یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
آٹھ اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا 20 نکاتی امن منصوبہ ’اس تاریک باب کو بند کرنے، دیر پا امن اور سکیورٹی کی بنیاد رکھنے کا تاریخی موقع ہے۔‘
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
آٹھ اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کی پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے اغوا کیے گئے ایک سرکاری سکول کے پرنسپل رفیع اللہ اور استاد نثار علی شاہ باحفاظت بازیاب ہو کر گھر پہنچ چکے ہیں۔
ایک بیان میں بنوں پولیس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ’دن کے وقت سکول پرنسپل رفیع اللہ اور استاد نثار علی شاہ کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔ دونوں باخفاظت بازیاب ہو کر گھر پہنچ گئے ہیں۔
’پولیس نے فوری ایکشن لیا تھا اور مغویان کی رہائی کے لیے خفیہ کارروائی میں مصروف تھی۔‘
خیال رہے کہ سکول پرنسپل اور استاد کے اغوا کے بارے میں مقامی اساتذہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ دونوں سکول میں موجود تھے جب مسلح افراد انھیں اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر لے گئے تھے۔
یہ واقعہ منگل کی صبح تھانہ ہوید کی حدود میں موسیٰ خیل کے قریب شیر مندائی ہائی سکول میں پیش آیا تھا۔
مقامی پولیس اہلکاروں کے مطابق یہ علاقہ بنوں کے مضافات میں واقع ہے جس کی حدود ایک طرف شمالی وزیرستان اور دوسری جانب لکی مروت سے ملتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@MIshaqDar50
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ان کی عمان میں موجود سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سے اردن میں موجود پاکستانی سفیر کے ذریعے بات ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ سابق ’سینیٹر مشتاق خیریت سے ہیں اور ان کا حوصلہ بلند ہے۔‘
’میں نے سینیٹر مشتاق کو مسئلہ فلسطین کی حمایت میں صمود فلوٹیلا کا حصہ بننے اور ان کے محاصرہ توڑ کر غزہ میں امداد پہنچانے کے جذبے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔‘
اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ مشتاق احمد خان نے تل ابیب میں ایک دوست یورپی ملک کے ذریعے ان تک پہنچنے کے لیے ’پاکستانی دفترِ خارجہ کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔‘
پاکستانی وزیرِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کا دفترِ خارجہ 9 اکتوبر کو سینیٹر مشتاق کی پاکستان واپسی کا انتظام کر رہا ہے۔‘
مصر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں اور حماس کا کہنا ہے اس کا مصر میں موجود وفد ’ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے تمام رُکاوٹوں کو دور‘ کرنا چاہتا ہے۔
حماس کے ایک ترجمان نے شرم الشیخ میں جاری مذاکرات سے متعلق اپنی ترجیحات بیان کی ہیں:

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مشرقِ وسطیٰ میں شام ہو چکی ہے اور مصر میں جاری مذاکرات کے بارے میں اب تک ہم یہ جانتے ہیں:

،تصویر کا ذریعہAPTN
قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مصر میں جاری مذاکرات کا مقصد غزہ امن منصوبے کو ’قابلِ عمل‘ معاہدے میں تبدیل کرنا اور ’ٹھوس معاہدوں‘ تک پہنچنا ہے۔
دوحہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ماجد الانصاری کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر کے قطر یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ جنگ کا مکمل خاتمہ ہو جائے۔
انھوں نے مزید کہا کہ حماس اور اسرائیل دونوں کو ایسی شرائط کی توقع رکھنی چاہیے جس سے شاید وہ خوش نہ ہوں کیونکہ ہوسکتا ہے کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے ایسے نکات بھی سامنے آئیں جو شاید کسی فریق کے لیے مکمل طور پر قابلِ قبول نہ ہوں۔
ماجد الانصاری کے مطابق فریقین ابھی مجوزہ امن منصوبے میں موجود نکات پر اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں اور تشریحات پیش کر رہے ہیں کہ ان کا غزہ کے لیے قابلِ عمل مطلب کیا نکلے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے حماس کے 7 اکتوبر کے ’گھناؤنے‘ حملے کو دو برس مکمل ہونے کے موقع پر کہا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی حمایت جاری رکھے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مارکو روبیو نے لکھا کہ ’دہشتگردی کے خلاف مشترکہ جنگ اورتمام یرغمالیوں اور ان کے خاندانوں کی تکالیف ختم کرنے کے لیے امریکہ اسرائیل کے حمایت پر ثابت قدمی سے قائم ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا 20 نکاتی امن منصوبہ ’اس تاریک باب کو بند کرنے، دیر پا امن اور سکیورٹی کی بنیاد رکھنے کا تاریخی موقع ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف کی مصر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات میں شمولیت متوقع ہے۔
مذاکرات سے آگاہ ایک ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہFile photo - Getty Images
خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں نامعلوم افراد نے سرکاری سکول کے ایک ہیڈ ماسٹر اور ایک استاد کو اغوا کرلیا ہے۔
مقامی اساتذہ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سکول کے ہیڈ ماسٹر رفیع اللہ اور سینیئر سائنس ٹیچر نثار علی شاہ اپنے سکول میں موجود تھے جب مسلح افراد انھیں اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔
یہ واقعہ منگل کی صبح تھانہ ہوید کی حدود میں موسیٰ خیل کے قریب شیر مندائی ہائی سکول میں پیش آیا ہے۔
مقامی پولیس اہلکاروں کے مطابق یہ واقعہ بنوں کے مضافات میں واقع ہے جس کی حدود ایک طرف شمالی وزیرستان اور دوسری جانب لکی مروت سے ملتی ہے۔
بنوں کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سلیم عباس کلاچی نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس مغویوں کی بازیابی کے لیے علاقے میں موجود ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔
بنوں میں اساتذہ کی تںطیم کا ہنگامی اجلاس بدھ کو طلب کر لیا گیا ہے جس میں مغویوں کی بازیابی کے لیے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ بنوں میں آج مسلح افراد نے ایک ٹیلیفون ایکسچینج کے احاطے میں قائم بے نظیر انکل سپورٹ پروگرام کے دو عہدیداروں کو اسلحے کے زور پر اغوا کر لیا اور ساتھ میں رقم بھی لے گئے ہیں۔
یہ واقعہ تھانہ میریان کی حدود میں نورڑ کے مقام پر پیش آیا ہے۔ ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر واقعے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی بازیابی کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم کی تقسیم کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا تھا اور وہ اے ڈی صفی اللہ اور سپروائزر شاہ خالد کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔
ضلع بنوں میں سرکاری ملازمین کے اغوا کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
گذشتہ مہینے ستمبر میں پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے پانچ ملازمین کو اس وقت اغوا کرلیا گیا تھا جب وہ بکّا خیل کے مقام پر ایک ہائی ولٹیج سپلائی لائن پر کام کر رہے تھے۔ ان ملازمین کو تاحال بازیاب نہیں کروایا جا سکا ہے۔
اس سے قبل بھی دو سرکاری ملازمین کو اغوا کیا گیا تھا جنھیں بعد میں مقامی افراد کی مدد سے بازیاب کیا گیا تھا۔
رواں برس اپریل میں بھی ایک سکول ٹیچر کو اغوا کیا گیا تھا جنھیں مئی کے مہینے میں بازیاب کروایا گیا تھا۔
اس سے قبل ان ہی علاقوں میں سات پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا گیا تھا، جنھیں مقامی لوگوں کی کوششوں سے بازیاب کروایا گیا تھا۔
اغوا کے یہ واقعات صرف ضلع بنوں میں ہی پیش نہیں آ رہے بلکہ شمالی وزیرستان، لکی مروتم ٹانک، جنوبی وزیرستان اور کلاچی میں بھی تواتر سے ایسے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
جنوبی اضلاع کے انتظامی افسران کی جانب سے ایسی ہدایات گاہے بگاہے جاری کی جاتی رہی ہیں جن میں سرکاری ملازمین کو ان علاقوں میں سفر نہ کرنے کو کہا گیا ہے۔
جنگ بندی سے متعلق مذاکرات سے آگاہ ایک فلسطینی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شرم الشیخ میں حماس، اسرائیل اور ثالث مذاکرات اور اس کے طریقہ کار پر متفق ہوگئے ہیں۔
ذراءع کے مطابق مذاکرات کے لیے پانچ نکاتی فریم ورک پر اتفاق کیا گیا ہے:

،تصویر کا ذریعہEPA
حماس کی حراست میں 491 دن گزارنے والے سابق اسرائیلی یرغمالی الی شرابی کا کہنا ہے کہ وہ دیگر یرغمالیوں کی واپسی دیکھنے کے لیے ’بیتاب‘ ہیں۔
الی شرابی نے اپنی ایک انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا کہ ’ہم بہت تکالیف برداشت کر چکے ہیں، ہم اب مختلف حقیقت دیکھنے کے مستحق ہیں۔ ہم اپنے زخم بھرنا چاہتے ہیں۔‘
خیال رہے الی شرابی کو اپنی رہائی کے بعد ہی علم ہوا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کو ان کے خاندان کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔
حماس کے پاس ابھی بھی ان کے بھائی یوسی کی لاش موجود ہے جنھیں 7 اکتوبر کو ان ہی کے ہمراہ اغوا کیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ ان کے دوست الون اوہل کو بھی یرغمال بنایا گیا تھا، جنھیں زندہ تصور کیا جا رہا ہے۔
الی شرابی نے 7 اکتوبر کو صبح اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لکھا کہ: ’اس دن کو دو برس گزر چکے ہیں جب میرے لیے سب کچھ تبدیل ہو گیا تھا۔ 7 اکتوبر 2023 کو ہماری پُرامن اور خوشحال زندگی جہنم، دکھ اور ایسے ناقابلِ تصور نقصان میں بدل گئی تھی جسے میں اپنی زندگی کے آخری لمحے تک محسوس کرتا رہوں گا۔‘
اسرائیل پر حماس کے حملے کو دو برس بیت چکے ہیں۔ اس حملے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ251 لوگوں کو مسلح گروہ نے یرغمال بنالیا تھا۔
کچھ دیر قبل حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 7 اکتوبر کے بعد گزرنے والے ’دو برس تکلیف، ناانصافی اور ظلم‘ کے تھے۔
حماس کا مزید کہنا تھا کہ غزہ میں ’نہتے عام شہریوں‘ کی اموات پر ’شرمناک بین الاقوامی خاموشی‘ دیکھی گئی۔
فلسطینی مسلح تنظیم نے اپنے بیان میں یحییٰ سنوار اور ہلاک ہونے والے دیگر رہنماؤں کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ملک کے صوبے کردستان کے سرحدی شہر سروآباد میں 4 اکتوبر کو ہونے والے ایک حملے اس کے متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
کردستان میں پاسدارانِ انقلاب کی یروشلم کور کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ایک ’دہشتگرد‘ حملے میں اس کے دو اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔
کسی بھی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری تاحال قبول نہیں کی ہے۔
مزید کوئی تفصیلات دیے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا تھا کہ اس کے اہلکاروں پر دستی بموں حملے کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہ@MIshaqDar50
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد کو اسرائیل کی قید سے رہا کردیا گیا ہے۔
’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں اسحٰق ڈار نے سابق سینیٹر کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ ’مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد کو رہا کر دیا گیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ اس وقت عمان میں پاکستانی سفارتخانے میں ہیں، جہاں انھیں مکمل معاونت فراہم کی جا رہی ہے اور وطن واپسی کے لیے انتظامات کیے جا رہیں ہیں۔
نائب وزیراعظم نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا کہ ’میں اُن تمام دوست ممالک کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے اس معاملے میں فعال کردار ادا کیا اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ تعاون کیا۔‘
واضح رہے کہ دو اکتوبر کو گلوبل صمود فلوٹیلا میں موجود کشتیوں پر 500 سے زائد افراد سوار تھے جنھیں اسرائیل نے حراست میں لے لیا تھا۔ فلوٹیلا میں اطالوی سیاستدان اور سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کے علاوہ پاکستان کے سابق سینٹر مشتاق احمد خان اور ایک پاکستانی شہری سید عزیر نظامی بھی شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہ@SenatorMushtaq
اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے جاری ویڈیو پیغام میں مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے 150 ساتھیوں کے ساتھ اردن پہنچ چکا ہوں، پانچ سے چھ دن اسرائیل کے بدنام زمانہ جیل میں رہنے کے بعد ہمیں رہائی مل گئی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیلی جیل میں ہمیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ہمارے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں، پیروں میں بیڑیاں اور زنجیریں ڈالی گئیں جب کہ آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور ہمارے اوپر بندوقیں تانی گئیں۔‘
مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنے مطالبات کے لیے 3 دن تک بھوک ہڑتال جاری رکھی لیکن ہمیں پینے کے لیے پانی، ہوا اور طبی سہولیات سے محروم رکھا گیا، یہاں تک کہ ہمیں کسی بھی چیز تک رسائی نہیں دی گئی۔‘
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع خاران سے اغوا ہونے والے عدالت کے قاضی کی بازیابی ممکن نہیں ہوسکی۔
قاضی کے اغوا کے علاوہ نامعلوم افراد نے ان کی عدالت اور اس سے متصل دفاتر کو بھی آگ لگا دی تھی۔
یہ واقعہ پیر کے روز خاران شہر سے اندازاً دس سے پندرہ کلومیٹر دور قلات کے علاقے مسکان میں پیش آیا تھا۔
فون پر رابطہ کرنے پر اس علاقے میں پولیس کے ایس ایچ او منظور احمد نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد دوپہر کے وقت اس علاقے میں آئے۔ مسلح افراد نے قاضی کورٹ اور وہاں دیگر دفاتر کو نذرآتش کیا جبکہ عدالت کے قاضی محمد جان کو اغوا کرنے کے علاوہ وہاں سے ایک وکیل کی گاڑی کو اپنے ساتھ لے کر نامعلوم مقام کی جانب فرار ہوگئے۔
منظور احمد کا کہنا تھا کہ قاضی کی بازیابی کے لیے کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہے، مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں لیکن تاحال اس حوالے سے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔
مسکان سے سے قاضی کے اغواہ کی تاحال کسی بھی گروہ کی جانب سے ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔
خاران بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً 270 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں واقع ہے۔
بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے خاران میں بھی کم و بیش اس طرح کے بدامنی کے واقعات پیش آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
تاہم ماضی میں اس طرح کے واقعات کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکریت پسندوں کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ سندھ کے شمالی ضلع شکارپور میں جعفر ایکسپریس کی پانچ بوگیاں دھماکے کی وجہ سے پٹڑی سے اتر گئیں اس حادثے میں کم از کم سات مسافر زخمی ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جعفر ایکسپریس راولپنڈی سے کوئٹہ جارہی تھی کہ جب سلطان کوٹ کے قریب پہنچی تو دھماکے کی وجہ سے اس کی پانچ بوگیاں پٹڑی سے اُتر گئیں۔
جعفر ایکسپریس کو پیش آنے والے اس حادثے سے متعلق بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر شکارپور شکیل ابڑو کا کہنا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر اے آئی ڈی کی مدد سے حملہ کیا گیا۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ دھماکے کی وجہ سے ابتدائی طور پر سات مسافروں کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جنھیں فوری طور پر شکارپور کی قریبی ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آج صبح ضلع شکارپور کے علاقے کوٹ سلطان کے قریب ریلوے ٹریک پر ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی سندھ سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
انھوں نے کمشنر لاڑکانہ کو ہدایت دی ہے کہ زخمی مسافروں کو بہترین طبی امداد فراہم کی جائے۔
جائے حادثہ سے سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جعفر ایکسپریس کے مسافر اپنی مدد آپ کے تحت سامان اٹھا کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئے بعض مسافروں کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد فائرنگ بھی ہوئی۔ تاہم حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
واضح رہے کہ جعفر ایکسپریس پر کو شکار پور سے تقریباً 60 کلومیٹر دور جیکب آباد میں اس سے قبل بھی گزشتہ چند ماہ کے دوران دو بار نشانہ بنایا جا چُکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
غزہ کی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی امن منصوبے پر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے بالواسطہ مذاکرات کا آج یعنی منگل کے دوسرا دن ہے، یہ مذاکرات مصر کے شہر شرم الشیخ میں جاری ہیں۔
پیر کے روز جو حماس اور اسرائیلی انتظامیہ کے درمیان ملاقات ہو رہی تھی تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہمارے پاس ایک معاہدہ کرنے کا واقعی اچھا موقع ہے اور یہ ایک پائیدار معاہدہ ہوگا۔‘
سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں ٹرمپ نے غزہ کی جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں شامل تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ’تیزی سے آگے بڑھیں‘، اور یہ بھی کہا کہ انھیں بتایا گیا ہے کہ امن منصوبے کا پہلا مرحلہ جس میں یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے ’اس ہفتے مکمل ہو جانا چاہیے۔‘
پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’حماس اُن معاملات پر رضامند ہو رہی ہے جو بہت اہم ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے واقعی لگتا ہے کہ ہم بہت جلد ایک نہایت اہم اور ضروری معاہدہ کرنے جا رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم اس سب کے دوران حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی بمباری اور زمینی کارروائی میں 21 فلسطینی ہلاک اور مزید 96 زخمی ہوئے ہیں۔
حماس نے کہا ہے کہ وہ امن منصوبے کی تجاویز سے جزوی طور پر متفق ہے، تاہم اس نے کئی اہم مطالبات پر تاحال جواب نہیں دیا، جن میں اپنے ہتھیار ڈالنا اور غزہ کی مستقبل کی حکمرانی میں کوئی کردار نہ رکھنا شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بانی پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کا جیل ٹرائل بحال کر دیا گیا ہے۔
نو مئی جی ایچ کیو کیس کی سماعت سے متعلق جاری ہونے والے مراسلے میں کہا گیا ہےکہ آج بروز منگل اڈیالہ جیل میں اس مقدمے کی سماعت مقرر ہے۔
تاہم اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے گزشتہ شب راولپنڈی پولیس کو بھی ایک مراسلہ لکھا گیا تھا کہ جس میں سماعت کے دوران اضافی سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اسی مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جیل ٹرائل کے لئے فول پروف سیکورٹی انتظامات کئے جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رہے کہ پنجاب حکومت نے 15ستمبر کو جی ایچ کیو حملہ کیس ٹرائل منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جسے اب ایک نوٹیفکیشن کے بعد واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اے ٹی سی راولپنڈی میں ویڈیو لنک پر پیش کیا گیا تھا۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کو اے ٹی سی راولپنڈی میں وڈیو لنک پر پیش کیا گیا تھا جس کو عمران خان کے وکلا نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی امن منصوبے پر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔
فلسطینی اور مصری حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان اجلاسوں کا مقصد ممکنہ تبادلے کے لیے ’حالات پیدا کرنے‘ پر مرکوز ہے جس کے بدلے میں تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا۔
حماس نے کہا ہے کہ وہ امن منصوبے کی تجاویز سے جزوی طور پر متفق ہے لیکن اس نے متعدد اہم مطالبات کا جواب نہیں دیا ہے جن میں اس کی تخفیف اسلحہ اور غزہ کے مستقبل میں اس کا کردار شامل ہے۔
فلسطینی نژاد امریکی تاجر بشارا بحبہ، جو قطر میں حماس کے سینئر عہدیداروں سے براہ راست رابطہ رکھتے ہیں، نے کہا کہ تحریک جاری مذاکرات کے دوران مزید رعایتیں دینے پر آمادہ ہو سکتی ہے۔
بی بی سی ورلڈ سروس کے نیوز آور پروگرام میں بات کرتے ہوئے بحبہ نےکہا تھا کہ ’یرغمالیوں میں سے 20 کے زندہ ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے، اور ان کی رہائی کی شرائط کا تعین اس ہفتے حماس اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی بات چیت کے دوران کیا جائے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ 28 دیگر یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی ’زیادہ پیچیدہ‘ ہوگی۔
وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے بتایا تھا کہ ’کچھ لاشوں کے بارے میں معلوم نہیں ہے کیونکہ جن لوگوں نے انھیں دفن کیا تھا وہ مارے گئے تھے۔ لہذا وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں ہیں، اور انھیں ان کی تلاش کرنی پڑے گی۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم نے سنیچر کے روز کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ وہ ’آنے والے دنوں میں‘ یرغمالیوں کی رہائی کا اعلان کریں گے۔
مصری اور قطری حکام اسرائیل اور حماس دونوں کے وفود کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کریں گے سات اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے کی دوسری برسی کے موقع پر ہو رہے ہیں، جس میں تقریبا 1,200 افراد ہلاک ہوئے اور 251 دیگر کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے اس کے جواب میں غزہ میں ایک مہم کا آغاز کیا۔ حماس کی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 67 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
توقع کی جارہی ہے کہ یہ بات چیت جنگ کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ نتیجہ خیز ہوگی اور اس بات کا تعین کر سکتی ہے کہ آیا تنازعے کو ختم کرنے کا راستہ آخر کار مل چکا ہے یا نہیں۔
اس موقعے پر امریکی نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی بھی شرکت کر رہے ہیں۔
مصر کے شہر شرم الشیخ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔
مصری اور قطری اہلکار دونوں فریقین سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ ٹرمپ کے مجوزہ غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کے لیے اتفاق پیدا کر سکیں۔