اسرائیلی افواج کے غزہ شہر پر حملوں میں تیزی: 24 گھنٹوں میں مزید 64 افراد ہلاک،وزارت صحت

غزہ شہر کے رہائشیوں نے شہر کے شمالی اور مشرقی حصوں میں اسرائیلی افواج کے حملوں اور مسلسل ہونے والے دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ دوسری جانب حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی افواج کے حملوں میں 64 افراد ہلاک اور تقریباً تین سو زخمی ہوئے ہیں۔

خلاصہ

  • غزہ شہر کے رہائشیوں نے شمالی اور مشرقی حصوں میں اسرائیلی افواج کے حملوں کی اطلاعات دی ہیں دوسری جانب وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ حملوں سے ایک روز میں 64 افراد ہلاک اور تین سو زخمی ہوئے
  • پاکستان کے محکمۂ موسمیات نے متنبہ کیا ہے کہ دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے
  • خیبر پختونخوا میں طوفانی بارشوں سے مزید آٹھ افراد ہلاک، صوبے میں مرنے والوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی
  • ترکی کی خاتونِ اول نے میلانیا ٹرمپ سے غزہ کے بچوں کے لیے آواز اٹھانے کی درخواست کی ہے

لائیو کوریج

  1. پاکستان آئل فیلڈ کی زیر زمین پائپ لائن سے کروڑوں روپے مالیت کا کروڈ آئل چوری ہونے کا الزام

    پاکستان آئل فیلڈ کی زیر زمین پائپ لائن سے کروڑوں روپے مالیت کے کروڈ آئل کی چوری کا انکشاف ہوا ہے۔

    پاکستان آئل فیلڈ کے افسر شاہد احمد کی درخواست پر تھانہ دھمیال میں مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں تین افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

    ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ راولپنڈی میں تھانہ دھمیال کے علاقہ رنیال گاؤں میں چوری کا غیر قانونی کنیکشن پکڑا گیا ہے جہاں ملزمان نے چار گھروں کے نیچے سے سرنگ بنا کر پائپ لائن تک رسائی حاصل کی تھی۔

    راولپنڈی پولیس کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان نے آئل کی مین سپلائی لائن میں ٹیمپرنگ کر کے دو انڈر گراؤنڈ ٹینک بھی بنائے تھے۔

    ملزمان پر الزام ہے کہ انھوں نے 12821 بیرل کروڈ آئل چوری کیا جس کی مالیت 25 کروڑ 48 لاکھ 81 ہزار 480 روپے بتائی گئی ہے۔

    ملزمان کے قبضہ سے آٹھ لیٹر آئل، ربڑ پائپ، چوری میں استعمال ہونے والے آلات، اسلحہ اور گولیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان آئل کی چوری میں عرصہ دراز سے ملوث تھے اور مرکزی ملزمان فرار ہو چکے ہیں۔

    پولیس نے بتایا کہ ملزمان کی شناخت قومی شناختی کارڈ کی مدد سے ممکن ہوئی ہے۔

    خیال رہے پاکستان آئل فیلڈ زیر زمین کروڈ آئل نکال کر اٹک آئل ریفائنری کو سپلائی کرتی ہے۔

  2. اسرائیلی افواج کے غزہ شہر پر حملوں میں تیزی، 24 گھنٹوں میں مزید 64 افراد ہلاک 300 زخمی: وزارت صحت, پولین کولا، بی بی سی نیوز

    غزہ شہر کے بعض حصوں پر شدید بمباری

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل کی بری اور فضائی افواج نے غزہ شہر کے بعض حصوں پر شدید بمباری کی ہے۔

    غزہ شہر کے رہائشیوں نے شہر کے شمالی اور مشرقی حصوں میں مسلسل ہونے والے دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔

    یہ حملے اسرائیل کے اس خطے کے سب سے بڑے شہری علاقے پر قبضے کے منصوبے کے سلسلے کی کڑی ہیں جس نے وہاں رہنے والے تقریباً 10 لاکھ فلسطینیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔

    اسرائیلی افواج اس دوران مزید شمال میں جبالیہ کے پناہ گزین کیمپوں کی عمارتوں کو دھماکوں سے تباہ کر رہی ہیں۔

    دوسری جانب حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی افواج کے حملوں میں 64 افراد ہلاک اور تقریباً تین سو زخمی ہوئے ہیں۔

    وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی جانب سے حماس کو شکست دینے کے مہم کے آغاز کے بعد سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 62,686 ہو گئی ہے جب کہ ایک لاکھ 58 ہزار کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    اسرائیلی افواج کے حملوں میں 64 افراد ہلاک اور تقریباً تین سو زخمی ہوئے ہیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشن24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 64 افراد ہلاک اور تقریباً تین سو زخمی ہوئے

    اسرائیلی فوج نے غزہ میں حملوں کا آغاز اُس وقت شروع کیا جب سات اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا گیا تھا جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حماس کو ختم کرنے کے عزم ظاہر کیا ہے اور جنگ کو بڑھاوا دینے پر ہونے والی بین الاقوامی تنقید کو نظر انداز کیا ہے۔

    اس کارروائی میں اسرائیل نے تقریباً 60,000 ریزرو فوجیوں کو استعمال کیا ہے۔ اگرچہ یہ حملے پوری شدت سے ابھی شروع نہیں ہوئے لیکن اسرائیلی فوج غزہ شہر پر مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

    اتوار کی صبح تک فضائی حملوں میں زیتون اور شجاعیہ کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ صبرہ اور اس کے اطراف میں ٹینکوں سے گولہ باری کی گئی۔

    اسرائیلی فوج کے دعوے کے مطابق مطابق گذشتہ چند دنوں میں فوجی دوبارہ جبالیہ کے علاقے میں واپس آئے ہیں جس سے لڑائی کو مزید علاقوں تک وسعت دینے اور حماس کے ’دہشت گردوں‘ کو واپس آ کر ان علاقوں میں کارروائی سے روکنے سے مدد ملی ہے۔

    دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ اس کے ایک اہلکار کو اسرائیلی فوج نے رہا کر دیا ہے جسے 21 جولائی سے غزہ میں حراست میں رکھا گیا تھا۔ ادارے نے اہلکار کی شناخت یا گرفتاری کی وجوہات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    جنگ کے باعث نیتن یاہو کو اسرائیل کے اندر بھی شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

    خاص طور پر یرغمال بنائے گئے افراد کے اہل خانہ کی جانب سے ان پر دباؤ ہے، جو چاہتے ہیں کہ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کیے جائیں تاکہ ان کے عزیز و اقارب کو گھر واپس لایا جا سکے۔

    غزہ میں اب بھی موجود 50 یرغمالیوں میں سے صرف 20 کے زندہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جاتا ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نے گزشتہ ماہ حماس کے ساتھ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی پر بالواسطہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد پورے غزہ پر قبضہ کرنے کا اعلان کیا۔

    غزہ شہر پر حملہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنغزہ شہر کے رہائشیوں نے شہر کے شمالی اور مشرقی حصوں میں مسلسل ہونے والے دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں

    ثالثی کرنے والے قطر اور مصر اس حملے کو روکنے کے لیے معاہدہ کروانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انھوں نے 60 دن کی جنگ بندی اور تقریباً نصف یرغمالیوں کی رہائی کی نئی تجویز پیش کی ہے۔

    اس تجویز پر حماس نے رضامندی کا اظہار کیا ہے تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اب جزوی معاہدہ قبول نہیں کریں گے بلکہ ایک جامع معاہدے کے تحت تمام یرغمالیوں کو رہا کیا جائے۔

    اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس نے ہتھیار ڈالنے اور تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے پر اتفاق نہ کیا تو غزہ شہر کا نام و نشان تک مٹا دیا جائے گا۔

    غزہ کی بیشتر آبادی کئی بار بے گھر ہو چکی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور غیر سرکاری تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ شہر پر اسرائیلی حملہ ایک ’ہولناک انسانی المیہ‘ ثابت ہوگا۔

    محتاط اندازوں کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 90 فیصد سے زیادہ گھروں کو نقصان پہنچ چکا ہے یا وہ تباہ ہو چکے ہیں جبکہ صحت، پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کے نظام مکمل طور پر بیٹھ چکے ہیں۔

    اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ کے 36 ہسپتالوں میں سے 18 اس وقت جزوی طور پر فعال ہیں ان میں 11 غزہ شہر اور اس کے اطراف میں ہیں جبکہ ایک شمالی غزہ کے علیحدہ انتظامی ضلع میں ہے۔

  3. دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے: محکمۂ موسمیات

    پاکستان کے محکمۂ موسمیات نے متنبہ کیا ہے کہ دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔

    ایک بیان میں محکمے نے بتایا کہ پنجاب کے علاقوں مرالہ، خانکی اور قادر آباد سمیت دریائے چناب اور راوی سے منسلک ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    اس نے ہدایت دی ہے کہ اتوار سے پیر کی صبح تک متعلقہ حکام الرٹ رہیں اور ضروری اقدامات کے ذریعے نقصانات سے بچنے کی کوششیں کریں۔

  4. خامنہ ای: امریکہ سے مذاکرات کی تجاویز سطحی ہیں، ہمارے مسائل حل نہیں ہو سکتے

    Leader.ir

    ،تصویر کا ذریعہLeader.ir

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کی سفارش وہ لوگ کرتے ہیں جو ’ظاہربین‘ ہیں اور ’جب تک امریکہ کا ایران دشمنی کا اصل مقصد برقرار ہے، یہ مسائل حل نہیں ہونے والے ہیں۔‘

    یہاں ’ظاہربین‘ سے مراد ’سطحی‘ یا ’کوتاہ نظر‘ ہے۔ یہ ایسے شخص کی طرف اشارہ کرتا ہے جو چیزوں کا جائزہ یا ادراک صرف ان کی ظاہری شکل یا سطحی فہم کی بنیاد پر کرتا ہے، حقائق یا بنیادی سچائیوں پر غور کیے بغیر)۔

    آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی تقریر میں مسعود پزشکیان اور ان کی حکومت کی حمایت بھی کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی اصل کوشش یہ رہی ہے کہ ’ایرانی قوم کو فرمانبردار بنایا جائے‘ اور یہی کشیدگی کی وجہ ہے، جس میں 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے لیے امریکہ کی حمایت بھی شامل ہے۔

    رہبرِ اعلیٰ نے 12 روزہ جنگ کے دوران ایرانی عوام کے ’متحد"‘ ہونے کو سراہا اور کہا: ’دشمن نے بھی سمجھ لیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کو پیچھے دھکیلنے کا راستہ طاقت اور تشدد کا استعمال نہیں بلکہ ملک کے اندر اختلاف اور نفاق پیدا کرنا ہے۔‘

    انھوں نے ان ایرانیوں پر بھی تنقید کی جو حالیہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کے مؤقف کی حمایت کر رہے تھے اور کہا: ’یہ لوگ اتنے وہم میں مبتلا اور اپنے مقاصد کی تکمیل پر اتنے پُراعتماد تھے کہ حملے کے شروع ہونے کے ایک دن بعد ہی اگلی حکومت بنانے کے لیے اجلاس کیا اور بادشاہ بھی مقرر کر دیا۔‘

  5. ٹرمپ امریکی ریاست الینوائے میں فوجی کیوں تعینات کرنا چاہتے ہیں؟

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی ریاست الینوائے کے ڈیموکریٹک گورنر نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکاگو میں فوجی تعینات کرنے کا منصوبہ اختیارات کا غلط استعمال ہے۔

    گورنر جے بی پرٹزکر کے مطابق الینوائے میں نیشنل گارڈ بھیجنے کے لیے کسی ہنگامی صورتحال کی کوئی وجہ موجود نہیں اور امریکی صدر ’ایک مصنوعی بحران پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    ٹرمپ اس سے پہلے واشنگٹن ڈی سی میں تقریباً دو ہزار فوجی تعینات کر چکے ہیں، جہاں مقامی حکومت بھی حزبِ اختلاف ڈیموکریٹس کے پاس ہے اور اسے وہ امریکی شہروں میں جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

    جمعے کو ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس پالیسی کو شکاگو اور نیویارک میں بھی نافذ کریں گے جو دونوں بڑے ڈیموکریٹک کنٹرولڈ شہر ہیں۔

    شکاگو کے میئر برینڈن جانسن نے صدر ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں شکاگو میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ملی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ شہر کی حکومت کو فوجیوں کی کسی بھی تعیناتی پر ’سنگین تحفظات‘ ہیں۔ انھوں نے صدر کے طریقۂ کار کو ’غیر مربوط، غیر ضروری اور غیر دانشمندانہ‘ قرار دیا۔

    جانسن نے مزید کہا کہ یہ ’غیر قانونی تعیناتی‘ شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان کشیدگی کو بھڑکا سکتی ہے اور جرائم میں کمی کے حوالے سے شہر کی حاصل کردہ پیش رفت کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

  6. کیئو میں یومِ آزادی کی تقاریب کے دوران روس کا یوکرین پر جوہری تنصیب پر حملے کا الزام

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    روس نے اپنے مغربی کرسک علاقے میں ایک جوہری بجلی گھر میں آگ لگنے کا الزام یوکرین کے ڈرون حملوں پر عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ راتوں رات روس میں کئی بجلی اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

    پلانٹ کی پریس سروس نے میسجنگ ایپ ٹیلی گرام پر بتایا کہ کوئی زخمی نہیں ہوا اور آگ کو فوری طور پر بجھا دیا گیا۔

    مزید یہ بتایا گیا کہ حملے سے ایک ٹرانسفارمر کو نقصان پہنچا لیکن تابکاری کی سطح معمول کے دائرے میں رہی۔

    روس کے لینن گراڈ علاقے میں اوست لوگا بندرگاہ پر آگ لگنے کے لیے فائر فائٹرز کو بھی بھیجا گیا جہاں ایندھن کا ایک بڑا برآمداتی ٹرمینل موجود ہے۔ علاقے کے گورنر نے کہا ہے کہ تقریباً 10 یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا گیا اور ملبے سے آگ بھڑک اٹھی۔

    یوکرین نے روسی الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب یوکرین اتوار کو اپنی آزادی کا دن منا رہا ہے۔ یہ دن 1991 میں سوویت یونین سے آزادی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

  7. شمالی کوریا کا دو نئے ایئر ڈیفنس میزائلوں کا تجربہ کرنے کا دعویٰ

    کم جانگ ان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ملک نے دو نئے ایئر ڈیفنس میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔

    کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) کے مطابق، شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ اُن نے ان ہتھیاروں کے تجربے کا جائزہ لیا۔

    کے سی این اے کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار ’بہترین جنگی صلاحیت‘ کے حامل ہیں اور ان میں ’منفرد ٹیکنالوجی‘ استعمال کی گئی ہے۔

    سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز کیے جانے والے تجربے سے ثابت ہوتا ہے کہ ان دونوں ہتھیاروں کی تکنیکی خصوصیات مختلف فضائی اہداف بشمول ڈرونز اور کروز میزائلوں کو تباہ کرنے کے لیے بہت موزوں ہیں۔

    شمالی کوریا کی جانب سے اس تجربے کے محض چند گھنٹے قبل جنوبی کوریا نے تصدیق کی تھی کہ منگل کے روز اس کی فوج نے دونوں ملکوں کے درمیان واقع ڈی ملیٹیرائزد ملٹری زون (غیر فوجی زون) میں داخل ہونے والے شمالی کوریا کے فوجیوں پر انتباہی گولیاں چلائی تھی۔

    یونہاپ نیوز ایجنسی نے اقوام متحدہ کی کمان کے حوالے سے بتایا کہ تقریباً 30 شمالی کوریائی فوجی ڈی ملیٹیرائزد ملٹری زون میں داخل ہوئے تھے۔

    جواب میں شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر ’جان بوجھ کر اشتعال انگیزی‘ کا الزام لگایا ہے۔

  8. اسرائیل میں ہزاروں افراد کا ایک بار پھر جنگ کے خاتمے، یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مظاہرہ

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل میں ایک بار پھر ہزاروں افراد نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک بھر میں ہونے والے مارچ میں شرکت کی۔

    مظاہرین کا کہنا تھا اسرائیلی فوج کے غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے سے باقی یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔

    اسرائیل کے سابق وزیر دفاع بینی گینٹز نے سنیچر کے روز وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک قومی اتحاد حکومت تشکیل دیں جس میں حزب اختلاف کی شخصیات بھی شامل ہوں اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے معاہدے تک پہنچنے کے لیے کام کریں۔

    گانٹز نے انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے بنا ایک عارضی اتحاد بنانے کی تجویز پیش کی تاکہ یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے معاہدے پر بات ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ریاست کا پہلا اور سب سے اہم فرض یہودیوں اور تمام شہریوں کی جان بچانا ہے۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم کی قیادت میں قائم موجودہ حکومت انتہائی دائیں بازو کے ارکان کی حمایت پر منحصر ہے جو جنگ کے خاتمے کے لیے حماس کے ساتھ معاہدے کے مخالف ہیں۔

    اس سے قبل نتن یاہو نے کہا تھا کہ انھوں نے تمام باقی ماندہ یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت شروع کرنے کا حکم دیا ہے بشرطیکہ یہ معاہدے ’اسرائیل کے مطالبات پر پورا اترے۔‘

  9. خیبر پختونخوا میں طوفانی بارشوں سے مزید آٹھ افراد ہلاک، صوبے میں مرنے والوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 15 اگست سے ہونے والی بارشوں اور فلیش فلڈ کے نتیجے میں صوبے بھر میں اب تک مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنپی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 15 اگست سے ہونے والی بارشوں اور فلیش فلڈ کے نتیجے میں صوبے بھر میں اب تک مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی ہے۔ فائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں طوفانی بارشوں اور چھتیں گرنے کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور 47 زخمی ہوئے ہیں جبکہ صوبے میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 15 اگست سے اب تک ہونے والی بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    ریسکیو 1122 ڈیرہ اسماعیل خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب شہر اور اس کے گردونواح میں آنے والے شدید آندھی اور طوفانی بارش کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ 31 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔

    ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران سولر پلیٹس اور دیواریں گرنے کے آٹھ، آٹھ واقعات پیش آئے۔

    ضلع کے ہسپتالوں کی رپورٹ کے مطابق، ان حادثات میں 52 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں 46 ڈسٹرکٹ ہیدکوارٹر ہسپتال جبکہ چھ کو مفتی محمود ٹیچنگ ہسپتال لایا گیا۔

    دوسری جانب، پی ڈی ایم اے کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، 15 اگست سے اب تک صوبہ کے مختلف اضلاع میں بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث مختلف حادثات میں 406 افراد ہلاک اور 247 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں 305 مرد، 55 خواتین اور 46 بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 179 مرد، 38 خواتین اور 30 بچے شامل ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ صوبے میں سب سے زیادہ ضلع بونیر متاثر ہوا ہے جہاں سے اب تک مجموعی طور پر 337 ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ صوابی میں بارشوں اور سیلاب سے 46 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    چار سدہ میں ریسکیو 1122 کی کارروائی، 110 افراد محفوظ مقامات پر منتقل

    ریسکیو 1122 چارسدہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا یے کہ گذشتہ شب ضلع چار سدہ میں شدید بارش کے باعث شوبلہ ڈرین میں پانی کا بہاؤ 8700 کیوسک تک پہنچ گیا جس سے بلند درجے کا سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے متعلق اطلاع موصول ہوتے ہی ریسکیو 1122 نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے عمرزئی سے 95 افراد اور ترنگزئی سے 15 افراد کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔

    ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق، اس وقت دریائے جندئی میں پانی کا بہاؤ کم ہو کر 13,000 کیوسک رہ گیا ہے، جو درمیانے درجے کے سیلاب کے زمرے میں آتا ہے۔

    ریسکیو 1122 نے صوبے میں سیلابی صورتحال میں غیر ضروری سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کی اطلاع فوری طور پر ایمرجنسی نمبر 1122 پر دیں۔

  10. ترکی کی خاتونِ اول کا میلانیا ٹرمپ کو خط: ’غزہ کے بچوں کے لیے وہی جذبات دکھائیں جو یوکرینی بچوں کے لیے دکھائے‘

    میلانیا ٹرمپ، ترک خاتونِ اول ایم اردوغان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ترکی کی خاتون اول نے میلانیا ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی جنگ سے متاثرہ بچوں کے لیے بھی ویسے ہی جذبات کا مظاہرہ کریں جیسا انھوں نے جنگ میں مارے گئے یوکرینی بچوں کے لیے کیا تھا۔

    ایمن اردوغان نے یوکرین پر روس کے حملے کے نتیجے میں متاثر ہونے والے بچوں کے لیے امریکی خاتون اول کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے ان سے کہا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی بھی ’وکالت کریں۔‘

    سنیچر کے روز ترک ایوان صدر سے شائع ہونے والے ایک خط میں ایمن اردوغان کا کہنا تھا کہ غزہ ’بچوں کا قبرستان‘ بن چکا ہے۔ انھوں نے امریکی خاتونِ اول پر زور دیا کہ: ’ہمیں مل کر اس ناانصافی کے خلاف اپنی آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔‘

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ فوڈ سکیورٹی ماہرین کے اندازوں کے مطابق غزہ شہر میں تقریباً پانچ لاکھ افراد قحط کا شکار ہیں جبکہ غذائی قلت سے 132,000 بچوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔

    ایمن اردوغان اپنے خط لکھتی ہیں کہ غزہ کے ہزاروں بچوں کے کفنوں پر لکھا ’نامعلوم بچہ‘ کا جملہ ہمارے ضمیروں پر ایک ایسے زخم کی مانند ہے جس کا مداوا نہیں ہو سکتا۔

    اپنے خط میں انھوں نے میلانیا ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ ’غزہ کے بچوں کے لیے ویسے ہی جذبات کا مظاہرہ کریں جیسا آپ نے جنگ میں مارے گئے یوکرینی بچوں کے لیے کیا تھا۔‘

    ایمن اردوغان نے امریکی خاتونِ اول سے اپیل کی ہے وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے ’غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے‘ کے لیے براہ راست اپیل کریں۔

    رواں ماہ کے شروع میں میلانیا ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو ایک خط بھیجا تھا جس میں ان سے بچوں کی حالتِ زار پر غور کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ تاہم انھوں نے کسی مخصوص بچوں کا حوالہ نہیں دیا تھا۔

    عام طور پر ترک خاتون اول سیاست سے دور رہتی ہیں اور خود کو ماحولیاتی مسائل کے لیے آواز اٹھانے تک محدود رکھتی ہیں۔

    تاہم ماضی میں 2016 میں خانہ جنگی میں پھنسے شامیوں کے لیے عالمی رہنماؤں کو خطوط لکھے تھے۔ اس کے علاوہ انھوں نے مارچ میں غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کی بھی مذمت کی تھی۔

  11. کالعدم تنظیموں کی سہولت کاری کے الزام میں گرفتار وکیل میر خان کا پانچ روزہ ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے کالعدم تنظیموں کی سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے وکیل میر خان کا پانچ روزہ ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔

    جمعے کے روز وکیل میر خان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت ون میں پیش کیا گیا۔

    استغاثہ کی درخواست پر عدالت نے ان کو پانچ روزہ ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔

    سرکاری حکام کا الزام ہے کہ میر خان ایڈووکیٹ بھی بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز کے لیکچرر عثمان قاضی کی طرح کالعدم تنظیموں کے لیے سہولت کار ہیں۔

    واضح رہے کہ یہ حکومتی مؤقف ہے اور بی بی سی آزادانہ طور پر اس مؤقف کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وکیل اور حقوق انسانی کے کارکن عمران بلوچ ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ میرخان ایڈووکیٹ کو 12اگست کو متعدد دیگر افراد کے ہمراہ کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا تھا لیکن ان کو 10 روز بعد عدالت میں پیش کیا گیا جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔

    میر خان ایڈووکیٹ کون ہیں ؟

    میر خان ایڈووکیٹ بلوچستان کے علاقے نصیر آباد سے تعلق رکھتے ہیں۔

    ان کا تعلق بلوچوں کے قبیلے لہڑی سے ہے۔ انھوں نے اسلام آباد میں اسلامک یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی۔

    عمران بلوچ ایڈووکیٹ کے مطابق میر خان ایڈووکیٹ کی توجہ وکالت کو بطور پیشہ اپنانے کی جانب زیادہ نہیں تھی بلکہ وہ پبلک سروس کمیشن کے مختلف امتحانات کی تیاریوں میں مصروف تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کی پوسٹ کے لیے امتحان پاس کیا تھا اور ان کو 14اگست کے بعد تعیناتی کے آرڈرز ملنے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے جانے والے وکیل نے پبلک سروس کمیشن سے تحصیلدار کی آسامیوں کے لیے بھی تحریری امتحان پاس کیا تھا اور وہ اب اس کی زبانی امتحان کے لیے تیاری کررہے تھے۔’

    'میر خان ایڈووکیٹ کو لائبریری سے گرفتار کیا گیا'

    میرخان ایڈووکیٹ پر سرکاری حکام کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کے حوالے سے ان کے خاندان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

    عمران بلوچ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ امیرخان ایڈووکیٹ کی توجہ پبلک سروس کمیشن کی تیاریوں کی جانب تھی۔

    اس مقصد کے لیے وہ سریاب کے علاقے لوہڑ کاریز کے علاقے میں اپنی مدد آپ کے تحت قائم کیے جانے والے لائبریری میں تیاری کے لیے آتے تھے۔

    عمران بلوچ نے جو کہ اس لائبریری کے گورننگ باڈی کے رکن بھی ہیں بتایا کہ 12اگست کو ایک پروبیکس میں سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد ایک شخص کو اٹھانے آئے جن کی دوکان لائبریری کے قریب تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ 'علاقے کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں جمع ہوئی اور دکاندار کی گرفتاری کے خلاف مزاحمت کی کیونکہ ان کے بقول یہ معلوم نہیں ہورہا تھا کہ دکاندار کو اٹھانے والے اغوا کار ہیں یا کسی سکیورٹی ایجنسی کے لوگ'۔

    انھوں نے بتایا کہ دکاندار کی گرفتاری میں ناکامی کے بعد سکیورٹی فورسز سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد آئی جنھوں نے قریب کے گھروں اور لائبریری سے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا جن میں میر خان ایڈووکیٹ بھی شامل تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میر خان لائبریری میں اس وقت تحصیلدار کی آسامیوں کے لیے زبانی امتحان کی تیاری کررہے تھے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کو گرفتاری کے 24 گھنٹے بعد عدالت میں پیش کرنے کی بجائے 10 روز بعد عدالت میں پیش کیا۔

  12. ایران پر امریکہ حملوں کی رپورٹ، ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ عہدے سے برطرف, ریککیل ملر، ہیئنڈیک ت بی بی سی نیوز

    پینٹاگون کی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ کو اُن کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون کی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ کو ایران پر امریکی حملوں کے اثرات کا جائزہ لینے والی ایک رپورٹ پر وائٹ ہاؤس کی تنقید کے چند ہفتوں بعد ہی برطرف کر دیا ہے۔

    بتایا جا رہا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروز اب امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) کے سربراہ کے طور پر کام نہیں کریں گے۔

    پینٹاگون نے دو دیگر اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو بھی کام سے روک دیا ہے۔ محکمہ دفاع نے اس برطرفی پر فوری طور پر کوئی وضاحت پیش نہیں کی ہے۔ بی بی سی نے اس پر تبصرے کے لیے پینٹاگون سے رابطہ کیا ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروز سنہ 2024 کے اوائل سے امریکی دفاعی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ تھے۔

    یاد رہے کہ جون میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈی آئی اے کی جانب سے سامنے آنے والی اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ ایران پر حملوں نے اس کے جوہری پروگرام کو محض چند ماہ تک ہی پیچھے دھکیلا ہے۔

    دوسری جانب اس سے قبل ٹرمپ نے ایران میں جوہری مقامات کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ تاریخ کے کامیاب ترین فوجی حملوں میں سے ایک کو میڈیا بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    اس وقت نیٹو سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہیگستھ نے کہا تھا کہ یہ رپورٹ ’محدود انٹیلیجنس‘ پر بنائی گئی تھی اور ایف بی آئی اس لیک کی تحقیقات کر رہی تھی۔

    یاد رہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ایسے متعدد عہدیداروں کو ہٹانے کا عمل سامنے آیا ہے جن کے تجزیوں میں صدر کے ساتھ اختلاف دیکھا گیا ہے۔

    ملازمتوں میں اضافہ سست پڑنے کی ایک رپورٹ سامنے آنے پر جولائی میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے اپنی ٹیم کو حکم دیا ہے کہ وہ کمشنر برائے محنت شماریات ایریکا میک اینٹرفر کو فوری طور پر برطرف کر دیں۔

  13. مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا ضمنی انتخابات مل کر لڑنے کا اعلان

    اکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیر حنیف عباسی اور پیپلز پارٹی کے رہنما راجا پرویز اشرف

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف کی خالی قرار دی جانے والی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں مل کر حصہ لینے کا اعلان کردیا ہے۔

    اس بات کا اعلان پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیر حنیف عباسی اور پیپلز پارٹی کے رہنما راجا پرویز اشرف نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا اور کہا کہ دونوں جماعتیں آنے والے ضمنی انتخابات میں ایک دوسرے کے خلاف امیدوار کھڑے نہیں کریں گی۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل فیصل آباد، سرگودہا اور لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں نے نو مئی 2023 کو سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد سرکاری املاک پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ کے الزامات ثابت ہونے پر پی ٹی آئی اراکین پارلیمان اور کارکنوں کو سزائیں سنائی تھیں۔

    جس کے بعد الیکشن کمیشن نے ان اراکین کو نا اہل قرار دیا تھا اور ان خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا انعقاد پانچ اکتوبر کو ہونا ہے۔

    سنیچر کے روز راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ آج کی ملاقات دونوں جماعتوں کے قائدین کی ہدایت پر ہوئی اور اس میں ضمنی انتخابات کے حوالے سے بات چیت کی اور دونوں جماعتوں کے درمیان یہ طے ہوا ہے کہ ضمنی انتخابات مل کر لڑیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان یہ طے ہوا ہے کہ جس حلقے میں جس جماعت کا رنر اپ تھا وہاں دوسری جماعت حمایت کرے گی۔

    راجا پرویز اشرف نے کہا کہ دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان فارمولہ طے پاگیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عام انتخابات میں جس حلقے میں پی پی پی کا امیدوار دوسرے نمبر پر آیا تھا اس حلقے میں مسلم لیگ نہمیں سپورٹ کرے گی اور جس حلقے میں مسلم لیگ ن کا امیدوار دوسرے نمبر پر تھا وہاں پی پی پی سپورٹ کرے گی۔

    وفاقی وزیر حنیف عباسی نے کہا کہ دونوں جماعتیں سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ایک دوسرے کی اتحادی ہیں اور ضمنی انتخابات دونوں جماعتیں مل کر لڑیں گی۔

    حنیف عباسی نے کہا کہ دونوں جماعتیں مل کر ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کریں گی۔

  14. کمسن بچی کے ساتھ نازیبا حرکات میں ملوث ملزم اپنے ہی جنسی اعضا پر گولی لگنے سے زخمی: پولیس, احتشام شامی، صحافی

    گرفتار ملزم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجاب کے ضلع قصور میں گلی میں کمسن بچی کے ساتھ نازیبا اورغیراخلاقی حرکات کرنے والا ملزم اپنے جسم کے جنسی اعضا پرگولی لگنے سے زخمی ہوگیا۔

    مقامی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ اس واقعہ میں بھی ملزم نے اپنی شلوار کے نیفے میں سے پستول نکالتے ہوئے جلد بازی میں ٹریگر دبا دیا جس سے گولی چل جانے سے اس کا جنسی عضو (عضوتناسل) زخمی ہوگیا۔

    یاد رہے کہ تین ہفتوں کے دوران پیش آنے والے یہ دوسرا واقعہ ہے۔

    قصورپولیس ترجمان نے اس حوالے سے بتایا کہ تھانہ سٹی چونیاں کے علاقہ ظہیر آباد کالونی میں 10 سالہ بچی اپنی پھوپھو کے گھر جا رہی تھی اور وہ جونہی گھر سے باہر نکلی تواسی محلے کے رہائشی ملزم ریاست نے بچی کو گلی میں اکیلا پا کر غیر اخلاقی حرکات شروع کر دیں۔

    بچی کے شور مچانے پر ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔

    تھانہ سٹی چونیاں پولیس نے بچی کے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کیا اورملزم کی سی سی ٹی وی کیمروں اور دیگر جدید ذرائع سے تلاش شروع کردی۔

    پولیس کو اطلاع ملی کہ ملزم ایک جگہ پر چھپا ہوا ہے جس پر ایس ایچ او قربان نواز پر مشتمل ٹیم نے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو ملزم نے جلد بازی میں نیفے سے پستول نکالنے کی کوشش کی جس سے اس سے فائر ہوگیا اور گولی اس کے جنسی اعضا (عضوتناسل) کے پار ہوگئی۔

    پولیس ٹیم نے ملزم کو زخمی حالت میں حراست میں لے لیا اور ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور داخل کروادیا جس اس کا علاج شروع کردیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے 27 اور 28 جولائی کی درمیانی شب ضلع قصور کے علاقہ شاہ عنایت کالونی میں ایک کمسن بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے والا ملزم بھی اپنے جنسی اعضا سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

    ملزم کی شناخت ناصر وٹو نام سے ہوئی تھی جوکہ ضلع اوکاڑہ کا رہائشی تھا اور کھارہ روڈ پر گھر کی تعمیر پر مزدوری کر رہا تھا جوکہ اس گلی کے قریب ہی تھا جہاں اس نے یہ نازیبا حرکت کی تھی۔

    قصورکے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد عیسیٰ خاں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پولیس کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ اور نادرا کی مدد سے فوٹیجز سے ملزم کا فوری پتہ چلا لیا جاتا ہے اس کے علاوہ اس علاقے میں مخصوص اوقات میں استعمال ہونے والے موبائل فونز سے بھی ملزم کو پکڑنا ممکن ہو جاتا ہے۔

  15. انڈیا پاکستان جنگ بندی میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی نہیں: انڈین وزیر خارجہ جے شنکر

    جے شنکر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین وزیر خارجہ جے شنکر نے ایک بارپھر دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی شامل نہیں رہی۔

    انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں اکنامک ٹائمز ورلڈ لیڈرز فورم کی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے انڈین وزیر خارجہ جے شنکر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی تنقید کی ہے۔

    آپریشن سندور پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس تنازع کے دوران فون کالز امریکہ کی طرف سے کی گئی تھیں اور اسی طرح دوسرے ممالک نے بھی کالز کی تھیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس دوران جو بھی امریکہ فون کالز کی گئیں ان کا ریکارڈ میرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ایکس پر موجود ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’تاہم اس پر ثالثی کا دعویٰ کرنا یا اس بات پر زور دینا درست نہیں کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان بات چیت بے نتیجہ تھی۔ یہ واضح ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کسی تیسرے فریق نے ثالثی نہیں کی بلکہ جنگ بندی کے حوالے سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان براہ راست بات چیت ہوئی ہے۔‘

    یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کئی بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ انھوں نے انڈیا پاکستان جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب ماحول کشیدہ ہو تو یہ فطری بات ہے کہ ممالک ایک دوسرے سے رابطہ کریں۔ ایس جے شنکر نے کہا کہ جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع چل رہا تھا تو میں نے انھیں بھی فون کیا تھا۔ ج کے دور میں تمام ممالک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ہر ملک یہ جاننا چاہتا ہے کہ دوسرے ملک میں کیا ہو رہا ہے۔‘

    اگر انڈیا سے تیل یا ریفائنڈ مصنوعات خریدنے میں کوئی مسئلہ ہے تو کوئی آپ کو مجبور نہیں کر رہا: جے شنکر

    اکنامک ٹائمز ورلڈ لیڈرز فورم میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ ’یہ مضحکہ خیز ہے کہ جو لوگ تجارت کی حمایت کرنے والی امریکی انتظامیہ کے لیے کام کرتے ہیں وہ دوسروں پر الزام لگا رہے ہں۔‘

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کے بعد وائٹ ہاؤس کے تجارتی مشیر پیٹر ناوارو نے روس سے تیل خریدنے پر انڈیا پر تنقید کی ہے۔

    پیٹر ناروا نے کہا تھا کہ انڈیا روسی تیل سے نہ صرف اپنے لیے منافع کما رہا ہے بلکہ یوکرین کی جنگ میں روس کو بالواسطہ طور پر مالی امداد بھی فراہم کر رہا ہے۔

    انڈین وزیر خارجہ نے کہا کہ ’اگر آپ کو انڈیا سے تیل یا ریفائنڈ مصنوعات خریدنے میں کوئی مسئلہ ہے تو نہ خریدیں، ایسا کرنے کے لیے کوئی آپ کو مجبور نہیں کر رہا ہے، اگر آپ کو یہ پسند نہیں ہے تو مت خریدیں۔‘

  16. جمہوریت ڈیڈلاک سے نہیں ڈائیلاگ سے آگے بڑھتی ہے: رانا ثنا اللہ

    رانا صنا اللہ

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مذاکرات اور عدالتی فیصلوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ قومی ڈائیلاگ اور سیاسی استحکام پر بات ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت ڈیڈلاک سے نہیں بلکہ بات چیت سے آگے بڑھتی ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کے دوران رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’جب پی ٹی آئی کو ضمانتیں ملتی ہیں تو عدالتوں کی تعریف کرنے لگتے ہیں۔ فیصلہ آپ کے خلاف آئے تب بھی عدالتوں کا احترام کریں۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’نو مئی کے حملوں کے لیے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ذہن سازی کی جا رہی تھی۔ حملہ کرنے والے سب ہی پی ٹی ائی کے ورکرز تھے۔ تحریک انصاف کو چاہیے تھا کہ ایک سیاسی جماعت کے طور پر ان الزامات کو تسلیم کرتے اور اس پر ندامت کا اظہار کر کے معذرت کا اظہار کرتے تو شاید معاملات اس قدر خرابی کی جانب نہ جاتے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جیل میں عمران خان کو کلاس کے مطابق جن سہولتوں کی اجازت ہے اس کے تحت وہ تمام سہولتیں ان کو دی جا رہی ہیں۔

    ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے 27ویں آئینی ترمیم اور نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت 27ویں آیمی ترمیم اور نئے صوبوں کے قیام میں بالکل ’غیر سنجیدہ‘ ہے۔‘

  17. پاکستانی وزیر خارجہ کا 13 سال بعد بنگلہ دیش کا دورہ

    اسحاق ڈار کا دورہ بنگلہ دیش

    ،تصویر کا ذریعہ@ForeignOfficePk

    ،تصویر کا کیپشنپاکستان کے وزیر خارجہ کا 13 سال کے عرصے کے بعد بنگلہ دیش کا دورہ ہے

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بنگلہ دیش کی حکومت کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے پر ڈھاکہ پہنچ گئے ہیں۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق اسحاق ڈار کا یہ دورہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے کیونکہ پاکستان کے وزیر خارجہ 13 سال کے عرصے کے بعد بنگلہ دیش کا دورہ کر رہے ہیں۔

    دفتر خارجہ کے مطابق اس دورے کے دوران نائب وزیراعظم بنگلہ دیشی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے جن میں چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس، مشیر برائے امور خارجہ توحید حسین اور مشیر تجارت ایس کے بشیر الدین شامل ہیں۔

    دفتر خارجہ کے اعلامیے کے مطابق ’اس دورے میں بنگلہ دیشی حکام کے ساتھ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور سمیت دوطرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں پر بات چیت ہو گی۔‘

    بنگلہ دیش کے شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کا استقبال بنگلہ دیش کے سیکرٹری خارجہ اور دیگر حکام نے کیا۔

    وزیر تجارت جام کمال کی بنگلہ دیش کےدورے کے دوران مشیر برائے تجارت، ایس کے بشیر الدین سے ملاقات

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    ،تصویر کا کیپشنوزیر تجارت جام کمال کی بنگلہ دیش کےدورے کے دوران مشیر برائے تجارت، ایس کے بشیر الدین سے ملاقات

    یاد رہے کہ ایک روز قبل وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے بنگلہ دیش کےدورے کے دوران مشیر برائے تجارت، ایس کے بشیر الدین سے ڈھاکہ میں ملاقات کی تھی جس میں اقتصادی تعاون، باہمی سرمایہ کاری کو آگے بڑھانے اور دو طرفہ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیےبات چیت کی گئی۔

    پاکستان کی خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق دونوں ممالک تجارت پر ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر متفق ہیں تاکہ اقتصادی تعلقات اور تجارت میں زیادہ تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

  18. روس جنگ کے خاتمے اور قیام امن کے لیے ملاقات روکنے کی کوشش کر رہا ہے: زیلنسکی کا الزام

    روس، یوکرین

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلسنکی نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے لیے صدر پوتن سے ہونے والی ملاقات ’روکنے کی ہر ممکن کوشش‘ کر رہا ہے۔

    امریکہ کے صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ امن معاہدے پر بات چیت کے لیے دونوں رہنماؤں کی ملاقات کروائیں لیکن گذشتہ روز انھوں نے کہا کہ تھا کہ یہ دونوں ’بالکل سرکہ اور تیل کی مانند ہیں‘ جن کا ایک دوسرے کے ساتھ میل نہیں ہو سکتا۔

    روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ پوتن یوکرین کے رہنما سے اس وقت ملاقات کریں گے ’جب ملاقات کا ایجنڈا طے ہو جائے گا‘ اور اُن کے بقول یہ ایجنڈا کبھی بھی تیار نہیں ہو گا کیونکہ صدر زیلنسکی ہر چیز کے لیے انکار کرتے ہیں۔

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی ملاقات گذشتہ ہفتے الاسکا میں ہوئی تھی جس کے بعد صدر زیلنسکی نے اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔

    صدر ٹرمپ کے بقول اس جنگ کو روکنا اُن کے لیے مشکل ہدف بنتا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ زیلنسکی اور پوتن کی ملاقات کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

    یوکرین کے صدر زیلنسکی پوتن سے ملاقات کے حق میں ہیں لیکن انھوں نے مغربی اتحادیوں سے یہ ضمانت لی ہے کہ امن معاہدے کے تحت مستقبل میں روس کے حملوں کو روکا جائے۔

    صدر زیلنسکی نے کہا کہ ’روس کی طرح یوکرین مختلف رہنماؤں سے ملاقات سے ڈرتا نہیں ہے۔‘

    کیئو کے دورے کے موقع پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے کہا کہ ٹرمپ کا مقصد ’تعطل توڑنا‘ ہے اور امریکہ اور یورپ کے ساتھ مضبوط سیکورٹی ضمانتوں پر کام کر رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پوتن ’کبھی دوبارہ یوکرین پر حملہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔‘

    مارک روٹے کے ساتھ بات کرتے ہوئے صدر زیلنسکی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یوکرین کی حفاظتی ضمانتیں نیٹو کے آرٹیکل 5 کی عکاسی کریں۔ جو اتحاد کے ایک رکن پر حملے کو نیٹو کے تمام ارکان پر حملہ تصور کرتا ہے۔

  19. ’ٹرمپ کا طرز عمل کبھی بھی غیر مناسب نہیں تھا، ایپسٹین لسٹ کا کوئی وجود نہیں ہے‘

    ایپیسٹین لسٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں جنسی جرائم میں سزا یافتہ جیفری ایپسٹین کی قریبی ساتھی یسلین میکسویل کا کہنا ہے کہ ایپسٹین کی ’کلائنٹ لسٹ‘ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

    امریکہ کے محکمہ انصاف نے رواں سال جولائی میں جیفری ایپسٹین کی قریبی ساتھی یسلین میکسویل کا انٹرویو کیا۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلنچ کو دئیے گئے تفصیلی انٹرویو میں یسلین میکسویل نے کہا کہ وہ ’کسی دھوکہ دہی کے بارے میں آگاہ نہیں ہیں‘ اور انھوں نے صدر ٹرمپ یا سابق صد بل کلنٹن کا کوئی نامناسب طرز عمل نہیں دیکھا۔

    انھوں نے ایپسٹین کے برطانوی شہزادہ انڈریو کے ساتھ مراسم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کم عمر لڑکی کے ساتھ سیکس کرنے کے الزامات اُن کے لیے ’ناقابلِ فہم اور حیران کن‘ ہیں۔

    یاد رہے کہ جنسی جرائم میں جیفری ایپسٹین کی ساتھی مجرم یسلین میکسویل نے صدر ٹرمپ سے معافی کی اپیل کی ہے۔ وہ سیکس ٹریفکنگ کے جرم میں 20 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں جسے انھوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

    میکسویل کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی جانب سے معافی کا ’خیرمقدم‘ کریں گے۔

    صدر ٹرمپ کی جیفری ایپسٹین کے ساتھ دوستی تھی۔ میکسویل کا یہ انٹرویو ایک ایسے وقت پر ہوا تھا جب صدر ٹرمپ پر ایپسٹین کے بارے میں معلومات سامنے لانے کے لیے دباؤ کا سامنے تھا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اُن کے سیاسی حریف انتظامی اُمور سے اُن کی توجہ ہٹانے کے لیے بار بار اس کیس کا ذکر کر رہے۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلنچ جو ماضی میں صدر ٹرمپ کے وکیل رہے ہیں انھوں نے میکسویل کا انٹرویو کیا اور اس انٹرویو کے فورا بعد میکسویل کو فلوریڈا کی ہائی سکیورٹی جیل سے ٹیکساس منتقل کر دیا گیا۔

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ میکسیویل کے کیس میں کوئی نرمی نہیں کی گئی ہے۔

    انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ 300 صفحات پر مبنی ہے۔ میکسویل نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور جیفری اپیسٹین کے دوستانہ مراسم تھے لیکن اُن کے خیال دونوں بہت قریبی دوست نہیں تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے صدر ٹرمپ کو بھی مساج کروانے کے انداز میں نہیں دیکھا۔ صدر کا انداز کبھی کسی کے ساتھ غیر مناسب نہیں تھا۔‘

    انٹرویو کے دوارن میکسویل نے صدر بل کلنٹن، ایلون مسک اور شہزادہ انڈریو سمیت مختلف جانی پہچانی شخصیت کے بارے میں بتایا۔

    جیفری ایپسٹین کی مشہور ’ایپسٹین فائل‘ گذشتہ کئی عرصے سے سازشی نظریات کا مرکز رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایپسٹین کے جرائم میں شریک افراد کو محفوظ بنانے کے لیے’ڈیپ سٹیٹ‘ پوشیدہ رکھا جا رہا ہے

  20. نیاگرا فال جانے والے سیاحوں کی بس کو حادثہ، انڈین مسافر سمیت پانچ افراد ہلاک

    نیویارک ، پولیس، حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہTown of Pembroke, NY

    امریکہ میں ریاست نیویارک کی پولیس کا کہنا ہے کہ سیاحتی گروپ کی ایک بس کو پیش آنے والے حادثے میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ بس میں 52 مسافر سوار تھے اور ہلاک ہونے والے سیاحوں کا تعلق، انڈیا، چین اور فلپائن سے ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ بیفلو شہر کے قریب اُس وقت ہوا جب سیاحتی گروپ امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع سیاحتی مقام نیاگرا فال سے واپس آ رہا تھا کہ بس قابو سے باہر ہو گئی۔

    حادثہ اتنا شدید تھا کہ کچھ افراد بس کی کھڑکی سے باہر آ گرے جبکہ بعض مسافر بس کے اندر پھنس گئے۔

    حادثے کے بعد زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور مقامی اداروں کے امدادی کارکنوں نے خون کے عطئیے کی اپیل کی ہے۔ پولیس نے ہسپتال اور جائے وقوعہ پر مترجم اور گفتگو کے ترجمعہ کرنے والے آلات پہنچائے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات کا پتہ لگایا جا رہا ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ایک عینی شاہد نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ حادثے کے مقام پر بس الٹی پڑی ہوئی تھی اور اشیا سڑک پر بکھری ہوئی تھیں۔