جلالپور پیروالا میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، شہریوں کے انخلا کی کوششیں تیز

پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملتان کے علاقے جلالپور پیروالا میں انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال ہے جہاں شہریوں کے انخلا کے لیے ہیلی کاپٹر سمیت تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ادھر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ نو ستمبر کو گڈو بیراج پر سیلابی پانی اپنے عروج پر ہو گا جس کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

خلاصہ

  • پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے دریائے ستلج، چناب اور رودکوہیوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
  • وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 'ہم آٹھ لاکھ کیوسک کے ریلے کے حساب سے تیاری کررہے ہیں، سیلاب متاثرین کی امداد ہر صورت یقینی بنائی جا رہی ہے۔'
  • اب تک اس سیلاب سے 41 لاکھ 51 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ سیلابی صورتحال کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 56 ہے
  • ادھر یوکرین کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ جنگ کے دوران روسی حملوں میں پہلی بار یوکرینی حکومت کی مرکزی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے

لائیو کوریج

  1. جلالپور پیروالہ میں پریشانی کے عالم میں لوگ سامان لے کر نکل رہے ہیں، حکومت ریسکیو آپریشن تیز کرے: مقامی شہری کی اپیل

    سیلاب

    جلالپور پیروالہ میں اس وقت سیلابی ریلے کے خطرے کے پیش نظر شہریوں نے انخلا کا عمل شروع کیا ہوا ہے۔

    جلالپور پیروالہ سے ایک شہری محمد عباس ایڈوکیٹ نے بی بی سی کو بھیجے گئے ویڈیو پیغام میں شہر کی صورت حال سے آگاہ کیا ہے۔

    انھوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’ہم اس وقت جلالپور پیر والہ کے فوارہ چوک کے بازارکے میڈیکل سٹور آئے ہوئے ہیں اور دوائیں لے رہے ہیں۔ بہت سے لوگ اس وقت راشن وغیرہ لے رہے ہیں تاکہ سیلاب کی صورتحال میں اپنا اپنا انتظام کر سکیں۔‘

    یاد رہے کہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملتان کے علاقے جلالپور پیروالا میں انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔

    محمد عباس کے مطابق ’اس وقت اتنا رش ہے لوگ سامان لے کر جا رہے ہیں کوئی کہاں جا رہا ہے کوئی کہیں نکل رہا ہے۔ ہر طرف پریشانی کا عالم ہے۔ ‘

    سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہScreenGrab

    ،تصویر کا کیپشنجلال پور پیروالہ میں پل خالی کرنے کے اعلانات بھی کیے جا رہے ہیں

    ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے بھی اعلانات ہو رہے ہیں کہ تمام شہری محفوظ مقام پر پہنچیں کیونکہ پورے شہر کو سیلاب سے خطرہ ہے۔

    انھوں نے حکومت سے اپییل کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت سے بھی درخواست ہے کہ وہ جلال پور پیروالہ میں امدادی کام تیز کرے اور فوج بھی بھیجے تاکہ زیادہ سے زیادہ ریسکیو آپریشن کیا جا سکے اور خطرے سے نمٹا جا سکے۔‘

  2. جلال پور پیر والہ میں سیلابی صورتحال، ریسکیو کشتیوں کی مزید کھیپ روانہ: ترجمان ریسکیو پنجاب

    سیلاب

    پنجاب میں غیر معمولی سیلابی صورتحال برقرار ہے اور ملتان کے علاقے جلال پور پیروالا میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کے پیش نظر ریسکیو کشتیوں کی مزید کھیپ روانہ کر دی گئی ہے۔

    ترجمان ریسکیو پنجاب کے بیان کے مطابق 38 مزید امدادی کشتیاں جلال پور کی طرف روانہ کردی گئی ہیں۔

    دوسری جانب ترجمان ریسکیو ملتان کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ کمشنر ملتان کی ہدایت پر رسک کے باوجود لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے فلڈ ریسکیو آپریشن جاری رہے گا۔

    بیان کے مطابق اس وقت جلال پور میں 25 ریسکیو بوٹس آپریشنل ہیں جبکہ 29 ریسکیو بوٹس ملتان شہر میں، 10 شجاع آباد میں آپریشنل ہیں۔

    مظفرگڑھ کے علاقے علی پور جتوئی کی عوام سے ادارے نے اپنے پیغام میں اپیل کی ہے کہ سیلابی پانی کے پیش نظر فوری انخلا کیا جائے۔

  3. جلالپور پیروالا میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، ریسکیو آپریشن کے لیے ہیلی کاپٹر فراہم: پی ڈی ایم اے

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملتان کے علاقے جلالپور پیروالا میں انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال ہے جہاں شہریوں کے انخلا کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

    ایک بیان کے مطابق ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کمشنر و ڈی سی ملتان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ ’فضائی ریسکیو کے لیے ضلعی انتظامیہ کو ہیلی کاپٹرز فراہم کر دیے ہیں۔ فوج، ضلعی انتظامیہ، سول ڈیفنس ریسکیو اور پنجاب پولیس سمیت تمام محکمے الرٹ ہیں۔

    پی ڈی ایم اے نے ہدایت دی ہے کہ ’شہریوں کے محفوظ انخلا کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ مساجد میں اعلانات کے ذریعے شہریوں کو صورتحال کے بارے میں آگاہ کریں۔‘

    گذشتہ روز جلالپور پیروالا میں ریسکیو آپریشن کے دوران کشتی الٹنے سے پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس واقعے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بروقت اور موثر کارروائیوں کی ہدایت دی تھی۔

    دریں اثنا سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز گردش کرتی دیکھی جا سکتی ہیں جن میں جلالپور پیروالا کی مساجد سے یہ اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ ’کسی بھی وقت شہر میں پانی داخل ہو سکتا ہے۔‘ ان اعلانات میں شہریوں کو محفوظ مقامات کا رُخ کرنے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق آج ملتان اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش ہوئی ہے۔ دریائے چناب کے راستے میں واقع کچھ بند توڑے گئے ہیں اور وہاں درجنوں موضع جات متاثر ہو رہے ہیں۔

  4. ستلج، چناب اور رودکوہیوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری

    سیلاب

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے دریائے ستلج، چناب اور رودکوہیوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    پی ڈی ایم نے اپنے اعلامیے میں بتایا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹے پنجند کے مقام پر انتہائی خطرناک اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار رہے گی جبکہ دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال بھی برقرار رہے گی۔

    پی ڈی ایم اے نے آٹھ سے 10 ستمبر کے دوران ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے رودکوہیوں میں فلیش فلڈنگ کے خطرے سے بھی آگاہ کیا ہے۔

    یاد رہے کہ پنجاب میں سیلابی صورتحال سے متعلق ایمرجنسی کی صورت میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    سات سے نو ستمبر تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی

    سیلاب

    دوسری جانب پنجاب میں مون سون بارشوں کے 10 ویں سپیل کے بارے میں بھی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق سات سے نو ستمبر تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق اس دوران راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، گوجرانولہ، لاہور، گجرات اور سیالکوٹ میں بارشیں متوقع ہیں۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سات سے نو ستمبر تک نارووال، حافظ آباد، منڈی بہاوالدین، اوکاڑہ، ساہیوال، قصور، جھنگ، سرگودھا، میانوالی، ڈیرہ غازی خان، ملتان اور راجن پور میں بھی بارشوں کا امکان ہے۔

    آٹھ سے نو ستمبر کے دوران ڈیرہ غازی خان رودکوہیوں میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق بڑے شہروں میں مون سون بارشوں کے باعث ندی نالے بپھر سکتے ہیں۔ شہریوں سے التماس ہے کہ خراب موسم کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کر یں، آندھی و طوفان کی صورتحال میں محفوظ مقامات پر رہیں غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

  5. آٹھ لاکھ کیوسک سیلابی ریلے کی تیاری ہے، گڈو بیراج پر نو ستمبر کو پانی بلند ترین سطح پر ہو گا: مراد علی شاہ

    مراد علی شاہ

    ،تصویر کا ذریعہscreen grab

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سیلاب کی تیاروں کے حوالے سے پریس بریفنگ میں بتایا ہے کہ نو ستمبر کو گڈو بیراج پر سیلابی پانی اپنے عروج پر ہو گا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہم آٹھ لاکھ کیوسک کے ریلے کے حساب سے تیاری کررہے ہیں، سیلاب متاثرین کی امداد ہر صورت یقینی بنائی جا رہی ہے۔‘

    فلڈ ایمرجنسی سینٹر میں میڈیا کے نمائندوں کو مفصل بریفنگ میں بتایا کہ ’پنجند میں تقریباً چھ لاکھ کیوسک کا ریلا ہے جس کا ایک روز میں سات لاکھ کیوسک تک جانے کا امکان ہے، حکومت سندھ نے آٹھ لاکھ کیوسک کے ریلے کی تیاری کر رکھی ہے۔‘

    ان کے مطابق ’اس وقت ہمارا سب سے بڑا کنسرن ہے کہ گڈو بیراج پر جو پانی آئے اس کو صحیح سلامت سمندر تک پہنچانا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’متاثرہ اضلاع سے لوگ پہلے ہی نقل مکانی کرچکے تاہم ہماری کوشش ہے کہ سیلاب متاثرین کی امداد ہر صورت یقینی بنائیں۔ متاثرہ اضلاع میں کیمپس، ادویات اورخوراک پہنچائی جارہی ہے۔‘

    مراد علی شاہ کے مطابق ’سکھر میں ویئر ہاؤس میں امدادی سامان پہنچا دیا گیا ہے، ریلیف کیمپ کی جیو ٹیگنگ کی ہوئی ہے، لائیو اسٹاک کے لیے ویکسینیشن کی سہولت بھی موجود ہے۔‘

    سیلاب
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو: 2010 کے سیلاب میں سندھ میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے تھے

    مراد علی شاہ نے کہا کہ ’لوگ خود سے بھی نقل مکانی کر چکے ہیں، اپنے گھروں کو چھوڑنا کسی کو اچھا نہیں لگتا، لوگ پچھلے سیلاب کو مدِنظر رکھتے ہوئے گھروں کو اونچا تعمیر کرتے ہیں، کچے کے لوگ جانتے ہیں کہ سیلاب کتنے روز تک رہے گا، زیادہ تر لوگ ریلیف کیمپ کے بجائے رشتے داروں کے گھر منتقل ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔‘

    مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، بارشوں کے لیے بھی تیاریاں مکمل ہیں۔‘

    ’کراچی میں اس سال توقع سے زیادہ بارشیں ہورہی ہیں، تمام محکمے اور وزرا اور ممبران صوبائی اسمبلی سیلاب کے حوالے سے ایکٹیو ہیں۔ رائٹ اور لیفٹ بینک پر ان کی ڈیوٹیاں لگی ہوئی ہیں۔‘

    ان کے مطابق ’اس وقت چاہتے ہیں کہ ہم سب متحد ہوں۔ خیبرپختونخوا ، گلگت بلتستان اور پنجاب کے سیلاب پر افسردہ ہیں۔ ‘

  6. کہاں کہاں بارش کا امکان ہے؟

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے وفاقی ادارے این ڈی ایم اے نے اس حوالے سے کچھ تفصیلات شیئر کی ہیں۔ ایک بیان میں اس کا کہنا ہے کہ سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں شہری سیلاب اور کیرتھر و سیلمان رینجز میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    اس کے مطابق سات تا 10 ستمبر کے دوران جنوب مشرقی سندھ کے بعض مقامات پر انتہائی شدید بارشوں کا امکان ہے جس کے باعث نچلے ساحلی اضلاع میں شہری سیلاب کا خدشہ ہے۔

    اس کے بارشوں کی وجہ سے کیرتھر رینجز اور بلوچستان میں لسبیلہ اور خضدار کے ندی نالوں میں طغیانی متوقع ہے۔

    این ڈی ایم اے نے مزید بتایا ہے کہ بارشوں کی وجہ انڈیا کے گجرات-راجستھان سرحد پر ایک سسٹم موجود ہے جو اب مغرب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ’یہ سسٹم سندھ، ملحقہ بلوچستان اور جنوبی پنجاب کو متاثر کر سکتا ہے۔‘

    ادارے کا کہنا ہے کہ یہ بارشیں 10 ستمبر تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کوہ سلیمان اور جنوبی پنجاب میں چند مقامات پر شدید سے انتہائی شدید بارشوں کا امکان ہے جو ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ بڑھا سکتا ہے۔

  7. پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی برقرار، نو ستمبر تک بارشوں کے باعث بہاؤ میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ

    پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی برقرار، بارشوں کے باعث بہاؤ میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پی ڈی ایم اے کا مزید کہنا ہے کہ پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال برقرار ہے۔ ادھر ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے 9 ستمبر تک پنجاب کے دریاؤں راوی، ستلج اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    ریلیف کمشنر کا کہنا ہے کہ ’بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریاؤں کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ ہے۔ وزیر اعلٰی پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر تمام متعلقہ محکمے الرٹ ہیں۔

    ’شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔‘

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق دریائے ستلج میں:

    • گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 11 ہزار کیوسک ہے
    • سلیمانکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے
    • مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 84 ہزار کیوسک ہے
    • خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 42 ہزار کیوسک ہے
    • قادر آباد کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 41 ہزار کیوسک ہے
    • ہیڈ تریموں کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 43 ہزار کیوسک ہے

    دوسری طرف دریائے راوی میں:

    • جسڑ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 56 ہزار کیوسک ہے
    • شاہدرہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 93 ہزار کیوسک ہے
    • بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 48 ہزار کی کیوسک ہے
    • ہیڈ سدھنائی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 91 ہزار کیوسک ہے
  8. پی ڈی ایم اے نے دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا

    سیلاب

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کے متعلق الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے پاکستان کو دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال کے متعلق اطلاعات فراہم کی گئی ہیں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق، انڈین ہائی کمیشن کی جانب سے پاکستان کو بتایا گیا ہے کہ دریائے ستلج میں ہریکے ڈاؤن سٹریم اور فیروزپور ڈاؤن سٹریم میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے کا مزید کہنا ہے کہ سول انتظامیہ، فوج اور دیگر متعلقہ محکمے الرٹ پر ہیں۔

  9. روسی حملوں میں پہلی بار یوکرینی کابینہ کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے: وزیرِ اعظم

    یوکرین

    ،تصویر کا ذریعہTelegram/svyrydenkoy

    یوکرین کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ جنگ کے دوران روسی حملوں میں پہلی بار یوکرین کی حکومت کی مرکزی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یولیا سویریڈینکو کا کہنا ہے کہ دشمن کے حملوں کے باعث کابینہ کی عمارت کی چھت اور بالائی منزلوں کو وجہ نقصان پہنچا ہے اور فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔

    دوسری جانب، حکام کا کہنا ہے کہ کئیو میں ایک نو منزلہ رہائشی عمارت پر حملے کے بتیجے میں ایک بچہ اور ایک نوجوان خاتون ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ امدادی کارکن تیسرے شخص کی تلاش کر رہے ہیں۔

    حکام نے بتایا کہ یوکرین میں ایک اور جگہ نووپاولیوکا گاؤں میں ایک خاتون کو قتل کر دیا گیا۔

    یوکرین کی فضائیہ کا کہنا ہے کہ روس کی طرف سے تازہ ترین حملے میں 800 سے زائد ڈرون اور میزائل داغے گئے جو کہ ایک ریکارڈ تعداد ہے۔

  10. پنجاب میں سیلاب سے اب تک 41 لاکھ 51 ہزار سے زائد افراد متاثر، 56 ہلاک: پی ڈی ایم اے

    سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں سیلاب سے اب تک 41 لاکھ 51 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ سیلابی صورتحال کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 56 ہو گئی ہے۔

    لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ 24 گھنٹے سے گجرات میں ناگہانی صورتحال کا سامنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ تمام اداروں کی مشینری اس وقت گجرات میں پانی کی نکاسی کے لیے کام کر رہی ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق، گجرات میں ریلوے روڈ، شاہ جہانگیر اور دیگر روڈ پوری طرح کلیئر ہونے کے بعد ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے ہیں جبکہ جناح چوک، کچہری روڈ پر ابھی پانی موجود ہے جسے اگلے 22 گھنٹے میں مکمل کلیئر کر دیا جائے گا۔

    عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ راوی، ستلج اور چناب میں صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ ستلج میں اب پانی کا بہاؤ بڑھنے کا ٹرینڈ نہیں ہے اور گنڈا سنگھ پر صورتحال برقرار ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دوسرا سیلابی ریلا ہیڈ مرالہ سے ہوتا ہوا اب تریموں پر اپنی انتہا پر پہنچ چکا ہے جہاں سے اس وقت 5 لاکھ 83 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگلے بارہ سے 18 گھنٹوں میں یہ ریلا 6 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر جائے گا۔

    ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ ملتان میں کم از کم اگلے 72 گھنٹے یہی صورتحال برقرار رہے گی۔

    انھوں نے خبردار کیا ہے کہ پیچھے سے انیولا پانی مسائل پیدا کرے گا۔ عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کا لیول مسلسل بڑھ رہا ہے جو 6 لاکھ کیوسک کو کراس کر جائے گا۔

    ہی ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق، پنجاب میں اس وقت تک 41 لاکھ 51 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 20 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ اب تک صوبے بھر میں سیلابی صورتحال کے باعث 56 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  11. راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب کی کیا صورتحال ہے؟

    پاکستان کے مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جبکہ کچھ مقامات پر بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔

    چناب: تریموں اور پنجند میں بہت اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق، تریموں کے مقام پر اس وقت پانی کا بہاؤ پانچ لاکھ 43 ہزار کیوسک جبکہ پنجند پر چار لاکھ 89 ہزار کیوسک ہے۔

    راوی: بلوکی کے مقام پر ایک لاکھ 52 ہزار کیوسک پانی کے ساتھ بہت اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ شاہدرہ اور سدھنائی میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    ستلج: گنڈا سنگھ والا میں انتہائی اونچے درجے جبکہ ہیڈ سلیمانکی پر 138,305 کیوسک پانی کے ساتھ اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہFFD

  12. سملی ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی، سپل وے کھولنے کا فیصلہ

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے وفاقی ادارے این ڈی ایم کا کہنا ہے کہ دریائے سواں پر موجود سملی ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے جس کے بعد ڈیم کے مین سپل وے کا ایک دروازہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ڈیم میں پانی کی سطح 2315.20 فٹ پر پہنچ گئی ہے۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ ڈیم کے مین سپل وے کا ایک گیٹ دو فٹ تک کھولا جائے گا جس سے پانی کے اخراج کی شرح تقریباً 1700 کیوسک ہوگی۔

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ نزدیکی آبادیوں کو خبردار کرنے کے لیے سائرن بجائے جائیں گے اور دیگر ​​طریقہ کار بھی اپنائے جائیں گے۔

  13. آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی

    بارش سیلاب پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے آئندہ 24 گھنٹوں میں صوبے کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ مون سون بارشوں کا 10واں اسپیل نو ستمبر تک جاری رہے گا۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، گوجرانولہ، لاہور، گجرات اور سیالکوٹ میں بارشیں متوقع ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیرہ غازی خان، ملتان اور راجن پور میں بھی بارشوں کا امکان ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ نو ستمبر تک ڈیرہ غازی خان کے علاقے رود کوہیوں میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ دریائے چناب، راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ بڑے شہروں میں مون سون بارشوں کے باعث ندی نالے بپھر سکتے ہیں اور اس حوالے سے کمشنر ز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر افسران الرٹ پر ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق، گذشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئی۔

    تھر پارکر میں 80 ملی میٹر بارش ریکارڈ

    پاکستان کے محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش صوبہ سندھ کے ریگستانی علاقے تھر پارکر میں ریکارڈ کی گئی۔

    تھرپارکر کے علاقے نگرپارکر میں 80 ملی میٹر بارش ہوئی ہے جبکہ کلوئی اور ڈیپلو میں بالترتیب 30 اور 29 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران، صوبہ پنجاب میں منگلا کے مقام پر سب سے زیادہ 72 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ اس کے علاوہ جہلم میں بھی 40 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔

  14. جلال پور پیر والا میں ریسکیو کشتی حادثے کا شکار، چار بچوں سمیت پانچ افراد ہلاک

    کشتی الٹنے سے ایک بزرگ خاتون اور چار کم عمر بچے ہلاک

    ،تصویر کا ذریعہPDMA

    ملتان کی تحصیل جلال پور پیروالا میں دریائے چناب میں آنے والے سیلابی ریلے سے متاثرین کے انخلا کے دوران کشتی الٹنے سے ایک بزرگ خاتون اور چار کم عمر بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے اعلامیے کے مطابق جلال پور پیروالا کے نواحی علاقے وچھہ سندیلہ میں پیش آیا جہاں سے بذریعہ کشتی سیلاب متاثرین کے انخلا کا کام جاری تھا۔

    اس دوران پانی کے تیز بہاؤ کے باعث کشتی کا توازن بگڑ گیا اور 20 سے زائد افراد ڈوب گئے۔

    اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ریسکیو ٹیموں نے فوری رد عمل کے طور پر شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا تاہم اس دوران کشتی میں سوار ایک خاتون اور چار بچے دریا میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ریسکیو اور مقامی افراد نے خاتون اور تین بچوں کی لاشیں دریا سے نکال لیں۔ حادثے میں 80 سالہ بخت بی بی، سات سالہ عامر، چھ سالہ فاطمہ، تین سالہ ماہ نور اور تین ماہ کے ریحان جان کی بازی ہار گئے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق ریحان کی ڈیڈ باڈی نہیں مل سکی جس کی تلاش کا کام جاری ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق کشتی گہرے پانی میں پہنچ کر توازن برقرار نہ رکھ سکی اور حادثے کا شکار ہوئی۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کی اطلاع ملنے پرڈی جی پی ڈی ایم اے نے ڈی سی ملتان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے ڈی جی نے سیلابی صورتحال میں متاثرین کے انخلا کو محفوظ بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ انخلا کے دوران پرائیویٹ بوٹس یا ریسکیو بوٹس میں ہرگز اورلوڈنگ نہ کی جائے۔

    سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر نے جلال پور ملتان میں کشتی ڈوبنے کے واقعہ میں اموات پہ اظہار افسوس کیا ہے۔

    ترجمان ریسکیو 1122 پنجاب کے مطابق صرف ملتان سے اب تک نو ہزار سے زائد لوگوں کو فلڈ آپریشن میں ریسکیو یا جا چکا ہے جبکہ ساڑھے 3 لاکھ سے زائد افراد اور 3 لاکھ سے زائد جانوروں کا پیشگی انخلا کروایا جا چکا ہے۔

  15. ستلج، چناب، پنجند اور رودکوہیوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری

    سیلاب

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے دریائے ستلج، چناب اور رودکوہیوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    ادارے کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔

    یاد رہے کہ پنجند پنجاب اور سندھ کی سرحد پر واقع ہے اور اس مقام پر پنجاب سے گزرنے والے پانچ دریا یعنی دریائے جہلم، دریائے چناب، دریائے راوی، بیاس اور دریائے ستلج ملتے ہیں۔ جس کے بعد یہ تمام دریا پھر کوٹ مٹھن کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کی جانب سے سنیچر کو جاری بیان میں بتایا گیا کہ دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار رہے گی۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے سات سے نو ستمبر کے دوران ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے رودکوہیوں میں فلیش فلڈنگ کے خطرے سے آگاہ کیا ہے۔

    ادارے کے مطابق ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے لوکل گورنمنٹ، محکمہ زراعت، محکمہ آبپاشی، محکمہ صحت، محکمہ جنگلات، لائیو سٹاک اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

  16. پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال برقرار: پی ڈی ایم اے

    پنجاب میں سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجاب میں غیر معمولی سیلابی صورتحال کے حوالے سے قدرتی آفات کے نمٹنے کے ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ اس وقت بھی دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال برقرار ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے اعلامیے بتایا ہے کہ تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ چار لاکھ 49 ہزار کیوسک ہے چنیوٹ پل میں 2 لاکھ 73 ہزار کیوسک جبکہ قادر آباد ہیڈ ورکس میں بہاو ایک لاکھ 46 ہزار کیوسک ہے۔

    یاد رہے کہ ملتان کے ڈپٹی کمشنر نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ ہیڈ تریموں سے چار لاکھ 14 ہزار سے زائد کیوسک کا نیا ریلا دو روز میں ملتان کے بندوں سے ٹکرائے گا۔ دریائی علاقوں کے مکین دوبارہ گھروں کو جانے سے گریز کریں۔

    پی ڈی ایم اے کے اعلامیے کےمطابق دریائے چناب مرالہ ہیڈ ورکس میں پانی کا بہاو 80 ہزار کیوسک ہے جبکہ پنجاب خانکی ہیڈ ورکس ایک لاکھ 37 ہزار کیوسک ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں پنجند ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ تین لاکھ 84 ہزار کیوسک ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور دریاؤں کے اطراف سیرو تفریح کے لیے جانے سے منع کیا ہے جبکہ دریاؤں میں ماہی گیری اور دیگر سرگرمیوں سے گریز کرنے کی ہدایات بھی کی ہیں۔

  17. ہیڈ تریموں سے نکلنے والا نیا سیلابی ریلا، ملتان کی ضلعی انتظامیہ دوبارہ ریڈ الرٹ پر

    پنجاب میں سیلاب

    پنجاب کے متعدد اضلاع میں سیلابی صورتحال بدستور برقرار ہے اور تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ملتان کی ضلعی انتظامیہ ہیڈ تریموں سے نکلنے والے نئے سیلابی ریلے کی آمد کے باعث دوبارہ ریڈ الرٹ پر موجود ہے۔

    ملتان کے ڈپٹی کمشنر وسیم حامد سندھو نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ ہیڈ تریموں سے چار لاکھ 14 ہزار سے زائد کیوسک کا نیا ریلا دو روز میں ملتان کے بندوں سے ٹکرائے گا۔ دریائی علاقوں کے مکین دوبارہ گھروں کو جانے سے گریز کریں۔

    سیلاب

    ڈپٹی کمشنر ملتان کے بیان میں موجودہ سیلابی ریلے کی ملتان کی دریائی حدود سے نکلنے کی سست رفتاری پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

    ڈی سی ملتان وسیم حامد سندھو کے مطابق موجودہ ریلے نے شجاع آباد اور جلال پور پیروالہ کے متعدد علاقوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

    سیلاب

    ڈپٹی کمشنر ملتان کے بیان کے مطابق ’36 گھٹنے کے دوران ڈسچارج کی سست رفتار کے باعث ریلے کی سطح میں متوقع کمی نہیں ہوئی۔ کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو فلڈ ریلیف کیمپس میں منتقل کریں۔‘

    سیلاب
    ،تصویر کا کیپشنملتان میں سیلاب متاثرین کے لیے بنائے گئے ریلیف کیمپ

    وسیم حامد سندھو کا کہنا ہے کہ نئے سیلابی ریلے کی شدت میں زیادہ اضافہ ہوا تو شگاف ڈالنے پر دوبارہ غور کریں گے۔

  18. جنوبی پنجاب کے بیتشر اضلاع میں 24 سے 48 گھنٹوں میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارشوں کا خدشہ: این ڈی ایم اے

    بارش کا انتباہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمر جنسیز آپریشن سینٹر نے جنوبی پنجاب کے متعدد علاقوں میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارشوں کی پیش گوئی کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    ادارے کے مطابق آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران پنجاب کے شہر بہاولپور، بہاولنگر، احمدپور، لیاقت پور، ظاہر پیر، راجن پور، خان پور، مظفرگڑھ، ڈی جی خان، رحیم یار خان اور صادق آباد میں شدید بارش متوقع ہے۔

    الرٹ کے مطابق اس دوران بارشوں کے ساتھ ساتھ طوفانی ہوائیں وقفے وقفے سے چلیں گی اور شدید بارش سے پہاڑی ندی نالے بپھرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔

    ادارے نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اس دوران شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال جبکہ نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے جبکہ تیز ہوائیں اور طوفان کمزور درخت گرانے اور بجلی کا نظام متاثر کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ بارش اور گردوغبار سے حد نگاہ متاثر ہونے پر ٹریفک حادثات کا خدشہ ہے لہذا عوام بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں، درختوں اور کمزور ڈھانچوں سے دور رہیں اور گاڑیوں کو محفوظ مقامات پر کھڑا کریں۔

  19. 48 گھنٹوں کے دوران چار لاکھ 14 ہزار کیوسک سے زائد پانی ملتان کے حفاظتی بند سے ٹکرانے کا امکان : ڈی سی ملتان

    سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    پنجاب میں سیلابی ریلے اور دریا میں پانی کے بہاؤ سے متعلق ڈپٹی کمشنر ملتان نے سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کو آگاہ کیا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں تریموں کے مقام سے گزرنے والا سیلابی ریلا ملتان کے حفاظتی بندوں سے ٹکراسکتا ہے۔

    اے پی پی کے مطابق ڈی سی ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران چار لاکھ 14 ہزار کیوسک سے زائد پانی کی لہر ملتان کے حفاظتی بندوں سے ٹکرانے کا امکان ہے۔

    ڈی سی ملتان کے مطابق شجاع آباد اور جلال پور پیروالا کے کئی علاقوں میں سیلابی لہر نے پہلے ہی نقصان پہنچایا ہے۔

    ان کے مطابق اگرچہ پانی کی سطح میں عارضی کمی آئی ہے لیکن تریموں سے پانی کی مزید آمد نے ملتان کے حفاظتی بندوں کے لیے خطرات پیدا کردیے ہیں۔

    اس سے قبل اے پی پی نے محکمہ آبپاشی کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی بتایا ہے کہ ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج تین لاکھ چھ ہزار 740 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہےجبکہ ہیڈ پنجند کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

    دوسری جانب پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب کے ضلع بہاولپور کی چار تحصیلوں میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 60 ہزار سے زائد افراد اور 40 ہزار کے قریب مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

  20. خانپور ڈیم کے سپل ویز شام 5 بجے کھولے جائیں گے، ہرو دریا میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع: این ڈی ایم اے

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی یم اے نے خبردار کیا ہے کہ دریائے ہرو پر واقع خانپور ڈیم میں پانی کا لیول اوپر آنے سے سنیچر کی شام سپل ویز کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس لیے اردگرد آبادیوں میں رہنے والے محتاط رہیں۔

    این ڈی ایم اے کے اعلامیے کے مطابق ہرو دریا پر واقع خانپور ڈیم کا لیول 1981.55 فٹ تک پہنچ گیا ہے جبکہ ڈیم میں پانی کے ذخیرے کی گنجائش 1982 فٹ ہے۔

    این ڈی ایم اے

    ،تصویر کا ذریعہ@NDMA

    این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ ’آج شام 05:00 بجے خانپور ڈیم کے سپل وے آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سپل ویز کھلنے کے باعث ہرو دریا میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔ ہرو دریا کے نزدیک آبادیوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات کی جاتی ہے۔