وزیراعظم شہباز شریف کا پسرور چھاؤنی میں فوجی جوانوں سے خطاب: ’آپ نے انڈیا سے 1971 کا بدلہ اس جنگ میں لے لیا‘

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو سیالکوٹ میں پسرور چھاؤنی کے دورے کے موقع پر اپنے خطاب میں انڈیا کے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’مسٹر مودی اگر دوبارہ یہ رستہ اختیار کرو گے تو منھ کی کھاو گے، اگر دوبارہ حملے کا سوچا تو جو تمھارا بچا ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا۔‘ انھوں نے کہا ’سندھ طاس معاہدے سے متعلق سوچنا بھی نہ‘ اور کشمیر سمیت تمام امور پر جامع مذاکرات ہوں گے۔

خلاصہ

  • وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف کے ساتھ سیالکوٹ میں پسرور چھاؤنی کا دورہ کیا اور فوجی جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'آپ نے انڈیا سے 1971 کا بدلہ اس جنگ میں لے لیا'۔
  • امریکی صدر نے شام سے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور غیرملکی دہشتگردوں کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
  • صدر ٹرمپ کی شام کے عبوری صدر احمد الشرح سے سعودی عرب میں ملاقات، ترک صدر رجب طییب اردوغان نے ویڈیو لنک کے ذریعے اس ملاقات میں شرکت کی۔
  • انڈیا کے ادارے بارڈر سکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ بدھ کے روز بی ایس ایف کے کانسٹیبل پرنم کمار شو کو پاکستان نے واپس انڈیا کے حوالے کر دیا ہے۔
  • پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ فوج بھی میری ہے اور یہ ملک بھی میرا ہے۔ قوم کو تیار اور متحد رہنا ہو گا۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کی قیادت غیر متزلزل اور طاقتور اور ذہین ہے، امید ہے یہ جنگ بندی مستقل ہو گی۔

لائیو کوریج

  1. کوئٹہ میں جشن فتح پاکستان ریلی پر بم دھماکے سے دو ہلاک، 11 زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    Quetta

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جشن فتح پاکستان جلسے میں شرکت کے لیے آنے والی ایک ریلی پربم حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور11 زخمی ہوگئے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے بم حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بم حملے کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

    بم حملہ سریاب کے علاقے میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور رکن بلوچستان اسمبلی علی مدد جتک کی قیادت میں نکالی جانے والی ریلی پر کیا گیا۔

    جب علی مدد جتک کی قیادت میں ریلی کے شرکا میر منیر مینگل روڈ کے سنگم پر پہنچے تو وہاں زور دار دھماکہ ہوا۔ سول ہسپتال کوئٹہ کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالہادی کاکڑ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے شخص کی موت جائے وقوعہ پر ہوئی تھی۔

    ایم ایس کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر دھماکے کے حوالے سے 12 زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک تھی۔

    شدید زخمیوں سے ایک دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔ ٹراما سینٹر کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ڈاکٹر مہراللہ بادینی نے کہا کہ دھماکے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں تاہم اب تک غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہ دستی بم کا حملہ تھا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے علی مدد جتک کے قافلے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی قیادت پر حملے دراصل بلوچستان کے امن پر وار ہیں۔

    ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ امن دشمن عناصر کے خلاف سخت اور نتیجہ خیز کارروائی ہو گی۔

    واضح رہے کہ جشن فتح پاکستان جلسہ حکومت بلوچستان کی جانب سے سول سیکریٹریٹ کوئٹہ کے ساتھ ریلویز ہاکی گرائونڈ میں منعقد کیا گیا تھا۔

    اس جلسے کے لیے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ گذشتہ رات سے ہاکی گراؤنڈ کے گردونواح کے سڑکوں کو کنٹینر لگا کر بند کیا گیا تھا جبکہ پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

  2. آپ نے انڈیا سے 1971 کا بدلہ اس جنگ میں لے لیا: وزیراعظم شہباز شریف کا پسرور چھاؤنی میں فوجی جوانوں اور افسران سے خطاب

    PASROOR

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کی فرنٹ لائن پسرور چھاؤنی سیالکوٹ کا دورہ کیا۔ اس دورے میں ان کے ساتھ خارجہ، دفاع، منصوبہ بندی اور اطلاعات کے وفاقی وزرا بھی تھے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق اس دورے میں وزیراعظم کے ہمراہ فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر اور پاکستان فضائیہ کے ایئرمارشل سربراہ ظہیر احمد بابر سدھو بھی تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس دورے کے دوران وزیراعظم کو آپریشن کو تفصیلات اور تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔

    وزیراعظم شہباز نے فوجی جوانوں اور افسران سے اپنے خطاب میں کہا کہ ’مسٹر مودی اگر دوبارہ یہ رستہ اختیار کرو گے تو منھ کی کھاو گے، اگر دوبارہ حملے کا سوچا تو جو تمھارا بچا ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا۔‘

    انھوں نے انڈین قیادت سے کہا کہ ’سندھ طاس معاہدے سے متعلق کبھی سوچنا بھی نہ۔ اگر آپ نے پانی بند کرنے کا سوچا بھی تو وہ ریڈ لائن ہے تو واقعی پھر خون اور پانی اکھٹا نہیں بہے گا۔ پھر یہ کڑیل جوان پانی کا اپنا حق واپس لیں گے اور اس کو موجودہ صورتحال میں اسی طرح قائم رکھیں گے۔‘

    ISPR

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    شہباز شریف نے کہ کہ ’ہم نے پہلگام واقعے کی شفاف تحقیقات کا کہا تھا اور پاکستان کے تعاون کا یقین دلایا مگر آپ نے ہمارے اس سنجیدہ اور خلوص کی آفر کو چوروں کی طرف رات کے اندھیرے میں پاکستان پر حملہ کیا۔ ‘ وزیراعظم نے کہا ’ہماری فوج اور فضائیہ کے جہازوں نے پلٹ پلٹ کر اور جھپٹ جھپٹ کے اس اندھیری رات کو چاندنی رات بنا دیا۔ کس طرح رافیل کو فیل کر دیا، جھپٹ جھپٹ کرطیاروں کو تباہ کیا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’جس طرح ہمارے شاہنیوں نے دشمن کے جہازوں کو برباد کیا، یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں۔ آپ کے رفال تباہ کیے، بری فوج نے پورا بریگیڈ تباہ کیا۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’انڈیا یہ سمجھتا تھا کہ روایتی جنگ میں پاکستان بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ مگر جس طرح اس محاذ پر ہماری فوج نے مقابلہ کیا اب اس پر ماہرین کی طرف سے کالم لکھے جائیں گے۔‘ وزیراعظم نے فوجی جوانوں اور افسران سے اپنے خطاب میں کہا کہ ’آپ نے انڈیا سے 1971 کا بدلہ اس جنگ میں لے لیا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میں آج یہاں ایک ایک افسر کوسلام پیش کرنے آیا ہوں، جس طرح آپ نے پاکستان کا وقار بڑھایا، اس کے لیے میرے پاس موزوں الفاظ نہیں ہیں۔ ‘ شہباز شریف نے کہا کہ ’اس پوری جنگ کی منصوبہ بندی جس دلیری اور دانشمندی سے آرمی چیف سید عاصم منیر نے کی میں اس کا ذاتی گواہ ہوں۔ میری اس دوران ان سے فون پر بھی بات ہوتی تھی اور براہ راست بھی ملاقات ہوتی تھی۔‘

    اس کے بعد شہباز شریف نے فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان کی بھی خصوصی تعریف کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ’مجھے ان پر فخر ہے۔ یہ قوم کا فخر ہیں۔ قوم کے بیٹے ہیں اور آج پاکستان کی بری، فضائیہ اور بحریہ پاکستان کا فخر بن چکے ہیں۔‘ وزیراعظم نے انڈین وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’مسٹر مودی ان کو دہشتگرد کہتے ہو۔ آپ کو کچھ خدا کا خوف آنا چاہیے۔ ہم مکمل طور پر یکسو ہیں۔ اگر دہشتگردی کی آڑ میں یہ چاہتے ہیں کہ افراتفری پیدا کی جائے اور پاکستان افواج کو مغربی سرحدوں سے نکال کر مشرقی سرحدوں پر انگیج کر دیں تو پھر سے دہشتگردی لوٹ آئے تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘

    ARMY

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    ’ہم امن اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہیں‘

    وزیراعظم شہباز شریف نے انڈیا کے وزیراعظم کو مخاطب ہو کر کہا کہ ’ہم تیار ہیں امن کے لیے بھی اور جنگ کے لیے بھی، چوائس آپ کی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’تم نے نیلم جہلم کو تباہ کرنے کی کوشش کی، اس کا زیادہ نقصان نہیں ہوا مگر آپ اگر اسے تباہ کرتے تو ہم تمھارے بگلہیار سمیت دیگر اثاثے تباہ کر دیتے۔‘

    شہباز شریف نے وزیراعظم مودی کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہم صرف دہشتگردی پر بات کریں گے۔

    پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ مودی کو مخاطب ہو کر کہا کہ 1971 میں مکتی باہنی کو کس نے تربیت دی، کس نے انھیں بغاوت پر اکسایا۔ سمجھوتہ ٹرین پر کس نے حملہ کیا تھا۔ بلوچستان میں جو ٹرین اغوا کا افسوسناک واقعہ ہوا اس میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے تانے بانے آپ سے ملتے ہیں۔‘

    Pakistan Army

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    اس کے بعد شہباز شریف نے استفسار کیا کہ ’کلبھوشن کون ہے۔ وہ کہاں سے بلوچستان میں نمودار ہوا۔ وہ کس کی نمائندگی کر رہا تھا۔‘ شہباز شریف نے کہا ’مسٹر مودی یہ بھاشن اپنے پاس رکھیں۔ ہم خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ امن کی خواہش کو کمزوری مت سمجھنا۔ کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہونا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آج فوج اور پوری قوم دہشتگروں سے نبرد آزما ہیں۔ ہم اپنا 150 ارب کا معاشی نقصان برداشت کر چکے ہیں اور اب بھی ہم دہشتگردی کا ماضی کی طرح ہمیشہ ہمیشہ کی طرح خاتمہ کریں گے۔‘

    ’مربوط ڈائیلاگ ہو گا‘

    شہباز شریف نے انڈین وزیراعظم سے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ’آپ کی تھانیداری کا بت پاش پاش ہو کر تباہ ہو چکا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم تھانیدار نہیں ہیں ہم خطے میں امن چاہتے ہیں۔ آؤ آگ کو ختم کریں۔‘ شہباز شریف نے کہا کہ مربوط ڈائیلاگ ہوگا۔ اس کے بغیر میٹھا میٹھا ہپ ہپ ہم نہیں ہونے دیں گے۔‘

  3. ٹرمپ دوحہ کے شاہی محل میں، ’قطر نے دیگر خطوں میں بھی امن کے لیے ہماری مدد کی‘

    قطر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خلیجی ممالک کے چار روزہ دور پر سعودی عرب سے قطر پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا استقبال قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے کیا۔

    شاہی محل ’لوسیل پیلس‘ میں اس وقت امریکی صدر کی امیر قطر سے ملاقات جاری ہے۔

    صحافیوں کے سامنے اس لگژری محل میں امیر قطر نے ٹرمپ سے کہا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ آپ امن کے داعی ہیں۔‘

    انھوں نے قطر میں سنہ 2022 میں فٹ بال کے عالمی ٹورنامنٹ فیفا ورلڈ کپ کے بارے میں بتایا کہ اور کہا کہ اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

    ٹرمپ نے اس پر انھیں کہا کہ ’یہ آپ کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔‘

    امیر قطر، ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ اور امیر قطر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر چکے ہیں اور ’اب ہم مزید بڑے پیمانے پر یہ کر سکتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’ہم امن واپس لائیں گے، نہ صرف یہاں بلکہ مجھے معلوم ہے کہ آپ دیگر خطوں میں امن کے لیے ہماری مدد کرتے آئے ہیں جیسے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ہے۔‘

    اس کے بعد امریکی صدر نے کچھ توقف کیا اور شاہی محل کے شاندار طرز تعمیر سے حیران ہو کر ادھر ادھر دیکھا۔

    اس کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ ’آپ نے لاجواب کام کیا ہے۔ اسے دیکھیں یہ بہت خوبصورت ہے۔ تعمیر کے شعبے سے تعلق کی وجہ سے مجھے یہ بہت سنگ مر مر کا کام بہت خوب ہے۔ اس کام میں کوئی نقص نہیں ہے۔‘

  4. قطر کا ٹرمپ کے لیے ’اڑتے ہوئے محل‘ کا تحفہ: امریکہ میں صدارتی تحائف سے متعلق قوانین کیا ہیں؟

    امیر قطر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت خلیجی ممالک کے چار روزہ دورے پر قطر میں موجود ہیں۔ اس سے قبل دو دن دن سے وہ سعودی عرب کے دورے پر تھے۔ سعودی عرب میں معاہدات کے بارے میں ہم نے آپ تک تفصیلات پہنچائی ہیں۔ اب قطر میں جو معاہدات یا پیشرفت ہوگی اس کی تفصیلات بھی قارئین کے لیے یہاں شیئر کی جائیں گی۔

    آئیں پہلے اس طیارے پر بات کرتے ہیں جو قطر کی طرف سے صدر ٹرمپ کو تحفے میں دیے جانے کے امکانات ہیں اور یہ قیمتی تحفہ اس وقت موضوع بحث بھی ہے۔

    وائٹ ہاؤس اور قطر کے شاہی خاندان کے درمیان حالیہ بات چیت کا موضوع ایک لگژری جمبو جیٹ ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اس پرتعیش طیارے کا دفاع کیا ہے جس کے تحت قطر سے ملنے والے طیارے کو صدارتی جہاز ایئر فورس ون کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

    ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ (قطر) ایک تحفہ دے رہے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ اگر وہ اسے لینے سے انکار کریں تو ’یہ بیوقوفی ہو گی۔‘

    تاہم ایک بیان میں قطر نے کہا کہ یہ طیارہ کوئی تحفہ نہیں مگر ’عارضی طور پر‘ اس طیارے کی منتقلی دونوں ملکوں کے بیچ زیرِ بحث ضرور ہے۔

    امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ کی مدت کے خاتمے پر یہ طیارہ صدارتی لائبریری کو عطیہ کر دیا جائے گا۔

    یہ خبر ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب ٹرمپ قطر کا دورہ کرنے جا رہے ہیں۔ یہ ان کے دوسرے صدارتی دور کا پہلا بڑا غیر ملکی دورہ ہو گا۔

    امریکہ کے لیے قطر کے میڈیا اثاشی علی الانصاری نے کہا ہے کہ یہ مذاکرات قطر کی وزارت دفاع اور امریکی محکمۂ دفاع کے بیچ جاری ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر دونوں ملکوں میں قانون کے محکمے نظر ثانی کر رہے ہیں اور تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

    امریکہ میں صدارتی تحائف سے متعلق قانون

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے آئینی ماہر پروفیسر اینڈریو مورن کا کہنا ہے کہ ’یہ تحفہ آئینی حدود سے بڑھ کر ہے اور ہم نے اس سے قبل اتنا قیمت تحفہ نہیں دیکھا۔‘

    واضح رہے کہ کانگریس نے غیرملکی تحائف قبول کرنے سے متعدد قوانین کی منظوری دے رکھی ہے۔ ان قوانین میں 1966 کا ’فارن گفٹس اینڈ ڈیکوریشنز ایکٹ‘ بھی شامل ہے۔ اس قانون کے مطابق ایک خاص مالیت سے زائد تحفے کو وصول کرنے کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوتی ہے۔

    امریکی قانون کے تحت اس وقت امریکی حکام 48 کروڑ ڈالر سے کم مالیت کا تحفہ وصول کر سکتے ہیں۔

    اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح کر رکھا ہے کہ قطر سے ملنے والا یہ طیارہ بالآخر صدارتی لائبریری کا حصہ بن جائے گا جس سے ان کا مطلب ان کی میوزیم فاؤنڈیشن ہے۔

    یاد رہے کہ امریکہ میں ایک روایت ہے کہ صدر ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی دستاویزات پر مبنی ایک لائبریری اور یادداشتوں سے بھرا ایک میوزیم قائم کرتے ہیں، جو نجی عطیات سے چلایا جاتا ہے اور یہ عوام کے لیے بھی کھلا ہوتا ہے۔

    بی بی سی ویریفائی کو ماہرین نے بتایا ہے کہ یہ طیارہ براہ راست صدر کی بجائے امریکی انتظامیہ کو دیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے میوزیم کے لیے اسے عطیہ کر سکتے ہیں اور یوں وہ آئین کی ممکنہ خلاف ورزی سے بچ سکتے ہیں۔

    واشنگٹن میں ذمہ دار شہریوں اور اخلاقیات سے متعلق ایک تنظیم کے سربراہ جورڈن لبووٹز کا کہنا ہے کہ دور صدارت کے بعد ٹرمپ کی طرف سے اس طیارے کا استعمال (آئینی) حدود کی خلاف ورزی ہو گی۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے ایک میمو تیار کیا ہے جس میں اس طیارے کو بطور تحفہ قبول کرنے کی اجازت کے ساتھ وجوہات تحریر کی گئی ہیں تاہم ابھی یہ میمو عام نہیں کیا گیا۔

    اس طیارے سے متعلق تفصیلات جاننے کے لیے بی بی سی اردو کی اس خبر پر کلک کیجیے۔

  5. پاکستانی فوج کے مزید دو زخمی اہلکار دم توڑ گئے، ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 13 ہو گئی: آئی ایس پی آر

    Pakistani soldiers

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    انڈیا کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران زخمی ہونے والے افواج پاکستان کے مزید دو فوجی اہلکار حوالدار محمد نوید اور پاکستان فضائیہ کے سینیئر ٹیکنیشن محمد ایاز دم توڑ گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے پاکستانی فوجی اہلکاروں کی تعداد 13 ہو گئی ہے جبکہ زخمی اہلکاروں کی تعداد 78 بنتی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق چھ اور سات مئی کو شروع کی گئی انڈین افواج کی ’جارحیت‘ میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں خواتین، بچے، اور معمر افراد بھی شامل تھے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ’شہدا کی عظیم قربانی ان کے حوصلے، فرض سے وفاداری، اور غیر متزلزل حب الوطنی کی ہمیشہ رہنے والی علامت ہے۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق ’یہ قربانیاں قوم کی اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے جرات اور قربانی کی روشن مثال بنی رہیں گی۔‘

  6. ٹرمپ سعودی عرب سے قطر روانہ، اب آگے کیا ہوگا؟

    امریکی صدر ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    سعودی عرب میں خلیحی تعاون کونسل کی سمٹ کے بعد امریکی صدر ٹرمپ اب اپنے مشرق وسطیٰ کے چار روزہ دورے کے اگلے مرحلے پر قطر کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    قطر کے حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کا استقبال امیر تمیم حمد الثانی کریں گے، جس کے بعد وہ سرکاری مہمان کے طور پر قطری امیر کے دفتر امیری دیوان جائیں گے۔

    وہ آج شام قطری حکام کے ساتھ شاہی محل میں ڈنر بھی کریں گے۔

    اس دورے میں قطر کی طرف سے انھیں استعمال کے لیے مہنگا طیارہ دیے جانے کی خبر موضوع بحث بنی ہوئی ہِے۔

  7. رہائی پانے والے انڈین رینجرز اہلکار کی اہلیہ کا تبصرہ، ’مودی جی یہاں ہیں تو سب کچھ ممکن ہے‘

    India

    ،تصویر کا ذریعہANI

    پاکستانی رینجرز نے بدھ کے روز بی ایس ایف یعنی انڈین رینجرز کے جوان پرنم کمار ساؤ کو انڈیا کے حوالے کر دیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی نے ان کی اہلیہ رجنی ساو سے بات کی ہے جن کے شوہر کو 23 اپریل کو پاکستانی حکام نے پنجاب کی سرحد سے گرفتار کر لیا تھا۔

    رجنی ساؤ نے کہا کہ ’آج صبح ہمیں فون آیا کہ پی کے ساؤ انڈیا پہنچ گئے ہیں اور وہ محفوظ ہیں۔‘ رجنی کے مطابق ’میرے شوہر نے مجھے ویڈیو کال بھی کی، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سب نے میری مدد کی ہے، پورا ملک میرے ساتھ کھڑا ہے۔ سب کا شکریہ، آپ سب کی وجہ سے میرے شوہر انڈیا واپس آئے ہیں۔ مودی جی یہاں ہیں تو سب کچھ ممکن ہے۔‘

    مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’مجھے اس خبر پر خوشی ہوئی کہ ہمارے بی ایس ایف کے جوان پرنم کمار کو رہا کر دیا گیا ہے۔‘

  8. ڈونلڈ ٹرمپ کا شام سے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے عبوری صدر احمد الشرح سے سعودی عرب میں ہونے والی ملاقات میں انھیں اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے اور ملک سے غیرملکی ’دہشتگردوں‘ کو نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ کا کہنا ہے کہ صدر اردوغان اور محمد بن سلمان نے شام پر عائد پابندیاں ہٹانے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا۔ محمد بن سلمان نے اسے ایک دلیرانہ اقدام قرار دیا ہے۔

    ایکس پر ایک ٹویٹ میں کیرولائن نے لکھا کہ صدر ٹرمپ نے شامی صدر سے کہا کہ ان کے پاس بہت شاندار موقع ہے کہ وہ اپنے ملک کے لیے کچھ تاریخی کام کریں۔

    انھوں نے شام کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ابراہام اکارڈز پر دستخط کریں اور غیرملکی دہشتگردوں کو ملک سے نکالیں۔ واضح رہے کہ ابراہام اکارڈز امریکہ کی طرف سے پیش کردہ ایک ایسا اقدام ہے جس کے تحت مشرق وسطیٰ کے ممالک کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانا مقصد ہے۔

    گذشتہ روز سعودی عرب میں سرمایہ کاری کانفرنس سے اپنے تقریباً ایک گھنٹے طویل خطاب میں سعودی عرب سے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ذکر کیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کی شامی صدر سے ملاقات میں روس، یوکرین اور غزہ کی جنگ پر بھی بات کی۔ کیرولائن لیویٹ کے مطابق احمد الشرح نے بتایا کہ انھیں امید ہے کہ شام مشرق اور مغرب میں ایک اہم تجارتی رابطے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ کے مطابق ٹرمپ نے شامی صدر کو پانچ ہدایات دی ہیں:

    • ابراہام اکارڈز پر دستخط کریں تاکہ شام اسرائیل سے اپنے تعلقات معمول پر لا سکے
    • غیرملکی دہشتگردوں کو شام چھوڑنے کا حکم دیں
    • صدر ٹرمپ نے خاص طور پر کہا کہ فلسطینی ’دہشتگردوں‘ کو ملک سے نکالیں
    • نام نہاد دولت اسلامیہ یعنی داعش کو دوبارہ قدم جمانے سے روکنے کے لیے امریکہ سے تعاون کریں
    • شمال مشرقی شام میں قائم اس گروپ کے حراستی مراکز کی نگرانی کریں
  9. بریکنگ, صدر ٹرمپ کی شام کے عبوری صدر احمد الشرح سے سعودی عرب میں ملاقات

    ڈونلڈ ٹرمپ کی شام کے عبوری صدر احمد الشرح سے ملاقات

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شام کے عبوری صدر احمد الشرح سے سعودی عرب میں ملاقات ہوئی ہے۔

    یاد رہے کہ سال 2000 کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ جب دونوں ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات عمل میں آئی ہے۔

    اس ملاقات کے حوالے سے گزشتہ روز صدر ٹرمپ کے دفتر کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یہ ملاقات صرف ’ہیلو‘ یعنی دعا سلام تک ہو گی۔

    دوسری جانب ترکی کی نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، امریکی صدر ٹرمپ اور شام کے عبوری صدر احمد الشرح کی ملاقات کے دوران ترکی کے صدر رجب طییب اردوغان نے ویڈیو لنک کے ذریعے اس ملاقات میں شرکت کی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام پر عائد امریکی پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا تھا۔

    سعودی عرب میں اپنے خطاب میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ شام کو عظیم ملک بننے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔

  10. بارڈر سکیورٹی فورسز کے اہلکار پرنم کمار کو ’پاکستان‘ نے رہا کر دیا: انڈیا کا دعویٰ

    پرنم کمار

    ،تصویر کا ذریعہANI

    انڈیا کے ادارے بارڈر سکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ بدھ کے روز بی ایس ایف کے کانسٹیبل پرنم کمار شو کو پاکستان نے واپس انڈیا کے حوالے کر دیا ہے۔

    بارڈر سکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پرنم کمار کو پاکستانی رینجرز نے 23 اپریل کو پنجاب کے بارڈر سے گرفتار کیا تھا۔ جنھیں آج صبح تقریباً 10.30 بجے جوائنٹ چیک پوسٹ اٹاری، امرتسر پر انڈیا کے حوالے کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ جس وقت انڈیا نے پرنم کمار کو پاکستانی رینجرز کی جانب سے تحویل میں لینے کا الزام عائد کیا تھا اس وقت بھی پاکستان نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی تھی اور اب ان کی رہائئ کی خبر پر بھی تاحال پاکستان نے رد عمل نہیں دیا ہے۔

    بی ایس ایف بیان کے مطابق ’بی ایس ایف کے جوان پرنم کمار 23 اپریل 2025 سے پاکستان رینجرز کی تحویل میں تھے اور ان کی رہائی طے شدہ پروٹوکول کے مطابق پرامن طریقے سے کی گئی۔‘

    بیان کے مطابق پرنم کمار کی رہائی پاکستان رینجرز کے ساتھ مستقل فلیگ میٹنگز اور دیگربات چیت کے چینلز پر معاملہ اٹھانے کے بعد عمل میں آئی۔

  11. آئی ایم ایف سے پاکستان کو ایک ارب دو کروڑ ڈالر کی قسط موصول: سٹیٹ بینک

    عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو ایک ارب دو کروڑ ڈالر سے زائد رقم کیقسط موصول ہوگئی ہے۔

    سٹیٹ بینک کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے دی گئی رقم ای ایف ایف پروگرام کے تحت دی گئی ہے اور یہ رقم 16 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے میں ذخائر میں شامل کی جائے گی۔

    سٹیٹ بینک قسط

    ،تصویر کا ذریعہ@StateBank_Pak

    یاد رہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے رقم جاری کرنے کی منظوری نو مئی کو دی تھی۔

  12. چاہتے ہیں کہ عمران خان کی رہائی کے لیے پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ ہو: عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلیمان کا مطالبہ

    عمران خان کے بیٹے انٹرویو کے دوران

    ،تصویر کا ذریعہ@MarioNawfal/screenShot

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان نے ایک انٹرویو کے دوران عمران خان کی رہائی کے حوالے سے مطالبہ کیا ہے کہ ’اپنے والد عمران خان کی رہائی کے لیے ہم ہر اُس حکومت سے اپیل کریں گے، جو آزادیٔ اظہار اور حقیقی جمہوریت کی حامی ہو اس معاملے پر توجہ دینے کے لیے ٹرمپ سے بہتر اور کون ہوسکتا ہے۔‘

    یاد رہے کہ سابق وزیراعظم کے دونوں بیٹوں نے اپنے والد کی قید پر عوامی سطح پر پہلی بار پوڈ کاسٹر ماریو نوفل کو انٹرویو دیا ہے جس میں انھوں نے عمران خان کی رہائی کے لیے صدر ٹرمپ سمیت بین الاقوامی برادری سے آواز اٹھانے کی اپیل بھی کی ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ کے لیے پیغام کے حوالے سے سلیمان خان نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ عالمی برادری سب کچھ دیکھے کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ہم ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کرنا چاہیں گے یا کوئی ایسا راستہ نکالنا چاہیں گے جس سے وہ کسی طرح مدد کر سکیں کیونکہ آخر میں ہمارا مقصد صرف اپنے والد کو قید سے آزاد کرانا اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کو یقینی بنانا ہے۔

    عمران خان کے بیٹوں نے انٹرویو کے دوران الزام عائد کیا کہ ’عمران خان غیر انسانی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور انھیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔‘

    سوشل میڈیا انفلوئنسر اور پوڈ کاسٹر ماریو نوفل کے سوال کے جواب میں عمران خان کے بیٹوں نے کہا کہ ’عدالتی حکم کے باوجود ان کی اپنے والد سے ہر ہفتے بات نہیں ہو پاتی۔ بلکہ دو سے تین ماہ میں ایک ہی بار بات ہو پاتی ہے۔ جتنا ہم جانتے ہیں اس کے مطابق ان کو کسی دیگر قیدی سے ملنے یا بات چیت کی اجازت نہیں اور وہ وہاں اکیلے رہتے ہیں۔ ایک وقت ایسا بھی ایا تھا جب وہ 10 دن تک مکمل اندھیرے میں رکھے گئے تھے۔‘

    واضح رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور اس وقت وہ 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں جب کہ نو مئی 2023 کے احتجاج سے متعلق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت زیرِ التوا مقدمات کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سال عدالت نے عمران خان کے بیٹوں کو ہر ہفتے اپنے والد سے رابطہ کرنے کی اجازت دی تھی لیکن ان کے دونوں بیٹوں کا دعویٰ ہے کہ یہ رابطہ ہمیشہ ممکن نہیں ہو پایا۔

    ایسا لگتا ہے کہ عالمی میڈیا میں جیسے بالکل خاموشی ہے: عمران خان کے بیٹے کا دعویٰ

    ماریو نوفل کو دیے گئے انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے اپنے والد کی قید سے متعلق اب بولنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

    جس پر عمران خان کے بیٹے قاسم خان کا کہنا تھا کہ ہم نے قانونی راستے اختیار کیے اور ہر وہ راستہ آزمایا جس سے ہمیں لگا کہ عمران خان قید سے باہر آسکتے ہیں لیکن ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کہ وہ اتنے عرصے تک اندر رہیں گے جب کہ اب حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں، اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ عوامی سطح پر آ کر بات کرنا ہی واحد راستہ ہے۔‘

    قانونی راستوں سے اب تک کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ملنے پر سلیمان خان کا کہنا تھا کہ ہم نے تمام دیگر آپشنز اور قانونی راستے آزما لیے ہیں، جبکہ ایسا لگتا ہے کہ عالمی میڈیا میں جیسے بالکل خاموشی ہے۔

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہFacebook/ Imran Khan

    ،تصویر کا کیپشنواضح رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور اس وقت وہ 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں

    ’رچرڈ گرینل کی اب تک کی حمایت پر شکر گزار ہیں‘

    امریکی عہدیدار رچرڈ گرینل کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے مطالبے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر سلیمان خان کا کہنا تھا کہ تاحال ان سے کوئی بات نہیں ہوئی، تاہم وہ ان کی ’اب تک کی حمایت‘ پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔

    عمران خان کے بیٹے سلیمان خان نے الزام عائد کیا کہ جمہوریت پر دباؤ اور الیکشن میں دھاندلی کے خلاف بڑا احتجاج ریکارڈ کروانے کے بعد جیل میں عمران خان پر سزا کے طور پر مزید سختیاں بڑھا دی گئیں۔ ہمارے والد کرپٹ نہیں اور یہ بات یقیناً سٹیبلشمنٹ بھی جانتی ہے۔

  13. فوج بھی میری اور ملک بھی میرا ہے، کسی بھی نئے حملے کی صورت میں قوم کو تیار اور متحد رہنا ہو گا: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’انڈیا کے ساتھ حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستانی ایک بہادر اور خوددار قوم ہیں۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ فوج بھی میری ہے اور یہ ملک بھی میرا ہے۔‘

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر عمران خان کے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری بیان میں پاکستان اور انڈیا کشیدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’جس طرح ہمارے جوانوں نے فضائی اور زمینی سرحدوں پر مودی کو شکست دی ویسے ہی پاکستانی عوام خصوصاً سوشل میڈیا نے مودی اور آر ایس ایس کے بیانیے کو دنیا بھر میں شکست دی-‘

    عمران خان کے بیان کے مطابق ’مودی نے پاکستان میں سویلین بچوں، عورتوں، بزرگوں اور تنصیبات کو ٹارگٹ کر کے بزدلی کا مظاہرہ کیا جس کا ہماری فورسز نے بہترین جواب دیا- ہم ان بزدلانہ حملوں میں شہید ہونے والے سویلینز اور ملٹری آفیشلز کی فیملیز کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔‘

    عمران خان کا پیغام

    ،تصویر کا ذریعہ@ImranKhanPTI/ScreenShot

    عمران خان نے پاکستان کی فضائیہ سمیت تمام فوجی جوانوں کو پروفیشنلزم اور بہترین کارکردگی دکھانے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’مودی کی پوری کوشش ہو گی کہ پاکستان کو معاشی سطح پر بھی نقصان پہنچائے۔ کسی بھی نئے حملے کی صورت میں قوم کو تیار اور متحد رہنا ہو گا۔‘

    عمران حان کے بیان کے مطابق ’جنگیں 60 فیصد تک اعصاب سے لڑی جاتی ہیں اور اسی لیے ایسی لیڈر شپ کا ہونا انتہائی اہم ہے جسے قوم کی حمایت حاصل ہو اور جو فوری طور پر بڑے فیصلے کرنے اور کسی بھی حملے کا جواب دینے کی طاقت رکھتی ہو۔ اس لیے میں مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہوں کہ ہمیں اپنے لوگوں کو ’آئیسولیٹ‘(تنہا) نہیں کرنا چاہیے اور نظام انصاف کو زندہ کرنا چاہیے-‘

  14. اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے جس میں ہم پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبریں اور تازہ ترین تجزیے آپ کے لیے پیش کرتے ہیں۔

    تاہم جن قارئین نے ابھی ہمارا ساتھ دینا شروع کیا ہے ان کے لیے اہم خبریں خلاصے کی صورت میں پیش خدمت ہیں۔

    • حکومتِ پاکستان نے اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو ’پرسونا نان گریٹا‘ یعنی ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے انھیں اگلے 24 گھنٹوں میں پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ خیال رہے کہ انڈین حکومت نے بھی ایسا ہی ایک حکم جاری کیا ہے۔
    • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام پر عائد امریکی پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی عرب میں اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ وہ شام کو عظیم ملک بننے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔
    • امریکہ اور سعودی عرب میں ہتھیاروں کی خریداری کا 142 بلین ڈالر کا معاہدہ طے پا گیا ہے: وائٹ ہاؤس
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کی قیادت غیر متزلزل اور طاقتور اور ذہین ہے، دونوں ممالک نے موجودہ کشیدہ صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور امید ہے یہ جنگ بندی مستقل ہو گی۔
    • بلوچستان کے ضلع نوشکی سے منگل کے روز چار افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد کی گئیں جن کو حکام کے مطابق گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ سرکاری حکام کے مطابق جن افراد کو ہلاک کیا گیا ہے ان کا تعلق پنجاب سے ہے۔
    • امریکی ثالثی کے نتیجے میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان سنیچر کے روز ہونے والے سیز فائر کے بعد انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں معمولاتِ زندگی بحال ہونا شروع ہو گئے۔ منگل کو سرینگر کے علاوہ سبھی اضلاع اور ایل او سی کی قریبی بستیوں میں سکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں کلاسیں دوبارہ شروع ہوگئی ہیں۔
    • پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے انڈیا کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے دوران پاکستان کی بری فوج اور فضائیہ کے 11 اہلکار ہلاک ہوئے۔
    • پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ساتھ حالیہ لڑائی کا پاکستان پر کوئی بڑا مالی اثر نہیں پڑے گا۔ سوموار کے روز خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے ساتھ حالیہ فوجی کشیدگی کا پاکستان پر کوئی بڑا مالی اثر نہیں پڑے گا اور اس کے نتیجے میں کسی نئے معاشی جائزے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
  15. انڈیا اور پاکستان سے کہا میزائل رکھیں اور تجارت کریں، امید ہے جنگ بندی مستقل ہو گی: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کی قیادت غیر متزلزل اور طاقتور اور ذہین ہے، دونوں ممالک نے موجودہ کشیدہ صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور امید ہے یہ جنگ بندی مستقل ہو گی۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بات گزشتہ روز ریاض میں سعودی امریکن انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کے دوران کہی۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے پاکستان اور انڈیا پر میزائل رکھنے اور مل کر تجارت کرنے پر زور دیا ہے اور امید ہے ہم دونوں ممالک کے رہنماؤں کو ایک بہترین ڈنر پر اکھٹا کر سکیں گے۔

    یاد رہے کہ کئی دنوں سے جاری میزائل اور ڈرون حملوں کے الزامات کے بعد گزشتہ ہفتے پاکستان اور انڈیا کے درمیان فوجی کارروائیوں کا تبادلہ اس وقت تھم گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کی شب اعلان کیا تھا کہ امریکہ کی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ملک 'فوری اور مکمل سیز فائر' پر مان گئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے جنگیں پسند نہیں اور میں دنیا بھر میں امن کا خواہاں ہوں، دو روز قبل میری انتظامیہ نے پاکستان اورانڈیا کے درمیان فوری جنگ بندی کروائی اور کشیدگی ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی ونس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ لوگوں نے ٹیم کے ساتھ ملکر بہترین کام کیا، کیونکہ یہ کشیدگی دن بدن بڑھتی جارہی تھی جس میں لاکھوں اموات ہوسکتی تھیں۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے انڈیا اور پاکستان کو متنبہ کیا تھا کہ اگر لڑائی نہ روکی گئی تو امریکہ دونوں ملکوں سے تجارت روک دے گا۔

  16. پاکستان اور انڈیا کا ہائی کمیشن کے اہلکاروں کو ’ناپسندیدہ شخصیت‘ قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم

    پاکستان اور انڈیا، واہگہ اٹاری سرحد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکومتِ پاکستان نے اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو ’پرسونا نان گریٹا‘ یعنی ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے انھیں اگلے 24 گھنٹوں میں پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ خیال رہے کہ انڈین حکومت نے بھی کچھ دیر قبل ایسا ہی ایک حکم جاری کیا ہے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ مذکورہ انڈین اہلکار ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھے جو ان کی حیثیت کو زیب نہیں دیتے۔

    اس کے مطابق آج انڈین ناظم الامور کو ڈیمارش کے لیے وزارت خارجی امور طلب کیا گیا جہاں انھیں اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔

    اس سے قبل انڈین حکومت نے پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر انھیں 24 گھنٹوں میں انڈیا چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ اس سلسلے میں پاکستانی ناظم الامور کو طلب کر کے ڈی مارش کیا گیا تھا۔

    مظفرآباد میں سیاحوں کی آمد و رفت پر کوئی پابندی نہیں: ضلعی انتظامیہ

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مظفراباد کی ضلعی انتظامیہ نے سیاحوں کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب علاقوں میں جانے سے متعلق جاری کردہ انتباہ واپس لے لیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر مظفرآباد کا کہنا ہے کہ ’حالیہ کشیدگی کے دوران سیر و تفریح کی غرض سے آنے والے سیاح حضرات کو ممکنہ خطرات اور غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر انتباہ جاری کیا گیا تھا کہ بالخصوص ایل او سی کے قریب علاقہ جات میں نہ جائیں۔ چونکہ اب حالات بہتر ہو چکے ہیں اور زندگی کے معمولات بحال ہو چکے ہیں، لہذا اس سلسلے میں عائد کردہ پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔

    ’ضلع مظفرآباد سمیت ڈویژن کے دیگر اضلاع میں سیاحوں کی آمد و رفت پر کوئی پابندی نہ ہے۔ اس سلسلے میں تمام اداروں کو ضروری ہدایات دی جا چکی ہیں۔‘

  17. ریاض میں ٹرمپ کے خطاب کے پانچ اہم نکات

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ اہم معاہدوں پر دستخط کرنے کے بعد تقریب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً ایک گھنٹے کا خطاب کیا۔

    ان کے خطاب کے پانچ اہم نکات یہ ہیں:

    • امریکی صدر نے کہا کہ وہ شام پر سے عائد پابندیاں ہٹا رہے ہیں تا کہ شام کو خوب ترقی کا موقع مل سکے۔
    • ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔ مگر انھوں نے کہا کہ اگر ایران نے ان کی یہ پیشکش مسترد کی تو پھر وہ اس پر دباؤ میں اضافہ کر دیں گے اور تہران کی تیل کی برآمدات زیرو کر دیں گے۔
    • صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ سعودی عرب ’ابراہم اکارڈز‘ کا حصہ بنے گا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدرات میں اسرائیل اور دیگر خلیجی ممالک میں جو ڈیل کرائی تھی اسے ابراہم اکارڈز کا نام دیا گیا تھا۔
    • 142 بلین کے ہتھیاروں کی خریداری کے معاہدے کے بعد امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ سعودی عرب سے تعلقات کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط بنانے کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔
    • اسرائیل اور غزہ کی جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ غزہ کے لوگ زیادہ بہتر مستقبل کے حقدار ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ وہاں کے رہنما معصوم لوگوں کو اغوا، تشدد اور ہدف بناتے رہیں گے۔
  18. ٹرمپ کا شام پر پابندیاں ہٹانے کا اعلان

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام پر عائد امریکی پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی عرب میں اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ وہ شام کو عظیم ملک بننے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔

  19. میں ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہوں، اگر ایسا ہوتا ہے تو میں بہت خوش ہوں گا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    صدر ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے دورے کے دوران کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

    ریاض میں اپنے خطاب میں انھوں نے ایران پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ خطے کی اینٹ سے اینٹ بجانا چاہتا ہے اور دوسرے ممالک میں خون ریزی کے لیے مالی مدد دیتا ہے۔

    مگر امریکی صدر نے کہا کہ وہ یہاں ماضی میں ایرانی رہنماؤں کی طرف سے اٹھائے گئے متنازع اقدامات کی مذمت کے لیے نہیں آئے ہیں بلکہ انھیں ایک نئے رستے کی پیشکش کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ پرامید مستقبل سے متعلق بہت بہتر رستہ ہے۔

    ان کے مطابق ’میں ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہوں۔ اگر میں ایران کے ساتھ معاہدہ کر لیتا ہوں تو مجھے اس پر بہت خوشی ہوگی۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگر ایران کی قیادت اس پیشکش کو مسترد کرتی ہے اور اپنے پڑوسی ممالک پر حملے کرتی ہے تو پھر ہمارے پاس ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھانے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں بچے گا اور ایران کی تیل کی برآمدات کو زیرو تک لے جائیں گے۔