کرتے ہیں کہ جلد ہی مراد سد پارہ کو مدد بھی فراہم کی جائے گی۔‘
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے پہلی بار یہ تسلیم کیا ہے کہ یوکرین اس وقت روس کے مغرب میں کرسک خطے پر حملے کر رہا ہے۔
سنیچر کو اپنے ٹی وی خطاب میں یوکرین کے صدر نے کہا کہ یوکرین کی فوج اب جنگ کو جارح ملک (روس) کی سرزمین پر لے کر جا رہی ہے۔
یوکرین نے پانچ روز سے یہ حملے شروع کر رکھے ہیں جن سے روس حیرت زدہ رہ گیا اور اب سرحد کی دونوں اطراف بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔
یوکرین کے دارالحکومت کیئو اور سمی کے علاقے پر روس نے اتوار کے روز فضائی حملے بھی کیے۔
یوکرین کی ایمرجنسی سروسز کے مطابق اتوار کو کیئو میں ایک 35 سال کے شخص ان کے چار سال کے بیٹے روس کے حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
ٹیلیگرام پر ایک جاری کی گئی ایک پوسٹ کے مطابق 13 برس کے بچے سمیت تین افراد ان حملوں میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔
کیئو کے میئر وتلی کلیشکو نے ٹیلیگرام پر اتوار کی صبح ایک پوسٹ میں لکھا کہ ایئرڈیفنس کام کر رہے ہیں اور سویلین کو خبردار کیا ہے کہ وہ پناہ گاہوں میں رہیں۔
سنیچر کو اپنے خطاب میں صدر زیلنسکی نے یوکرین کے فوجیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انھوں نے روس میں فوجی آپریشن کے بارے میں فوج کے سینیئر کمانڈر اولیکسندر سریسکی سے مشاورت کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ یوکرین نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ انصاف کا بول بالا کر سکتا ہے اور اس بات کو بھی یقینی بنا سکتا ہے کہ وہ جارح ملک پر ضروری دباؤ میں رکھے۔
اس حملے میں کرسک کے علاقے میں کم از کم 13 لوگ زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے دو کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ اس بات کی تصدیق اس روسی علاقے کے گورنر نے کی ہے۔
روس کی ٹاس نیوز ایجنسی کے مطابق سرحدی علاقے سے 76000 لوگوں کا انخلا کیا گیا ہے۔ گورنر کے مطابق انھوں نے حکام سے انخلا کا آپریشن جلد مکمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
روس کے مطابق ہزار سے زائد یوکرینی فوجی ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ روسی علاقے کرسک میں منگل کی صبح داخل ہوئے۔
یوکرینی فوجیوں نے اس کے بعد سے متعدد روسی گاؤں پر قبضہ کر لیا ہے اور علاقے میں موجود ایک قصبے ’سُدزہ‘ پر قبضے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکہ کی نائب صدر کمیلا حارث نے سنیچر کو غزہ کے ایک سکول پر اسرائیلی فضائی حملے کی مذمت کی ہے جس میں متعدد سویلین ہلاک ہوئے ہیں۔
بی بی سی کو ایک سکول کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ اسرائیلی حملے میں ہسپتال میں 70 سے زائد سویلین ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اس سکول کی عمارت میں بے گھر فلسطینیوں کو پناہ دی گئی تھی۔
کمیلا حارث کا کہنا ہے کہ ایک بار پھر بہت بڑی تعداد میں سویلین کو مارا گیا ہے۔ انھوں نے حماس کے قبضے میں اسرائیلی مغویوں سے متعلق ڈیل کو جلد یقینی بنانے اور ’سیز فائر‘ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ایک اسرائیلی فوج کے ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ جس سکول پر فضائی حملہ کیا گیا ہے وہ حماس اور اسلامی جہادیوں کا ایک فعال مرکز تھا۔ حماس نے اس اسرائیلی الزام کی تردید کی ہے۔
ایروزونا میں ایک انتخابی ریلی سے اپنے خطاب میں کمیلا حارث نے کہا کہ اسرائیل کو حماس کا تعاقب کرنے کا حق تو حاصل ہے مگر اس کے ساتھ ہی اس پر سویلین اموات سے بچنے کی بھی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
مغربی اور علاقائی ممالک نے اسرائیل کی طرف سے سنیچر کو کیے جانے والے فضائی حملے کی مذمت کی ہے۔ مصر نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کو غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے جنگ بندی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
ال اہلی ہسپتال کے سربراہ فضل نعیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں جن لوگوں کو لایا گیا ان میں سے تقریباً 70 مرنے والوں کی شناخت ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر افراد اس قدر اس حملے میں متاثر ہوئے کہ ان کی شناخت ہی مشکل ہو گئی ہے۔
اسرائیل نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حماس اور اسلامی جہادیوں کے کم از کم 19 ارکان کو ہلاک کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہیگاری کا کہنا ہے کہ متعدد انٹیلیجنس رپورٹ سے یہ پتا چلتا ہے کہ اس حملے کے وقت اسلامک جہاد کے سینٹرل کیمپس بریگیڈ کے اشرف جودا بھی اس سکول میں موجود تھے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کمانڈر اس حملے میں مارے گئے ہیں یا نہیں۔
حماس نے اس اسرائیلی حملہ کو وحشیانہ جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل کی عام فلسطینیوں کو ختم کرنے کے لیے کھلی جارحیت ہے۔
سپریم کورٹ کے سیینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے علاوہ انتطامی اداروں کے پاس کوئی رستہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہو گا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ وہ اپنے اختیارات کی حد تک یہ یقینی بنائیں گے کہ فیصلوں پر عملدرآمد ہو۔
اسلام آباد میں سینٹر فار سوشل جسٹس نامی تنظیم نے سنہ 2014 میں پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر دس سال گزر جانے کے باوجود عملدرآمد نہ ہونے پر ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا جس میں جسٹس منصور علی شاہ کو چیف گیسٹ کے طور پر مدعو کیا گیا۔
’عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد میں درپیش چیلنجز پر قابو پانے‘ کے عنوان سے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس منصور نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سمیت ’یہ کبھی ہو نہیں سکتا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہو، یہ نہیں ہوسکتا، یہ آئین کی خلاف ورزی ہو گی اگر ایسا سوچا جائے گا، انتظامی اداروں کے پاس کوئی چوائس نہیں ہے سوائے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کے۔ یہ میں نہیں آئین کہتا ہے، یہ آئین کا سٹرکچر ہے، سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد روایت نہیں بلکہ لازمی تقاضا ہے، سپریم کورٹ بھی یہ اتھارٹی آئین سے ہی لیتی ہے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد ہوتا ہے اور یہی آئین کا سٹرکچر ہے۔ یا پھر تبدیل کر لیں سارا سٹرکچر اور کچھ اور بنا لیں مگر معاملات اس طرح نہیں چلیں گے۔‘
’اس وقت یہی آئینی سٹرکچر ہے کہ کسی بھی فیصلے کو نظرانداز یا اس پر عملدرآمد میں تاخیر نہیں کی جا سکتی ورنہ سارا قانونی سسٹم کو آپ بگاڑ کر رکھ دیں گے اور اس کا سارا توازن بگاڑ کر رکھ دیں گے، اگر آپ اس طرف چل پڑے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہو سکتا۔ یہ تقسیم اختیارات کے فارمولے کے بھی خلاف ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے سیمینار کے شرکا کو یقین دلایا کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال یقینی بناتے ہوئے اقلیتوں سے متعلق فیصلے اور عدالت کی طرف سے سنائے جانے والے دیگر فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔
خیال رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے رواں برس نومبر میں ریٹائرمنٹ کی صورت میں جسٹس منصور علی شاہ ملک کے چیف جسٹس بن جائیں گے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد روایت نہیں بلکہ لازمی تقاضا ہے اور سپریم کورٹ کو یہ اتھارٹی کہیں اور سے نہیں بلکہ آئین سے حاصل ہوتی ہے، آئین کہتا ہے کہ یہ فیصلہ ہے اور اس پر عملدرآمد ہونا ہے، اور یہی طریقہ ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئین کے مطابق اس فیصلے کی عزت بھی کرنا ضروری ہے، اور یہ ہماری ذمہ داری ہے، کسی کے پاس چوائس نہیں ہے کہ وہ اس کو جج کرے کہ یہ فیصلہ ٹھیک ہے یا نہیں، یہ اختیار صرف اور صرف سپریم کورٹ کے پاس ہے کہ اس نے جو فیصلہ کرلیا، اس کو تسلیم کرنا ہوگا، اور یہ اس ملک کا سسٹم ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 12 جولائی کو پاکستان تحریک انصاف کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کے لیے اہل قرار دے دیا تھا۔ یہ فیصلہ 13 رکنی بینچ نے آٹھ پانچ کے تناسب سے سنایا تھا۔ جسٹس منصور علی شاہ ان آٹھ ججز میں شامل تھے جنھوں نے تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار ٹھہرایا تھا۔
اس فیصلے کے چند روز بعد یعنی 30 جولائی کو انتخابی قانون میں ترامیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی بلال اظہر کیانی نے ذاتی حیثیت میں یہ بل پیش کیا، جس میں یہ تجویز کیا گیا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت مقررہ وقت کے اندر مخصوص نشستوں کے لیے اپنی فہرست پیش کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اسے خواتین اور غیر مسلم امیدواروں کے لیے مخصوص نشستیں مختص نہیں کی جانی چاہیے۔
اس بل کو بعد میں سینیٹ نے بھی پاس کیا اور صدر مملکت کے دستخطوں سے یہ قانون بن گیا۔ آئینی اور پارلیمانی امور کے ماہرین اس نئی قانون سازی کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کو رکوانے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
انڈیا کی ریاست اُتر پردیش کے ضلع غازی آباد میں دائیں بازو کے گروہ رکشا دل نے ایک کچّی آبادی پر حملہ کر دیا ہے۔
بی بی سی بنگلہ کے مطابق رکشا دل کے کارکنان نے بستی میں رہائش پذیر بنگلہ دیشی مسلمانوں پر تشدد کیا اور ان کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی۔
تاہم غازی آباد کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس ابھیشیک سریواستو کا کہنا ہے کہ ’جن لوگوں پر حملہ ہوا وہ بنگلہ دیشی نہیں تھے بلکہ ان کا تعلق اُتر پردیش کے علاقے شاہجہاں پور سے تھا۔ اس واقعے کی ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔‘
مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق رکشا دل کے رہنما پنکی چوہدری نے 15 سے 20 کارکنان کے ہمراہ ریلوے سٹیشن سے قریب حکومتی زمین پر واقع ایک کچّی آبادی میں توڑ پھوڑ کی اور وہ پولیس اہلکاروں کے روکنے کے باوجود نہ رُکے۔
بی بی سی ہندی کے نامہ نگار محمد جاوید کے مطابق کچّی آبادی میں جن لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا وہ دراصل کچرا چُننے والے تھے۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گئی ہے۔
عینی شاہدین نے میڈیا کو بتایا کہ ’رکشا دل کے کارکنان یہاں پر آئے اور انھوں نے پوچھا کہ وہاں لوگ ہندو ہیں یا مسلمان؟ جو مسلمان تھے انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔‘
بنگلہ دیش کے دو شہروں گوپال گنج اور برگونا میں عوامی لیگ کے سینکڑوں کارکنان نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حمایت میں احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی جماعت کی سربراہ کو ’عزت کے ساتھ ملک واپس لایا جائے۔‘
احتجاجی مظاہرے کے دوران شیخ حسینہ کے حامیوں نے ہاتھوں میں لاٹھیاں، ہاکی اور تیز دھار آلے بھی اُٹھائے ہوئے تھے۔
گوپال گنج شیخ حسینہ کا آبائی علاقہ ہے۔
واضح رہے بنگلہ دیش میں ہفتوں تک جاری پُرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں 5 اگست کو شیخ حسینہ نے بطور وزیرِاعظم استعفیٰ دے دیا تھا اور وہ انڈیا روانہ ہوگئی تھیں۔
گوپال گنج میں عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کا کہنا تھا کہ ’ہماری رہنما کو سازش کے ذریعے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا ہے۔‘
بی بی سی بنگلہ کے مطابق مظاہرے کے دوران عوامی لیگ کے کارکنان نے بنگلہ دیشی فوج کی ایک گاڑی کو بھی نذرِ آتش کیا۔ اس واقعے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
خیال رہے گوپال گنج میں گذشتہ تین دنوں سے شیخ حسینہ کی حمایت میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔
گوپال گنج میں عوامی لیگ کے سیکریٹری جنرل شہاب الدین اعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم تب تک گھروں کو واپس نہیں جائیں گے جب تک شیخ حسینہ کو عزت سے ملک واپس نہیں لایا جاتا۔‘
دوسری جانب برگونا میں بھی عوامی لیگ کے تقریباً 350 کارکنان نے احتجاجی مارچ کیا۔
مارچ سے خطاب کرتے ہوئے عوامی لیگ کے مقامی رہنما جہانگیر کبیر کا کہنا تھا کہ ’عوامی لیگ گھر میں نہیں بیٹھے گی، عوامی لیگ لوگوں کی جماعت ہے۔ عوامی لیگ کی اصل طاقت فوج نہیں ہے۔‘
عوامی لیگ کے دیگر مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ ملک سے بھاگی نہیں ہیں بلکہ وہ حالات کے سبب باہر رہنے پر مجبور ہیں۔
عوامی لیگ کے مقامی رہنما عباس حسین کا کہنا تھا کہ ’شیخ حسینہ اس لیے ملک سے باہر ہیں تاکہ (کوٹہ مخالف) تحریک کے نام پر کسی اور ماں کی گود نہ اُجڑے۔‘
بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں دو ہفتے بعد شاہراہیں مکمل طور پر کھل گئی ہیں، جبکہ موبائل فون سروس بھی بحال ہوگئی ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر گوادر جواد زہری نے بی بی سی کو بتایا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنے کے ختم ہونے کے بعد گزشتہ روز ہی شاہراہیں کھل گئی تھیں اورموبائل فون سروس بحال ہوگئی تھی۔
گوادر میں تاجر برادری اور ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ شاہراہوں اور موبائل فون سروس کی بندش سے ان کا کام بہت زیادہ متاثر ہوا۔
دوسری جانب ضلع کے تاجروں اور ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ شاہراہوں اور موبائل فون سروس کی بندش کا کوئی جواز نہیں تھا۔
خیال رہے حکومت نے ’بلوچ راجی مچی‘ (بلوچ قومی اجتماع) کے سبب 28 جولائی کو گوادر جانے والی تمام شاہراہیں اور موبائل فون سروس بند کر دی تھی۔
’گوادر میں دھرنا تو شہر کے ایک کونے پر تھا‘
27 جولائی کو شاہراہوں کی بندش کے سبب بلوچستان کے مختلف علاقوں اور کراچی کا گوادر سے زمینی راستہ منقطع ہوگیا تھا۔
انجمن تاجرانِ گوادر کے صدر غلام حسین دشتی اس حوالے سے کہتے ہیں کہ شاہراہوں اور موبائل فون سروس کی بندش سے گوادر میں معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گوادر میں خوراک اور دیگر ضروری اشیا دوسرے شہروں سے لائی جاتی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب ضلع میں اشیا کی قلت ہونے کے علاوہ پانی اور بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’گوادر میں جو دھرنا دیا جارہا تھا وہ ایک کونے میں تھا، لیکن اس کے لیے شہر کی آمدورفت کے راستوں اور موبائل فون سروس کو بند کیا گیا۔‘
گوادر سے تعلق رکھنے والے ایک ماہی گیر محمد ایوب نے بتایا کہ دھر نا تو بالکل شہر میں ایک طرف تھا، لیکن اس وجہ سے رکاوٹوں کی وجہ سے چار پانچ روز تک گوادر کے ماہی گیر سمندر نہیں جاسکے۔
ماہی گیری سے وابستہ گوادر کے ایک اور رہائشی یونس انور بلوچ نے بتایا کہ اس وقت گوادر میں حالات معمول پر ہیں، لیکن شہر میں پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے ان کا روزگار متاثر ہوا۔
گوادر کی طرح مکران ڈویژن کے دو دیگر اضلاع کیچ اور پنجگور میں بھی موبائل فون سروس اور شاہراہوں کی بندش سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے شاہراہوں اور موبائل فون سروس بند کرکے لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کی گئی ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچی راجی مچی کے لیے گوادر کے انتخاب کو بلاجواز قرار دیا تھا۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطالبات کو پہلے ہی تسلیم کیا گیا تھا، لیکن انھوں نے بلاوجہ گوادر میں دھرنے کو طول دیا۔
اسلام آباد، کراچی اور سکھر میں اقلیتی حقوق مارچ کے لیے حکومت نے پہلے اجازت دی اور پھر بعد میں سکیورٹی کے پیشِ نظر این او سی واپس لے لی، لیکن اب ایک بار پھر انتظامیہ نے مارچ کے منتظمین کو دو شہروں میں ریلیاں نکالنے کی اجازت دے دی ہے۔
اقلیتی حقوق مارچ اسلام آباد اور کراچی میں 11 اگست کو منعقد ہوں گے۔ دوسری جانب سکھر کی مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں اقلیتی مارچ کی این او سی ریلی کے شرکا کی حفاظت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے منسوخ کی گئی ہے۔
کراچی میں اقلیتی حقوق مارچ کے لیے سندھ حکومت نے منتظمین اجازت دے رکھی تھی۔ تاہم انسانی حقوق کی کارکن شیما کرمانی نے بعد میں کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ انھیں افسوس ہے کہ ’اب ریلی نکالنے کی اجازت واپس لے لی گئی ہے۔‘
سندھ حکومت سے جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو ایک ترجمان نے بتایا کہ ’ان دنوں میں دہشت گردی کے واقعات اور ریلی کے شرکا پر حملہ ہونے کا خطرہ تھا۔ جس کے نتیجے میں یہ این او سی واپس لی گئی تھی۔‘
ریلی کے منتظمین کے مطابق اقلیتی حقوق مارچ میں توہینِ مذہب کے قانون کے غلط استعمال اور ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی کم عمر لڑکیوں کی جبری شادیوں کے خلاف تقاریر ہونی تھیں۔
لیکن اس ریلی کے منعقد ہونے سے چند روز پہلے متعدد مذہبی گروہوں نے اقلیتی حقوق مارچ کی مخالفت کی تھی۔
اس حوالے سے کراچی میں تحریکِ لبیک پاکستان سے منسلک ایک شخص کا ویڈیو بیان بھی سامنے آیا تھا جس میں وہ فریئر ہال میں بیٹھے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ: ’ایسے کسی مارچ کا انعقاد نہیں ہونے دیں گے جس میں ناموسِ رسالت کے خلاف مظاہرہ کیا جائے۔‘
تاہم اب شیما کرمانی کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ نے اب انھیں 11 اگست کو فریئر ہال میں جمع ہونے کی اجازت دے دی ہے۔
انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ہم سب وزیرِ اعلی اور بلاول بھٹو کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ وہ کیسے اپنے صوبے میں موجود اقلیتوں کو مارچ نکالنے اور اپنا دن منانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں؟‘
کراچی کے فریئر ہال میں اس مارچ کا انعقاد ’مائنوریٹیز رائٹس گروپ‘ نامی ادارہ کروا رہا ہے۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’اس مارچ کا براہِ راست تعلق پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی 11 اگست کی اس تقریر سے ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’آپ سب آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے، آپ سب آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور کسی بھی عبادت گاہ جانے کے لیے۔ مملکت کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔‘
دوسری جانب اس مارچ کے حوالے سے اسلام آباد کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں پہلے ہی سے دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت کسی بھی گروہ کو ریلی نکالنے کی اجازت نہیں۔
انتظامیہ کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ اب اقلیتی حقوق مارچ کے منتظمین اور شرکا اسلام آباد پریس کلب کے سامنے تقاریر کریں گے، جہاں جانے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اس حوالے سے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے وکیل رہنما عثمان وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’موجودہ صورتحال میں ایسے قوانین کی مخالفت کرنا ضروری ہوچکا ہے جس سے اقلیتی برادری اور مسلمان دونوں کو خطرا ہے۔‘
رواں سال پنجاب میں سپیشل برانچ نے ایک رپورٹ مرتب کی ہے، جس میں توہینِ مذہب سے متعلق 400 جھوٹے مقدمات کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس رپورٹ میں ایک ایسے گروہ کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو گذشتہ برس توہینِ مذہب سے متعلق مقدمات میں لوگوں کو پھنسانے اور پھر ان مقدمات سے انھیں بچانے کے لیے پیسے وصول کرتا تھا۔
اسی طرح ایڈووکیٹ عثمان وڑائچ کا بھی کہنا ہے کہ اس طرح کے گروہ بھی موجود ہیں جو توہینِ مذہب میں زبردستی پھنسائے گئے افراد کے خلاف مقدمات بناتے اور عدالت میں لڑتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کے نمائندے علی شمخانی کا کہنا ہے کہ غزہ میں ممکنہ جنگ بندی کے معاہدے کا ان کے ملک کے حقِ دفاع سے کوئی تعلق نہیں لیکن انھیں امید ہے کہ اسرائیل کے خلاف ان کے جوابی حملے سے غزہ میں ممکنہ جنگ بندی کو نقصان نہیں پہنچے گا۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کے نمائندے علی شمخانی کا کہنا تھا کہ ’اسرائیلی حکومت کی حالیہ دہشتگرد سرگرمیوں سے ہماری قومی سلامتی اور خود مختاری کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔‘
’ہمیں اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے اور اس کا غزہ میں جنگ بندی سے کوئی تعلق نہیں، لیکن ہمیں امید ہے کہ ہماری طرف سے ردِ عمل ایک ایسے وقت اور ایک ایسے طریقے سے دیا جائے گا جس سے غزہ میں ممکنہ جنگ بندی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔‘
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق نیویارک میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں علی شمخانی نے مزید کہا کہ ’غزہ میں جنگ بندی ہماری اولین ترجیح ہے اور جو معاہدہ حماس کو قبول ہوگا وہ ہمیں بھی قبول ہوگا۔‘
خیال رہے گذشتہ مہینے ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک حملے میں حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ مارے گئے تھے۔
اسرائیل نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی، تاہم ایران نے اسرائیل پر اس حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کے نمائندے کے مطابق اسرائیل کو ’سخت سزا‘ دینے کے حوالے سے ابتدائی مشاورت مکمل ہوگئی ہے۔
ایران کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ ممکنہ جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات کے لیے اپنے حکام کو دوحہ یا قاہرہ بھیجنے کے لیے راضی ہے۔
دوسری جانب حماس نے مذاکرات کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
گذشتہ کئی دنوں سے یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی تھیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے امریکہ کوششیں کر رہا ہے اور اس کی جانب سے ایران کو بھی پیغامات بھیجے گئے ہیں۔
امریکی کوششوں سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں علی شمخانی کا کہنا تھا کہ: ’ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کے تبادلے کے لیے ہمیشہ سے براہ راست سرکاری اور دیگر چینلز کُھلے رہے ہیں۔ تاہم فریقین کی ترجیج یہی ہے کہ اس کی تفصیلات پر خاموشی اختیار کی جائے۔‘
بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبیدالحسن نے طلبہ رہنماؤں کے مطالبے پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
سنیچر کو بنگلہ دیش کی وزارتِ قانون و انصاف کے ترجمان آصف نذرُل نے چیف جسٹس کے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کا استعفیٰ ملک کے صدر کے پاس منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔
سپریم کورٹ میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت کے پانچ مزید ججز عنقریب اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں گے۔
اس سے قبل آج صبح چیف جسٹس عبیدالحسن نے ججز کا فُل کورٹ اجلاس بُلایا تھا لیکن طلبہ کے احتجاج کے سبب یہ اجلاس منعقد نہیں ہو سکا۔
طلبہ تحریک کے رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے ججز سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیں۔ طلبہ تحریک کے ایک کوآرڈینیٹر عبدالمنان مسعود نے فیس بُک کی ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ وہ سپریم کورٹ کا گھیراؤ کریں گے۔
انھوں نے لکھا کہ ’شکست خوردہ طاقتوں کی سازش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم پہلے ہی چیف جسٹس سے استعفے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ طلبہ کے خلاف کوئِی بھی اقدام اُٹھانے یا ان کو اُکسانے کی صورت میں آپ کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
طلبہ رہنما کی اپیل پر سینچر کی دوپہر کو سینکڑوں طلبہ نے سپریم کورٹ کی بلڈنگ کا گھیراؤ کیا۔
خیال رہے بنگلہ دیش میں ہفتوں سے جاری کوٹہ مخالف پُرتشدد مظاہروں کے بعد شیخ حسینہ نے 5 اگست کو بطور وزیراعظم استعفیٰ دے دیا تھا اور وہ انڈیا روانہ ہوگئیں تھیں۔
بنگلہ دیش میں اس وقت ایک عبوری حکومت قائم کی گئی ہے جس کی سربراہی نوبل انعام یافتہ ماہرِ معیشت پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس عبید الحسن کون ہیں؟
عبید الحسن نے 26 ستمبر 2023 کو ملک کے 24 ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اُٹھایا تھا۔
سنہ 1986 میں انھوں نے وکالت پڑھنے کے بعد بطور وکیل ڈسٹرکٹ بار کمیٹی میں شمولیت اختیار کیا تھی۔
وہ 1996 سے 2001 تک بطور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
سنہ 2009 میں انھیں سپریم کورٹ کا ایڈیشنل جج بنایا گیا اور 2011 میں وہ عدالت کے مستقل جج مقرر ہوئے۔
انھوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی تھی اور اس کے علاوہ وہ اکنامکس میں بھی ماسٹرز کر چکے ہیں۔
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے بیٹے سجیب واجد نے 90 دن میں انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات کا اعلان ہوتے ہی ان کی والدہ ملک واپس آئیں گی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں سجیب واجد نے دعویٰ کیا کہ شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش چھوڑنے سے قبل کسی استعفے پر دستخط نہیں کیے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میری والدہ نے سرکاری طور پر کسی استعفے پر دستخط نہیں کیے۔ انھیں وقت ہی نہیں ملا۔‘
سجیب واجد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب عبوری حکومت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گی تو وہ یقیناً بنگلہ دیش واپس آ جائیں گی۔‘
یاد رہے شیخ حسینہ 5 اگست کو ملک چھوڑ کر انڈیا چلی گئیں تھیں اور فی الحال وہیں مقیم ہیں۔
روئٹرز کو دیے انٹرویو میں سجیب واجد نے کہا ’شیخ حسینہ استعفیٰ دینے کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں۔ لیکن پھر مظاہرین نے ان کی رہائش گاہ کی طرف مارچ شروع کر دیا۔ تب زیادہ وقت نہیں تھا۔ میری ماں کے پاس اپنا بیگ پیک کرنے کا بھی وقت بھی نہیں تھا۔ آئین کے مطابق وہ اب بھی بنگلہ دیش کی وزیر اعظم ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ صدر نے آرمی چیف اور اپوزیشن جماعتوں سے بات چیت کے بعد پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا اعلان کیا ہے اور وزیراعظم کے باضابطہ استعفیٰ کے بغیر عبوری حکومت کی تشکیل کو ’مستقبل میں عدالت میں چیلنج‘ کیا جا سکتا ہے۔
حماس کے زیر کنٹرول شہری دفاع کے ادارے کا کہنا ہے کہ غزہ میں ایک سکول پر اسرائیلی فضائی حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی افواج (آئی ڈی ایف) کا دعویٰ ہے کہ اس نے سنیچر کے روز حماس کے ایک کمانڈ سینٹر پر حملہ کیا جس کے متعلق آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ یہ کمانڈ سینٹر ایک سکول کے اندر بنایا گیا تھا۔
غزہ کے شہری دفاع کے ادارے کے مطابق دراج ضلع میں ہونے والے حملے میں کم از کم 90 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
بی بی سی ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔
شہری دفاع ایجنسی کے ترجمان محمود باسل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہلاکتوں کی تعداد 90 سے 100 کے درمیان ہے اور درجنوں زخمی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’تین اسرائیلی راکٹ اس سکول پر گرے جس میں بے گھر فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی تھی۔‘
اس سے قبل ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں انھوں نے حملے کے بعد کے منظر کو ’خوفناک قتل عام‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا عملہ زخمیوں کو بچانے اور لاشوں کو نکالنے کے لیے آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ’حماس کے ان عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا جو التبعین سکول میں بنائے گئے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اندر کام کر رہے تھے۔‘
اس ہفتے کے شروع میں اسرائیلی افواج نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے غزہ شہر میں دو سکولوں کے اندر بنائے گئے حماس کے ’کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز‘ کو نشانہ بنایا ہے۔
برازیل کی ریاست ساؤ پالو میں ایک طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے جس میں 57 مسافر اور عملے کے چار افراد سوار تھے جن میں سے کسی کے بھی زندہ بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
برازیل کے صدر لوئیز اناسیو ڈی سلوا نے طیارے کے حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کو خراج عقیدت پیش کیا اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
ووپاس ایئر لائن کا کہنا ہے کہ دو انجنوں والا ٹربوپروپ طیارہ جنوبی ریاست پرانا کے کیسکاویل سے ساؤ پالو شہر کے مرکزی ہوائی اڈے کے لیے پرواز کر رہا تھا جب وہ ونہیدو شہر میں گر کر تباہ ہوا۔
ایئر لائن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ یہ حادثہ کیسے پیش آیا۔
برازیل میں یہ 2007 کے بعد پیش آنے والا سب سے بڑا فضائی حادثہ ہے۔
عینی شاہدین نے ریاست ساؤ پالو کے علاقے وندھیڈو میں مسافر طیارہ گرنے کے واقعے کے بارے میں بتایا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے فیلیپ مگلہیس کا کہنا تھا کہ ’جب میں نے طیارے کے گرنے کی آواز سنی تو میں نے گھر کی کھڑکی سے باہر دیکھا تب تک طیارے کے ملبے اور اس کے گرد آگ لگی ہوئی تھی۔‘
تاہم برازیل کی فضائیہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ طیارے کی علمے کی جانب سے ایمرجنسی کا اعلان نہیں کیا تھا۔
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں 11روز کے دھرنے کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی قیادت تربت پہنچ گئی جہاں انھوں نے ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا۔ دوسری جانب گرفتار افراد کی بڑی تعداد میں رہائی کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی دھرنوں کو ختم کر دیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ نے بتایا کہ گوادر میں بلوچ راجی مچی یعنی بلوچ قوی اجتماع کی مناسبت سے کوئٹہ سے گرفتار 155 افراد کو رہا کردیا گیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے جمعرات کی شب حکومت سے مذاکرات کے بعد 11روز تک جاری رہنے والے دھرنے کو ختم کیا تھا۔
جمعہ کی صبح گوادر سے روانگی سے قبل لوگوں کی بڑی تعداد گوادر میں جمع ہوگئی جہاں ان سے جدوجہد کو جاری رکھنے کے لیے قومی حلف لیا گیا۔
حلف لینے کے بعد ایک بڑی جلوس کی شکل میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سمّی دین بلوچ، صبغت اللہ بلوچ اور ڈاکٹر صبیحہ بلوچ سمیت یکجہتی کمیٹی کے دیگر قائدین تربت کے لیے روانہ ہوئے۔
تربت پہنچنے پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بعد میں تربت میں فدا شہید چوک پہنچ گئے جہاں انھوں نے اجتماع سے خطاب کیا۔
تربت سے تعلق رکھنے والے صحافی اسد بلوچ نے بتایا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام یہ اجتماع لوگوں کی بہت بڑی تعداد میں شرکت کے حوالے سے تربت شہر کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع تھا جس میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ گوادر میں راجی مچی کو روکنے کے لیے ریاست نے اپنی تمام مشنری کو استعمال کیا لیکن وہ بلوچ عوام کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ حکمران یہ کہتے ہیں کہ گوادر اور فلاں فلاں علاقے ریڈ زون ہیں اور وہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں لیکن بلوچ عوام نے یہ ثابت کیا کہ یہاں کوئی ریڈ زون نہیں بلکہ یہ ان کا مادر وطن ہے۔
گوادر کے بعد کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں دھرنے ختم
گوادر میں بلوچی راجی مچی میں بلوچستان کے دیگر علاقوں سے لوگوں کی شرکت کو روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے راستوں کی بندش اور گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے جانے والے قافلوں پر مبینہ تشدد کے خلاف 28جولائی کو بلوچی راجی مچی کو دھرنے میں تبدیل کیا گیا تھا۔
گوادر میں میرین ڈرائیو پر دھرنے کے علاوہ کوئٹہ، تربت، نوشکی اور حب میں بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام دھرنے دیئے گئے تھے۔
گوادر میں دھرنے کے خاتمے کے بعد کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی جمعہ کو دھرنوں کو ختم کیا گیا۔
دھرنوں کے خاتمے کے لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جو مطالبات پیش کیئے گئے تھے ان میں سے ایک بلوچ راجی مچی کی مناسبت سے گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ تھا۔
بیبرگ بلوچ نے بتایا کہ کوئٹہ شہر سے بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں سے 155کو اب تک رہا کردیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ ابھی تک رہا نہیں ہوئے ان کی رہائی کے لیے حکومت کی جانب سے مہلت کے لیے کہا گیا ہے۔
حکومت اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے درمیان کیا معاہدہ کہ اہم نکات
بیبرگ بلوچ نے بتایا کہ طے پانے والے 7 نکاتی معاہدے میں حکومت تین رکنی وزراء پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے گی جو کہ طے شدہ معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔ کمیٹی بلوچ یکجہتی کمیٹی سمیت کسی بھی فرد کو اپنی سہولت کے لیے بلاسکے گی۔
راجی مچی کے دوران تمام گرفتار افراد کو رہا کیا جائے اور ایف آئی آرز ختم کی جائیں گی ماسوائے ان ایف آئی آرز کے جو کہ جانی نقصان سے وابستہ ہیں۔
گوادر اور دیگر علاقوں میں تمام دھرنے ختم ہوتے ہی تمام شاہراہیں کھول دی جائیں گی اور موبائل فون سروس بحال کردی جائے گی۔
راجی مچی کے دوران عوام کا جو بھی مالی نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کیا جائے گا اور مذکورہ کمیٹی نقصانات کا تخمینہ لگائے گی اور ازالہ کرے گی۔
راجی مچی کے حوالے سے ہلاک اور زخمی ہونے والے ایف آئی آر ریاستی اداروں کے خلاف درج نہ ہونے پر بی وائی سی قانونی چارہ جوئی کا مکمل حق رکھتی ہے۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان ایک اعلامیہ جاری کرے گا کہ کسی بھی قسم کے پر امن اور قانونی اجتماع پر طاقت کا استعمال نہیں ہوگا جو کہ ویسے بھی آئین کے شق 16 کی خلاف ورزی ہے۔
حکومت کوئی بھی شہری بشمول بلوچ یکجہتی کمیٹی کے شرکاء کو ہراساں نہیں کرے گی اور نہ ہی کوئی ایف آئی آر درج کرائے گی۔ پرامن اور قانون پر عمل پیرا تمام شہریوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے گا جو کہ حکومت کی اوّلین ذمہ داری ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایسے تمام الزامات کی تردید کی ہے جن کے مطابق بنگلہ دیش میں جاری بحران میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان ایسے تمام بیانات کی تردید کرتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایسے بیان انڈیا کی پاکستان میں غیرمعمولی دلچسپی کو ظاہر کرتے ہیں۔
’انڈین میڈیا اور سیاستدانوں کو عادت ہے کہ وہ ملکی امور اور خارجہ پالیسی میں اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھراتے ہیں۔‘
بنگلہ دیش کی صورتحال پر مزید بات کرتے ہوئے ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان کے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات مثبت ہیں اور گذشتہ چند برسوں کے دوران ان میں بہتری آئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’وزیراعظم پاکستان نے بنگلہ دیش کے نئے سربراہ کو مبارکباد دیتے ہوئے آنے والے دنوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں طلبہ احتجاج کے نتیجے میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے استعفے کے بعد نوبیل انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس نے بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ کے طور پر حلف اُٹھا لیا ہے۔
بنگلہ دیش میں موجود پاکستانی طلبہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ ’اس وقت صرف 100 کے قریب طلبہ ہی بنگلہ دیش میں موجود ہیں لیکن ہمارے جائزے کے مطابق بنگلہ دیش میں حالات اب بہتر ہو رہے ہیں تاہم ہم اپنے طلبہ کی حفاظت کو یقینی بناتے رہیں گے۔‘
انڈیا کی سپریم کورٹ نے ممبئی کے این جی اچاریا اور ڈی کے مراٹھی کالج کے وضع کردہ ڈریس کوڈ کے خلاف حکمِ امتناع جاری کر دیا ہے۔
خیال رہے ممبئی میں واقع کالجز نے طلبہ کے لیے ڈریس کوڈ وضع کیا تھا جس کے مطابق طالب علم ایسا لباس نہیں پہن سکتے جس سے ان کی مذہبی شناخت عیاں ہو۔
ان کالجز نے طلبہ کے برقع، نقاب، حجاب، ٹوپی اور بیج جیسی چیزیں پہننے پر پابندی عائد کی تھی۔
جمعے کو دورانِ سماعت سپریم کورٹ کے جج جسٹس سنجیو کھنّا نے کالجز کے اقدام پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ ناموں سے بھی مذہبی شناخت ظاہر ہوجاتی ہے تو پھر مذہبی شناخت چھپانے کے لیے ڈریس کوڈ متعارف کروانے کا کیا فائدہ ہے؟
اس سے قبل ممبئی کے دونوں کالجز کی جانب سے وضع کردہ ڈریس کوڈ کو بمبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا، تاہم ہائی کورٹ نے اسے برقرار رکھا تھا۔
سپریم کورٹ نے ڈریس کوڈ کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت نومبر کے مہینے تک ملتوی کر دی ہے۔