آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ٹرمپ کے داماد اور بیٹی سے جان پہچان ہے لیکن سفارتی تعلقات میں اس کا ایک حد سے زیادہ کردار نہیں ہوتا: بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور طرزِ حکومت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت وفاق میں عزت کی جاتی ہے نہ ہی سیاست کی جا رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

خلاصہ

  • توشہ خانہ کے کیس ٹو میں سابق وزیر اعظم و بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں۔
  • پاکستان کی سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی سماعت کے لیے قائم آئینی بنچ نے پاکستان کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بلوچستان ہائی کورٹ میں براہ راست بطور چیف جسٹس تقرری پر نظرثانی کی درخواست کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا ہے۔
  • سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے ضلع میران شاہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے آٹھ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
  • پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنی صحت سے متعلق افواہوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’مجھے کینسر نہیں بلکہ پیراتھائیرائڈ کا طبی مسئلہ ہے۔‘
  • پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے 24 نومبر کو اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔
  • ٹرمپ نے امریکی سیکرٹری خارجہ، امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ سمیت مشرق وسطیٰ کے لیے ایلچی اور اسرائیل میں اپنے سفیر کی نامزدگیاں کر دیں ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ کے داماد اور بیٹی سے جان پہچان ہے لیکن سفارتی تعلقات میں اس کا ایک حد سے زیادہ کردار نہیں ہوتا: بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور طرزِ حکومت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت وفاق میں عزت کی جاتی ہے نہ ہی سیاست کی جا رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

    بلاول ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے صحافیوں سے غیر رسمی ملاقات بھی کی اور صدر مملکت آصف علی زرداری کی صحت، چینی شہریوں کی ہلاکت، امریکی انتخابات، انٹرنیٹ پر پابندی، وفاقی حکومت سے ناراضی، دریائے سندھ پر مزید نہروں کے قیام اور آئینی بینچوں میں مساوی نمائندگی کے متعلق صحافیوں کے سوالات کے جواب دیئے۔

    وفاقی حکومت سے پیپلز پارٹی کی ناراضگی کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’حکومت کے ساتھ ناراضی کا سوال ہی نہیں ہے، ناراض ہونے پر سیاست نہیں کی جاتی۔ سیاست تو عزت کے لیے کی جاتی ہے۔ معذرت کے ساتھ، اس وقت وفاق میں نہ عزت کی جاتی ہے، نہ سیاست کی جا رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’دنیا میں جہاں بھی اقلیتی حکومت ہو اور ان کا اتحاد جس جماعت کے ساتھ ہوتا ہے تو اس معاہدے پر عمل درآمد ہوتا ہے۔ ہم اخلاقی حمایت فراہم کرنے کے لیے حکومتی بینچ پر بیٹھے ہیں، ہم ضرور چاہیں گے کہ طے شدہ معاہدے پر عمل کیا جائے۔‘

    امریکی انتخابات کے حوالے سے سوال کے جواب میں پی پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’جس طرح ہم امریکی سیاست میں کسی جماعت کی طرفداری نہیں کرتے کہ وہ ان کا اندرونی معاملہ ہے، اسی طرح امریکا بھی ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ذاتی تعلقات اور جان پہچان کا سفارتی تعلقات میں ایک حد سے زیادہ کردار نہیں ہوتا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’سفارتی معاملات میں زمینی حقائق، جیو پالیٹکس اور ڈومیسٹک ایجنڈا جیسے کامپوننٹس کا بنیادی رول ہوتا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’نومنتخب امریکی صدر کے داماد اور بیٹی سے ان کی جان پہچان ہے۔‘ اُن کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ’محترمہ بینظیر بھٹو اپنے پہلے دور حکومت میں جب امریکا گئیں تھیں، تو نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ نے بینظیر بھٹو اور صدر زرداری کے اعزاز میں ایک دعوت کا اہتمام کیا تھا۔‘

    ملک میں انٹرنیٹ کی سست رفتار کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’انٹرنیٹ کے حوالے سے جو لوگ فیصلے کرتے ہیں وہ اسے استعمال ہی نہیں کرتے۔ اِس معاملے پر ہم سے نہ مشاورت کی گئی، نہ ہمارا اِن پُٹ لیا گیا۔

  2. بلوچستان: زیارت میں بارودی سرنگ پھٹنے سے پاکستانی فوج کے میجر سمیت دو اہلکار ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع زیارت میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایک میجر سمیت کم از کم دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ضلع زیارہ میں پیش آنے والے واقع میں میجر محمد حسیب اور حولدار نور محمد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

    بلوچستان میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ ضلع کے علاقے مانگی میں پیش آیا۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں گزشتہ چند روز کے دوران کوئلے سے لوڈ ٹرکوں کو جلانے کے علاوہ بدامنی کے بعض دیگر واقعات پیش آئے۔

    اہلکار نے بتایا کہ بدامنی کے ان واقعات کے بعد صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے اس علاقے میں سکیورٹی فورسز کی نقل و حمل جاری تھی کہ اس دوران سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی نامعلوم افراد کی جانب سے بچھائی جانے والی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ بارودی سرنگ کے پھٹنے سے گاڑی کو شدید نقصان پہنچا جبکہ اس میں سوار دو اہلکار مارے گئے اور تین زخمی ہوگئے ۔مارے جانے والے اہلکاروں میں ایک میجر اور ایک حوالدار شامل ہیں۔

    اس علاقے سے دو افراد کی لاشیں بھی ملی ہیں۔ محکمہ داخلہ کے ایک اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نامعلوم افراد نے اغوا کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو مانگی کے علاقے میں پھینک دیا تھا۔ مارے جانے والے دونوں افراد کا تعلق پنجاب سے بتایا جاتا ہے۔

    گزشتہ روز ضلع دُکی میں نامعلوم افراد نے غڑواس کے علاقے میں ایک تعمیراتی کمپنی کی مشنری کو نذرآتش کرنے کے علاوہ تین مزدوروں کو اغوا کیا تھا۔

    دُکی پولیس کے ایس ایچ او ہمایوں ناصر کے مطابق مغوی اہلکاروں کا تعلق ضلع کوئٹہ کے علاقے کچلاک سے ہے۔

    ٹرکوں کو جلانے کے خلاف احتجاج

    دوسری جانب ضلع لورالائی کے علاقے میختر میں پنجاب اور بلوچستان کے درمیان شاہراہ کو بطور احتجاج بند کیا گیا۔

    یہ احتجاج ٹرک مالکان اور ڈرائیورں کی جانب سے ہرنائی، دُکی اور ان سے متصل دیگر علاقوں میں ٹرکوں کو جلانے کے خلاف بند کیا گیا ہے۔

    گزشتہ ایک ڈیڑھ ہفتے کے دوران دُکی کے علاقے چمالانگ اور دیگر علاقوں میں نامعلوم افراد نے سات ٹرکوں کو نذرآتش کیا تھا جبکہ ان کی فائرنگ سے ایک ڈرائیور بھی ہلاک ہوئے تھے۔

    گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ کے دوران ان علاقوں میں ایک مرتبہ پھر بدامنی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ بلوچستان کے ان پشتون آبادی والے علاقوں میں مزدوروں پر حملے اور ٹرکوں کو جلانے کے واقعات سمیت بدامنی کے دیگر واقعات کے خلاف پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے لورالائی میں جرگے کا انعقاد کیا تھا۔

    پشتونخوا میپ کی جانب سے کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی جرگوں کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے جن کا مقصد بدامنی کے ان واقعات کے خلاف حکمت عملی اختیار کرنا ہے۔

  3. بریکنگ, توشہ خانہ کیس ٹو: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستیں مسترد، فرد جرم 18 نومبر کو عائد کی جائے گی

    توشہ خانہ کے دوسرے کیس میں سابق وزیر اعظم و بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں ہیں۔

    جمعرات کو توشہ خانہ کیس ٹو میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستوں پر سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی۔ سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے بریت کی درخواستوں پر پہلے سے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے خارج کر دیں ہیں۔

    عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 18 نومبر کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔

    یاد رہے کہ عدالت نے توشہ خانہ کیس ٹو میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواست پر فیصلہ آٹھ نومبر کو محفوظ کیا تھا۔

  4. بریکنگ, سپریم کورٹ آئینی بینچ کا پہلا فیصلہ: ’کیسز میں پرسنل نہ ہوا کریں، قاضی فائز عیسیٰ ریٹائر ہو چکے ہیں‘

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی سماعت کے لیے قائم آئینی بنچ نے پاکستان کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بلوچستان ہائی کورٹ میں براہ راست بطور چیف جسٹس تقرری پر نظرثانی کی درخواست کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا ہے۔

    جمعرات کو جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم چھ رکنی آئینی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی۔

    سماعت کے دوران بینچ میں موجود جسٹس مسرت ہلالی نے درخواست گزار ریاض حنیف راہی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ درخواست غیر مؤثر ہو گئی ہے کیونکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریٹائرڈ ہو گئے ہیں۔

    انھوں نے ریمارکس دیے کہ ’کیسز میں پرسنل نہ ہوا کریں، چھوڑ دیں قاضی صاحب کی جان۔‘

    جس پر درخواست گزار کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو دی جانے والی سزائے موت کے خلاف عدالت نے 40 سال بعد فیصلہ سنایا۔ اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو کا کیس بھی مختلف تھا اور حقائق بھی مختلف تھے۔

    درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بلوچستان ہائیکورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تو اس وقت صوبے کے وزیر اعلیٰ سے تحریری مشاورت نہیں ہوئی تھی۔

    جس پر بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہاں پر لکھا ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ سے مشاورت تحریری ہو گی۔ ’یہ مشاورت زبانی بھی ہو سکتی ہے۔‘

    جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ روسٹرم سیاسی تقاریر کرنے کے لیے نہیں ہے لہذا آپ روسٹرم سے ہٹ جائیں۔

    واضح رہے کہ درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے یہ سنہ 2018 میں درخواست دی تھی کہ قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تقرری قواعد کے خلاف ہے۔

    اس وقت کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بطور جج سپریم کورٹ خدمات انجام دے رہے تھے۔

    اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے فیصلہ دیا تھا کہ قاضی فائز عیسیٰ کے بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تعیناتی قانون کے مطابق تھی۔ انھوں نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ یہ تقرری قانون کے مطابق ہے۔

    اس فیصلے کے خلاف درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے نظر ثانی نے دائر کی تھی جسے آج آئینی بنچ نے غیر مؤثر قرار دے کر نمٹا دیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ میں آئینی بینچ نے زیر التوا آئینی مقدمات سے متعلق سماعت میں سب سے پہلے ماحولیاتی آلودگی کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق اقدامات پر تمام صوبوں سے رپورٹ طلب کر لی ہے ۔ دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ماحولیات سے متعلق تمام معاملات کو دیکھیں گے جبکہ جسٹس مسرت ہلالی کا کہنا تھا ملک میں ہر جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیز بنائی جارہی ہیں۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا پر مقدمے کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

    سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ براہ راست تقرری کی نظر ثانی درخواست کے مقدمے پر آئینی بنچ نے اپنا پہلا فیصلہ دیا ہے۔

    براہ راست بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بننے والے پہلے جج

    سابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ ملک کی واحد عدالتی شخصیت ہیں جن کی تقرری بھی بطور چیف جسٹس ہوئی تھی۔

    جب سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی طرف سے ملک میں لگائی گئی ایمرجنسی کو 2009 میں سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دیا تو جن ججز نے سابق فوجی صدر کے عبوری آئینی حکم نامے (پی سی او) کے تحت حلف اٹھایا تھا، وہ تمام اپنے عہدوں سے فارغ ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں بلوچستان ہائی کورٹ کے تمام ججز کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔

    یوں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰٰ کو بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنانے کی سفارش کی جسے منظور کر لیا گیا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰٰ کو پانچ اگست سنہ 2009 کو بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا۔ اس طرح ان کی پہلی تعیناتی ہی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر ہوئی۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰٰ جب بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے منصب پر فائز ہوئے تو بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے ان کی تعیناتی کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی۔

    اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ جسٹس عیسیٰٰ کی تعیناتی آئین کے خلاف ہے کیونکہ کسی کی بھی بطور جج تعیناتی کے لیے اعلیٰ عدالت میں دس سالہ پریکٹس کا تجربہ ہونا ضروری ہے جبکہ ان کی تعیناتی ایڈہاک بنیادوں پر ہوئی تھی مستقل بنیادوں پر نہیں۔ بعد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

    بلوچستان ہائی کورٹ میں بطور جج تعیناتی سے قبل وہ انگریزی اخبارات میں آئین و قانون، تاریخ اور ماحولیات پر تجزیاتی آرٹیکلز بھی لکھتے تھے۔ اس کے علاوہ ’ماس میڈیا لاز اینڈ ریگولیشن کے مشترکہ مصنف، بلوچستان کیس اینڈ ڈیمانڈ ‘ کے بھی لکھاری ہیں۔

  5. شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، آٹھ شدت پسند ہلاک

    سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے ضلع میران شاہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے آٹھ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران چھ شدت پسند زخمی بھی ہوئے جبکہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    دوسری طرف صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بالگتر میں بھی سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر آپریشن کے دوران چار شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق بلوچستان کے علاقے ضلع کیچ میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں چار شدت پسند ہلاک ہوئے۔ آپریشن کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

  6. سپریم کورٹ کا آئینی بینچ آج 18 زیر التوا مقدمات پر سماعت کرے گا

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے زیر التوا آئینی مقدمات کی سماعت کے لیے کاز لسٹ جاری کر دی ہے۔ اس کاز لسٹ میں آج اور 15 نومبر کے لیے 34 مقدمات سماعت کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔

    چھبیس ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں قائم ہونے والا آئینی بینچ پہلی مرتبہ آئینی درخواستوں کی سماعت کرے گا

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں چھ رکنی آئینی بنچ آج سے ان مقدمات کی سماعت کرے گا۔

    14 نومبر کے لیے 18 مقدمات آئینی بنچ میں سماعت کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ آئینی بنچ کے لیے پہلا کیس انسانی حقوق سے متعلق ہے جو 1993 میں دائر کیا گیا۔ دوسرا کیس 2003 میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق لیا گیا ازخود نوٹس ہے۔

    تیسرا مقدمہ 2016 سے زیر التوا ماحولیاتی آلودگی کا معاملہ ہے۔ چوتھا کیس 2012 کانارکوٹکس سے متعلق ہے۔پانچواں اور چھٹا کیس ڈپٹی کمشنر کراچی کی تقرری سے متعلق ہے۔ ساتواں کیس 2014 میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کا نظرثانی معاملہ ہے۔

    آٹھواں مقدمہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی بلوچستان ہائی کورٹ میں براہ راست بطور چیف جسٹس تقرری پر نظرثانی کا ہے۔

    پندرہ نومبر کو آئینی بینچ جن مقدمات کی سماعت کرے گا ان میں پاکستانی شہریوں کے غیر ملکی اکاؤنٹس کے بارے میں 2018 میں لیے ازخود نوٹس، وفاقی محتسب یاسمین عباسی کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے جج کو توہین عدالت نوٹس جاری کرنے کا کیس، گلوکارہ میشا شفیع ہراسگی کیس، کنونشن سینٹر کے نجی استعمال پر بانی پی ٹی آئی کے خلاف ازخود نوٹس، انسداد دہشتگری کے بارے میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر ازخود نوٹس، لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام سے متعلق ازخود نوٹس، شمالی علاقہ جات میں ٹیکس کے نفاذ سے متعلق حبیب وہاب الخیری کی سنہ 2000 میں دائر 184 تھری کے تحت درخواست اور خواجہ محمد آصف بنام وفاق پاکستان (جے جے وی ایل) کی سماعت ہو گی۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں چند روز قبل جسٹس امین الدین خان کے چیمبر میں اہم اجلاس ہوا تھا جس میں آئینی بنچز میں مقدمات بھیجنے کے امور کاجائزہ لیا گیا تھا۔ جسٹس امین الدین خان کو بتایا گیا تھا کہ آرٹیکل 184کی ذیلی شق ایک ،آرٹیکل 184کی ذیلی شق تین اور آرٹیکل 186سمیت انسانی حقوق کے کیسز بھی زیرالتواء ہیں۔

    اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ 26ویں ترمیم کے بعد آرٹیکل 191 اے کے تحت مقدمات کی کلر کوڈنگ کی جائے گی۔

    سپریم کورٹ میں تعینات عملے کو ٹاسک دیا گیا کہ وہ ایسے مقدمات کی سکروٹنی کریں جو آرٹیکل 199کے تحت ہیں اور جنھیں آئینی بنچز کے سامنے سماعت کیلئے مقرر کیا جانا ہے۔

    سپریم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں جب جسٹس امین الدین کو آئینی بینچ کا سربراہ بنایا گیا تھا تو چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے تین ججز نے ان کے نام کی مخالفت کی تھی

  7. بریکنگ, ’مجھے کینسر نہیں، میری صحت سے متعلق افواہیں پھیلائی گئیں‘: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنی صحت سے متعلق افواہوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میری صحت سے متعلق جھوٹا پروپیگنڈا اور افواہیں پھیلائی گئی ہیں کہ مجھے کینسر ہے میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ مجھے کینسر نہیں بلکہ پیراتھائیرائڈ کا طبی مسئلہ ہے۔

    لندن میں پارٹی کارکنان سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے اپنی صحت سے متعلق کہا کہ میری بیماری پر سوشل میڈیا پر جھوٹی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں، وی لاگز بنائے جا رہے ہیں اور جھوٹا پروپیگنڈا کر کے یہ پوچھا جا رہا ہے کہ میں نے اپنا علاج پاکستان سے کیوں نہیں کروایا تو انھیں بتانا چاہتی ہوں کہ میرا علاج پاکستان میں ہی ہوتا ہے لیکن پیراتھائیرائیڈ ایسی بیماری ہے جس کا علاج پوری دنیا میں صرف دو ممالک سوئزرلینڈ اور امریکہ میں ہی ہوتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پیرا تھائیرائیڈ کا علاج انگلینڈ میں بھی نہیں ہوتا صرف سوئٹزرلینڈ اور امریکہ میں اس بیماری کا علاج ممکن ہے۔

    مریم نواز نے بتایا کہ گذشتہ برس جنوری میں سوئٹزر لینڈ میں ان کی سرجری ہوئی تھی، اب بھی وہ علاج کروانے کے بعد چند روز میں پاکستان پہنچ رہی ہیں۔

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنی بیماری سے متعلق بات نہیں کرنا چاہتی تھیں، ان کی ایسی تربیت ہی نہیں کہ وہ وکٹم بن کر لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کریں لیکن جھوٹی افواہوں کی وجہ سے انھیں اس پر بات کرنا پڑی۔

  8. ٹرمپ اور بائیڈن کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات: ’سیاست بہت مُشکل کام ہے‘

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موجودہ صدر جو بائیڈن کے درمیان وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ملاقات ہوئی ہے، جس میں ٹرمپ نے جو بائیڈن سے کہا ہے کہ ’سیاست ایک مُشکل کام ہے،‘ اسی کے ساتھ ساتھ انھوں نے جو بائیڈن کا اقتدار کی پُر امن منتقلی کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا جس پر جو باییڈن نے اُن کا جواباً شکریہ ادا کیا۔

    ٹرمپ کا ملاقات کے دوران کہنا ہے کہ ’میں اس تبدیلی کی بہت تعریف کرتا ہوں جو اتنی ہموار ہو، جتنی آسانی ہو سکے گی۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا ’اکثر اوقات سیاست کی دُنیا اچھی نہیں ہوتی لیکن آج صورتحال قدرِ مختلف ہے۔‘

    صدر جو بائیڈن کی دعوت پر نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آج وائٹ ہاؤس کا دورہ اُس روایت کی تجدید ہے جسے 2020 میں ترک کر دیا گیا تھا، جب ٹرمپ سبکدوش ہونے والے صدر تھے اور بائیڈن منتخب صدر تھے۔

    اُس وقت ٹرمپ نے یہ تسلیم نہیں کیا تھا کہ وہ انتخابات ہار گئے تھے اور انتخابی دھاندلی کے دعوے کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے اس روایت کو توڑا اور بائیڈن کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے لیے مدعو نہیں کیا تھا اور انھوں نے جنوری 2021 میں بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔

  9. ٹرمپ اپنی رہائش گاہ سے ’دیرینہ امریکی روایت نبھانے‘ وائٹ ہاؤس روانہ

    امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کی ملاقات ہونے جا رہی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر جو بائیڈن کی جانب سے مدعو کیا گیا تھا جنھوں نے انتخابی نتائج کے بعد کہا تھا کہ وہ ’اقتدار کی پرامن منتقلی‘ کے لیے پرعزم ہیں۔

    نئے آنے اور جانے والے امریکی صدور کے درمیان یہ ملاقات ایک دیرینہ امریکی روایت ہے اور اسے حکومت کی منتقلی شروع کرنے کے طریقے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس پہنچنے سے قبل ٹرمپ کانگریس کا دورہ کریں گے جہاں سینیٹرز خفیہ رائے شماری کریں گے اور فیصلہ کریں گے کہ سینیٹ کی ریپبلکن قیادت کون سنبھالے گا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کے درمیان ہونے والی اس ملاقات کے موقع پر اس بات کا امکان بھی ہے کہ موجودہ خاتونِ اوّل اور میلانیا ٹرمپ کے درمیان بھی وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہو۔

    2016 میں جب ٹرمپ پہلی بار صدر بنے تھے تو میلانیا نے سابق خاتون اول مشیل اوباما کے ساتھ ایک ملاقات میں شرکت کی تھی۔

  10. احتجاج کی نگرانی علی امین گنڈاپور کریں گے، مطالبات پورے ہوئے بغیر واپسی نہیں ہو گی: بیرسٹر سیف

    خیبر پختونخواہ حکومت کے مشیر بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ فائنل کال اور احتجاج کی تمام تر نگرانی وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ علی امین گنڈاپور کر رہے ہیں۔

    انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’اتنا شدید احتجاج ہو گا کہ مریم نواز یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوں گی کہ وہ واپس پاکستان نہ آئیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کی کال کے بعد اب ملک میں آئین اور قانون کا بول بالا ہو گا۔‘

    علی امین گنڈا پورا کا کہنا ہے کہ ’کال کا اعلان ہو چکا ہے۔ احتجاج کی تمام تر تیاریاں مکمل ہیں۔ اس بار مطالبات پورے ہوئے بغیر کوئی واپسی نہیں ہو گی۔‘

  11. بریکنگ, تحریکِ انصاف کا 24 نومبر کو اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ کا اعلان

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے 24 نومبر کو اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اس مظاہرے میں تین بنیادی مطالبات رکھے جائیں گے جن میں ’26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کی بحالی، پارٹی رہنماؤں اور ورکرز کی رہائی اور سنہ 2024 کے انتخابات کے چوری شدہ مینڈیٹ کی واپسی شامل ہیں۔‘

    پی ٹی آئی کی جانب سے معاشرے کے تمام طبقات جن میں سول سوسائٹی، طلبہ اور کسانوں کو شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔

    اس سے قبل، عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا تھا کہ عمران خان نے 24 نومبر کو ’حتمی احتجاج‘ کی کال دے دی ہے۔

    ان کے بقول عمران خان نے کہا ہے کہ چوری شدہ مینڈیٹ، ناحق گرفتار لوگوں اور 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج کے لیے لوگ نکلیں۔

  12. بریکنگ, اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔جن کی شدت ریکٹر سکیل پر 5.3 ریکارڈ کی گئی ہے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 5.3 ریکارڈ کی گئی ہے اور زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش تھا جب کہ زلزلے کی گہرائی 220 کلومیٹر زیر زمین ریکارڈ کی گئی۔

    اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جن میں نوشہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ اور ہزارہ کے اضلاع بھی شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ اٹک، مہمند، لنڈی کوتل، صوابی، تیراہ، شانگلہ، ملاکنڈ، بونیر، خیبر، سوات، دیرلوئر، چارسدہ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

  13. اچھا ہوتا انڈین ٹیم پاکستان آ کر کھیلتی، پاک انڈیا سفارتی تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے: نواز شریف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ انڈیا کے ساتھ اگر معاملات بگڑے ہیں تو اب ان کو سنوارنے کی ضرورت ہے اور یہ سنوارے جا سکتے ہیں، مجھے اس میں کوئی دقت نظر نہیں آتی۔

    جنیوا سے لندن واپسی پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے سفارتی تعلقات میں بہتری آ سکتی ہیں اور یہ بہتر ہونے بھی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم نے کسی کے ساتھ خراب تعلقات رکھ کر کرنا کیا ہے؟‘

    چیمیئنز ٹرافی کے لیے انڈین کرکٹ ٹیم کی جانب سے پاکستان نہ آنے کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انڈین ٹیم کو ضرور پاکستان آنا چاہیے تھا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

    واضح رہے کہ انڈیا نے چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان آنے سے انکار کر دیا ہے، اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے حکومتی ہدایت پر آئی سی سی کو خط لکھا ہے۔

    ٹرمپ کے امریکی صدر منتخب ہونے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کے سوال کے جواب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اچھے رہنے چاہیے، ماضی میں بھی اچھے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی اچھے ہونے چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعلقات اچھے ہونے چاہیے۔

    سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ لندن میں مظاہرین کی جانب سے مبینہ بدسلوکی سے متعلق سوال پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ ایک جماعت نے بدتمیزی کے کلچر کی بنیاد رکھ دی ہے، جو پاکستان کے لیے بہت ہی افسوس ناک ہے، اس کلچر کو انھوں (پی ٹی آئی) نے اپنی حکومت کے دوران بھی فروغ دیا اور اپوزیشن میں تو اس سے بھی زیادہ فروغ دے رہے ہیں۔

    اس موقع پر ان کے ہمراہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب میں سموگ کے مسئلے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’سموگ کا مسئلہ برسوں پرانا ہے راتوں رات حل نہیں ہوگا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت میں بہتری سے متعلق اچھی خبریں آرہی ہیں اور ملک میں مہنگائی کم ہو رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ میرے خیال میں پاکستان میں بہت پوٹینشل ہے، یہاں محنت کرنے والے مخلص لوگ چاہئیں، مجھے پوری امید ہے پاکستان مشکلات سے جلد نکلے گا۔ ایک صحافی نے ان سے سوال پوچھا کہ کیا آپ پنجاب ایئرلائن شروع کر رہی ہیں، جس پر ان کا کہنا تھا کہ ایئرپنجاب شروع کرنی چاہیے، اس پر ابھی سوچ و بچار جاری ہے۔

  14. بریکنگ, ماؤنٹ لبنان کے دیہات پر اسرائیلی حملوں میں 23 افراد ہلاک ہوئے: لبنانی وزارت صحت

    لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ وسطی لبنان میں دو گھروں پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 23 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جہاں مبینہ طور پر بے گھر خاندان رہائش پذیر تھے۔

    ہلاک ہونے والے 15 افراد جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے کو جون کے علاقے میں اور آٹھ مزید افراد کو بالچمے کے قریب قتل کیا گیا۔ دونوں گاؤں ماؤنٹ لبنان کے علاقے اور باہر کے علاقوں سے تعلق رکھتے تھے جہاں مسلح گروپ حزب اللہ کی مضبوط موجودگی ہے۔

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ ان حملوں کا جائزہ لے رہی ہے، جو اس نے بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کیے۔ دریں اثنا اسرائیل کے شمالی قصبے نہاریہ میں حزب اللہ کے راکٹ فائر کرنے سے دو افراد ہلاک ہو گئے۔

    لبنان کی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیل نے جب سے فضائی حملے شروع کیے ہیں تب سے اب تک لبنان میں 3,200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سات ہفتوں کے دوران 2,600 افراد شامل ہیں جبکہ 12 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

  15. بریکنگ, ٹرمپ کی حکومت میں اہم عہدے کس کو مل رہے ہیں؟

    ٹرمپ نے سی آئی اے چیف، مشرق وسطیٰ کے لیے ایلچی سمیت اہم عہدوں پر نامزدگیاں کر دی

    نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور اقتدار کے لیے اہم عہدوں پر تعیناتیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ سمیت مشرق وسطیٰ کے لیے ایلچی اور اسرائیل میں اپنے سفیر کی نامزدگیاں کر دیں ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی انتخابی مہم کے ڈونر اور رئیل سٹیٹ ٹائیکون سٹیووٹکوف کو مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی نامزد کیا گیا ہے۔ اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سٹیو وٹکوف امن کے لیے ایک ان تھک آواز ہوں گے اور ہم سب کے لیے فخر کا باعث بنیں گے۔

    صدر ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے لیے ایلچی نامزد ہونے والے 67 سالہ وٹکوف صدر ٹرمپ کے قریبی دوست ہیں اور طویل عرصے سے ان کے گولف پارٹنر ہیں۔ درحقیقت، وٹکوف ستمبر میں ٹرمپ پر دوسرے قاتلانہ حملے کے دوران ان کے ساتھ گولف کھیل رہے تھے۔ منگل کو اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وٹکوف ایک ایسے رہنما ہیں جنھوں نے ’ہر منصوبے اور کمیونٹی کو مضبوط اور زیادہ خوشحال بنایا ہے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سابق ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس جان ریٹکلیف کو امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ڈائریکٹر نامزد کیا گیا ہے۔ انھیں پہلی بار 2019 میں نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

    آپ کو یاد ہو گا ملر ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر تھے جنھوں نے روس اور ٹرمپ کی 2016 کی انتخابی مہم کے درمیان ملی بھگت کے الزامات کی تحقیقات کی قیادت کی تھی۔ لیکن ٹرمپ نے اپنی اہلیت کے بارے میں خدشات پر دونوں جماعتوں کے اعتراضات کے چند دن بعد ان کی نامزدگی واپس لے لی تھی۔

    ٹرمپ کے بڑے حامی اور فنانسر ایلون مسک اور سابق ریپبلکن صدارتی امیدوار وویک رامسوامی کو بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومتی کارکردگی کے نئے محکمے کی قیادت کرنے کا کام سونپا ہے۔

    ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ دو شاندار امریکی مل کر میری انتظامیہ کے لیے سرکاری بیوروکریسی کو ختم کرنے، اضافی ضابطوں میں کمی، فضول اخراجات میں کمی، اور وفاقی ایجنسیوں کی تنظیم نو کرنے کے لیے راہ ہموار کریں گے - جو ’امریکہ بچاؤ‘ تحریک کے لیے ضروری ہے۔‘

    اسی طرح ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وہ جنوبی ڈکوٹا کی گورنر کرسٹی نوم کو ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمے کی سربراہی کے لیے مقرر کریں گے۔ نوم جس کا نام موسم گرما میں ایک ممکنہ نائب صدر کے امیدوار کے طور پر سامنے آیا تھا، طویل عرصے سے ٹرمپ کی اتحادی رہی ہیں اور انھوں نے منتخب صدر کی بھرپور مہم چلائی ہے۔ رواں برس وہ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بھی رہی تھی جب انھوں نے انکشاف کیا تھا کہ انھوں نے اپنے کتے کو گولی سے مارا کیونکہ یہ ’غیر تربیت یافتہ‘ اور ’خطرناک‘ تھا۔

    خیال رہے کہ پانچ نومبر 2024 کو امریکہ میں ہونے والے عام انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس کو شکست دے کر دوسری مرتبہ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو امریکا کے 47 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔

  16. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں باراتیوں کی ایک ویگن دریا میں گرنے کے سبب 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ دلہن کو زخمی حالت میں بچا لیا گیا۔ ریسکیو 1122 کے مطابق ویگن دریا میں گرنے سے قبل دُلہن کنارے پر گر کر زخمی ہو گئی تھی جسے طبّی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ متاثرہ خاندان کے مطابق گاڑی میں ڈرائیور سمیت 26 افراد سوار تھے، جبکہ ٹرانسپورٹ سروس کے مطابق ان افراد میں ایک سات سالہ بچہ بھی شامل تھا۔ دریا میں گِر کر لاپتہ ہو جانے والے افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن علاقے میں اندھیرا ہونے کے سبب معطل کر دیا گیا۔ چکوال سے آئے ہوئے باراتیوں میں دو سگے بھائی اور ان کی والدہ بھی شریک تھیں، جبکہ دولہا بھی اسی گاڑی میں سوار تھا۔ باراتی شادی اور نکاح کے بعد دلہن کو اپنے آبائی علاقے لے کر جارہے تھے۔
    • نادرا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا ہے کہ ان کے ادارے سے 27 لاکھ افراد کا ڈیٹا چوری ہوا تھا اور متعدد افراد کو انکوائری کے بعد ملازمت سے نکالا گیا ہے۔ منگل کو قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو ایک بریفنگ کے دوران نادرا کے چیئرمین نے بتایا کہ ڈیٹا چوری ہونے کے بعد ایک انکوئری ہوئی اور 19 گریڈ کے ایک افسر سمیت چھ ملازمین کو ملازمتوں سے نکالا گیا ہے۔ دوران اجلاس کمیٹی کے رُکن خالد فضل چوہدری نے نادرا کے چیئرمین سے افغان شہریوں کے پاس موجود جعلی شناختی کارڈز کے حوالے سے بھی سوال کیا۔ جس پر چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر نے کہا کہ ان کے ادارے نے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ شاختی کارڈر بلاک کیے ہیں۔
    • پنجاب پولیس کے انسپیکٹر جنرل (آئی جی) نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا ہے کہ ان کے صوبے میں گذشتہ پانچ برسوں میں کم عمر بچوں کے ساتھ ریپ کے پانچ ہزار 623 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں جمع کروائی جانے والی اس رپورٹ کے مطابق 2020 میں کم عمر بچوں کے ساتھ ریپ کے ایک ہزار 82، 2021 میں ایک ہزار 148، 2022 میں ایک ہزار 111، 2023 میں ایک ہزار 205 اور 2024 میں اب تک ایک ہزار 77 کیسز صوبے بھر میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ آئی جی پنجاب کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے ریپ کے پانچ ہزار 623 مقدمات میں پولیس کی جانب سے عدالتوں میں چالان جمع کروائے گئے ہیں، جبکہ 962 کیسز مختلف وجوہات کی بنا پر خارج کیے گئے۔
    • راولپنڈی پولیس نے قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف عمر ایوب، اسد قیصر، سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف شبلی فراز اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف احمد بچھڑ سمیت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے متعدد رہنماؤں کو اڈیالہ جیل کے باہر سے حراست میں لے لیا۔ منگل کو گرفتار ہونے والے افراد میں سُنّی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا بھی شامل تھے۔ تاہم پولیس کے مطابق ان تمام افراد کو پولیس کی جانب سے کچھ دیر بعد وارننگ دے کر رہا کر دیا گیا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیو میں پنجاب پولیس اہلکاروں کو جماعت کے رہنماؤں کو حراست میں لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تمام رہنما سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے تھے۔ مقامی پولیس کے مطابق ان رہنماؤں کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔