سپریم کورٹ کے فیصلے سے ’انتہائی مایوس‘ ٹرمپ کا نئے 10 فیصد عالمی ٹیرف کا اعلان

امریکی صدر نے سپریم کورٹ پر الزام لگایا کہ اسے ’بیرونی مفادات نے اثر انداز کیا ہے‘۔ تاہم انھوں نے اس دعوے کے حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔ خیال رہے کہ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران نامزد کیے گئے دو ججز نے بھی عالمی ٹیرف کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔

خلاصہ

  • ایران پر ’محدود فوجی حملے‘ کے امکان کی رپورٹس اور تہران کی تنبیہ: ’تصادم کی صورت میں دشمن طاقت کے اڈوں، سہولیات اور اثاثوں کو جائز ہدف تصور کیا جائے گا‘
  • دنیا 10 دن میں جان جائے گی کہ ایران معاہدے پر راضی ہوتا ہے یا امریکہ اس کے خلاف فوجی کارروائی کرے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
  • برطانیہ نے امریکہ کو ایران پر حملوں کے لیے فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی
  • صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کو بڑی تباہی سے بچایا: وزیرِ اعظم شہباز شریف کا امن بورڈ کے اجلاس سے خطاب
  • پانچ ممالک نے غزہ استحکام فورس کے لیے ہزاروں فوجی بھیجنے کا وعدہ کیا ہے

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    21 فروری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ری فنڈز کا معاملہ زیرِ بحث

    بیسنٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ عالمی ٹیرف سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ری فنڈز معاملہ ’کئی سالوں تک عدالت میں رہ سکتا ہے۔‘

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ قانون میں دیگر متبادل طریقوں کے ذریعے ٹیرف وصول کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

    ڈیلس میں ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بیسنٹ کا کہنا تھا کہ ٹیرف سے حاصل آمدن پر تنازع ہو سکتا ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے ری فنڈز سے متعلق کوئی حکم جاری نہیں کیا۔

    انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ انٹرنیشنل ٹریڈ کورٹ میں طے ہوگا اور ٹرمپ نے اس سے قبل عندیہ دیا تھا کہ اس پر کئی برسوں تک مقدمہ بازی ہو سکتی ہے۔

    بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ معاملہ کئی ہفتوں، مہینوں، برسوں تک عدالت میں رہے گا۔‘

    ’میرا خیال ہے کہ امریکی عوام اسے نہیں دیکھ سکیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی ایکٹ کی بجائے نئے طریقے سے ٹیرف کی وصولی جاری رہے گی اور اس کی آمدن میں 2026 کے دوران کوئی تبدلی نہیں آئے گی۔

    ادھر ڈیموکریٹ رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ری فنڈز کا مطالبہ کیا ہے۔

    کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ کی سپریم کورٹ بھی متفق ہے: ان کا امریکی عوام پر ٹیکس غیر قانونی ہے۔ خاندانوں اور چھوٹے کاروباروں کی بڑی جیت ہوئی ہے۔‘

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ اب غیر قانونی ٹیکس ختم ہونے کے بعد امریکیوں کو فوراً ری فنڈز ملنے چاہییں۔

    ادھر ڈیموکریٹ سینیٹر الیزبتھ وارن نے بھی ری فنڈز کا مطالبہ دہرایا اور کہا کہ ’یہ ٹرمپ کے ٹیرف سے ہونے والے بڑے نقصان کے خمیازے کا وقت ہے۔‘

  3. عالمی ٹیرف برقرار مگر کمپنیوں کے لیے امید کی کرن, نیٹلی شرمین، نیو یارک بزنس رپورٹر/بی بی سی

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    کئی کاروبار ٹیرف ادا کرنا پسند نہیں کرتے۔ لیکن کئی کمپنیوں کے لیے اتنی ہی پریشان کن بات یہ تھی کہ انھوں نے گذشتہ سال ٹرمپ کی جانب سے عالمی ٹیرف عائد کیے جانے کی توقع نہیں کی تھی۔

    اب جبکہ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ٹیرف برقرار رہیں گے تو سپریم کورٹ کا فیصلہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ 150 روز تک نئے قانون کے ذریعے ٹیرف عائد کریں گے۔ اس قانون میں صرف 150 دنوں کی گنجائش ہے جس کے بعد کانگریس مداخلت کر سکتی ہے۔

    اس کے علاوہ ٹرمپ کے پاس جو متبادل راستے ہیں ان میں کئی تقاضے پورے کرنے پڑتے ہیں، جیسے تحقیقات، نوٹس، جواب مانگنے کا مرحلہ وغیرہ۔

    یوں کمپنیوں کو منصوبہ بنانے کا موقع مل سکتا ہے اور یہی ان کے لیے امید کی کرن ہے۔

  4. ٹرمپ اب نئے عالمی ٹیرف 150 دن تک عائد کر سکتے ہیں, مشیل فلیوری، نیو یارک بزنس نامہ نگار/بی بی سی

    صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نئے 10 فیصد عالمی ٹیرف سے زیادہ آمدن کمائے گا۔

    وائٹ ہاؤس کا منصوبہ ہے کہ چونکہ سپریم کورٹ نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاوورز ایکٹ کے ذریعے ٹیرف عائد کرنے کو کالعدم قرار دیا ہے تو اب اس کے لیے متبادل راستہ اختیار کیا جائے گا۔

    1974 کے ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 122 کے ذریعے بھی صدر کے پاس یہ طاقت ہے کہ وہ 150 دنوں تک تمام ملکوں سے آنے والی درآمدات پر 15 فیصد لیوی عائد کر سکیں۔ 150 روز بعد انھیں کانگریس کی اجازت درکار ہو گی۔

    ٹیکس فاؤنڈیشن کی ایریکا یارک کے اندازوں کے مطابق ٹرمپ موجودہ رکاوٹوں کے باعث سابقہ آمدن کے مقابلے نئے 10 فیصد عالمی ٹیرف کے ذریعے صرف 56 فیصد آمدن حاصل کر پائیں گے۔

  5. سپریم کورٹ کے فیصلے سے ’انتہائی مایوس‘ ٹرمپ کا نئے 10 فیصد عالمی ٹیرف کا اعلان

    سپریم کورٹ کے فیصلے سے ’انتہائی مایوس‘ ٹرمپ کا نئے 10 فیصد عالمی ٹیرف کا اعلان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکہ پہنچنے والی عالمی درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ عالمی ٹیرف کالعدم قرار دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے ’انتہائی مایوس‘ ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’عدالت کے کچھ ارکان میں اتنی جرات نہیں کہ وہ ملک کے مفاد کے لیے سچ کا ساتھ دے سکیں۔‘

    ٹرمپ نے ان ججز کی تعریف بھی کی جنھوں نے اختلافی رائے دی ہے۔

    امریکی صدر نے سپریم کورٹ پر الزام لگایا کہ اسے ’بیرونی مفادات نے اثر انداز کیا ہے‘۔ تاہم انھوں نے اس دعوے کے حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔

    خیال رہے کہ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران نامزد کیے گئے دو ججز نے بھی عالمی ٹیرف کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے بعد امریکہ دوسرے طریقوں سے ٹیرف وصول کرنے کی کوشش کرے گا۔

    انھوں نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ’کسی بھی ملک سے ایک ڈالر بھی وصول کرنے سے روکا ہے۔۔۔ (یعنی) میں تجارت تباہ کر سکتا ہوں، ملک تباہ کر سکتا ہوں۔ لیکن ان سے فیس وصول نہیں کر سکتا۔‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عدالت نے ٹیرف عائد کرنے کو کالعدم قرار نہیں دیا بلکہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاوورز ایکٹ کے استعمال سے متعلق فیصلہ دیا ہے، یعنی سپریم کورٹ نے انھیں اس ایکٹ کے ذریعے ٹیرف عائد کرنے سے روکا ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ ’ملک کو تحفظ دینے کے لیے‘ وہ پھر بھی عالمی ٹیرف عائد کرنے کا منصوبہ جاری رکھیں گے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک صدارتی حکمنامے پر دستخط کرنے جا رہے ہیں جس کے تحت عالمی سطح پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

    اس سوال پر کہ کیا جو اب تک ٹیرف سے آمدن حاصل کی گئی ہے اسے واپس کیا جائے گا، ٹرمپ کا جواب تھا کہ ’اس بارے میں بات نہیں ہوئی۔ یہ معاملہ کئی برسوں تک عدالت میں چلے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم شاید اگلے پانچ سال تک عدالت میں رہیں گے۔‘

  6. ٹرمپ نے اتنے زیادہ ٹیرف کیوں عائد کیے؟

    Tariffs

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ برس اپریل میں دنیا کے تقریباً ہر ملک سے آنے والی اشیاء پر ٹیرف نافذ کیے۔

    ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ ٹیرف سے حکومت کی ٹیکس آمدنی میں اضافہ ہوگا، امریکی ساختہ مصنوعات کی خریداری بڑھے گی اور ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ تاہم ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ اس سے قیمتیں بڑھیں گی اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    ٹرمپ کا مقصد امریکہ کے تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے یعنی وہ فرق جو امریکہ کی درآمدات اور برآمدات کی قدر کے درمیان موجود ہے۔ صدر کا مؤقف ہے کہ امریکہ کو ’دھوکہ بازوں‘ نے استحصال کا نشانہ بنایا ہے اور ’غیروں نے لوٹ کھسوٹ‘ کی ہے۔

    ٹرمپ نے ان ٹیکسز کو دیگر مطالبات منوانے کے لیے بھی استعمال کیا۔ مثال کے طور پر جب انھوں نے چین، میکسیکو اور کینیڈا کے خلاف ٹیرف کا اعلان کیا تو کہا کہ ان ممالک کو امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن اور منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی آمد روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔

    کئی ٹیرف اعلان کے بعد یا تو تبدیل کر دیے گئے یا مؤخر کر دیے گئے۔

    چھوٹے کاروباروں کو فوری اور خودکار ریفنڈ دیا جائے: امریکہ کی ٹیرف مخالف تنظیم کا مطالبہ

    امریکہ میں ٹیرف مخالف تنظیم ’وی پے دی ٹیرفس‘ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کاروباری اداروں کو ادا کیے گئے ٹیرف کی ’مکمل، فوری اور خودکار‘ واپسی کی جائے۔

    تنظیم کے ڈائریکٹر ڈین انتھونی نے کہا کہ ’آج کا سپریم کورٹ کا فیصلہ امریکہ کے چھوٹے کاروباروں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، جو ان ٹیرف کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ اگر کاروباروں کو حقیقی ریلیف نہ ملا تو یہ فیصلہ بے معنی ہوگا۔

    ڈین انتھونی کے مطابق حکومت کا واحد ذمہ دارانہ راستہ یہ ہے کہ ایک تیز، مؤثر اور خودکار نظام قائم کیا جائے، جس کے ذریعے ٹیرف کی رقم ان کاروباروں کو واپس کی جائے جنھوں نے یہ ادائیگیاں کی ہیں۔

    ’وی پے دی ٹیرفس‘ کے پلیٹ فارم کے تحت 800 سے زائد کاروبار شامل ہیں۔ اس تنظیم نے سپریم کورٹ میں ٹیرف کیسز کے دوران ایک امیکَس بریف بھی جمع کرایا تھا۔

    سپریم کورٹ سے پہلے ہی امریکی کمپنیوں کے ٹیرف ریفنڈ کے لیے مقدمات

    سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہی امریکہ کی کئی بڑی کمپنیوں نے ادا کیے گئے ٹیرف کی واپسی کے لیے مقدمات دائر کر دیے تھے۔

    نومبر میں ملٹی نیشنل ریٹیل کمپنی کاسٹکو نے سب سے بڑے درآمد کنندگان میں شامل ہوتے ہوئے ریفنڈ کا مطالبہ کیا۔ دو نچلی عدالتیں پہلے ہی قرار دے چکی تھیں کہ صدر ٹرمپ نے ایمرجنسی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ٹیرف نافذ کر کے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔

    کاسٹکو نے مقدمے میں کہا کہ اس کے کاروبار کو ٹیرف کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے اور خدشہ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود اسے رقم واپس نہیں ملے گی۔ دیگر کمپنیوں میں گوڈیئر ٹائرز، چینی الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی بی وائی ڈی اور کیمرہ بنانے والی کمپنی گو پرو بھی شامل ہیں جنھوں نے ریفنڈ کے لیے مقدمات کیے ہیں۔

    ریپبلکن پارٹی میں بھی ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کے حوالے سے یکساں حمایت نہیں رہی۔ کئی ارکان کو اپنے حلقوں کے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر زرعی ریاستوں کے ریپبلکنز، جن کی مقامی معیشت زرعی برآمدات پر انحصار کرتی ہے اور جو جوابی ٹیرف سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ یہ جوابی ٹیرف اجناس کی قیمتیں کم کرتے ہیں، کسانوں کی آمدنی میں کمی کا سبب بنتے ہیں اور دیہی علاقوں میں مالی مشکلات بڑھاتے ہیں۔

    کئی مواقع پر کچھ ریپبلکنز نے علامتی طور پر ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر ٹیرف کو ختم کرنے کی کوشش بھی کی۔ اختلافات صرف زراعت تک محدود نہیں رہے۔ کینٹکی کے سینیٹر مچ مکونل نے بھی مخالفت کی اور کہا کہ ٹیرف نے ان کے ریاست میں بوربن ڈسٹلرز اور کار ساز اداروں کو نقصان پہنچایا ہے۔

    انھوں نے گذشتہ سال ایک بیان میں کہا تھا کہ ’صارفین ہر جگہ زیادہ قیمتیں ادا کر رہے ہیں کیونکہ تجارتی رکاوٹوں کا اصل بوجھ بالآخر انھی پر پڑتا ہے۔‘

    مچ مکونل نے مزید کہا کہ واشنگٹن کے پروٹیکشنسٹ دعویٰ کرتے ہیں کہ گذشتہ چند ماہ نے ان کی پالیسی کو درست ثابت کیا ہے، لیکن کینٹکی کے عوام حقیقت اور دکھاوے میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

  7. ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کالعدم قرار، امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں؟

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ سال نافذ کیے گئے عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق یہ ٹیرف قانونی طور پر درست نہیں تھے اور انھیں برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

    یہ فیصلہ جمعہ کی شام آٹھ بج کر پانچ منٹ پر سنایا گیا۔ عدالت کے حکم کے بعد امریکی حکومت کی تجارتی پالیسی پر بڑے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

    امریکہ کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے عالمی ٹیرف نافذ کرتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ ٹرمپ نے یہ ٹیرف ایک ایسے قانون کے تحت لگائے جو صرف قومی ہنگامی صورتحال کے لیے مخصوص ہے۔

    امریکہ کی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے نافذ کردہ عالمی ٹیرف کو 6-3 کے تناسب سے کالعدم قرار دے دیا۔ فیصلے میں تین لبرل ججز، کیتنجی براؤن جیکسن، ایلینا کیگن اور سونیا سوتومئیر، نے تین قدامت پسند ججز، ایمی کونی بیریٹ، نیل گورسچ اور چیف جسٹس جان رابرٹس، کے ساتھ مل کر ٹیرف کو غیر قانونی قرار دینے کے حق میں ووٹ دیا۔

    USA

    دوسری جانب جسٹس بریٹ کاوانا، سیموئل الیٹو اور کلیرنس تھامس نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا۔

    عدالت نے واضح کیا کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ صدر کو ٹیرف عائد کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ اس فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نافذ کیے گئے وسیع تجارتی اقدامات کالعدم ہو گئے ہیں۔

    یہ فیصلہ امریکی تجارتی پالیسی پر بڑے اثرات مرتب کرے گا اور ماہرین کے مطابق مستقبل میں صدر کے اختیارات کی حدود مزید واضح ہو جائیں گی۔

    ٹرمپ نے جمعرات کی دوپہر ریاست جارجیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بار بار ٹیرف کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر ٹیرف نہ ہوتے تو ’سب دیوالیہ ہو جاتے‘۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ بطور صدر ان کا ’حق‘ ہے کہ وہ ٹیرف مقرر کریں کیونکہ ’زبان بالکل واضح ہے‘۔ انھوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے انتظار پر بھی شکایت کی اور کہا کہ ’میں اس فیصلے کے لیے ہمیشہ سے انتظار کر رہا ہوں۔ ہمیشہ۔‘

    سپریم کورٹ کے فیصلے پر صدر ٹرمپ کا ردِعمل تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ نے صدر کے اختیارات پر غیر معمولی قدغن لگا دی

    انتھونی زرچر کا تجزیہ

    امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وسیع ٹیرف کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹیرف لگانے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، نہ کہ صدر کے پاس، اور 1977 کا ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ اس طرح کے اقدامات کی اجازت نہیں دیتا۔

    یہ فیصلہ صدر کے وسیع ایگزیکٹو اختیارات پر ایک نایاب قدغن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ گذشتہ برسوں میں عدالت نے اکثر ٹرمپ کو اپنی پالیسیوں پر آگے بڑھنے کی اجازت دی، خاص طور پر امیگریشن اور وفاقی حکومت کی تشکیلِ نو کے معاملات میں، لیکن اس کیس میں عدالت نے صدر کے اختیار کو محدود کر دیا۔

    یہ مقدمہ فوری بنیادوں پر سنا گیا اور عدالت نے صدر کے اس بڑے اقدام کا دروازہ بند کر دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ مستقبل میں ایگزیکٹو پاورز کے استعمال پر مزید قانونی بحث کو جنم دے گا۔

    مزید برآں، عدالت کے سامنے آنے والے دیگر بڑے مقدمات بھی صدر کے اختیارات سے متعلق ہیں، جن میں شہریت کے حقِ پیدائش کو ختم کرنے کی کوشش اور فیڈرل ریزرو کے ایک گورنر کو مبینہ بے ضابطگیوں کی بنیاد پر برطرف کرنے کا معاملہ شامل ہیں۔ اس لیے امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں صدر کو مزید قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے۔

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    صدر کے اختیارات پر بڑا دھچکا

    بی بی سی نیوز کے بین عالمی بزنس رپورٹر تھیو لیگیٹ کا تجزیہ

    سپریم کورٹ کا فیصلہ بلاشبہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ یاد رہے کہ عدالت میں قدامت پسند ججز کی اکثریت موجود ہے، لیکن اس کے باوجود انھوں نے ان وسیع ٹیرف کے قانونی جواز کو مسترد کر دیا، جن میں کینیڈا، میکسیکو اور چین کے خلاف اقدامات بھی شامل تھے۔ یہ اقدامات بظاہر امریکہ میں غیر قانونی منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی آمد کے جواب میں کیے گئے تھے۔

    یہ درآمدی ٹیکس انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت متعارف کرائے گئے تھے، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ یہ قانون ایسے اقدامات کی اجازت نہیں دیتا جو ’حد سے زیادہ وسیع، مقدار اور مدت میں غیر محدود‘ ہوں۔

    ماہرین کے مطابق یہ واحد قانونی راستہ نہیں ہے جس کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ نے اضافی ٹیرف نافذ کیے۔ صدر کے پاس دیگر قوانین بھی موجود ہیں جنھیں استعمال کر کے وہ دوبارہ ٹیرف لگا سکتے ہیں، اگر وہ چاہیں۔ لیکن ان طریقوں کے لیے کانگریس کی منظوری یا امریکی محکمہ تجارت کی تحقیقات درکار ہو سکتی ہیں، جس سے عمل میں تاخیر کا امکان ہے۔

    فیصلے کے بعد ایک طرف یہ وضاحت ہو گئی ہے کہ صدر اس مخصوص قانون کے تحت ٹیرف نافذ نہیں کر سکتے، لیکن دوسری طرف یہ غیر یقینی بھی پیدا ہو گئی ہے کہ پہلے سے ادا کیے گئے ٹیرف کی واپسی کا کیا طریقہ کار ہوگا۔

  8. امریکہ نے افزودگی کو مکمل طور پر روکنے کی درخواست نہیں کی: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکی مذاکرات کاروں نے تہران سے ’اپنے جوہری افزودگی کے پروگرام کو روکنے کے لیے نہیں کہا۔‘

    امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک ایم ایس این بی سی پر ’مارننگ شو‘ پروگرام کے ساتھ ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ’ہم نے کوئی معطلی کی تجویز نہیں دی ہے اور امریکہ نے افزودگی کو مکمل طور پر روکنے کی درخواست نہیں کی ہے۔‘

    یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت اعلیٰ امریکی حکام کے بیانات سے متصادم ہیں جنھوں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کو کسی بھی سطح پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

    سینیئر ایرانی سفارت کار نے یہ بھی کہا کہ فریقین کے درمیان مذاکرات کا اگلا مرحلہ یہ ہے کہ ’اگلے دو سے تین دنوں میں‘ واشنگٹن کو ممکنہ معاہدے کا مسودہ پیش کیا جائے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ابھی ہم جس مسئلے پر بات کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ ایران کا جوہری پروگرام، بشمول افزودگی، پرامن ہے اور ہمیشہ کے لیے پرامن رہے۔‘

    ایران نے ہمیشہ کہا ہے کہ اسے کسی بھی حالت میں افزودگی کو مکمل طور پر روکا نہیں جائے گا۔

  9. پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی، دیہات میں سطح شہروں سے دگنی, تنویر ملک، صحافی

    غربت کی شرح

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں غربت کی شرح میں گذشتہ چھ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پلاننگ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں غربت کی سطح 2018-19 میں 21.9 فیصد تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی۔

    رپورٹ کے مطابق شہروں میں غربت کی شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد ہو گئی، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ سطح 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد تک جا پہنچی۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں غربت 16.5 فیصد سے 23.3 فیصد، سندھ میں 24.5 فیصد سے 32.6 فیصد، خیبر پختونخوا میں 28.7 فیصد سے 35.3 فیصد اور بلوچستان میں 41.8 فیصد سے بڑھ کر 47 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غربت میں اضافے کی بڑی وجوہات میں کورونا وبا کے معاشی اثرات، عالمی سطح پر اجناس اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، ملک میں سیلابوں سے انفراسٹرکچر کی تباہی اور لیبر مارکیٹ کی مشکلات شامل ہیں۔ مالی سال 2024 میں اجناس اور توانائی کی قیمتیں بلند سطح پر پہنچیں، جس سے افراطِ زر اور اخراجات میں اضافہ ہوا۔

    سابق وزیرِ خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے حکومتی رپورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد و شمار زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق عالمی بینک کی ریسرچ میں پاکستان میں غربت کی شرح 45 فیصد بتائی گئی ہے، جبکہ ان کی اپنی تحقیق کے مطابق یہ شرح 43 فیصد تک ہے۔ انھوں نے کہا کہ معاشی شرح نمو میں کمی، فی کس آمدنی میں گراوٹ اور خوراک و ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے غربت کو شدید متاثر کیا ہے۔

    ڈاکٹر پاشا نے تجویز دی کہ غربت میں کمی کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں معاشی ترقی کی شرح کم از کم 4.5 سے 5 فیصد تک ہو، تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور آمدنی میں اضافہ ممکن ہو سکے۔

  10. اسلام آباد سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    CSEM-EMSC

    ،تصویر کا ذریعہCSEM-EMSC

    آج شام چھ بج کر دس منٹ پر ایک زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کی شدت 5.6 تھی، جس کی گہرائی 73 کلومیٹر اور مرکز افغانستان کے ہندوکش ریجن میں واقع تھا۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت زلزلے کے جھٹکے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں محسوس کیے گئے، جن میں سوات، پشاور اور ایبٹ آباد شامل ہیں۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے سے کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔

  11. ایرانی وزیر خارجہ کی مصری ہم منصب سے رابطہ، امریکہ کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل پر گفتگو

    Iran, Egypt

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے مصری ہم منصب بدر عبدالعطی سے فون پر رابطہ کیا اور انھیں امریکہ سے جاری مذاکراتی عمل پر اعتماد میں لیا۔

    اس فون کال کے دوران، ایرانی وزیر خارجہ نے واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا، ایک ایسا فریم ورک جو ’باہمی احترام اور باہمی مفاد‘ پر مبنی ہو۔

    مصری وزیر خارجہ نے ایران اور امریکہ دونوں کے لیے قابل قبول معاہدے تک پہنچنے کے لیے مشاورت اور رابطہ کاری کو جاری رکھنے پر زور دیا۔

  12. گوگل کے تجارتی راز چوری کے الزام میں تین ایرانی شہریوں کو آج امریکی عدالت میں پیش کیا جائے گا

    Justin Sullivan/Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہJustin Sullivan/Getty Images

    امریکہ کی سلیکون ویلی میں کام کرنے والے تین ایرانی انجینیئروں کے خلاف گوگل سرچ انجن اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں سے تجارتی راز چرانے اور ایران سمیت دیگر معلومات کو غیر قانونی طور پر منتقل کرنے کے الزامات پر گرفتار کیے گئے ہیں، جنھیں اب عدالتی مقدمے کا سامنا ہے۔

    سرور غنڈالی، ان کی بہن سمنیہ غنڈالی اور ان کے شوہر محمد جواد خسروی پر گوگل اور دیگر معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں سے تجارتی راز چرانے اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    یہ تینوں ایرانی شہری سان ہوزے کے رہائشی ہیں، جنھیں ایک روز قبل گرفتار کیا گیا تھا اور ریاست کیلیفورنیا کے اس شہر کی وفاقی عدالت میں پہلی بار پیش ہوئے تھے۔

    ملزمان کو آج جج کے سامنے وکیل مقرر کرنے کے لیے پیش ہونا ہے۔

    اس کیس کی پیروی ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈویژن اور کیلیفورنیا کے شمالی ضلع کے لیے امریکی اٹارنی کے دفتر کے خصوصی پراسیکیوٹرز کے دفتر کر رہی ہے، اور یہ ایف بی آئی کی تحقیقات کا نتیجہ ہے۔

    امریکی محکمہ انصاف کے مطابق غنڈالی بہنوں نے پہلے گوگل میں کام کیا اور پھر ’کمپنی 3‘ کے نام سے ایک اور ٹیکنالوجی کمپنی میں شمولیت اختیار کی۔ محمد جواد خسروی ’کمپنی 2‘ کے نام سے ایک اور کمپنی میں بھی کام کرتے تھے۔ تینوں نے موبائل کمپیوٹر پروسیسرز کے شعبے میں کام کیا۔

    محکمہ انصاف نے ایک بیان میں کہا کہ ایک مبینہ تجارتی خفیہ چوری کی سکیم کے حصے کے طور پر ملزمان نے خفیہ اور حساس معلومات حاصل کرنے کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال کیا۔ اس کے بعد انھوں نے دستاویزات بشمول پروسیسر سکیورٹی، انکرپشن، اور دیگر ٹیکنالوجیز سے متعلق تجارتی راز گوگل اور دیگر کمپنیوں سے ایران سمیت غیر مجاز مقامات پر منتقل کردیے۔

    ایف بی آئی کے ایک مقامی سربراہ نے کہا کہ ’مذکورہ کارروائیاں آجروں کے اعتماد کے حساب سے دھوکہ دہی کی نمائندگی کرتی ہیں۔‘ الزامات کے مطابق ملزمان نے خفیہ ڈیٹا منتقل کرنے کے لیے جان بوجھ کر نگرانی کو روکنے اور اپنی شناخت چھپانے کے لیے اقدامات کیے تھے۔

    گوگل کے ترجمان نے ایک بیان میں بلومبرگ کو بتایا کہ کمپنی نے خفیہ معلومات کی حفاظت کے لیے اپنے حفاظتی اقدامات کو مضبوط کیا ہے اور معاملے کا پتہ چلنے کے فوراً بعد پولیس کو مطلع کیا ہے۔ زیر بحث تجارتی راز پکسل فونز میں استعمال ہونے والے پروسیسر سے متعلق تھے۔

    محکمہ انصاف کے مطابق سمنیہ غنڈالی نے گوگل کے تجارتی راز سمیت سینکڑوں فائلیں تھرڈ پارٹی کمیونیکیشن پلیٹ فارم پر منتقل کیں۔ سرور غنڈالی پر گوگل میں کام کے دوران تجارتی رازوں پر مشتمل متعدد فائلز کو انھی کمیونیکیشن چینلز پر منتقل کرنے کا بھی الزام ہے۔

    سرکاری رپورٹ کے مطابق یہ فائلیں پھر مختلف ذاتی ڈیوائسز کے ساتھ ساتھ محمد جواد خسروی کی ڈیوائس اور ’کمپنی 3‘ میں سرور قندیلی کی ڈیوائس پر منتقل کی گئیں۔ اپنے کیے کو چھپانے کے لیے ملزمان نے جھوٹے حلف ناموں پر دستخط کیے، الیکٹرانک ڈیوائسز سے منتقل کی گئی فائلوں کو ڈیلیٹ کیا، اور دستاویزات کو براہ راست میسنجر کے ذریعے منتقل کرنے کے بجائے دستی طور پر معلومات پر مشتمل سکرینز کے سکرین شاٹس لیے۔

    محکمہ انصاف کے مطابق گوگل کے داخلی سلامتی کے نظاموں کی جانب سے سمنیہ غنڈالی کی دو سال قبل کے موسم گرما میں سرگرمی کی نشاندہی کرنے اور اس کی رسائی منقطع کرنے کے بعد، اس نے ایک حلف نامے پر دستخط کیے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اس نے خفیہ معلومات کمپنی سے باہر منتقل نہیں کیں۔

    رپورٹ کے مطابق، سمنیہ غنڈالی اور محمد جواد خسروی نے پیغامات اور ڈیٹا کو ڈیلیٹ کرنے پر تلاشی لی، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک موبائل آپریٹر ’عدالت میں پیشی کے لیے پیغامات‘ کو کتنی دیر تک اپنے پاس رکھے گا۔

    الزامات کے مطابق جوڑے نے اگلے مہینوں میں اپنے ذاتی آلات پر محفوظ تجارتی رازوں تک بھی رسائی حاصل کی اور گوگل اور ’کمپنی 2‘ کی حساس معلومات کے سینکڑوں سکرین شاٹس لیے۔

    دو سال قبل موسم خزاں کے آخر میں ایران کے سفر سے ایک رات پہلے، سمنیہ غنڈالی نے مبینہ طور پر محمد جواد خسروی کے کام کے کمپیوٹر سکرین کے تقریباً 24 سکرین شاٹس لیے، جس میں ’کمپنی 2‘ کے تجارتی راز تھے۔ بعد میں ان تصاویر تک ایران میں ان کے ساتھ منسلک ایک ذاتی ڈیوائس کے ذریعے رسائی حاصل کی گئی۔

    جرم ثابت ہونے پر، ہر ملزم کو زیادہ سے زیادہ 10 سال قید اور تجارتی خفیہ چوری پر 250,000 ڈالر جرمانے اور انصاف کے الزام میں رکاوٹ ڈالنے پر زیادہ سے زیادہ 20 سال قید اور 250,000 ڈالر کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    یہ پیش رفت گوگل کے ایک اور سابق انجینیئر کو چین میں سٹارٹ اپ شروع کرنے کے لیے کمپنی کی ہزاروں خفیہ دستاویزات چرانے کے جرم میں امریکہ میں سزا سنائے جانے کے ایک ماہ سے بھی کم وقت میں سامنے آئی ہے۔

  13. جوہری پروگرام پر روس کا ایران سے رابطہ

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روسی وزارت خارجہ نے آج اپنے ٹیلی گرام چینل کے ذریعے اعلان کیا کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملک کے جوہری پروگرام کے بارے میں بات کی ہے۔

    روسی وزیر خارجہ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ ایران پر امریکی حملے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں خطے میں خلیجی عرب ممالک کے ردعمل پر گہری نظر رکھتا ہوں۔ کوئی بھی کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتا۔ سب جانتے ہیں کہ یہ آگ سے کھیل رہا ہے۔‘

    روسی وزیر خارجہ کے مطابق کشیدگی میں اضافہ حالیہ برسوں میں اٹھائے گئے مثبت اقدامات کے اثرات کو ختم کر رہا ہے جن میں ایران کے پڑوسی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بہتری شامل ہے۔

  14. ناروے کا مشرق وسطیٰ میں 60 فوجی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

    ناروے کی مسلح افواج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ ملک کی حکومت نے سلامتی کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث اپنے تقریباً 60 فوجی اہلکاروں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    کہا گیا ہے کہ ان میں سے کچھ فورسز کو ناروے واپس کر دیا جائے گا، اور کچھ کو اسی خطے کے دوسرے ممالک میں منتقل کر کے محفوظ مقامات پر تعینات کیا جائے گا۔

  15. تہران اور واشنگٹن کے مابین تیل اور گیس کے شعبوں میں تعاون کے معاملے پر ’سب کچھ ممکن ہے:‘ ایرانی وزیر تیل

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیر تیل نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تیل اور گیس کے شعبوں میں تعاون ممکن ہے۔

    ایرانی نیوز ایجنسی ’النا‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی وزیر تیل محسن پاکنزاد نے کہا کہ تیل اور گیس کے شعبوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان تعاون کے امکانات کے حوالے سے ’سب کچھ ممکن ہے۔‘

    محسن پاکنزاد نے اس طرح کے تعاون کے آغاز کے لیے وقت نہیں بتایا۔

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ برائے اقتصادی امور حامد غنباری نے بھی چند روز قبل کہا تھا کہ ’امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں تیل اور گیس کے شعبوں، کان کنی میں سرمایہ کاری اور حتیٰ کہ طیاروں کی خریداری میں مشترکہ مفادات کو شامل کیا گیا ہے۔‘

    اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ پچھلے جوہری معاہدے میں امریکہ کو اقتصادی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا لیکن ’اس بار معاہدے کے پائیدار ہونے کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ کو بھی اس معاہدے سے فائدہ پہنچے۔‘

  16. کراچی: سولچر بازار میں گیس لیکیج دھماکے سے 16 ہلاکتیں، واقعے کا مقدمہ درج, ریاض سہیل، بی بی سی کراچی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کراچی میں سولجر بازار میں گیس لیکیج کے دھماکے سے عمارت گرنے کے واقعے کا مقدمہ سرکاری مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جائے وقوع سے چند قدم فاصلے پر واقع سولجر بازار تھانے پر سب انسپکٹر خالد بنگش کی مدعیت میں یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ جمعرات کو کراچی کے علاقے سولجر بازار میں مبینہ گیس لیکج کے باعث دھماکے سے رہائشی عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے جبکہ متعدد افراد زخمی ہیں۔

    اس مقدمے میں قتل بالسبب، عمارت کی تعمیر میں غفلت برتنے، املاک کو نقصان پہچانے سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں جس کے بعد عمارت کے مالک ارشاد کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق غیر قانونی طور پر 40 گز کے پلاٹ پر گراؤنڈ پلس تھری عمارت تعمیر کی گئی تھی جس کی تعمیر میں ٹی آر گارڈر اور ٹائلوں کا استعمال کیا گیا۔

    ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے پہلی منزل پر رہائش زیب النساء نے سحری کے وقت چولہا جلایا، ناقص گیس لائن کی وجہ سے لیکیج کے باعث کمرے میں گیس بھری ہوئی تھی اور ماچس جلتے ہی آگ لگی اور دھماکہ ہوا اور عمارت کے کمرے زمین بوس ہو گئے۔

    ایف آئی آر میں بم ڈسپوزل یونٹ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ عمارت میں ناقص گیس پائپ لائن لیکیج ہوئی اور کمرے میں گیس بھرگئی، ماچس جلانے سے دھماکہ ہوا۔

  17. خیبرپختونخوا: چترال میں شدید برفباری اور برفانی تودے گرنے سے متعدد دیہات تک جانے والے راستے بند, عزیز اللہ خان، بی بی سی اُردو، پشاور

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہNHA

    خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں گذشتہ دنوں میں شدید برفباری اور برفانی تودوں کے وجہ سے گرم چشمہ سے آگے دیہات تک راستہ اب تک منقطع ہے جس سے لوگ اپنا سامان اب کاندھوں پر اٹھا کر گھروں تک لے جا رہے ہیں۔

    گرم چشتمہ سے سابق ویلج ناظم حمید خان نے بتایا کہ گرم چشمہ سے آگے گوبور اور اس کے ساتھ تین دیہات کا رابطہ ملک کے دیگر علاقوں سے منقطع ہے اور اس کو لگ بھگ 28 دن ہو گئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے لوگوں نے کام تو شروع کیا ہے لیکن یہ چھوٹی مشینوں سے کام کر رہے ہیں جس میں کافی وقت لگ رہا ہے اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    حمید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت کم سے کم تین سے چار دیہات ایسے ہیں جہاں تک گاڑیاں نہیں آ سکتیں اور اس کے لیے جہاں تک گاڑیاں آ سکتی ہیں آگے کا راستہ لوگ اپنا سامان کاندھوں پر ڈال کر لے جاتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ وہ گوبوربخ میں ہیں، یہاں کام ہو رہا ہے اس وقت لیکن یہاں ٹھیکیدار نہیں ہے کام ایسی سستی سے ہو رہا ہے کہ اگر یہ حال رہا تو معلوم نہیں کب تک مکمل ہو گا۔

    مقامی لوگوں نے اس بارے میں احتجاج بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جو مشینری استعمال ہو رہی ہے وہ راستہ صاف کرنے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ یہ کھدائی وغیرہ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

    حمید خان کا کہنا تھا کہ اس وقت گرم چشمہ کے علاقے میں گوبور اور اس کے ساتھ کوئی تین سے چار دیہات میں 200 سے 250 گھرانے میں اس میں پھنس چکے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ماہ رمضان شروع ہو گیا ہے انسانوں اور جانوروں کے لیے خوراک کی قلت ہے، لوگوں کا سامان راستے میں پڑا ہے گاؤں تک پہنچانا مشکل ہو گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ اس بارے میں خاموش ہے اس لیے ہماری بات سننے والا کوئی نہیں ہے۔

    این ایچ اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر امیر زیب سے اس بارے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی مشکل راستہ ہے جہاں تیز ہوا کے ساتھ ساتھ برفانی تودے گرتے ہیں اور جب آگے راستہ صاف کر لیتے ہیں تو پیچھے سے پھر برف آ جاتی ہے۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہNHA

    ان کا کہنا تھا کہ ان کی ذمہ داری گرم چشمہ سے شاہ سلیم سرحد تک نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی سڑک کو صاف کرنا ہے باقی دیہات اور علاقوں تک جو سڑک جاتی ہے وہ ان کی ذمے داری نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کا روڈ اگلے ہفتے پیر تک صاف ہو جائے گا۔

    مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ انتطآمیہ کی جانب سے انھیں کوئی اقدامات نظر نہیں آ رہے صرف ایک دو لیویز کے اہلکار اور ایکسکویٹر آپریٹر موجود رہتے ہیں ۔

    مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اس طرح کی چھوٹی مشینری استعمال کرنے سے وقت زیادہ لگ جاتا ہے اور اس مشینری کے استعمال سے خرچہ زیادہ ہوتا ہے جبکہ اگر اس سڑک کو صاف کرنے والی مشینری استعمال کی جاتی تو یہ کام گھنٹوں میں ہو سکتا ہے اور اس پر خرچہ بھی کم آتا ہے اب معلوم نہیں این ایچ اے کے لوگوں کو اس میں کیا نظر آ تا ہے۔

    اس بارے میں امیر زیب نے کہا کہ یہاں سڑک کی چوڑائی کم ہے اور تعمیرات ہیں جس وجہ سے بڑی مشینری یہاں نہیں آ سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے بلکہ کافی کام ہو چکا ہے اگلے ہفتے تک افغان بارڈر تک راستہ صاف کر دیا جائے گا۔

    اس بارے میں ڈپٹی کمشنر چترال راؤ ہاشم سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے عہدیداروں نے بتایا ہے کہ اس شاہراہ پر کام جاری ہے اور آئندہ چند روز میں این ایچ اے شاہراہ کو صاف کر دیا جائے گا۔

    ان سے جب کہا گیا کہ اس شاہراہ سے دیہات کی طرف جانے والے راستے تو بند ہیں تو اُنھوں نے کہا کہ ایک مرتبہ جب شاہراہ صاف ہو جائے گا اور باقی مشینری آئے گی تو متعلقہ صوبائی محکمے ان سڑکوں کی بحالی کا کام شروع کریں گے جب تک شاہراہ صاف نہیں ہوتی اس وقت تک باقی دیہات تک جانے والی سڑکیں صاف نہیں ہو سکتیں۔

  18. تہران میں یکم رمضان کو محفل قرآن کے اجتماع میں خامنہ ای کی شرکت

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے گزشتہ شب تہران میں محفل قرآن میں شرکت کی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق قرآن سنانے کے جس اجتماع میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے شرکت کی وہ ’امام خمینی حسینیہ‘ میں منعقد کیا گیا تھا، یہ وہ مقام ہے کہ جو مذہبی اجتماعات کے لیے جانا جاتا ہے۔

    خامنہ ای ایرانی عوام کے سامنے اب ایک مرتبہ پھر ایسے وقت میں آئے ہیں کہ جب انھوں نے حال ہی میں امریکہ کے ایران پر مُمکنہ حملے اور عسکری تیاریوں کے حوالے سے سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے سنگین نتائج کی وارننگ دی تھی۔

    ایکس پر ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے حامیوں نے اُن کی عوامی اجتماع میں شمولیت کو ’باعثِ راحت اور سکون‘ قرار دیا۔ ایک صارف نے کہا کہ ’وہ امریکہ کے ساتھ جاری ’نفسیاتی جنگ‘ کے دوران عوام میں اعتماد پیدا کرنے اور اُن کا حوصلہ بڑھانے کے لیے سامنے آئے ہیں۔‘

    تاہم کُچھ دیگر لوگوں نے ایکس پر ان کی ’ہمت اور حوصلے‘ کی تعریف کی کہ انھوں نے امریکی خطرات کے باوجود براہِ راست محفل قرآن میں شرکت کی۔

  19. سعودی عرب کا فلسطین کی تعمیرِ نو کے لیے ایک ارب ڈالر دینے کا اعلان

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سعودی عرب نے واشنگٹن میں ہونے والے غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں تعمیرِ نو کے لیے ایک ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    سعودی خبر رساں ادارے العربیہ کے مطابق سعودی وزیر برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے کہا کہ ’یہ فنڈنگ ’فلسطینی عوام کے دکھ، تکالیف، مُشکلات کم کرنے اور انھیں وہ امن فراہم کرنے کے لیے ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔‘

    اجلاس میں الجبیر نے کہا کہ ریاض ایک ’پائیدار اور منصفانہ امن‘ کے قیام کے لیے کام کر رہا ہے اور زور دیا کہ کسی بھی صلح کی بنیاد میں سعودی عرب کی حمایت بھی شامل ہونی چاہیے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ غزہ کے لیے 10 ارب ڈالر فراہم کرے گا، جبکہ نو بورڈ ممبران، جن میں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، مزید 7 ارب ڈالر دینے پر راضی ہوئے ہیں۔

  20. ایران پر ممکنہ امریکی حملے کا خدشہ، اسرائیل جنگ میں ’فعال کردار‘ ادا کرنے کی تیاری کر رہا ہے: اسرائیلی اخبار کا دعویٰ, بی بی سی مانیٹرنگ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی بحری بیڑا ڈی ڈی جی 53، فائل فوٹو

    اسرائیلی میڈیا نے آج امریکہ کے ایران پر مُمکنہ حملے کے بڑھتے ہوئے خدشات کی جانب اشارے کو نمایاں طور پر خبروں میں جگہ دی ہے۔ ان خبروں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل نے محض تماشائی کے بجائے اب اس معاملے میں ایک فعال فریق کے طور پر شامل ہونے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

    تاہم دوسری جانب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی پر نظر رکھنے والے ماہرین ان خدشات کا اظہار کر چُکے ہیں کہ یہ جنگ طویل اور خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

    اہم اسرائیلی اخبارات میں شامل ’معاریو‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اسرائیل ’ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار‘ ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کے ساتھ تناؤ میں اضافے کے باعث اسرائیلی قیادت تیار ہے۔

    اخبار کی جانب سے اپنی رپورٹ میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے اس انتباہ کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ کسی بھی حملے کی صورت میں ایسا جواب دیا جائے گا ’جس کا وہ (ایران) تصور بھی نہیں کر سکتے۔‘

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تعطل ختم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اور صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔

    دوسری جانب ایک اور اخبار ’ہاریتز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ممکنہ حملے کی تیاریوں میں تیزی لا رہا ہے، جبکہ اسرائیل اس انداز میں اقدامات کر رہا ہے گویا وہ ان منصوبوں کا حصہ ہو۔ اخبار کے مطابق اسرائیل خود کو کسی ثانوی کردار میں نہیں دیکھتا بلکہ وہ جنگ کے آغاز سے ہی فعال طور پر اس میں شامل ہے۔