انڈیا الیکشن: بی جے پی بھاری اکثریت حاصل کرنے میں ناکام مگر مودی کی قیادت میں پارٹیوں کے اتحاد نے حکومت بنانے کے لیے 272 سیٹیں پوری کر لیں

اب تک کے رجحانات کے مطابق بی جے پی جماعت واضح پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور توقع ہے کہ 543 میں سے 240 سیٹیں ہی حاصل کر پائے گی۔ ادھر حزبِ اختلاف کے اتحاد نے توقع سے کہیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اب تک 193 نشستیں حاصل کی ہیں۔

خلاصہ

  • انڈیا کی 543 رکنی پارلیمان کے لیے ڈیڑھ ماہ تک سات مرحلوں میں ہونے والے انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور ابتدائی رجحانات کے مطابق حکمراں جماعت بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں آگے چل رہی ہیں۔
  • وزیر اعظم نریندر مودی اپنی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی لگاتار تیسری بار کامیابی کے لیے پرامید ہیں۔
  • ابتدائی نتائج بتاتے ہیں کہ کانگریس پارٹی کے ساتھ دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے توقع سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
  • 543 رکنی پارلیمنٹ میں 272 سے زیادہ نشستیں جیتنے والی جماعت یا اتحاد حکومت بنا سکتا ہے۔
  • دنیا کا سب سے بڑا الیکشن چھ ہفتوں میں سات مرحلوں میں منعقد ہوا جس میں تقریباً ایک ارب لوگوں نے ووٹ ڈالا۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے پر عزم ہے: صدر زرداری

    صدر آصف علی زرداری نے عالمی یوم ِ ماحولیات کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے پر عزم ہے۔ گرین پاکستان پروگرام جیسے اقدامات کی بدولت جنگلات اور ماحولیاتی نظام کی بحالی میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

    صدر زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کا شمار ماحولیاتی تغیرات کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں ہوتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان کو سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی اور جنگلات میں آتشزدگی جیسے متنوع واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔

    صدر زرداری کے مطابق ’نیشنل اڈاپٹیشن پلان اور کلائیمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر جیسے اقدامات پائیدار زرعی طریقوں کے فروغ اور زمین کی پیداواری صلاحیت اور معیار میں کمی روکنے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان انحطاط کے شکار جنگلات اور زرعی زمینوں کی بحالی کے ذریعے بنجر پن ، پیداواری صلاحیت میں کمی اور خشک سالی سے نمٹنے کیلئے اقدامات کر رہا ہے۔‘

    ’اپنے آبی وسائل کے مؤثر انتظام ، چراگاہوں کی بحالی اور مٹی کی پانی برقرار رکھنے کی صلاحیت بڑھانے کیلئے زیادہ سے زیادہ درخت لگانا ہوں گے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے پر ہماری توجہ ماحولیاتی تحفظ یقینی بنانے کیلئے اہم ثابت ہوگی۔‘

  2. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا تاہم انڈیا کے انتخابات کے حوالے سے تازہ ترین خبریں اور تجزیے آپ ہماری ویب سائٹ پر پڑھ سکیں گے

  3. انڈیا الیکشن: آج کے دن کی اہم خبروں پر ایک نظر ’مودی کی قیادت میں پارٹیوں کے اتحاد نے حکومت بنانے کے لیے 272 سیٹیں پوری کر لیں‘

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    • وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں پارٹیوں کے اتحاد نے حکومت بنانے کے لیے درکار 272 سیٹیں پوری کر لی ہیں۔
    • لیکن مودی کی ہندو قوم پرست بی جے پی جماعت واضح پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور توقع ہے کہ 543 میں سے 240 سیٹیں ہی حاصل کر پائے گی۔ یاد رہے یہ ان 400 سیٹوں کے ہدف سے بہت کم ہے جو انھوں نے انتخابی مہم کے دوران مقرر کیا تھا۔
    • اب سے کچھ دیر قبل مودی نے دہلی میں بی جے پی ہیڈکوارٹر میں ایک تقریر کے دوران این ڈی اے گروپ کی جیت کا دعویٰ کیا ہے۔
    • اپنی تقریر میں انھوں نے ووٹروں سے کہا کہ وہ اپنی تیسری مدت میں کرپشن کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ’سب کچھ‘ کریں گے۔
    • حزبِ اختلاف کے اتحاد نے توقع سے کہیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ملک بھر میں اب تک 193 نشستیں حاصل کی ہیں۔
    • کانگریس پارٹی کے راہول گاندھی، جنھیں بڑے پیمانے پر مودی کے اہم حریف کے طور پر دیکھا جاتا ہے، نے کہا ہے کہ یہ نتائج مودی کے آئین میں تبدیلی کے منصوبوں کو مسترد کرنے کا اشارہ ہیں۔
    • حزب اختلاف کی جماعتوں نے انتخابات کے دوران لیول پلئینگ فیلڈ نہ ملنے کی شکایت کی ہے، کچھ رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تھا اور کچھ جماعتوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔
  4. کس پارٹی نے کتنی سیٹیں جیتی ہیں؟

    اب تک انتخابی نتائج کے مطابق وزیر عظم مودی کی جماعت بی جے پی کی قیادت والے اتحاد نے حکومت بنانے کے لیے درکار 272 سیٹیں پوری کر لی ہیں۔

    آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ کس جماعت نے کتنی سیٹیں جیتی ہیں۔

    سب سے پہلے بات کرتے ہیں بی جی پی کی قیادت والے اتحاد این ڈی اے کی۔

    انڈین الیکشن کمیشن کے مطابق:

    بی جے پی - 228

    تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) - 12

    جنتا دل (متحدہ) - 12

    لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) - 5

    جنتا دل (سیکولر) - 12

    اب آتے ہیں اپوزیشن کی جانب:

    کانگریس - 88

    سماج وادی پارٹی - 36

    ترنمول کانگریس - 29

    دریویندا منیترا کزگم (ڈی ایم کے) - 15

    شیو سینا (ادھو ٹھاکرے) - 7

    نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) - 5

    یوواجنا سریکا ریتھو کانگریس پارٹی (YSRCP) - 4

    کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) - سی پی آئی (ایم) - 4

  5. بریکنگ, نریندر مودی کا مرکز میں حکومت بنانے کا اعلان

    مودی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت بے جے پی کی قیادت والا نیشنل ڈیموکریٹک اتحاد (این ڈی اے) مرکز میں حکومت بنائے گا۔

    انڈیا میں بی جے پی ہیڈ کوارٹرز پر خطاب کے دوران نریندر مودی نے کہا کہ ’آج کی جیت دنیا کی سب سے بڑی اور انڈین شہریوں کی جیت ہے۔‘

    مودی نے انڈین جمہوریت کو مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہر انڈین اس کی وجہ سے فخر محسوس کرتا ہے۔‘

    انھوں نے نئی دہلی میں ’کلین سویپ‘ کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کچھ علاقوں میں ان کی پارٹی کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد دوگنی ہے۔

    واضح رہے کہ انڈیا میں سات ہفتوں تک جاری رہنے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور ابتدائی رجحانات کے مطابق بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے 292 جبکہ کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں نے 233 نشستیں حاصل کی ہیں۔

  6. مودی: ’لوگوں نے مسلسل تیسری بار این ڈی اے پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا‘

    انڈیا میں ڈیڑھ ماہ تک سات مرحلوں میں ہونے والے انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

    انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے اس موقع پر ٹویٹ کرتے ہوئے اپنے کارکنوں اور ووٹرز کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    مودی نے ایکس پر لکھا ’لوگوں نے مسلسل تیسری بار این ڈی اے پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ انڈیا کی تاریخ میں اہم کارنامہ ہے۔‘

    مودی

    ،تصویر کا ذریعہ@narendramodi

  7. مودی کی بھاری اکثریت سے کامیابی کی دم توڑتی امید

    مودی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی سیاست میں ایک دہائی تک نمایاں رہنے والی مودی کی جماعت بی جے پی سے امید کی جا رہی تھی کہ وہ اس سلسلے کو جاری رکھے گی تاہم منگل کے روز آنے والے انتخابی نتائج سے پارٹی کو دھچکہ لگا، جس کے بعد اسے مرکز میں حکومت بنانے کے لیے اتحادیوں کی ضرورت ہو گی۔

    تجزیہ کار اس کی وجہ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری، فوج میں بھرتی کی متنازعہ اصلاحات اور مودی کی جارحانہ اور تفرقہ انگیز مہم کو قرار دیتے ہیں۔

    مودی کے انتخابی نعرے ’اب کی بار 400 پار‘ کا مطلب یہ تھا کہ وہ اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک بھر سے 400 سیٹیں حاصل کر پائیں گے تاہم ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

    دوسری جانب بی جے پی کی حریف جماعت کانگریس کا غیر متوقع طور پر سنہ 2019 کے الیکشن کے مقابلے میں دوگنی نشستیں حاصل کرنا تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

    راہل

    ،تصویر کا ذریعہCongress

    دوسری جانب کانگریس رہنما راہل گاندھی نے اب سے کچھ دیر قبل پریس کانفرنس میں اپنے انڈیا اتحاد کی جانب سے ملک میں حکومت بنانے کے امکان کو یکسر طور پر مسترد نہیں کیا۔

    جب ایک صحافی نے راہل گاندھی سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ ’ان کی جماعت اتحادیوں کے ساتھ کل ملاقات کر کے اس معاملے پر بات چیت کرے گی۔‘

    اس بیان کے بعد انڈین الیکشن کے انتخابی نتائج اور مرکز میں حکومت بنانے کی بحث مزید دلچسپ ہو گئی ہے۔

    ابھی کچھ دیر میں مودی کی جماعت بی جے پی کی جانب سے بھی پریس کانفرس متوقع ہے جو ہمیں انڈیا میں مرکزی حکومت بنانے کے حوالے سے مزید وضاحت دے گی۔

  8. انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بڑے ناموں کو شکست کیوں ہوئی؟, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں عمرعبد اللہ کی جماعت نیشنل کانفرنس نے اننت ناگ اور سرینگر کی سیٹ جیت لی ہے تاہم محبوبہ مفتی نہ صرف خود اننت ناگ سے ہار گئیں بلکہ سرینگر سے اُن کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے نوجوان رہنما وحید الرحمٰن بھی ہار گئے ہیں۔

    محبوبہ مفتی نے نیشنل کانفرنس کے میاں الطاف سے اننت ناگ سیٹ پر تقریباً تین لاکھ ووٹوں کے فرق سے شکست کھائی۔

    بارہمولہ سیٹ پر پہلے تو عمرعبداللہ کا براہ راست مقابلہ پیپلز کانفرنس کے سجاد غنی لون کے ساتھ تھا لیکن یہ مقابلہ اُسوقت دلچسپ ہوگیا جب دہشت گردوں کی فنڈنگ کے الزام میں دلی کی تہاڑ جیل میں قید سابق رکن اسمبلی انجینئیر رشید نے جیل سے ہی الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا۔

    اُن کی انتخابی مہم اُن کے نوجوان بیٹوں نے چلائی اور پوری مہم کے دوران ’ووٹ کے ذریعہ رہائی‘ کا نعرہ دیا۔

    انجینئیر رشید نے ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ ووٹ لے کر عمرعبداللہ کو دو لاکھ سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے ہرا دیا۔

    واضح رہے کہ عمرعبداللہ کی نیشنل کانفرنس اور محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی پچھلے 25 سال سے باری باری جموں کشمیر پر حکومت کرتی رہی ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پارلیمنٹ میں دونوں کو ایک ساتھ شکست ہوئی۔

    انڈین وزیرداخلہ امت شاہ کے مطابق ستمبر میں جموں کشمیر اسمبلی کی 90 سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہوگی کیونکہ انڈین سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو تاکید کی ہے کہ ستمبر سے پہلے پہلے کشمیر میں اسمبلی انتخابات کرائیں جائیں۔

    انجینئیر رشید کی کامیابی کے بعد یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ اسمبلی انتخابات کے دوران کشمیر کی ’لیگسی پولیٹیکس‘ کا اثر بہت کم دکھائی دے گا۔

    سیاسی اور معاشی امور کے ماہر اعجاز ایوب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دلی میں جو ہوگا سو ہو گا لیکن کشمیرمیں لوگوں نے بدلے کی نفسیات سے ووٹ دیا۔ بڑے بڑے ناموں کا ہارنا اس بات کا اشارہ ہے کہ نوجوان اب نئی قیادت چاہتے ہیں۔‘

  9. ’مودی کو حکومت بنانے کے لیے اتحادیوں کی ضرورت ہو گی‘, وکاس پانڈے، نئی دہلی

    سنہ 2019 کے انتخابات میں نریندر مودی کی جماعت 303 نشستوں پر کامیاب ہوئی تھی جبکہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر اس نے ملک بھر سے 353 سیٹیں جیتی تھیں۔

    واضح رہے کہ انڈیا میں مرکزی حکومت بنانے کے لیے 272 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔

    لیکن جیسے جیسے حالیہ انتخابات کے نتائج سامنے آ رہے ہیں یہ کہنا مشکل ہے کہ اس بار بی جے پی اکیلے 272 نشستیں جیت سکے گی لہذا حکومت بنانے کے لیے اسے اپنے اتحادیوں پر ہی انحصار کرنا پڑے گا۔

    اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مودی کو اب مرکزی سطح پر کوئی بھی فیصلے لینے کے اپنے انداز کو بدلنا پڑے گا اور اتحادیوں کو بھی اعتماد میں لینا پڑے گا۔

    یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی نریندر مودی کو عادت نہیں کیونکہ اس سے قبل وہ مرکزی اور ریاستی سطح پر ہمیشہ اکثریت سے کامیاب ہوتے اور حکومت بناتے رہے ہیں۔

  10. بریکنگ, انڈیا الیکشن 2024: بی جے پی اتحاد 291 نشستوں کے ساتھ آگے

    تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بی جی پی کی قیادت والے اتحاد این ڈی اے کو 291 سیٹوں پر سبقت حاصل ہے جبکہ کانگریس کی قیادت والے اتحاد انڈیا 234 نشستوں پر سبقت حاصل ہے۔

    انڈیا الیکشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  11. انڈیا الیکشن 2024: بی جے پی کے اتحاد کو 292 جبکہ کانگریس کے اتحاد کو 234 پر سبقت حاصل

    hindi

    ،تصویر کا ذریعہBBC Hindi

    انڈیا کے پارلیمانی انتخابات میں 543 سیٹوں کے لیے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ تمام 543 سیٹوں کے رجحانات آنے لگے ہیں اور بہت حد تک تصویر واضح ہونے لگی ہے۔

    الیکشن کمیشن کے رجحانات کے مطابق بی جے پی کو دو سیٹوں پر جیت حاصل ہو چکی ہے اور اس کے امیدوار 236 سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئے ہیں جبکہ کانگریس نے ایک سیٹ پر جیت حاصل کر لی ہے اور 98 سیٹوں پر ان کے امیدوار آگے ہیں۔

    تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بی جی پی کی قیادت والے اتحاد این ڈی اے کو 292 سیٹوں پر سبقت حاصل ہے جبکہ کانگریس کی قیادت والے اتحاد انڈیا 234 نشستوں پر سبقت حاصل ہے۔

    بی جے پی کو دہلی کی تمام ساتوں سیٹ اور مدھیہ پردیش کی تمام 29 سیٹوں پر سبقت حاصل ہے۔

    گجرات میں بھی اسے تمام 26 سیٹوں پر سبقت حاصل ہو گئی ہے۔ اس سے قبل گجرات کی دو سیٹوں پر کانگریس کے امیدوار آگے تھے۔

    سب سے زیادہ پارلیمانی سیٹ والی ریاست اترپردیش میں بی جے پی کو خاصا نقصان نظر آ رہا ہے جہاں سماجوادی پارٹی نے 80 سیٹوں میں سے 37 سیٹوں پر سبقت حاصل کر رکھی ہے۔

    بی جے پی 31 سیٹوں پر آگے ہے جبکہ کانگریس آٹھ سیٹوں پر آگے ہے۔

  12. انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے دو وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی اپنے انتخابی حلقوں میں دوسرے نمبر پر

    mehbooba

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے بارہ مولہ انتخابی حلقے میں سابق وزیرِ اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ آزاد امیدوار سے ایک لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے پیچھے ہیں۔

    آزاد امیدوار عبدالرشید شیخ کو انڈیا کے وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر 40 منٹ پر الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر دو لاکھ 75 ہزار 883 ووٹ ملے تھے جبکہ عمر عبداللہ ایک لاکھ 46 ہزار 905 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

    دوسری جانب اننت ناگ راجوری سے جموں کشمیر نیشنل کانفرنس کے امیدوار سابق وزیر اعلی اور پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی سے دو لاکھ ووٹوں سے آگے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق نیشنل کانفرنس کے امیدوار میاں الطاف احمد کو چار لاکھ 25 ہزار سے زیادہ ووٹ ملے ہیں جبکہ محبوبہ مفتی کو تقریباً دو لاکھ نو ہزار ووٹ ملے ہیں۔

  13. اوڈیشہ میں بی جے پی کارکنان کا جشن جہاں جماعت کے امیدواروں کو واضح برتری حاصل ہے

    bjp
    bjp
  14. انڈیا میں مسلمانوں کا چہرہ سمجھے جانے والے اسد الدین اویسی کو سبقت حاصل

    owaisi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حیدرآباد لوک سبھا سیٹ سے آل انڈیا اتحاد السلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی بی جے پی کی امیدوار سے آگے ہیں۔

    الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ویب سائٹ کے مطابق دوپہر 12 بجے تک اویسی کو 2,35,730 ووٹ ملے ہیں جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مادھوی لتا کو 1,75,910 ووٹ ملے ہیں۔

    اویسی اس سیٹ سے تقریباً 60 ہزار ووٹوں سے آگے ہیں۔ اویسی سنہ 2004 سے حیدرآباد لوک سبھا سیٹ سے رکن پارلیمنٹ ہیں۔

    ریاست تلنگانہ میں کل 17 پارلیمانی سیٹیں ہیں۔ ان میں سے بی جے پی کو 8 سیٹوں پر برتری حاصل ہے، ریاست میں حکمراں کانگریس بھی آٹھ سیٹوں پر آگے ہے جبکہ اے آئی ایم آئی ایم کو ایک سیٹ پر برتری حاصل ہے۔

  15. بابری مسجد اور رام مندر تنازع کے لیے سرخیوں میں رہنے والے شہر ایودھیا میں بی جے پی امیدوار پیچھے

    ayodhiya

    اترپردیش کا معروف شہر ایودھیا بابری مسجد کی مسماری اور رام مندر کی تعمیر کے لیے ایک عرصے سے سرخیوں میں رہا ہے۔

    ایودھیا کا انتخابی حلقہ فیض آباد ہے اور وہاں سے سماجوادی پارٹی کے اودھیش کمار مسلسل آگے چل رہے ہیں۔

    اگرچہ ان کی سبقت محض چار ہزار ووٹوں کی ہے لیکن وہ تین لاکھ سے زیادہ ووٹوں کی گنتی کے بعد بھی اپنے بی جے پی کے حریف للو سنگھ سے 4690 ووٹوں سے آگے ہیں۔

    اسی طرح سماجوادی پارٹی کی سُنیتا ورما میرٹھ انتخابی حلقے میں آگے ہیں۔ وہ بی جے پی کے امیدوار اور اداکار ارون گوول سے 5783 ووٹوں سے آگے ہیں۔

    ارون گوول کو رام کا کردار ادا کرنے کے لیے جانا جاتا ہے اور انھوں نے رامانند ساگر کے معروف ترین سیریئل 'رامائن' میں رام کا مرکزی کردار نبھایا تھا۔

  16. کانگریس ہیڈکوارٹر میں موجود کارکن پرجوش

    کانگریس ہیڈکوارٹر

    ،تصویر کا ذریعہSandeep Yadav/BBC

    دہلی میں کانگریس کے ہیڈکوارٹر میں موجود پارٹی ورکرز آغاز میں سامنے آنے والے رجحانات پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں جو بظاہر ایگزٹ پولز میں کی گئی پیشگوئیوں کے برعکس ہیں۔

    کانگریس اور ان کی اتحادی جماعتوں نے اترپردیش اور مہاراشٹر میں امیدوں سے بہت بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔

    کانگریس ہیڈکوارٹر

    ،تصویر کا ذریعہSandeep Yadav/BBC

    کانگریس ہیڈکوارٹر

    ،تصویر کا ذریعہSandeep Yadav/BBC

  17. انڈیا الیکشن نتائج: دہلی کی تمام سات سیٹوں پر بی جے پی کو سبقت حاصل

    india

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لوک سبھا انتخابات 2024 کے ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی رجحانات میں بی جے پی دہلی کی سب ہی سات سیٹوں پر آگے ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق بی جے پی کے پروین کھنڈیلوال نے چاندنی چوک سے کانگریس کے جے پرکاش اگروال کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

    وہ اس سیٹ پر 3895 ووٹوں سے آگے ہیں۔ مشرقی دہلی انتخابی حلقے سے بی جے پی کے ہریش ملہوترا عام آدمی پارٹی کے امیدوار کلدیپ کمار سے 12263 ووٹوں سے آگے ہیں۔

    بی جے پی کی امیدوار بانسری سوراج نئی دہلی انتخابی حلقے سے عام آدمی پارٹی کے امیدوار سومناتھ بھارتی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ وہ 18480 ووٹوں سے آگے ہیں۔

    شمال مشرقی دہلی سے بی جے پی کے امیدوار اور اداکار منوج تیواری کانگریس امیدوار کنہیا کمار سے آگے ہیں۔ اس وقت یہ فرق 41579 ووٹوں کا ہے۔

    شمال مغربی دہلی سے بی جے پی کے یوگیندر چندولیا 65344 ووٹوں سے آگے ہیں۔ اس سیٹ پر کانگریس کی طرف سے اُدت راج امیدوار ہیں۔

    جنوبی دہلی پارلیمانی حلقے میں بی جے پی کے رام ویر سنگھ بدھوری اور عام آدمی پارٹی کے ساہی رام آمنے سامنے ہیں۔

    اس وقت رام ویر سنگھ بدھوری 20206 ووٹوں سے آگے ہیں۔ مغربی دہلی سے بی جے پی کے کمل جیت سہراوت عام آدمی پارٹی کے مہابل مشرا سے 38397 ووٹوں سے آگے ہیں۔

  18. بی جی پی اتحاد 290 جبکہ کانگریس اتحاد 230 نشستوں پر آگے: الیکشن کمیشن آف انڈیا

    الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق اب تمام 543 سیٹوں کے رجحانات سامنے آ گئے ہیں جن کے مطابق بی جے پی اتحاد این ڈی اے 290 سے زیادہ نشستوں پر آگے ہے جبکہ کانگریس کی قیادت والا حزب اختلاف اتحاد ’انڈیا‘ 230 نشستوں پر آگے ہے۔

    اگر پارٹی کے حساب سے دیکھا جائے تو بے جے پی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھر رہی ہے اور اسے 11:55 بجے تک 235 سیٹوں پر سبقت حاصل ہے جبکہ کانگریس پارٹی نے گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ 99 سیٹوں پر آگے ہے۔

    ان کے بعد اترپردیش کی اہم جماعت سماجوادی پارٹی 34 سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئے۔ مغربی بنگال میں حکمراں جماعت 31 سیٹوں پر آگے ہے۔

    جنوبی ریاست تمل ناڈو کی پارٹی ڈی ایم کے 21 سیٹوں پر جبکہ آندھراپردیش کی پارٹی تیلگودیشم 16 سیٹوں پر آگے ہے۔

    بہار میں حکمراں اتحاد جنتا دل یونائيٹڈ 14 سیٹوں پر سبقت رکھتی ہے۔ مہاراشٹر میں بی جے پی اتحاد کو خاصا نقصان نظر آ رہا ہے لیکن بازی اترپردیش میں پلٹتی نظر آ رہی ہے۔

  19. بی جے پی کی سمرتی ایرانی کانگریس امیدوار سے پیچھے

    smriti

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مرکزی وزیر سمرتی ایرانی اترپردیش کی امیٹھی لوک سبھا سیٹ پر پیچھے چل رہی ہیں۔ وہ کانگریس کے کشوری لال شرما سے 39 ہزار ووٹوں سے پیچھے ہیں۔

    الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ویب سائٹ کے مطابق سمرتی ایرانی نے صبح 11:14 بجے تک 87 ہزار 966 ووٹ حاصل کیے ہیں۔ جبکہ کانگریس کی کشوری لال شرما کو ایک لاکھ 27 ہزار سے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔

    یاد رہے کہ سمرتی ایرانی نے سنہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس رہنما راہل گاندھی کو شکست دی تھی۔ تاہم اس بار کانگریس نے راہل گاندھی کی جگہ کشوری لال شرما کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔

  20. بریکنگ, انڈین الیکشن: ووٹوں کی گنتی جاری، ابتدائی رحجانات میں مودی کو معمولی برتری حاصل

    India

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی 543 رکنی پارلیمان کے لیے ڈیڑھ ماہ تک سات مرحلوں میں ہونے والے انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور ابتدائی رجحانات کے مطابق حکمراں جماعت بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں آگے چل رہی ہیں۔

    مرکز میں حکومت بنانے کے لیے بی جے پی کی قیادت میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) اور انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت میں انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسیو الائنس (انڈیا) کے درمیان مقابلہ ہے۔

    الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر 543 سیٹوں میں سے 522 سیٹوں کا رجحان سامنے آ چکا ہے جس میں بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں 294 نشستوں پرجبکہ انڈین نیشنل کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتیں 202 نشستوں پر آگے ہیں۔