ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر مزید میزائل حملے، ٹرمپ کا اسرائیلی حملوں میں ممکنہ امریکی شمولیت پر غور

ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر میزائل حملوں کی نئی لہر کا آغاز کیا ہے۔ ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں میں شمولیت کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’میں شاید ایسا کروں یا پھر شاید نہ کروں۔ کوئی نہیں جانتا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں۔‘

خلاصہ

  • ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر میزائل حملوں کی نئی لہر کا آغاز کیا ہے اور دونوں نے ایک دوسرے کے اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
  • ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں میں شمولیت کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’میں شاید ایسا کروں یا پھر شاید نہ کروں۔ کوئی نہیں جانتا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں‘۔
  • بی بی سی ویریفائی نے تصدیق کی ہے کہ پچھلے تین دنوں میں کم از کم 30 امریکی طیارے امریکہ کے اڈوں سے یورپ کی طرف اڑان بھر چکے ہیں۔
  • ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل تنازع میں کسی بھی قسم کی امریکی فوجی مداخلت کے نتیجے میں امریکہ کو ’ناقابلِ نقصان‘ سے دوچار ہونا پڑے گا۔
  • انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران میں سینٹری فیوجز کی تیاری کے دو مراکز پر حملے ہوئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    18 جون تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. اسرائیلی فضائیہ کا ایران سے بھیجا گیا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فضائیہ نے کہا ہے کہ جمعرات کی صبح کے ابتدائی اوقات میں ایران سے بھیجا گیا ایک بغیر پائلٹ والا طیارہ (ڈرون) مار گرایا گیا ہے۔

    فضائیہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس نے ایران سے بھیجا گیا ایک بغیر پائلٹ والا ڈرون مار گرایا ہے۔

    فضائیہ کا کہنا ہے کہ ’ملک کے شمالی علاقوں میں ایک دشمن طیارے کی دراندازی کے بعد کئی علاقوں میں الرٹ جاری کیے گئے۔‘

  3. ٹرمپ نے ایران پر حملے کے منصوبوں کی منظوری دے دی، مگر حتمی فیصلہ نہیں ہوا: امریکی میڈیا

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی رات ایران پر حملے کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے، تاہم ملک پر حملہ کرنے کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔

    سی بی ایس کو ایک اعلیٰ انٹیلیجنس ذریعے نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر فوری حملے سے اس لیے گریز کیا تاکہ تہران کو اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے کا موقع دیا جا سکے۔

    یہ خبر سب سے پہلے وال سٹریٹ جرنل نے دی تھی۔

    بدھ کے روز جب ٹرمپ سے ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا: ’میں یہ کر سکتا ہوں، اور شاید نہ بھی کروں۔‘

    سی بی ایس نے پہلے خبر دی تھی کہ ٹرمپ ایران کے فورڈو نامی زیرِ زمین یورینیم افزودگی کے مرکز پر حملے پر غور کر رہے ہیں۔

  4. اس سے قبل امریکی انٹیلیجنس نے کہا تھا کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنا رہا

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ ایران نیوکلیئر بم تیار کر رہا ہے، سی آئی اے کی اس سابقہ رپورٹ سے متصادم ہے جس میں کہا گیا تھا کہ تہران نیوکلیئر ہتھیار بنانے کے قریب نہیں ہے۔

    مارچ میں ٹرمپ کی منتخب کردہ ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ نے کانگریس کے سامنے بیان دیا تھا کہ انٹیلی جنس کمیونٹی کا ماننا ہے کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنا رہا اور ایران کے سپریم لیڈر نے ’جس نیوکلیئر پروگرام کو 2003 میں معطل کیا تھا، اس کی منظوری نہیں دی ہے۔‘

    ٹرمپ نے منگل کو صحافیوں سے کہا ’مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ تلسی نے کیا کہا‘۔

    انھوں نے اپنی رائے پر قائم رہتے ہوئے کہا کہ ایران ’اپنا نیوکلیئر ہتھیار بنانے کے بہت قریب ہے۔‘

  5. کیا ایران کا سرکاری ٹی وی ’ہیک‘ ہو چکا ہے؟, غنچے حبیبی زاد، بی بی سی فارسی

    IRTV

    ،تصویر کا ذریعہIRTV

    ایرانی سرکاری ٹی وی نے صارفین کو ایک ’غیر متعلقہ‘ کلپ کے بارے میں خبردار کیا ہے جس میں حکومت کے خلاف عوام سے ’بغاوت‘ کا مطالبہ کیا گیا تھا اور جو سیٹلائٹ کے ذریعے اس کے چینلز دیکھنے والوں نے دیکھا۔

    سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ ٹی وی دیکھتے ہوئے غیر متعلقہ پیغامات دیکھیں تو یہ دشمن کی جانب سے سیٹلائٹ سگنلز میں مداخلت کی وجہ سے ہے۔‘

    اس ویڈیو میں ایرانی حکام پر ’قوم سے ناکامی‘ کا الزام عائد کیا گیا اور ناظرین سے کہا گیا کہ ’اپنے مستقبل کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیں‘۔

    ہیک یا اس کلپ کے ماخذ کے معلق فی الحال ہمیں معلومات نہیں ہیں۔

    ویڈیو کے اوپر دائیں کونے میں شیر کا نشان نظر آیا جس میں 13 جون کو اسرائیل کی ’آپریشن رائزنگ لائن‘ کے دوران مارے گئے اعلیٰ ایرانی کمانڈروں کی تصاویر بھی دکھائی گئیں۔

    اس ویڈیو میں 2022 کے بڑے احتجاجی مظاہروں کی جھلکیاں بھی شامل تھیں جو مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے۔

    ان احتجاجات کا مرکزی نعرہ ’زن، زندگی، آزادی‘ تھا۔۔ ایک ایسا ہی نعرہ جسے حال ہی میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نتن یاہو نے بھی استعمال کیا اور ویڈیو کی طرح ایرانی عوام سے ’بغاوت‘ کا مطالبہ کیا۔

  6. ایران کی درخواست پر اقوامِ متحدہ کا ہنگامی اجلاس جمعہ کو منعقد ہو گا

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل ایران سے متعلق ایک اور ہنگامی اجلاس جمعہ کو صبح 10 بجے نیویارک میں منعقد کرے گی۔

    یہ اجلاس ایران کی درخواست پر بلایا جا رہا ہے جسے چین، پاکستان اور روس کی حمایت حاصل ہے۔

    ایران کی درخواست میں یہ بھی شامل ہے کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی اور اقوامِ متحدہ کی سیاسی امور کی سربراہ روزمیری ڈی کارلو کونسل کو ایک بار پھر بریفنگ دیں۔

    یہ اجلاس گذشتہ جمعہ کو ہونے والے پہلے ہنگامی اجلاس کے بعد دوسرا اجلاس ہو گا۔

  7. آئی ڈی ایف کا 24 گھنٹوں میں ایران پر تین بڑے حملوں کا دعویٰ

    IDF

    ،تصویر کا ذریعہIDF

    اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کے خلاف تین بڑے حملے کیے ہیں۔

    آئی ڈی ایف کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پہلا حملہ رات گئے کیا گیا جس میں اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے ’تہران میں تقریباً 40 اہداف‘ کو نشانہ بنایا جن میں ایک ’سنٹری فیوج بنانے کا مقام‘ بھی شامل تھی۔

    دوسرا حملہ ’آج دوپہر سے شروع ہوا‘ اور اس میں ’تہران میں 20 فوجی اور سکیورٹی اہداف‘ کو نشانہ بنایا گیا۔

    حملے کی تیسری لہر ’کچھ دیر قبل‘ شروع ہوئی جس میں مغربی ایران پر حملے کی جا رہے ہیں۔

    آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ ان کے لڑاکا طیارے ان افراد کو نشانہ بنا رہے ہیں جو پہلے نشانہ بننے والی سائٹس سے دوبارہ گولہ بارود نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  8. ٹرمپ کی گفتگو میں کوئی نئی یا غیر متوقع بات سامنے نہیں آئی, برنڈ ڈیبسمن جونیئر وائٹ ہاؤس سے رپورٹ کر رہے ہیں

    اوول آفس میں صدر ٹرمپ کی حالیہ گفتگو میں کوئی نئی یا غیر متوقع بات سامنے نہیں آئی۔ جیسا کہ پہلے بھی واضح ہو چکا ہے کہ وہ ایران کے حوالے سے اپنے فیصلوں میں غیر یقینی کا تاثر برقرار رکھنا چاہتے ہیں جو ان کے طرزِ قیادت کی ایک پہچان ہے۔

    یہ حکمتِ عملی نئی نہیں، ٹرمپ 2016 میں صدر بننے سے پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ امریکہ کو بطورِ قوم زیادہ غیر متوقع ہونا چاہیے۔

    آج کی گفتگو میں جو بات کسی ممکنہ فیصلے کی طرف اشارہ کرتی ہے، وہ ان کا یہ جملہ تھا:’میرے ذہن میں کچھ خیالات ہیں کہ کیا کرنا ہے۔‘

    ٹرمپ نے ایک بار پھر زور دے کر کہا: ’میں یہ سادہ الفاظ میں کہتا ہوں، ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔۔۔ یہ بہت سادہ بات ہے۔‘

    البتہ یہ بات تاحال واضح نہیں کہ امریکہ اس مقصد کے حصول کے لیے فوجی مدد فراہم کرے گا یا نہیں۔

  9. ٹرمپ کا دعویٰ: ’ایران وائٹ ہاؤس آ کر ملنا چاہتا ہے‘

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکام ملاقات کے خواہش مند ہیں اور وائٹ ہاؤس آنا چاہتے ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا: ’انھوں نے معاہدہ نہیں کیا، حالانکہ میرے پاس ان کے لیے ایک بہترین ڈیل تھی۔۔۔ اب وہ پچھتا رہے ہیں کہ کاش وہ کر لیتے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ایک گھنٹے میں وہ امریکی شہریوں کے اسرائیل سے انخلا پر اہم اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایرانی حکومت تبدیل ہو سکتی ہے تو ان کا جواب تھا: ’یقیناً، کچھ بھی ہو سکتا ہے، ہے نا؟‘

    ایران پہلے ہی ٹرمپ کے اس دعوے کو ’جھوٹ‘ قرار دے چکا ہے اور سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ ’کسی ایرانی اہلکار نے وائٹ ہاؤس کے در پر جا کر جھکنے کی خواہش ظاہر نہیں کی ہے۔‘

  10. اسرائیل کا تہران میں پولیس ہیڈ کوارٹر کے نزدیک حملہ: ’عملے کے چند افراد زخمی ہیں‘ ایرانی پولیس

    ایرانی پولیس کے مطابق تہران میں ان کے ہیڈکوارٹر کے نزدیک اسرائیلی حملے میں عملے کے چند افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    پولیس نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ ’کچھ عمارتیں متاثر ہوئیں‘ تاہم یہ حملہ ان کے آپریشنز میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرے گا۔

  11. نیتن یاہو کا ٹرمپ کا شکریہ ’ہم دونوں مسلسل رابطے میں ہیں‘

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نتن یاہو نے ایران کے ساتھ چھٹے روز بھی جاری کشیدگی کے دوران قوم سے خطاب کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کے جوہری خطرے کو ختم کرنے کے لیے جاری کارروائی آگے بڑھ رہی ہے اور تہران کی فضاؤں پر اسرائیل کا کنٹرول ہے۔

    نتن یاہو نے تسلیم کیا کہ اگرچہ کچھ تکلیف دہ نقصانات ہوئے ہیں لیکن اسرائیل میں سب متحد ہیں۔

    انھوں نے غزہ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اسرائیل حماس کو شکست دینے اور باقی ماندہ یرغمالیوں کو بازیاب کرانے کے عزم پر قائم ہے۔

    آخر میں انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم دونوں رہنما مسلسل رابطے میں ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ٹرمپ اسرائیل کے ایک عظیم دوست ہیں اور میں ہمارے ساتھ کھڑے ہونے اور اسرائیلی فضاؤں کے دفاع میں امریکی مدد پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ہماری باقاعدگی سے بات ہوتی ہے، گذشتہ شب بھی نہایت خوشگوار گفتگو ہوئی۔ میں صدر ٹرمپ کی بھرپور حمایت پر ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔

  12. بریکنگ, اسرائیل کا تہران پر مزید میزائل داغنے کا دعویٰ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جیسا کہ ہم نے اپنی ایک پچھلی پوسٹ میں ذکر کیا تھا کہ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران پر مزید میزائل حملے کیے ہیں۔

    اپنی روزانہ کی بریفنگ میں اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران میں میزائل سسٹمز اور انھیں ذخیرہ کرنے والی سائٹس کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کی ایک نئی لہر کا آغاز کیا ہے۔

    آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا کہ رات بھر جاری رہنے والے تین مرحلوں پر مشتمل حملے، جو تین گھنٹے تک جاری رہے، میں اس نے سنٹری فیوجز بنانے والی ایک سائٹ کو بھی نقصان پہنچایا۔

  13. بریکنگ, ایران کا اسرائیل پر مزید میزائل داغنے کا دعویٰ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل پر مزید میزائل حملے کیے ہیں۔ سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ یہ میزائل اسرائیلی دفاعی نظام کو ناکام بناتے ہوئے اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے فی الحال اس حملے کی تصدیق نہیں کی،تاہم اس نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایران کی ایک میزائل سائٹ کو نشانہ بنایا ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی دفاعی نظام عام طور پر اس پر داغے جانے والے زیادہ تر میزائلوں کو راستے میں ہی تباہ کر دیتا ہے۔

  14. ایران کی ملک میں انٹرنیٹ کی عارضی بندش کی تصدیق

    ایران وزارتِ مواصلات کا کہنا ہے کہ اس کی جانب ملک میں انٹرنیٹ کو عارضی طور پر بند کیا گیا ہے۔

    ایرانی میڈیا پر نشر ہونے والے بیان میں ایرانی وزارت برائے مواصلات کا کہنا تھا کہ یہ عارضی بندش ’دشمن‘ کی طرف سے خطرات کے سبب کی جا رہے ہے۔

    ایرانی وزارت نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل ’قومی مواصلاتی نیٹ ورک کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔‘

    تاہم وزارتِ مواصلات کا کہنا تھا کہ ملک میں اندرونی مواصلاتی نظام اور پلیٹ فارمز اب بھی ’قابلِ رسائی‘ ہیں۔

  15. ’ایرانی حکام وائٹ ہاؤس کے قریب بھٹکنا بھی نہیں چاہتے‘: اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفارتی مشن کی ٹرمپ پر تنقید

    اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفارتی مشن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’کوئی بھی ایرانی حکام وائٹ ہاؤس کے دروازوں کے قریب بھٹکنا بھی نہیں چاہتا۔‘

    اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفارتی مشن کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اب سے کچھ دیر پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے مذاکرات وائٹ ہاؤس آنا چاہتے ہیں۔

    ایران کے سفارتی مشن کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں امریکی صدر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ان کے جھوٹ سے بھی زیادہ گھناؤنی بات ایران کے رہبرِ اعلیٰ کو ہلاک کرنے کی دھمکی ہے۔‘

    خیال رہے گذشتہ روز امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کہاں ہیں لیکن وہ ’فی الحال‘ انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔

    اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفارتی مشن کا مزید کہنا تھا کہ ان کا ملک ’دباؤ‘ میں مذاکرات نہیں کرتا اور ہر دھمکی کا جواب دھمکی سے دے گا۔

  16. ’کوئی نہیں جانتا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں‘: ٹرمپ کا ایران سے ایک بار پھر ’غیرمشروط سرینڈر' کا مطالبہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ ایران کے مذاکرات کاروں نے اشارہ دیا تھا کہ ’وہ شاید وائٹ ہاؤس آئیں لیکن یہ مشکل نظر آتا ہے۔‘

    بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ وثوق سے نہیں کہہ سکتے یہ تنازع ’کتنے عرصے‘ تک چلے گا کیونکہ ایران کا فضائی دفاعی نظام تباہ ہو چکا ہے۔

    انھوں نے اس موقع پر ایک بار پھر ایران سے ’غیر مشروط سرینڈر‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

    امریکہ صدر نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ایرانی حکام کے ملک کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ’ارادے بُرے‘ ہیں۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں میں شریک ہونے جار رہے ہیں تو ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا کہ: ’میں شاید ایسا کروں یا پھر شاید ایسا نہ کروں۔ کوئی نہیں جانتا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں۔‘

    ’میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ: ایران شدید مشکلات میں ہے اور مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔‘

    دوسری جانب اس سے قبل ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای یہ کہہ چکے ہیں کہ: ’اگر امریکی عسکری طور پر اس تنازع میں شامل ہوتا ہے تو اسے ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کرنا ہوگا۔‘

  17. اسرائیلی فضائیہ کا تہران پر تازہ حملہ، پاسدارانِ انقلاب کی میزائل حملوں کی تصدیق

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کی فضائیہ اس وقت ’تہران کے علاقے میں‘ فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے ’متعدد میزائلوں‘ نے تہران کے شمالی اور مشرق نواحی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔

  18. اسرائیل، ایران تنازع ’صرف خطے نہیں بلکہ دنیا کے لیے خطرناک ہے‘، عالمی برادری جنگ بندی کی کوششیں کرے: پاکستانی وزیرِ اعظم

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہFile photo: Getty Images

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے کوششیں کرے۔

    بدھ کو وفاقی کابینہ سے گفتگو میں پاکستانی وزیرِ اعظم نے اسرائیل کے ایران پر حملوں کو ’کھلی جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’عالمی برادری کو ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔‘

    ’اج کل جو صورتحال ہے خطے میں ایران اور اسرائیل کے حوالے سے وہ انتہائی افسوناک ہے اور پاکستان نے اس کی مذمت کی ہے کہ اسرائیل نے ہمارے پڑوسی برادر ملک ایران کے خلاف کھلی جارحیت کی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جلد از جلد امن قائم ہو جائے ’کیونکہ یہ نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے لیے بھی خطرناک ہے۔‘

  19. ایران، اسرائیل تنازع: امریکی حملے کی صورت میں تہران کی حکمت عملی کیا ہو سکتی ہے؟, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع اب ایک اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے اس بات کا تعین کریں گے کہ مشرقِ وسطیٰ میں آئندہ کیا ہونے جا رہا ہے۔

    ایران کے سرکاری ٹی وی چینل پر آج نشر ہونے والی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تقریر سے یہ امیدیں اب ختم ہوگئی ہیں کہ ایران امن کا راستہ تلاش کرے گا۔

    اس کے برعکس ایرانی رہبرِ اعلیٰ نے دھکمی دی ہے کہ اگر امریکہ نے اسرائیلی حملوں میں شمولیت اختیار کی تو اسے اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

    ایران شاید اب کمزور ہو گیا ہے کیونکہ خطے میں لبنان، شام اور غزہ میں اس کے پراکسی گروہوں کو پچھلے کچھ عرصے میں شدید نقصانات اُٹھانے پڑے ہیں۔

    لیکن ایران اب بھی امریکہ کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو خطے میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈے تہران کی ہِٹ لسٹ پر ہوں گے۔ بحرین میں مینا سلمان میں امریکی بحریہ کی پانچویں فلیٹ کا ہیڈکوارٹر ہے اور یہ مقام عراق اور کویت میں متعدد امریکی اڈوں کے ساتھ ایران کے اہداف میں شامل ہو سکتا ہے۔

    ستمبر 2019 میں سعودی عرب کی پیٹروکیمیکل انڈسٹری پر ڈرون حملہ اس بات کا سبق دیتا ہے کہ خلیجی ممالک میں متعدد اقتصادی اثاثوں کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے خطرہ ہو سکتا ہے۔

    اگر ایرانی حکومت کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کے خلیجی عرب پڑوسی اس کے خلاف کسی بھی حملے میں شامل ہیں تو وہ نہ صرف وہاں موجود پانی کے بڑے پلانٹس اور آئل ایکسپورٹ ٹرمنلز کو نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ آبنائے ہرمز کو بھی بند کر سکتی ہے جس کے ذریعے دنیا کو 30 فیصد تیل سپلائی کیا جاتا ہے۔

  20. ایران میں فوجی مقامات کو نقصانات اور سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر, بی بی سی ویریفائی

    بی بی سی اور دیگر بین الاقوامی میڈیا ادارے ایران سے رپورٹنگ نہیں کر سکتے اور ایسے میں سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر ہی اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران میں ہونے والے نقصانات کی تصدیق کرنے کا واحد ذریعہ ہیں۔

    یہ تازہ ترین تصاویر سیٹلائیٹ کمپنی میکسر سے بی بی سی کو حاصل ہوئی ہیں۔ ان تصاویر میں بظاہر ایران کے شہر تبریز میں تباہ ہونے والی میزائل بیس کی نو عمارتوں اور اس کی دو داخلی سُرنگوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ان تصاویر میں دیگر عمارتوں کو ہونے والا نقصان بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہMaxar

    میکسر کی جانب سے لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں تہران سے 750 کلومیٹر دور مشہد ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں کے ثبوت بھی منظرِ عام پر آئے ہیں۔ ہم ان تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں کہ وہاں ایک بڑا طیارہ تباہ ہوا ہے اور صرف اس کا پچھلا حصہ درست حالت میں موجود ہے۔

    میکسر کی جانب سے مغربی ایران میں لی گئی ایک اور تصویر میں ٹرک پر رکھے گئے شاہد ڈرونز اور ایک لڑاکا طیارے کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    ہم نے یہ تصاویر ماہرین کے ساتھ شیئر کی تھیں تاکہ بہتر اندازہ لگایا جا سکے کہ اسرائیل نے ایران میں کن اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور اس کے ایرانی عسکری صلاحیتوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔