جیل مینیول کی خلاف ورزی کرنے والوں کی عمران خان سے ملاقاتیں روک دی گئی ہیں: عطا اللہ تارڑ
پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جیل میں ملاقاتیں جیل مینیویل کے مطابق کروائی جاتی ہیں اور عظمی خان سمیت جن افراد نے ان قواعد کی خلاف ورزی کی ہے ان کی ملاقاتیں روک دی گئی ہیں۔
خلاصہ
صدر کی منظوری کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفینس فورسز مقرر
تجارتی راستے تب کھلیں گے جب پاکستان سیاسی دباؤ کے لیے انھیں بند نہ کرنے کی یقین دہانی کروائے گا: افغان طالبان
بلوچستان حکومت کا بیرون ملک مقیم کالعدم تنظیموں کے مبینہ سربراہان اور کمانڈرز سمیت 300 سے زائد افراد کے خلاف کاروائی کا فیصلہ
پاکستان اور کرغزستان کے درمیان سزا یافتہ افراد کے تبادلے اور تجارت سمیت باہمی تعاون کے 15 معاہدوں اور مفاہمت کی یاد داشتوں کا تبادلہ
افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کو حق نہیں کہ دوسرے ممالک سے تعلقات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرے۔‘
پاکستان کی جانب سے افغان سرحد کو اقوام متحدہ کا امدادی سامان بھیجنے کے لیے کھولنے کا فیصلہ
لائیو کوریج
صدر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفینس فورسز تعیناتی کی منظوری دے دی
،تصویر کا ذریعہِISPR
ایوانِ صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفینس فورسز تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
آج شام ہی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعیناتی کے متعلق سمری ایوان صدر بھجوائی تھی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ ساتھ ملک کے پہلے چیف آف ڈیفینس فورسز بھی مقرر ہو گئے ہیں۔ ان دونوں عہدوں کی مدت پانچ سال ہو گی۔
اس کے علاوہ صدر زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے چیف آف ایئر سٹاف ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت میں دو سال کی توسیع کی سمری بھی منظور کر لی ہے۔
اس توسیع کا اطلاق ان کی موجودہ پانچ سالہ مدت ملازمت کے مارچ 2026 میں مکمل ہونے پر ہو گا۔
عظمی خان سمیت جن افراد نے جیل مینیول کی خلاف ورزی کی ہے ان کی عمران خان سے ملاقاتیں روک دی گئی ہیں: عطا اللہ تارڑ
پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور
سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جیل میں ملاقاتیں جیل مینیویل کے مطابق کروائی جاتی
ہیں اور عظمی خان سمیت جن افراد نے ان قواعد کی خلاف ورزی کی ہے ان کی ملاقاتیں روک
دی گئی ہیں۔
جمعرات کے روز اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ پریس
کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جیل
میں ملاقاتیں جیل مینیویل کے مطابق کروائی جاتی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ جیل کے قواعد کے تحت قیدی کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے
دوران سیاسی نوعیت کی بات چیت نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی اس گفتگو کو ٹوئیٹ یا میڈیا
کو نہیں بتایا جا سکتا۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران قانونی اور سماجی معاملات پر
گفتگو کی جا سکتی ہے اور وہ بھی پرائیوٹ رہے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر سپر وائزنگ افسر سمجھے کہ قیدی کا طرزِ عمل اور ملاقات
میں جو گفتگو ہو رہی ہے وہ نقصِ امن کا باعث بن سکتی ہے، تو وہ اس ملاقات کو ختم
کر سکتے ہیں اور آئندہ ہونے والی ملاقاتوں کو روک بھی سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو اندیشہ ہو کہ اس طرح کی
ملاقاتوں کے احوال عام کیے جائیں گے اور ان کے باہر آنے کی وجہ سے نقصِ امن کا
خطرہ ہے تو وہ اس بنیاد پر بھی ملاقاتیں روک سکتا ہے۔
وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ جس، جس نے عمران خان کے ساتھ
ملاقات کے دوران جیل مینیویل کی خلاف ورزی کی، ان کی ملاقات بند کر دی گئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی ملاقات بھی آج سے بند کروا
دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ رواں ہفتے منگل کے روز تقریباً ایک مہینے بعد عمران خان کی ان
کی بہن عظمیٰ خان سے کروائی گئی تھی۔
ملاقات
کے بعد صحافیوں سے مختصر بات کرتے ہوئے عظمیٰ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی
’صحت الحمد اللہ ٹھیک ہے، مگر وہ بہت غصے میں تھے اور کہہ رہے تھے کہ انھیں ذہنی
تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘
منگل کی شب نجی ٹی وی چینل
جیو نیوز کے ایک پروگرام میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے
مشیر رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی
بہن سے ان کی ملاقات اس شرط پر کروائی گئی تھی کہ ’وہ بعد میں پریس کانفرنس نہیں
کریں گے اور اگر اسی طرح چلتے رہیں گے تو آئندہ بھی ملاقاتوں پر پابندی نہیں لگے
گی۔‘
جمعرات کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیرر تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا یہ بیانیہ ہی غیر قانونی ہے کہ وہ کابینہ کی تشکیل اور دیگر حکومتی معاملات پر مشاورت کے لیے عمران خان سے ملنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل مینویل کے مطابق سیاست معاملات پر بات چیت کے لیے ملاقات نہیں کی جاسکتی۔ ’آپ قانونی اور سماجی معاملات پر گفتگو کر سکتے ہیں اور وہ بھی پرائیوٹ ہو گی۔‘
وزیر اعظم نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفینس فورسز تعیناتی کی سمری صدر کو بھجوا دی
،تصویر کا ذریعہWhite House
وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ایک بیان کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل
عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفینس فورسز تعیناتی کی سمری ایوان صدر بھجوا دی ہے۔
بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ ساتھ چیف آف ڈیفینس
فورسز بھی ہوں گے جو کہ پانچ سال کے لیے ہو گی۔
صدر کی جانب سے منظوری اور نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر ملک کے پہلے چیف آف ڈیفینس فورسز بن جائیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے چیف آف ایئر سٹاف ائیر چیف مارشل
ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت میں بھی دو سال کی توسیع کی منظوری دے دی۔
اس توسیع کا اطلاق ان کی موجودہ پانچ سالہ مدت ملازمت کے مارچ 2026 میں مکمل ہونے
پر ہو گا۔
اس سے کچھ دیر قبل ہی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس
سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ چیف آف ڈیفینس فورسز کی تقرری کے نوٹیفکیشن کے حوالے
سے کوئی قانونی یا سیاسی رکاوٹ نہیں ہے اور یہ نوٹیفکیشن جلد ہی جاری ہو جائے گا۔
تجارتی راستے تب کھلیں گے جب پاکستان سیاسی دباؤ کے لیے انھیں بند نہ کرنے کی یقین دہانی کروائے گا: افغان طالبان
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images)
افغانستان میں طالبان کی حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی راستے
اس ہی وقت کھولے جائیں گے جب پاکستانی حکومت کی طرف سے یقین دہانی کروائی جائے کہ مستقبل
میں انھیں سیاسی دباؤ کے لیے بند نہیں کیا جائے گا۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جمعرات کے روز ایکس
اکاؤنٹ پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ پاکستان نے سیاسی اور معاشی دباؤ ڈالنے
کی غرض سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی اور راہداری کے راستے غیر قانونی
طور پر بند کر رکھے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس سے دونوں طرف کے لوگوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ افغانستان دیگر کئی ممالک سے تحارت کے ذریعے اپنی
ضروریات پوری کرتا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ تجارت اور ٹرانزٹ کو وسعت دینے اور دونوں فریقوں کے درمیان
باعزت طریقے سے تجارت کے فروغ کے لیے افغان حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ
تجارتی راستے تب ہی کھولے جائیں گے جب پاکستانی حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کروائی
جائے گی کہ مستقبل میں یہ راستے سیاسی دباؤ، غیر قانونی استعمال یا لوگوں کو دباؤ میں
لانے کے لیے بند نہیں کیے جائیں گے اور دونوں ممالک کے تاجروں اور عوام کے حقوق کا
تحفظ کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی کے باعٹ تقریباً دو ماہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد ہر قسم کی تجارت کے لیے بند ہے۔
پاکستان اور کرغزستان کے درمیان سزا یافتہ افراد کے تبادلے اور تجارت سمیت باہمی تعاون کے 15 معاہدوں اور مفاہمت کی یاد داشتوں کا تبادلہ
،تصویر کا ذریعہAPP
پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تجارت، سزا یافتہ افراد کے تبادلے، معیشت، زراعت، توانائی، بندر گاہوں کے استعمال،
تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ کے لیے 15 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کا تبادلہ کیا گیا۔
پاکستان کے سرکاری میڈیا اے پی پی کے مطابق، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور
کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف کے درمیان مذاکرات کے بعد جمعرات کو منعقدہ خصوصی تقریب
میں دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کا تبادلہ ہوا۔
جن معاہدوں اور مفاہمت کی یاد داشتوں پر دستخط ہوئے ان میں سزا یافتہ افراد کے
تبادلے کا معاہدہ، بشکیک اور اسلام آباد کے مابین سسٹر سٹی تعلقات کے قیام کا
معاہدہ، پاکستان کی فارن سروس اکیڈمی اور کرغزستان کی ڈپلومیٹک اکیڈمی کے درمیان تعاون
کے لیے مفاہمت کی یادداشت، توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشت
شامل ہے۔
اس کے
علاوہ کان کنی اور جیو سائنسز، توانائی، بندرگاہوں اور لاجسٹک رابطوں میں تعاون، زراعت
اور کسٹمز کے درمیان الیکٹرانک ڈیٹا کے تبادلے سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کے لیے مفاہمت
کی یادداشتوں کا تبادلہ ہوا۔
بلوچستان حکومت کا بیرون ملک مقیم کالعدم تنظیموں کے مبینہ سربراہان اور کمانڈرز سمیت 300 سے زائد افراد کے خلاف کاروائی کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے عسکریت پسندی میں ملوث بیرون ملک مقیم کالعدم
تنظیموں کے مبینہ سربراہان اور کمانڈرز سمیت 300 سے زائد افراد کے خلاف کاروائی کا
فیصلہ کیا ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق، یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر
سرفراز بگٹی کے زیر صدارت ایک اجلاس میں کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، بلوچ
لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)، یونائیٹد بلوچ آرمی (یو بی اے)، بلوچ ریپبلیکن گارڈز (بی
آر جی)، بلوچ ریپبلیکن آرمی (بی آر اے) اور لشکر بلوچستان کی قیادت کے خلاف درج مقدمات
کی پراسیکیوشن کو تیز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وفاقی وزارت
داخلہ اور وزارت خارجہ کی مدد سے انٹر پول کے ذریعے ریڈ نوٹسز کی کارروائی کو تیز کیا
جائے۔
وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث مقامی سہولت کاروں سے لیکر کالعدم تنظیموں کی
قیادت تک کے خلاف پروونشل ایکشن پلان کی گائیڈ لائن کے تحت بھرپور کارروائی کی جائے
گی۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران بیرون ملک مقیم کالعدم تنظیموں کی مبینہ قیادت کی مقامی سہولت کاروں
سے رابطوں، کال ریکارڈنگز اور دیگر شواہد پیش کیے گئے جس کے بعد بیرون ملک مقیم عسکریت پسندوں اور ان کے مقامی سہولت کاروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا
فیصلہ کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ سیاسی لبادہ اوڑھے ’دہشت گرد تنظیموں‘ کے بیرون ملک بیٹھے مبینہ سربراہان
اور ان کے کمانڈرز کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے لانا ہماری ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’تمام دہشت گرد تنظیموں کے سربراہان اور ان کے سہولت کاروں کی
مکمل فہرست مرتب کر کے دستیاب شواہد کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔‘
وزیر اعلی نے ہدایت کی کہ مرتب کردہ ریکارڈ اور شواہد کو وفاقی حکومت کی مدد سے
ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پیش کر کے بھرپور قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا-
قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس: وزیر اعلیٰ صوبہ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بھی اجلاس میں شریک
،تصویر کا ذریعہMinister for Finance
گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن
کا اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت جاری ہے۔
اس اجلاس میں صوبے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، مشیر خزانہ خیبر پختونخواہ مزمل
اسلم، چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال اور چاروں صوبوں کے پرائیوٹ ممبران بھی
اجلاس میں شریک ہیں۔ پنجاب سے پرائیوٹ ممبر کے طور پر ناصر کھوسہ اجلاس میں شریک
ہیں۔
اجلاس میں سندھ اور کے پی
وزراء اعلیٰ بطور صوبائی وزیر خزانہ شرکت کر رہے ہیں جبکہ پنجاب اور بلوچستان کے
وزراء خزانہ اجلاس میں شریک ہیں۔
،تصویر کا ذریعہMinister for Finance
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس کی ابتدا میں وزرائے اعلیٰ، صوبائی وزرائے خزانہ، سیکرٹری صاحبان اور دیگر ارکان کا 11 ویں نیشنل فنانس کمیشن کے افتتاحی اجلاس میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’آج کا یہ اجلاس ہمارے لیے آئینی ذمہ داری اور باہمی تعاون کا اہم موقع ہے۔ یہ معزز فورم آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 150 کے تحت قائم کیا گیا تھا۔‘
،تصویر کا ذریعہMinister for Finance
وزیر خزانہ نے کہا کہ ’10ویں این ایف سی ایوارڈ کی مدت 21 جولائی 2025 کو پوری ہو چکی ہے۔ اس پس منظر میں اس اجلاس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ وفاقی حکومت کا عزم تھا کہ 11ویں این ایف سی کا افتتاحی اجلاس کسی تاخیر کے بغیر بلایا جائے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’وزیراعظم نے خود اس بات میں گہری دلچسپی لی کہ یہ اجلاس جلد از جلد ہو۔ صوبوں نے بھی اس آئینی ذمہ داری کو بروقت ادا کرنے کا بھرپور ارادہ ظاہر کیا۔ پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے باعث یہ اجلاس مؤخر کرنا پڑا تھا۔‘
وزیر خزانہ نے کہا کہ ’این ایف سی کے حوالے سے قیاس آرائیوں اور خدشات کا بہترین حل مخلصانہ اور شفاف مکالمہ ہے جس کے لیے آج ہم سب یہاں جمع ہیں۔ آج ہم یہاں کھلے ذہن اور بغیر کسی تعصب کے موجود ہیں۔ ہماری پہلی ترجیح ایک دوسرے کی بات سننا ہے اور وفاقی حکومت یہاں صوبوں کے مؤقف کو سننے کے لیے موجود ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہMinister for Finance
پاکستان کو حق نہیں کہ دوسرے ممالک سے تعلقات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرے، افغان طالبان وزیر خارجہ امیر خان متقی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں طالبان حکومت کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی
افغانستان میں طالبان حکومت
کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان پر مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام
عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان کو یہ حق نہیں کہ وہ طالبان کو یہ ہدایات دے کہ
وہ دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کیسے رکھے۔‘
امیر خان متقی نے بدھ کے روز
کابل میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’پاکستان میں فیصلے کرنے اور حکم جاری کرنے کا اختیار
کسی ایک فرد یا انتظامیہ کے پاس نہیں ہے۔ وہاں فیصلہ سازی کا کوئی ایک ’مرکز‘ نہیں،
یعنی پاکستان میں حکمران کون ہے اور فیصلہ کون کرتا ہے یہ واضح نہیں۔ ‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’آپ نے کل
اسحاق ڈار (پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیرِ خارجہ) کو سنا ہوگا کہ وہ کہہ رہے
تھے کہ میں نے فلاں مسئلے پر آرمی چیف اور وزیراعظم دونوں سے اجازت لی۔ اس کا کیا
مطلب ہے؟ اس ملک میں کتنے حکمران ہیں؟‘
متقی کا کہنا تھا کہ ’افغانستان
نے پاکستان کے ساتھ رواداری کا مظاہرہ کیا ہے لیکن پاکستان نے بارہا افغانستان کی
علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی، تجارتی راستے بند کیے اور افغان پناہ گزینوں کو
کسی نہ کسی بہانے سے ہراساں کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان نے کبھی ہم پر الزام لگایا کہ ہم پاکستانی طالبان
ہیں اور جب ہم اس معاملے پر تھوڑا آگے بڑھے تو انھوں نے کہا کہ یہ بلوچ تحریک ہے
اور جب ہم اس سے بھی آگے گئے تو انھوں نے کہا کہ اس میں انڈیا ملوث اور شامل ہے۔‘
افغان وزیرِ خارجہ امیر خان
متقی کا کہنا تھا کہ ’ہمارے انڈیا کے سیاسی اور اقتصادی تعلقات ہیں، ہماری سیاست
آزاد اور خودمختار ہے۔ ہمیں سب کے ساتھ تعلقات رکھنے کا حق ہے۔‘
افغان سرحد کو اقوام متحدہ کا امدادی سامان بھیجنے کے لیے کھولنے کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی وزارتِ تجارت کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف
ریونیو کسٹمز آپریشن اور ڈائریکٹر جنرل آف ٹرانزٹ ٹریڈ کراچی کو ہدایت کی گئی ہے
کہ چمن اور طورخم کے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کے ذریعے اقوامِ متحدہ کی تین ایجنسیوں
کے سامان کی نقل و حرکت شروع کرنے کی تیاری کی جائے۔
تاہم پاکستان کے سرکاری ذرائع نے اس بات کی وضاحت
کی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد عام تجارت یا امیگریشن کے لیے نہیں
کھولی اور نہ ہی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو بحال کیا جا رہا ہے۔‘
وزارتِ تجارت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کسٹمز آپریشن
اور ڈائریکٹر جنرل آف ٹرانزٹ ٹریڈ کراچی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی تین
عالمی ادارہ خوراک، یونیسف اور یو
این ایف پی اے کے خوراک، طبی سمان یا ادویات اور طلبا کے لیے سامان سے بھرے ٹرکوں
کی افغانستان روانگی میں معاونت کریں۔
مزید یہ کہ ’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سرحد کے کھولے
جانے پر 12 اکتوبر سے پھنسے امدادی سامان کے ٹرکس کو سرحد پار کرنے کی اجازت دی
جائے گی۔
واضح رہے کہ پاکستانی میڈیا میں گزشتہ کئی روز سے
یہ خبریں گردش کر رہی تھی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان عام تجارت یا
امیگریشن اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے بحال کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ 12 اکتوبر سے افغانستان اور پاکستان کے
درمیان بارڈر کراسنگ پوائنٹس جن میں طورخم، غلام خان، خرلاچی اور انگور اڈہ شامل
ہیں پر برآمدات و درآمدات کے ساتھ ساتھ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کارگو کی کسٹم کلیئرنس
کو مکمل طور پر معطل کر دیا تھا جبکہ چمن بارڈر پر یہ معطلی 15 اکتوبر سے نافذ کی
گئی تھی۔
سرکاری ذرائع کہ مطابق یہ صرف اقوامِ متحدہ کے
انسانی ہمدردی کے کارگو کے لیے ایک وقتی سہولت ہے، جسے وزارتِ تجارت اور وزارتِ
خارجہ کے ذریعے معاونت فراہم کی جاتی ہے اور اس کا اطلاق نجی یا تجارتی ٹرانزٹ
کارگو پر نہیں ہوتا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اس سارے عمل کے دوران اس بات
کی وضاحت کی گئی ہے کہ دوطرفہ تجارت اور معمول کی سرحدی آمدورفت پر تمام موجودہ
پابندیاں پوری طرح برقرار ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ
’ہمارا مسئلہ افغان طالبان حکومت کی پالیسیوں سے ہے، افغان عوام سے نہیں۔‘
ایران میں دس افغان شہریوں کو تشدد کے بعد ہلاک کیا گیا: طالبان حکومت
افغانستان میں قائم طالبان حکومت کا اپنے ایک حالیہ
بیان میں کہنا ہے کہ ایران میں مارے جانے والے دس افغان باشندوں کی لاشیں وطن پہنچ
گئی ہیں۔
صوبہ فراح کی طالبان انتظامیہ نے بی بی سی کو اس
بات کی تصدیق کی ہے کہ انھوں نے بدھ 3 دسمبر کو مارے جانے والے 11 میں سے 10 افغان
شہریوں کی لاشیں وصول کر لی ہیں۔
ایران سے ملحقہ صوبہ فراح پر قائم سرحدی بندرگاہ
ابو نصر کے طالبان کمانڈر خطیب فراحی نے بتایا کہ ’کل 12 افراد تھے کہ جن میں سے
تین یا چار فراح کے تھے اور باقی ہرات کے رہنے والے تھے۔ ان افغان شہریوں کو ابو
نصر بندرگاہ کے راستے ایران میں غیر قانونی طور پر لے جایا گیا تھا۔ انھیں ایران
میں گرفتار کیا گیا اور بے رحمی اور ظالمانہ طریقے سے مار دیا گیا۔ تاہم ان 12
افراد میں سے ایک زخمی ہوئے مگر اُن کی جان بچ گئی مگر دیگر 11 افغان شہری ہلاک ہو
گئے۔‘
خطیب فراحی کا کہنا ہے کہ ’یہ لوگ دراصل کچھ عرصہ
پہلے ہلاک ہوئے تھے، لیکن ان کے بقول، ایران نے انھیں اپنی تحویل میں رکھا ہوا تھا
اور ان کے ایک زندہ بچ جانے والے زخمی ساتھی کی مدد سے پہلے اس کے خاندان اور بعد
ازاں طالبان حکومت کو ان کے بارے میں اطلاع ملی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب دس ہلاک ہونے والے
افغان شہریوں کی میتیں وطن واپس لائی گئی ہیں۔ ایک زخمی اور ہلاک ہونے والے ایک شخص
کی واپسی تا حال مُمکن نہیں ہو پائی ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہME
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانع
دوسری جانب ایرانی حکام نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
اس دوران افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ’20 دن پہلے پیش آیا تھا۔‘وزارت کے ترجمان عبدالمتین قانع نے بی بی سی کو بھیجے گئے ایک آڈیو پیغام میں کہا کہ ’یہ واقعہ دراصل 20 دن سے بھی پہلے پیش آیا تھا اور لاشیں ایران کی سڑکوں پر پڑی ہوئی تھیں۔ اسلامی امارت کے حکام کی کوششوں سے ہلاک ہونے والے افغان شہریوں کی لاشیں وطن واپس لائی گئیں اور ان کے خاندانوں کے حوالے کر دی گئیں۔‘
امریکہ نے روس سے امن مذاکرات سے متعلق مثبت اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا ہے: یوکرین
،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرین کے وزیرِ خارجہ آندرے سِبیہا کے مطابق امریکہ نے روس کے ساتھ مذاکرات میں ’مثبت پیش رفت‘ کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔
برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے ماسکو کے دورے کے بعد یوکرینی وفد کے سربراہ رستم عمرُوف سے فون پر بات کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’سکیورٹی وجوہات کی بنا پر یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ ماسکو میں ہونے والی ملاقات کی تفصیلات زیرِ بحث آئیں‘ کیونکہ مذاکرات حساس نوعیت کے ہیں۔
یوکرنی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی وفد کے نمائندوں کے مطابق ماسکو میں ہونے والی بات چیت امن عمل کے لیے ’مثبت اہمیت‘ رکھتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ان کا تجزیہ ہے، اور انھوں نے یوکرینی وفد کو دعوت دی ہے کہ ہم جلد امریکہ میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں۔‘
یوکرین کا یورپی یونین کی روسی منجمد اثاثوں پر تجویز کا خیرمقدم
یوکرین کے وزیرِ اعظم یولیا سویریڈینکو نے یورپی یونین کی اس تجویز کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت منجمد روسی اثاثے یوکرین کی مالی ضروریات کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
یولیا سویریڈینکو نے یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا فان ڈیر لاین کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کو ’ایک اہم اور ذمہ دارانہ قدم‘ قرار دیا جو یوکرین کے ’یورپی انضمام کی مکمل راہ کو مزید مضبوط کرتا ہے‘۔
انھوں نے یورپی کمیشن کی صدر کا شکریہ ادا کیا، جنھوں نے آج 79 ارب پاؤنڈ مالیت کا پیکج پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت منجمد روسی اثاثے آئندہ دو برسوں کے دوران یوکرین کی مالی ضروریات کا ’دو تہائی حصہ‘ پورا کریں گے۔
یولیا سویریڈینکو نے کہا کہ ’ہم یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کے تسلسل اور یورپی کونسل کی حتمی منظوری کے منتظر ہیں۔‘
پوتن سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیں شکست دے سکتے ہیں، صرف ٹرمپ ڈیڈلاک ختم کرا سکتے ہیں: نیٹو
،تصویر کا ذریعہReuters
برسلز میں یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق امور پر غور کرنے کے لیے مغربی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُٹے نے میڈیا کانفرنس میں خبردار کیا ہے کہ یورپ کو روس سے ’حقیقی اور دیرپا خطرات‘ لاحق ہیں۔
انھوں نے کہا کہ روس کی ’بڑھتی ہوئی غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں‘ جیسے فضائی حدود کی خلاف ورزی اور سائبر حملوں کے پیشِ نظر نیٹو کو ڈٹ کر روس پر کڑی نگرانی رکھنے کی ضرورت ہے۔
مارک رُٹے نے مزید کہا کہ اتحادی ممالک کو زیادہ کردار ادا کرنا ہوگا، اسی لیے وزرائے خارجہ نے دفاعی اخراجات کے لیے ’جی ڈی پی کا پانچ فیصد سالانہ‘ مختص کرنے پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کی ہر انچ زمین کا دفاع کیا جائے گا۔
’پوتن سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیں شکست دے سکتے ہیں مگر ہم میدان میں ہی رہیں گے‘
مارک رُٹے نے کہا کہ نیٹو کی حمایت یوکرین کے لیے عملی طور پر فرق ڈال رہی ہے، خاص طور پر فضائی دفاع کے ذریعے یوکرین کو اپنے پاؤں پر کھڑے رہنے اور عوام کو محفوظ رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔
انھوں نے یوکرین کی ’ناقابلِ یقین مزاحمت‘ کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’پوتن سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیں تھکا دیں گے، لیکن ہم کہیں نہیں جا رہے ہیں۔‘ مارک رُٹے نے کہا کہ آج کے فیصلے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پوتن غلطی پر ہیں۔
انھوں نے زور دیا کہ ’امن کی سب سے زیادہ خواہش یوکرین کی ہے‘ اور نیٹو اپنے عوام اور زمین کے تحفظ کے لیے ’جو کچھ بھی کرنا پڑے‘ کرے گا۔
،تصویر کا ذریعہEPA
’اتحادی ممالک مکمل متحد ہیں‘
صحافیوں کے سوالات کے جواب میں مارک رُٹے نے کہا کہ اتحادی ممالک پہلے ہی اس بات پر متفق ہیں کہ روس نیٹو کے لیے سب سے بڑا اور براہِ راست خطرہ ہے، اور اس سوچ پر تمام اتحادی ’مکمل طور پر متفق‘ ہیں۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ یوکرین جنگ کے حل میں ’دنیا میں صرف ایک شخص‘ کردار ادا کر سکتا ہے اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، جو فروری سے امن معاہدے کے لیے کوشاں ہیں۔
مارک رُٹے نے کہا کہ یہ عمل ’مرحلہ وار‘ ہوگا اور انھوں نے اس پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا تاکہ مذاکرات مشکل نہ ہوں۔
ہتھیاروں کی فراہمی کے امریکی و نیٹو پروگرام (پی یو آر ایل) پر تنقید کے جواب میں مارک رُٹے نے کہا کہ ’دو تہائی اتحادی‘ اس سکیم میں شامل ہو چکے ہیں اور اب یوکرین کو مسلسل ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں، جس سے روس پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور یہ پیغام جا رہا ہے کہ ’ہم کہیں نہیں جا رہے۔‘
یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا فان ڈیر لاین کی جانب سے روسی منجمد اثاثے یوکرین کی مالی ضروریات کے لیے استعمال کرنے کے اعلان پر مارک رُٹے نے کہا کہ یہ معاملہ بنیادی طور پر یورپی یونین کے سامنے ہے اور انھیں اس قیادت پر مکمل اعتماد ہے۔
پولینڈ میں ریلوے لائن پر دھماکے جیسے حملوں کے بارے میں مارک رُٹے نے کہا کہ یہ ’انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور ناقابلِ قبول‘ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نیٹو اپنی انٹیلیجنس اور پولینڈ کے ساتھ مل کر تحقیقات کرے گا اور پی یو آر ایل پروگرام کے ذریعے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ ’ہم اپنے طریقے سے جواب دیں گے اور روس کو یہ محسوس ہوگا۔‘
مارک رُٹے نے مزید کہا کہ روس اپنے بجٹ کا 40 فیصد دفاع پر خرچ کر رہا ہے اور نیٹو کو اس کا جواب دینا ہوگا۔
اس میں پانچ فیصد دفاعی اخراجات کا وعدہ اور دفاعی صنعت کو مطلوبہ پیداوار یقینی بنانا شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ فوجی بھرتی یا خواتین کی شمولیت جیسے فیصلے ہر ملک کی اپنی صوابدید ہیں۔
امن مذاکرات پر سوال کے جواب میں مارک رُٹے نے کہا کہ وہ اس عمل پر تبصرہ نہیں کریں گے، لیکن زور دیا کہ روس پر دباؤ جاری رکھنا ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی اور معاشی دباؤ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ پوتن کے پاس کوئی راستہ نہیں بچے گا اور بالآخر انھیں سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔
حالیہ عرصے میں بلوچستان میں 100 شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے: حکام کا دعویٰ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہReuters
بدھ کو وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت انسداد دہشتگردی سے متعلق ہونے والے ایک اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ ’صوبے کے شمالی علاقوں میں 100 شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جبکہ ضلع کچھی میں 200 سے زائد آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔‘
وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں قومی اور صوبائی ایکشن کمیٹیوں کے طے شدہ اہداف، امن و امان کی مجموعی صورتحال اور جاری سکیورٹی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شدت پسندوں کے خلاف مربوط اور مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلوچستان کے شمالی علاقوں میں 100 شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع کچھی میں 200 سے زائد آپریشنز کئے گئے اور دیگر اضلاع میں بھی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کامیاب کارروائیاں جاری ہیں۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے میں 3561 غیر قانونی پیٹرول پمپس سیل کر دیے گئے ہیں۔ کسٹم حکام نے گذشتہ تین ماہ میں 2575 آپریشنز کیے اور 416 نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ضبط کیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے عمل اور تشکیل شدہ ضوابط پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ کارروائیوں کی رفتار مزید تیز کی جائے اور کسی صورت نرمی نہ برتی جائے۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کہا کہ قومی اور صوبائی ایکشن کمیٹیوں کے فیصلوں پر پوری تندہی، ذمہ داری اور تسلسل کے ساتھ عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
پولیس کو جدید اسلحہ، بلٹ پروف گاڑیاں اور اینٹی ڈرون سسٹمز فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں: سہیل آفریدی
،تصویر کا ذریعہKPK Govt
وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کو جدید اسلحہ، بلٹ پروف گاڑیاں اور اینٹی ڈرون سسٹمز فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ جدید سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔
پشاور میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت پولیس فورس اور سول افسران کا مشترکہ دربار وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اس دربار پر چیف سیکریٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکریٹریز، صوبائی محکموں کے سیکریٹریز، ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کے افسران اور پولیس حکام شریک ہوئے۔
اپنے خطاب میں وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا گذشتہ چار دہائیوں سے جنگ، دہشت گردی اور بیرونی مداخلت کے اثرات جھیل رہا ہے، جس نے عوام، پولیس، سول افسران اور مجموعی نظامِ حکومت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ گذشتہ 21 برسوں میں خیبر پختونخوا پولیس نے محدود وسائل کے باوجود دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں جو پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان، باجوڑ اور دیگر علاقوں میں پولیس افسران، سول حکام اور شہریوں کی جانی قربانیوں کو انھوں نے ناقابلِ فراموش قرار دیا اور کہا کہ پاکستان فوج، فرنٹیئر کور، سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں نے بھی بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت امن کی بحالی اور اسے مستقل بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور پولیس و سول انتظامیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن ہر قیمت پر بحال ہوگا اور مستقل طور پر یقینی بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی افسر کے کام میں سیاسی مداخلت نہیں ہوگی لیکن نتائج دینا لازمی ہوگا۔ انھوں نے ہدایت دی کہ افسران پر سیاسی دباؤ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو یکسر مسترد کیا جائے اور عوامی خدمت کو سب سے اوپر رکھا جائے۔
انھوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے میں بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی سختی سے نافذ کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ کسی وزیر، ایم پی اے، پولیس افسر یا سول افسر کے خلاف کرپشن ثابت ہوئی تو بلا امتیاز کارروائی ہوگی۔ عوامی خدمت کو انھوں نے اپنی حکومت کا بنیادی مقصد قرار دیا اور کہا کہ عوام کے لیے اوپن ڈور پالیسی اپنائی گئی ہے۔ ہر سرکاری افسر عوامی شکایات سننے اور ان کے فوری حل کا پابند ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ گڈ گورننس کے لیے کارکردگی کے اشاریے طے کر لیے گئے ہیں اور اب تمام ترقیات، تقرریاں اور ذمہ داریاں کارکردگی کی بنیاد پر ہوں گی۔ حکومت اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کی مکمل حمایت کرے گی اور کسی بھی غلطی پر سخت احتساب یقینی بنایا جائے گا۔
ماہ رنگ بلوچ دہشتگردی کے مقدمے میں بری، ’ریاست بلوچ آوازوں کے خلاف بدنیتی سے کارروائی کرتی ہے‘
،تصویر کا ذریعہBYC
کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے بلوچ یوتھ کونسل (بی وائے سی) کی رہنما ماہ رنگ بلوچ کو بری کر دیا ہے۔
یہ مقدمہ ان کے بیانات کی بنیاد پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اور تعزیرات پاکستان کے تحت گذشتہ برس 11 اکتوبر کو درج کیا گیا تھا۔ کراچی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نمبر پانچ کے جج ایاز مصطفیٰ جوکھیو نے بریت کا تفصیلی فیصلہ بھی جاری کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ ماہ رنگ بلوچ کے خلاف درج ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا تھا کہ ماہ رنگ بلوچ مختلف دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ ہیں، ان کی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہیں، نوجوانوں کو گمراہ کرتی ہیں، ریاست کے خلاف دشمنی کو بڑھاوا دیتی ہیں اور قومی مفاد کے خلاف کام کرتی ہیں۔
وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر نے سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ عدالت کی جانب سے بری کیے جانے کے فیصلے نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ریاست بلوچ آوازوں کے خلاف بدنیتی سے کارروائی کرتی ہے اور شہری ادارے ان کے بنیادی حقوق کو بروقت یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
ان کے مطابق اس مقدمے میں شکایت کنندہ خود اسی تھانے میں تین ایف آئی آرز کا ملزم تھا اور اسے ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا گیا جبکہ پولیس کو مجبور کیا گیا کہ وہ بغیر کسی ثبوت کے ماہ رنگ بلوچ کے خلاف چالان پیش کرے۔
جبران ناصر کے دعوے کے مطابق استغاثہ پر بھی دباؤ ڈالا گیا کہ وہ قانونی بنیاد کے بغیر مقدمہ چلائے اور اب عدالتی فیصلے سے یہ عیاں ہے۔ ان کے مطابق عدلیہ نے ماہ رنگ بلوچ کو 13 ماہ تک ایک جھوٹے مقدمے میں الجھائے رکھا، حالانکہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کئی ماہ پہلے ہی اس ہراسانی کو ختم کر سکتے تھے جب ہم نے درخواست اور اپیل دائر کی تھی۔
ان کی رائے میں ’یہ بریت پاکستان بھر میں حقوق کے کارکنوں کے خدشات کو مزید تقویت دیتی ہے کہ ریاست بی وائے سی رہنماؤں کے خلاف بدنیتی پر مبنی مقدمات درج کر رہی ہے، انھیں قید میں رکھے ہوئے ہے اور انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت ان پر پابندیاں لگا رہی ہے، بطور افراد اور بطور تنظیم دونوں حیثیت میں کام کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔‘
جبران ناصر نے کہا کہ ’ہمیں خوشی ہے کہ ہم نے بی وائے سی کی قیادت کی وکالت کی اور بلوچستان اور بلوچ عوام کے حقوق کی ان کی جائز سیاسی جدوجہد میں معاونت کی ہے۔‘
وکیل ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ پر قائم ’بے بنیاد‘ مقدمات واپس لیے جائیں: ایچ آر سی پی کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہX
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان دونوں وکلا اور میاں بیوی پر بے بنیاد مقدمات واپس لیے جائیں اور ان کی دی جانے والی دھمکیوں اور ہراسانی کا سلسلہ ختم کیا جائے۔
تنظیم کے مطابق سائبر کرائم، دہشت گردی اور عدالتی عمل کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال کے ذریعے جمہوری اختلافِ رائے کے حق پر سزا دینا ناقابلِ قبول ہے۔
ایچ آر سی پی کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے پیکا کے تحت درج ایف آئی آر فوج کے طرزِ عمل پر تنقید کو جرم قرار دیتی ہے، جو اظہارِ رائے اور منصفانہ ٹرائل کے آئینی و بین الاقوامی تحفظات کی خلاف ورزی ہے۔
انسانی حقوق پر کام کرنے والی تنظیم کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر دباؤ، عدالت میں حاضری کے باوجود ان کی گرفتاری اور ان کی مرضی کے وکیل کا حق نہ دینا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ریاستی تشدد کے متاثرین کا دفاع کرنے والی آوازوں کو خاموش کرنے اور ختم کر دینے کی ایک منظم کوشش جاری ہے۔
کرغزستان کے صدر دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے
،تصویر کا ذریعہPTV
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی دعوت پر کرغزستان کے صدر سدیر جاپروف آج دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ سینیئر کابینہ ارکان، سرکاری حکام اور کاروباری شخصیات پر مشتمل اعلیٰ سطح وفد بھی ان کے ہمراہ ہے۔
کرغزستان کے صدر جاپروف ا پنے دورے کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور کرغز صدر کے درمیان ملاقات سمیت وفود کی سطح پر مذاکرات کا دور بھی ہو گا۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق مذاکرات میں پاکستان اور کرغزستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے تمام اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور تجارت، توانائی، دفاع، تعلیم، عوامی روابط اور علاقائی رابطہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر غور ہوگا۔
کرغیز صدر پاکستان۔کرغزستان بزنس فورم سے خطاب بھی کریں گے۔واضح رہے کہ کرغزستان کی جانب سے آخری صدارتی دورہ جنوری 2005 میں ہوا تھا۔
پی ٹی وی کے مطابق موجودہ دورہ دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے جو مشترکہ تاریخ، مذہبی وابستگی اور خطے میں امن و ترقی کے عزم پر مبنی ہیں۔ توقع ہے کہ یہ دورہ دو طرفہ تعاون کو نئی سمت دے گا اور علاقائی و عالمی اداروں میں شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا۔
یوکرینی وزیرِ خارجہ اور نیٹو سربراہ کی جنگ کے خاتمے سے متعلق ’اگلے اقدامات‘ پر بات چیت
،تصویر کا ذریعہX / Andrii Sybiha
یوکرین کے وزیرِ خارجہ آندرے سِبیہا، جو نیٹو ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ورکنگ لنچ میں شریک ہیں، نے نیٹو کے سربراہ مارک رُٹے سے ملاقات کی ہے۔
آندرے سِبیہا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ دونوں رہنماؤں نے ’امن کی کوششوں میں ہماری پیش رفت اور جنگ ختم کرنے کے اگلے اقدامات‘ پر بات کی۔
چیک وزیرِ خارجہ یان لیپافسکی نے بھی ایکس پر کہا کہ ’آج کے ایجنڈے میں سب سے اہم موضوع یوکرین کی حمایت، ’روس کا خطرہ اور چین کی طرف سے بڑھتے ہوئے خطرات‘ پر بات کرنا ہوگا۔
لیتھونیا کے وزیرِ خارجہ کیسٹس بُڈرس نے صحافیوں کو بتایا کہ یوکرین میں مستقبل میں کسی جنگ بندی کے بعد بھی ’روس نیٹو کے لیے براہِ راست فوجی خطرہ ہے اور رہے گا۔‘
یوکرین کے تنازع میں علاقائی مسائل بدستور سب سے بڑی رکاوٹ مگر یہ کون سے علاقے ہیں؟
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ ’علاقائی مسئلہ امن معاہدے کا سب سے مشکل پہلو‘ ہے۔ کریملن مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ یوکرین مشرقی علاقوں کا کچھ حصہ چھوڑ دے، جسے کئیو نے ہمیشہ ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔
بی بی سی نیوز کے دفاعی نامہ نگار جوناتھن بیل کے مطابق ڈونباس کے ’فورٹرس بیلٹ‘ شہروں، سلوویانسک، کراماتورسک اور درُژکیوکا، جہاں کم از کم ڈھائی لاکھ افراد رہتے ہیں، کو چھوڑنا زیادہ تر یوکرینی عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہوگا۔
اسی دوران پوکرووسک کے سٹریٹیجک قصبے پر شدید لڑائی جاری ہے۔ روس کا دعویٰ ہے کہ اس نے اسے قبضے میں لے لیا ہے، لیکن یوکرین کہتا ہے کہ لڑائی ابھی جاری ہے۔
امریکی حمایت یافتہ مسودہ امن منصوبے میں تجویز دی گئی ہے کہ کریمیہ، لوہانسک اور ڈونباس کو ’ڈی فیکٹو روسی‘ علاقے تسلیم کیا جائے، حتیٰ کہ امریکہ کی جانب سے بھی، اگرچہ قانونی طور پر نہیں۔ اس کا مطلب ہوگا کہ یوکرین اور دیگر ممالک روسی کنٹرول کو قانوناً تسلیم نہ کریں۔
اسی منصوبے میں کہا گیا ہے کہ جنوبی علاقوں خیرسون اور ژاپوریزژیا میں محاذ کی لکیریں منجمد کر دی جائیں اور روس یوکرین کے دیگر حصوں سے دستبردار ہو جائے، جن میں شمال مشرقی خارکیف اور سُومی کے علاقے اور جنوب میں میکولائیف شامل ہیں۔
ولادیمیر زیلینسکی پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ ماسکو کو طاقت کے زور پر علاقہ چھیننے کی اجازت دینا ایک خطرناک مثال قائم کرے گا۔