کراچی میں رہائشی عمارت گرنے سے مرنے والوں کی تعداد 23 ہو گئی، امدادی سرگرمیاں تاحال جاری

کراچی میں ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے کہ لیاری میں گرنے والی عمارت سے ریسکیو آپریشن 80 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق لگتا ہے کہ لوگ عمارت سے نکلنے کے لیے بھاگے، اس لیے قوی امکان ہے کہ وہ داخلی راستے میں ہی پھنس گئے ہوں، اس لیے وہاں سے ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔

خلاصہ

  • کراچی کے علاقے لیاری میں پانچ منزلہ عمارت گِرنے سے اب تک 23 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے
  • حکومت سندھ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ 50 سال پرانی عمارت گنجان آباد علاقے بغدادی میں واقع تھی جس میں 13 خاندان رہتے تھے۔
  • امریکی ریاست ٹیکساس میں سیلاب سے کم از کم 24 افراد کی ہلاکت کے بعد سرچ آپریشن جاری ہے جہاں ایک سمر کیمپ میں موجود 20 سے زائد لڑکیاں اب بھی لاپتہ ہیں۔
  • امریکہ کی نیشنل ویدر سروس کا کہنا ہے کہ مغربی وسطی ٹیکساس کے کچھ حصوں میں مزید سیلاب کا امکان ہے۔
  • پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے میں افغانستان کی سرحد سے پاکستان میں دراندازی کرنے کی کوشش کرنے والے 30 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اب ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    6 جولائی کی تازہ حبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. کراچی: رہائشی عمارت گرنے سے اموات کی تعداد 23 ہو گئی

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کراچی کے علاقے لیاری میں جمعے کے روز گرنے والی رہائشی عمارت سے متعلق ریسکیو 1122 سندھ کے ترجمان حسن خان کا کہنا ہے کہ اموات کی تعداد 23 ہو گئی ہے۔

    تاہم اس سے قبل ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جائے حادثہ پر 80 فیصد آپریشن مکمل ہو چکا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لگتا ہے کہ لوگ عمارت سے نکلنے کے لیے بھاگے، اس لیے قوی امکان ہے کہ وہ داخلی راستے میں ہی پھنس گئے ہوں، اس لیے وہاں سے ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔‘

    اس سے قبل فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جائے وقوعہ پر امدادی سرگرمیاں اب بھی جاری ہیں۔

  3. ’ریسکیو آپریشن 70 فیصد مکمل، داخلی راستے سے ملبہ ہٹا رہے ہیں‘

    کراچی

    کراچی میں ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے کہ لیاری میں گرنے والی عمارت سے ریسکیو آپریشن 70 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اس وقت ہیوی مشینری استعمال نہیں کی جا رہی بلکہ آلات استعمال ہو رہے ہیں۔

    ان کے مطابق ان کے پاس تھرمل کیمرے ہیں جن کی مدد سے لوگوں کی تلاش جاری ہے۔

    ڈی سی جاوید نبی کے مطابق لگتا ہے کہ لوگ عمارت سے نکلنے کے لیے بھاگے، اس لیے قوی امکان ہے کہ وہ داخلی راستے میں ہی پھنس گئے، اس لیے وہاں سے ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔

  4. کراچی میں رہائشی عمارت گرنے سے مرنے والوں کی تعداد 16 ہو گئی: ’کل سے بس لاشیں نکل رہی ہیں‘

    جمعو خاصخیلی

    کراچی کے علاقے لیاری میں گرنے والی عمارت کے ملبے پر جمعو خاصخیلی کل سے نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔

    اس وقت تک ان کے پانچ رشتے داروں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ ان کا ایک بیٹا ابھی تک لاپتہ ہے۔

    واضح رہے کہ جمعے کے روز کراچی کے علاقے لیاری میں عمارت گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کو 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    جمعو خاصخیلی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ فرسٹ فلور پر سنہ 1978 سے کرائے پر رہتے ہیں اور ان کا فلیٹ دو کمروں پر مشتمل تھا جس میں ان کے دو بیٹے، ان کی بیویاں، ان کی اپنی بیوی اور ایک پوتا رہتا تھا۔

    ان کے مطابق کل صبح وہ محنت مزدوری پر چلے گئے لیکن جب عمارت گرنے کا معلوم ہوا تو دوڑتے ہوئے یہاں پہنچے اور ان کا خاندان نیچے دبا ہوا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ کل سے بس لاشیں نکل رہی ہیں اور ان کی دنیا اجڑ چکی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ لاشیں سرد خانے میں موجود ہیں جب ان کے بیٹے کی لاش ملے گی تو وہ سب کی ساتھ تدفین کریں گے۔

    یاد رہے کہ کراچی کے میئر مرتضی وہاب اور صوبائی وزیر سعید غنی کہہ چکے ہیں کہ عمارت مخدوش تھی اور رہائشیوں کو اسے خالی کرنے کے نوٹس جاری کیے گئے تھے تاہم جمعو خاصخیلی کہتے ہیں کہ انھیں ایسا کوئی نوٹس نہیں ملا۔

    ’اگر ایسا کوئی نوٹس ہے تو پبلک کیا جائے۔‘

    جمعو خاصخیلی کے مطابق اس عمارت کا مالک اور اس کا بیٹا بھی اسی عمارت میں رہائش پذیر ہیں۔

  5. لاہور میں پالتو شیر کے حملے میں خاتون سمیت دو بچے زخمی، شیر وائلڈ لائف کی تحویل میں، مالک گرفتار

    شےیر

    ،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA

    لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ جوہر ٹاؤن لاہور میں بغیر لائسنس پالا گیا پالتو شیر شہریوں پر حملہ آور ہونے کا واقعے کے بعد شیر کو تحویل میں لے لیا گیا ہے جبکہ شیر کے مالکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے ایک بیان میں بتایا کہ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس نے تینوں ملزمان کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

    اس وقعے میں ایک خاتون اور دو بچے زخمی ہوئے تھے۔

    وائلڈ لائف حکام نے شیر کو قابو میں لے کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ وائلڈ لائف کے مطابق یہ شیر غیر لائسنس یافتہ تھا۔

    وائلڈ لائف کے مطابق بغیر لائسنس شیر کو پالنے پر سات سال قید اور 50 لاکھ تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

    ڈی آئی جی آپرشنز محمد فیصل کامران نے کہا کہ ’اگر کوئی شہری نایاب یا خطرناک جانور پالنا چاہتا ہے تو قوانین کے مطابق لائسنس اور مناسب انتظامات یقینی بنائے، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگرچہ ملزمان شیر کو کسی دوسرے علاقے میں منتقل کر چکے تھے تاہم انھیں وہاں سے حراست میں لے لیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’شیروں کی سوشل میڈیا پر نمائش اور انھیں طاقت کی علامت سمجھنا غلط ہے۔‘

    2013 سے لے کر 2018 تک مختلف انواع کے 85 شیر، چیتے، ببر شیر وغیرہ درآمد کیے گئے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ’کیا پاکستان میں شیر کو پالتو جانور بنایا جا سکتا ہے ؟

    پاکستان کے اکثر شہروں میں پالتو جانور رکھنے کے شوقین افراد نے شیر، چیتے اور تیندوؤں کو بطور پالتو جانور رکھا ہوا ہے اور وہ اکثر عوامی مقامات یا نجی گاڑیوں میں ان کی نمائش کرتے نظر آتے ہیں۔

    تاہم پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے محکمۂ جنگلی حیات کے پاس ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں جس کی بنیاد پر بتایا جا سکے کہ پاکستان میں ایسے کتنے جانوروں کو پالتو حیثیت سے رکھا گیا ہے۔

    بین الاقوامی ادارے کنزویشن آن انٹرنیشنل ٹریڈ ان انڈینجرڈ سپیشیز آف وائلڈ فانا اینڈ فلورا (ساآئیٹز) کے مطابق پاکستان میں 2013 سے لے کر 2018 تک مختلف انواع کے 85 شیر، چیتے، ببر شیر وغیرہ درآمد کیے گئے جبکہ ان کے علاوہ 15 جانور ٹرافی ہنٹنگ کی صورت میں پاکستان آئے ہیں۔

    اسلام آباد وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ کے ایک اہلکار نے ماضی میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہ پاکستان میں جنگلی حیات کے 1997 کے آرڈینینس کے تحت مقامی طور پر پائے جانے والے تیندوے یا کسی بھی جانور کو کسی صورت پالتو نہیں رکھا جا سکتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’جیسا تیندوا کل گھروں میں گھسا اس کو کسی بھی فارم میں بھی رکھنے کی اجازت نہیں۔ اور اس حوالے سے قوانین بڑے واضح ہیں۔ اگر اس کو پکڑا جائے گا، کہیں بھی جنگل، قدرتی نظام کے علاوہ رکھا جائے گا تو یہ غیر قانونی ہو گا۔‘

    وائلڈ لائف آرڈینینس کے تحت اس طرح کے جانوروں کو رکھنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکتی ہے جس میں وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ کے مجسٹریٹ انھیں قید اور بھاری جرمانے کی سزا بھی سنا سکتے ہیں۔

    جرم ثابت ہونے پر کم سے کم سزا بھی چھ ماہ سے ایک سال تک کی قید اور ہزاروں روپے کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ تیندوا پاکستان کا مقامی اور محفوظ قرار دیا گیا جانور ہے۔ پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ کے علاوہ باقی صوبوں میں بھی اس کو شیڈول تھری میں رکھا گیا ہے جس کی رو سے اس کا شکار کرنا، پالنا اور خرید و فروخت مکمل طور پر ممنوع ہے۔

    اسلام آباد وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ ملک میں مقامی جانوروں یا بڑی بلیوں کو پالتو رکھنے کے قواعد و ضوابط موجود ہیں جو ملک میں نایاب ہیں یا جو یہاں سے تعلق نہیں رکھتے جیسا کے شیر، بنگال ٹائیگر، چیتا وغیرہ۔

    ان کے مطابق کہ ان کی درآمد اور انھیں بطور پالتو جانور رکھنے کا لائسنس جاری کیا جاتا ہے اور ان کی مناسب دیکھ بھال اور جگہ کے قواعد بھی موجود ہیں۔ جن میں ان جانوروں کو رکھنے کی مناسب، قدرتی ماحول سے قریب تر کھلی جگہ، تحفظ اور خوراک کا مناسب بندوبست سمیت دوسرے انسانوں کے تحفظ اور دیگر باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔

    ’جنگلی حیات بشمول شیر اور چیتوں کو باہر سے منگوانے کے لیے سب سے پہلے وفاقی وزارت ماحولیات سے اجازت حاصل کرنا پڑتی ہے۔ ماہرین اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ کیا اجازت حاصل کرنے کے خواہمشند فرد کے پاس مطلوبہ سہولتیں موجود ہیں یا نہیں جس کے بعد یہ معاملہ وفاقی وزارت داخلہ کے پاس جاتا ہے۔‘

    البتہ پنجاب اور سندھ وائلڈ لائف کے ذرائع کے مطابق قوانین اس بارے میں خاموش ہیں کہ ان جانوروں کو پالتو کے طور پر کن اصول و ضوابط کے تحت رکھا جا سکتا ہے۔

  6. بریکنگ, رہائشی عمارت کے انہدام کے بعد لیاری میں ریسکیو آپریشن جاری، مرنے والوں کی تعداد 15 ہو گئی

    رہائشی عمارت کے انہدام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ بغدادی لیاری میں ریسکیو آپریشن اب بھی جاری ہے جہاں گزشتہ روز عمارت منہدم ہوگئی تھی۔ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ’اب تک مرنے والوں کی تعداد 15 ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’ایس ایم بی بی ٹراما سینٹر میں زیر علاج تین زخمیوں میں سے دو کی حالت مستحکم ہے اور امید ہے کہ انھیں فارغ کردیا جائے گا۔ جبکہ ایک کا ابھی بھی علاج جاری ہے۔‘

    اس سے پہلے انھوں نے بتایا تھا کہ ملبے سے 19 افراد کو زندہ نکالا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ زندہ بچ جانے والے عمارت کے بعض رہائشیوں کا کہنا تھا گرنے سے قبل عمارت نے زودر دار جھٹکا کھایا تھا اور اسی لیے وہ بر وقت باہر نکلنے میں کامیاب رہے۔

    عمارت کے منہدم ہونے کے حوالے سے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ ’کراچی میں ایسی بہت سی مخدوش عمارتیں ہیں جن کو رہائشیوں کو یہ عمارتیں خالی کرنے کے نوٹس بھی دیے گئے ہیں لیکن وہ پھر بھی جگہ نہیں چھوڑتے۔‘

    بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ لوگوں کی بھی مجبوریاں ہیں لیکن قانون پر عمل درآمد کروانا ضروری ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’کچھ بلڈرز ضوابط اور قوانین کی پاسداری نہیں کرتے، انھیں بلیک لسٹ کرنا پڑے گا۔‘

    صوبائی وزیر شہریوں کو بھی گھروں کی خریداری کرتے ہوئے احتیاط برتنے کی ہدایت کی۔

  7. پاکستان کے مختلف علاقوں میں یومِ عاشور پر گرج چمک، آندھی اور موسلادھار بارش کا امکان، سیاحوں کو سیلابی ریلوں سے محتاط رہنے کی تنبیہ

    فائل فوٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے محکمہِ موسمیات کے مطابق اتوار دس محرم الحرام کے موقعے پر ملک کے شمالی علاقوں بشمول کشمیر، اسلام آباد اور راولپنڈی گرچ چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے انتباہ جاری کیا ہے کہ موسلا دھار بارشیں سیلابی ریلوں کا باعث بن سکتی ہیں۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق یہ سلسلہ آٹھ جولائی تک جاری رہ سکتا ہے۔

    میٹ آفس کے مطابق ’آندھی اور جھکڑ چلنے اور گرج چمک کے باعث روزمرہ کے معمولات متاثر ہونے، کمزور انفرا سٹرکچر ( بجلی کے کھمبے،گاڑیوں سولر پینل وغیرہ) کو نقصان کا اندیشہ ہے۔‘

    انتباہ کے مطابق ’موسلا دھار اور شدید موسلادھار بارش کے باعث مری، گلیات، مانسہرہ، کوہستان،ایبٹ آباد، بونیر، چترال، دیر، سوات، شانگلہ، نوشہرہ، صوابی، مردان، اسلام آباد، راولپنڈی، ڈی جی خان، شمال مشرقی پنجاب ،کشمیر اور بلوچستان کے مقامی بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔‘

    انتباہ میں لوگوں کو خصوصاً سیاحوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    میٹ آفس نے خبردار کیا ہے کہ ’مسافر اور سیاح سفر کے دوران زیادہ محتاط رہیں اور موسمی حالات کے مطابق اپنے سفر کا انتظام کریں اور بارشوں کے دوران کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے موسم کے بارے میں آگاہی حاصل کریں۔‘

    محکمہِ موسمیات کے مطابق شدید بارشوں کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، سرگودھا، فیصل آباد، نوشہرہ اور پشاور کے نشیبی علا قے زیر آب آنے کا اندیشہ ہے۔

    محکمہ موسمیات نے تمام متعلقہ اداروں کو ’الرٹ‘ رہنے اور کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    سنیچر کے روز یعنی آج ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور شدید حبس رہنےکا امکان ہے۔

    تاہم کشمیر، شمال مشرقی پنجاب، خطہ پوٹھوہار، بالائی خیبر پختونخوا، جنوب مشرقی سندھ اور شمال مشرقی اور جنوبی بلوچستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

  8. امریکی ریاست ٹیکساس اچانک آنے والے سیلاب سے 24 افراد ہلاک، سمر کیمپ میں موجود بچیوں سمیت 25 لاپتہ

    امریکی ریاست ٹیکساس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی ریاست ٹیکساس میں جمعے کے روز اچانک آنے والے سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 24 افراد ہلاک اور لڑکیوں کے ایک کیمپ میں موجود 25 افراد لاپتہ ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوم آزادی کے موقع پر پیش آنے والے اس سانحے کو ’حیران کن‘ اور ’خوفناک‘ قرار دیا ہے۔

    ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے کہا کہ وفاقی حکام نے مدد کا وعدہ کیا ہے۔

    ایبٹ نے بتایا کہ رات بھر سے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم ٹیکساس کے حکام لاپتہ افراد کی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں کر سکے۔

    ٹیکساس کے لیفٹیننٹ گورنر ڈین پیٹرک کا کہنا ہے کہ سائپریس جھیل اور سینئر ہل میں تمام کیمپرز کو تلاش کیا جا رہا۔

    بیان میں والدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’اگر آپ کی بیٹی نہیں ملی تو آپ کو مطلع کر دیا جائے گا۔ اگر آپ سے ذاتی طور پر رابطہ نہیں کیا گیا ہے، تو آپ کی بیٹی مل چکی ہے۔ ‘

    ’لیکن اس کا یہ مطلب یہ نہیں ہے کہ (لاپتہ بچے) نہیں رہے۔ وہ رابطے سے باہر ہوسکتے ہیں۔‘

    پیٹرک نے عوام کی جانب سے ذاتی ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کی پیشکش پر کہا کہ انھیں امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے کسی اضافی سامان کی ضرورت نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ امدادی اداروں کے پاس 14 ہیلی کاپٹر، 12 ڈرون، 9 ریسکیو ٹیمیں اور تیراکوں سمیت 400 سے 500 افراد موجود ہیں۔

    بعد ازاں جمعے کے روز ٹیکساس کے میجر جنرل تھامس سولزر نے کہا کہ پانچ ہیلی کاپٹرز اور امدادی تیراکوں کے ساتھ مل کر ’ہائی پروفائل ٹیکٹیکل فوجی گاڑیاں‘ تعینات کی گئی ہیں تاکہ اونچی سطح کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے نکالے گئے لوگوں کو پناہ گاہوں میں منتقل کیا جا سکے۔

    انھوں نے بتایا کہ تقریبا 237 افراد کو بچالیا گیا ہے۔

    ٹیکساس پارکس اینڈ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کے وارڈنز کیمپ مسٹک پہنچ گئے ہیں جہاں حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے میں اب تک 20 سے زائد لڑکیاں لاپتہ ہیں۔

    علاقے میں ٹیلی کمیونیکیشن کی بندش کی وجہ سے علاقے کے بہت سے لوگوں سے رابطہ کرنا مشکل ہو گیا ہے جن میں سمر کیمپ کے لوگ بھی شامل ہیں۔

    جمعے کی صبح ریاست میں اچانک آنے والے سیلاب نے ہل کنٹری اور کونچو ویلی کے علاقوں میںی تباہی مچا دی۔

    امریکی ریاست ٹیکساس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لوگوں جو لاپتہ اپنوں کی تلاش میں ہیں

    فیس بک پر کیرول بریکنگ نیوز گروپ ایک ایسا فورم ہے جہاں مقامی لوگ عموماً ہوٹلوں سے متعلق تجاویز، آنے والے واقعات اور علاقے میں وسائل کے بارے میں پوسٹ کرتے ہیں۔

    جمعے کے روز یہاں ان خاندانوں کی پوسٹوں کی بھرمار تھی جن کے رشتہ دار سیلاب کے باعث لاپتہ ہیں۔

    ایک ماں نے بتایا کہ وہ اپنی بیٹی اور داماد سے رابطہ نہیں کر پا رہیں جن کا گھر کیرول جھیل کے قریب سڑک سے بہہ گیا تھا۔

    امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن کی ایک خاتون نے پوسٹ کیا کہ دریائے گواڈلوپ کے کنارے رہنے والے ان کے دادا دادی کی کل سے کوئی بات نہیں ہوئی۔

    دوسری جانب نیو جرسی میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کی رات شدید بارش اور آندھی کے باعث ریاست میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے۔

    ہلاک ہونے والوں میں 79 اور 25 سال کی عمر کے دو افراد بھی شامل ہیں جو جمعرات کو شدید طوفان کے دوران پلین فیلڈ میں ایک درخت ان کی کار پر گرنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔

    نارتھ پلین فیلڈ میں ایک گاڑی پر درخت گرنے سے 44 سالہ خاتون بھی ہلاک ہو گئیں۔

  9. غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے نئے معاہدے کے لیے حماس کا ثالثوں کو ’مثبت جواب‘

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فلسطینی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ اس نے امریکہ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے نئے معاہدے کی تازہ ترین تجویز پر ثالثوں کو ’مثبت جواب‘ دیا ہے۔

    فلسطینی مسلح گروپ نے ایک بیان میں مزید کہا کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کے ایک دور میں داخل ہونے کے لیے سنجیدگی سے تیار ہے۔ مذاکرات سے واقف ایک سینیئر فلسطینی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ حماس نے جنرل فریم ورک کو قبول کر لیا ہے لیکن اس نے کئی اہم ترامیم کی درخواست کی ہے، جس میں امریکہ کی ضمانت کا مطالبہ بھی شامل ہے کہ اگر 20 ماہ سے جاری جنگ کے مستقل خاتمے پر بات چیت ناکام ہو جاتی ہے تو لڑائی دوبارہ شروع نہیں ہوگی۔

    اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ لیکن وہ پہلے بھی اسی طرح کے مطالبات کو قبول کرنے سے ہچکچاتے رہے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا تھا کہ اسرائیل نے 60 روزہ جنگ بندی کے لیے ’ضروری شرائط‘ قبول کر لی ہیں، جس کے دوران فریقین جنگ کے خاتمے کے لیے کام کریں گے۔

    انھوں نے حماس پر زور دیا کہ وہ ’حتمی تجویز‘ کو قبول کرے اور گروپ کو متنبہ کیا کہ ’صورتحال بہتر نہیں ہو گا بلکہ یہ صرف بدتر ہو جائے گی۔‘

    خیال کیا جاتا ہے کہ اس منصوبے میں حماس کی جانب سے 10 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی مرحلہ وار رہائی اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کے بدلے 18 دیگر یرغمالیوں کی لاشیں شامل ہیں۔

    غزہ میں اب بھی پچاس یرغمالی موجود ہیں جن میں سے کم از کم 20 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔

    اس تجویز میں مبینہ طور پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کی شمولیت سے انسانی امداد کی وافر مقدار فوری طور پر غزہ میں داخل ہوگی۔

    ایک سینئر فلسطینی عہدیدار نے کہا کہ حماس کا مطالبہ ہے کہ یہ امداد اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں کی جانب سے خصوصی طور پر تقسیم کی جائے اور اسرائیل اور امریکی حمایت یافتہ غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کی جانب سے چلائے جانے والے متنازع ڈسٹری بیوشن سسٹم کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

    فلسطینی عہدیدار کے مطابق حماس کی جانب سے ایک اور اہم ترمیم کا مطالبہ اسرائیلی فوجیوں کے انخلا سے متعلق تھا۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ امریکی تجویز میں شمالی اور جنوبی غزہ کے کچھ حصوں سے مرحلہ وار انخلا شامل ہے۔ تاہم حکام کا کہنا تھا کہ حماس اس بات پر زور دے رہی ہے کہ اسرائیلی فوج مارچ میں آخری جنگ بندی کے خاتمے سے قبل کی پوزیشنوں پر واپس جائیں۔

    فلسطینی عہدیدار نے کہا کہ حماس امریکہ کی اس بات کی ضمانت بھی چاہتی ہے کہ مستقل جنگ بندی پر مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں اسرائیلی فضائی اور زمینی کارروائیاں دوبارہ شروع نہیں ہوں گی۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ اس تجویز میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے خاتمے پر مذاکرات پہلے دن سے شروع ہوں گے۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے اس وقت تک جنگ کے خاتمے سے انکار کیا ہے جب تک تمام یرغمالیوں کی رہائی نہیں ہو جاتی اور حماس کی فوجی اور حکومتی صلاحیتوں کو ختم نہیں کر دیا جاتا۔

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ میں اسرائیلی فوج کی جاری کارروائیاں

    اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں اہداف پر بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔ حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں کم از کم 138 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔

    مقامی نصر سپتال نے بتایا کہ جنوبی خان یونس کے علاقے میں بے گھر افراد کے دو خیموں پر حملوں میں کم از کم 15 فلسطینی ہلاک ہو گئے۔

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے جمعے کے روز کہا تھا کہ اس نے جی ایچ ایف کے امدادی تقسیم مراکز کے قریب کم از کم 509 افراد اور امدادی قافلوں کے قریب 104 دیگر افراد کی ہلاکت ریکارڈ کی ہے۔

    ترجمان روینا شمداسانی نے کہا کہ دفتر اعداد و شمار کی تصدیق اور یہ معلوم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے، تاہم انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ واضح ہے کہ اسرائیلی فوج نے تقسیم کے مقامات تک پہنچنے کی کوشش کرنے والے فلسطینیوں پر گولیاں چلائی ہیں۔‘

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ جی ایچ ایف کے مقامات کے قریب پہنچنے کے دوران شہریوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے، لیکن اس بات پر زور دیا ہے کہ ان مقامات پر ’بڑے پیمانے پر ہلاکتوں‘ کی اطلاعات ’جھوٹ‘ ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے حماس کے خلاف سات اکتوبر 2023 کے حملے کے جواب میں غزہ میں ایک مہم شروع کی تھی جس میں تقریبا 1200 افراد ہلاک اور 251 دیگر کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

    غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اُس وقت سے اب تک غزہ میں کم از کم 57268 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  10. ای سی او اجلاس: ایران کے لیے پاکستان کی ’مضبوط سفارتی حمایت‘ پر صدر مسعود پزشکیان کا شکریہ

    ای سی او اجلاس

    ،تصویر کا ذریعہpresident.ir

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 12 روزہ ایران اسرائیل جنگ کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر آذربائیجان کے شہر خانکیندی میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے رکن ممالک کے رہنماؤں کے اجلاس میں شرکت کی۔

    17ویں ای سی او اجلاس میں ایرانی صدر کی تقریر میں اسرائیل کے ساتھ جنگ کا تذکرہ رہا۔

    ایرانی صدر نے کہا کہ 12 دنوں میں اسرائیل نے ’وحشیانہ جارحیت جاری رکھی اور اپنے مشن کے علاقوں سے باہر فوجی دستوں، یونیورسٹیوں کے پروفیسروں اور عام شہریوں کے خلاف مجرمانہ کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں پرامن جوہری تنصیبات اور عوامی انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا، جس سے بے شمار انسانی جانی اور مالی نقصان ہوا۔‘

    ایرانی صدر نے تاجک صدر امام علی رحمان، ترک صدر رجب طیب اردوغان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سمیت وہاں موجود بعض رہنماؤں سے ملاقات کی۔

    اطلاعات کے مطابق ایرانی اور پاکستانی حکام کے درمیان اٹھائے گئے مسائل میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بھی تھی۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس نے اطلاع دی ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم نے اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​بندی کو قبول کرنے کے ایران کے فیصلے کی تعریف کی۔

    پاکستان نے ایران کی بھرپور حمایت کی اور اسرائیل کے حملے سے شروع ہونے والی حالیہ جنگ میں اسرائیل کے اقدامات کی مذمت کی۔

    صدر پزشکیان نے ایران کے لیے خاص طور پر بین الاقوامی فورمز میں پاکستان کی ’مضبوط سفارتی حمایت‘ کا شکریہ ادا کیا اور تناؤ کو کم کرنے میں پاکستان کے ’اہم کردار‘ کی تعریف کی۔

    دوسری جانب ای سی او سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایران اسرائیل جنگ اور انڈیا پاکستان کے درمیان حالیہ تنازعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’عدم استحکام اور افراتفری پیدا کرنے والے جغرافیائی سیاسی ایجنڈے کے لیے ہمارے خطے کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔‘

    وزیر اعظم شہباز شریف نے 10 ممالک پر مشتمل یوریشین بلاک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی تعاون اب مزید ضروری ہو گیا ہے۔

    انھوں نے ایران اسرائیل جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران پر غیر قانونی، غیر ضروری اور بلاجواز اسرائیلی حملہ اس خطرناک رجحان کا تازہ ترین مظہر ہے۔‘

  11. امریکی ریاست ٹیکساس میں تباہ کن سیلاب سے کم از کم 13 افراد ہلاک اور 20 بچیاں لاپتہ

    ٹیکساس میں تباہ کن سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی ریاست ٹیکساس میں سیلاب سے کم از کم 13 افراد کی ہلاکت کے بعد سرچ آپریشن جاری ہے۔

    ٹیکساس کے لیفٹیننٹ گورنر ڈین پیٹرک کے مطابق سمر کیمپ میں موجود 20 سے زائد لڑکیاں اب بھی لاپتہ ہیں۔

    کیمپ مسٹک کی ویب سائٹ کے مطابق یہ لڑکیوں کے لیے ایک نجی مسیحی سمر کیمپ ہے جو 1926 میں قائم کیا گیا تھا۔

    ٹیکساس کے لیفٹیننٹ گورنر ڈین پیٹرک کا کہنا ہے کہ سائپریس جھیل اور سینئر ہل میں تمام کیمپرز کو تلاش کیا جا رہا۔

    بیان میں والدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’اگر آپ کی بیٹی نہیں ملی تو آپ کو مطلع کر دیا جائے گا۔ اگر آپ سے ذاتی طور پر رابطہ نہیں کیا گیا ہے، تو آپ کی بیٹی مل چکی ہے۔ ‘

    ’لیکن اس کا یہ مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ (لاپتہ بچے) نہیں رہے۔ وہ رابطے سے باہر ہوسکتے ہیں۔‘

    پیٹرک کہتے ہیں کہ 45 منٹ کے اندر دریائے گواڈلوپ 26 فٹ بلند ہوا جو تباہ کن سیلاب کی وجہ بنا۔

    ٹیکساس سے بی بی سی کی نامہ نگار اینگلیکا کاساس کی رپورٹ کے مطابق مقامی افراد اپنے گمشدہ پیاروں کی تلاش کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں۔

    کیر کاؤنٹی کے اعلی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ علاقے میں سیلاب کی وارننگ کا کوئی نظام نہیں ہے۔

    سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں اور نقصان کے باعث ٹیکساس میں یوم آزادی کی تقریبات بھی منسوخ کر دی گئیں۔

    ٹیکساس میں تباہ کن سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مزید سیلاب کی پیش گوئی

    امریکہ کی نیشنل ویدر سروس کا کہنا ہے کہ مغربی وسطی ٹیکساس کے کچھ حصوں میں مزید سیلاب کا امکان ہے۔

    ان کے مطابق جمعرات کی رات سے پورے علاقے میں کئی انچ بارش ہوئی۔

    اب گیلی مٹی اور ندی کے سیلاب نے اس علاقے کو زیادہ بارش کی صوریت میں ’حساس‘ بنا دیا ہے۔

    سان انتونیو کے علاقے میں ہلکی سے درمیانی بارش کا سلسلہ رات بھر جاری رہ سکتا ہے جس کے ساتھ موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔

    جنوبی وسطی ٹیکساس کی ویسٹرن لانو کاؤنٹی میں آج شام سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ ’

    محکمہ موسمیات کا مشورہ ہے کہ اگر لوگوں کو سیلاب زدہ سڑکوں کا سامنا ہو تو وہ واپس پلٹ جائیں۔

    دریا کے کنارے اور پُل غیر مستحکم اور غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔

  12. کچلاک: طالب علم کے ساتھ مبینہ مار پیٹ کو جواز بنا کر سکول کا پرنسپل قتل, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    فائل فوٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک میں ایک نجی سکول کے پرنسپل کو ایک کمسن طالب علم کے ساتھ مبینہ مار پیٹ کو جواز بنا کر قتل کردیا گیا۔

    پرنسپل کے قتل کے الزام میں مقامی پولیس نے بچے کے ماموں کو گرفتار کر لیا ہے۔

    کچلاک پولیس کے ایس ایچ او محمد اجمل نے فون پر بتایا کہ نجی سکول میں پرائمری کلاس کے دس گیارہ سال کے ایک بچے کو دو روز قبل سکول کے پرنسپل محمد سکندر نے مارا پیٹا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس پر بچے کے والدین نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا تاہم تین جولائی کو بچے کے والد اور سکول کے پرنسپل کے درمیان راضی نامہ ہوگیا تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ راضی نامہ تھانے میں ہوا اور بچے کے والد نے پرنسپل کو معاف کرتے ہوئے یہ کہا کہ وہ اس حوالے سے کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کریں گے۔‘

    تاہم جمعے کو بچے کے ماموں شمس اللہ نے سکول جاتے ہوئے پرنسپل پر چاقو سے وار کرکے ان کو شدید زخمی کردیا جس کے باعث وہ چل بسے۔

    ایس ایچ او نے بتایا کہ پرنسپل کے قتل کے الزام میں بچے کے ماموں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    سکول کے پرنسپل کا تعلق کراچی سے تھا اور وہ گذشتہ کئی سال سے کچلاک میں نجی سکولوں میں پڑھاتے رہے ہیں۔

    درایں اثنا آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن بلوچستان کے صدر نذر بڑیچ اور دیگر عہدیداروں نے ہرنسپل کے قتل کی مذمت کی ہے۔

    فیڈریشن کے عہدیداروں کے بیان کے مطابق مذکورہ خاندان اور پرنسپل کے درمیان راضی نامہ ہوا اور پرنسپل نے خاندان کو دس ہزار روپے بطور تاوان بھی ادا کیا۔

    فیڈریشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض عناصر نے اس واقعے کے حوالے سے منفی کردار ادا کیا جس کے باعث یہ المناک واقعہ پیش آیا۔

    فیڈریشن نے واقعے کے بارے میں تحقیقات کرنے اور واقعے میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث تمام افراد کو شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  13. کراچی میں رہائشی عمارت گرنے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہوگئی

    کراچی کے علاقے لیاری میں ایک پانچ منزلہ عمارت گرنے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہوگئی ہے۔

    کراچی میں ریسکیو 1122 کے ترجمان حسن خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ لیاری میں جمعے کو ایک عمارت گرنے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔

    اس سے قبل کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کا کہنا تھا کہ ملبہ ہٹانے کا سلسلہ تاحال جا ری ہے۔

    عمارت منہدم ہونے کے واقعے پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی میں ایسی بہت سی مخدوش عمارتیں ہیں جن کو رہائشیوں کو یہ عمارتیں خالی کرنے کے نوٹس بھی دیے گئے ہیں لیکن وہ پھر بھی جگہ نہیں چھوڑتے۔

    بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ لوگوں کی بھی مجبوریاں ہیں لیکن قانون پر عمل درآمد کروانا ضروری ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ کچھ بلڈرز ضوابط اور قوانین کی پاسداری نہیں کرتے، انھیں بلیک لسٹ کرنا پڑے گا۔

    صوبائی وزیر نے یہ بھی کہا کہ ’سب سے اہم شہری ہیں جو ان لوگوں سے گھروں کی خریداری کرتے ہیں تو انھیں بھی احتیاط کرنی پڑے گی۔‘

    کراچی میں گرنے والی رہائشی عمارت کے ایک مکین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آج صبح ان کی بیوی نے تقریباً ساڑھے نو بجے فون کیا اور بتایا کہ ’عمارت نے جھٹکا مارا ہے۔‘

    رمیش نامی رہائشی کے مطابق ’موبائل سگنل کام نہیں کر رہے تھے تو وہ اپنی اہلیہ کی بات نہیں سمجھ سکے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ تقریباً ساڑھے دس بجے پتہ چلا کہ عمارت گر گئی ہے، جس کے بعد وہ گھر پہنچے تو دیکھا کہ ان کے بیوی بچے محفوظ تھے کیونکہ وہ وہ فوراً عمارت سے نکل گئے تھے۔

    رمیش نے بتایا کہ ان کا خاندان اس عمارت کی پانچویں منزل پر رہائش پذیر تھا۔

  14. کراچی میں گرنے والی رہائشی عمارت میں ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہو گئی

    کراچی کے علاقے لیاری میں گرنے والی پانچ منزلہ رہائشی عمارت میں ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان حسن خان کے مطابق منہدم عمارت کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد مرنے والوں آٹھ ہو گئی ہے اور تمام لاشیں سول ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔

    اس سے کچھ دیر قبل کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے بی بی سی اردو کے روحان احمد کو بتایا کہ رہائشی عمارت گرنے سے اب تک کم از کم سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ہمایوں خان کے مطابق ملبہ ہٹانے اور امدادی کارروائیوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

  15. ’فیملی کے پانچ لوگ اندر دبے ہوئے ہیں، بس دعا کریں کہ وہ زندہ نکلیں‘

    کراچی، عمارت

    گرنے والی عمارت کے باہر موجود ایک خاتون نیک بائی وہاں ملبہ ہٹنے کے انتظار میں تھیں۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی بیٹی دوڑتی آئی کہ چچا کے گھر کی عمارت گر گئی ہے اور جو وہ لوگ یہاں پہنچے تو ملبہ پڑا ہوا تھا۔

    نیک بائی نے بتایا کہ ان کے دیور کی فیملی کے پانچ لوگ اندر دبے ہوئے ہیں۔ ’بس دعا کریں کہ وہ زندہ نکلیں۔‘

  16. ’ایسی کئی مخدوش عمارتیں ہیں جن کے رہائشیوں کو نوٹس دیے گئے لیکن وہ جگہ نہیں چھوڑتے‘: سعید غنی

    کراچی، عمارت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی میں ایسی کئی مخدوش عمارتیں ہیں جن کے رہائشیوں کو نوٹس دیے گئے ہیں لیکن وہ جگہ نہیں چھوڑتے۔

    بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ لوگوں کی بھی مجبوریاں ہیں لیکن قانون پر عمل درآمد کروانا ضروری ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ کچھ بلڈرز ضوابط اور قوانین کی پاسداری نہیں کرتے، انھیں بلیک لسٹ کرنا پڑے گا۔

    صوبائی وزیر نے یہ بھی کہا کہ ’سب سے اہم شہری ہیں جو ان لوگوں سے گھروں کی خریداری کرتے ہیں تو انھیں بھی احتیاط کرنی پڑے گی۔‘

  17. ’بیوی نے فون پر بتایا کہ عمارت نے جھٹکا مارا ہے‘, ریاض سہیل، بی بی سی نامہ نگار، کراچی

    کراچی

    کراچی میں گرنے والی رہائشی عمارت کے ایک مکین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آج صبح ان کی بیوی نے تقریباً ساڑھے نو بجے فون کیا اور بتایا کہ ’عمارت نے جھٹکا مارا ہے۔‘

    رمیش نامی رہائشی کے مطابق ’موبائل سگنل کام نہیں کر رہے تھے تو وہ اپنی اہلیہ کی بات نہیں سمجھ سکے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ تقریباً ساڑھے دس بجے پتہ چلا کہ عمارت گر گئی ہے، جس کے بعد وہ گھر پہنچے تو دیکھا کہ ان کے بیوی بچے محفوظ تھے کیونکہ وہ وہ فوراً عمارت سے نکل گئے تھے۔

    رمیش نے بتایا کہ ان کا خاندان اس عمارت کی پانچویں منزل پر رہائش پذیر تھا۔

  18. بریکنگ, کراچی میں رہائشی عمارت گرنے سے پانچ افراد ہلاک، پانچ زخمی

    کراچی میں رہائشی عمارت گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے جبکہ پانچ افراد زخمی بھی ہیں۔

    بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ نے اس واقعے میں اب تک پانچ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

  19. کراچی میں گرنے والی عمارت کی تصویری جھلکیاں

    کراچی کے علاقے لیاری میں رہائشی عمارت گِرنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی مگر حکومت سندھ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ 50 سال پرانی عمارت گنجان آباد علاقے بغدادی میں واقع تھی جس میں 13 خاندان رہتے تھے۔

    عمارت گرنے کے بعد کی صورتحال یہاں چند تصاویر مییں پیش کی جا رہی ہے:

    کراچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کراچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کراچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کراچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  20. کراچی میں پانچ منزلہ رہائشی عمارت گِرنے سے کم از کم دو افراد ہلاک, ریاض سہیل/بی بی سی اردو، کراچی

    کراچی میں پانچ منزلہ عمارت گِرنے سے کم از کم دو افراد ہلاک

    ،تصویر کا ذریعہEDHI

    صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے لیاری میں پانچ منزلہ عمارت گِرنے سے کم از کم دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے واقعے میں کم از کم دو ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دو لاشیں اور تین زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا ہے۔

    تاحال عمارت گِرنے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی مگر حکومت سندھ کی ترجمان سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ یہ پچاس سال پرانی عمارت گنجان آباد علاقے بغدادی میں واقع تھی جس میں 13 خاندان رہتے تھے۔ ’یہ عمارت کافی مخدوش تھی، لوگوں کو خالی کرنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن انتظامیہ کو مزاحمت کا سامنا تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ وہاں تنگ گلیاں ہیں اور مشنری پہنچنے میں مشکلات ہیں مگر اس کے باوجود ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ ’اس وقت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کتنی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔‘

    واقعے کے بعد ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ’سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے شہر کی بوسیدہ و خستہ حال عمارتوں کی تفصیلات طلب کی ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’خطرناک عمارتوں کی فوری نشاندہی اور شہریوں کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔‘

    دوسری جانب سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی نے بلڈنگ گِرنے کی تحقیقات کے لیے فوری طور پر ایک اعلی سطحی کمیٹی قائم کی ہے۔

    جبکہ ایدھی حکام کا کہنا ہے کہ تین خواتین سمیت پانچ افراد زخمی اور اب تک ایک خاتون سمیت دو افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں جنھیں ایدھی ایمبولینس کے ذریعے سول ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    بغدادی پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد پولیس اور ریسکیو اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ چکے ہیں اور امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

    پولیس کے مطابق ملبے تلے کئی افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ سندھ ریسکیو 1122 کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ریسکیو اہلکار، ایمبولینسز، اربن سرچ ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔

    دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے متعلقہ حکام سے اس واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے زخمیوں کو تمام تر طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔