ایک جعلی سینیٹر اور ایک ادارے کے ڈی جی میں فرق ہونا چاہیے: سہیل آفریدی کا پشاور جلسے سے خطاب

اتوار کو پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس پر اپنا مؤقف دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ایک ادارے کا ڈی جی آ کر پریس کانفرنس کرتا ہے اور میرے بارے میں غلط الفاظ استعمال کرتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اگر 21 سال میں آپ کی پالیسی کامیاب نہیں ہو رہی ہے تو قصور آپ کا ہے، آپ اپنی پالیسی بدلیں۔‘

خلاصہ

  • ایک جعلی سینیٹر اور ایک ادارے کے ڈی جی میں فرق ہونا چاہیے: سہیل آفریدی کا پشاور جلسے سے خطاب
  • انڈین وزیر خارجہ کا پاکستانی فوج سے متعلق بیان غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز ہے: پاکستان
  • پاکستانی فوج کا قلات میں آپریشن، 12 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
  • انڈونیشیا کے صدر 8 اور 9 دسمبر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے: ترجمان دفتر خارجہ
  • ایران اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں خطرہ ہے: امریکی وزیرِ دفاع
  • انڈیا کی ریاست گوا کے مشہور نائٹ کلب میں آتشزدگی، 25 افراد ہلاک
  • انڈونیشیا میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی، سینکڑوں تاحال لاپتہ

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    آٹھ دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. فوج کو برا کہنے والوں کو شرم آنی چاہیے: وفاقی وزیر اطلاعات کی خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید

    Attaullah Tarar

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے لاہور میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ملک بھر میں تعمیر و ترقی کا جال بچھایا ہے اور عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستانی فوج دشمن کے لیے خوف کی علامت ہے اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ملک کا دفاع مضبوط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس فوج نے بڑے دشمن کو شکست دی ہو، اسے برا کہنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔

    عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 12 برسوں میں وہاں کوئی بڑا تعلیمی یا صحت کا منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ انھوں نے پنجاب میں کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ، فارنزک لیب اور سیف سٹی منصوبے کو مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی کی مثال قرار دیا۔

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملکی معیشت کو ڈیفالٹ سے بچایا گیا اور اب زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور مہنگائی میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت عوامی سہولتوں کے منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔

  3. ’غیر منتخب عسکری ترجمان نے منتخب قیادت کے لیے غیر مہذب زبان استعمال کی‘: پشاور جلسے میں تحریک انصاف کی قرارداد

    Peshawar

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریک انصاف کے پشاور کے جلسے میں ایک قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں جمعے کے روز ایک عسکری ترجمان کی پریس کانفرنس پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا نام لیے بغیر قرارداد میں کہا گیا کہ غیر منتخب عسکری ترجمان کی طرف سے منتخب قیادت کے لیے غیرمہذب زبان استعمال کی گئی جو سول بالادستی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ قرارداد میں اس منطق کو بھی مسترد کیا گیا ہے جس کے تحت سیاسی اختلاف رکھنے والوں کو ’قومی سلامتی کا خطرہ‘ قرار دیا گیا۔

    اس قرارداد میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو ’قومی ہیرو‘ اور ’پاکستان کے منتخب حقیقی وزیرِ اعظم‘ قرار دیا گیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ عوام نے 8 فروری 2024 کے انتخابات میں عمران خان کو ووٹ دے کر منتخب کیا تھا اور یہ تصور یکسر مسترد کیا جاتا ہے کہ وہ یا ان کے ساتھی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

    قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عمران خان، بشریٰ بی بی اور دیگر سیاسی قیدیوں کو فوری انصاف فراہم کر کے رہا کیا جائے اور ان کی اہلِ خانہ، وکلا اور ساتھیوں سے ملاقات پر کوئی پابندی نہ لگائی جائے۔

    اس قرارداد میں سیاسی جدوجہد کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جان دینے والے فوجی اہلکاروں کو بھی سلام پیش کیا گیا ہے۔

    قرارداد میں گورنر راج کے کسی بھی تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے رکاوٹوں اور مبینہ دھاندلی کے باوجود تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیا ہے۔ اس لیے گورنر راج کے نتیجے میں بننے والی کوئی بھی حکومت عوام کی نظر میں غیر قانونی اور غیر آئینی ہوگی۔

    قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے امن جرگہ میں منظور کی گئی متفقہ قرارداد پر عمل کیا جائے اور پی ٹی ایم کے وفد کو بازیاب کرایا جائے۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں لیکن اب تک انھیں ان کے حقوق نہیں ملے۔ قرارداد میں نئے این ایف سی ایوارڈ میں ان حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات اور تجارت کو بحال کیا جائے اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔

    پشاور کے نو حلقوں میں انتخابی نتائج میں مبینہ دھاندلی کا ذکر کرتے ہوئے قرارداد میں الیکشن کمیشن سے فوری انصاف اور صوبائی حکومت سے غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    آخر میں قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جمہوریت اور آزادیِ اظہار کو بحال کیا جائے، عدلیہ کو آزاد کیا جائے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے تاکہ ملک بحران سے نکل کر متحد ہو سکے۔

  4. ایک جعلی سینیٹر اور ایک ادارے کے ڈی جی میں فرق ہونا چاہیے: سہیل آفریدی کا پشاور جلسے سے خطاب

    Jalsa

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    اتوار کو پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس کا جواب دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایک ادارے کا ڈی جی آ کر پریس کانفرنس کرتا ہے اور میرے بارے میں غلط الفاظ استعمال کرتا ہے، میں غیور پختون قبائلی ہوں، میری تربیت ایسی نہیں ہے کہ میں گالیاں دوں۔‘

    تاہم وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’ایک ادارے کے ڈی جی اور ایک جعلی سینیٹر میں فرق ہونا چاہیے۔ ایک پارٹی کے دو جعلی وزرا اور ایک ادارے کے ڈی جی میں فرق ہونا چاہیے۔ نہ آپ ایک جعلی سینیٹر ہیں اور نہ آپ کسی پارٹی کے ترجمان ہیں۔‘

    جمعے کو پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی پریس کانفرس میں ان کے منھ سے کچھ سخت الفاظ سنائی دیے جن میں ’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘، ’ذہنی مریض‘، ’خود پسند‘ اور ’اپنی ذات کا قیدی‘۔۔۔ شامل ہیں۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل نے اس شخص کا نام نہیں لیا جس کے لیے وہ یہ الفاظ استعمال کر رہے تھے لیکن پاکستانی سیاست پر نظر رکھنے والے ہر شخص کو یہ معلوم ہو گا کہ ان کی ڈیڑھ گھنٹہ طویل پریس کانفرنس کا مرکز اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان ہی تھے۔

    خود عمران خان گذشتہ کئی برسوں سے پاکستانی فوج کے سربراہ (اور اب چیف آف ڈیفینس فورسز) فیلڈ مارشل عاصم منیر پر سخت الزامات لگا رہے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے جلسہ عام سے خطاب میں کہا کہ ’میرے بڑوں نے مجھے ملک اور اس کے اداروں سے محبت سکھائی ہے۔‘

    اپنے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ ’کہا جاتا ہے کہ خیبر پختونخوا سکیورٹی معاملات پر سنجیدہ نہیں ہے، سنجیدہ تو آپ نہیں ہیں، 21 برس سے آپریشن پر آپریشن، ڈرون پر ڈرون، 21 سال سے میرے پختون کا خون بہہ رہا ہے، 21 سال سے میرا پختون پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہا ہے۔‘

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’اگر 21 سال میں آپ کی پالیسی کامیاب نہیں ہو رہی ہے تو قصور آپ کا ہے، آپ اپنی پالیسی بدلیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم تنقید برائے تنقید نہیں کرتے بلکہ حل بھی بتاتے ہیں۔‘

    وزیر اعلیٰ نے موجودہ سکیورٹی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ہر آنے والا بندہ ایک نئی پالیسی بناتا ہے اور ایک نیا تجربہ کرتا ہے۔ یہ غیور عوام کا صوبہ خیبر پختونخوا ہے، کوئی لیبارٹری نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اب ایک پالیسی بنے گی، یہ صوبے کے عوام بنائیں گے اور وہی پالیسی چلے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہماری ان باتوں سے تکلیف پہنچتی ہے، ان کو تکلیف ہوتی ہے تو ہم تکلیف پہنچائیں گے۔ جو پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگا، یہ ہمیں کوئی ڈکٹیٹ نہیں کرے گا، فیصلہ عوام کریں گے۔‘

    Peshawar Jalsa

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’ہم پر کیا تنقید کر رہے ہو، ہماری تربیت یہ ہے کہ ملک کی خاطر اگر جان و مال قربان کرنا پڑے تو دریغ نہیں کرنا۔ اسی لیے ہم نے 80 ہزار سے زیادہ جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ اس پاکستان کو خوشحال دیکھنے کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘

    پشاور کے جلسے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خطاب سے قبل قومی ترانہ بجایا گیا۔ سہیل آفریدی نے اپنے خطاب کا آغاز پشتو کے ایک شعر سے کیا، جس پر جلسے میں نعرے بازی شروع ہو گئی۔

    انھوں نے اپنے خطاب میں پشاور کے لیے سو ارب روپے کے پیکج کا بھی اعلان کیا۔

    اس کے بعد سہیل آفریدی نے کہا کہ ’یہ کہا جاتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورننس نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورننس ہے تو عوام تیسری مرتبہ عمران خان کو ووٹ دے رہے ہیں۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ’گورننس تو ان کی نہیں ہے جنھیں اب آئی ایم ایف نے چارج شیٹ کیا ہے کہ اشرافیہ نے عوام کے ٹیکسز میں سے پانچ ہزار تین سو ارب روپے کی کرپشن کی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کچھ سیاسی نابالغ ہمیں کہتے ہیں کہ آپ صرف عمران خان کی بات کر رہے ہیں۔‘ اس کے بعد وزیر اعلیٰ نے عمران خان کے حق میں نعرے لگوائے اور کہا کہ ’جہاں تک میری ذات کی بات ہے تو مجھ پر جو الزامات لگے وہ آپ نے سنے۔ مجھے کبھی ایک نام سے پکارا گیا، کبھی دوسرے نام سے۔ میں علامہ محمد اقبال کا شاہین ہوں۔ کچھ کوے اگر مجھے چونچ ماریں گے تو میں نے پرواز اونچی کرنی ہے، میں نے کوے سے نہیں لڑنا، یہ سیاسی کوے ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں اپنی حد تک تو کچھ نہیں کہتا مگر جب بات عمران خان کی آئے گی تو پھر جواب دیا جائے گا۔‘

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’عمران خان خیبر پختونخوا میں بھی ہے، پنجاب میں بھی ہے، سندھ میں بھی ہے، بلوچستان میں بھی ہے، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی ہے اور عمران خان بیرونِ ملک بھی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جہاں باہر جا کر آپ جن کے بوٹ پالش کرتے ہیں وہ عمران خان کو جھک کر سیلوٹ کرتے ہیں۔‘

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’ان لوگوں کو مشورہ دینے والا کچھ سمجھتا بھی ہے یا نہیں، وہ جو مشورہ دیتا ہے سب اس کے الٹ ہو جاتا ہے۔ عوام ان سے اور منحرف ہو جاتے ہیں۔ یہ مجمع اس بات کی گواہی ہے کہ عوام عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ’آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور آئین کی بحالی کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔‘

  5. ڈی جی آئی ایس پی آر کی باتیں سچی اور کھری تھیں، پی ٹی آئی سے جلسے کے لیے بندے پورے نہیں ہو رہے: وزیر اطلاعات

    وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے تحریک انصاف کے پشاور میں جلسے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اب یہ نوبت آ گئی ہے کہ جلسہ اتوار بازار کے گراؤنڈ میں کرنا پڑا اور بندے پھر بھی پورے نہیں ہوئے۔‘

    انھوں ایک سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جلسہ گاہ کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’فوج کے خلاف بیانیہ بنانے کے چکر میں اپنا سیاسی کباڑا کر لیا ہے۔‘

    پشاور میں پی ٹی آئی کا یہ جلسہ اس وقت جاری ہے جہاں پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ پاکستان کے رہنما اس سے خطاب کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بھی اس جلسے سے خطاب کریں گے۔

    بظاہر وزیر اطلاعات نے جلسہ گاہ کی جو تصویر شیئر کی ہے وہ اس جلسے کے شروع ہونے سے پہلی کی ہے۔ سرکاری ٹی وی اور پاکستان کے مقامی ٹی وی چینلز پر اس جلسے کی کوریج نہیں کی جا رہی ہے۔

    حکومتی ترجمان نے یہ کہا کہ ’ڈی جی آئی ایس پی آر کی باتیں سچی اور کھری تھیں، اس کی شدید تکلیف جلسے کچھ لوگوں کی باتوں سے نظر آ رہی ہے، نہ دلیل ہے نہ کوئی جواب۔‘

  6. بینن میں فوجیوں کا سرکاری ٹی وی چینل پر اعلان: ’ہم نے اقتدار سنبھال لیا ہے‘

    BTV

    ،تصویر کا ذریعہBTV

    مغربی افریقی ملک بینن میں فوجی اہلکاروں نے سرکاری ٹی وی پر اعلان کیا ہے کہ انھوں نے صدر پیٹریس طالن کو معزول کر کے اقتدار سنبھال لیا ہے۔ فوجی اہلکاروں کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل تیگری پاسکل فوجی عبوری کونسل کی قیادت کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر طالن کی حکومتی کارکردگی کے باعث یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

    فرانسیسی سفارتخانے کے مطابق دارالحکومت کوٹونو میں صدر کی رہائش گاہ کے قریب فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں۔ فوجی اہلکاروں نے آئین معطل کرنے، زمینی سرحدیں اور فضائی حدود بند کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

    تاہم صدر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ خیریت سے ہیں اور ٹی وی سٹیشن پر قابض فوجی گروہ کو باقاعدہ فوج کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

    وزیرِ خارجہ شیگن اجادی باکاری نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’صورتحال قابو میں ہے، فوج کا بڑا حصہ حکومت کے ساتھ ہے اور ہم حالات پر قابو پا رہے ہیں۔‘

    فرانسیسی خبر رساں ادارے ای ایف پی کے مطابق صدارتی دفتر کے ایک اہلکار نے کہا کہ ’یہ ایک چھوٹا گروہ ہے جو صرف ٹیلی ویژن پر قابض ہے، شہر اور ملک مکمل طور پر محفوظ ہیں۔‘ بین کے صدر خود اس وقت کہاں موجود ہی اس بارے میں ابھی تفصیلات معلوم نہیں ہو سکی ہیں۔

    کوٹونو کی کئی سڑکوں پر فوجی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات ہے اور راستے بند ہیں۔ بینن کو افریقہ کی نسبتاً مستحکم جمہوریت سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور کپاس کے بڑے پیداواری ملکوں میں اس کا شمار کیا جاتا ہے۔

    فرانس اور روس کے سفارتخانوں نے اپنے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے جبکہ امریکی سفارتخانے نے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور شہریوں کو صدارتی کمپاؤنڈ کے قریب جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    ’کنگ آف کاٹن‘

    صدر طالن

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    67 برس کے صدر طالن، جنھیں ’کنگ آف کاٹن‘ کہا جاتا ہے سنہ 2016 کے انتخابات میں اقتدار میں آئے تھے۔ وہ اگلے سال اپنی دوسری مدت مکمل کرنے کے بعد عہدہ چھوڑنے والے ہیں اور انھوں نے تیسری مدت کے لیے انتخاب نہ لڑنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ انھوں نے وزیرِ خزانہ روموالڈ واداگنی کو اپنا جانشین نامزد کیا ہے۔

    صدر طالن کو معاشی ترقی کے اقدامات پر سراہا گیا ہے لیکن ان کی حکومت پر اختلافی آوازوں کو دبانے کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے۔ حالیہ انتخابات میں الیکشن کمیشن نے مرکزی اپوزیشن امیدوار کو سپانسرز کی کمی کے باعث نااہل قرار دیا تھا۔

    یہ مبینہ فوجی بغاوت اس وقت سامنے آئی ہے جب ایک ہفتہ قبل ہی پڑوسی ملک گنی بساؤ میں صدر عمرو سسکو ایمبالو کو معزول کیا گیا تھا۔ حالیہ برسوں میں مغربی افریقہ کے کئی ممالک بشمول برکینا فاسو، گنی، مالی اور نائجر میں فوجی بغاوتیں ہو چکی ہیں، جس سے خطے کی سلامتی کے مزید بگڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    بینن میں حالیہ برسوں میں شدت پسند سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے اور داعش و القاعدہ سے منسلک گروہ جنوبی علاقوں تک پھیل چکے ہیں۔

  7. پشاور کے فٹبال گراؤنڈ میں پی ٹی آئی کے جلسے کی تیاریاں مکمل، وزیر اعلی سہیل آفریدی خطاب کریں گے, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    Jalsa

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پشاور کے فٹبال گراؤنڈ میں تحریک انصاف کے جلسے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق مختلف اضلاع سے کارکنوں کی آمد جاری ہے اور کارکنان میں جوش و خروش ہے۔

    اس جلسے سے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے قائدین خطاب کریں گے۔

    Jalsa

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    ڈپٹی انفارمیشن سیکریٹری خیبرپختونخوا اکرام کھٹانہ نے کہا ہے کہ کارکنان آج بڑی تعداد میں شریک ہو کر نئی تاریخ رقم کریں گے۔

    پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک نے اس جلسہ گاہ میں اپنے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انھوں نے گورنر راج لگایا تو پھر سب سے پہلے گورنر ہاؤس جائیں گے اور پھر نہ گورنر رہیں گے اور نہ راج رہے گا۔

    Jalsa

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    اکرام کھٹانہ کے مطابق خیبرپختونخوا کی عوام عمران خان کے وژن پر یقین رکھتی ہے اور کارکن اپنی قیادت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’آج کے جلسے میں پارٹی آئندہ کا واضح لائحہ عمل پیش کرے گی۔‘

  8. انڈین وزیر خارجہ کا پاکستانی فوج سے متعلق بیان غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز ہے: پاکستان

    India

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے انڈین وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستانی فوج سے متعلق حالیہ بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس اشتعال انگیز، بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ بیان کو سختی سے مسترد کرتا ہے ہے۔

    واضح رہے کہ انڈین وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے سنیچر کے روز ایک کانفرنس کے سے گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے متعلق سوال پر کہا کہ جو کچھ ابھی ہو رہا ہے وہ پاکستان کی 80 برس کی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں کسی نہ کسی طرح فوج ہی حکمران ہوتی ہے کبھی کھل کر وہ سامنے آتے ہیں تو کبھی پیچھے رہ کر وہ یہ سب کرتے ہیں۔

    انڈین وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ انڈیا کو درپیش بیشتر مسائل پاکستان کی فوج کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی، تربیتی کیمپ اور انڈیا کے خلاف نظریاتی دشمنی سب فوج سے جڑی ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال اور دونوں ممالک کی صلاحیتوں اور ساکھ میں فرق واضح ہے۔ جے شنکر کا کہنا تھا کہ انڈیا کو پاکستان کے ساتھ غیر ضروری طور پر خود کو جوڑنے یا اس پر حد سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور اس کے تمام ادارے، بشمول مسلح افواج، قومی سلامتی کے ستون ہیں جو ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ ’مئی 2025 کے تنازع نے پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور مادرِ وطن کے دفاع کے عزم کو واضح طور پر ثابت کیا۔ کسی بھی قسم کی پروپیگنڈا مہم اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انڈین قیادت کی جانب سے پاکستان کے اداروں اور قیادت کو بدنام کرنے کی کوششیں ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد خطے میں انڈیا کے غیر مستحکم اقدامات اور پاکستان میں ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی سے توجہ ہٹانا ہے۔

    ان کے مطابق ’اس قسم کی اشتعال انگیز بیان بازی انڈیا کی امن اور استحکام کے لیے عدم سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔‘

    ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کی افواج پر بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے انڈیا کو ہندوتوا نظریے کی تحقیقات کرنی چاہییں، جس نے ماورائے عدالت انصاف، ہجوم کے ہاتھوں قتل، بلاجواز گرفتاریوں اور عبادت گاہوں کی مسماری کو جنم دیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’انڈین ریاست اور قیادت مذہب کے نام پر اس انتہا پسندی کی یرغمال بن چکی ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان بقائے باہمی، مکالمے اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، تاہم اپنے مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے متحد اور پرعزم ہے۔‘

  9. انڈونیشیا کے صدر 8 اور 9 دسمبر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے: ترجمان دفتر خارجہ

    انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو 8 اور 9 دسمبر کو اسلام آباد کا سرکاری دورہ کریں گے۔

    پاکستان کے سرکاری میڈیا اے پی پی کے مطابق، انڈونیشیا کے صدر کے ہمراہ اہم وزرا اور سینیئر حکام کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ہو گا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے اتوار کے روز جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ صدر پرابووو سوبیانتو کا پاکستان کا پہلا دورہ ہو گا۔

    اس سے قبل 2018 میں انڈونیشیا کے اس وقت کے صدر جوکو ویدودو نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

    صدر پرابووو سوبیانتو کا دورہ اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ اس سال پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

    اپنے قیام کے دوران صدر پرابووو سوبیانتو وزیرِاعظم شہباز شریف کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کریں گے۔

    اس کے علاوہ وہ چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ملاقات کریں گے۔

    دورے کے دوران دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، صحت، آئی ٹی، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور علاقائی و عالمی سطح پر شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر جامع تبادلۂ خیال کریں گے۔

    اس موقع پر متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جانے کا بھی امکان ہے۔

  10. سکیورٹی فورسز کا قلات میں آپریشن، 12 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    پاکستان آرمی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ بلوچستان میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے جانے والے ایک آپریشن میں 12 شدت پسند مارے گئے ہیں۔

    فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چھ دسمبر کو سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلات میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک آپریشن کیا۔

    بیان کے مطابق، آپریشن کے دوران، سکیورٹی فورسز نے مؤثر طریقے سے شدت پسندوں کے ٹھکانے کا پتہ لگایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں 12 عسکریت پسند مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق، مارے جانے والے افراد ’علاقے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے‘ اور ان کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔

  11. انڈونیشیا میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی، سینکڑوں تاحال لاپتہ

    انڈونیشیا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈونیشیا میں حالیہ سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

    گذشتہ ہفتے انے والے طوفان کے باعث ہونے والی طوفانی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اب تک ایک لاکھ سے زائد گھر تباہ ہو چکے ہیں۔

    اب تک کچھ علاقوں میں لوگوں تک پہنچنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جبکہ کچھ مقامات پر فضا سے امداد پھینکی جا رہی ہے۔

    انڈونیشیا میں آنے والے سیلاب حالیہ ہفتوں میں ایشیا میں پیش آنے والے کئی شدید موسمی واقعات میں سے ایک ہے۔ سری لنکا، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور ویتنام میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

    انڈونیشیا کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک آچے تمیانگ میں زندہ بچ جانے والوں نے بتایا کہ سیلاب دیہاتوں کو مکمل طور پر بہا لے گیا۔

    لنٹانگ باوا گاؤں میں زندہ بچ جانے والے ایک شخص نے بی بی سی انڈونیشین سروس کو بتایا کہ لوگوں کو اپنی جانیں بچانے کے لیے اپنے گھروں کے چھتوں پر پناہ لینی پڑی۔

  12. انڈیا کی ریاست گوا کے مشہور نائٹ کلب میں آتشزدگی، ہلاکتوں کی تعداد 25 ہو گئی: ’وہ مناظر بہت ہولناک تھے‘

    گوا

    انڈیا کی ریاست گوا کے ایک مشہور نائٹ کلب میں آتشزدگی کے نتیجے میں مرنے والوں کی 25 ہو گئی ہے۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ مرنے والوں میں سے اکثریت گوا کے علاقے ارپورا میں واقع کلب کے عملے ارکان کی ہے جبکہ مرنے والوں میں سیاح بھی شامل ہیں۔

    گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت نے صحافیوں کو بتایا کہ تین افراد کی موت جھلسنے کے باعث ہوئی جبکہ دیگر دم گھٹنے سے مرے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں ’تین سے چار‘ سیاح شامل ہیں جن کی عمر اور قومیت کا ابھی تک علم نہیں ہے۔

    ایک عینی شاہد نے بتایا کہ یہ معمول کے کسی بھی سنیچر کی طرح تھا اور چھٹیاں منانے آئے لوگ لطف اندوز ہو رہے تھے۔

    ان کا کہنا ہے، ’میں کلب کے باہر تھا جب میں نے چیخیں سنی، میں شروع میں سمجھ نہیں پایا کہ کیا ہو رہا ہے۔

    ’کچھ دیر میں ہی واضح ہو گیا کہ بڑے پیمانے پر آگ بھڑک لگی ہوئی ہے۔ کوئی بھی کچھ نہیں کر سکا۔ وہ مناظر بہت ہولناک تھے۔‘

    امدادی کارکنوں نے ہلاک شدگان کی لاشوں کو پنجی کے گوا میڈیکل کالج منتقل کر دیا ہے۔

    جائے وقوعہ پر موجود فائر فائٹرز میں سے ایک نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اب بھی متاثرین کی شناخت کر رہے ہیں اور جیسے ہی شناخت ہوتی ہے تو ان کے اہل خانہ کو مطلع کر دیا جائے گا۔

  13. ایران اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں خطرہ ہے: امریکی وزیرِ دفاع

    پیٹ ہیگستھ

    ،تصویر کا ذریعہThe Washington Post via Getty Images

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ جون میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے باوجود ایران مشرق وسطیٰ میں اب بھی ایک خطرہ ہے۔

    انھوں نے واشنگٹن میں دفاعی صنعت سے وابستہ افراد بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کے ساتھ، دنیا نے کئی دہائیوں کی ہچکچاہٹ کے بعد، ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے میں امریکی فوجی طاقت کا فیصلہ کن اثر دیکھا۔‘

    یاد رہے کہ رواں سال 22 جون کوامریکہ نے فردو، نطنز اور اصفہان میں واقع تین ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ امریکی وزیر دفاع نے اس حملے کو ’وائنبرگر ڈاکٹرائن‘ کا بہترین عملی نمونہ قرار دیا۔ ے نفاذ کی بہترین مثال قرار دیا۔

    ’مرکوز، بھرپور طاقت کا استعمال جو امریکہ کو ایک طویل جنگ میں شامل ہوئے بغیر ہمارے قومی مفادات کو آگے بڑھاتا ہے۔‘

    امریکی وزیرِ دفاع جس ڈاکٹرائن کا تذکرہ کر رہے تھے وہ امریکی دفاعی اور فوجی پالیسی کے تزویراتی اصولوں کا ایک مجموعہ ہے جو 1984 میں رونالڈ ریگن انتظامیہ میں اس وقت کے امریکی وزیر دفاع کیسپر وینبرگر نے پیش کیے تھے۔ یہ اصول ویتنام جنگ میں امریکہ کے تلخ تجربات اور لبنان میں مداخلت کے بعد وضع کیے گئے تھے، اور ان کا مقصد امریکہ کو عوامی حمایت کے بغیر طویل، مبہم جنگوں میں داخل ہونے سے روکنا تھا۔

    امریکہ اپنے طور طریقے تبدیل کرے تو ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے: عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے ایران ’امریکی حکومت کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام اور ترقی کے حوالے سے بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

    تاہم جاپان کے کیوڈو نیوز نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے ایرانی وزیر کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ امریکی نقطہ نظر کا ہے۔

    عراقچی کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ دونوں فریقوں کے لیے متوازن اور سود مند معاہدے تک پہنچنے کے لیے اپنا نقطہ نظر بدل لے تو اسے ایران بھی تیار ملے گا۔

    ساتھ ہی انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کے ساتھ ایران کے ماضی کے تجربات بھی مثبت نہیں رہے ہیں۔

  14. ایران میں خواتین کی میراتھن میں بغیر حجاب کے شرکت، ریس کے دو منتظمین گرفتار

    ایران حجاب

    ،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock

    ایرانی عدلیہ کا کہنا ہے کہ حجاب نہ پہننے والی خواتین کو میراتھن میں شرکت کی اجازت دینے پر ریس کے دو منتظمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    حکام کی جانب سے یہ فیصلہ جمعہ کے روز منعقد ہونے والی ریس میں بغیر حجاب کے حصہ لینے والی خواتین تصاویر آن لائن سامنے آنے کے بعد لیا گیا ہے۔

    ایران کے جنوبی ساحل کے نزدیک واقع جزیرہ کیش پر ہونے والی میراتھن میں دو ہزار خواتین اور تین ہزار مردوں نے الگ الگ حصہ لیا تھا۔

    ریس کے دوران سرخ ٹی شرٹس میں ملبوس کچھ خواتین نے حجاب یا سر نہیں ڈھانپا ہوا تھا۔

    ایران میں تبدیلی کے بہت سے حامیوں نے ان تصاویر کو سراہا جو اسے ایرانی خواتین کی جانب سے ایران میں حجاب سے متعلق عائد پابندیوں کو مسترد کرنے کے مترادف دیکھتے ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی حکام اسے ناقابلِ قبول عمل کے طور پر دیکھتے ہیں اور عدلیہ منتظمین کے خلاف تیزی سے حرکت میں آئی ہے۔

  15. انڈیا کی ریاست گوا کے مشہور نائٹ کلب میں آتشزدگی، 23 افراد ہلاک

    گوا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے ساحلی علاقے گوا کے ایک مشہور نائٹ کلب میں آگ لگنے سے کم از کم 23 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ مرنے والوں میں سے اکثریت گوا کے علاقے ارپورا میں واقع کلب کے عملے ارکان کی ہے جبکہ مرنے والوں میں سیاح بھی شامل ہیں۔

    پولیس کا ماننا ہے کہ سنیچر کے روز آدھی رات کو کلب کے کچن میں گیس کا سلنڈر پھٹا جس سے آگ لگی جو پورے کلب میں پھیل گئی۔

    انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں گوا کے کلب میں ہونے والی آتشزدگی کو ’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیا ہے۔

    گوا کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس آلوک کمار کا کہنا ہے کہ آگ بنیادی طور پر نچلی منزل پر باورچی خانے کے آس پاس مرکوز تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر مرنے والوں کی لاشیں کچن کے نزدیک سے ملی ہیں اور اس ہی وجہ سے یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ کلب کے ملازمین تھے۔

    انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق آگ باگا میں ’برچ بائی رومیو لین‘ نامی کلب میں لگی۔ یہ کلب گوا کے سب سے مشہور ساحلوں میں سے ایک پر واقع ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق اتوار کی صبح تک ریسکیو کا عمل جاری تھا۔

    گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت نے صحافیوں کو بتایا کہ تین افراد کی موت جھلسنے کے باعث ہوئی جبکہ دیگر دم گھٹنے سے مرے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں ’تین سے چار‘ سیاح شامل ہیں جن کی عمر اور قومیت کا ابھی تک علم نہیں ہے۔

    وزیِراعلیٰ کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی وجہ کی باضابطہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔

  16. پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں کے بعد چمن کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں چمن کے سرحدی علاقے میں گذشتہ شب پاکستان اور افغانستان کی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے شہر اور علاقے کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ رات دونوں جانب سے ایک دوسرے پر شدید فائرنگ کے بعد چمن کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور صوبائی حکومت کوئٹہ سے بھی فوری طور ڈاکٹرز سٹاف اور ایمرجنسی ادویات پہنچائی گئیں۔

    اس دوران ڈی سی چمن، ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال اور تمام سٹاف ضلعی انتظامی ڈی پی او چمن عبداللہ چیمہ پولیس اور سکیورٹی اداروں نے حالات کو دیکھتے ہوئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے۔

    ڈی سی چمن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہسپتالوں میں تمام عملے کو ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا کہا گیا ہے اور ایمرجنسی سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں اور شہر کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

    تاہم اس وقت دونوں اطراف سے گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ بند ہے۔

  17. ڈیرہ بگٹی میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، پانچ شدت پسند ہلاک

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستانی فوج کی شعبے تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پانچ دسمبر کو سکیورٹی فورسز نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک خفیہ آپریشن کیا۔

    بیان میں اس آپریشن کے حوالے سے مزید کہا گیا ہے کہ ’آپریشن کے دوران فورسز نے شدت پسندوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد پانچ شدت پسند مارے گئے۔‘

    آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’اس کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ تاہم یہ عناصر علاقے میں متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’علاقے سے شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز اور پاکستان کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں نیشنل ایکشن پلان کی فیڈرل ایپکس کمیٹی کی منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی مہم بھرپور انداز میں جاری رکھیں گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور امداد یافتہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔‘

  18. پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپ، چمن میں تین افراد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو/کوئٹہ

    بلوچستان میں چمن کے سرحدی علاقے میں گذشتہ شب پاکستان اور افغانستان کی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں چمن سے تعلق رکھنے والے شہری محمد یونس اچکزئی کے خاندان کے تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    بی بی سی اردو سے فون پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کی وجہ سے سرحد پر واقع دیہات کے لوگ بڑی تعداد میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ رات کو ہی بند ہو گیا تھا لیکن غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے لوگ خوف اور پریشانی میں مبتلا ہیں۔

    ’گھر کے صحن میں گولہ گرنے سے تین افراد زخمی‘

    محمد یونس کا گھر سرحد پر واقع گلدار باغیچہ نامی دیہات میں ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ جب سرحد پر دونوں ممالک کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع ہوا تو ایک گولہ ان کے گھر میں آ کر گرا جس سے ان کے بھائی، بھابی اور ان کی بچی زخمی ہوئی۔

    چمن شہر افغان سرحد کے قریب واقع ہے۔ اس کے کئی دیہات ایسے ہیں جو کہ سرحد سے متصل ہیں اور سرحد کے دونوں جانب آبادی ہے۔

    محمد یونس نے بتایا کہ فائرنگ اور گولہ باری کے ساتھ ہی گلدار باغیچہ سمیت سرحد پر واقع دیگر علاقوں میں لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سرحد پر یا اس کے ساتھ دیہات کے لوگوں کی بڑی تعداد جھڑپوں کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہوئی جن میں ان کا اپنا خاندان بھی شامل تھا۔

    انھوں نے کہا کہ خاندان کے افراد نے رات کو اپنے ایک رشتہ دار کے گھر قیام کیا اور وہ واپس اپنے گھر جانا چاہتے ہیں لیکن ابھی تک پریشانی کی وجہ سے واپس نہیں جاسکے۔

    سرحد پر واقع کلی لقمان سے تعلق رکھنے والے باچا اچکزئی نے فون پر بتایا کہ لوگ سوئے ہوئے تھے یا سونے کی تیاری میں تھے کہ فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کی وجہ سے لوگ محفوظ مقامات کی جانب نکلنا شروع ہوگئے۔

    انھوں نے بتایا کہ وہ بھی اپنی فیملی کے لوگوں کے ہمراہ اپنے گھر سے نکل گئے لیکن آج واپس اپنے گھر آگئے۔

    انھوں نے بتایا کہ فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ گذشتہ شب ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک جاری رہا تاہم اس کے بعد خاموشی ہوگئی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ اس وقت حالات معمول پر ہیں لیکن لوگوں میں خوف و ہراس ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک امن سے رہیں اور ان کے درمیان جو بھی مسائل ہیں ان کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔

    چمن میں نقصانات کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں سے فون پر رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے کال وصول کی نہ ہی واٹس ایپ پر پیغام کا جواب دیا۔

    تاہم گذشتہ شب ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چمن کے ایم ایس محمد اویس نے فون پر بتایا کہ افغانستان کی جانب سے ہونے والی فائرنگ اور گولہ باری سے تین شہریوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

    ’سرحد کی بندش سے کاروبار برباد ہوگیا‘

    چمن سے متصل سرحدی علاقوں میں دونوں ممالک کے درمیان 12 اکتوبر سے لے کر اب تک تین مرتبہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    بلوچستان سے چمن، خیبرپختونخوا میں طورخم کی طرح دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم گزرگاہ ہے لیکن افغان پناہ گزین کی واپسی کے سوا 12 اکتوبر سے یہ دیگر ہر قسم کی آمد و رفت اور تجارت کے لیے بند ہے۔

    چمن سے تعلق رکھنے والے تاجر رہنما صادق خان اچکزئی نے فون پر بتایا کہ سرحد کی بندش نہ صرف چمن میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں افراد کو پریشانی کا سامنا ہے بلکہ تاجروں کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہورہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سرحد کی بندش کی وجہ سے افغانستان میں پھنسے چمن کے تاجروں اور محنت مزدوری کرنے والے لوگوں کو بھی واپس نہیں آنے دیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ چمن کے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ انھیں شناختی کارڈ پر افغانستان آمد و رفت کی اجازت دی جائے لیکن اس کے برعکس کے جن کے پاس پاسپورٹ اور دیگر قانونی دستاویزات ہیں ان کو بھی آمدورفت کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے جس کہ وجہ سے چمن کے لوگ ایک اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔

    انھوں نے دونوں ممالک سے اپیل کی کہ وہ سرحد کو لوگوں کی آمدورفت اور تجارت کے لیے کھول دیں اور اپنے تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

  19. خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ کارروائیوں میں کم از کم نو شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ کارروائیوں میں نو شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پرسکیورٹی فورسز نے ٹانک ڈسٹرکٹ میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا۔

    آپریشن کے دوران، اپنے فوجیوں نے شدت پسندوں کی موجودگی کے مقام پر مؤثر حملہ کیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد سات خشدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گشدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

    بیان کے مطابق ایک اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن لکی مروت ضلع میں کیا گیا۔

    جہاں فائرنگ کے تبادلے میں، دو مزید شدت پسندوں کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک کیا۔

    بیان کے مطابق یہ تمام ’یہ انڈین سرپرستی میں کام کرنے والے شدت پسند تھے اور ان سے بھی ہتھیار اور گولہ بارود برآمد ہوئے جو سکیورٹی فورسزاور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف متعدد شدت پسند سرگرمیوں اور معصوم شہریوں کو ہدف بنا کر قتل کرنے میں سرگرم رہے۔‘

    مزید ممکنہ شدت پسندوں کی موجودگی کے شبے میں سرچ آپریشن جاری ہیں۔

  20. حکومت کا ایران کے راسطے وسطی ایشیائی ریاستوں اور روس کو کینو اور آلو کی برآمد کی اجازت, تنویر ملک ، صحافی

    کینو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکومت پاکستان کی جانب سے وسطی ایشیائی ریاستوں اور روس کو اس سال آلو اور کینو ایران کے راستے برآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    پاکستان کی وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق کینو اور آلو کی برآمد کے لیے ایکسپورٹ پالیسی آرڈر کے تحت موجودہ سیزن کے لیے یہ اجازت دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ سیزن میں روس اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کو کینو اور آلو کی برآمد افغانستان کے ذریعے ہوئی تھی تاہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان میں کشیدگی اور سرحدی جھڑپوں کے بعد پاک افغان کے درمیان سرحد کی بندش کی وجہ سے دونوں کے درمیان تجارت بند ہونے کے ساتھ اففانستان کے ذریعے روس اور وسطی ایشیا ریاستوں کو جانے والے پاکستان کے تجارتی سامان کی برآمد بھی رک گئی تھی۔

    برآمدات کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے گذشتہ سال دو کروڑ بیس لاکھ ڈالر کا 55 ہزار ٹن کینو برآمد کیا تھا۔

    پاکستان نے گذشتہ سال 50 ملین ڈالر کا تین لاکھ ٹن آلو وسطی ایشیائی ریاستوں کو برآمد کیا تھا۔

    آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے رہنما وحید احمد کے مطابق اس سال کینو کی بمپر فصل ہوئی ہے اور ایران کے راستے اس کی برآمد ملک کے لیے زرمبادلہ ذخائر کمانے کا ایک اچھا موقع فراہم کیا گیا ہے۔

    آلو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images