توشہ خانہ کی نئی انکوائری میں عمران خان اور بشریٰ بی بی جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کا آٹھ دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزمان کو نیب کی تحویل میں دے دیا ہے۔ سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے اسلام آباد کی احتساب عدالت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم کی گئی تھی۔

خلاصہ

  • اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کا آٹھ دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزمان کو نیب کی تحویل میں دے دیا ہے۔
  • سماعت کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا سرکاری تحائف سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔
  • اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق ٹی ایل پی کی قیادت اور مقامی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ خیال رہے کہ ٹی ایل پی نے فیض آباد کے مطابق پر دھرنا دے رکھا ہے۔
  • کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے پولیس کی دو گاڑیاں نذرآتش کر دی ہیں

لائیو کوریج

  1. صنم جاوید کی رہائی کا حکم، تحریک انصاف کا ان کی دوبارہ گرفتاری کا دعویٰ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے پاکستان تحریک انصاف کی کارکن صنم جاوید کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے مقدمے سے بری کر دیا ہے۔

    ڈیوٹی مجسٹریٹ ملک عمران نے صنم جاوید کے ریمانڈ پر محفوظ فیصلہ سنایا اور عدالت نے صنم جاوید کے وکلا کی مقدمے سے بریت کی استدعا منظور کر لی۔ یوں عدالت نے صنم جاوید کو بری کرنے کا حکم دیا۔

    ایف آئی اے نے صنم جاوید کو گوجرانوالا سینٹرل جیل سے گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے صنم جاوید کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا تھا۔

    فیصلے میں کیا ہے؟

    دوسری جانب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ اسلام آباد نے پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کو ایف آئی اے کے مقدمے سے ڈسچارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ ڈیوٹی جج ملک محمد عمران نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمے میں الزام ہے کہ صنم جاوید نے ٹویٹ کے ذریعے ریاستی اداروں بشمول فوج کے خلاف جھوٹی معلومات پھیلائیں۔

    تاہم فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر میں صنم جاوید کے کیے گئے ٹوئٹس کے اوقات اور تاریخ درج نہیں۔ ’صنم جاوید کے ٹویٹ نے کتنے افراد کو ریاست مخالف سرگرمیوں پر اُکسایا؟ ریکارڈ میں کچھ موجود نہیں، یہ کہا ہی نہیں جا سکتا صنم جاوید نے 10 مئی 2023 کے بعد اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ استعمال کیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق صنم جاوید کا موبائل فون پولیس کے قبضے میں تھا۔‘

    فیصلے کے متن کے مطابق صنم جاوید 10 مئی 2023 سے قبل ہی ٹویٹ کر سکتی تھیں کیونکہ اس کے بعد وہ پولیس حراست میں تھیں۔ ’ایف آئی آر کے مطابق شکایت کنندہ ایف آئی اے سائبر کرائم کے سب انسپکٹر شہروز ریاض ہیں۔ ریکارڈ میں شہروز ریاض کو شکایت درج کرانے کے لیے ریاستی اداروں یا فوج سے اجازت ملنے کا ذکر نہیں۔‘

    فیصلے کے مطابق شکایت کنندہ کا تعلق فوج سے نہیں تھا لہذا ان کو مقدمہ درج کرانے کا اختیار نہیں تھا۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کے عوام کے دلوں میں ریاستی اداروں اور فوج کی محبت و عزت بڑی وسعت رکھتی ہے۔ ریاستی اداروں، فوج کی عزت و تکریم اتنی کمزور نہیں کہ ایف آئی آر میں لکھی گئی فرضی کہانیوں سے متاثر ہوسکے لہٰذا ایف آئی اے کی جانب سے صنم جاوید کے 6 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کی جاتی ہے۔‘

    فیصلے میں حکم دیا گیا ہے کہ ’صنم جاوید کو مقدمے سے ڈسچارج کیا جاتا ہے۔ اگر کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں تو صنم جاوید کو فوری رہا کر دیا جائے۔‘

    دوسری جانب صنم جاوید کے وکیل کے مطابق اسلام آباد پولیس نے صنم جاوید کو دوبارہ گرفتار کرلیا ہے تاہم اسلام آباد پولیس کی جانب سے ابھی تک صنم جاوید کی گرفتاری سے متعلق کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    MianAliAshfaq

    ،تصویر کا ذریعہMianAliAshfaq

  2. فیض آباد پر تحریکِ لبیک پاکستان کا دھرنا: راولپنڈی سے اسلام آباد، لاہور اور مری آنے جانے والی ٹریفک بلاک

    تحریکِ لبیک پاکستان کا اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد پر فلسطین کے حق میں دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے۔

    یاد رہے تحریکِ لبیک پاکستان نے اقصیٰ مارچ نکالتے ہوئے فیض آباد پہنچ کر اپنے تین مطالبات تسلیم ہونے تک فیض آباد فلائی اوور پر دھرنا دیا ہوا ہے جس کے باعث فیض آباد سے ٹریفک کے تمام راستے بند کردیے گئےہیں۔

    سربراہ تحریک لبیک سعد رضوی نے مطالبات تسلیم ہونے تک فیض آباد میں رہنے کا اعلان کیا ہے۔

    لیاقت باغ راولپنڈی سے شروع ہونے والا اقصی مارچ فیض آباد پہنچا تو اس موقع پر سعد رضوی کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے ہم ادھر ہی بیٹھے ہیں۔

    سعد رضوی کے خطاب کے بعد تحریک لبیک کے کارکنان نے فیض آباد فلائی اوور کے اوپر اور نیچے اسلام آباد ایکسپریس وے پر دھرنا دیا ہوا ہے جس سے براستہ فیض آباد راولپنڈی سے اسلام آباد اور لاہور مری جانےاور آنے والی ٹریفک بلاک ہو گئی ہے۔

  3. جج صاحب میری بیوی کا توشہ خانہ سے کچھ لینا دینا نہیں: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا سرکاری تحائف سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

    یہ سماعت سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اڈیالہ جیل کے اندر ہوئی جس کے بارے میں بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کے مطالبے پر ہی عدالت نے میڈیا کے نمائندوں کو جیل کے اندر بلانے کا حکم دیا۔

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی بابر ملک کے مطابق سماعت کے آغاز پر عمران خان نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جج صاحب میری بیوی کا توشہ خانہ سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’بشری بی بی کو صرف مجھے اذیت پہنچانے کے لیے جیل میں ڈال رکھا ہے۔‘

    اس دوران عمران خان کی جانب سے نیب کے سربراہ پر بھی تنقید کی گئی۔ انھوں نے الزام لگایا کہ ’نیب والے روبوٹ ہیں۔ ان کو تنخواہ دے کر جو مرضی کام کروالیں۔‘

    سابق وزیر اعظم نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ’میری بیوی کو بادشاہ سلامت ٹارگٹ کر رہے ہیں۔‘

    کمرہ عدالت میں موجود اڈیالہ جیل کے اہلکار کے مطابق عمران خان نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے جیل میں ڈالیں (مگر) میری بیوی کو تو چھوڑ دیں۔‘

    ’جج صاحب آپ اللہ کو جوابدہ ہیں، آئی ایس آئی کو جوابدہ نہیں ہیں۔‘

    ’میں صرف اپنی بیوی کی بات کرتا ہوں۔ اس کو دوبارہ گرفتار کر کے بہت غلط کیا ہے۔‘

    عمران خان نے دعویٰ کیا کہ نیب ریفرنس میں جس جیولری سیٹ کا ذکر کیا گیا ہے وہ ’ہمارے پاس ہے‘ اور ’اس کی قیمت ایک کروڑ 80 لاکھ تھی جسے نیب نے سوا تین ارب کر دیا ہے۔‘

    وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نیب کے سابق چیئرمین آفتاب سلطان اور دیگر لوگ مستعفی ہوئے کیونکہ ’یہ غلط فیصلے کرانا چاہتے تھے اور دوسرا کیس اس لیے بنایا ہے کیونکہ ان کو پتا چل گیا ہے کہ پہلا سیٹ ہمارے پاس ہے۔‘

    جیل اہلکار کے مطابق سماعت کے دوران عمران خان اور بشری بی بی ایک ساتھ بیٹھے رہے تھے۔

  4. توشہ خانہ کی نئی انکوائری میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کا آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور, شہزاد ملک/بی بی سی اردو، اسلام آباد

    عمران خان اور بشریٰ بی بی

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کا آٹھ دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزمان کو نیب کی تحویل میں دے دیا ہے۔

    اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے عمران خان اور بشری بی بی کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ کی عدالت میں پیش کیا۔ سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے اسلام آباد کی احتساب عدالت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم کی گئی تھی۔

    نیب کی ٹیم نے عدالت سے ملزمان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ ملزمان کے وکیل نے نیب کی جانب سے اس استدعا کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اسی مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی گئی تھی اور عدالت نے اس ضمن میں نیب کو پندرہ جولائی کے لیے نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

    عدالت نے نیب کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزمان کا آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا اور انھیں دوبارہ 22 جولائی کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس مقدمے کی تفتیش جیل کے اندر ہی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز نیب کی ٹیم نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو دوران عدت نکاح کیس میں رہائی ملنے کے بعد گرفتار کیا تھا۔

    توشہ خانہ سے جڑا یہ نیا کیس دراصل نیب کی ایک انکوائری رپورٹ ہے جس میں احتساب کے ادارے کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ نے ’دس قیمتی تحائف خلاف قانون اپنے پاس رکھے اور فروخت کیے۔‘

  5. فیض آباد پر دھرنا: مقامی انتظامیہ کو ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت کی امید

    فیض آباد، ٹی ایل پی، اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہTLP Media Cell

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کو راولپنڈی سے جوڑنے والی شاہراہ فیض آباد پر ایک بار پھر تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے مظاہرین نے بلاک کر دیا ہے۔

    سنیچر کو ٹی ایل پی کا ’لبیک یا اقصیٰ مارچ‘ راولپنڈی کے لیاقت باغ سے شروع ہو کر فیض آباد پہنچا تھا جہاں جماعت کے سربراہ سعد حسین رضوی نے مطالبات کی منظوری تک دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا۔

    ٹی ایل پی نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینیوں تک غذائی اور طبی امداد پہنچائی جائے، سرکاری طور پر اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے اور حکومت کی جانب سے ’اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کو دہشتگرد قرار دیا جائے۔‘

    ٹی ایل پی کے رہنما سعد حسین رضوی نے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے ہم ادھر ہی بیٹھے ہیں۔‘

    دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے مظاہرین کے ساتھ تاحال مذاکرات شروع نہیں کیے گئے ہیں۔

    وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط بی بی سی کے نامہ نگار روحان احمد کو بتایا کہ ’ٹی ایل پی نے جو مطالبات رکھے ہیں وہ آتے تو وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہی ہیں تاہم اب تک وفاقی حکومت کی جانب سے ٹی ایل پی کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے گئے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اب تک ٹی ایل پی کے مذاکرات مقامی انتظامیہ کے ساتھ ہی چل رہے ہیں۔

    دوسری جانب اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر رانا وقاص نے بی بی سی کے نامہ نگار سعد سہیل کو تصدیق کی ہے کہ احتجاجی مظاہرے کے قائدین اور مقامی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے کارکنان اس وقت فیض آباد پر دھرنا دیے ہوئے ہیں لیکن باقی تمام شاہراہیں عام ٹریفک کے لیے کھلی ہیں۔

    اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ گذشتہ رات مقامی انتظامیہ اور ٹی ایل پی کے پانچ رُکنی وفد کے درمیان جماعت کے تینوں مطالبات پر طویل مذاکراتی نشست ہوئی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے وفد کو قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ غزہ کی صورتحال پر حکومت پاکستان کا پہلے ہی سے موقف بہت واضح ہے اور اس ضمن میں فلسطینیوں کے حق کے لیے طبی امداد مصر کے ذریعے پہلے ہی بھجوائی جا رہی ہے۔

    رانا وقاص نے اس امید کا اظہار کیا کہ آج مذاکرات میں یقیناً کوئی پیشرفت ہوگی اور معاملہ حل کی طرف جائے گا۔

  6. بریکنگ, توشہ خانہ کیس کی سماعت جیل میں کرنے کا نوٹیفکیشن جاری، عمران خان اور بشری بی بی کی عدالت میں پیشی متوقع

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزارت قانون نے عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت جیل میں کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی توشہ خانہ میں گرفتاری کے معاملے میں نیب ڈپٹی ڈائریکٹر محسن ہارون اپنی ٹیم کے ساتھ اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں۔

    عمران خان اور بشری بی بی کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ اڈیالہ جیل میں اس مقدمے کی سماعت کریں گے۔نیب حکام کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر محسن ہارون ملزمان کے جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کریں گے۔

    نیب ٹیم نے گذشتہ روز عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا تھا۔ ان دونوں کی گرفتاری عدت کیس میں بریت کے بعد متعلقہ عدالت کی طرف سے روبکار جاری ہونے کے بعد عمک میں آئی تھی۔

  7. کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے پولیس کی دو گاڑیاں نذرآتش کر دیں

    کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے سینیچر کی شب پولیس کی گاڑیوں کو نذرآتش کیا۔

    ان میں سے ایک گاڑی کو ریلوے سٹیشن کے سامنے نذرآتش کیا گیا جہاں اس گاڑی کو نذرآتش کیا گیا وہ عبدالستار ایدھی چوک کے قریب ہے جہاں لاپتہ ظہیر بلوچ کی بازیابی کے لیے دھرنا دیا جارہا ہے۔

    حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے بتایا کہ دو مقامات پر پولیس کی دو موبائل گاڑیوں کو نذرآتش کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کو نذرآتش کرنے والوں کی نشاندہی ہوگئی ہے جنھیں گرفتار کر لیا جائے گا۔

    ان گاڑیوں کو نذرآتش کرنے کے بعد ریڈ زون کی جانب جانے والے تمام راستوں کو کنٹینرز اور ٹرک کھڑا کرکے بند کردیا گیا۔ دھرنے کے شرکاء نے یہ اعلان کیا ہے کہ اگر لاپتہ ظہیر بلوچ کی بازیابی اور گرفتار افراد کی رہائی کے حوالے سے پیش رفت نہیں ہوئی تو دھرنے کے شرکاء ریڈزون کی جانب جائیں گے۔

    پولیس موبائل کو جلانے کے واقعے کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کی خاتون رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا ایک بیان سامنے آیا جس میں انھوں نے کہا کہ گاڑیوں کو نذرآتش کرنے والوں کا ان کے دھرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ہے ہم پرامن طور پر دھرنے میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ہمارا دھرنا جاری رہے گا اور جو کوئی بھی جلاﺅ گھیراﺅ میں ملوث ہے وہ ہم میں سے نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ہمارے حکومت وقت سے مذاکرات ناکام ہوگئے تاہم اگر حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو ہم تیار ہیں۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ نے کہا کہ جب تک مطالبات تسلیم نہیں ہوں گے احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔ دوسری جانب حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے روز سے مظاہرین کے پر امن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’مذاکرات کی ابتداء میں حکومت کا موقف واضح ہے اور مسئلے کے حل کے لیے حکومت نے نکات مظاہرین کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ مظاہرین دھرنا ختم کریں حکومت ان کے جائز مطالبات تسلیم کرنے کو تیار ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’ریڈ زون میں احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پر امن احتجاج اگر مظاہرین کا آئینی حق ہے تو قانون کے تحت احتجاج کے مقام کا تعین حکومت اور انتظامیہ کا حق ہے۔‘

  8. سنیچر کے دن کی اہم خبریں

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں بریت کے بعد سب سے اہم سوال یہی پوچھا جا رہا تھا کہ کیا اب سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہائی ممکن ہو سکے گی؟

    اس کے کچھ دیر بعد قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ایک اور مقدمے میں گرفتار کرلیا۔

    انکوائری رپورٹ میں سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے۔ نیب کے دعوے کے مطابق نیا کیس دس ’قیمتی‘ تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور فروخت سے متعلق ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا نے نکاح کے مقدمے میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بری کیا تھا۔

    مذہبی جماعت ’ٹی ایل پی‘ کا فیض آباد پر دھرنا

    اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے دھرنا دے دیا ہے۔ ٹی ایل پی کے ایک ترجمان امجد رضوی نے بی بی سی کے شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے اس دھرنے کی تصدیق کی ہے اور یہ کہا ہے کہ ان کی جماعت کے حکومت سے تین مطالبات ہیں۔

    ان مطالبات میں اسرائیلی اشیا کا بائیکاٹ، نتن ہایو کو دہشت گرد قرار دینا اور فلسطین کو میڈیکل وغیرہ کی امداد مہیا کرنا شامل ہیں۔

    تحریک انصاف کی رہنما صنم جاوید رہائی کے بعد ایک بار پھر گرفتار

    پولیس نے پی ٹی آئی کی رہنما اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ صنم جاوید کو سنٹرل جیل گوجرانوالہ سے رہائی کے بعد جیل سے باہر نکلتے ہی پھر گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے دو روز قبل صنم جاوید کو 9 مئی کے مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

    ’سپریم کورٹ کے فیصلے کے بھیانک نتائج ہو سکتے ہیں‘: وزیر دفاع خواجہ آصف کی عدلیہ پر تنقید

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلہ اس شخص کی دہلیز تک پہنچایا گیا، جس نے دروازہ ہی نہیں کھٹکھٹایا تھا، جو سائل ہی نہیں تھا۔

    وزیر دفاع کے مطابق ’فیصلے کی ہوم ڈیلیوری کی گئی اور یہ پی ٹی آئی پر من و سلویٰ اترا ہے۔‘

  9. عمران خان اہلیہ سمیت ایک اور مقدمے میں گرفتار، نیب کا نیا توشہ خانہ کیس کیا ہے؟, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ایک اور مقدمے میں گرفتار کرلیا ہے۔

    سنیچر کو تحریک انصاف نے نیب کی انکوائری رپورٹ کے خلاف نیب کی احتساب عدالت میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دی تھی۔ اس درخواست پر نیب کی احتساب عدالت نے نیب حکام کو نوٹس بھی جاری کیا تھا مگر اس دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی کو نیب نے گرفتار کر لیا۔

    قانونی ماہرین کے مطابق نیب کے قانون میں ترامیم کے بعد اب کیس بھی ملزم کو گرفتار کر کے 40 دن تک نیب حراست میں رکھ سکتا ہے۔

    راولپنڈی کے اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر محسن ہارون کی سربراہی میں نیب کی ٹیم سنیچر کو اڈیالہ جیل میں آئی تھی اور انھوں نے ’توشہ خانہ ٹو‘ کا ایک اور معاملہ جس میں طلائی زیورات اور گھڑیوں کی فروخت کے بارے میں انکوائری چل رہیں تھیں، میں عمران خان اور بشری بی بی کی گرفتاری ڈال دی ہے۔

    واضح رہے کہ عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں دی جانے والے سزا کو سنیچر کی سہہ پہر اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے کالعدم قرار دے دیا تھا اور عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی سے متعلق روبکار بھی جاری کردی تھی۔

    متعقلہ عدالت کے اہلکار روبکار پر عملدرآمد کروانے کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے اور اس روبکار پر عمل درآمد کروانے کے بعد نیب کی ٹیم جو کہ پہلے ہی اڈیالہ جیل کے اندر موجود تھی، نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈال دی ہے۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب کے علاوہ پارٹی کے دیگر رہنما بشریٰ بی بی کی ممکنہ رہائی کے بعد ان کا استقبال کرنے کے لیے جیل کے باہر پہنچے ہیں اور پی ٹی آئی کے ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب تک انھیں آگاہ نہیں کیا جاتا کہ عمران خان اور بشری بی بی کو گرفتار کرلیا گیا ہے اس وقت تک وہ اڈیالہ جیل کے باہر سے نہیں جائیں گے۔

    عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ کا نیا کیس کیا ہے؟

    انکوائری رپورٹ میں سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے۔ نیب کے دعوے کے مطابق نیا کیس دس ’قیمتی‘ تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے۔

    انکوائری رپورٹ کے مطابق گراف واچ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لیے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    رپورٹ کے مطابق گراف واچ کا قیمتی سیٹ بھی اپنے پاس رکھنے کے بجائے بیچ دیا گیا۔

    نیب کی تحقیقات کے مطابق نجی تخمینہ ساز کی ملی بھگت سے گراف واچ کے خریدار کو فائدہ پہنچایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق تخمینہ ساز کا توشہ خانہ سے ای میل آنے سے پہلے ہی گھڑی کی قیمت تین کروڑ کم لگانا ملی بھگت کا ثبوت ہے۔

    نیب کے مطابق گراف واچ کی قیمت دس کروڑ نو لاکھ بیس ہزار روپے لگائی گئی۔ بیس فیصد رقم، دو کروڑ ایک لاکھ 78 ہزار روپے سرکاری خزانے کو دیے گئے۔

    نیب کے مطابق ہر تحفے کو پہلے رپورٹ کرنا اور توشہ خانہ میں جمع کروانا لازم ہے اور صرف تیس ہزار روپے تک کی مالیت کے تحائف مفت اپنے پاس رکھے جا سکتے ہیں۔

    کیا بار بار ایک ہی نوعیت کے حقائق پر ایک سے زائد مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں؟

    تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست کی کہ ایک ہی نوعیت کے الگ الگ مقدمات درج نہیں کیے جا سکتے۔

    عدالت نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے اکتوبر تک سماعت ملتوی کر دی۔ اس درخواست میں پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ توشہ خانہ میں پہلے ہی عمران خان اور بشریٰ بی بی ضمانت پر ہیں اور ان کے خلاف مزید ایسے مقدمات درج کرنا خلاف قانون ہے۔

    سوشل میڈیا پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر تحریک انصاف نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ’نئے نئے جھوٹے جعلی کیسز بناتے جاؤ، وقت گزارتے جاؤ، اس کے علاوہ کوئی حربہ نہیں ان کے پاس! جیت تو وہ گیا ہے، اور ہار تو یہ گئے ہیں، بس تھوڑی دیر اور، پھر جیت کا اعلان پوری دنیا میں گونجے گا انشاءاللّہ!‘

  10. ’سپریم کورٹ کے فیصلے کے بھیانک نتائج ہو سکتے ہیں، نظرثانی کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی‘: وزیر دفاع خواجہ آصف کی عدلیہ پر تنقید

    Kh Asif

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلہ اس شخص کی دہلیز تک پہنچایا گیا، جس نے دروازہ ہی نہیں کھٹکھٹایا تھا، جو سائل ہی نہیں تھا۔

    وزیر دفاع کے مطابق ’فیصلے کی ہوم ڈیلیوری کی گئی اور یہ پی ٹی آئی پر من و سلویٰ اترا ہے۔‘

    سیالکوٹ میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر آگے کیا ردعمل دینا ہے اس کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہو گا، پیر کو پارلیمنٹ میں ایک مشترکہ فیصلہ ہو گا کہ حکومت نظر ثانی کی طرف جائے گی یا نہیں۔

    وزیر دفاع نے کہا کہ یہ ’آئینی فیصلہ نہیں تھا، سیاسی مضمرات نظر آ رہے ہیں۔‘ ان کے مطابق آئین جو پارلیمنٹ کو اختیارات دیتا ہے اس کا تحفظ کریں گے۔ ان کے مطابق ’آئین کو دوبارہ تحریر کیا گیا جو اختیارات صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ سب اداروں کا آئینی حدود میں رہنا لازم ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ’اس فیصلے سے آئین کی بہت سی شقوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے، بہتر فیصلے وہ ہوتے ہیں جو عام فہم ہوں اور لب کشائی نہ کی جائے۔‘

    ’اس فیصلے کے نتائج بہت بھیانک ہو سکتے ہیں‘

    وزیر دفاع نے کہا کہ اس فیصلے کے نتائج بہت بھیانک ہو سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایک ایک قانون سازی ہو رہی تھی۔ بیورکریسی، عدلیہ اور فوج کے ملازمین کی مدت بڑھائی جا رہی تھی تا کہ پینشن کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ یہ عالمی مالیاتی اداروں کی شرط بھی تھی کہ یہ بوجھ کم کرنا ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ ’ایک غیر آئینی اقدام سے ایک ایسا رستہ کھول رہے ہیں جہاں ہر چیز کا فیصلہ سیاست ہی کرے گی۔‘

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا موجودہ حالات میں پنڈورا باکس کھل گیا ہے، قومی مستبقل کے لیے یہ اچھی بات نہیں ہے، کل ہم کس ادارے سے کہیں گے کہ آپ نے غیرآئینی کام کیا ہے، الیکشن کمیشن بھی آئینی ادارہ ہے، پارلیمنٹ بھی آئینی ادارہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا ہمارے اس وقت بھی 209 ممبرز ہیں۔ ان کے مطابق دوسری جماعتوں سے بھی بات چیت چل رہی ہے اور یہ نمبر بڑھ بھی سکتا ہے۔ ان کے مطابق قبل از وقت انتخابات کے کوئی امکانات نظر نہیں آ رہے ہیں۔

    وزیر دفاع نے کہا کہ ’اعلیٰ ترین عدلیہ کے بارے میں غیرضروری بیانات سے گریز کرتا ہوں لیکن آئین کی سربلندی کے لیے کردار ادا کرتے رہیں گے، سارا نزلہ سیاستدانوں پہ گرتا رہا، ہم وہ سہتے رہے، لوگ پھانسی لگ گئے اور انصاف نہیں ملا، دو دو، تین تین نسلوں سے لوگ انصاف کے منتظر ہیں۔

    ’عدالتوں کے سامنے دو ملین سے زیادہ سائل ہیں مگر انھیں انصاف نہیں مل رہا‘

    انھوں نے کہا کہ ’نچلی عدالتوں سے لے کر اعلیٰ عدلیہ تک دو ملین سے زیادہ سائل موجود ہیں جو اس وقت ہماری عدلیہ کے سامنے ہیں مگر انھیں انصاف نہیں مل رہا ہے۔ انھیں وہ لوگ نظر نہیں آ رہے ہیں، انھیں سائل بھی نہیں کہا جا سکتا ان میں سے کئی لوگ پھانسی لگ گئے ہیں اور انصاف بعد میں ہوتا ہے۔‘

    وزیر دفاع نے کہا کہ ’اس وقت ہماری عدلیہ دنیا میں 134 نمبر پر ہے اور اس مقام کو تبدیل کرنے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اگر یہ نمبر 94 پر بھی آ جائے تو کوئی اس میں قوم کی عزت ہو مگر اس طرف کوئی توجہ نہیں ہے۔‘

    ان کے مطابق یہ درجہ بندی عالمی سطح پر کی گئی ہے۔

    تحریک انصاف فریق تھی نہ انھوں نے ان نشستوں پر دعویٰ کیا تھا اور نہ انھوں نے کوئی ریلیف مانگا تھا۔ تحریک انصاف عدالت کے سامنے کوئی نام و نشان ہی نہیں تھا۔

    جن اراکین نے حلف نامہ جمع کرایا ہے وہ اب نئے سرے سے حلف نامہ جمع نہیں کرا سکتے ہیں۔ اب سنی اتحاد کے بجائے وہ تحریک انصاف کے لیے حلف نامہ جمع کرائیں گے۔ حلف کی بھی کوئی توقیر ہوتی ہے۔ اگر ایک رکن دو حلف نامے جاری کرے گا تو دو نمبری ہو گی۔

    ان کے مطابق دوبارہ بیان حلفی جمع کرانا خلاف قانون ہوگا۔ کس بیان حلفی کو درست سمجھا جائے گا؟

    ان کے مطابق ایسی پارلیمنٹ کی کیا توقیر ہو گی جس میں دو دو حلف والے اراکین موجود ہوں گے۔

  11. مذہبی جماعت ’ٹی ایل پی‘ نے فیض آباد کے مقام پر پھر دھرنا دے دیا

    Saad Rizvi

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے دھرنا دے دیا ہے۔

    ٹی ایل پی کے ایک ترجمان امجد رضوی نے بی بی سی کے شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے اس دھرنے کی تصدیق کی ہے اور یہ کہا ہے کہ ان کی جماعت کے حکومت سے تین مطالبات ہیں۔

    ان مطالبات میں اسرائیلی اشیا کا بائیکاٹ، نتن ہایو کو دہشت گرد قرار دینا اور فلسطین کو میڈیکل وغیرہ کی امداد مہیا کرنا شامل ہیں۔

    ٹی ایل پی نے ان مطالبات کے پورا ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    یاد رہے کہ چند برس قبل تحریک لبیک نے فیض آباد کے مقام پر ایک دھرنا دی تھا جس پر سپریم کورٹ نے ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا۔

    ٹی ایل پی کا ماضی کا فیض آباد دھرنا کیا تھا؟

    پانچ نومبر 2017 کو فیض آباد کے مقام پر ٹی ایل پی نے ختم نبوت کے حلف نامے میں متنازع ترمیم کے خلاف دھرنا دیا تھا۔

    حکومت نے مذاکرات کے ذریعے دھرنا پرامن طور پر ختم کروانے کی کوششوں میں ناکامی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیض آباد خالی کرانے کے حکم کے بعد دھرنا مظاہرین کے خلاف 25 نومبر کو آپریشن کیا تھا، جس میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 100 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

    اس دھرنے کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت میں نظام زندگی متاثر ہوا تھا جبکہ آپریشن کے بعد مذہبی جماعت کی حمایت میں ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہو گئے تھے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    27 نومبر 2017 کو حکومت نے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے سمیت اسلام آباد دھرنے کے شرکا کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے تھے، جس میں دوران آپریشن گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

    بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران فیض آباد دھرنے کا معاملہ زیرِ بحث آنے پر اس پر نوٹس لیا تھا اور متعلقہ اداروں سے جواب مانگا تھا۔

    حکومت کی جانب سے اس حوالے سے سنہ 2023 میں تشکیل کردہ کمیشن میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، دو ریٹائرڈ سابق آئی جیز طاہر عالم خان اور اختر شاہ شامل تھے۔

    ٹی او آرز کے مطابق کمیشن کو فیض آباد دھرنا اور اس کے بعد ہونے والے واقعات کے لیے ٹی ایل پی کو فراہم کی گئی غیر قانونی مالی یا دیگر معاونت کی انکوائری کا کام سونپا گیا تھا۔

    بعد ازاں اس وقت سپریم کورٹ کے جسٹس (اب چیف جسٹس) قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 22 نومبر کو فیض آباد دھرنے کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    سات فروری 2019 کو سپریم کورٹ نے ٹی ایل پی کی جانب سے 2017 میں فیض آباد میں دیے گئے دھرنے کے خلاف ازخود نوٹس کا فیصلہ سناتے ہوئے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، خفیہ ایجنسیوں اور فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ کوئی شخص جو فتویٰ جاری کرے جس سے ’کسی دوسرے کو نقصان یا اس کے راستے میں مشکل ہو‘ تو پاکستان پینل کوڈ، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 یا پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت ایسے شخص کے خلاف ضرور مقدمہ چلایا جائے۔

  12. تحریک انصاف کی رہنما صنم جاوید رہائی کے بعد ایک بار پھر گرفتار, احتشام شامی، صحافی

    Sanam Javaid

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پولیس نے پی ٹی آئی کی رہنما اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ صنم جاوید کو سنٹرل جیل گوجرانوالہ سے رہائی کے بعد جیل سے باہر نکلتے ہی پھر گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    پولیس اہلکاروں کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے اسلام آباد پولیس کی مدد سے صنم جاوید کو گرفتارکیا ہے۔

    واضح رہے کہ صنم جاوید کی نو مئی کے مقدمہ میں گرفتاری کے بعد آج 14 ماہ بعد رہائی ہو رہی تھی۔ وسطی پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر صنم جاوید کی رہائی کی روبکار جاری کی تھی۔

    لاہور ہائیکورٹ نے دو روز قبل صنم جاوید کو 9 مئی کے مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

    گوجرانوالہ سنٹرل جیل سے صنم جاوید کی رہائی کے باعث سنٹرل جیل کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

    لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں کیا کہا گیا تھا؟

    LHC

    ،تصویر کا ذریعہLHC

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اسجد جاوید کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے دو روز قبل 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا تھا۔

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ درخواست گزار کو بار بار ایک نوعیت کے مقدمے میں نامزد کرنا بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔ عدالت کے مطابق درخواست گزار کو رہائی کے بعد بار بار گرفتار کرنے کا مقصد عدالتی نظام کو شکست دینا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ لاہور اور گوجرانولہ کے ڈپٹی کمشنرز نے جیل میں ہونے کے باوجود درخواست گزار کے نظر بندی کے احکامات جاری کیے۔

    ججز نے لکھا کہ ڈپٹی کمشنرز کے خلاف سخت کارروائی کا کہتے لیکن عدالت بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ جسمانی ریمانڈ دینے والی عدالتوں کو بھی ریمانڈ دیتے ہوئے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کو سامنے رکھنا چاہیے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ تفتیشی افسر کے پاس درخواست گزار کو مقدمے میں نامزد کرنے کے لیے کوئی شواہد موجود نہیں۔

    عدالت کے مطابق درخواست گزار کے خلاف گواجرنوالہ میں مقدمہ بدنیتی کی بنیاد پر درج کیا گیا۔درخواست گزار کو مقدمے سے فوری طور پر ڈسچارج کیا جاتا ہے۔

    تحریری فیصلے کے مطابق ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل نے بیان دیا کہ صنم جاوید کے خلاف مزید کو ئی مقدمہ درج نہیں ہے۔ عدالت نے فیصلے کی کاپی جوڈیشل افسران، آئی جی اور تمام ڈپٹی کمشنرز کو بھیجنے کی ہدایت کردی تھی۔

  13. نکاح کیس میں بریت کے بعد عمران خان کی رہائی کے کیا امکانات ہیں؟

    ImranKhan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عمران خان کی عدت میں نکاح کیس میں بریت کے بعد سب سے اہم سوال یہی پوچھا جا رہا ہے کہ کیا اب سابق وزیراعظم کی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہائی ممکن ہو سکے گی؟

    عمران خان کے وکیل اور پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آج عمران خان کی رہائی ہونی چاہیے، یہ ان کے خلاف آخری مقدمہ تھا۔‘

    ان کے مطابق عمران خان القادر ٹرسٹ کیس میں پہلے ہی ضمانت پر ہیں جبکہ عدت میں نکاح والا یہ ان کے خلاف آخری مقدمہ تھا جس میں انھیں بری کر دیا گیا ہے۔

    ان کے مطابق ’یہ وہ کیس تھا جس کی کوئی بنیاد نہیں تھی۔ یہ صرف اور صرف سیاسی انتقام کے مقدمات تھے۔‘

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بشریٰ بی بی کی دیگر مقدمات میں ضمانت ہو چکی ہے۔

    دوسری جانب عمران خان کی ہی جماعت کے ایک ترجمان احمد جنجوعہ نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان کو نو مئی سے متعلق مزید تین مقدمات میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ان کے مطابق لاہور کی ایک انسداد دہشتگردی کی عدالت نے نو مئی کے مقدمات میں عمران خان سے تفتیش سے متعلق درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کی اجازت دے دی ہے۔

    سینیٹر علی ظفر نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان کے خلاف ابھی کوئی مقدمہ نہیں ہے مگر ہمیں یہ معلوم ہے کہ ماضی میں حکومت بریت یا ضمانت کے بعد کچھ زیر التوا مقدمات بھی سامنے لے آتی تھی جن میں عمران خان کی گرفتاری ڈالی جاتی تھی۔

    ان کے مطابق اگرچہ تحریک انصاف نے عمران خان کے تمام مقدمات میں ضمانت یا بریت حاصل کر لی ہے مگر اس کے باوجود یہ ڈر ہے کہ حکومت کچھ مزید مقدمات بھی سامنے لے آئے گی مگر ایسے ’چھوٹے موٹے مقدمات‘ میں عدالتوں سے جلد انصاف ملنے کی توقع ہے۔

    علی ظفر کے مطابق ان کے نوٹس میں ایک ریفرنس آیا ہے جو نیب نے عمران خان کے خلاف تیار کیا ہے اور اب حکومت کسی بھی وقت اس مقدمے میں بھی عمران خان کی گرفتاری ڈال سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس ریفرنس میں ضمانت کے لیے انھوں نے درخواست دائر کر دی ہے۔

  14. ’خاور مانیکا اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہے‘: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کے فیصلے میں اہم نکات کیا ہیں؟

    اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا نے نکاح کے مقدمے میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بری کر دیا ہے۔

    آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ جج نے اپنے فیصلے میں کس بنیاد پر یہ بریت کا فیصلہ دیا ہے اور اس مقدمے میں شکایت کنندہ خاور مانیکا کے بارے میں کیا کہا ہے؟

    جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ عمران خان اور بشری بی بی کی شادی کسی دھوکے اور بدنیتی کی بنیاد پر نہیں ہوئی ہے۔

    فیصلے کے مطابق کسی فریق نے یہ دعویٰ نہیں کیا ہے کہ دونوں کا سرے سے نکاح ہی نہیں ہوا ہے۔

    عدالت کے مطابق بشری بی بی کے سابق شوہر اور اس مقدمے میں شکایت کنندہ خاور مانیکا چھ برس تک خاموش رہے اور یوں ان کا رجوع کا وقت اب گزر چکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے عدت کی مدت پوری ہونے کے بعد شادی کی اور یہ ایک جائز شادی ہے۔

    عدالت کے مطابق اس مقدمے میں خاور مانیکا اس مقدمے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    عدالت کے مطابق خاور مانیکا کی اس مقدمے میں ناکامی کے بعد عمران خان اور بشری بی بی کی اس مقدمے میں سزاوں کے خلاف اپیلیں منظور کی جاتی ہیں اور تین فروری کو اس مقدمے میں انھیں جو سزا سنائی گئی وہ کالعدم قرار دی جاتی ہے۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اگر عمران خان اور بشریٰ بی بی کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں تو پھر انھیں عدالتی روبکار کے عین مطابق اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا جائے۔

    عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کے نام روبکار جاری کر دی۔

  15. ’مذاکرات کے لیے تیار ہوں، پہلی شرط یہ ہے کہ میرے خلاف مقدمات ختم کریں‘ عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے 190 ملین پاونڈ کے مقدمے کی سماعت کے دوران روالپنڈی کی اڈیالہ جیل میں کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کے بارے سپریم کورٹ کا فیصلہ مثبت پیش رفت ہے اور سپریم کورٹ کے کل کے فیصلے سے عوام کو امید ملی ہے۔

    انھوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سب کو پتہ تھا اسٹیبلشمنٹ اور قاضی فائز عیسیٰ کہاں کھڑے ہیں اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہم سے ہمارا پارٹی نشان چھین لیا۔

    انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چیف الیکشن کمشنر کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

    انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے میرا سوال ہے کہ کیا اخلاقی طور پر ان کو میرے کیسز میں بیٹھنا چاہیے کیونکہ جسٹس گلزار کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے کہا تھا قاضی فائز عیسیٰ کو میرے کیسز نہیں سننے چاہییں۔ انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس کی اہلیہ کے میرے خلاف بیانات آن ریکارڈ ہیں۔

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی بابر ملک کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک چھوٹی سے ایلیٹ ملک پر قابض ہے اور سپریم کورٹ ہی اس ایلیٹ کو قانون کے نیچے لا سکتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ آئندہ سال کا بجٹ موجودہ بجٹ سے زیادہ سخت ہو گا۔ عوام پر ٹیکسوں کی بارش کی جارہی ہے۔

    اس سوال کے جواب میں کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد آپ کی قومی و صوبائی اسمبلیوں میں عددی اکثریت بڑھ گئی ہے کیا ان ہاؤس تبدیلی کے لیے کسی جماعت سے بات کریں گے؟ عمران خان کا کہنا تھا کہ میں کسی جوڑ توڑ کا حصہ نہیں بنوں گا اور ملک بچانا ہے تو واحد راستہ صاف و شفاف الیکشن ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں مذاکرات کے لیے تیار ہوں لیکن ہماری تین شرائط ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک میرے کیسز ختم کریں، دوسرا ہمارے لوگوں کو رہا کریں، تیسرا ہمارا مینڈیٹ واپس کریں۔

    عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ’میں نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے دو مرتبہ مذاکرات کیے۔ ہم نے اس وقت اسد عمر، پرویز خٹک اور شاہ محمود قریشی پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی اور اس وقت ہمیں بتایا گیا بڑے صاحب انتخابات نہ کرانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ میں ایک سال سے جیل میں ہوں اور صرف تین ڈشز کھا رہا ہوں، کتابیں پڑھتا ہوں، ورزش کرتا ہوں اور عبادت کرتا ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ بھوک ہڑتال کروں گا اور اسے ہم عالمی سطح پر اجاگر کریں گے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ جیل میں افسروں کے تبادلے کروائے جا رہے ہیں اور ان کا خیال ہے میں ڈر جاؤنگا میں ڈرنے والا نہیں۔

  16. ’آج عمران خان کی رہائی ہونی چاہیے، یہ ان کے خلاف آخری مقدمہ تھا‘: بیرسٹر گوہر علی کا دعویٰ

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آج عمران خان کی رہائی ہونی چاہیے، یہ ان کے خلاف آخری مقدمہ تھا۔‘ ان کے مطابق عمران خان القادر ٹرسٹ کیس میں پہلے ہی ضمانت پر ہیں جبکہ عدت میں نکاح والا یہ ان کے خلاف آخری مقدمہ تھا جس میں انھیں بری کر دیا گیا۔

    ان کے مطابق ’یہ وہ کیس تھا جس کی کوئی بنیاد نہیں تھی۔ یہ صرف اور صرف سیاسی انتقام کے مقدمات تھے۔‘ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے دیگر مقدمات میں ضمانت ہو چکی ہے۔

    بیرسٹر گوہر علی کا کہنا ہے کہ ’آج اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے۔ عمران خان سپریم کورٹ کے فیصلے پر بہت خوش تھے۔‘

  17. بریکنگ, عدت کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی بری، عدالت کا رہائی کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی ایک عدالت نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کے مقدمے میں بری کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا ہے۔

    اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا نے عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سزا کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں منظور کر لی ہیں۔ عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو اس مقدمے سے بری کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت نے اڈیالہ جیل حکام کو روبکار جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر کسی اور مقدمے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی مطلوب نہیں ہیں تو انھیں رہا کر دیا جائے۔

    بریت کے باوجود عمران خان ابھی رہا نہیں ہو سکیں گے، بشری بی بی کی رہائی کے امکانات

    آج کے عدالتی فیصلے کے بعد بھی عمران خان رہا نہیں ہو پائیں گے کیونکہ ان اپیلوں پر فیصلہ آنے سے پہلے ہی لاہور کی انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت نے 9 مئی کے واقعات میں عمران خان کی عبوری ضمانت مسترد کر دی تھی جس کے بعد لاہور پولیس نے ان مقدمات میں عمران خان کی گرفتاری ڈال دی ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ عمران خان کی اہلیہ ان اپیلوں کی منظوری کے بعد رہا ہو جائیں گی کیونکہ ان کے خلاف اور ایسا کوئی مقدمہ نہیں ہے جس میں ان کی گرفتاری مطلوب ہو۔

    بشریٰ بی بی کے خلاف دو مقدمات درج تھے جس میں سے عدت کے دوران نکاح کے مقدمے وہ بری ہو گئی ہیں جبکہ 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں بشریٰ بی بی پہلے ہی ضمانت پر ہیں۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ میں سنائی گئیں سزائیں معطل کر دی تھیں۔

    عدت میں نکاح کیس کا مختصر پسِ منظر

    رواں سال تین فروری کو اسلام آباد کی ایک سِول عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو دورانِ عدت نکاح کیس میں سات، سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔

    25 نومبر 2023 کو بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے اسلام آباد کے سول جج قدرت اللہ کی عدالت سے رجوع کیا اور عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کا کیس دائر کیا تھا۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دورانِ عدت نکاح کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد عمران خان اور بشریٰ بی بی نے مفتی سعید کے ذریعے فروری 2018 میں دوبارہ نکاح کیا۔

    خاور مانیکا نے درخواست میں استدعا کی تھی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو طلب کیا جائے اور انھیں آئین اور قانون کے تحت سخت سزا دی جائے۔

    28 نومبر کو ہونے والی سماعت میں نکاح خواں مفتی سعید اور عون چوہدری نے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے تھے۔

    اس کے بعد پانچ دسمبر کو ہونے والی سماعت میں خاور مانیکا کے گھریلو ملازم اور کیس کے گواہ محمد لطیف نے بیان قلمبند کرایا تھا۔

    تین فروری کو سابق وزیر اعظم و بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو نکاح کیس میں سات، سات سال قید کی سزا سنادی گئی تھی۔

    عدت طلاق ہونے یا شوہر کی وفات کے بعد اس مخصوص وقت کو کہتے ہیں جس کے دوران اسلامی قانون کے مطابق خاتون کو دوسرا نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔

    اس مقدمے کی سماعت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہوتی رہی کیونکہ عمران خان مختلف مقدمات میں جیل میں قید تھے اور جیل میں سماعت کے دوران عمران خان اور درخواست گزار خاور مانیکا کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔

    ڈھائی ماہ تک اس مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت نے اس سال تین فروری کو خاور مانیکا کے حق میں فیصلہ سنایا اور ساتھ ہی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سات سات قید کے علاوہ پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

    اس فیصلے کے خلاف بشری بی بی اور عمران خان نے اپیل کی۔

    ان سزاوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت پہلے ایک اور ایڈشنل سیشن جج ظفر اقبال نے کی لیکن خاور مانیکا نے جج پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا۔ جس کے بعد یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈشنل سیشن جج افضل مجوکا کی عدالت کو بھیج دیا اور انھیں ایک ماہ میں ان اپیلوں پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔

  18. دوران عدت نکاح کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیل پر فیصلہ دوپہر تین بجے سنایا جائے گا

    عمران خان، بشریٰ بی بی، اسلام آباد، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جو آج دوپہر تین بجے سنایا جائے گا۔

    سنیچر کو عدالت میں بشریٰ بی بی کے پہلے شوہر خاور منیکا کے وکیل زاہد آصف اور عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے۔

    سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں پوری امید ہے کہ فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا، میں عوام کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم روز لڑ رہے ہیں اور اگر کوئی فیصلہ ہماری توقع کے خلاف بھی آتا ہے تو کوئی بات نہیں، ہم آگے لڑتے جائیں گے، ہائی کورٹ جائیں گے، سپریم کورٹ جائیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کی ججمنٹ بالکل واضح ہے کہ جب ایک خاتون کہہ دیتی ہے کہ اس کی ماہواریاں پوری ہیں اور 49 کا دن گزر جاتا ہے تو اس کے بعد یہ معاملہ بند ہوجاتا ہے، فقہ اور شریعت بھی یہی کہتی ہے کہ خاتون کا کہا حتمی ہے۔‘

    خیال رہے رواں برس فروری میں اسلام آباد کے سینیئر سِول جج قدرت اللہ دورانِ عدت نکاح کے مقدمے میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سات، سات سال قید کی سزا سُنائی تھی۔

  19. پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سات ارب ڈالر کا سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا

    آئی ایم ایف، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان سات ارب ڈالر قرض کا نیا سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    آئی ایم کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 37 ماہ کے قرض پروگرام کی حتمی منظوری ادارے کا ایگزیکٹو بورڈ دے گا۔

    آئی ایم ایف پاکستان کے مشن کے سربراہ ناتھن پورٹر سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام اور آئی ایف ایف ٹیم کے درمیان ایک جامع پروگرام پر سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کی توثیق پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بھی کی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق پروگرام کے تحت پاکستان مانیٹری پالیسی کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات لے گا اور ٹیکس بیس کو مزید وسیع کرے گا۔

    آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق پاکستان کی صوبائی حکومتیں بھی ٹیکس جمع کرنے کی کوششوں میں اضافہ کریں گی، ان ٹیکسز میں سیلز اور ذرعی انکم ٹیکس شامل ہیں۔

    اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکس میں منصفانہ اضافہ ہوگا، جبکہ برآمدی شعبے سے ٹیکس وصولیاں بھی بہتر کی جائیں گی۔

  20. ’سپریم کورٹ کا فیصلہ میرے اور تحریک انصاف کے خلاف الیکشن کمیشن کے تعصب اور بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے‘: عمران خان کے اکاؤنٹ سے ٹویٹ

    سابق وزیراعظم عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ ’میں بار بار چیف الیکشن کمشنر کے میرے اور تحریک انصاف کے خلاف تعصب پر بات کرتا آیا ہوں۔‘ ان کے مطابق ’سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے نے میرے اور تحریک انصاف کے خلاف الیکشن کمیشن کے تعصب کو واضح کر دیا ہے، جس سے ہمارے مؤقف کی تائید ہوتی ہے۔‘

    عمران خان کے اکاؤنٹ سے یہ لکھا گیا ہے کہ ’ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے لاکھوں ووٹرز اور حمایتوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کرنے پر ذمہ داران کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔‘

    عمران خان نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ چیف الیکشن کمنشر سلطان سکندر راجا اور الیکشن کمیشن کے دیگر چاروں ممبران ہر صورت فوری طرف پر مستعفی ہوجائیں۔‘

    عمران خان کے ہینڈل سے کی جانے والی ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے اور پی ٹی آئی سے متعلقہ مقدمات سے ہر صورت اپنے آپ کو علیحدہ کر لیں۔‘

    واضح رہے کہ جیل جانے سے قبل بھی عمران خان متعدد بار چیف الیکشن کمشنر پر تعصبات کے الزامات عائد کر چکے ہیں۔ تاہم چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق ان کا مطالبہ ان کے وکلا سے جیل میں ان کی حالیہ ملاقاتوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہ@ImranKhanPTI