یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے، تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ حادثے کا شکار ہونے والی بس استور کے گاؤں پریشنگ سے راولپنڈی جا رہی تھی کہ تھیلچی پُل کے قریب کھائی میں جا گری۔ اندھیرا ہونے کے سبب کل صبح تک ریسکیو آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے، تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رواں ہفتے جمعرات کو اسرائیل کی فُٹبال ٹیم نیشنز لیگ ٹورنامنٹ میں فرانس کے خلاف پیرس میں اپنا میچ کھیلے گی اور اس میچ سے قبل ہی دونوں ملکوں میں شدید تناؤ کی کیفیت نظر آ رہی ہے۔
اسرائیل نے اپنی شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ فرانس کے خلاف پیرس میں اپنی ٹیم کا میچ دیکھنے جانے سے گُریز کریں کیونکہ انھیں ڈر ہے کہ ان کے شہریوں پر فرانس میں ایمسٹرڈیم طرز کے حملے ہو سکتے ہیں۔
خیال رہے 7 نومبر کو نیدرلینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں اسرائیلی فُٹبال کلب مکابی تل ابیب اور ایجیکس کے درمیان میچ کے بعد اسرائیلی فُٹبال فینز پر حملے ہوئے تھے۔
نیدرلینڈز کے وزیرِ اعظم ڈِک سخوف نے ان ’یہود مخالف حملوں‘ کی مذمت کی جبکہ اسرائیلی فوج نے اسے ’اسرائیلوں کے خلاف شدید اور پُرتشدد واقعات‘ قرار دیا۔
بی بی سی عربی کے مطابق ایمسٹرڈیم میں ہونے والے واقعے کے تناظر میں اسرائیل کی نیشنل سکیورٹی کونسل نے اپنے شہریوں کو کہا ہے کہ وہ ’بیرونِ ملک کھیلوں کے میچز اور کلچرل تقریبات میں شرکت کرنے سے گریز کریں‘ اور پیرس میں اسرائیلی ٹیم کا میچ دیکھنے نہ جائیں۔
فرانس میں حکام کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے اسرائیلی کھلاڑیوں اور فینز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سٹیڈیم کے اندر اور باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
فرانسیسی میڈیا کے مطابق اب تک اس میچ کے 20 ہزار ٹکٹس فروخت ہو چکے ہیں جبکہ پیرس میں واقع فُٹبال سٹیڈیم میں 80 ہزار تماشائیوں کی گنجائش ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انھیں معلومات موصول ہوئی ہیں کہ کچھ ’گروہ نیدرلینڈز، برطانیہ، فرانس، بیلجیئم اور دیگر ممالک میں اسرائیلیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘
بی بی سی عربی کے مطابق اسرائیل کو مطمئن کرنے کے لیے فرانسیسی صدر کے دفتر سے اعلان کیا گیا ہے کہ جمعرات کو فرانس اور اسرائیل کے درمیان میچ کے موقع پر ایمانول میکخواں خود سٹیڈیم میں موجود ہوں گے۔
پیرس کے پولیس چیف لورینٹ نونیز کے مطابق دونوں ٹیموں کے درمیان میچ سے قبل سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کردیا گیا ہے اور اس دوران سٹیڈیم میں فلسطینی جھنڈے لانے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
ان کے مطابق میچ میں صرف اسرائیل اور فرانس کے جھنڈے لانے کی اجازت ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہGB Police
گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں باراتیوں کی ایک ویگن دریا میں گرنے کے سبب 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ دلہن کو زخمی حالت میں بچا لیا گیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق ویگن دریا میں گرنے سے قبل دُلہن کنارے پر گر کر زخمی ہو گئی تھی جسے طبّی امدار کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
متاثرہ خاندان کے مطابق گاڑی میں ڈرائیور سمیت 26 افراد سوار تھے، جبکہ ٹرانسپورٹ سروس کے مطابق ان افراد میں ایک سات سالہ بچہ بھی شامل تھا۔
دریا میں گِر کر لاپتہ ہو جانے والے افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن علاقے میں اندھیرا ہونے کے سبب کل صبح تک معطل کر دیا گیا ہے۔
چکوال سے آئے ہوئے باراتیوں میں دو سگے بھائی اور ان کی والدہ بھی شریک تھیں، جبکہ دولہا بھی اسی گاڑی میں سوار تھا۔
باراتی شادی اور نکاح کے بعد دلہن کو اپنے آبائی علاقے لے کر جارہے تھے۔
شمالی علاقہ جات میں مقامی رسم ہے کہ شادی کے بعد دلہن کو اس کے قریبی رشتہ دار اس کے نئے گھر تک چھوڑنے جاتے ہیں۔
اس گاڑی میں چکوال کے باراتیوں کی تعداد تین تھی جبکہ باقی سب دلہن کے رشتہ دار اور ضلع استور کے رہائشی تھے، جن میں دلہن کی بہن، والدہ اوردیگر قریبی رشتہ دار شامل تھے۔
پنجاب پولیس کے انسپیکٹر جنرل (آئی جی) نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا ہے کہ ان کے صوبے میں گذشتہ پانچ برسوں میں کم عمر بچوں کے ساتھ ریپ کے پانچ ہزار 623 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں جمع کروائی جانے والی اس رپورٹ کے مطابق 2020 میں کم عمر بچوں کے ساتھ ریپ کے ایک ہزار 82، 2021 میں ایک ہزار 148، 2022 میں ایک ہزار 111، 2023 میں ایک ہزار 205 اور 2024 میں اب تک ایک ہزار 77 کیسز صوبے بھر میں رپورٹ ہوئے ہیں۔
آئی جی پنجاب کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے ریپ کے پانچ ہزار 623 مقدمات میں پولیس کی جانب سے عدالتوں میں چالان جمع کروائے گئے ہیں، جبکہ 962 کیسز مختلف وجوہات کی بنا پر خارج کیے گئے۔

،تصویر کا ذریعہEBU
چین کے شہر ژوہوئی کے حکام کا کہنا ہے کہ ایک سٹیڈیم میں لوگ ورزش کر رہے تھے جب ایک ڈرائیور نے ان پر کار چڑھا دی۔ اس واقعے میں کم از کم 35 افراد ہلاک اور 43 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
62 سالہ ڈرائیو فین نے مبینہ طور پر ایک ایس یو وی کار چلاتے ہوئے رکاوٹیں توڑیں اور ژوہوئی سپورٹس سینٹر داخل ہو گئے۔ پولیس نے اسے ایک ’سنگین اور پُرتشدد حملہ‘ قرار دیا ہے۔
چین کے مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں معمر افراد اور بچے بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق ڈرائیور فین کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس واقعے میں زخمی ہونے کے بعد وہ فی الحال کوما میں ہیں۔
یہ شہر ایک سول اور فوجی ایئر شو کی میزبانی کرنے جا رہا ہے جس کے باعث یہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق فین کی حال ہی میں طلاق ہوئی تھی جس کے بعد پراپرٹی کے تصفیے پر وہ ناخوش تھے اور بظاہر انھوں نے اسی غصے میں کار اس ہجوم پر چڑھا دی۔
چونکہ فین ابھی کوما میں ہیں لہذا حکام ان سے پوچھ گچھ نہیں کر پائے۔
چینی سوشل میڈیا پر اس واقعے کی کئی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں۔ کئی ویڈیوز میں لوگوں کو زمین پر گِرے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ طبی عملہ ان کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
عینی شاہد مسٹر شین نے چینی میڈیا کو بتایا کہ کم از کم چھ گروپ سٹیڈیم میں اپنی روزمرہ کی واک کے لیے جمع ہوئے تھے جب یہ واقعہ رونما ہوا۔ یہ گروپس واکنگ ٹریک استعمال کرتے ہوئے سٹیڈیم داخل ہوئے تھے۔
مسٹر شین نے کہا کہ ڈرائیو نے تیز رفتار کار اس گروپ پر چڑھا دی جس نے گراؤنڈ کا تیسرا چکر مکمل کیا تھا اور اس سے ’کئی لوگ گِر پڑے۔‘
ایک اور عینی شاہد نے کہا کہ ’کار نے پورا چکر لگایا اور شمال، مشرق، جنوب اور مغرب چاروں جانب لوگ زخمی ہوئے۔‘
یہ غیر واضح ہے کہ آیا اس واقعے کا چینی ایئر شو سے کوئی تعلق ہے۔ یہ ایئر شو منگل کو اس سٹیڈیم سے 40 کلو میٹر دوری پر شروع ہوا ہے۔
چین اس شو کے دوران اپنے نئے جنگی طیاروںع اور ڈرونز کی نمائش کر رہا ہے۔ بعض روسی حکام بھی اس ایئر شو میں شریک ہوں گے۔ اس شو کے لیے انتظامیہ نے سپورٹس سینٹر کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے ہیں۔
دریں اثنا چینی صدر شی جن پنگ نے واقعے کی مذمت کی ہے اور حکام کو ملوث ملزم کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔
چین میں حالیہ مہینوں کے دوران متعدد پُرتشدد حملے دیکھے گئے ہیں۔ ستمبر میں ایک شخص نے سنگھائی کی سپر مارکیٹ میں تین لوگوں کو قتل کیا۔ اسی ماہ جنوبی چین میں 10 سالہ جاپانی طالبعلم کو سکول کے قریب چاقو سے حملہ کر کے قتل کر دیا گیا۔
راولپنڈی پولیس نے قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف عمر ایوب، اسد قیصر، سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف شبلی فراز اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف احمد بچھڑ سمیت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے متعدد رہنماؤں کو اڈیالہ جیل کے باہر سے حراست میں لیا تھا۔
منگل کو گرفتار ہونے والے افراد میں سُنّی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا بھی شامل تھے۔ تاہم پولیس کے مطابق ان تمام افراد کو پولیس کی جانب سے کچھ دیر بعد وارننگ دے کر رہا کر دیا گیا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیو میں پنجاب پولیس اہلکاروں کو جماعت کے رہنماؤں کو حراست میں لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ تمام رہنما سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے تھے۔ مقامی پولیس کے مطابق ان رہنماؤں کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا ہے۔
نادرا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا ہے کہ ان کے ادارے سے 27 لاکھ افراد کا ڈیٹا چوری ہوا تھا اور متعدد افراد کو انکوائری کے بعد ملازمت سے نکالا گیا ہے۔
منگل کو قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو ایک بریفنگ کے دوران نادرا کے چیئرمین نے بتایا کہ ڈیٹا چوری ہونے کے بعد ایک انکوئری ہوئی اور 19 گریڈ کے ایک افسر سمیت چھ ملازمین کو ملازمتوں سے نکالا گیا ہے۔
دوران اجلاس کمیٹی کے رُکن خالد فضل چوہدری نے نادرا کے چیئرمین سے افغان شہریوں کے پاس موجود جعلی شناختی کارڈز کے حوالے سے بھی سوال کیا۔ جس پر چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر نے کہا کہ ان کے ادارے نے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ شاختی کارڈر بلاک کیے ہیں۔
اجلاس کے دوران چیئرمین نادرا نے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اراکین کو بتایا کہ پاکستان کی 61 تحصیلوں میں نادرا کے دفاتر موجود نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ان میں سے زیادہ تر تحصیلیں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں واقع ہیں۔

،تصویر کا ذریعہKP Police/X
خیبر پختونخوا پولیس نے گذشتہ برس جنوری میں پشاور کی پولیس لائنز میں ایک مسجد پر حملہ کرنے والے خودکُش بمبار کے سہولت کار کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران پولیس کے انسپیکٹر جنرل (آئی جی) اختر حیات خان گنڈاپور نے بتایا کہ ایک کانسٹیبل کو پشاور میں ایک چھاپے کے دوران پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کیا ہے۔
آئی جی کے مطابق ملزم سے دو خودکش جیکٹس بھی برآمد ہوئی ہیں۔
خیال رہے گذشتہ برس جنوری میں پشاور کی پولیس لائنز میں ہونے والے ایک خودکش دھماکے میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
خیبرپختونخوا کے آئی جی کے مطابق پشاور کی پولیس لائنر میں مسجد کو نشانہ بنانے والے خودکش حملہ آور کو سہولت کاری فراہم کرنے کے لیے ملزم نے دو لاکھ روپے وصول کیے جو کہ اسے ’ہُنڈی حوالے‘ کے ذریعے پہنچائے گئے تھے۔
’اس کام کے اسے (ملزم کو) دو لاکھ روپے پاکستانی موصول ہوئے جس میں 100 افراد ہلاک ہوئے، تو اس شخص نے اپنے ہی بھائیوں کا سودا دو ہزار روپے فی کس میں کیا۔‘
پولیس کی جانب سے صحافیوں کو ملزم کا اعترافی بیان بھی فراہم کیا گیا ہے۔ اس بیان کے مطابق ملزم دسمبر 2019 میں خیبر پختونخوا پولیس میں بھرتی ہوا تھا۔
بیان کے مطابق کانسٹیبل کا کہنا تھا ’میری تین سال قبل 2021 میں جماعت الاحرار کے جنید نامی ایک شخص سے فیس بُک پر رابطہ ہوا اور اس نے میری ذہن سازی کی۔ نتیجتاً میں نے جماعت الاحرار میں شامل ہونے، ان کا ساتھ دینے اور کام کرنے کا ارادہ کر لیا۔‘
بیان کے مطابق ملزم فروری 2021 میں بلوچستان کے چمن بارڈر کے ذریعے افغانستان بھی گیا تھا جہاں اس کی ملاقات مکرم خراسانی سمیت جماعت الاحرار کے دیگر اراکین سے ہوئی تھی۔
خیال رہے جماعت الاحرار اب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا حصہ ہے اور مکرم خراسانی سمیت دیگر افراد شدپ پسند گروہ کی قیادت میں بھی شامل ہیں۔
خیبرپختونخوا پولیس کے آئی جی کے مطابق ملزم کانسٹیبل نے جنوری 2022 میں چرچ کے ایک پادری کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
ان کے مطابق ملزم نے لاہور میں جماعت الاحرار سے منسلک اراکین کو ہتھیار بھی فراہم کیے، جن کا استعمال کرتے ہوئے پنجاب کے دارالحکومت میں دو پولیس اہلکاروں اور ایک احمدی شخص کو قتل کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پنجاب کے ڈی جی ماحولیات نے لاہور ملتان فیصل آباد اور ملتان ڈویژن کے بعد سرگودھا، راولپنڈی ڈیرہ غازی خان، بہاولپور اور ساہیوال ڈویژن میں بھی نرسری سے لیکر 12 ویں کلاس تک کے تعلیمی ادارے بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
پنجاب کے ڈی جی ماحولیات کی جانب سے جاری ہونے والے اس نوٹیفکیشن پر عمل درآمد 13 نومبر سے 17 نومبر تک ہوگا۔ تاہم اس عرصے کے دوران ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈمیز بھی بند رہیں گیں۔
لاہور میں سموگ کی صورت حال میں کوئی کمی نہیں آئی اور لاہور میں ائرکوالٹی انڈکس 968 ہے۔
سموگ کی وجہ سے لاہور سے ملتان، اسلام آباد اور سیالکوٹ جانے والی موٹرویز کو بند کردیا گیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ صورت حال کے بہتر ہونے پر انھیں کھول دیا جائے گا۔ سموگ کی وجہ سے ٹرینوں کی آمدورفت بھی تاخیر کا شکار ہے۔
دوسری جانب صوبے میں سموگ کی صورت حال سے متعلق درخواست کی سماعت آج لاہور ہائی کورٹ میں ہوگی لاہور ہائیکورٹ کے جج شاہد کریم اس درخواست کی سماعت کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہIsraeli media
اسرائیلی فوج کے مطابق منگل کی علی الصبح ایک ڈرون حملے کو روکا گیا ہے جو مشرق سے ملک کے جنوب میں وادی عربہ کے سرحدی علاقے میں داخل ہوئے۔
اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ فضائی حملے جنوبی اسرائیل کے شہر ایلات میں ہوئے اور اس کی تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسرائیل ہیوم ویب سائٹ نے جنوبی اسرائیل کے علاقے ایلات کے اوپر فضائی حملوں کی یہ ابتدائی تفصیلات جاری کی ہیں۔
یمنی ذرائع ابلاغ نے پیر کی شام اطلاع دی کہ امریکہ اور برطانیہ کے طیاروں نے الحدیدہ کے جنوب میں واقع ضلع طوہیطہ کے الفضا علاقے پر تین حملے کیے۔
تاہم پیر کی صبح بھی امریکہ اور برطانوی افواج کی جانب سے یمن کے دو اہم علاقوں امران اور صعدہ پر مختلف مقامات پر 9 حملے کیے گئے تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ اُن کی جانب سے شام میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کے 9 اہداف پر حملے کیے ہیں۔ مزید یہ کہ ’یہ حملے ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کی صلاحیت کو محدود کر دیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ کے نوصیرات کیمپ میں العودہ ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ کیمپ میں پیر کی صبح سے اسرائیلی کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 20 ہوگئی ہے اور 30 سے زیادہ افراد زخمی ہیں جنھیں ابتدائی طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ’اسرائیلی افواج کے توپ خانے کی جانب سے ہسپتال کے گردو نواح میں ہونے والی بمباری کی وجہ سے ہسپتال میں پانی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے تاہم ہسپتال کی عمارت کے کُچھ حصوں کو بھی جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔‘
ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے خلاف ’نسل کشی اور جنگ‘ کے ماحول میں صحت کی سہولیات کو تحفظ فراہم کریں۔
طبی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق، غزہ کی پٹی کے جنوب میں خان یونس کے مغرب میں واقع المواسی کے علاقے میں اسرائیلی طیاروں کی جانب سے بے گھر افراد کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہImranKhanPTI
پاکستان تحریکِ انصاف کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان آئندہ چند روز تک مکمل تیاری کے ساتھ مارچ کی تاریخ دیں گے۔
سابق وزیراعظم کے ایکس ہینڈل سے شئیر کیے گئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ ’صوابی جلسے میں ہم نے لائحہ عمل دے دیا ہے۔ اس بار ہمارے لوگ واپس گھروں میں نہیں جائیں گے۔ ہمارا احتجاج آئین، جمہوریت اور آزاد عدلیہ کی بحالی اور ہمارے بے گناہ کارکنان و رہنماؤں کی آزادی تک جاری رہے گا۔‘
اس پیغام کو پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ سے بھی شیئر کیا گیا ہے۔
پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے میں ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں اور تحریک انصاف کے عہدیدار، ممبران اسمبلی، ناظمین، ٹکٹ ہولڈرز، ورکرز اور سپورٹرز کو اپنی تیاری مکمل کرنے اور گراؤنڈ پر موبلائزیشن کے کے لیے کام شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تاہم نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اڈیالہ جیل حکام اور کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں کے مطابق عمران خان نے آج 190 ملین پاؤنڈ مقدمے کی سماعت کے دوران صحافیوں سے کوئی بات چیت نہیں کی۔
یاد رہے اس سے قبل سنیچر کے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوبی جلسے کے دوران اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کا پیغام دیتے ہوئے کہا تھا کہ سابق وزیر اعظم نومبر یعنی رواں ماہ احتجاج کی کال دیں گے۔
صوابی میں تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں عمران خان کا پیغام دے رہا ہوں اور عمران نے حکم دیا ہے کہ نومبر یعنی اسی ماہ عمران خان کال دیں گے اور کال یہ ہو گی کہ جب گھروں سے نکلیں گے تو اگر ہم گھروں میں نہ پہنچیں تو جنازے پڑھ لینا اور ہم تب تک واپس نہیں آئیں گے جب تک عمران کو رہائی نہیں مل جاتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آئینی بینچ کی تشکیل اور کام کے حوالے سے ایک اجلاس سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کے چیمبر میں ہوا۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں آئینی بینچ کی ورکنگ اور طریقہ کار پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں جسٹس امین الدین خان کو سٹاف کی جانب سے آئینی مقدمات بارے میں بریفننگ دی گئی۔
اجلاس میں 184(1) ،184(3) ، 186 اور انسانی حقوق کے مقدمات پر بات کی گئی۔
جسٹس امین الدین خان نے رجسٹرار اور انتظامی افسران سے میٹنگ کی اور مقدمات کی درجہ بندی کی ہدایت کی۔
اجلاس میں طے پایا کہ مقدمات کو مقرر کرنے کا فیصلہ سربراہ آئینی بنچ دو سینیر ججز سے ملکر کریں گے۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ تین رکنی ججز کمیٹی مقدمات کی سماعت کے لیے کم از کم پانچ ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دے گی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ چونکہ کمیٹی کے ایک رکن جج بیرون ملک ہیں اس لیے ان کی واپسی پر کمیٹی اجلاس ہو گا۔
آئینی بینچوں کا قیام
رواں ماہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے 26 ویں آئینی ترمیم کا بل دو تہائی اکثریت سے منظور کیا، جس کے بعد صدر آصف علی زرداری نے اس پر دستخط کر کے اسے آئین کا حصہ بنا دیا۔
26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین میں آرٹیکل 191 اے کا اضافہ کیا گیا۔ یہ آرٹیکل آئینی بینچوں کی تشکیل سے متعلق ہے۔
ترمیم کے مطابق آئینی بینچوں کی تعداد اور ان کی مدت کا فیصلہ سپریم جوڈیشل کمیشن کرے گی۔ جوڈیشل کمیشن ان آئینی بینچوں میں تمام صوبوں سے تعلق رکھنے والے ججز کی برابر نمائندگی کو یقینی بنائے گا۔
بل میں کہا گیا کہ اس آئینی بینچ کے پاس موجود اختیارات کسی دوسرے بینچ کو تفویض نہیں کیے جا سکتے۔
اس ترمیم میں یہ بھی کہا گیا کہ ججز کی تعیناتی سے متعلق جوڈیشل کمیشن میں ہونے والی کارروائی ان کیمرا ہو گی تاہم اس کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ملک بھر میں شہریوں کے پاسپورٹ کے اجرا میں تاخیر کے حوالے سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں ارکانِ اسمبلی کی تنقید کے جواب میں ڈی جی پاسپورٹ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ 15 دسمبر تک تمام کیٹگریز کے پاسپورٹ جاری کر دیے جائیں گے۔
انھوں نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ’20 سالہ پرانی مشینیں ٹارگٹ پورا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتیں فاسٹ ٹریک کیٹگری میں تمام معاملات نمٹائے جا چکے ہیں۔‘
چیئرمین راجہ خرم نواز کی زیر صدرات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں پاسپورٹ اجرا میں ہونے والی تاخیر پر بحث کی گئی۔
ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن مصطفیٰ قاضی نے کمیٹی کو بتایا ’پرانی مشینوں سے روزانہ 75 ہزار پاسپورٹس بنتے تھے جبکہ ارجنٹ پاسپورٹ کیٹگری میں ایک لاکھ 70 ہزار درخواستیں چند ہفتوں میں ختم ہو جائیں گی۔ ‘
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ’زیر التوا معاملات کی بڑی وجہ فنڈز کی کمی پرانی مشینری اور پیپرز کی بر وقت دستیابی نہ ہونا تھی‘۔
کمیٹی کے ممبران نے کہا کہ لوگوں کو دس دس ماہ سے پاسپورٹس نہیں مل رہے۔
اس پر پاسپورٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کورونا کی وبا کے بعد پاسپورٹ کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا ۔
انھوں نے بتایا کہ ’جرمنی سے نئے پرنٹرز منگوا کر کام شروع کر دیا گیا ایک گھنٹے میں 4 ہزار پاسپورٹس کی اشاعت کا عمل جاری ہے۔ ‘
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے ارکانِ اسمبلی کے تاخیر کا شکار پاسپورٹ کل تک جاری کرنے کے احکامات دیے۔
سیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کو بتایا فنڈز کیلئے بھیجی گئی سمری بھی وزارت خزانہ نے مسترد کر دی کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ حکام سے بریفنگ طلب کر لی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں پر پابندی ہٹا لیے جانے کے بعد انھیں جیل میں سہولیات کی فراہمی سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست نمٹا دی گئی ہے۔
عدالتی حکم کے مطابق جیل حکام نے عمراُن خان کو عدالتی آرڈرز اور جیل رولز کے مطابق تمام سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے دستخط سے تفصیلی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق جیل میں عمران خان اور دیگر قیدیوں کی جیل ملاقاتوں سے پابندی ہٹا لی گئی ہے، ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے دہشت گرد حملوں کے خدشے کے پیش نظر جیل ملاقاتوں پر پابندی عائد کی تھی۔
جیل حکام کے مطابق پٹیشنر نورین نیازی کی جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرا دی گئی ہے۔
جیل حکام نے بتایا کہ ’عمران خان نے عدالتی آرڈر کی روشنی میں کوآرڈینیٹر مقرر کر رکھا ہے لہٰذا عمران خان سے ملاقات کے خواہش مند مقرر کردہ کوآرڈینیٹر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔‘
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کے مطابق سابق ’وزیر اعظم کو جیل رولز کے مطابق جیل میں تمام سہولیات میسّر ہیں جبکہ جیل حکام نے یقین دہانی کرائی کہ عمران خان کو عدالتی آرڈرز اور جیل رولز کے تحت تمام سہولیات ملیں گی۔‘
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے نورین نیازی کی درخواست نمٹانے کا تحریری آرڈر جاری کر دیا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ پٹیشنر کے وکلا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل اور ڈی آئی جی جیل خانہ جات کے بیان سے مطمئن ہیں لہٰذا پٹیشنر کے وکلا کی تسلی کے باعث عمران خان کو جیل سہولیات فراہمی کی پٹیشن نمٹائی جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہSC.gov.pk
سپریم کورٹ میں ٹیکس سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے سنیئیر جج جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جب تک کوئی آئینی بینچ نہیں بنتا تو کیا ہم غیر قانونی ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہم اس کیس کو سن بھی لیں تو کوئی ہم سے پوچھ نہیں سکتا۔‘
انھوں نے کہا کہ بار بار سوال سامنے آتا ہے کہ کیس ریگولر بینچ سنے گا یا آئینی بینچ۔ جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ، اگر ہم کیس کا فیصلہ کر بھی دیتے ہیں تو کیا ہو گا؟ ہمیں کون روکنے والا ہے؟
انھوں نے کہا کہ اگر اس کیس کی نظرثانی کی درخواست دائر ہوتی ہے تو نظرِ ثانی بھی ہمارے پاس آئے گی تو ہم کہہ دیں گے کہ ہمارا دائرہ اختیار ہے، آئینی کیسز ریگولر بینچ نہیں سن سکتا۔ انھوں نے درحواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کی طرف سے بھی کوئی معاونت نہیں آ رہی۔
اس مقدمے کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 2 اے کے مطابق پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اس کا فیصلہ کرے گی جس میں ابھی وقت لگے گا، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اس کا فیصلہ کرے گی کہ کیا کیس آئینی بینچ سنے گا یا ریگولر بینچ۔
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت درخواست گزار کے نقطہ نظر پر کوئی رائے نہیں دے رہی بلکہ اس بینچ میں موجود ججز صرف گپ شپ لگا رہے ہیں۔ عدالت نے اس درخواست کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کمیشن نے جسٹس امین الدین کی سربراہی میں ایک سات رکنی آئینی بینچ تشکیل دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق، غزہ اور لبنان کی جنگ اور خطے میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کے لیے پیر کو ہونے والے سربراہی اجلاس کی تیاری کے لیے عرب اور اسلامی ممالک کے رہنما سعودی عرب پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔
اکتوبر 2024 کے آخر میں، سعودی وزارتِ خارجہ نے اسرائیل فلسطین تنازعہ کے خاتمے کے لیے دو ریاستی حل کو آگے بڑھانے کے مقصد کے لیے قائم کیے گئے بین الاقوامی اتحاد کے پہلے اجلاس کے دوران سربراہی اجلاس کا اعلان کیا تھا۔
ایس پی اے نے کے مطابق سربراہی اجلاس کا مقصد ’فلسطینی علاقوں اور لبنان پر اسرائیلی جارحیت کے تسلسل اور خطے کی صورتحال میں پیش رفت پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔‘
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عرب اسلامی سربراہ اجلاس کا مقصد پوری دنیا کو یہ واضح پیغام دینا ہے کہ حالات مزید خاموشی برداشت نہیں کر سکتے اور اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف کیے جانے والے قتل عام پر خاموشی ملوث ہونے کے مترادف ہے۔
تاہم فلسطینی خبر رساں ایجنسی (وفا) نے اطلاع دی ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس غیر معمولی عرب اور اسلامی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی دارالحکومت ریاض پہنچ گئے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی بھی اس سمٹ میں شرکت کے لیے ریاض پہنچ گئے ہیں۔
تاہم پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف عرب اسلامک سمٹ کی سائیڈ لائینز پر سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری اور مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ہفتے کے پہلے کاروباری روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔ مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور انڈیکس میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص میں خریداری کی وجہ سے انڈیکس نے 94000 پوائنٹس کی سطح بھی عبور کر لی جو ملکی سٹاک مارکیٹ میں اس کی بلند ترین سطح ہے۔ مارکیٹ میں کاروبار کے دوران ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری میں دلچپسی دیکھی گئی جس کی وجہ سے انڈیکس میں اضافہ دیکھا گیا۔
سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کی جانب سے ملکی معیشت میں بہتری کو تیزی کی وجہ قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق ملک کے اقتصادی اشاریوں میں مسلسل تیزی دیکھی گئی جس کی وجہ سے پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کی پاکستان آمد کی خبروں نے بھی سٹاک مارکیٹ میں تیزی کو فروغ دیا۔ مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی بھی گزشتہ کئی روز سے سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی ایک اہم وجہ ہے۔
سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار نبیل ہارون کے مطابق پاکستان کے معاشی اشاریوں میں بہتری کی تازہ ترین پیش رفت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر ہیں جو اکتوبر کے مہینے میں تین ارب ڈالر سے زائد رہیں اور سالانہ بنیاد پر ان میں 24 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے زیرِ انتظام جموں صوبے کے کشتواڑ علاقے میں ایک تلاشی مہم کے دوران فوج اور مسلح عسکریت پسندوں کے درمیان اتوار کو شدید جھڑپ ہوئی جس میں چار انڈین فوجی زخمی ہوگئے۔ علاقے کے فوجی ترجمان کے مطابق زخمیوں میں میں سے ایک نائب صوبیدار راکیش کمار کی کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ ہلاک ہو گئے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ کشتواڑ کے مختلف مقامات پر ابھی بھی حملہ آوروں کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ انڈین فوج کی وائٹ نائٹ کور نے ’ایکس‘ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ کشتواڑ کے جنگلوں میں سرگرم عسکریت پسندوں کا یہ وہی گروپ ہے جس نے دو روز قبل ویلیج ڈیفنس گارڈ کے دو اہلکاروں کو نشانہ بنایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اتوار کو ہی سرینگر کے ایک اور داچھی گام علاقے میں فوج اور عسکریت پسندوں کے بیچ جھڑپ ہوئی جو دیر رات تک جاری رہی، تاہم علاقے کے آئی جی پولیس وِردی کمار بِردی کا کہنا ہے کہ ’جنگلاتی علاقے میں چھپے عسکریت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں، لیکن انھیں پکڑنے کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔‘
اس سے پہلے سنیچر کے روز پولیس نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ سوپور قصبے میں ہوئی ایک جھڑپ کے دوران ایک عسکریت پسند مارا گیا۔
واضح گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مختلف جھڑپوں میں سات عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ اکتوبر میں عمر عبداللہ کی نئی حکومت بنتے ہی جموں اور کشمیر صوبوں میں مسلح تشدد میں اچانک اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ان علاقوں میں سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبے پنجاب سمیت مُلک کے متعدد علاقوں میں سموگ کی وجہ سے مُشکلات کا سامنا ہے۔
صوبہ پنجاب کی انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کے چار اضلاع جن میں لاہور، ملتان، فیصل آباد اور گوجرانوالہ شامل ہیں میں پیر کے روز سے تجارتی مراکز اور بیرونی سرگرمیاں بند رہیں گی، تاہم اس کی خلاف ورزی پر پنجاب انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997 کے تحت کارروائی ہو گی۔
لاہور میں بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز میں صرف گراسریز اور میڈیکل سیکشن کھلے رہیں گے، ان احکامات کی خلاف ورزی پر دفعہ 188 کے تحت سزا دی جائے گی، یہ احکامات آج یعنی پیر 11 نومبر سے 17 نومبر تک نافذ العمل رہیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ تاریخوں کے دوران ہر قسم کے آؤٹ ڈور کھیلوں، نمائشوں اور تقریبات پر پابندی ہوگی، ریسٹورنٹس کی آؤٹ ڈور ڈائننگ پر بھی پابندی عائد ہو گی تاہم مذہبی اجتماعات مستثنیٰ ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند ہوں گے جبکہ میڈیکل سٹورز، لیبارٹریز، پٹرول پمپس، بیکری اور کریانہ سٹورز پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
چند روز قبل پنجاب حکومت نے صوبے کے چار ڈویژن میں پہلی سے 12ویں جماعت تک سکولوں میں تعطیلات میں 17 نومبر تک توسیع کر دی ہے۔ ان چار ڈویژن میں لاہور، ملتان، فیصل آباد اور گوجرانوالہ شامل ہیں۔ ان علاقوں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
صوبہ پنجاب کے علاوہ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد، اور خیبر پختونخوا کے صدر مقام پشاور میں بھی سموگ کے چھا جانے کی اطلاعات ہیں۔
تاہم موٹروے پولیس کی جانب سے نومبر کے آغاز میں ہی ’دھند کے باعث‘ مختلف جگہوں سے مختلف اوقات میں موٹروے کو جزوی طور پر بند کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
شمالی لبنان اور غزہ پر اسرائیلی حملوں میں متعدد بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
لبنان کی وزارت صحت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دارالحکومت بیروت کے شمال میں بائیبلوس کے قریب المت میں اتوار کی شب اسرائیلی حملوں میں سات بچوں سمیت کم از کم 23 افراد ہلاک ہوئے۔
دوسری جانب شمالی غزہ میں شہری دفاع کے ادارے کا کہنا ہے کہ محصور علاقے میں دو گھروں پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ایجنسی کے مطابق اتوار کی علی الصبح جبالیہ میں ایک گھر پر پہلا حملہ کیا گیا جس میں 13 بچوں سمیت ’کم از کم 25‘ افراد ہلاک اور 30 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
شہری دفاع کے ادارے کا کہنا ہے کہ غزہ شہر کے علاقے صابرہ میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوئے اور کچھ اب بھی لاپتہ ہیں۔
اسرائیل کی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ انھوں نے لبنان میں جس مقام کو نشانہ بنایا ہے وہاں حزب اللہ نے بڑی تعداد میں ہتھیار ذخیرہ کیے ہوئے تھے اور وہ ان مقامات کو اسرائیل پر حملے کے لیے استعمال بھی کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
آئی ڈی ایف کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کے خطرے کو کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے جن میں فضائی نگرانی اور درست انٹیلی جنس کا استعمال بھی شامل ہے۔
تاہم بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی انتظامیہ دونوں واقعات کی تفصیلات کا جائزہ بھی لے رہی ہے۔
لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ المت میں ہونے والے حملے کے بعد امدادی کارکن اب بھی ملبے تلے دب جانے والے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
اسرائیل افواج ایران کے حمایت یافتہ لبنانی مسلح گروپ حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیوں میں تیزی لا رہی ہیں۔ آئی ڈی ایف کی توجہ جنوبی لبنان پر مرکوز ہے، جہاں پر گروپ کی سرحد پار راکٹ داغنے کے متعدد مراکز موجود ہیں اور وہ انھیں نشانہ بنا رہی ہیں۔ تاہم حالیہ ہفتوں کے دوران لبنان کے تقریباً تمام ہی شہروں اور قصبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔