آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز کیس کا فیصلہ موخر، حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا آغاز

سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کا فیصلہ موخر کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکراتی کمیٹیوں کا پہلا اجلاس آج متوقع ہے۔

خلاصہ

  • اسد قیصر کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپوزیشن مذاکراتی کمیٹی کا عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ مان لیا ہے۔
  • سابق صدر عارف علوی کا کہنا ہے کہ اگر لوگ نیک نیتی کے ساتھ بیٹھیں گے تو مذاکرات میں کامیابی کی امید ہے۔
  • سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کا فیصلہ اب چھ جنوری کو سنایا جائے گا۔
  • یورپی یونین نے پاکستان میں فوجی عدالتوں کی جانب سے 25 شہریوں کو نو مئی کے پُرتشدد احتجاج پر سزائیں دیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
  • وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جن 25 ملزمان کو فوجی عدالتوں سے سزائیں ہوئیں ان کے خلاف ویڈیو ثبوت موجود ہیں۔
  • وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے حکومتی اتحاد کے ممبران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
  • آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی عدالتوں نے پہلے مرحلے میں نو مئی کے پُرتشدد مظاہروں میں ملوث 25 ملزمان کا کورٹ مارشل مکمل کر کے انھیں دو سے 10 سال تک قید با مشقت کی سزائیں سنائی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    24 دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. خیبرپختونخوا حکومت کا پاڑہ چنار روڈ کی حفاظت کے لیے سپیشل پولیس فورس بنانے کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ پاڑہ چنار روڈ کو محفوظ بنانے کے لیے سپیشل پولیس فورس بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    سوموار کے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس کو بتایا گیا کہ گذشتہ روز کرم کے مسئلے پر صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں پاڑہ چنار روڈ کو محفوظ بنانے کے لیے سپیشل پولیس فورس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فورس میں مجموعی طور پر 399 اہلکار بھرتی کیے جائیں گے۔

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق کابینہ کو بتایا گیا کہ پاڑہ چنار سڑک کو محفوظ بنانے کے لیے ابتدائی طور پر عارضی چیک پوسٹیں قائم کی جائیں گی جنھیں بعد میں مستقل کر دیا جائے گا۔

    اجلاس کو بتایا گیا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان معاہدہ طے ہونے کے بعد سڑک کھولی جائے گی۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بند کرنے کے لیے ایف آئی اے کا سیل بھی قائم کیا جائے گا۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی ایپکس کمیٹی نے یکم فروری تک تمام غیر قانونی ہتھیار ضبط کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ قانونی ہتھیاروں کے لائسنس کے اجرا کے لیے محکمہ داخلہ میں خصوصی ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔

    کابینہ کو بتایا گیا کہ یکم فروری تک علاقے میں مسلح گروپوں کی جانب سے قائم مورچوں کو بھی مسمار کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔

    بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں ادویات کی کمی دور کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اب تک تقریباً دس ٹن ادویات پہنچائی گئی ہیں جبکہ علاقے میں رعایتی نرخوں پر گندم بھی فراہم کی جارہی ہے۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ کرم میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کے ازالے کے لیے ادائیگیاں کی جاچکی ہیں۔

    وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ کرم کا مسئلہ دہشتگردی کا نہیں بلکہ دو گروپوں کے درمیان تنازعہ ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں غیر قانونی بھاری ہتھیاروں کی بھر مار ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ حکومت کی کسی بھی مسلح گروپ کو غیر قانونی بھاری ہتھیار رکھنے کی اجازت دینے کی پالیسی نہیں ہے۔

    ان کے مطابق صوبائی حکومت مذاکرات اور جرگوں کے ذریعے مسئلے کا پرامن حل نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ تیراہ اور جانی خیل میں آپریشن کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

    خیال رہے کہ رواں برس خیبر پختونخوا کے ضلع کُرم میں فرقہ وارنہ فسادات میں ناصرف 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں بلکہ نہ ختم ہونے والی کشیدگی کے باعث کُرم کے صدر مقام پاڑہ چنار جانے والی رابطہ سڑکیں بند ہیں۔

  3. حکومت نے اپوزیشن مذاکراتی کمیٹی کی عمران خان سے ملاقات کروانے پر رضامندی ظاہر کی ہے: اسد قیصر

    سوموار کے روز حکومت اور حزبِ اختلاف کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان ہونے والے پہلے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ ہماری ملاقات کروائی جائے۔

    ’وہ ہمارے لیڈر ہیں، ان ہی کی ہدایت کی روشنی میں ہم آگے بڑھیں گے۔‘

    اسد قیصر کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہمارا مطالبہ مان لیا ہے اور کہا ہے کہ ہماری ملاقات کروائی جائے گی۔ ’دیکھتے ہیں کہ یہ ملاقات کب کروائی جاتی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی اجلاس میں اپوزیشن نے اپنا نقطہ نظر سامنے رکھا ہے جس میں عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی، سپریم کورٹ کے سینیئر ججز کی سربراہی میں جودیشل کمیشن کا قیام اور پنجاب میں پی ٹی آئی کے پارلیمینٹیرینز اور کارکنوں کy ساتھ روا سلوک شامل ہے۔

    سابق سپیکر کا کہنا تھا کہ آج حزبِ اختلاف کی کمیٹی کے کچھ ممبرز دستیاب نہیں تھے۔ ان کے مطابق عمر ایوب کی پشاور ہائی کورٹ میں پیشی تھی، جبکہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور صوبائی کابینہ کی میٹنگ اور کرم کی صورتحال پر ہونے والے اجلاس میں مصروفیت ہیں جب کہ حامد خان ڈھاکہ میں ہیں اور سلمان اکرم راجہ بھی دستیاب نہیں تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دو جنوری کو ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن کمیٹی اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرے گی۔ اسد قیصر کے مطابق دو جنوری کے بعد مذاکراتی کمیٹیوں کے مسلسل اجلاس ہوں گے۔

    اس سے قبل مذاکراتی کمیٹیوں کے اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ کا اعلان کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا، ’دونوں مذاکراتی کمیٹیوں نے خیر سگالی کا اظہار کرتے ہوئے اج کے اجلاس کو نہایت مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔ انھوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ پارلیمنٹ مسائل حل کرنے کا اہم فورم ہے اور مذاکراتی عمل کو جاری رہنا چاہیے۔‘

  4. حکومتی اور اپوزیشن مذاکراتی کمیٹیوں کا اگلا اجلاس دو جنوری کو ہوگا، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا ہے کہ حکومتی اور حزب اختلاف کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان دوسرا اجلاس دو جنوری کو ہوگا جس میں اپوزیشن اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرے گی۔

    سوموار کے روز مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان پہلے ان کیمرہ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن کمیٹی کے کچھ ارکان شرکت نہیں کر سکے۔

    ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جب تک یہ معاملات طے نہیں پا جاتے تب تک جتنی کم سے کم قیاس آرائی ہو، جتنے کم سے کم تبصرے کیے جائیں، اتنا بہتر ہے۔

    حکومتی کمیٹی کے رکن سینیٹر عرفان صدیقی نے اجلاس کا اعلامیہ پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ آج پارلیمنٹ ہاوس میں ہونے والی مذاکرات کمیٹی کی پہلی باضابطہ نشست میں حکومت کی جانب سے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، وزیرِ اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ، سینیٹر عرفان صدیقی، سابق سپیکر راجا پرویز اشرف، نوید قمر، عبدالعلیم خان اور ڈاکٹر فاروق ستار نے شرکت کی۔ اپوزیشن کی جانب سے سابق سپیکر اسد قیصر، راجہ ناصر عباس اور صاحبزادہ حامد رضا نے شرکت کی۔

    عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ دورانِ اجلاس اسد قیصر نے آگاہ کیا کہ اپوزیشن کمیٹی کے باقی ممبران عدالتی مقدمات یا ملک سے باہر ہونے کے باعث اس ہنگامی اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے۔

    ’دونوں مذاکراتی کمیٹیوں نے خیر سگالی کا اظہار کرتے ہوئے اج کے اجلاس کو نہایت مثبت پیشرفت قرار دیا۔ انھوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ پارلیمنٹ مسائل حل کرنے کا اہم فورم ہے اور مذاکراتی عمل کو جاری رہنا چاہیے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران اپوزیشن کمیٹی نے اپنے ابتدائی مطالبات کا خاکہ پیش کیا۔

    ’اگلی میٹنگ میں اپوزیشن کمیٹی تحریری طور پر اپنے مطالبات اور شرائط کار پیش کرے گی تاکہ اس دستاویز کی روشنی میں بات چیت کو اگے بڑھایا جا سکے۔‘

  5. اگر نیک نیتی کے ساتھ بیٹھیں گے تو مذاکرات میں کامیابی کی امید ہے: سابق صدر عارف علوی

    سابق صدر اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عارف علوی کا کہنا ہے کہ اگر لوگ نیک نیتی کے ساتھ بیٹھیں گے تو مذاکرات میں کامیابی کی امید ہے۔

    وہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے ہمراہ پشاور میں میڈیا سے بات کرہے تھے۔ جب سابق صدر سے پوچھا گیا کہ کیا پی ٹی آئی فارم 45 کے اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹ رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ’لیکن عمران خان نے کہا کہ چیزیں مذاکرات کی میز پر تو لاؤ۔‘

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمر ایوب کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ان کی جانب سے جو مطالبات سامنے رکھے گئے ہیں ان میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان سمیت دیگر اسیران کی رہائی، نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیشن کا قیام، گذشتہ انتخابات کی انکوائری اور نئے آزدانہ انتخابات کا انعقاد شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ آج سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت حکومتی اور حزب اختلاف کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان کا پہلا ان کیمرہ اجلاس ہوا ہے۔

    قومی اسمبلی کے اعلامیے کے مطابق اس اجلاس میں حکومت کی طرف سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ اور سینیٹر عرفان صدیقی، سابق سپیکر راجہ پرویز اشرف، سید نوید قمر، ڈاکٹر فاروق ستار اور علیم خان شریک ہوئے۔ جبکہ حزب اختلاف کی طرف سے سابق سپیکر اسد قیصر، صاحبزادہ حامد رضا اور سینیٹر علامہ ناصر عباس اجلاس میں شامل تھے۔

  6. حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کا عمل نیک شگون ہے: سپیکر قومی اسمبلی

    سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف اور حکومت کی طرف سے مذاکراتی کمیٹیوں کی تشکیل خوش آئند ہے۔

    قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق ایاز صادق کی زیر صدارت حکومتی اور حزب اختلاف مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان کا پہلا ان کیمرہ اجلاس ہوا ہے۔

    سپیکر قومی اسمبلی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کا عمل نیک شگون ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’حکومت اور اپوزیشن کا مل بیٹھنا جمہوریت کو مضبوط بنائے گا۔ جمہوریت میں مذکرات ہی سیاسی مسائل کا واحد حل ہیں۔۔۔ بطور عوامی نمائندے ہم نے عوام کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔‘

    قومی اسمبلی کے اعلامیے کے مطابق اس اجلاس میں حکومت کی طرف سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ اور سینیٹر عرفان صدیقی، سابق سپیکر راجہ پرویز اشرف، سید نوید قمر، ڈاکٹر فاروق ستار اور علیم خان شریک ہوئے۔ جبکہ حزب اختلاف کی طرف سے سابق سپیکر اسد قیصر، صاحبزادہ حامد رضا اور سینیٹر علامہ ناصر عباس اجلاس میں شامل تھے۔

  7. عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز کیس کا فیصلہ موخر, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کا فیصلہ موخر کیا گیا ہے۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے یہ فیصلہ 18 دسمبر کو محفوظ کیا تھا جو آج سنایا جانا تھا مگر اب عدالتی عملے کے مطابق یہ چھ جنوری کو سنایا جائے گا۔

    سماعت کے دوران جج ناصر جاوید رانا نے ریمارکس دیے کہ ’فیصلہ آج نہیں آئے گا۔ (موسم سرما کی) چھٹیاں آ رہی ہیں اور ہائیکورٹ کا کورس بھی ہے۔‘ کل سے یکم جنوری تک عدالتوں میں موسم سرما کی چھٹیاں ہو رہی ہیں۔

    عمران خان کی وکلا ٹیم میں شامل فیصل چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ احتساب عدالت کے عملے نے اس ضمن میں انھیں آگاہ کر دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ کسی بھی مقدمے کا فیصلہ ملزمان کی موجودگی میں سنایا جاتا ہے۔

    دوسری طرف ایکس پر ایک بیان میں تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ ’جب حکم آیا کہ فیصلہ موخر کر دیا جائے تو فوراً اسے موخر کر دیا گیا۔‘

    خیال رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکراتی کمیٹیوں کا اِن کیمرا اجلاس ہو رہا ہے۔

    190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کیا ہے؟

    القادر ٹرسٹ کیس یا 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس اس ساڑھے چار سو کنال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو ملک ریاض کی کمپنی بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔

    حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ معاملہ عطیے کا نہیں بلکہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے۔

    حکومت کا دعویٰ تھا کہ ’بحریہ ٹاؤن کی جو 190 ملین پاؤنڈ یا 60 ارب روپے کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک ریاض کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔‘

    یہ مقدمہ ایک سال سے زائد عرصے تک چلتا رہا جس میں 35 گواہان پیش ہوئے۔

    ٹرائل کی آخری سماعت تقریبا سوا آٹھ گھنٹے جاری رہی، اس موقع پر عمران خان اور بشری بی بی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

    نیب حکام کے مطابق اس مقدمے میں پانچ ملزمان کو اشتہاری بھی قرار دیا گیا ہے جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے مشیر شہزاد اکبر، زلفی بخاری، نجی ہاوسنگ سوسائٹی کے سربراہ ملک ریاض ان کی بیٹے اور فرح گوگی شامل ہیں۔

  8. پاکستان میں ملٹری کورٹس پر یورپی یونین کا بیان کیوں اہم ہے؟

    پاکستان میں 25 شہریوں کو فوجی عدالتوں کی جانب سے نو مئی کے پُرتشدد احتجاج پر دو سے 10 سال قید کی سزائیں دی گئی ہیں تاہم اس اقدام پر یورپی یونین نے تشویش ظاہر کی ہے کیونکہ یہ منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کے منافی ہے۔

    اس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) سے مستفیذ ہونے والے تمام ممالک بشمول پاکستان نے رضاکارانہ طور پر آئی سی سی پی آر سمیت 27 بین الاقوامی بنیادی کنونشنز کو موثر طریقے سے نافذ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    یورپی یونین پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ جی ایس پی پلس کے ذریعے یورپ جانے والی پاکستانی برآمدات کو کچھ تجارتی مراعات حاصل ہوتی ہیں۔ یورپی یونین کے مطابق اس کا مقصد ترقی پذیر ممالک میں غربت کے خاتمے، پائیدار ترقی، گڈ گورننس اور عالمی معیشت میں شراکت داری بڑھانا ہے۔

    جی ایس پی پلس کے تحت ترقی پذیر ممالک کی یورپی یونین کی منڈیوں میں آنے والی مصنوعات سے درآمدی ڈیوٹی ہٹا دی جاتی ہے۔

    کسی ترقی پذیر ملک کو جی ایس پی پلس درجہ برقرار رکھنے کے لیے یورپی یونین کے انسانی حقوق سے متعلق قوانین پر عملدرآمد ضروری ہوتا ہے۔

    پاکستان میں اِن 25 شہریوں کو فوجی عدالتوں نے سزائیں سنائی ہیں جن پر نو مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد عسکری تنصیبات بشمول کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں توڑ پھوڑ کا الزام تھا۔

    عمران خان کی جماعت تحریک انصاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’جی ایس پی پلس درجے کو خطرے میں ڈالنے کا ذمہ دار کون ہے؟ طاقت کا بے دریغ استعمال قلیل مدتی ہے اور ظاہر ہے ملک کے مفاد کے خلاف ہے۔‘

  9. غزہ میں اسرائیلی حملوں میں درجنوں ہلاک: ’ہم سکول میں سو رہے تھے جب زوردار دھماکہ ہوا‘

    غزہ کے حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں حالیہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں بچوں سمیت کم از کم 28 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    جن عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں ایک سکول شامل ہے جہاں بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔ حکام کے مطابق اس اسرائیلی حملے میں چار بچوں سمیت آٹھ افراد مارے گئے۔

    اقوام متحدہ نے اسرائیل سے شمالی غزہ کے ایک ہسپتال کے قریب حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ادھر اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس سکول میں حماس کا کمانڈ سینٹر موجود تھا۔ اس نے ہسپتال کے قریب حملوں کی اطلاعات پر تبصرہ نہیں کیا۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس ’عالمی قوانین کی منظم انداز میں خلاف ورزی کرتا ہے۔‘

    غزہ کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ سکول جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی عارضی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔

    سکول میں موجود ایک شخص نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ ’ہم پُرامن طریقے سے سو رہے تھے لیکن ایک زوردار دھماکے کی آواز سے جاگ گئے۔‘

    ایک دوسرے شخص نے بتایا کہ ’پتھر اور شراپنل ہوا میں اڑ رہے تھے۔ سکول کی دیواریں ہمارے سروں پر آ گریں۔‘

  10. حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور سپیکر کی صدارت میں پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے لیے کمیٹیوں کا پہلا اجلاس پیر کو صبح 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہو گا۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں اسحاق ڈار، رانا ثنا اللہ، راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، خالد مقبول صدیقی اور چوہدری سالک حسین شامل ہیں۔

    ادھر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی جانب سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل کا خیرمقدم کیا گیا ہے جبکہ پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے اپنی جماعت کو سول نافرمانی کی تحریک مؤخر کرنے کی تجویز دیدی ہے۔

    تحریک انصاف کی جانب سے قائم کمیٹی میں عمر ایوب خان، علی امین گنڈاپور، سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر، حامد رضا، حامد خان، اور علامہ راجہ ناصر عباس شامل ہیں۔

  11. یورپی یونین کا پاکستان میں شہریوں کو فوجی عدالتوں میں سزا سنائے جانے پر اظہارِ تشویش

    یورپی یونین نے 21 دسمبر کو پاکستان میں فوجی عدالت کی جانب سے 25 سویلین ملزمان کو سزا سنائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    یورپی یونین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (آئی سی سی پی آر) کا دستخط کنندہ ہے اور فوجی عدالتوں کے فیصلے اس معاہدے کے تحت پاکستان پر لاگو ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔

    بیان کے مطابق آئی سی سی پی آر کے آرٹیکل 14 کے تحت ہر شخص کو آزاد اور غیر جانبدار عدالت میں منصفانہ اور عوامی مقدمے کی سماعت کا حق حاصل ہے۔ اس کے علاوہ ہر ملزم کو مناسب اور موثر قانونی نمائندگی کا حق بھی حاصل ہے۔

    آئی سی سی پی آر کے تحت کسی بھی فوجداری مقدمے میں دیے گئے فیصلے کا عوامی اعلان بھی ضروری ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے یورپی یونین کی جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) سٹیٹس سے مستفیذ ہونے والے تمام ممالک بشمول پاکستان نے رضاکارانہ طور پر آئی سی سی پی آر سمیت 27 بین الاقوامی بنیادی کنونشنز کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    سنیچر کی روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں نے پہلے مرحلے میں نو مئی کے پُرتشدد مظاہروں میں ملوث 25 ملزمان کا کورٹ مارشل مکمل کر کے انھیں دو سے 10 سال تک قید با مشقت کی سزائیں سنائی ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جن 25 ملزمان کو سزائیں دی گئی ہیں، ان میں سے 11 پر لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس، دو پر جی ایچ کیو، دو پر میانوالی ایئر بیس اور ایک پر فیصل آباد میں آئی ایس آئی کے دفتر میں توڑ پھوڑ کا الزام تھا۔ جبکہ دو پر ملتان کینٹ چیک پوسٹ اور پانچ پر پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان پر حملے کا الزام تھا۔

  12. جن ملزمان کو فوجی عدالتوں سے سزائیں ہوئیں ان کے خلاف ویڈیو ثبوت موجود ہیں: خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جن 25 ملزمان کو نو مئی کے پُرتشدد مظاہروں میں ملوث ہونے پر فوجی عدالتوں کی جانب سے سزائیں سنائی گئی ہیں ان کے خلاف ویڈیو ثبوت موجود ہیں۔

    اتوار کے روز لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان سمیت پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ اگر نو مئی کے واقعات کی کوئی ویڈیوز ہیں تو انھیں ریلیز کیا جائے۔

    وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ نو مئی کے واقعات کی ویڈیوز ریلیز کر دی گئی ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ جن 25 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزائیں ہوئی ہیں ان کے چہرے اور آوازیں ریکارڈ پر ہیں۔ ’ان ہی شواہد کی بنیاد پر انھیں سزائیں سنائی گئی ہیں۔‘

    ’ابھی بہت سے کیسز باقی ہیں جن کے فیصلے ہونے ہیں۔‘

    سنیچر کی روز پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں نے پہلے مرحلے میں نو مئی کے پُرتشدد مظاہروں میں ملوث 25 ملزمان کا کورٹ مارشل مکمل کر کے انھیں دو سے 10 سال تک قید با مشقت کی سزائیں سنائی ہیں۔

    ایک بیان میں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا تھا کہ یہ سزائیں ’تنبیہ ہیں کہ مستقبل میں کبھی قانون کو ہاتھ میں نہ لیں‘ اور یہ ’ان تمام لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام ہیں جو چند مفاد پرستوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق جن 25 ملزمان کو سزائیں دی گئی ہیں، ان میں سے 11 پر لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس، دو پر جی ایچ کیو، دو پر میانوالی ایئر بیس اور ایک پر فیصل آباد میں آئی ایس آئی کے دفتر میں توڑ پھوڑ کا الزام تھا۔ جبکہ دو پر ملتان کینٹ چیک پوسٹ اور پانچ پر پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان پر حملے کا الزام تھا۔

    خیال رہے کہ 13 دسمبر کو پاکستان کی عدالت عظمی نے فوجی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات میں سے 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی مشروط اجازت دی تھی۔ جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی لارجر بینچ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمے کے فیصلے سے مشروط ہوں گے۔

    سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ جن ملزمان کو سزاؤں میں رعایت مل سکتی ہے وہ دے کر رہا کیا جائے اور جن ملزمان کو رہا نہیں کیا جا سکتا انھیں سزا سنا کر جیلوں میں منتقل کیا جائے۔

    گذشتہ برس اکتوبر میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے عام شہریوں کے ٹرائلز سے متعلق آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نو اور دس مئی کے واقعات میں گرفتار تمام ملزمان کے مقدمات فوجی عدالتوں سے فوجداری عدالتوں میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

    نو مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے ہوئے تھے اور فوجی تنصیبات سمیت کئی سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گئے تھے۔ نو مئی کے واقعات کے ذمہ داروں کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں چلانے سے متعلق پارلیمان نے قرارداد منظور کی تھی جس کے بعد وفاقی حکومت نے ان افراد کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں بھیجنے کی منظوری دی تھی۔

  13. حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے لیے کمیٹیاں تشکیل، پہلی ملاقات کل سپیکر چیمبر میں متوقع

    وفاقی حکومت اور حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے دونوں جانب کی مذاکراتی کمیٹیوں کے ارکان کو سوموار کے روز اپنے چیمبر میں ملاقات کی دعوت دے دی۔

    سپیکر سردار ایاز صادق کی جانب سے مذاکراتی کمیٹیوں کو دعوت وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے حکومتی اتحاد کے ممبران پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔

    وزیراعظم کی جانب سے قائم مذاکراتی کمیٹی میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور سینٹر عرفان صدیقی شامل ہیں۔ مذاکراتی کمیٹی میں اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین میں پاکستان پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف اور نوید قمر، متحدہ قومی موومنٹ کے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، استحکام پاکستان پارٹی کے علیم خان اور مسلم لیگ ق کے چوہدری سالک حسین بھی شامل ہیں۔

    وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق گذشتہ رات پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے سپیکر قومی اسمبلی سے مذاکرات کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی استدعا کی تھی جس کے بعد وزیراعظم نے سپیکر ایاز صادق کی تجویز مانتے ہوئے حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی۔

    وزیراعظم نے امید کا اظہار کیا ہے کہ ملکی سلامتی اور قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔

    سرکاری ٹی وی کے مطابق سپیکر ایاز صادق کا کہنا ہے کہ مسائل کو مذاکرات سے حل کرنے کے حوالے سے وزیراعظم کا اقدام خوش آئند ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ انھوں بہت نیک نیتی سے حکومت اور اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔

    ایاز صادق کا کہنا ہے کہ سپیکر آفس کے دروازے اراکین کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں اور بات چیت اور مکالمے سے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے۔

    دوسری جانب مقامی میڈیا کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل خوش آئند بات ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات جامع اور نتیجہ خیز ہونے چاہیئیں۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ دونوں کمیٹیوں میں سنجیدہ لوگ ہیں، مذاکرات ضرور آگے بڑھیں گے۔

    خیال رہے کہ دسمبر کے اوائل میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے ’سٹیک ہولڈرز سے‘ مذاکرات کے لیے عمر ایوب خان، علی امین گنڈاپور، صاحبزادہ حامد رضا، سلمان اکرم راجہ اور اسد قیصر پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی۔

  14. ایف آئی اے کا یونان کشتی حادثے میں ملوث انسانی سمگلر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

    پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے یونان کشتی حادثے میں ملوث ایک انسانی سمگلر سمیت دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔

    ایف آئی اے گوجرانوالہ زون کی جانب سے جاری بیان میں گرفتار ملزمان کی شناخت محمد اسلم اور سعید احمد کے نام سے کی گئی ہے۔

    ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ محمد اسلم انسانی سمگلنگ میں ملوث بین الاقوامی گینگ کا کارندہ ہے اور یونان کشتی حادثے میں ملوث ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اسلم نے متاثرین کو یورپ بھجوانے کے نام پر ان سے مجموعی طور پر 85 لاکھ روپے ہتھیائے ہیں۔

    ایف آئی کے بیان کے مطابق ملزم نے اپنے گروہ کے دیگر ملزمان کی مدد سے متاثرین کو پہلے لیبیا بھجوایا اور بعد ازاں انھیں کشتی کے ذریعے یونان بھجوانے کی کوشش کی۔

    گذشتہ ہفتے غیرقانونی طور پر یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران تارکین وطن کے تین کشتیوں کو یونان کے نزدیک حادثہ پیش آیا تھا۔ یونان میں موجود سفارتخانے کے حکام کے مطابق فی الحال پانچ ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 47 پاکستانی شہریوں کو ریسکیو کر لیا گیا جنھیں اب یونان کے حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اگرچہ اس حادثے کے دوران لاپتہ ہونے والی پاکستانی شہریوں کی اصل تعداد کا تو علم نہیں تاہم یہ درجنوں میں ہو سکتے ہیں۔

    بیان کے مطابق دوسرے ملزم کو گجرات سے جعلی سفری دستاویزات بنانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان سے تفتیش جاری ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    ڈائریکٹر ایف آئی اے گجرانوالہ زون عبدالقادر قمر یونان کشتی حادثے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

  15. حوثیوں کے تل ابیب پر میزائل حملے کے بعد امریکہ کی یمن میں فضائی بمباری

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں فضائی کارروائیوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے کمانڈ سینٹر اور میزائل سٹوریج سائٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس نے بحیرہ احمر کے اوپر کئی حوثی ڈرونز اور ایک اینٹی شِپ کروز میزائل کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

    اس سے کچھ گھنٹے قبل حوثیوں نے اسرائیل کی طرف ایک بیلسٹک میزائل داغا جس سے تل ابیب کے ایک پارک میں ایک درجن سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔

    ایران کا حمایت یافتہ عسکری گروہ حوثی شمال مغربی یمن کے علاقے کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کی ابتدا سے ’فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے‘ اسرائیل اور عالمی بحری آمد و رفت کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    ایک بیان میں امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی کارروائی کا مقصد حوثی آپریشنز کو نقصان پہنچانا ہے۔ اس نے بحیرۂ احمر میں امریکی بحریہ کے جہازوں پر حملوں کا حوالہ دیا۔

    امریکہ کے مطابق اس آپریشن کے لیے امریکی ساختہ ایف اے 18 ہورنیٹ فائٹر طیارے استعمال ہوئے۔

    نومبر 2023 سے بحیرۂ احمر میں حوثی میزائل حملوں کے دوران کئی بحری جہاز ڈوبے اور کئی کو نقصان پہنچا۔ اس نے اکثر یہ غلط دعویٰ کیا کہ وہ صرف اسرائیل، امریکہ یا برطانیہ سے تعلق والے بحری جہازوں پر حملے کرتے ہیں۔

    گذشتہ دسمبر امریکہ، برطانیہ اور 12 دیگر ممالک نے بحیرۂ احمر میں شپنگ لائنز کو محفوظ بنانے کے لیے آپریشن کیا تھا۔

    اسرائیلی فوج نے سنیچر کو بتایا کہ اس کی طرف سے حوثیوں کے حملے کو روکنے کی کوشش ناکام ہوئی۔ تل ابیب میں اسرائیلی حکام کے مطابق ایک درجن سے زیادہ افراد کو معمولی چوٹیں آئیں۔

    حوثی ترجمان نے کہا کہ اس نے فوجی ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے ہائپر سونک بیلسٹک میزائل استعمال کیا۔

    خیال رہے کہ رواں ہفتے اسرائیل نے فضائی حملوں میں حوثی عسکری اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ ان کارروائیوں میں بندرگاہوں اور صنعا میں واقع انرجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ حوثیوں کے مطابق ان حملوں میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    حوثیوں نے غزہ جنگ کے خاتمے تک حملے جاری رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس فضائی کارروائی کے ذریعے یہ خود کو اور اپنے اتحادیوں کا دفاع کر رہا ہے۔

  16. بریکنگ, جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے حملے میں 16 سکیورٹی اہلکار ہلاک: پاکستانی فوج

    پاکستان کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین میں شدت پسندوں کے ایک حملے میں 16 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

    سنیچر کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ 20 اور 21 دسمبر کی درمیانی شب شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھا اور اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں 16 سکیورٹی اہلکار اور آٹھ شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

    اس سے قبل جنوبی وزیرستان میں تعینات ڈپٹی سُپرنٹینڈنٹ آف پولیس ہدایت اللہ محسود نے بھی بی بی سی اردو کے نامہ نگار روحان احمد کو اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ گذشتہ رات دو سے تین بجے کے درمیان ہوا تھا۔

    پاکستانی فوج کا مزید کہنا ہے کہ علاقے میں سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے اور اس گھناؤنے عمل میں ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

  17. بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی پر امریکی خدشات: ’پاکستان نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے لیے لازوال قربانیاں دیں‘

    پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکہ کے قومی سلامتی کے نائب مشیر جان فائنر کے لانگ رینج بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی سے متعلق تنقیدی بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے امریکہ کے حوالے سے ارادے کبھی غلط نہیں تھے اور بنیادی حقیقت آج بھی تبدیل نہیں ہوئی ہے۔

    سنیچر کو دفترِ خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’پاکستان نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں اور خطے میں امریکہ کی پالیسیوں کے سبب یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔‘

    خیال رہے گذشتہ روز امریکی تھنک ٹینک کارنیگے انڈاؤمنٹ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جان فائنر کا کہنا تھا کہ حالیہ دور میں پاکستان نے ایک ایسی ’کارآمد میزائل ٹیکنالوجی‘ تیار کر لی ہے جو اسے امریکہ کو بھی نشانہ بنانے کے قابل بنائے گی۔‘

    جان فائنر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے لانگ رینج میزائل سسٹم اور ایسے دیگر ہتھیار بنا لیے ہیں جو ’اسے بڑی راکٹ موٹرز کے (ذریعے) تجربات کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو پاکستان کے پاس جنوبی ایشیا سے بھی آگے اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت آ جائے گی، اس میں امریکہ بھی شامل ہے اور اس سے پاکستان کے ارادوں پر حقیقی سوالات اُٹھتے ہیں۔‘

    ان کے اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی میزائل صلاحیتوں پر امریکہ کی جانب سے خطرے کا اظہار افسوسناک ہے۔

    انڈیا کا نام لیے بغیر دفترِ خارجہ کی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے مشرقی پڑوس میں زیادہ میزائل کی صلاحیتوں کے حصول کی کوششوں کو ’نہ نظرانداز کیا جا رہا ہے بلکہ اسے تحفظ بھی دیا جا رہا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی صلاحیتوں پر تحفظات ’دوسروں کے ایما‘ پر اُٹھائے جا رہے ہیں جس کا مقصد خطے میں استحکام کا توازن بگاڑنا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اس بات کا اعادہ کرنا چاہتا ہے کہ اس کی سٹریٹیجک صلاحیتوں کا مقصد اپنی خودمختاری کا دفاع اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔

    ’پاکستان ایسی صلاحیتیں تیار کرنے کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہو سکتا جو ڈیٹرنس کے ساتھ ساتھ ابھرتے ہوئے اور متحرک خطرات کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔‘

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے سنہ 2012 سے امریکہ کے ساتھ اس موضوع پر بات کرنا شروع کی تھی اور پاکستان کی مختلف حکومتوں، قیادت اور حکام نے وقتاً فوقتاً کوشش کی ہے کہ امریکہ کے غلط خدشات کو مثبت انداز میں دور کیا جائے۔

  18. نو مئی کے مظاہرے: فوجی عدالتوں نے 25 ملزمان کو دو سے 10 سال قید بامشقت کی سزائیں سنا دیں

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں نے پہلے مرحلے میں نو مئی کے پُرتشدد مظاہروں میں ملوث 25 ملزمان کا کورٹ مارشل مکمل کر کے انھیں دو سے 10 سال تک قید با مشقت کی سزائیں سنائی ہیں۔

    ایک بیان میں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا تھا کہ یہ سزائیں ’تنبیہ ہیں کہ مستقبل میں کبھی قانون کو ہاتھ میں نہ لیں‘ اور یہ ’ان تمام لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام ہیں جو چند مفاد پرستوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق جن 25 ملزمان کو سزائیں دی گئی ہیں، ان میں سے 11 پر لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس، دو پر جی ایچ کیو، دو پر میانوالی ایئر بیس اور ایک پر فیصل آباد میں آئی ایس آئی کے دفتر میں توڑ پھوڑ کا الزام تھا۔ جبکہ دو پر ملتان کینٹ چیک پوسٹ اور پانچ پر پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان پر حملے کا الزام تھا۔

    ’مکمل انصاف ماسٹر مائنڈ، منصوبہ سازوں کو سزا ملنے پر ہوگا‘

    آئی ایس پی آر نے اس بیان میں مزید کہا ہے کہ ’صحیح معنوں میں مکمل انصاف اُس وقت ہوگا جب 9 مئی کے ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ سازوں کو آئین و قانون کے مطابق سزا مل جائے گی۔‘

    ’9 مئی کے مقدمے میں انصاف فراہم کر کے تشدد کی بنیاد پر کی جانے والی گمراہ اور تباہ کُن سیاست کو دفن کیا جائے گا۔‘

    فوج کا مزید کہنا ہے کہ ’دیگر ملزمان کی سزاؤں کا اعلان بھی اُن کے قانونی عمل مکمل کرتے ہی کیا جا رہا ہے۔ متعدد ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں میں بھی مقدمات زیر سماعت ہیں۔‘

    تاہم اس کا کہنا ہے کہ ’تمام سزا یافتہ مجرموں کے پاس آئین اور قانون کے مطابق اپیل اور دیگر قانونی چارہ جوئی کا حق ہے۔‘

    خیال رہے کہ 13 دسمبر کو پاکستان کی عدالت عظمی نے فوجی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات میں سے 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی مشروط اجازت دی تھی۔ جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی لارجر بینچ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمے کے فیصلے سے مشروط ہوں گے۔

    سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ جن ملزمان کو سزاؤں میں رعایت مل سکتی ہے وہ دے کر رہا کیا جائے اور جن ملزمان کو رہا نہیں کیا جا سکتا انھیں سزا سنا کر جیلوں میں منتقل کیا جائے۔

    گذشتہ برس اکتوبر میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے عام شہریوں کے ٹرائلز سے متعلق آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نو اور دس مئی کے واقعات میں گرفتار تمام ملزمان کے مقدمات فوجی عدالتوں سے فوجداری عدالتوں میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

    نو مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے ہوئے تھے اور فوجی تنصیبات سمیت کئی سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گئے تھے۔ نو مئی کے واقعات کے ذمہ داروں کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں چلانے سے متعلق پارلیمان نے قرارداد منظور کی تھی جس کے بعد وفاقی حکومت نے ان افراد کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں بھیجنے کی منظوری دی تھی۔

  19. امریکہ نے شام کے نئے رہنما الشرع کی گرفتاری پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام ختم کر دیا, ٹام بیٹمین، بی بی سی نیوز

    امریکہ نے شام کے نئے رہنما احمد الشرع کی گرفتاری پر ایک کروڑ ڈالر کی انعامی رقم ختم کر دی ہے۔ حال ہی میں امریکی سفارتکاروں کی ہیئت تحریر الشام کے نمائندوں سے ملاقات ہوئی ہے۔

    امریکی نائب وزیر خارجہ باربرا لیف نے بتایا ہے کہ امریکی حکام نے الشرع سے ’مثبت‘ بات چیت کی ہے اور وہ ’عملیت پسند‘ معلوم ہوئے ہیں۔

    دو ہفتے قبل بشار الاسد کی شام سے بے دخلی کے بعد ایک امریکی وفد نے دمشق کا دورہ کیا ہے۔ تاہم واشنگٹن اب تک ہیئت تحریر الشام کو دہشتگرد گروہ تصور کرتا ہے۔

    امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ سفارتکاروں نے ’طاقت کی منتقلی کے ان اصولوں‘ پر بات چیت کی جن کی امریکہ حمایت کرتا ہے جبکہ علاقائی واقعات کے علاوہ یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے کی ضرورت ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ حکام اِن امریکی شہریوں کے بارے میں معلومات مانگ رہے ہیں جو اسد دور میں لاپتہ ہوئے۔ ان میں صحافی آسٹن ٹائس شامل ہیں جنھیں 2012 کے دوران دمشق سے اغوا کیا گیا۔ سائیکو تھراپسٹ مجد كم الماز 2017 کے دوران گمشدہ ہوئے تھے۔

    یہ بھی پڑھیے

    اس سے قبل ترجمان امریکی سفارتخانے نے کہا تھا کہ لیف کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس ’سکیورٹی وجوہات کی بنا پر‘ منسوخ کی گئی ہے۔ لیف نے اس کی تردید کی اور کہا کہ تاخیر کی وجہ ’گلیوں میں جشن‘ ہے۔

    امریکی وفد کا اہم دورہ

    یہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں امریکی سفارتی ٹیم کا دمشق کا پہلا دورہ ہے۔

    بشار الاسد کی معزولی کے بعد امریکہ، یورپی اور عرب ممالک شام میں نئی حکومت پر اپنا اثر و رسوخ قائم کر رہے ہیں۔ اس سے قبل برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وفود بھی شام کا دورہ کر چکے ہیں۔

    امریکی وفد کی آمد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے ہیئت تحریر الشام کو دہشتگرد گروہوں کی فہرست سے نکالنے کے لیے کچھ شرائط رکھی ہیں۔ شام میں جامعہ اور فرقہ ورانہ نوعیت سے آزاد ایسی حکومت کی تشکیل کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے جو بشار الاسد کی جگہ لے گی۔

    دمشق کو تجارتی پابندیوں سے آزادی چاہیے اور اس وقت یہ شام کے لیے انتہائی اہم ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق شام کے شمال مشرق میں ایک فضائی کارروائی کے دوران نام نہاد دولت اسلامیہ کے رہنما ابو یوف اور ان کے دو ساتھیوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

  20. جرمنی میں گاڑی کی ٹکر سے پانچ افراد ہلاک: ’مبینہ حملہ آور سعودی شہری ہے‘

    جرمنی کے شہر ماگڈیبرگ میں حکام کے مطابق کرسمس مارکیٹ میں تیز رفتار کار کی ٹکر سے ایک بچے سمیت پانچ افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

    حکام کے مطابق 68 زخمیوں میں سے 15 کی حالت تشویشناک ہے۔

    ریاست زاکسن انہالٹ کے سربراہ رینر ہاسلوف نے صحافیوں کو بتایا کہ جائے وقوعہ سے 50 سالہ سعودی شہری کو گرفتار کیا گیا ہے جو 2006 میں جرمنی آیا تھا اور بطور ڈاکٹر کام کر رہا تھا۔

    ان کے مطابق ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ مبینہ حملہ آور اکیلا تھا۔ انھیں مزید ہلاکتوں کا بھی خدشہ ہے۔

    مبینہ حملہ آور نے ایسا کیوں کیا، یہ تاحال غیر واضح ہے۔ اب تک حکام کو ان کے کسی انتہا پسند گروہ سے تعلق کا بھی علم نہیں ہے۔

    جائے وقوعہ کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایمرجنسی سروسز کی گاڑیوں کے پاس کئی لوگ زمین پر پڑے ہیں۔

    ادھر جرمن چانسلر اولف شولز نے واقعے کی مذمت کی ہے اور متاثرین سے ہمدردی ظاہر کی ہے۔