عمران خان کے نظریے پر قائم ہوں، ادارے اپنی اصلاح کر لیں، اسی میں ملک، عوام اور ان کا اپنا فائدہ ہے: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور

اسلام آباد میں جلسے کے بعد پہلی بار صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور منظر عام پر آئے اور انھوں نے بار کونسل ایسوسی ایشنز کی تقریب سے خطاب میں اداروں سے کہا کہ وہ اپنی اصلاح کر لیں اسی میں پاکستان، قوم اور ان کی اپنا فائدہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے افغانستان سے براہ راست خود بات کرنے اور وہاں اس مقصد کے لیے وفد بھیجنے کا بھی اعلان کیا۔

خلاصہ

  • امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس میں ریاست پنسلوینیا میں پہلا صدارتی مباحثہ ہوا جو 90 منٹ تک جاری رہا۔
  • مباحثے میں معیشت، امیگریشن، اسقاط حمل، روس یوکرین جنگ، غزہ جنگ سمیت اہم امور پر دونوں جماعتوں کے امیدواروں نے اپنا مؤقف پیش کیا۔
  • مباحثے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس نے ایک دوسرے پر جھوٹ بولنے کے الزامات عائد کیے اور ایک دوسرے کے بیانات کی تردید کی۔
  • پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ 21 ستمبر کو لاہور کا جلسہ ہر صورت کریں گے۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان کے نظریے پر قائم ہوں، ادارے اپنی اصلاح کر لیں، اسی میں ملک، عوام اور ان کا اپنا فائدہ ہے: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور

    Ali Amin

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    Linkاسلام آباد میں جلسے کے بعد پہلی بار صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور منظر عام پر آئے اور انھوں نے پشاور میں بار کونسلز ایسوسی ایشنز کی تقریب سے خطاب میں اداروں سے کہا کہ وہ عمران خان کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں اور ادارے اپنی اصلاح کر لیں، اسی میں ملک، عوام اور ان کی بہتری ہے۔

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ’میں اپنے لیڈر عمران خان جو غیرقانونی طور پر جیل میں ہیں کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ خان صاحب آپ نے جو نظریہ ہمیں دیا ہے، جو نظریہ آپ نے قوم کو دیا ہے، اس نظریے پر ہم قائم ہیں۔ اس سے ہمیں کوئی ہٹا سکتا ہے اور نہ کوئی جھکا سکتا ہے۔‘

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’میں اداروں سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنی اصلاح کر لو۔ اپنی اصلاح کر لو۔ آپ کی اصلاح میں پاکستان کا فائدہ ہے۔ آپ کی اصلاح میں اس قوم کا فائدہ ہے، آپ کی اصلاح میں آپ کا اپنا فائدہ ہے۔‘

    ’افغانستان سے خود براہ راست بات کروں گا، کابل اپنا صوبائی وفد بھیجوں گا‘

    علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ کوئی شرم، حیا اور لحاظ کچھ بھی نہیں بچا، جتنا ظرف اور جتنا کچھ میں نے دل میں رکھا ہوا ہے حلفیہ کہتا ہوں وہ بانی پی ٹی آئی کوبھی نہیں بتایا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ بانی پی ٹی آئی کے دل میں نفرت پیدا ہو، میں نے اپنی بیوی اور بچوں کو بھی نہیں بتایا تا کہ نفرت پیدا نہ ہو، نفرت پیدا ہونے سے میرے ملک اور قوم کا نقصان ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر آپ یہ کام شروع کررہے ہیں میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور اسلام آباد نہیں جا سکتا تو چیلنج کرتا ہوں کہ آؤ مجھے گرفتار کرو، ’انف از انف‘ بس کرو بہت ہوگیا ہے، غلط پالیسیوں والوں سے کہتا ہوں کہ رحم کردو جن کی پالیسیوں سے نقصان ہو رہا ہے ان کا نام لے کر نشاندہی کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں کہہ رہا ہوں کہ افغانستان کے پاس مجھے وفد بھیجنے دو وہ ہمارے پڑوسی ہیں، پرواہ ہی نہیں ہے میرا خون بہہ رہا ہے میں کب تک برداشت کروں گا؟ میں اعلان کرتا ہوں کہ خود افغانستان سے بات کروں گا اپنی پالیسیاں اپنے گھر میں رکھو، میں بحثیت صوبہ افغانستان سے بات کروں گا، وفد بھیجوں گا، افغانستان کے ساتھ بیٹھ کر بات کروں گا اور مسئلہ حل کروں گا۔

    انھوں نے کہا کہ خون بہہ رہا ہے مگر کسی کو پرواہ نہیں ہے۔ علی امین نے کہا کہ ’میں بحثیت صوبہ بات کروں گا۔ وفد بھیجوں گا۔ میں نے لوگوں کی زندگیاں بچانی ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ اچھا لگے یا برا ’میں جوابدہ ہوں اس عوام کو جس نے میری پارٹی کو ووٹ دیا ہے۔‘

    ’آپ جواب نہیں دیں گے تو میں بولوں گا اور پوچھوں گا، میں آواز اونچی کروں گا اور نکلوں گا‘

    علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ’میں پاکستان کا شہری اور آزاد انسان ہوں، آپ کو مجھے جواب دینا پڑے گا، آپ جواب نہیں دیں گے تو میں بولوں گا اور پوچھوں گا، میں آواز اونچی کروں گا اور نکلوں گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کسی سے انتقام نہیں لیا اور نہ ہی صوبائی اداروں کو ذاتی انتقام کے لیے استعمال کیا، ہم نفرتیں نہیں پیدا کرنا چاہتے کیونکہ اس کا نقصان ملک کو ہوتا ہے، اپنے حق، انصاف اور حقیقی آزادی کے لیے بات کرنا ترک نہیں کریں گے، آئین ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم اپنے حقوق کا دفاع کریں، اللہ کا جن پر زیادہ کرم ہوتا ہے ان پر زیادہ ذمہ داری ہوتی ہے۔

    علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ جابرحکمران کے خلاف آواز بلند کرنا جہاد ہے، اگر میں یہ بات کروں تو پھر کہا جاتا ہے کہ میں لوگوں کو اکسا رہا ہوں، آج بھی صوبے کے اندر چلینجز ہیں، ان لوگوں کے غلط اقدامات کی وجہ سے مجھے چیلجنز کا سامنا ہے، پولیس اور پختون کلچر کو کس نے تباہ کیا، بہترین پولیس سے حکمرانوں نے ایسے کام کرائے جو وہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔

    ’نہ چاپلوس ہوں نہ کسی کا چمچہ اور نہ کسی کا غلام ہوں ‘

    علی امین نے کہا کہ ’نہ چاپلوس ہوں نہ کسی کا چمچہ اور نہ کسی کا غلام ہوں۔‘انھوں نے کہا کہ صحافی ہمارے بھائی ہیں، میری کردار کشی پر کچھ بھی بولے تو خیر ہے، جب میں کہتا ہوں کہ کچھ لوگ آئین کی بالادستی، کرپشن پر بات نہیں کرتے پھر میرے پیچھے شروع ہوجاتے ہیں، اگر میں نشاندہی نہیں کروں گا تو اصلاح کیسے ہو گی، اگر آپ میری نشاندہی نہیں کریں گے تو میری اصلاح کیسے ہوگی۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ نیب احتساب کے لیے نہیں انتقام کے لیے بنی ہے، چھ ماہ سے ایک وزیراعلیٰ کہہ رہا ہے مجھ پر ایک گھنٹے میں سات اضلاع میں ایف آئی آرہوئیں جہاں ایف آئی آر ہوئیں میں وہاں موجود نہیں تھا لیکن کسی کے کان تک جوں نہیں رینگتی پھر جب میں للکاروں تو میری بات پسند نہیں آتی، میں تمارے باپ کا نوکر ہوں، میں تمھارا مزارع ہوں؟

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں پاکستان کا شہری اور آزاد انسان ہوں، آپ کو مجھے جواب دینا پڑے گا، آپ جواب نہیں دیں گے تو میں بولوں گا اور پوچھوں گا، میں آواز اونچی کروں گا اور نکلوں گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ جس سپرٹنڈنٹ جیل نے گرفتار شخص کو رات کو کسی کے حوالے کیا تو جواب دینا ہوگا، سپرٹنڈنٹ کو نام لینا پڑے گا اور طوطے کی طرح اگلواؤں گا اور نام لینا پڑے گا، اگرتمھارا سافٹ ویئروہاں سے اپ ڈیٹ ہوسکتا ہے تو تمھارا سافٹ ویئریہاں بھی اپ ڈیٹ ہو سکتا ہے۔

  2. وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے ڈیم فنڈ کے 20 ارب روپے دینے کی درخواست کر دی

    بھاشا ڈیم

    ،تصویر کا ذریعہHASSAN ABBAS

    پاکستان کی حکومت نے سپریم کورٹ میں دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے بنائے گئے فنڈ کیس کی سماعت کے دوران عدالتِ عظمیٰ سے ڈیم فنڈ میں موجود بیس ارب روپے کی رقم مانگنے کے لیے متفرق درخواست دائر کردی ہے۔

    بدھ کے روز چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ نے دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم فنڈ کیس کی سماعت کی۔

    دورانِ سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے ایک متفرق درخواست دائر کی ہے کہ ڈیم فنڈ کے پیسے وفاق اور واپڈا کو دیے جائیں۔ یہ اکاؤنٹ سپریم کورٹ کی نگرانی میں اسٹیٹ بنک نے کھولا تھا۔

    چیف جسٹس کے استفسار پر کہ ڈیم فنڈ میں کتنے پیسے موجود ہیں واپڈا کے وکیل سعد رسول نے بتایا کہ تقریباً 20 ارب روپے ڈیم فنڈ میں موجود ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ یہ کیس شروع کیسے ہوا؟ وکیل واپڈا نے جواب دیا کہ 2018 میں سپریم کورٹ نے واپڈا کے زیر سماعت مقدمات کے دوران ازخود نوٹس لیا تھا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کے ڈیم فنڈ عمل درآمد بینچ نے اس پر 17 سماعتیں کیں۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ واپڈا کے اور بھی کئی منصوبے ہوں گے، کیا سپریم کورٹ واپڈا کے ہر منصوبے کی نگرانی کرتی ہے؟ جس پر واپڈا کے وکیل نے بتایا کہ ڈیمز کی تعمیر کے معاملے پر پرائیویٹ فریقین کے درمیان بھی تنازعات تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے ان فریقین کے تنازعات متعلقہ عدالتوں کے بجائے اپنے پاس سماعت کے لیے مقرر کیے تھے۔

    سعد رسول کا کہنا تھا کہ ہماری استدعا ہے کہ پرائیویٹ فریقین کے تنازعات متعلقہ عدالتی فورمز پر ہی چلائے جانے چاہئیں۔

    عدالت نے کیس کا متعلقہ ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ جولائی 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ملک بھر میں پانی کی قلت پر از خود نوٹس لیتے ہوئے مختلف ڈیمز کی تعمیر کے لیے ڈیم فنڈز کے قیام کا اعلان کیا، اس ضمن میں انہوں نے چیف جسٹس اور پرائم منسٹر ڈیم فنڈ کے نام سے ایک بینک اکاؤنٹ بھی بنایا تھا، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے پاکستانیوں نے عطیات جمع کرائے تھے۔

    انھوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد ڈیمز کی اپنی نگرانی میں تعمیر کی خواہش کا بھی اظہار کیا تھا.

  3. باجوڑ میں پولیو ٹیم پر حملہ: ایک پولیو ورکر اور ایک پولیس اہلکار ہلاک

    پولیو ورکر فائل فوٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے علاقے باجوڑ میں بدھ کے روز پولیو ٹیم پر حملے میں ایک پولیو ورکر اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ہلاک ہونے والوں کی شناخت ابوہریرہ اور لقمان کے نام سے ہوئی ہے۔ ابو ہریرہ بطور پولیو ورکر ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے جبکہ پولیس اہلکار لقمان پولیو ٹیم کی حفاظت کی ڈیوٹی پر مامور تھے۔ دونوں افراد کی لاشیں ہسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے پولیو ٹیم پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے والوں پر بزدلانہ حملہ کرنے والے درندے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کے بچوں کے محفوظ مستقبل پر حملہ ہے۔

    رواں ہفتے سوموار کے روز خیبرپختونخوا کے 27 اضلاع میں چار روزہ انسدادِ پولیو مہم شروع کی گئی تھی۔ صوبے کے پولیو ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق انسدادِ پولیو مہم دو مرحلوں میں چلائی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں 27 مخصوص اضلاع میں مجموعی طور پر 57 لاکھ سے زائد پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ دوسرے مرحلے میں 672,000 سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔

    رواں سال پاکستان میں اب تک ملک بھر سے 17 پولیو کے کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں سے 12 کیسز بلوچستان، تین سندھ اور ایک ایک پنجاب اور وفاقی دارالحکومت سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

  4. زرتاج گل، عمر ایوب، اسد قیصر اور فیصل امین کی 10 اکتوبر تک راہداری ضمانت منظور

    زرتاج گل، گوہر علی خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں زرتاج گل، عمر ایوب، اسد قیصر اور فیصل امین کی 10 اکتوبر تک کی راہداری ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں متعلقہ عدالتوں پیش ہونے کی ہدایت کر دی ہے۔

    بدھ کے روز سماعت کے دوران زرتاج گل کے وکیل کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے جلسے کے بعد درج کیے گئے مقدمے میں نامزد ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کی مؤکلہ کے خلاف خلاف پنجاب میں اور بھی مقدمات درج ہیں۔

    زرتاج گل کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت حکم جاری کرے کہ ان کی مؤکلہ کو گرفتار نہ کیا جائے۔

    سماعت کے دوران جسٹس شکیل احمد کا کہنا تھا کہ پہلی بار دیکھ رہا ہوں کہ ریاست ضمانت کی درخواست کی مخالفت نہیں کررہی ہے۔

    اس پر خیبر پختونخوا کے ایڈوکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ ہم اسلیے مخالفت نہیں کررہے ہیں کیونکہ ہم انصاف کے ساتھ ہیں۔

    عدالت نے تمام درخواست گزاروں کی 10 اکتوبر تک راہداری ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونے کی ہدایت کردی۔

    خیال رہے کہ اتوار کے اسلام آباد میں ہونے والے پی ٹی آئی کے جلسے کے بعد متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف این او سی کی خلاف ورزی، پولیس پر پتھراؤ اور روٹ کی خلاف ورزی پر کیسز درج ہوئے ہیں۔

    منگل کے روز اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان تحریکِ انصاف کے اراکین قومی اسمبلی شیر افضل مروت، عامر ڈوگر، زین قریشی، نسیم شاہ، احمد چٹھہ اور دیگر کو 8 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا جبکہ پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو بھی حراست میں لیا گیا تھا تاہم بعد ازان اسلام آباد پولیس نے انھیں مقدمے سے ڈسچارج کرتے ہوئے رہا کردیا تھا۔

  5. آئین کی بالادستی کے بغیر نہ یہ پارلیمان چل سکتا ہے نہ کوئی اور ادارہ: بلاول بھٹو

    بلاول بھٹو

    ،تصویر کا ذریعہPTV Parliamet/YouTube

    پاکستان پیپز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ آئین کی بالادستی کے بغیر نہ پارلیمان چل سکتی ہے نہ کوئی اور ادارہ۔

    قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’ہم اس ملک کے منتخب نمائندے ہیں، پارلیمان اس ملک کا سپریم ادارہ ہے، اور جس آئین کی وجہ سے یہ ادارہ اور سارا ملک چلتا ہے، اس آئین کی بالادستی کے بغیر نہ یہ ادارہ چل سکے گا نہ کوئی اور ادارہ چل سکے گا۔‘

    حالیہ دنوں میں اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اگر حکومت کا کام صرف یہ ہے کہ آج ہمیں کس کو بند کرنا ہے، تو اس سے خوش نہ ہوں کیونکہ کل میں اور آپ بھی اسی جیل میں ہوں گے۔‘

    حزبِ اختلاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا کام صرف تنقید کرنا اور گالی دینا نہیں بلکہ حکومت کا احتساب اور خامیوں کی نشاندہی کرنا اور مسائل کا حل پیش کرنا ہے۔

    پاکستان تحریکِ انصاف کی نشستوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا وہ جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے کارکن اس بات پر یقیناً جذباتی ہیں کہ ان کی جماعت کے لیڈران جیل میں ہیں۔

    ’لیکن اگر وزیرِ اعلیٰ کی ذمہ داری یہ ہے کہ جلسے میں کھڑے ہو کر میڈیا اور اپنے مخالفین کو گالیاں دیں، اپنی حکومت کو استعمال کرکے ججوں کے خلاف انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں انتقامی کارروائی کریں تو پھر وہ اپنے صوبے کے مسائل حل نہیں کر رہے بلکہ اپنی سیاست چمکا رہے ہیں۔‘

  6. پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    امریکی ارضیاتی ادارے (یو ایس جی ایس) کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 5.4 جبکہ گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز جنوبی پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان کے قریب تھا۔

    نقشہ

    ،تصویر کا ذریعہUSGS

  7. پارلیمنٹ سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری کا معاملہ: سپیکر نے سارجنٹ ایٹ آرمز کو معطل کر دیا

    سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پارلیمنٹ سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد سارجنٹ ایٹ آرمز اور دیگر چار سکیورٹی اہلکاروں کو چار ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے۔

    گزشتہ روز سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمنٹ ہاؤس سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری کا نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمان کی بے توقیری قبول نہیں، گرفتار ارکان پارلیمان کو فوری رہا کیا جائے۔

    یاد رہے کہ سوموار کی رات پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو اسلام آباد پولیس نے مبینہ طور پر پارلیمنٹ کے احاطے سے گرفتار کیا تھا۔

    اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو اتوار کو اسلام آباد کے علاقے سنگجانی میں کیے جانے والے جلسے کو وقت پر ختم نہ کرنے، پولیس پر پتھراؤ کرنے اور طے شدہ روٹ کی خلاف ورزی کرنے پر منتظمین کے خلاف درج تین مقدمات کے تحت گرفتار کیا تھا۔

    پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور ایم این اے شیر افضل مروت کی گرفتاری کے بعد اسلام آباد پولیس نے پارلیمنٹ کے کابینہ ڈویژن والے عقبی دروازے سے تحریک انصاف کے رہنما شیخ وقاص اکرم اور زین قریشی کو گرفتار کیا جبکہ عامر ڈوگر، اویس، احمد چٹھہ، شاہ احد، نسیم علی شاہ اور یوسف خان کو بھی حراست میں لیا جبکہ پی ٹی آئی کے وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی زبیر خان کو بھی پارلیمنٹ کے باہر سے گرفتار کیا گیا۔

    واضح رہے کہ قانون اور ضابطے کے مطابق پاکستان کی پارلیمنٹ کے احاطے سے کسی بھی رکن کو سپیکر قومی اسمبلی کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔

  8. کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پہلا صدارتی مباحثہ کس نے جیتا؟, انتھونی زرچر، بی بی سی نامہ نگار

    امریکہ کے پہلے صدارتی مباحثے میں جب ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس سٹیج پر آئے تو دونوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ تو ملایا لیکن پھر بھی ان میں کوئی گرمجوشی نہیں تھی۔

    90 منٹ کے اس مباحثے میں کملا ہیرس نے سابق صدر کو ذاتی حملوں سے جھنجھوڑ ڈالا، جس سے صدارتی مباحثے کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوا۔

    کملا ہیرس کی جانب سے کیپیٹل ہل پر حملے کے دوران ٹرمپ کے ردعمل، ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدران اور ان کی انتخابی ریلیوں کے سائز پر تنقید نے انھیں سابق صدر پر برتری دلا دی۔

    بحث کے دوران دیکھا گیا کہ کملا ہیرس نے اپنے حریف ڈونلڈ ٹرمپ پر ان کے ماضی کے اقدامات اور بیانات کی بنیاد پر شدید تنقید کی، جس کے جواب میں ٹرمپ نے کبھی اپنی آواز اونچی کی تو کبھی سر ہلایا۔

    منگل کی رات کو ہونے والے اس مباحثے کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ کملا ہیرس کے حق میں نظر آیا۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے ایک پول کے مطابق کملا ہیرس نے اس مباحثے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جبکہ امریکی سٹہ بازوں کی مارکیٹ نے بھی کملا کی پرفارمنس کو بہتر قرار دیا۔

  9. صدارتی مباحثے کا اختتام: دونوں امیدواروں کے نمائندوں کے ’مباحثے میں فتح‘ کے دعوے

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہBernd Debusmann Jr / BBC

    امریکہ میں نومبر 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے امیدواروں کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین ہونے والے گرما گرم صدارتی مباحثے کا اختتام ہو گیا ہے۔ اس مباحثے کے دوران دونوں امیدواروں نے ایک دوسرے پر جھوٹ بولنے جیسے الزامات عائد کیے اور ایک دوسرے کے معیشت، امیگریشن، اسقاط حمل، روس یوکرین جنگ، غزہ جنگ سمیت اہم امور پر دیے گئے بیانات کی تردید کی۔

    صدارتی مباحثے کے اختتام کے فوراً بعد دونوں امیدواروں کے سپورٹرز اور انتخابی مہم چلانے والوں نے اپنے اپنے امیدوار کو ’مباحثے کا فاتح‘ قرار دیا۔

    کملا ہیرس کی انتخابی مہم کی انچارج جین اومیلے نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کی باتوں میں کوئی ربط نہیں تھا۔ وہ ناراض تھے اور جھنجھلاہٹ کا شکار تھے۔‘ اپنے بیان میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ نے 6 جنوری 2021 کو کیپیٹل ہل پر ہونے والے حملے اور تشدد پر کسی افسوس کا اظہار نہیں کیا، انھوں نے ’ان گنت جھوٹ‘ بولے اور ’امریکی شہریوں کو درپیش روزمرہ مسائل کی بابت کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا۔‘

    دوسری جانب ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سابق صدر نے ’مباحثے میں شاندار کارکردگی دکھائی۔‘ انتخابی مہم کے نمائندوں کرس لا سیویٹا اور سوسی وائلز نے کہا کہ ٹرمپ نے ’امریکہ کے حوالے سے ایک جراتمندانہ وژن‘ پیش کیا اور یہ کہ وہ اسی طرح اپنی کامیابیوں کے سفر کو جاری رکھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’کملا ہیرس موجودہ صدر جو بائیڈن کی جابرانہ حکومتی پالیسیوں کی تاریک یاد دلا رہی تھیں، وہی پالیسیاں جنھیں کملا جاری رکھنا چاہتی ہیں۔‘

  10. ٹرمپ کا الزام : اگر ہیرس جیت گئیں تو اگلے دو سال میں ’اسرائیل کا وجود نہیں رہے گا‘

    اب غزہ اسرائیل جنگ پر بحث ہو رہی ہے۔

    میزبان نے کملا ہیرس سے پوچھا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ سے کیسے نمٹیں گی اور مذاکرات میں تعطل کو کیسے ختم کر سکتی ہیں۔

    کملا نے اس کے جواب میں اپنی پرانے بیانات دہرائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو دفاع کا حق حاصل ہے، لیکن یہ جنگ ختم ہونی چاہیے اور اسے فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔

    کملا نے جنگ بندی کے مطالبے کے ساتھ دو ریاستی حل اور غزہ کی تعمیر نو کی بات کی ہے۔

    ٹرمپ سے پوچھا گیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ کیسے ختم کریں گے اور حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے شہریوں کو واپس کیسے لائیں گے۔

    انھوں نے اپنے جواب کا آغاز یہ دعویٰ کرتے ہوئے کیا ہے اگر وہ صدر ہوتے تو یہ تنازعہ کبھی شروع ہی نہیں ہوتا۔

    ٹرمپ نے ہیرس پر الزام لگایا ہے کہ ’وہ اسرائیل سے نفرت کرتی ہیں۔ اگر وہ صدر بن گئیں تو مجھے یقین ہے کہ اب سے دو سالوں میں اسرائیل کا وجود نہیں رہے گا۔‘

    انھوں نے مزید الزام عائد کیا کہ وہ ’عربوں سے بھی نفرت کرتی ہیں۔

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ میں غزہ اسرائیل مسئلے سے تیزی سے نمٹوں گا۔

    کملا کا دعویٰ: فوجی رہنماؤں نے ٹرمپ کو ’قابلِ تحقیر‘ شخص قرار دیا تھا

    ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ جب وہ دوبارہ منتخب ہوں گے تو روس اور یوکرین جنگ بھی ختم ہو جائے گی۔

    ہیرس نے اسرائیل کی حمایت کرنے کا عزم دہرایا ہے اور ٹرمپ کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ حقیقت سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    وہ ٹرمپ پر الزام عائد کرتی ہیں کہ ’سب کو معلوم ہے کہ ٹرمپ کو ڈکٹیٹر پسند ہیں اور وہ روزِ اول سے ہی ایک ڈکٹیٹر بننا چاہتے ہیں۔‘

    اس کے چند لمحوں بعد ہیرس نے دعویٰ کیا کہ فوجی رہنماؤں نے ٹرمپ کو ’قابلِ تحقیر‘ شخص قرار دیا تھا۔

  11. بریکنگ, پوتن ایک ڈکٹیٹر ہیں جو ٹرمپ کو لنچ میں کھا جائیں گے: کملا ہیرس

    صدارتی مباحثے کے دوران ٹرمپ بار بار موجودہ صدر جو بائیڈن پر تنقید کرتے نظر آئے جس پر کملا ہیرس نے انھیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے مدمقابل بائیڈن نہیں بلکہ میں ہوں۔‘

    روس اور یوکرین جنگ پر بات کرتے ہوئے کملا ہیرس نے کہا کہ یوکرین کے صدر کے ساتھ ان کا قریبی تعلق ہے۔

    ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کملا ہیرس نے کہا کہ ’ہمارے نیٹو اتحادی انتہائی شکر گزار ہیں کہ اب آپ صدر نہیں رہے۔ ورنہ پوتن اس وقت یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں بیٹھے ہوتے اور ان کی نظریں باقی یورپ پر ہوتی۔‘

    کملا ہیرس نے مزید کہا کہ ’پوتن ایک ڈکٹیٹر ہیں جو آپ کو لنچ میں کھا جائیں گے۔‘

    ٹرمپ نے جواب میں کملا ہیرس کو تاریخ کی ’بدترین نائب صدر‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ وہ حملے سے پہلے یوکرین اور روس کے درمیان مذاکرات کے ذریعے جنگ روکنے میں ناکام رہیں۔‘

  12. کملا ہیرس: ’ٹرمپ نے تین ایسے ججز کو مقرر کیا جنھوں نے اسقاط حمل کے حق کو ختم کر دیا‘

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    معیشت اور امیگریشن کے بعد ٹرمپ سے اسقاط حمل کے بارے میں اپنا مؤقف پیش کرنے کی درخواست کی گئی۔

    ٹرمپ نے اپنی بات کا آغاز اس دعوے کے ساتھ کیا کہ ڈیموکریٹس حمل کے نویں مہینے میں اسقاط حمل کی اجازت دینا چاہتے ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے اس معاملے کو ریاستوں کے دائرہ کار میں لانے اور اس بارے میں انھیں خود فیصلہ کرنے میں مدد کی۔

    اپنے جواب میں کملا ہیرس نے کہا کہ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے ایسے تین ججز کو مقرر کیا جنھوں نے دو سال قبل اسقاط حمل کے حق کو ختم کر دیا تھا۔

    انتہائی جذباتی آواز میں کملا نے کہا کہ ’آپ کہتے ہیں کہ لوگ یہ چاہتے ہیں۔ پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں میں خواتین کا خون بہہ رہا ہے کیونکہ وہ اسقاط حمل نہیں کروا سکتیں۔ لوگ یہ نہیں چاہتے ہیں۔‘

  13. ٹرمپ کا بے بنیاد دعویٰ: تارکین وطن امریکی شہریوں کے پالتو جانور کھا رہے ہیں

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان پہلا مباحثہ جاری ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بے بنیاد دعویٰ کیا ہے کہ تارکین وطن سپرنگ فیلڈ، اوہائیو میں شہریوں کے پالتو جانور کھا رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا ’وہ کتوں کو کھا رہے ہیں۔ وہ وہاں رہنے والے لوگوں کے پالتو جانور کھا رہے ہیں۔‘

    ڈیوڈ موئیر نے بتایا کہ سپرنگ فیلڈ کے سٹی مینیجر کے مطابق اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

    ٹرمپ نے کہا ’میں نے ٹی وی لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ ’وہ میرے کتے کو لے گئے اور اسے کھا لیا۔‘

    اس موقع پر کملا ہیرس نے اپنی بات یہ کہتے شروع کی کہ ’اسے کہتے ہیں انتہا۔‘

    سپرنگ فیلڈ کے عہدیداروں نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ کے دعوے کے حوالے سے کوئی مصدقہ رپورٹس نہیں ہیں کہ واقعی ایسا ہوا ہے۔

    تارکینِ وطن کے جرائم سے متعلق ڈونڈ ٹرمپ کے دعوؤں کے جواب میں کملا ہیرس، ٹرمپ کا مجرمانہ پسِ منظر بتا رہی ہیں۔

    ہیرس کا کہنا ہے کہ ’ایسا شخص جس پر قومی سلامتی، اقتصادی اور انتخابی مداخلت جیسے جرائم کے لیے مقدمات چلائے گئے ہوں ہو اس کی جانب سے دوسروں پر الزام مضحکہ خیز ہے۔

    اس کے جواب میں ٹرمپ نے وہی دعوے ایک بار پھر سے دہرائے ہیں جو وہ ماضی میں اپنے مقدمات کے حوالے سے کہتے آئے ہیں۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’یہ جعلی مقدمات ہیں۔‘

  14. کملا ہیرس: ’ٹرمپ ارب پتی افراد اور کمپنیوں کو ٹیکس پر رعایت دینا چاہتے ہیں‘

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صدارتی مباحثے میں پہلا سوال معیشت کے حوالے سے کیا گیا۔ ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس نے امریکی میعشت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’مواقعوں کی معیشت‘ (وہ آپشنز جو مالی خودمختاری حاصل کرنے کے لیے کوئی بھی شخص اختیار کرتا ہے) کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔

    کملا ہیرس نے مزید کہا کہ وہہ امریکی خاندانوں کے لیے ہاؤسنگ کے مسائل پر کام کریں گی۔ انھوں نے کہا کہ ’میں چھوٹے کاروباروں کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔‘

    کملا ہیرس نے اپنے حریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹرمپ وہ کرنا چاہتے ہیں، جو انھوں نے پہلے کیا اور وہ ارب پتی افراد اور کمپنیوں کو ٹیکس پر رعایت دینا چاہتے ہیں۔‘

    کملا ہیرس کے جواب میں ٹرمپ نے دوسرے ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’آخر کار وہ ہمیں واپس کر رہے ہیں، جو ہم نے دنیا کے لیے کیا۔‘

    ٹرمپ نے خاص طور پر چین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ٹیرف کی مد میں چین سے ’اربوں‘ لیا، جو ان کے عہدے چھوڑنے کے بعد بھی برقرار ہے۔

  15. بریکنگ, امریکہ کا صدارتی الیکشن: ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس پہلے مباحثے میں آمنے سامنے

    امریکہ میں صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان پہلے مباحثے کا آغاز ہو گیا ہے، جو 90 منٹ تک جاری رہے گا۔

    ریاست پنسلوینیا میں مباحثے کا اہتمام امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز نے کیا۔ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار کملا ہیرس نے سٹیج پر ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملایا۔

    اس مباحثے میں دونوں صدارتی امیدوار معیشت، امیگریشن، اسقاط حمل، روس یوکرین جنگ، غزہ جنگ سمیت دیگر اہم امور پر مؤقف پیش کریں گے۔

  16. ’فوج کو سیاست میں مداخلت سے روکا جائے‘، خیبر پختونخوا اسمبلی میں قرارداد کثرتِ رائے سے منظور

    خیبر پختونخوا اسمبلی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی قانون ساز اسمبلی نے کثرتِ رائے سے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں آئین سے تفویض کردہ دائرہ کار سے تجاوز کرنے والے فوجی افسران کے خلاف کارروائی اور فوج کو سیاست میں مداخلت کرنے سے روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    منگل کے روز صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں پشاور سے منتخب رکنِ صوبائی اسمبلی شیرعلی آفریدی نے یہ قرارداد پیش گئی کی تو سپیکر نے اس پر رائے شماری کرواتے ہوئے اراکینِ اسمبلی سے اس کی حمایت میں ہاتھ اٹھانے کا کہا۔

    ووٹنگ کے بعد سپیکر نے اعلان کیا کہ ایوان متفقہ طور پر اس قراداد کو منظور کرتی ہے جس پر حزبِ اختلاف سے احتجاج سامنے آیا کہ ہم نے اس کے حق میں ووٹ نہیں دیا ہے۔

    بعد ازاں سپیکر نے اعلان کیا کہ قرارداد کو کثرتِ رائے سے منظور کیا گیا ہے۔

    منظور کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا ہے، ’یہ ایوان ، اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر اپنے فرائض آئین اور قانون کے مطابق سر انجام دے۔‘

    قراداد میں کہا گیا ہے کہ پچھلے دو سالوں میں ملک کے اندر فوج کے کچھ افسران کی مداخلت ان کے اپنے حلف سے انحراف ہے جو کہ آئین کے مطابق غداری کے زمرے میں آتا ہے۔

    شیر علی آفریدی کی قرارداد میں فوج سے مطالبہ کیا گیا ہے ایسے افسران کا فوجی قوانین کے مطابق کورٹ مارشل کیا جائے اور انھیں سخت سے سخت سزا دی جائے۔ قرارداد میں مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان افسران کو غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر انسانی اقدامات سے باز رکھا جائے۔

    قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ’یہ ایوان فوج کی لازوال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ لیکن چند افسران کے ذاتی مفادات اور ضد و انا نے اس ملک کی جمہوریت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور یہ نقصان جاری ہے۔‘

    قراداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سیاست میں مداخلت کرنے والے فوجی افسران کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے۔ ’فوج کو سیاست میں مداخلت سے باز رکھا جائے تاکہ ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے۔‘

    مزید براں قرارداد میں پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت اور کارکنان کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر گرفتار پی ٹی آئی لیڈرشپ کو جلد از جلد رہا کیا جائے ورنہ حالات کے ذمہ دار فوج کے یہ چند افسران ہوں گے۔

    قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی پر شرمناک حملے کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے۔

  17. پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان مقدمے سے ڈسچارج: ’10 ستمبر پاکستان کی جمہوریت کا ایک سیاہ دن مانا جائے گا‘

    بیرسٹر گوہر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد پولیس نے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو مقدمے سے ڈسچارج کرتے ہوئے انھیں رہا کردیا ہے۔

    رہائی کے بعد بیرسٹر گوہر انسداد دہشت گردی کی عدالت پہنچ گئے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ 10 ستمبر کا دن پاکستان کی جمہوریت کا سیاہ دن مانا جائے گا۔

    ’10 ستمبر کا سانحہ پاکستان نہیں بھولے گا، پی ٹی آئی نہیں بھولے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ کل نقاب پوش افراد ایوان میں داخل ہوئے اور ہمارے دس ایم این ایز کو گرفتار کر لیا۔

    پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ وہ خود ایوان سے باہر آئے تھے۔ ’میں نے گرفتاری دینی تھی، ہم نے مزاحمت کبھی نہ کی ہے نہ کرتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں موجود تھے جب انھیں پتا چلا کہ باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ انھیں اور شیر افضل مروت کو اسمبلی کے دروازے کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا جبکہ شعیب شاہین کو ان کے دفتر سے حراست میں لیا گیا۔

    ’اس کے بعد ہمارے دس ایم این ایز کو پارلیمان کی حدود سے نقاب پوشوں نے گرفتار کیا۔ ہم سمجھتے ہیں یہ ایوان پر حملہ ہے۔‘

    انھوں نے کہا، ’میں نے اسمبلی کے فلور پر بھی کہا تھا کہ جبری گمشدگیاں نہیں ہوں، صرف ظلم کی خاطر ایف آئی آر اور کیسز نہ ہوں، کریمنل پروسیجر بدنیتی پر مبنی انتقام لینے کے استعمال نہ ہو۔‘

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا، ’میں یہ سوال کرنا چاہوں گا، سات بجے اگر پروگرام بند کرنا ہے، کیا یہ شادی ہال میں پروگرام ہے کہ آپ لائٹ بند کرو، کیا یہ میریٹ ہوٹل میں کوئی کنونشن ہے، جو آپ بند کر لو، کونسی دنیا کا قانون کہتا ہے سات کے بجائے ساڑھے آٹھ بجے آپ اگر پروگرام چلاؤ تو آپ کے خلاف پرچے ہوں گے؟‘

    پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کو آٹھ روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیے جانے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کو ہائیکوٹ میں چیلنج کریں گے۔

    ان کہنا تھا کہ یہ ایسے کیسز نہیں کہ جس میں آپ دہشتگردی دفعات لگائیں اور لوگوں کو بند کریں۔

    پی ٹی آئی چیئرمین نے الزام لگایا کہ ان کے ایم این ایز کو توڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

    صحافی کے سوال پر کہ عمران خان نے کہا ہے کہ جنھوں نے وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا کے بیان پر معافی مانگی انھیں پارٹی میں نہیں ہونا چاہیئے، بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا، ’ہم نے کوئی معافی نہیں مانگی، انھوں جو بیان دیا ہے، وہ بالکل ٹھیک ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک صحافیوں سے متعلق ادا کیے گئے الفاظ کا تعلق ہے، ان سے اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو اس پر ہم معذرت خواہ ہیں۔

    پارلیمنٹ پر حملہ شرمناک ہے، بظاہر یہ سپیکر کی مرضی سے ہوا: سلمان اکرم راجہ کا الزام

    پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ کل پیش آنے والا واقعہ انتہائی شرمناک واقعہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا، ’بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ سپیکر کی مرضی سے، سپیکر کے اُدھر دیکھنے کے سبب پارلیمان پر حملہ ہوا، پارلیمان کے تقدس کو پامال کیا گیا۔‘

    پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ہم بالکل یہ کہتے ہیں آرمی کی تنصیبات باعثِ عزت ہیں، ان پر حملہ نہیں ہونا چاہیئے، لیکن کیا پارلیمان باعثِ عزت نہیں ہے؟

  18. پی ٹی آئی ایم این ایز شیر افضل مروت، عامر ڈوگر اور دیگر آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    پی ٹی آئی جلسہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    منگل کے روز اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان تحریکِ انصاف کے اراکین قومی اسمبلی شیر افضل مروت، عامر ڈوگر، زین قریشی، نسیم شاہ، احمد چٹھہ و دیگر کو 8 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔

    اس سے قبل انسدادِ دہشتگردی کی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا جبکہ اسلام آباد پولیس نے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو مقدمے سے ڈسچارج کرتے ہوئے انھیں رہا کردیا ہے۔

    خیال رہے کہ اتوار کے روز ہونے والے پی ٹی آئی کے جلسے کے دوران این او سی کی خلاف ورزی، پولیس پر پتھراؤ اور روٹ کی خلاف ورزی پر اب تک چھ مقدمے درج کیے جا چکے ہیں جن میں متعدد پی ٹی آئی رہنما نامزد ہیں۔

    پیر کے روز پارلینمٹ ہاؤس کے باہر سے تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور ایم این اے شیر افضل مروت کی گرفتاری کے بعد اسلام آباد پولیس نے پارلیمنٹ کے کابینہ ڈویژن والے عقبی گیٹ سے تحریک انصاف کے رہنما شیخ وقاص اکرم اور زین قریشی کو بھی گرفتار کر کے تھانہ سیکرٹریٹ منتقل کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ شعیب شاہین، ملک عامر ڈوگر، اویس جھاکھڑ، احمد چٹھہ، شاہ احد، نسیم علی شاہ، لطیف چترالی اور یوسف خٹک کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا۔

  19. پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

    منگل کے روز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک عدالت نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے گرفتار رہنما شعیب شاہین کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

    انسدادِ دہشتگردی کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے شعیب شاہین کے جسمانی ریمانڈ پر محفوظ فیصلہ سنایا۔

    خیال رہے کہ اتوار کے روز ہونے والے پی ٹی آئی کے جلسے میں این او سی کی خلاف ورزی، پولیس پر پتھراؤ اور روٹ کی خلاف ورزی پر شعیب شاہین سمیت متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف اب تک چھ مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔

    پیر کے روز پارلینمٹ ہاؤس کے باہر سے تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور ایم این اے شیر افضل مروت کی گرفتاری کے بعد اسلام آباد پولیس نے پارلیمنٹ کے کابینہ ڈویژن والے عقبی گیٹ سے تحریک انصاف کے رہنما شیخ وقاص اکرم اور زین قریشی کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔ ان کے علاوہ شعیب شاہین، ملک عامر ڈوگر، اویس جھاکھڑ، احمد چٹھہ، شاہ احد، نسیم علی شاہ، لطیف چترالی اور یوسف خٹک بھی گرفتار ہیں۔

    اس سے قبل جب پی ٹی آئی رہنما کو عدالت میں پیش کیا گیا تو اس موقع پر کمرہ عدالت میں بانی پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی کی گئی۔

    دورانِ سماعت پولیس نے عدالت سے شعیب شاہین کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جب کہ پی ٹی آئی رہنما کے وکلا کی جانب سے انھیں ڈسچارج کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

    کمرہ عدالت میں گفتگو کرتے ہوئے شعیب شاہین نے دعویٰ کیا کہ انھیں تھانہ سی آئی اے میں رکھا گیا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی چیئر مین بیرسٹر گوہر علی خان کو بھی ان کے ساتھ رکھا گیا تھا۔

    دوسری جانب شعیب شاہین کو حبس بے جا میں رکھنے کے خلاف ان کے بیٹے حسن شعیب کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔

    شعیب شاہین کے بھائی عمیر بلوچ درخواست گزار کے وکیل کے طور پر عدالت میں پیش ہوئے۔

    سماعت کے دوران آئی جی پولیس اسلام آباد علی ناصر رضوی بھی مختصر عدالتی نوٹس پر عدالت میں پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا، ’جی آئی جی صاحب، کدھر ہیں شعیب صاحب؟‘

    آئی جی اسلام آباد نے جواب دیا کہ شعیب شاہین اس وقت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہیں۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اگر آپ نے ان کی باضابطہ گرفتاری کی ہے تو وکلا کو ان تک رسائی کیوں نہیں دی؟ ان کا کہنا تھا کہ وکلا انھیں کئی تھانوں میں انہیں تلاش کرتے رہے مگر وہ نہیں ملے۔

    اس پر آئی جی ناصر رضوی کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کی خود تفتیش کریں گے کہ شعیب شاہین کو کس ٹیم نے گرفتار کیا تھا۔

    جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ شعیب شاہین کی گرفتاری کے دستاویزات میں لکھا ہے کہ اسلام آباد کے پولیس اسٹیشن نون کی جانب سے انھیں گرفتار کرنے کے بعد سی آئی اے حوالات میں بند کیا گیا۔ کاغذات میں یہ بھی لکھا ہے کہ گرفتار ملزم کو مجاز عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ آیا گرفتاری کے بعد شعیب شاہین کی تحویل سی آئی اے کو دی گئی تھی؟

    آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ شعیب شاہین کو انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں پیش کر کے ان کا جسمانی ریمانڈ مانگا گیا ہے اور سماعت ابھی چل رہی ہے۔

    چیف جسٹس کے سوال پر کہ کیا پارلیمنٹ کے اندر سے بھی گرفتاریاں کی گئی ہیں، آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے گیٹ سے گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

  20. پاکستان میں وی پی اینز کو بلاک نہیں کیا جا رہا: پی ٹی اے

    انٹرنیٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ملک میں ورچوئل پرائیوٹ نیٹورک (وی پی اینز) کی بندش کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں وی پی اینز کو بلاک نہیں کیا جا رہا ہے۔

    پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ تمام آئی ٹی کمپنیوں، سافٹ ویئر ہاؤسز، فری لانسرز اور بینکوں وغیرہ کی اس ضمن میں درخواست کی جاتی ہے کہ وی پی این استعمال کرنے کے لیے وہ اپنے اپنے آئی پی ایڈریس کو رجسٹر کروائیں تاکہ کسی بھی خلل کی صورت میں ان اداروں کی انٹرنیٹ خدمات متاثر نہ ہوں۔

    خیال رہے کہ مقامی میڈیا کے مطابق گذشتہ ماہ پی ٹی اے چیئرمین میجر جنرل (ریٹائرڈ) حفیظ الرحمن نے قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کو بتایا تھا کہ ان کا ادارہ ملک میں وی پی اینز کے استعمال کو ریگیولیٹ کرنے کی پالیسی پر کام کر رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت کچھ پراکسی نیٹ ورکس کو وائٹ لسٹ کرکے باقی تمام وی پی اینز کو بلاک کر دیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پالیسی کے نفاذ کے بعد پاکستان میں صرف وائٹ لسٹ شدہ وی ​​پی این کام کریں گے اور باقی کو بلاک کر دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں گذشتہ چند ہفتوں سے صارفین سست انٹرنیٹ کی شکایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔

    حکومت کبھی اس کی وجہ عوام کے بے جا وی پی این کے استعمال، کبھی ویب مینجمنٹ سسٹم کی اپ گریڈیشن اور کبھی سب میرین کیبلز میں فالٹ کو قرار دیتی آئی ہے۔

    حال ہی میں پی ٹی اے نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ملک میں انٹرنیٹ کی مکمل بحالی اکتوبر کے اوائل تک ممکن نہیں ہو پائے گی۔

    پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی سست روی کی بنیادی وجہ سات سب میرین کیبلز میں سے دو میں خرابی ہے جن میں سب میرین کیبل اے اے ای-1 اور ایس ایم ڈبلیو 4 کیبل شامل ہیں۔

    پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 4 سب میرین کیبل میں خرابی اکتوبر کے اوائل تک ٹھیک ہونے کا امکان ہے۔ ’سب میرین کیبل اے اے ای-1 کی مرمت کر دی گئی ہے، اور اس سے انٹرنیٹ کی صورتحال مزید بہتر ہو گی۔‘