جنوبی وزیرستان میں فائرنگ کے تبادلے میں پانچ شدت پسند اور چار فوجی اہلکار ہلاک
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے اور ہلاکتوں کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ یہاں موجود دیگر شدت پسندوں کا بھی خاتمہ کیا جا سکے۔
خلاصہ
ایران کا سیستان-بلوچستان میں 18 افغان تاجک شدت پسندوں کو ہلاک کرنےکا دعویٰ
نجاب حکومت کا سموگ کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر صوبے کے مختلف اضلاع میں تعلیمی ادارے بند کرنے اور سکولوں کو آن لاٸن کلاسز کا اہتمام کرنے کی ہدایت کر دی
اسرائیلی وزیر دفاع یواو گیلنٹ کو برطرف کرنے کے بعد ملک بھر میں وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے ’اعتماد کے بحران‘ کی وجہ سے اپنے وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا
لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ منگل کی شام ساحلی قصبے برجا پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں
لائیو کوریج
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کا پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دینے سے انکار, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے کوئٹہ میں 8 نومبر کو جلسہ منعقد کرنے سے متعلق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو ایک درخواست دی گئی تھی۔ جس سے متعلق فیصلہ کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے اس مقصد کے
لیے دو مقامات بھی تجویز کیے گئے تھے جن میں ایوب سٹیڈیم اور ہاکی گراونڈ شامل تھے۔
اس سلسلے میں
ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک مراسلے میں پی ٹی آئی کو سکیورٹی خدشات کی بنا پر جلسہ کی اجازت نہ دینے کے فیصلے سے متعلق آگاہ کیا گیا۔
مراسلے میں سپیشل
برانچ کی ایک رپورٹ کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ جس میں پی ٹی آئی کے جلسے اور صوبائی
اسمبلی کے حلقے پی بی 44 میں ری پولنگ کے موقع پر امن و امان کے حوالے سے خدشات کا
اظہار کیا گیا ہے۔
مراسلے کے
مطابق انھیں تاریخوں میں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے امتحانات ایوب سٹیڈیم میں ہو رہے
ہیں ایسے میں جلسے کا انعقاد مُمکن نہیں۔
ڈی آئی جی
کوئٹہ نے بھی کہا ہے کہ ’پولیس کی نفری ایوب سٹیڈیم میں جاری امتحانات کی وجہ سے
مصروف ہوگی جس کی وجہ سے جلسے کے شرکا کو سکیورٹی فراہم کرنے میں مُشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
واضح رہے کہ بلوچستان حکومت نے کھیل کے میدانوں میں سیاسی جلسوں پر پابندی عائد
کر رکھی ہے۔
تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے
خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
جنوبی وزیرستان میں فائرنگ کے تبادلے میں پانچ شدت پسند اور چار فوجی اہلکار ہلاک
،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی
وزیرستان میں ایک کارروائی میں پانچ شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔
جمعرات کو پاکستانی فوج کے شعبہ
تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں
کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں پانچ شدت پسند جبکہ اس کارروائی کے دوران چار فوجی
اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
پاکستانی فوج کے ہلاک ہونے والے
اہلکاروں کی شناخت نائب صوبیدار طائب شاہ، لانس نائیک گلاب زمان، لانس نائیک مزمل
محمود، اور لانس نائیک حبیب اللہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
پاکستانی فوج کی جانب سے جاری
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ یہاں موجود دیگر
شدت پسندوں کا بھی خاتمہ کیا جا سکے۔
پاکستان اور ایران نے بلوچستان میں کوئی مشترکہ کارروائی نہیں کی ہے: دفترِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے دفترِ خارجہ کا
کہنا ہے کہ پاکستان اور ایران کی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں سمگلروں کے خلاف
کوئی مشترکہ کارروائی نہیں کی ہے۔
گذشتہ روز ایرانی میڈیا کی
طرف سے اطلاعات سامنے آئیں تھیں کہ پاکستان اور ایران کی سکیورٹی فورسز نے
بلوچستان میں سمگلروں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے
اطلاعات کی تردید کردی ہے۔
جمعرات کو ہفتہ وار پریس
بریفنگ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے دفترِ خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ کا
کہنا تھا کہ ’یہ فیک نیوز ہے، پاکستان اور ایرانی حکام نے کوئی مشترکہ کارروائی
نہیں کی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ
سوشل میڈیا کی خبریں ہیں جو کہ دہشتگردوں نے پھیلائی ہیں۔‘
ممتاز زہرہ بلوچ کے مطابق پاکستانی
سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں 30 کلومیٹر اندر سمگلروں کے خلاف
آپریشن کیا ہے۔
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں 30 افراد ہلاک متعدد زخمی
،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان انتظامیہ کے مطابق بیروت کے
جنوب میں اسرائیلی فضائی حملے کا نشانہ بننے والی کثیر منزلہ
عمارت کے ملبے سے 30 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔
جنوبی بیروت میں منگل کے روز اسرائیلی
فضائی حملے میں سنی اکثریتی ساحلی قصبے برجا میں چار منزلہ عمارت کا ایک حصہ تباہ
ہو گیا تھا جس میں مبینہ طور پر بے گھر افراد رہائش پذیر تھے۔ عمارت پر حملے کے
بعد اس میں آگ بھڑک اُٹھی تھی۔
لبنان کی وزارت صحت کی جانب سے منگل
کی رات اسرائیلی حملے کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں 20 افراد کی ہلاکت کی
خبر سامنے آئی تھی۔ تاہم اسی کے ساتھ اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا تھا کہ ہلاکتوں
میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں
نے شیعہ مسلح گروپ حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ’عسکریت پسندوں‘ کے زیرِ استعمال عمارت
کو نشانہ بنایا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
جس عمارت کو نشانہ بنایا گیا اُس
کی بچ جانے والی بالائی منزلوں میں سے ایک کے رہائشی موسیٰ زہران نے بتایا کہ ان
کا بیٹا اور اہلیہ اس حملے میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔
انھوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز
کو بتایا کہ ’اس عمارت میں لگے پتھروں کا وزن 100 کلو گرام سے بھی زیادہ ہے، اور
یہ پتھر میرے 13 کلو کے معصوم بیٹے پر گرے۔ میں نے اپنی مدد آپ کے تحت ان پتھروں
کو ہٹایا اور پہلے اپنے بیٹے کو اور بعد میں اپنی اہلیہ کو ان کے نیچے سے نکالا۔
ان دونوں کا بچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔‘
آئرش ٹائمز کے نامہ نگار نے موقع
پر موجود سول ڈیفنس کے ایک رکن کے حوالے سے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سات
خواتین اور تین بچے شامل ہیں جن میں سات ماہ کا بچہ اور سات اور بارہ سال کی دو
بچیاں شامل ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی
فضائی حملے کا نشانہ بننے والی عمارت کے پڑوس میں رہنے والے لوگوں نے یہ بھی بتایا
کہ اس عمارت میں بے گھر افراد کو رکھا گیا تھا جو دوسرے علاقوں سے نقل مکانی کر کے
یہاں ایک محفوظ مقام کی تلاش میں آئے تھے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق
حملے سے قبل انخلا کی کوئی انتباہ جاری نہیں کی گئی تھی۔
بدھ کی شام لبنانی ذرائع ابلاغ نے
جنوبی شہر نباتیہ اور بیروت کے جنوبی مضافات میں اسراییل کی جانب سے مزید فضائی
حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ یہ حملہ اسرائیلی فوج کی جانب سے شہریوں کو
متعدد عمارتوں کے آس پاس کے علاقوں کو خالی کرنے کی انتباہ کے چند ہی گھنٹوں کے
بعد کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ہونے والی انتباہ میں کہا گیا تھا کہ وہ
’حزب اللہ سے وابستہ تنصیبات‘ کے خلاف کارروائی کرنے والی ہیں۔
190 ملین پاؤنڈ کیس: گواہان پر جرح مکمل، عمران خان اور بشریٰ بی بی کا بیان 8 نومبر کو ریکارڈ ہوگا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کے دوران سابق وزیرِ اعظم عمران
خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے وکیلوں نے ریفرنس کے 35 گواہوں پر جرح مکمل کر
لی جس کے بعد عدالت نے دونوں ملزمان کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے آٹھ نومبر کی تاریخ مقرر کر دی۔
بدھ کے روز احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے لیے عمران خان کو عدالت میں پیش کیا گیا تو اس موقع پر بشریٰ بی بی
بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔
دورانِ سماعت عمران خان کے وکیل ظہیر عباس اور بشری بی بی کے وکیل
عثمان گل نے گواہوں پر جرح مکمل کی۔
نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس کیس میں مزید کوئی شواہد پیش نہیں
کرنا چاہتے جس کے بعد عدالت نے سابق وزیرِ اعظم اور بشری بی بی کے 342 کے بیان ریکارڈ
کرنے کے لیے آٹھ نومبر کی تاریخ مقرر کر دی۔
342 کا بیان کیا ہوتا ہے؟
فوجداری مقدمات میں ملزم کو کچھ بنیادی حقوق دیے گئے ہیں۔ جن میں سے سب سے اہم
اسے براہ راست صفائی کا موقع فراہم کرنا ہے۔
یہ بیان اگرچہ کسی بھی وقت ریکارڈ کرایا جا سکتا ہے مگرعام طورپرجب ملزم کے
وکلا استغاثہ کی طرف سے پیش کیے گئے تمام ثبوتوں اور گواہان پر جرح مکمل کر لیتے ہیں
تو پھرعدالت ملزم کا ایک بیان ریکارڈ کرتی ہے، جسے ضابطہ فوجداری میں 342 کا بیان
کہا جاتا ہے۔
اس بیان میں ملزم جج کو براہ راست بتاتا ہے کہ وہ کیسے قائم کیے مقدمے میں بے
گناہ ہے اور اس پر مقدمہ قائم کرنے کی پیچھے کیا محرکات ہو سکتے ہیں۔ ملزم کو آزادی
ہوتی ہے کہ وہ بغیر حلف لیے جو بھی کہنا چاہے عدالت کے سامنے کہہ دے۔
قانون میں یہ کہا جاتا ہے کہ کسی ملزم کو سنے بغیر سزا نہیں سنائی جا سکتی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
القادرٹرسٹ کیس یا 190 ملین پاونڈ کیس کیا ہے؟
القادر ٹرسٹ کیس اس ساڑھے چار سو کنال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔
سابق وزیراعظم عمران خان کو 9 مئی کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے القادر ٹرسٹ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
پی ڈی ایم کی حکومت نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ معاملہ عطیے کا نہیں بلکہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے۔
حکومت کا دعویٰ تھا کہ 'بحریہ ٹاؤن کی جو 190ملین پاؤنڈ یا 60 ارب روپے کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک ریاض کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔'
حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کے عوض بحریہ ٹاؤن نےمارچ 2021 میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کو ضلع جہلم کے علاقے سوہاوہ میں 458 کنال اراضی عطیہ کی اور یہ معاہدہ بحریہ ٹاؤن اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے درمیان ہوا تھا۔
جون 2022 میں پاکستان کی اتحادی حکومت نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے بحریہ ٹاؤن کے ساتھ معاہدے کے بدلے اربوں روپے کی اراضی سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے نام منتقل کی۔
اس وقت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اس خفیہ معاہدے سے متعلق کچھ تفصیلات بھی منظرعام پر لائی گئی تھیں۔ ان دستاویزات پر سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بطور ٹرسٹی القادر یونیورسٹی پراجیکٹ ٹرسٹ کی جانب سے دستخط موجود تھے۔
قومی احتساب بیورو نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کے نام پر سینکڑوں کنال اراضی سے متعلق انکوائری کو باقاعدہ تحقیقات میں تبدیل کیا ہے۔
پنجاب حکومت کا سموگ کے پیش نظر سکولز بند کرنے اور آن لائن کلاسز کی ہدایت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں سموگ کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت نے مختلف
اضلاع میں تعلیمی ادارے بند کرنے اور سکولوں کو آن لاٸن کلاسز کا اہتمام کرنے کی
ہدایت کر دی۔
ڈی جی ماحولیات پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفیکشن میں کہا گیا ہے کہ بارہویں
جماعت اور اے لیولز تک کے تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے سات نومبر سے 17
نومبر تک بند رہیں گے۔
نوٹیفکیشن میں تمام تعلیمی اداروں کو کلاسز آن لائن لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس فیصلے کا اطلاق لاہور، شیخوپورہ، قصور، ننکانہ صاحب، گوجرانوالہ، گجرات،
حافظہ آباد، منڈی بہاالدین، سیالکوٹ اور نارووال پر ہوگا۔
اس کے علاوہ فیصل آباد، چنیوٹ، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ملتان، لودھران، وہاڑی
اور خانیوال میں بھی سکول بند رہیں گے۔
گذشتہ ماہ کے آخر میں پنجاب حکومت نے صوبائی دارالحکومت لاہور کے کم از کم 10 علاقوں میں ’گرین
لاک ڈاؤن‘ لگا نے کا اعلان کیا تھا۔
حکومت نے گرین لاک ڈاؤن کے علاقوں میں ’چنگ چی‘ رکشوں اور بھاری ٹریفک کے
داخلے پر پابندی، سرکاری اور نجی اداروں کی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی بڑی پارکنگز
کو ان علاقوں سے نکالنے جبکہ دفاتر میں ’ہائبرڈ ورکنگ‘ یعنی گھر سے کام کے اصول جیسے
اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
پنجاب حکومت کا یہ بھی کہنا تھا کہ لاہور اور پنجاب کے چند دوسرے شہروں میں کم
از کم 30 فیصد حصہ اس سموگ پر مشتمل ہے جو انڈیا کے پنجاب کی طرف سے ہواؤں کے ذریعے
پاکستان میں داخل ہو رہی ہے جو کہ ایک سالانہ رجحان ہے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیر اعلٰی مریم نواز نے کہا تھا کہ سموگ کے مسئلے
سے نمٹنے کے لیے وہ انڈیا کے ساتھ ’کلائمٹ ڈپلومیسی‘ یعنی ماحولیاتی سفارت کاری
چاہتی ہیں اور اس سلسلے میں وہ انڈین پنجاب میں اپنے ہم منصب یعنی وزیر اعلٰی کو
خط لکھنے کا بھی سوچ رہی ہیں۔
کوئٹہ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم کیمپ نذرِ آتش
پاکستان کے صوبے بلوچستان
کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم کیمپ
کو نذر آتش کر دیا۔
یہ کیمپ وائس فار
بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے شارع عدالت پر کوئٹہ پریس
کلب کے قریب لگایا گیا ہے۔
وائس فار بلوچ
مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے بتایا کہ گزشتہ شب نامعلوم افراد نے
اس کیمپ کو ایک مرتبہ پھر آگ لگا دی۔
ان کا کہنا تھا کہ چند روز قبل بھی اس کیمپ کو نظر آتش کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم اس مرتبہ کیمپ کو زیادہ
نقصان پہنچا ہے۔
ماما قدیر کے
مطابق آتشزدگی کی وجہ سے کیمپ کے تین اطراف لگیں قناعتیں مکمل طور پر جل گئی ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ
یہ کیمپ 5 ہزار 6 سو سے زیادہ دنوں سے لگا ہوا ہے۔ ماما قدیر کا کہنا ہے کہ ایسے حربوں
سے ہمیں پر امن جدوجہد سے دستبردار نہیں کرایا جا سکتا۔
انھوں نے مطالبہ
کیا ہے کہ کمیپ کو نذرآتش کرنے میں ملوث ملزمان کے خلاف کاروائی کی جائے۔
تاحال اس واقعے کی پولیس رپورٹ درج نہیں ہوئی ہے۔
لبنان: ساحلی قصبے برجا پر اسرائیلی فضائی حملہ، 20 افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان کی وزارت
صحت کا کہنا ہے کہ منگل کی شام ساحلی قصبے برجا پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 20
افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
وزارت صحت کے
مطابق بیروت سے تقریباً 20 کلومیٹر جنوب میں واقع قصبے برجا میں ہونے والے حملے کا
نشانہ ایک عمارت تھی۔
لبنانی خبر رساں
ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں بنت جبل سمیت کئی علاقوں پر حملے
کیے ہیں۔ اسرائیلی فوج ان علاقوں میں پیش قدمی کی کوشش کر رہی ہے۔
مشرقی لبنان میں
اسرائیل فوج نے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں سوار بے گھر خاندان کے
افراد بالبیک سے طالیہ جا رہے تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں گاڑی میں سوار تین بچے ہلاک
جب کہ ان کی والدہ زخمی ہو گئیں۔
منگل کے روز حزب
اللہ نے اسرائیلی فوجیوں، فوجی اڈوں اور شمالی اسرائیل کے قصبوں کو نشانہ بنانے کا
دعویٰ کیا۔
دوسری جانب اسرائیلی
فوج کا دعویٰ ہے کہ حزب اللہ نے منگل کے روز اسرائیل پر 40 راکٹ داغے تھے۔
ایران کا سیستان-بلوچستان میں 18 افغان تاجک شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
ایران کا کہنا ہے کہ سیستان-بلوچستان میں سکیورٹی آپریشنز میں 18 افغان تاجک شدت پسند مارے گئے
ہیں۔
ایرانی میڈیا کے
مطابق پاسداران انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد پاکپور نے ایران کے شہر زاہدان
میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ راسک، چابہار اور پارود کے علاقوں میں مارے جانے والے
خودکش بمبار تھے جو پیٹرول کے ٹینکرز کی آڑ میں ایران میں داخل ہوئے تھے۔
انھوں نے دعویٰ
کیا کہ 'کرائے کے جنگجو صیہونی حکومت کی مدد سے ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں
موجود ہیں۔ ان جنگجوؤں نے ملک کے جنوب مشرق میں ہمارے لوگوں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں
کی ہیں۔'
بریگیڈیئر جنرل
محمد پاکپور نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے پاس تفصیلی معلومات ہیں کہ دشمن کی انٹیلی
جنس ایجنسیاں ان گروہوں کو خطے میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
تاہم ایران کی
جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق کس گروہ سے تھا۔
یہ پہلی دفعہ ہے
کہ کسی ایرانی فوجی اہلکار نے ملک کی سر زمین پر 'افغان تاجک نژاد شدت پسند گروہ' سے تعلق رکھنے والے افراد کی
ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
تین روز قبل ایران
کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے صوبہ سیستان و بلوچستان کا ایک روزہ دورہ کیا تھا۔
انھوں نے ایران کی
مشرقی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے منصوبے اور پاکستان اور افغانستان سے ملحقہ میرجاویہ
کے علاقے کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کا جائزہ لیا تھا۔
کئی کلومیٹر طویل
نہروں کی تعمیر، مصروف سڑکوں اور وادیوں کے درمیان کنکریٹ کی کئی رکاوٹیں اور
پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر کئی کلومیٹر طویل دیواروں کی تعمیر ان اقدامات میں
شامل ہیں جو ایران نے گزشتہ برسوں میں ملک کی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے اٹھائے
ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع کی برطرفی کے بعد ملک میں نتن یاہو کے خلاف احتجاجی مظاہرے, جون ڈونیسن، جورج رائٹ، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کی
جانب سے ملک کے وزیر دفاع یواو گیلنٹ کو برطرف کرنے کے بعد ملک بھر میں وزیراعظم
کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
یاد رہے کہ منگل کی شام نتن یاہو نے ’عدم
اعتماد‘ کی وجہ سے اپنے وزیر دفاع یواو گیلنٹ کو اُن کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ وزیر
اعظم آفس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں نتن یاہو کا کہنا تھا کہ گذشتہ مہینوں کے
دوران یواو گیلنٹ پر سے اُن کا اعتماد اُٹھ گیا ہے اور یہ کہ اب موجودہ وزیر خارجہ
اسرائیل کاٹز اُن کی جگہ بطور وزیر دفاع کام کریں گے۔
اسرائیلی حلقوں میں گیلنٹ کے متبادل کے
طور پر آنے والے اسرائیل کاٹز کو عسکری حکمت عملی کے لحاظ سے زیادہ خطرناک سمجھا
جاتا ہے۔
وزیر دفاع کی برطرفی سے متعلق نتن یاہو
کے اعلان کے فوراً بعد مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ بہت سے لوگوں نے وزیر اعظم سے
مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا اور نئے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز سے مطالبہ کیا کہ وہ
غزہ میں بقیہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے معاہدے کو ترجیح دیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق کچھ لوگوں نے ایک
ہائی وے پر جلاؤ گھیراؤ بھی کیا جس کے باعث ٹریفک معطل ہو گئی۔
حماس کے 7 اکتوبر کے حملے میں یرغمال
بنائے گئے افراد کے خاندانوں کی نمائندگی کرنے والے ایک گروپ نے بھی نتن یاہو کی
جانب سے گیلنٹ کی برطرفی کے اقدام کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے تنقید کی کہ نتن یاہو
کا یہ اقدام ایک بار پھر یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو ’پچھاڑنے‘ کی کوشش ہے۔
مظاہرین میں شامل ایک فرد یائر امیت نے
کہا کہ نتن یاہو پورے ملک کو خطرے میں ڈال رہے ہیں ناصرف جنوب اور شمال کو، جہاں
اسرائیل غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وزیر
اعظم ’اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں اور سنجیدہ لوگوں کو اسرائیل کی قیادت کرنے دیں۔‘
منگل کی رات یواو گیلنٹ کی برطرفی پر ردعمل
ظاہر کرتے ہوئے اسرائیل کی سیاسی اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے عوام سے احتجاج کا
مطالبہ کیا تھا۔
یواو گیلنٹ کو ہٹانے کا فیصلہ 48 گھنٹوں
میں نافذ ہو گا کیونکہ نئے وزرا کی تقرری کے لیے حکومت اور پھر کابینہ کی منظوری
درکار ہوتی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کئی میڈیا اداروں کے مطابق گیلنٹ کی
برطرفی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب غزہ جنگ میں اسرائیل کے کلیدی حمایتی امریکہ میں
صدارتی انتخاب ہو رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نتن یاہو کے مقابلے گیلنٹ
کے وائٹ ہاؤس کے ساتھ قدرے بہتر تعلقات تھے۔
وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ایک
نمائندے نے کہا کہ ’وزیر گیلنٹ اسرائیل کے دفاع سے متعلق تمام معاملات میں ہمارے ایک
اہم پارٹنر رہے ہیں۔ قریبی شراکت دار کے طور پر ہم اسرائیل کے اگلے وزیر دفاع کے
ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔‘
مبصرین کا کہنا ہے کہ یواو گیلنٹ کی
برطرفی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب نتن یاہو پر انتہائی دائیں بازو کے سیاست
دانوں کا دباؤ ہے کہ وہ ایک ایسا بِل منظور کریں جو اسرائیل کے انتہائی قدامت پسند
شہریوں کو فوج میں خدمات انجام دینے سے مستثنیٰ ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ گیلنٹ اس
بل کے مخالف رہے تھے۔
اپنے عہدے سے ہٹائے جانے کی خبر ملنے کے
بعد یواو گیلنٹ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ ’ریاست اسرائیل کی سلامتی میری زندگی
کا مشن تھی اور رہے گی۔‘
منگل کی رات انھوں نے ایک مکمل بیان جاری
کیا جس میں انھوں نے کہا کہ ’تین مسائل پر اختلافات کی وجہ سے‘ انھیں عہدے سے ہٹایا
گیا ہے۔ گیلنٹ کا ماننا ہے کہ غزہ میں جنگ کے بجائے حماس کے ساتھ معاہدے کو برتری
دینی چاہیے تاکہ یرغمالیوں کو آزاد کروا لیا جائے جبکہ نتن یاہو اس سوچ کے خلاف ہیں۔‘
گیلنٹ کا مزید کہنا ہے کہ قومی سطح پر اس
معاملے کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔
اُن کا یہ بھی ماننا ہے کہ اسرائیل کے
انتہائی قدامت پسند شہریوں کو فوج میں خدمات انجام دینے سے مستثنیٰ رہنے کی اجازت
نہیں ہونی چاہیے۔
7 اکتوبر 2023
کو حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے 251 میں سے 100 کے قریب اسرائیلی شہری غزہ جنگ
کے ایک سال سے زائد عرصے تک لاپتہ رہے۔ ماضی میں بھی نتن یاہو اور گیلنٹ کے درمیان
کئی بار تنازعات دیکھے گئے ہیں۔ مارچ میں نتن یاہو نے عدالتی نظام میں اصلاحات پر
اختلاف کے بعد گیلنٹ کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ تاہم اسرائیل کے کئی شہروں میں
مظاہروں کے بعد انھیں واپس عہدے پر بحال کیا گیا تھا۔
مئی میں گیلنٹ نے کہا تھا کہ اسرائیلی
حکومت غزہ جنگ کے بعد کی منصوبہ بندی کو لے کر ناکام رہی ہے۔ گیلنٹ چاہتے تھے کہ
نتن یاہو یہ اعلان کریں گے اسرائیل کا غزہ پر قبضے کا کوئی ارادہ نہیں۔
اس سے یہ ظاہر ہوا تھا کہ اسرائیلی کی
جنگ کی کابینہ میں فوجی مہم کو لے کر اسرائیل میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ گیلنٹ
نے کہا تھا کہ ’اکتوبر سے میں کابینہ میں مسلسل اس مسئلے پر بات کر رہا ہوں اور
مجھے کوئی جواب نہیں ملا۔‘
نتن یاہو نے جواب میں کہا تھا کہ وہ
’حماستان کو فتحستان سے بدلنے کے لیے تیار نہیں۔‘ وہ حریف فلسطینی گروہوں حماس اور
فتح کی بات کر رہے تھے۔
نتن یاہو نے اسرائیلی وزیر دفاع کو عہدے سے ہٹا دیا: ’میرا اُن پر سے اعتماد اُٹھ چکا ہے‘
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن
نتن یاہو نے ’اعتماد کے بحران‘ کی وجہ سے اپنے وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کو ان کے عہدے
سے ہٹا دیا ہے۔
نتن یاہو نے ایک بیان میں
کہا کہ گذشتہ مہینوں کے دوران گیلنٹ پر سے ان کا اعتماد اُٹھ گیا ہے۔ وزیر خارجہ یسرائیل
کانس ان کی جگہ بطور وزیر دفاع کام کریں گے۔ گیدون سعار نئے وزیر خارجہ ہوں گے۔
گیلنٹ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں
کہا کہ ’ریاستِ اسرائیل کی سلامتی ہمیشہ سے میری زندگی کا مشن تھی اور رہے گی۔‘
نتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ ’خاص
طور پر جنگ کے دوران وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے درمیان مکمل اعتماد درکار ہوتا
ہے۔‘
’اگرچہ مہم کے ابتدائی مہینوں کے
دوران ایسا اعتماد موجود تھا تاہم بدقسمتی سے گذشتہ مہینوں کے دوران میرے اور وزیر
دفاع کے درمیان اعتماد کا بحران پیدا ہوا۔‘
نتن یاہو نے مزید کہا کہ ’میری اور
گیلنٹ کی جنگ کی مینجمنٹ میں واضح فرق دریافت ہوا ہے۔‘
’حکومت اور کابینہ کے فیصلوں
کا بیانات
اور اقدام سے تضاد تھا۔‘
نتن یاہو نے کہا کہ انھوں نے اس فرق کو پُر کرنے کے لیے بڑی کوششیں کیں مگر یہ بڑھتا گیا اور
’ہمارے دشمنوں نے اس کا بہت فائدہ اٹھایا۔‘
نتن یاہو اور گیلنٹ کے درمیان کئی
بار تنازعات دیکھے گئے ہیں۔
مارچ میں نتن یاہو نے عدالتی نظام
میں اصلاحات پر اختلاف کے بعد گیلنٹ کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ تاہم اسرائیل کے کئی
شہروں میں مظاہروں کے بعد انھیں واپس عہدے پر بحال کیا گیا۔
مئی میں گیلنٹ نے کہا تھا کہ اسرائیلی
حکومت غزہ جنگ کے بعد کی منصوبہ بندی کو لے کر ناکام رہی ہے۔ گیلنٹ چاہتے تھے کہ
نتن یاہو یہ اعلان کریں گے اسرائیل کا غزہ پر قبضے کا کوئی ارادہ نہیں۔
اس سے یہ ظاہر ہوا تھا کہ اسرائیلی
کی جنگ کی کابینہ میں فوجی مہم کو لے کر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ گیلنٹ نے کہا تھا
کہ ’اکتوبر سے میں کابینہ میں مسلسل اس مسئلے پر بات کر رہا ہوں اور مجھے کوئی
جواب نہیں ملا۔‘
نتن یاہو نے جواب میں کہا تھا کہ وہ
’حماستان کو فتحستان سے بدلنے کے لیے تیار نہیں۔‘ وہ حریف فلسطینی گروہوں حماس اور
فتح کی بات کر رہے تھے۔
کرم میں مسافر گاڑی پر فائرنگ، دو افراد ہلاک اور ایک خاتون زخمی
پاکستان کے صوبے
خیبر پختونخوا کی تحصیل لوئر کرم کے علاقے اوچت کے نزدیک مسلح افراد کی مسافر گاڑی
پر فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پولیس نے اس
واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون بھی زخمی ہونی
ہیں۔
واقعے میں جاں
بحق ہونے والے ایک شخص کی شناخت وہاب علی کے نام سے ہوئی ہے۔
بی بی سی سے بات
کرتے ہوئے وہاب علی کے بہنوئی منظر نے بتایا کہ واقعے میں زخمی ہونے والی خاتون
وہاب کی بیوی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاب کئی برسوں سے قطر کے شہر دوحہ میں رہائش
پذیر تھے اور 15 سے 20 دن قبل پاکستان واپس پہنچے تھے۔
منظر نے بتایا کہ
وہاب وطن واپس آنے کے بعد سے پاڑہ چنار میں اپنے گھر جانا چاہتے تھے لیکن راستے
بند ہونے کی وجہ سے وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ پشاور کے ایک ہوٹل میں رکے ہوئے تھے۔
آن کے مطابق
وہاب نے آج بذریعہ گاڑِی اپنی بیوی کے ہمراہ پاڑہ چنار پہنچنے کی کوشش کی لیکن راستے
میں ان کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں وہاب ہلاک جبکہ ان کی بیوی زخمی ہو
گئیں۔
پولیس کا کہنا
ہے کہ فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہے اور واقعے کی تحقیات کی جارہی
ہے۔
ضلع کُرم میں 12
اکتوبر کو اپر کرم کے علاقے کونج علیزئی میں ہوئے مسافر وین قافلے پر حملے کے نتیجے
میں متعدد افراد کی ہلاکت کے بعد سے پاڑہ چنار، پشاور روڈ ہر قسم کی آمدورفت کے لیے
بند کر دی گئی تھی۔ اس حملے کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پاڑہ چنار کا
نواحی علاقہ بوشہرہ بظاہر خیبر پختونخوا کے کسی عام پہاڑی علاقے جیسا ہی ہے لیکن یہاں
واقع زمین کا ایک ٹکڑا ایسا ہے جس پر ہونے والے تنازع میں اب تک درجنوں افراد کی
جان جا چُکی ہے۔
اندازاً 100
کنال زمین کی ملکیت کا تنازع بوشہرہ کے دو دیہات میں مقیم قبائل کے درمیان ہے۔ اس
علاقے میں رواں برس ہونے والے پُرتشدد واقعات کے باعث زمین کا یہ علاقہ درجنوں افراد
کی جان لے چُکا ہے اور متعدد افراد ان جھڑپوں میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔
افغانستان میں
طالبان کی حکومت کے اقتدار میں آنے اور سرحد پر باڑ لگنے سے پہلے لوگ متبادل راستے
کے طور پر افغانستان سے ہو کر پاکستان کے دوسرے علاقوں میں میں داخل ہوتے تھے لیکن
اب وہ متبادل راستے بند ہو چکے ہیں۔
جہاں شاہراؤں کی
بندش کی وجہ سے علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور مریض علاج معالجے کے لیے پشاور یا
کوہاٹ کے ہسپتال نہیں پہنچ پا رہے ہیں وہیں بیرونِ ملک جانے والے افراد بھی ایئر
پورٹ نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ دوسری جانب بیرونِ ملک سے آنے والے وہ افراد جن کا
تعلق پاڑہ چنار سے ہے وہ بھی اپنے گھر نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں ایف سی کی گاڑی پر فائرنگ، دو اہلکار ہلاک
پاکستان کے صوبے
خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کی گاڑی پر
شدت پسندوں کی فائرنگ کے نتیجے میں ایف سی کے دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
ترجمان وزارت
داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کے تھانہ درابن کی حدود میں ہونے والے اس حملے میں ایف سی کے دیگر چار اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
مرنے والوں کی
شناخت سپاہی شیر الرحمن اور سپاہی سید امین کے نام سے ہوئی ہے۔ شیر الرحمن کا تعلق
جنوبی وزیرستان سے ہے جب کہ سپاہی سید امین صوابی کے رہنے والے تھے۔
زخمیوں میں حوالدار امتیاز، سپاہی محب شاہ، سپاہی
صاحب دین اور سپاہی فضل کریم شامل ہیں جنھیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا
ہے۔
وزیرِ اعظم آفس
سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایف سی کے
قافلے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے زخمی اہلکاروں کو بہتریں طبی سہولیات فراہم کرنے
کی ہدایت کی ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے پہلا آئینی بینچ تشکیل دے دیا، جسٹس امین الدین خان سربراہ مقرر
،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan
جوڈیشل کمیشن آف
پاکستان نے 26ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں ملک کا پہلے آئینی بینچ تشکیل دے دیا۔
سات رکنی آئینی
بینچ کی منظوری منگل کے روز چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہونے والے جوڈیشل
کمیشن آف کے پاکستان کے اجلاس میں دی گئی۔
سپریم کورٹ کے
جج جسٹس امین الدین خان آئینی بینچ کے سربراہ نامزد کیے گئے ہیں جب کہ بینچ کے دیگر
نامزد ارکان میں جسٹس عائشہ ملک، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس نعیم
اختر افغان، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔
جوڈیشل کمیشن کی جانب سے جاری
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمیشن نے سات پانچ کے تناسب سے بینچ کی تشکیل کی منظوری
دی۔ یہ بینچ دو ماہ کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں اس
بات کا ذکر نہیں کہ کن اراکین نے بینچ کے حق میں ووٹ دیے اور کن اراکین نے اس کی
مخالفت کی۔
تاہم کمیشن میں
شامل پاکستان بار کونسل کے اختر حسین کے مطابق بینچ کی تشکیل کی مخالفت کرنے والوں
میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، سینیٹر شبلی فراز
اور ممبر قومی اسمبلی عمر ایوب شامل ہیں۔
اختر حسین کا
کہنا تھا کہ ان کے علاوہ بینچ کے حق میں ووٹ دینے والوں میں وفاقی وزیر قانون اعظم
نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، سینیٹر فاروق ایچ نائیک، رکن قومی اسمبلی شیخ
آفتاب احمد اور روشن خورشید شامل ہیں۔ ان کے مطابق جسٹس امین الدین خان نے بھی بینچ
کے حق میں ووٹ دیا۔
دوسری جانب جسٹس
امین الدین خان پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے رکن بھی بن گئے ہیں۔
پریکٹس اینڈ
پروسیجر ترمیمی ایکٹ کے تحت آئینی بینچ کے سربراہ کمیٹی کے تیسرے رکن ہوں گے۔
جسٹس جمال مندوخیل
کو جسٹس امین الدین خان کی جگہ جوڈیشل کمیشن کا 13واں رکن بنا دیا گیا ہے۔
نئی آئینی ترمیم
کے مطابق اگر آئینی بینچ کا سربراہ جوڈیشل کمیشن کا رکن ہوا تو ان کی جگہ دوسرے سینیئر
جج جوڈیشل کمیشن کے رکن بنیں گے۔
ان کے علاوہ چیف
جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس منصور علی شاہ کمیٹی کے رکن ہیں۔
بی بی سی کے
نمائندے شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے رکن اختر حسین نے بتایا
کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے دوران دو مختلف آرا سامنے آئیں۔ ان کے مطابق ایک رائے
یہ تھی کہ پوری سپریم کورٹ کو ہی آئینی کورٹ قرار دے دیا جائے جبکہ دوسری رائے آئینی
بینچ کے تشکیل کے حق میں تھی۔ اختر حسین کا کہنا تھا کہ کمیشن کے سات اراکین نے آئینی
بینچ تشکیل دینے کی حمایت کی اور ان ہی اراکین نے جسٹس امین الدین خان کے حق میں
ووٹ دیا۔
رواں ماہ قومی
اسمبلی اور سینیٹ نے 26 ویں آئینی ترمیم کا بل دو تہائی اکثریت منظور کر لیا جس کے
بعد صدر آصف علی زرداری نے اس پر دستخط کرکے اسے آئین کا حصہ بنا دیا۔
26ویں
آئینی ترمیم کے ذریعے آئین میں آرٹیکل 191 اے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ آرٹیکل آئینی
بینچوں کی تشکیل سے متعلق ہے۔
ترمیم کے مطابق
آئینی بینچوں کی تعداد اور ان کی مدت کا فیصلہ سپریم جوڈیشل کمیشن کرے گی۔ جوڈیشل
کمیشن ان آئینی بینچوں میں تمام صوبوں سے تعلق رکھنے والے ججز کی برابر نمائندگی
کو یقینی بنائے گا۔
بل میں کہا گیا
کہ اس آئینی بینچ کے پاس موجود اختیارات کسی دوسرے بینچ کو تفویض نہیں کیے جا
سکتے۔
اس ترمیم میں یہ
بھی کہا گیا کہ ججز کی تعیناتی سے متعلق جوڈیشل کمیشن میں ہونے والی کارروائی ان کیمرا
ہو گی تاہم اس کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔
حج پالیسی 2025 وفاقی کابینہ سے منظور، اگلے برس ایک لاکھ 79 ہزار پاکستانی حج ادا کریں گے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کی وفاقی
کابینہ نے وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کی سفارش پر حج پالیسی 2025 کی
منظوری دے دی۔
پالیسی کی منظوری
منگل کے روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں
دی گئی۔
اجلاس کے دوران
وفاقی کابینہ کو بتا گیا کہ 2025 میں ایک لاکھ 79 ہزار 210 پاکستانی
حج ادا کر سکیں گے۔
پاکستان کو ملنے
والے حج کوٹے کو سرکاری اور نجی شعبے میں 50:50 کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گا۔
پالیسی کے تحت 12
سال سے کم عمر بچوں کو اس سال حج کی اجازت نہیں ہو گی۔
کابینہ کو بتایا
گیا کہ سرکاری کوٹے کی تقسیم کے لیے کمپیوٹرآئزڈ بیلیٹنگ کی جائے گی جبکہ ایک ہزار
نشتیں ہارڈ شپ کیسز کے لئے مختص ہوں گی۔ اس کے علاوہ 300 نشستیں ورکرز ویلفیئر فنڈ
یا ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوٹ سے رجسٹرد مزدوروں یا کم آمدنی والے ملازمین
کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا
کہ حجاج کو بہتر سہولیات کی فراہمی کی نگرانی کے لیے ہر 100 حجاج پر ایک ناظم مقرر
کیا جائے گا۔ ان ناظمین کا انتخاب ویلفیئر اسٹاف میں سے ہی کیا جائے گا۔
نئی پالیسی کے
تحت دوارنِ حج مرنے اور زخمی ہونے والوں افراد کے لیے معاوضہ بڑھا دیا گیا ہے۔ مرنے
والے حجاج کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے سے 20 لاکھ روپے کے درمیان معاوضہ دیا جائے
گا جبکہ زخمی ہونے والوں کو 10 لاکھ روپے معاوضہ ملے گا۔
اجلاس کے دوران وفاقی
کابینہ نے ہدایت کی ہے کہ حج بیلٹنگ میں ایسے افراد کو ترجیح دی جائے جو پہلی مرتبہ حج
کی ادائیگی کریں گے۔
کراچی: سکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے دو چینی شہری زخمی، وزیر داخلہ سندھ کی ملزم کو گرفتار کرنے کی ہدایت
،تصویر کا ذریعہKashif Nazami
کراچی پولیس نے تھانہ سائٹ کے علاقے میں سکیورٹی گارڈ کی
جانب سے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں دو چینی شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
ڈی آئی جی اسد رضا نے بی بی سی کو اس
واقعے میں دو چینی شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم انھوں نے مزید تفصیلات
فراہم نہیں کی ہیں۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کے
آفس سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں اسے ’سکیورٹی گارڈ اور غیرملکی مندوبین کے مابین جھگڑے کا
واقعہ‘ قرار دیتے ہوئے کراچی پولیس کو اس واقعے میں ملوث سکیورٹی گارڈ کی گرفتاری
کی ہدایات جاری کی ہیں۔
وزیر داخلہ سندھ نے چینی ماہرین اور
چینی باشندوں سمیت غیرملکیوں کو سکیورٹی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے آڈٹ کے
احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی جیسے اہم فرائض پر مامور گارڈز کے جسمانی
و دماغی فٹنس ٹیسٹ کو یقینی بنایا جائے۔
پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ
صرف تربیت یافتہ اور مکمل طور فٹ سکیورٹی گارڈ ہی کی خدمات حاصل کی جائیں جبکہ
متعلقہ حکام سکیورٹی کمپنیوں کے آڈٹ پر مشتمل رپورٹ وزیر داخلہ کے آفس میں جمع
کروائیں۔ وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی سکیورٹی کمپنیوں
کے خلاف متعلقہ حکام کریک ڈاؤن کریں۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے
مطابق دونوں چینی شہریوں کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جن میں سے ایک
کی حالت نازک ہے۔
حکام کی جانب سے فی الحال یہ واضح
نہیں کیا گیا ہے اس واقعے کے محرکات کیا تھے اور زخمی ہونے والے چینی باشندے کس
حیثیت میں کراچی میں موجود تھے۔
پاکستان میں چینی باشندوں کی بڑی
تعداد چین پاکستان اقتصادی راہداری سے منسلک منصوبوں میں کام کرنے کے لیے موجود ہے
اور گذشتہ چند برسوں کے دوران ان پر حملے کیے جاتے رہے ہیں۔
گذشتہ ماہ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے
قریب ایک بم دھماکے میں دو چینی انجینئرز ہلاک ہوئے تھے جس کی ذمہ داری بلوچستان
کے ایک علیحدگی پسند گروہ نے قبول کی تھی۔ اس واقعے کے بعد حکومت نے پاکستان میں
موجود چینی شہریوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات اٹھانے کا اعلان
کیا تھا۔
سپریم کورٹ کے دو سینیئر ججز کا چیف جسٹس سے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں رواں ہفتے فُل کورٹ کے سامنے لگانے کا مطالبہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan
سپریم
کورٹ کے دو سینیئر ججز جن میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں، نے
پاکستان کے چیف جسٹس کو ایک خط لکھا ہے۔
سپریم
کورٹ کے دو سینیئر ججز کی جانب سے لکھ جانے والے اس خط میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس
کی جانب سے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت کمیٹی کا اجلاس نہ بلائے جانے پر انھوں
نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو فل کورٹ کے سامنے لگانے کا فیصلہ کیا
تھا، تاہم رجٹسرار آفس کی جانب سے اس ضمن میں کوئی کاز لسٹ جاری نہیں کی گئی۔
ان
دو ججز کی جانب سے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو لکھے گئے خط میں یہ کہا گیا ہے کہ
انھوں نے کہا تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت قائم کی گئی تین رکنی کمیٹی
کا اجلاس بلایا جائے جس میں 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سپریم کورٹ میں دائر کی
گئی درخواستوں کو سماعت کے مقرر کیا جائے لیکن اس ضمن میں چیف جسٹس کی جانب سے
اجلاس نہیں بلایا گیا۔
اس خط میں انھوں نے پریکٹس اینڈ
پروسیجر ایکٹ کی ایک شق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی جانب سے کمیٹی کا
اجلاس نہ بلائے جانے پر ان دونوں ججز نے 31 اکتوبر کو اجلاس کیا جس میں یہ فیصلہ
کیا گیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کو فل کورٹ کے سامنے
لگایا جائے۔
اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ضمن
میں رجسٹرار آفس کو کمیٹی کے اس اجلاس کو سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے
اور ان درخواستوں کو 4 نومبر کو فل کورٹ کے سامنے لگانے کا کہا گیا لیکن اس حوالے
سے جاری ہونے والی کاز لسٹ میں ان درخواستوں کا ذکر نہیں تھا۔
واضح
رہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت اس تین رکنی کمیٹی کے کنوینر چیف جسٹس ہوتے
ہیں جو اس کا اجلاس بلاتے ہیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے چیف جسٹس کا عہدہ سبنھالنے کے بعد پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو
اپنی اصل حالت میں بحال کردیا تھا جس کے تحت سپریم کورٹ کے تین سینیئر ججز اس کمیٹی
میں شامل ہیں جن میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر بھی
شامل ہیں۔
اس
سے پہلے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اس ایکٹ میں
ترمیم کے بعد جسٹس منیب اختر کی جگہ جسٹس امین الدین کو اس کمیٹی میں شامل کیا
تھا۔
،تصویر کا ذریعہReuters
دوسری جانب سپریم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج سپریم کورٹ میں ہو رہا ہے اس اجلاس کی سربراہی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کریں گے جبکہ اُن کے علاوہ سپریم کورٹ کے چار سینیئر ججز بھی شامل ہوں گے۔
اس جوڈیشل کمیشن میں 4 ارکان پارلیمنٹ بھی شریک ہوں گے اور 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کے طریقہ کار کو تبدیل کیا گیا ہے اور اب یہ کمیشن اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری کا فیصلہ کرے گا۔
نریندر مودی کی کینیڈا میں مندر کے باہر جھڑپوں پر تنقید: ’یہ ہمارے سفارتکاروں کو ڈرانے، دھمکانے کی بزدلانہ کوشش ہے‘
،تصویر کا ذریعہREUTERS/EPA
انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے
کینیڈا کے شہر برامپٹن میں ایک مندر کے سامنے ہونے والے احتجاج کے بعد ہوئی جھڑپوں
پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ ہمارے سفارتکاروں کو ڈرانے دھمکانے کی بزدلانہ کوشش‘
ہے۔
انڈین وزیراعظم کا یہ بیان اتوار
کے روز کینیڈا کے شہر بریمپٹن میں ایک ہندو مندر کے باہر ہوئے تشدد کے بعد سامنے آیا، جسے انھوں نے ’جان بوجھ کر کیا گیا حملہ‘ قرار دیا۔
واضح رہے کہ انڈیا اور کینیڈا دونوں
ممالک نے گزشتہ ماہ ایک دوسرے کے اعلیٰ سفارتکاروں کو تب ملک بدر کر دیا تھا جب کینیڈا
کی جانب سے مُلک میں سکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل میں انڈین عہدیداران کے ملوث
ہونے کے الزامات سامنے آئے تھے۔
وزیر اعظم مودی نے اپنے حالیہ
بیان میں مزید کہا ہے کہ ’تشدد کی اس طرح کی کارروائیاں انڈیا کے عزم کو کبھی
کمزور نہیں کر سکتیں۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ کینیڈین حکومت انصاف کو یقینی بنائے گی
اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھے گی۔‘
کینیڈا میں برامپٹن پولیس کا کہنا
ہے کہ ’ٹورنٹو کے قریب برامپٹن میں پیش آنے والے اس واقعے کے سلسلے میں اب تک تین
افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان پر فرد جرم بھی عائد کر دی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ برامپٹن میں
پیش آنے والے واقعے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
انڈیا کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے
کہ ’کینیڈا میں پیش آنے والے اس پُرتشدد واقع کے پیچھے ’انتہا پسند اور علیحدگی
پسندوں‘ کا ہاتھ ہے۔‘ انھوں نے کینیڈین حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی
بنائے کہ تمام عبادت گاہوں کو اس طرح کے حملوں سے محفوظ رکھا جائے۔
دریں اثنا شمالی امریکہ میں قائم
سماجی کارکن گروپ سکھس فار جسٹس نے اس واقعے کو خالصتان کے حامی پرامن مظاہرین پر
بلا اشتعال پرتشدد حملہ قرار دیا ہے۔
کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے
ایکس پر لکھا کہ ’اتوار کے روز پیش آنے والا تشدد کا یہ واقعہ ’ناقابل قبول‘ ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہر کینیڈین کو آزادانہ اور محفوظ طریقے سے اپنے عقیدے پر
عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔‘
یاد رہے کہ حال ہی میں کینیڈین
سکھوں کے خلاف تشدد کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد کینیڈین اور انڈین حکومتوں کے
درمیان سفارتی تعلقات بہت حد تک کشیدہ ہو چکے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کینیڈا میں مندر کے سامنے ہوا کیا؟
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی چند تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ برامپٹن میں واقع ایک مندر کے احاطے میں چند مظاہرین مندر میں آنے والے انڈین تارکین وطن سے جھگڑ رہے ہیں۔ ان میں سے چند مظاہرین نے خالصتان کی حمایت کا اظہار کرتے بینرز اور پیلے جھنڈے اٹھا رکھے ہیں۔
اوٹاوا میں انڈین ہائی کمیشن کے مطابق اتوار کے روز مندر کے قریب کونسلر کیمپ کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں انڈین نژاد تارکین وطن کی پینشن سے متعلق مسائل زیرِ غور آنے تھے۔ انڈین ہائی کمیشن کے مطابق 2 اور 3 نومبر کو وینکوور اور سرے میں بھی اسی طرح کے کیمپ لگائے تھے اور وہاں بھی قونصل خانے کے کام میں ’خلل ڈالنے کی کوششیں کی گئی تھیں۔‘
برامپٹن پولیس کے مطابق انھیں اس احتجاج کے بارے میں پہلے سے علم تھا چنانچہ انھوں نے اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے۔
کینیڈا کے ایم پی چندر آریہ نے مندر پر حملے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 'کینیڈا میں خالصتانی انتہا پسند حد پار کر گئے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’مندر میں موجود کینیڈین ہندو عقیدت مندوں پر خالصتانیوں کا حملہ ظاہر کرتا ہے کہ کینیڈا میں خالصتانی پُرتشدد انتہا پسندی کتنی گہری اور ڈھٹائی اختیار کر چکی ہے۔‘
وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نومبر 2027 تک اس عہدے پر موجود رہیں گے جس سے ’نظام کو تسلسل ملے گا۔‘
قومی اسمبلی اور سینیٹ نے پیر کو سروس چیفس کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی منظوری دی تھی۔
اس بارے میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار عماد خالق سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’چونکہ جنرل عاصم منیر کو نومبر 2022 کے دوران تعینات کیا گیا تھا لہذا اب وہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد نومبر 2027 تک آرمی چیف رہیں گے۔‘
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں ایوب خان سے لے کر جنرل باجوہ تک، قریب تمام آرمی چیفس کو ایکسٹنشن ملی تاہم اب ہم نے مسلح افواج کے تینوں بازوؤں کے لیے قانون بنا دیا ہے۔ ہم نے اس میں کوئی تفریق نہیں کی ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں ایکسٹنشن کا سلسلہ ایوب خان کے دور میں شروع ہوا۔ اس کے بعد آٹھ، نو آرمی چیفس کو ایکسٹنشن دی گئی۔ ایوب خان، ضیا الحق، مشرف نے خود اپنے آپ کو ایکسٹنشن دی۔۔۔ یہ ساری ایکسٹنشنز افراد کے لیے تھیں۔ اب ہم نے اس حوالے سے قانون واضح کر دیا ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سوال پر کہ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی، خواجہ آصف نے کہا کہ ’موجودہ حالات میں تسلسل کی ضرورت ہے اور یہ ضروری ہے کہ جو بھی مسلح افواج کا سربراہ ہو وہ اسمبلی اور دیگر اداروں کی پانچ سالہ مدت کی طرح مناسب وقت کے لیے بہتر دفاعی منصوبہ بندی کر سکے۔‘
وزیر دفاع نے کہا کہ ’سروس چیفس کی مدت میں طوالت سے نظام کو استحکام ملے گا اور یہ توقعات کے مطابق چل سکے گا۔‘ انھوں نے واضح کیا کہ ’آرمی چیف کی تعیناتی کا اختیار اب بھی ہمارے (حکومت کے) پاس ہی ہے۔‘
’ہم نے گنجائش نکالی ہے کہ کوئی کامن گراؤنڈ نکالا جائے۔ ہم نے نظام کو قانونی اور آئینی شکل میں ڈھالا ہے تاکہ قانون کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔‘
اپوزیشن جماعتوں بالخصوص تحریک انصاف کی جانب سے تنقید کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بھول گئے ہیں کہ ان کے رہنما سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ آرمی چیف قوم کا باپ ہوتا ہے۔‘
ججز کی تعداد میں اضافے کا بل قومی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد سینیٹ سے بھی منظور, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد میں اضافے کا بل قومی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد پیر کے ہی روز سینیٹ سے بھی منظور کروا لیا گیا تاہم اس بل کی منظوری کے دوران دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔
حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں نے سپریم کورٹ ایکٹ 1997 کی شق دو میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 34 کردی گئی ہے۔
اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ ایکٹ 2010 کی شق تین میں بھی تبدیلی کی گئی ہے جس کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد نو سے بڑھا کر 12 کردی گئی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے سینیٹ کی قائمہ کمٹیی نے سینیٹر عبدالقادر کے بل کی حمایت کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 25 کرنے کی منظوری دی تھی۔
سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 34 کیوں کی گئی؟
حکومت کا یہ موقف رہا ہے کہ اس اقدام کی بنیادی وجہ عدالتِ عظمیٰ میں ہزاروں کی تعداد میں زیرِ التوا مقدمات کو نمٹانا ہے۔ سپریم کورٹ کے ریکارڈ کے مطابق اِس وقت عدالتِ عظمیٰ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 60 ہزار سے زیادہ ہے۔
پیر کو ایک بیان میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ججز کی تعداد میں اضافہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا مطالبہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سوچ بچار کے بعد سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھا کر 34 تک کر دی گئی ہے۔ اس سے نیچے 16 ہوں، 20 ہوں یا 28، اس تعداد کا تعین جوڈیشل کمیشن کرے گا کہ کتنے ججز کی ضرورت ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ججوں کی تعداد بڑھانے کا مقصد عوام کو انصاف کی جلد فراہمی ہے۔ ترمیم کے ذریعے مقدمات مقرر کرنے والی تین رکنی کمیٹی میں آئینی بینچ کے سربراہ کو بھی شامل کیا گیا۔‘
وزیر قانون نے واضح کیا کہ ’جوڈیشل کمیشن فیصلہ کرے گا کہ اسے آئینی بینچز میں کتنے ججز چاہییں اور رجسٹری بنچز پہ کتنے چاہیں۔‘
کیسز کے بوجھ کو ایک وجہ بیان کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ میں پینڈنسی دن بدن بہت بڑھ رہی ہے۔‘
ادھر تحریک انصاف نے اس کی مخالفت کی ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت کے سربراہ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت نے ’آج تک کوئی بھی قانون ایسا پاس نہیں کیا جو قانون کے مطابق ہو۔ اس وقت صرف انڈیا میں سپریم کورٹ کے 33 ججز ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ لوگ صرف اپنی مرضی کے ججز لانا چاہ رہے ہیں اور یہی ان کا ایجنڈا ہے۔‘