یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
چار مئی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
شہباز شریف سنیچر کے روز ترکی کے سفیر کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ پہلگام واقعے کے پس پردہ حقائق کا پتہ لگانے کے لیے غیر جانبدار اور شفاف بین الاقوامی تحقیقات میں پاکستان مکمل تعاون کرے گا اور اگر ترکی اس میں شامل ہوتا ہے تو پاکستان اس کا خیرمقدم کرے گا
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
چار مئی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی جانب سے انڈین پرچم بردار بحری جہازوں کا پاکستانی بندرگاہوں پر داخلہ فوری طور پر بند کردیا گیا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ بحری امور کی جانب سے جاری کردہ ایک حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’موجودہ حالات کے تناظر میں سمندری خودمختاری، اقتصادی مفادات اور قومی سلامتی کو مدِنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر مندرجہ ذیل اقدامات کیے جائیں گے، انڈین جھنڈے والے بحری جہازوں کو کسی بھی پاکستانی بندرگاہ تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسی طرح پاکستانی پرچم بردار بحری جہاز کسی بھی انڈین بندرگاہ کا دورہ نہیں کریں گے۔‘
اس سے قبل انڈیا کی جانب سے بھی پاکستانی بحری جہازوں پر اسی طرح کی پابندی لگائی گئی تھی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل انڈیا کے وزارت صنعت و تجارت کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ کی جانب سے جمعے کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں پاکستان سے درآمدت کی جانے والی تمام اشیا پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مسلح افراد نے بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے منگیچر میں ایک مرتبہ پھر کارروائی کر کے ایک سرکاری بینک سمیت تین دفاتر کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ اس کے قریب سورو کے علاقے سے پانچ پولیس اہلکاروں کو اغوا کرنے کے علاوہ دس قیدیوں کو بھی چھڑا دیا ہے۔
قلات میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جمعہ کی شام مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد منگیچر بازار میں داخل ہوئی اور انھوں نے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ناکہ بندی کی۔
رابطہ کرنے پر منگیچر سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے بتایا کہ مسلح افراد جمعہ کی شام 7 بجے کے قریب منگیچر بازار آئے جس کے بعد رات ایک بجے تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔
منگیچر اور اس کے نواحی علاقوں میں ناکہ بندی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں مسلح افراد نے مسافر بسوں سمیت گاڑیوں کی بڑی تعداد کو روکا ہوا ہے اور اس میں وہ ان کے شناختی کارڈز کو دیکھ رہے ہیں۔ تاہم آزادانہ طور پر ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
قلات انتظامیہ کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں مسلح افراد کے آنے کے بعد سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی جس کے بعد مسلح افراد پہاڑوں کی جانب فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے منگیچر میں نیشنل بینک آف پاکستان، جوڈیشل مجسٹریٹ کے دفتر کے علاوہ نادرا کے دفتر کے بعض حصوں کو نذرآتش کرنے کے علاوہ ان میں توڑ پھوڑ کی۔
منگیچر کے مقامی لوگوں نے فون پر بتایا کہ اس واقعے کے بعد اگرچہ اس علاقے سے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ٹریفک جاری تھی لیکن سنیچر کو صبح سے دوپہر تک سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی جانب سے مقامی لوگوں کو بازار کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
مقامی لوگوں کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جانب سے کلیئرینس کا عمل مکمل ہونے پر دوپہر کے بعد بازار میں معمولات زندگی بحال ہوئیں۔
انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق منگیچر سے فرار ہونے کے بعد مسلح افراد نے سورو کے مقام پر بھی کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ناکہ بندی کی تھی جہاں ناکہ بندی کے دوران مسلح افراد نے حب پولیس کی ایک گاڑی کو روکا جس میں دس قیدیوں کو ڈسٹرکٹ جیل حب سے کوئٹہ منتقل کیا جارہا تھا۔
مسلح افراد نے تمام قیدیوں کو پولیس کی حراست سے آزاد کروایا جبکہ ان کو لانے والے حب پولیس کے پانچوں اہلکاروں کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے ہیں جن میں ایک اے ایس آئی بھی شامل ہیں۔
قلات ڈویژن میں ایک سینیئر پولیس اہلکار نے پانچوں پولیس اہلکاروں کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تاحال ان کو بازیاب نہیں کرایا جاسکا ہے۔
پولیس اہلکار کے مطابق مسلح افراد کی جانب سے قیدیوں کو چھڑانے کے بعد ایسی اطلاعات ہیں کہ قیدی فرار ہوگئے ہیں اور تاحال ان میں سے کسی کی دوبارہ گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے۔ قیدیوں میں سے 8 منشیات کے مقدمے میں انڈر ٹرائل تھے جبکہ دو کو قتل کے مقدمات میں سزا ہوئی تھی اور انھیں کوئٹہ سے سینٹرل جیل مچھ منتقل کیا جانا تھا۔
گزشتہ روز منگیچر کے علاقے کوٹ لانگو میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے لیویز فورس کے ایک اہلکار کو بھی ہلاک کیا تھا۔
منگیچر کہاں واقع ہے؟
منگیچر بلوچستان کے ضلع قلات میں بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 120 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کوئٹہ کراچی ہائی وے پر واقع اس علاقے کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔
بلوچستان میں سنہ 2000 کے بعد سے نہ صرف ضلع قلات بلکہ منگیچر کا علاقہ بھی شورش کا شکار رہا ہے۔ اس علاقے میں پہلے بھی نہ صرف سنگین بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں بلکہ رواں سال اس سے قبل بھی شاہراہ پر ناکہ بندی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
جمعہ کی شام ناکہ بندی اور وہاں ہونے والی کارروائی کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم اس سے قبل وہاں ناکہ بندی اور اس کے دوران ہونے والی کارروائیوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں ۔

،تصویر کا ذریعہANI/@JKNC
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان دہلی میں اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں پہلگام حملے سے متعلق بات چیت کی گئی ہے۔
انڈیا کے خبر رساں ادارے اے این آئی نے جموں کشمیر نیشنل کانفرنس کے آفیشل ایکس (ٹوئٹر)اکاؤنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبدااللہ کی وزیر اعظم نریندر مودی کی ملاقات ہوئی ہے جس میں پہلگام حملے سمیت دیگر اہم معاملات پر بات چیت کی گئی ہے۔‘
اے این آئی نے اس ملاقات کی تفصیلات سے متعلق کچھ زیادہ نہیں لکھا تاہم پہلگام حملے کے بعد دونوں رہنماؤں کی اس ملاقات کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ 22 اپریل کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملے میں 26 لوگ مارے گئے جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔
اس حملے کے بعد سے انڈیا کی جانب سے پاکستان پر الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے ہیں اور انڈیا پاکستان کے درمیان کشیدگی دن بہ دن بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGOP
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پہلگام واقعے کے پس پردہ حقائق کا پتہ لگانے کے لیے غیر جانبدار اور شفاف بین الاقوامی تحقیقات میں پاکستان مکمل تعاون کرے گا اور اگر ترکی اس میں شامل ہوتا ہے تو پاکستان اس کا خیرمقدم کرے گا۔
وزیر اعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ بات شہباز شریف نے ترکی کے سفیر کے ساتھ سنیچر کے روز ہونے والی ملاقات میں کہی۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق شہباز شریف نے اس ملاقات میں کہا کہ انڈیا پہلگام واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کسی بھی قسم کا ثبوت دینے میں ناکام رہا ہے۔
پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق ’اس ملاقات میں ترک سفیرعرفان نیزیرولو نے پاکستان کے موقف کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے تحمل سے کام لینے ہوگا۔‘

،تصویر کا ذریعہScreen Grab
حکومت پاکستان کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ کی پوسٹ میں کہا گیا کہ ’ترک سفیر نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے موجودہ بحران میں تحمل سے کام لینے پر زور دیا۔‘

،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhary
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نےپہلگام واقعے کے بعد انڈیا پاکستان کے درمیان کشیدہ صورت حال کے پیش نظر لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں میں مقیم آبادی کے لیے دو ماہ کی اضافی خوراک ذخیرہ کرنا شروع کر دی ہے۔
لائن آف کنٹرول کے زیادہ تر قریبی علاقوں میں خوراک ذخیرہ کی گئی ہے جبکہ مزید اضافی خوراک بھی بھجوائی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ لائن آف کنٹرول پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے آٹھ اضلاع کے 13 انتخابی حلقوں میں ہزاروں نفوس پر مشتمل آبادی مقیم ہے۔
خوراک کی ضروریات کو لائن آف کنٹرول پر مقیم آبادی کے لیے کسی بھی ہنگامی صورتحال کے دوران استعمال میں لایا جا سکے گا۔

،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhary
پہلگام حملے کے بعد پاکستان اورانڈیا کے درمیان حالات کشیدہ ہونے پر احتیاطی طور پر خوراک ذخیرہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
اس حوالے سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر خوراک چوہدری اکبر ابراہیم نے بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا کہ تمام آبادی کے لیے خوراک ذخیرہ کر لی جائے تاکہ لائن آف کنٹرول پر واقع کشمیر کے 13 حلقے اور کشمیر کے دیگر علاقوں کی ضروریات جنگی حالات میں پوری ہو سکیں۔
آٹا مل پر تعینات فوڈ آفیسر نے بتایا کہ آج کے روز اٹھمقام، شاردہ ،باڑیاں ،تاو بٹ سمیت دیگر علاقوں میں اشیائے خوردونوش کے بیگ روانہ کیے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ جب تک کنٹرول لائن کے علاقوں میں آبادی کے مطابق ضرورت پوری نہیں ہوجاتی تو ترسیل کا عمل روزانہ کی بنیاد پر جاری رہے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دنیا کے کسی بھی حصے میں دہشت گردی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کو مسترد کرتا ہے، انڈیا کی کسی بھی جارحیت کا فوری اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
وزارت اطلاعات سے جاری اعلامیے کے مطابق ’انڈیا پاکستان میں نام نہاد اور خیالی ’دہشت گرد کیمپس‘ کے حوالے سے پروپیگنڈہ کرتا رہتا ہے،انڈیا کی اسی سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے پاکستانی اور عالمی میڈیا کے لیے لائن اف کنٹرول کے دور ے کا اہتمام کیا جا رہا ہے تاکہ انڈیا کے بے بنیاد اور من گھڑت پروپیگنڈے کو سامنے لایا جا سکے۔
بیان کے مطابق انڈیا نے بارہا ایل او سی کے ساتھ مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کے حوالے سے بے بنیاد اور جھوٹے دعوے کیے۔ میڈیا کو ان مقامات پر لے جایا جائے گا جنھیں انڈیا نے دہشت گرد کیمپس کے طور پر پیش کیا ہے۔
بیان کے ممطابق میڈیا کے نمائندوں کو مخصوص مقامات پر زمینی حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔
اعلامیہ میں پاکستان کی امن کے لیے غیر متزلزل وابستگی کے اعادے کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ پا کستان دنیا کے کسی بھی حصے میں دہشت گردی یا دہشت گردانہ سرگرمیوں کو مسترد کرتا ہے۔ پاکستانی قوم اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔

،تصویر کا ذریعہAPP
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انڈیا پہلگام واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کسی بھی قسم کا ثبوت دینے میں ناکام رہا ہے اور وہ پاکستان کو پہلگام واقعہ سے جوڑنے کی سازش کر رہا ہے۔
اے پی پی کے مطابق وزیر اعظم پاکستان نے یہ بات ترکی کے سفیر ڈاکٹر عرفان نیزیرولو نے سنیچر کو وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کے دوران کہی۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ ’پہلگام واقعے کے بعد انڈیا نے مسلسل اشتعال انگیز کارروائیاں کی ہیں تاہم اس کے باوجود پاکستان کا ردعمل ذمہ دارانہ رہا ہے۔‘
بیان کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ وہ ترکی کی جانب سے جنوبی ایشیا میں امن و امان کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کی حمایت کے ساتھ ساتھ خطے میں امن کے مطالبے پر صدررجب طیب اردوغان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ انڈیا نے ابھی تک پہلگام واقعے کے پس پردہ حقائق کا پتہ لگانے کے لیے قابل اعتماد، شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کی پاکستان کی پیشکش کا جواب دینا ہے۔
شہباز شریف کے مطابق ’پاکستان ایسی تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گا اور اگر ترکی اس میں شامل ہوتا ہے تو اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے لیے ترکی کی حمایت دونوں ممالک اور ان کے عوام کے درمیان تاریخی اور گہرے برادرانہ تعلقات کی عکاس ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے باعث انڈیا نے پاکستان سے درآمد ہونے والی تمام اشیا پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
بی بی سی ہندی کے مطابق انڈیا کے وزارت صنعت و تجارت کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ نے پاکستان سے درآمدت کی جانے والی تمام اشیا پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اس حوالے سے فارن ٹریڈ پالیسی 2023 میں ایک شق کا اضافہ کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’فوری طور پر پاکستان سے آنے والی یا برآمد کی جانے والی تمام اشیا کی براہ راست یا بالواسطہ درآمد پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اس پابندی کا اطلاق تا حکم ثانی رہے گا۔‘
یاد رہے کہ 22 اپریل کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملے میں 26 لوگ مارے گئے جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔
اس حملے کے بعد سے انڈیا کی جانب سے پہلے سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا اور اور پھر دونوں مُلکوں کے درمیان اٹاری واہگہ بارڈر کو بند کرنے کا اعلان سامنے آیا۔
پھر اسی کے ساتھ ساتھ انڈیا کی جانب سے وہاں موجود پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا کہا گیا اور دونوں ممالک میں سفارت کاروں کی موجودگی بھی متاثر ہوئی۔
اس کے جواب میں پاکستان کی جانب سے انڈیا سے آنے والی تمام پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کو بند کر دیا گیا، اور پھر انڈیا کی جانب سے بھی ایسا ہی کیا گیا۔
انڈیا نے پاکستان کے ساتھ ڈاک اور پارسلز کی ترسیل کا عمل معطل کر دیا ہے۔
انڈیا کی وزارت مواصلات کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق انڈین حکومت نے ڈاک اور پارسلز کی تمام ترسیلات کے تبادلے کو معطل کر دیا ہے۔
انڈیا کی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں اس نوٹیفیکیشن کو شیئر کیا ہے جس میں ڈاک کے تبادلے میں معطلی کی وجوہات کا ذکر نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@PTI_News
تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد کشیدگی کے باعث رابطوں کی معطلی کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق اس حکم نامے کا اطلاق فضائی اور زمینی دونوں راستوں کے ذریعے پہچائے جان والے پارسلز اور ڈاک پر ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل ابدالی ویپن سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کیا ہے جو 450 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس لانچ کا مقصد فوجیوں کی آپریشنل تیاریوں کو یقینی بنانا اور میزائل کے جدید نیویگیشن سسٹم سمیت اہم تکنیکی پیرامیٹرز کی توثیق کرنا تھا۔
بیان کے مطابق اس تربیتی تجربے میں کمانڈر آرمی سٹریٹجک فورسز کمانڈ، سٹریٹجک پلانز ڈویژن، آرمی سٹریٹجک فورسز کمانڈ کے سینئر حکام کے علاوہ پاکستان کی سٹریٹجک تنظیموں کے سائنسدانوں اور انجینئرز نے بھی شرکت کی۔
پاکستان کے صدر ، وزیراعظم، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور مسلح افواج کے سربراہان سٹریٹجک فورسز کی آپریشنل تیاریوں اور تکنیکی مہارت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
پاکستان کے میزائل پروگرام میں پہلے سے کیا کیا ہے؟
پاکستان کا میزائل پروگرام کروز اور میدانِ جنگ میں استعمال ہونے والے ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں کے علاوہ کم اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں پر مشتمل ہے۔
پاکستان کے میڈیم رینج میزائلوں میں غوری ون اور ٹو، ابابیل اور شاہین ٹو اور شاہین تھری شامل ہیں۔
ان میں سے غوری ون 1500 کلومیٹر جبکہ غوری ٹو دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر نشانہ لگا سکتے ہیں جبکہ ابابیل میزائل کی رینج 2200 کلومیٹر ہے۔
شاہین ٹو اور تھری پاکستان کے سب سے زیادہ فاصلے پر نشانہ بنانے والے میزائل ہیں جن کی رینج 2500 سے 2750 کلومیٹر تک ہے۔
ابابیل جنوبی ایشیا میں پہلا ایسا میزائل ہے جو 2200 کلومیٹر کے فاصلے تک متعدد وار ہیڈز یا جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مختلف اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
اس کے مقابلے میں انڈیا کا میزائل پروگرام 250 سے 600 کلومیٹر تک مار کرنے والے پرتھوی میزائلوں سے لے کر 1200 سے 8000 کلومیٹر تک مار کرنے والے اگنی سیریز کے میزائلوں کے علاوہ نربھے اور براہموس سیریز کے کروز میزائلوں پر مشتمل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں پاکستان کے سفیر نے متنبہ کیا ہے کہ اگر انڈیا نے متنازع کشمیر کے علاقے میں حالیہ حملے کے جواب کسی قسم کی عسکری کارروائی کی تو اس کے ممکنہ طور پر تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔
امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انڈیا کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے اپنی خود ساختہ ڈیل میکر ساکھ کا فائدہ اٹھائیں۔
امریکی نیوز چینل فاکس نیوز ڈیجیٹل کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں پاکستان کے سفیر نے کہا کہ ’یہ ایک جوہری فلیش پوائنٹ ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ اس صورت حال سے نمٹیں اور یہ مسئلہ بنیادی مسئلے یعنی تنازعہِ کشمیر کو حل کرکے ہی ممکن ہے۔‘
پاکستانی سفیر نے پہلگام حملے پر انڈیا کے ردعمل کو خطرناک حد تک قبل از وقت اور اشتعال انگیز قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’حملے کے چند منٹوں کے اندر ہی انڈیا نے پاکستان کے خلاف الزامات عائد کرنا شروع کر دیے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رہے کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلگام حملے میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد ایک بیان میں کہا تھا وہ ’پہلگام میں سیاحوں پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں اور اُن کی پشت پناہی کرنے والوں کو زمین کے آخری کونے تک تلاش کریں گے اور انھیں ایسی سزائیں دی جائی گی جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔‘
انڈین وزیر اعظم یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ پہلگام حملے کا ردعمل دینے کا طریقہ کار، اہداف اور وقت کا تعین کرنے میں انڈین مسلح افواج کو ’مکمل آپریشنل آزادی‘ ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور پاکستانی فوج کے ترجمان احمد شریف چوہدری سمیت بہت سے عسکری و حکومتی عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے تاہم اگر انڈیا کی جانب سے پہلگام حملے کے تناظر میں پاکستان کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی قومی اسمبلی کا اجلاس پانچ مئی کو طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جس میں انڈیا کی جانب سے ممکنہ جارحیت اور اقدامات کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کی جائے گی۔
یہ فیصلہ وزیر دفاع خواجہ آصف کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس میں ہوا جس کے دوران موجودہ صورتحال میں حکومتی بیانیے سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں انڈیا کے ساتھ سفارتی کشیدگی کی روشنی میں موجودہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق وزیر دفاع نے قومی سلامتی کے معاملات پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
واضح رہے کہ انڈیا نے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پرعائد کیا ہے جس کی پاکستان سختی سے تردید کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہx
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن کے ساتھ پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ 23 اپریل کو انڈین حکومت کی جانب سے اعلان کردہ غیر منصفانہ اقدامات اور یکطرفہ اقدامات اور اس کے بعد جارحانہ عوامی بیانات نے کشیدگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ پیدا کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کشمیر میں پہلگام حملے کے تناظر میں انڈیا کے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز اقدامات سے پیدا ہونے والے ماحول میں معقول انٹیلی جنس اطلاعات موجود ہیں کہ جن سے پتا چلتا ہے کہ انڈیا کے پاکستان کے خلاف کارروائی کا خطرہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدور، نیویارک میں او آئی سی گروپ اور سلامتی کونسل کے ساتھی ارکان کو بریفنگ دی ہے۔ ہم نے اپنے موقف اور خدشات کا اظہار کیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی قانون اور علاقائی استحکام کو نظر انداز کرتے ہوئے انڈیا کا طرز عمل اشتعال انگیز اور خطرناک ہے جس کے دور رس اور تباہ کن نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ ‘
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اس بات پر زور دیا کہ ’پاکستان کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا۔ تاہم ہم اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘
’پاکستان اپنے دفاع کا بنیادی اور جائز حق استعمال کرے گا‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر انڈیا جارحیت کا سہارا لیتا ہے تو پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے دفاع کا اپنا بنیادی اور جائز حق استعمال کرے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ انڈیا نے واقعے کے دس دن بعد بھی مجرموں کے بارے میں کوئی قابل اعتماد معلومات عام نہیں کیں۔ اور پاکستان 22 اپریل کو بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعے سے اسے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
عاصم افتخار نے کا کہ ’پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘
بھارت کی جانب سے 1960 کے تاریخی سندھ طاس معاہدے کو ملتوی کرنے کا غیر ذمہ دارانہ فیصلہ انتہائی تشویش کا باعث ہے جو عالمی بینک کی ثالثی اور ضمانت کے مطابق ایک تاریخی اور قانونی طور پر پابند معاہدہ ہے۔
پاکستانی مندوب نے یہ واضح کیا کہ ’جنوبی ایشیا میں تنازعات اور عدم استحکام کی بنیادی وجہ دیرینہ جموں و کشمیر تنازعہ ہے جو تقریبا آٹھ دہائیوں سے حل طلب ہے۔ پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق اس بنیادی مسئلے کا منصفانہ اور دیرپا حل نہیں نکلتا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے مشیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ انڈیا کی جانب سے قرض دہندگان سے پاکستان کے قرضوں پر تحفظات کا اظہار کیے جانے اور نظرثانی کی درخواست کے باوجود آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل طور پر ٹریک پر ہے۔
یاد رہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس نو مئی کو ہوگا جس میں پاکستان کے جاری بیل آؤٹ پروگرام کا پہلا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ نئے انتظامات کے لیے ملک کے عملے کی سطح کے معاہدے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اس سے پہلے انڈیا نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے پاکستان کو دیے جانے والے قرضوں پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
انڈین میڈیا کے مطابق حکومتی ذرائع نے خبر دی ہے کہ انڈیا پاکستان کی معاشی طور پر دھچکا پہنچانا چاہتا ہے اس لیے اس نے آئی ایم ایف سے رابطہ کیا ہے۔ انڈین میڈیا اسے پاکستان کے خلاف ’فنانشل سٹرائیک‘ (اقصادی حملے) کا نام دے رہا ہے۔
تاہم انڈین حکومت نے ایسے کسی اقدام کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
تاہم پاکستانی حکومت کے مشیر خرم شہزاد نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’تازہ ترین جائزہ بہت اچھی طرح سے لیا گیا ہے اور ہم مکمل طور پر ٹریک پر ہیں۔ ہم نے تقریبا 70 ملاقاتیں کیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ معیشت کے رخ تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں سرمایہ کاری اور مدد کے لیے دلچسپی بہت زیادہ رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کو مزید کتنا قرض ملنا ہے؟
آئی ایم ایف بورڈ اپنے ماحولیاتی قرض پروگرام کے تحت پاکستان کے لیے 1.3 ارب ڈالر کے نئے انتظامات کا جائزہ لے گا۔ اس کے علاوہ سات ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
31 دسمبر 2024تک ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو 764 سرکاری شعبے کے قرضے، گرانٹس اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جن کی مالیت 43.4 ارب ڈالر ہے۔ پاکستان میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے موجودہ خودمختار پورٹ فولیو میں 9.13 ارب ڈالر مالیت کے 53 قرضے اور 3 گرانٹ شامل ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے خیبر پختونخوا رورل روڈز ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے لیے 32 کروڑ ڈالر کا قرض دینے کا وعدہ کیا ہے جس کا مقصد صوبے میں تقریبا 900 کلومیٹر طویل سیلاب سے متاثرہ دیہی سڑکوں کو اپ گریڈ کرنا ہے۔
جنوری 2025 میں عالمی بینک نے پاکستان کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے 20 ارب ڈالر کے قرضے کے پیکج کی منظوری دی تھی۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کی پارلیمنٹ اور عدلیہ سمیت تمام فورمز پر گئے لیکن ہمیں مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملا اس لیے اب ان کی جماعت قومی اور عوامی مزاحمت کی جدوجہد اور سیاست کرے گی۔
جمعہ کہ شب کوئٹہ میں سریاب کے علاقے میں واقع شاہوانی سٹیڈیم میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کے لیے منعقدہ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کوئی اس کا یہ مطلب نہ لے کہ ہم اپنی سیاست اور جدوجہد سے دستبردار ہو جائیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اپنی سیاست اور جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گے بلکہ اب ہم مزاحمت کریں گے اور وہ مزاحمت جو کہ ہرجمہوری کلچر اور ملک میں کی جاتی ہے۔ ہم یہ کریں گے خواہ اس کی آپ ہمیں اجازت دیں یا نہیں دیں جس کی ہمیں پرواہ نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اب ہمارا آئین بلوچ قوم اور بلوچستان ہے اور ہماری جمہوریت ہماری عوام ہے۔ اب ہم انہی کی سیاست کریں گے جس کی جانب آپ نے ہمیں دھکیلا۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں یہ کہا جاتا ہے کہ آپ لوگ احتجاج نہیں کریں تو ہم حکمرانوں سے یہ کہتے ہیں کہ آپ لوگ اپنے غلط اعمال چھوڑ دیں تاکہ احتجاج کی نوبت نہ آئے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے لوگوں کو بے عزت کروگے ، ہماری نسل کشی کروگے ، ہماری خواتین کو سڑکوں پر گھسیٹو گے، ہمارے نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکو گے تو اس کے بعد بھی آپ کہو گے کہ ہم خاموش رہیں اور آپ کے گلے میں ہار ڈالیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر آپ زیادتی کروگے تو ہم سے کسی اچھائی کی امید مت رکھو اور ہم خاموش نہیں بیٹھے گے بلکہ آپ کی چھاؤنی کے باہر بھی احتجاج کریں گے۔
سردار اختر مینگل نے عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خواتین اور سیاسی کارکنوں کو تھری ایم پی او کے تحت غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا لیکن عدالتیں اس غیر قانونی اقدام پر تاریخوں پر تاریخیں دے رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بلوچستان آج جن مسائل سے دوچار ہے اس کی ذمہ داری یہاں کی اسٹیبلشمنٹ اور ادارے ہیں اور انہی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بلوچستان میں حالات اس نہج تک پہنچ چکے۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کو مبینہ جعلی مقابلوں میں مارنے کا سلسلہ جاری ہے ۔
جلسے میں متعدد قرار دادیں منظور کی گئیں جن میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ، علی وزیر سمیت تمام گرفتار سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی اور یورپی کمیشن کے نائب صدر کاجا کلاس نے انڈیا اور پاکستان کے وزرائے خارجہ سے رابطے کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، انڈیا اور پاکستان تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹویٹ کرتے ان کا کہنا تھا کہ میں نے آج انڈیا اور پاکستان دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ سے بات کی ہے اور انھیں یہ پیغام دیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی خطرناک ہے، میں دونوں فریقوں پر زور دیتی ہوں کے تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میں کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے انڈیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے پاکستان کا پانی روکنے یا اس کا رخ موڑنے کے لیے کوئی تعمیرات کیں یا سٹریکچر بنایا تو اسے تباہ کر دیں گے۔
پاکستان کے نجی چینل جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ’اگر انڈیا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پانی روکنے یا اس کا رخ موڑنے کے لیے کوئی سٹریکچر بناتا ہے تو اسے پاکستان کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا اور ہم اس سٹریکچر کو تباہ کر دیں گے۔‘
انھوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی آسان نہیں، یہ پاکستان کے خلاف اعلان جنگ ہو گا۔ جارحیت صرف توپ کے گولے یا بندوق چلانے سے نہیں ہوتی، اس کی بہت سی اشکال ہیں، ان میں سے جارحیت کی ایک شکل یہ بھی ہے۔ اس سے تو قومیں بھوک یا پیاس سے مر سکتی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر انڈیا سے کوئی ایسی تعمیرات کرنے کی کوشش بھی کی تو پاکستان اسے تباہ کر دے گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لیکن فی الحال پاکستان کے پاس انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ طور پر خلاف ورزی کے حوالے سے جو فورمز موجود ہیں یہ معاملہ وہاں لے جا رہے ہیں۔‘
انھوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا نے پہلگام واقعے سے متعلق کوئی ثبوت نہیں دیا اور وہ اب اپنے ہی بیانیے کا مغوی بن چکا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تناؤ اور جنگ کے خطرے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے یا کم ہو گیا ہے۔ انڈیا نے 2019 میں بھی 12 دن بعد ردعمل دیا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ گذشتہ چند روز کے دوران انڈیا کو عالمی سطح پر انڈیا پر دباؤ بڑھا ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ انڈیا وزیر اعظم مودی نے یہ سب کچھ محض سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے کیا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیان سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے انڈیا کے لیے فیس سیونگ کی گنجائش رکھی ہے کہ اگر وہ کچھ کرنا چاہتا ہے تو کر لے، اگر انڈیا نے فیس سیونگ کے لیے کوئی حرکت کی تو ہم اس کے منہ پر کالک مل دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ امریکی نائب صدر کا انفرادی بیان ہو سکتا ہے کیونکہ پالیسی بیان وائٹ ہاوس سے آتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھی بلاک کر دیا گیا۔
جمعہ کے روز وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کے بلاک ہونے والے اکاؤنٹس میں اُن کا آفیشل یوٹیوب چینل اور انسٹاگرام اکاؤنٹ شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستانی کرکٹرز بابر اعظم، حارث رؤف، محمد رضوان اور شاہین آفریدی کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بھی انڈیا میں بلاک کیے جا چُکے ہیں۔
22 اپریل 2025 کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں عسکریت پسندوں کے حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد سے انڈیا کی جانب سے پہلے سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا اور اور پھر دونوں مُلکوں کے درمیان اٹاری واہگہ بارڈر کو بند کرنے کا اعلان سامنے آیا۔ پھر اسی کے ساتھ ساتھ انڈیا کی جانب سے وہاں موجود پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا کہا گیا اور دونوں ممالک میں سفارت کاروں کی موجودگی بھی متاثر ہوئی۔
اس کے جواب میں پاکستان کی جانب سے انڈیا سے آنے والی تمام پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کو بند کر دیا گیا، اور پھر انڈیا کی جانب سے بھی ایسا ہی کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب سمیت دیگر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے انڈیا پر دبائو ڈالیں۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے یہ بات جمعے کے روز اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی سے ملاقات کے دوران کہی۔
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے حملے کے بعد جنوبی ایشیا میں امن و امان کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کا موقف بیان کرتے ہوئے، شہباز شریف نے کہا کہ ’دہشت گردی کہیں بھی ہو پاکستان اس کی مذمت کرتا ہے۔‘
وزیراعظم نے جمعے کے روز ہی متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید ابراہیم سالم الزابی سے بھی ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان کی جانب سے پاکستان کے لیے حمایت پر متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا۔ شہبازشریف نے متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید ابراہیم پہلگام واقعے کے بعد جنوبی ایشیا میں امن و امان کی حالیہ صورتحال پر پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔ ملا قات کے دوران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے۔‘
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے کویت کے سفیر ناصر عبدالرحمن جاسر نے بھی جمعے کے روز ہی اسلام آباد میں ملاقات کی۔
جمعے کے روز اس تیسری اہم ملاقات کے دوران شہباز شریف نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہم کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد الحمد المبارک الصباح کے جلد پاکستان کے دورے کے منتظر ہیں۔
اُنھوں نے کویتی سفیر کو جنوبی ایشیا کی حالیہ صورتحال پر پاکستان کے موقف پر اعتماد میں لیا اور کہا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان نے نوے ہزار سے زائد انسانی جانوں کی قربانی دی ہے اور ایک سو باون ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان اٹھایا ہے۔‘