صنم جاوید کی رہائی کا حکم، تحریک انصاف کا ان کی دوبارہ گرفتاری کا دعویٰ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے پاکستان تحریک انصاف کی کارکن صنم جاوید کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے مقدمے سے بری کر دیا ہے۔
ڈیوٹی مجسٹریٹ ملک عمران نے صنم جاوید کے ریمانڈ پر محفوظ فیصلہ سنایا اور عدالت نے صنم جاوید کے وکلا کی مقدمے سے بریت کی استدعا منظور کر لی۔ یوں عدالت نے صنم جاوید کو بری کرنے کا حکم دیا۔
ایف آئی اے نے صنم جاوید کو گوجرانوالا سینٹرل جیل سے گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے صنم جاوید کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا تھا۔
فیصلے میں کیا ہے؟
دوسری جانب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ اسلام آباد نے پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کو ایف آئی اے کے مقدمے سے ڈسچارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ ڈیوٹی جج ملک محمد عمران نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمے میں الزام ہے کہ صنم جاوید نے ٹویٹ کے ذریعے ریاستی اداروں بشمول فوج کے خلاف جھوٹی معلومات پھیلائیں۔
تاہم فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر میں صنم جاوید کے کیے گئے ٹوئٹس کے اوقات اور تاریخ درج نہیں۔ ’صنم جاوید کے ٹویٹ نے کتنے افراد کو ریاست مخالف سرگرمیوں پر اُکسایا؟ ریکارڈ میں کچھ موجود نہیں، یہ کہا ہی نہیں جا سکتا صنم جاوید نے 10 مئی 2023 کے بعد اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ استعمال کیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق صنم جاوید کا موبائل فون پولیس کے قبضے میں تھا۔‘
فیصلے کے متن کے مطابق صنم جاوید 10 مئی 2023 سے قبل ہی ٹویٹ کر سکتی تھیں کیونکہ اس کے بعد وہ پولیس حراست میں تھیں۔ ’ایف آئی آر کے مطابق شکایت کنندہ ایف آئی اے سائبر کرائم کے سب انسپکٹر شہروز ریاض ہیں۔ ریکارڈ میں شہروز ریاض کو شکایت درج کرانے کے لیے ریاستی اداروں یا فوج سے اجازت ملنے کا ذکر نہیں۔‘
فیصلے کے مطابق شکایت کنندہ کا تعلق فوج سے نہیں تھا لہذا ان کو مقدمہ درج کرانے کا اختیار نہیں تھا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کے عوام کے دلوں میں ریاستی اداروں اور فوج کی محبت و عزت بڑی وسعت رکھتی ہے۔ ریاستی اداروں، فوج کی عزت و تکریم اتنی کمزور نہیں کہ ایف آئی آر میں لکھی گئی فرضی کہانیوں سے متاثر ہوسکے لہٰذا ایف آئی اے کی جانب سے صنم جاوید کے 6 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کی جاتی ہے۔‘
فیصلے میں حکم دیا گیا ہے کہ ’صنم جاوید کو مقدمے سے ڈسچارج کیا جاتا ہے۔ اگر کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں تو صنم جاوید کو فوری رہا کر دیا جائے۔‘
دوسری جانب صنم جاوید کے وکیل کے مطابق اسلام آباد پولیس نے صنم جاوید کو دوبارہ گرفتار کرلیا ہے تاہم اسلام آباد پولیس کی جانب سے ابھی تک صنم جاوید کی گرفتاری سے متعلق کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

،تصویر کا ذریعہMianAliAshfaq















