لائیو, سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہسپتال منتقلی اور حکام کی تاحال خاموشی

پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک ترجمان اور اسلام آباد پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بی بی اردو سے گفتگو میں عمران خان کو ہسپتال پہنچائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب جمعرات کی شب شفا انٹرنیشنل ہسپتال جانے والے متعدد راستے ٹریفک کے لیے بند کیے گئے جبکہ ہسپتال کے اطراف پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔

خلاصہ

  • سابق وزیر اعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا ہسپتال منتقل کر دِیا گیا
  • عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، شفا انٹرنیشنل جانے والے متعدد رستے ٹریفک کے لیے بند
  • شہباز شریف کی اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت، 'اب فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہے'
  • ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف تباہ کن معاشی کارروائی کا اعلان امریکہ کی اپنی معاشی مشکلات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

لائیو کوریج

  1. سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہسپتال منتقلی اور حکام کی خاموشی

    شفا ہسپتال

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی جمعرات کی رات گئے اسلام آباد میں ہسپتال منتقلی کے معاملے پر حکام اور ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ رات سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہپستال منتقل کیا گیا تھا۔

    بی بی سی نیوز اردو کو پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک ترجمان اور اسلام آباد پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے عمران خان کو ہسپتال پہنچائے جانے کی تصدیق کی تھی۔ تاہم اسلام آباد کی انتظامیہ یا حکومت نے تاحال باقاعدہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی۔

    واضح رہے کہ 18 اگست کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو دو روز کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک ایسا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جس میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ساتھ ہوں۔

  2. سابق وزیر اعظم عمران خان اڈیالہ جیل سے شفا ہسپتال منتقل

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہپستال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    بی بی سی نیوز اردو کو پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک ترجمان اور اسلام آباد پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے عمران خان کو ہسپتال پہنچائے جانے کی تصدیق کی ہے۔

    تاہم اسلام آباد کی انتظامیہ یا حکومت نے تاحال باقاعدہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    واضح رہے کہ 18 اگست کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو دو روز کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک ایسا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جس میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ان کے ساتھ ہی ہوں گی۔

    شفا انٹرنیشل ہسپتال

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنعمران کی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کے معاملے پر اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات

    جہاں ایک طرف سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو متوقع طور پر شفا انٹرنیشل ہسپتال منتقل کرنے کی اطلاعات چل رہی ہیں، وہیں پاکستان تحریکِ انصاف کے متعدد رہنما کارکنان سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ ہسپتال کے سامنے جمع نہ ہوں۔

    پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اسد قیصر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت، عمران خان صاحب کی فیملی اور کور کمیٹی کی باہمی مشاورت سے یہ واضح اور متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد پارٹی کا کوئی بھی کارکن ہسپتال کے سامنے جمع ہونے سے گریز کرے گا۔‘

    اگر کوئی شخص اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہسپتال کے سامنے جمع ہونے کی کوشش کرے گا تو اس کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

    پارٹی کے رکن قومی اسمبلی جنید اکبر نے بھی اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’جو واقعی عمران خان سے محبت کرتے ہیں، وہ ان کے علاج میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں بنیں گے اور نہ ہی ایسا کوئی قدم اٹھائیں گے جس سے ان کے علاج میں خلل پڑے۔‘

    شفا ہسپتال

    ،تصویر کا ذریعہIslamabad Police

    یاد رہے کہ جمعرات کی رات سابق وزیراعظم عمران کی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کے معاملے پر اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

    اسلام آباد پولیس نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال جانے والے متعدد راستے ٹریفک کے لیے بند کر دیے جبکہ ہسپتال کے اطراف اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔

  3. بلوچستان میں نامعلوم افراد نے ایک پولیس سٹیشن کو تباہ اور تحصیل آفس کو نذر آتش کر دیا: حکام, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    پولیس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بلوچستان کے دو اضلاع پشین اور کچھی میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے ایک پولیس تھانے کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنے کے علاوہ ایک تحصیل آفس کو نذر آتش کر دیا ہے۔

    پولیس تھانے کو تباہ کرنے کا واقعہ ضلع پشین کے علاقے سرانان میں پیش آیا۔

    پشین میں پولیس کے ایک اہلکار انور خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد جمعرات کو سرانان بازار آئے اور انھوں نے تھانے کے عملے پر قابو پالیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بعد میں تھانے کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا گیا لیکن اس میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    سرانان میں پیش آنے والے اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

    سرانان میں پیش آنے والا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ

    سرانان انتظامی لحاظ سے کوئٹہ سے متصل ضلع پشین کا حصہ ہے اور یہ کوئٹہ شہر سے شمال میں اندازاً 57 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    سرانان اور ضلع پشین کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔ اس علاقے میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، جس کی ذمہ داری کالعدم بی ایل اے نے قبول کی ہے۔

    قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے سرانان میں پیش آنے والے اس واقعے سمیت زیارت، سنجاوی اور ہرنانی میں رونما ہونے والے بدامنی کے بعض واقعات کی مذمت کی ہے۔

    بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حساس علاقوں میں سکیورٹی کے موثر انتظامات کیے جائیں تاکہ شہری بلاخوف اپنے معمولات زندگی کو جاری رکھ سکیں۔

    ضلع کچھی میں تحصیل آفس کو کہاں نذرآتش کیا گیا؟

    ضلع کچھی میں تحصیل آفس کو کھٹن کے علاقے میں نذرآتش کیا گیا۔

    کچھی پولیس کے ایک اہلکار زاہد حسین کے مطابق اس علاقے میں مسلح افراد آئے اور انھوں نے تحصیل آفس کو نذرآتش کیا۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ آگ کی وجہ سے تحصیل آفس اور اس میں موجود سرکاری ریکارڈ کو نقصان پہنچا۔

    انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ضلع کچھی میں پہلے بھی اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

  4. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے۔

    جمعے کے روز خبروں کا سلسلہ آگے بڑھانے سے پہلے ایک نظر گزشتہ روز کی اہم خبروں کے خلاصے پر ڈال لیتے ہیں۔

    • شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مکہ معاہدے کے تحت ممکنہ تعاون یا شمولیت کے حوالے سے اپنے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
    • وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بامقصد بات چیت کے لیے تیار ہے تاکہ پاکستان کی معیشت اور جمہوریت کو ترقی دے سکیں۔
    • وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کرنے والے اپنے اعلان پر قائم ہے اور اگر ان کے علاج کے لیے ضرورت پڑی تو انھیں بیرونِ ملک بھی بھیجا جا سکتا ہے۔
    • ایران کے سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں پٹرول کی یومیہ کھپت تقریباً 135 ملین لیٹر تک پہنچ گئی ہے اور محدود پیداوار، درآمدی مشکلات اور ذخائر پر دباؤ کے باعث صورتحال ایک ’فوری اور نازک مسئلہ‘ بن چکی ہے۔
    • ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف اعلان کیے گئے نام نہاد ’اقتصادی ڈی ڈے‘ پر تنقید کی ہے۔ یاد رہے کہ
    • اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک ’غیر معمولی اور تباہ کن معاشی کارروائی‘ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
    • وسطی افریقی جمہوریہ (سی اے آر) کے مغربی علاقے زامبوئی میں، جو کیمرون کی سرحد کے قریب واقع ہے، سونے کی کان کے ایک علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایک مقامی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو یہ معلومات فراہم کیں۔
    • ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اب تک ایران کو کوئی رقم یا اثاثے جاری نہیں کیے گئے ہیں۔
  5. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    اس صفحے پر آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر سے تازہ خبریں اور اہم تجزیے شامل کیے جاتے ہیں۔

    اگر آپ 20 اگست کی خبریں پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کر سکتے ہیں۔