یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نومبر 2027 تک اس عہدے پر موجود رہیں گے جس سے ’نظام کو تسلسل ملے گا۔‘
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نومبر 2027 تک اس عہدے پر موجود رہیں گے جس سے ’نظام کو تسلسل ملے گا۔‘
قومی اسمبلی اور سینیٹ نے پیر کو سروس چیفس کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی منظوری دی ہے۔
اس بارے میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار عماد خالق سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ چونکہ جنرل عام منیر کو نومبر 2022 کے دوران تعینات کیا گیا تھا لہذا اب وہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد نومبر 2027 تک آرمی چیف رہیں گے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایوب خان سے لے کر جنرل باجوہ تک، قریب تمام آرمی چیفس کو ایکسٹنشن ملی تاہم ’اب ہم نے مسلح افواج کے تینوں بازوؤں کے لیے قانون بنا دیا ہے۔ ہم نے اس میں کوئی تفریق نہیں کی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں ایکسٹنشن کا سلسلہ ایوب خان کے دور میں شروع ہوا۔ اس کے بعد آٹھ، نو آرمی چیفس کو ایکسٹنشن دی گئی۔ ایوب خان، ضیا الحق، مشرف نے خود اپنے آپ کو ایکسٹنشن دی۔۔۔ یہ ساری ایکسٹنشنز افراد کے لیے تھیں۔ اب ہم نے اس حوالے سے قانون واضح کر دیا ہے۔‘
اس سوال پر کہ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی، خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ حالات میں تسلسل کی ضرورت ہے اور یہ ضروری ہے کہ جو بھی مسلح افواج کا سربراہ ہو وہ اسمبلی اور دیگر اداروں کی پانچ سالہ مدت کی طرح مناسب وقت کے لیے بہتر دفاعی منصوبہ بندی کر سکے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ سروس چیفس کی مدت میں طوالت سے نظام کو استحکام ملے گا اور یہ توقعات کے مطابق چل سکے گا۔ انھوں نے واضح کیا کہ ’آرمی چیف کی تعیناتی کا اختیار اب بھی ہمارے (حکومت کے) پاس ہی ہے۔‘
’ہم نے گنجائش نکالی ہے کہ کوئی کامن گراؤنڈ نکالا جائے۔ ہم نے نظام کو قانونی اور آئینی شکل میں ڈھالا ہے تاکہ قانون کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔‘
اپوزیشن جماعتوں بالخصوص تحریک انصاف کی جانب سے تنقید کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ بھول گئے ہیں کہ ان کے رہنما سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ آرمی چیف قوم کا باپ ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد میں اضافے کا بل قومی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد سینیٹ سے بھی منظور کروا لیا گیا ہے تاہم دونوں ایوانوں میں اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا ہے۔
حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں نے سپریم کورٹ ایکٹ 1997 کی شق دو میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 34 کردی گئی ہے۔
اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ ایکٹ 2010 کی شق تین میں بھی تبدیلی کی گئی ہے جس کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد نو سے بڑھا کر 12 کردی گئی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے سینیٹ کی قائمہ کمٹیی نے سینیٹر عبدالقادر کے بل کی حمایت کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 25 کرنے کی منظوری دی تھی۔
سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 34 کیوں کی گئی؟
حکومت کا یہ موقف رہا ہے کہ اس اقدام کی بنیادی وجہ عدالتِ عظمیٰ میں ہزاروں کی تعداد میں زیرِ التوا مقدمات کو نمٹانا ہے۔ سپریم کورٹ کے ریکارڈ کے مطابق اِس وقت عدالتِ عظمیٰ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 60 ہزار سے زیادہ ہے۔
پیر کو ایک بیان میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ججز کی تعداد میں اضافہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا مطالبہ تھا۔ انھوں نے ا
ان کا کہنا تھا کہ ’سوچ بچار کے بعد سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھا کر 34 تک کر دی گئی ہے۔ اس سے نیچے 16 ہوں، 20 ہوں یا 28، اس تعداد کا تعین جوڈیشل کمیشن کرے گا کہ کتنے ججز کی ضرورت ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ججوں کی تعداد بڑھانے کا مقصد عوام کو انصاف کی جلد فراہمی ہے۔ ترمیم کے ذریعے مقدمات مقرر کرنے والی تین رکنی کمیٹی میں آئینی بینچ کے سربراہ کو بھی شامل کیا گیا۔‘
وزیر قانون نے واضح کیا کہ ’جوڈیشل کمیشن فیصلہ کرے گا کہ اسے آئینی بینچز میں کتنے ججز چاہییں اور رجسٹری بنچز پہ کتنے چاہیں۔‘
کیسز کے بوجھ کو ایک وجہ بیان کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ میں پینڈنسی دن بدن بہت بڑھ رہی ہے۔‘
ادھر تحریک انصاف نے اس کی مخالفت کی ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت کے سربراہ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت نے ’آج تک کوئی بھی قانون ایسا پاس نہیں کیا جو قانون کے مطابق ہو۔ اس وقت صرف انڈیا میں سپریم کورٹ کے 33 ججز ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ لوگ صرف اپنی مرضی کے ججز لانا چاہ رہے ہیں اور یہی ان کا ایجنڈا ہے۔‘
حکمراں اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں نے پاکستان کی قومی اسمبلی میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیمی بل بھی منظور کرلیا ہے جسے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل 2024 کا نام دیا گیا ہے۔
اس بل کے تحت عدالت عظمی میں موجود آئینی معاملات درخواستیں اور نظرثانی کی اپیلیں صرف آئینی بینچ ہی نمٹائے گا۔
قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت چیف جسٹس، سپریم کورٹ کے سب سے سینیئر جج اور آئینی بینچز کے سینیئر ترین جج پر مشتمل کمیٹی مختلف مقدمات کی سماعت کے لیے بینچز بنائے گی۔
اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس اور سینیئر ترین جج آئینی بینچ میں نامزد ہیں تو آئینی بینچ کا سینیئر ترین جج کمیٹی کا رکن ہوگا۔
اس ترمیمی بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئینی بینچز کا سینیئر ترین جج نامزد نہ ہو تو کمیٹی چیف جسٹس، سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج پر مشتمل ہوگی۔
اس بل میں یہ بھی موجود ہے کہ اگر کوئی رکن بینچ میں بیٹھنے سے انکار کرے تو چیف جسٹس کسی اور جج یا آئینی بینچ کے رکن کو کمیٹی کا رکن نامزد کرے گا۔
اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئینی بینچ میں جج کی دستیابی پر تمام صوبوں سے ججز کی برابر تعداد ہوگی۔
بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ از خود نوٹس سے متعلق آئینی بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل فیصلے کے 30 روز کے اندر آئینی بینچ سے لارجر آئینی بینچ منتقل ہوگی۔
قومی اسمبلی کے بعد اس بل کو سینیٹ سے بھی کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ نے مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کا ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔
اس بل کے تحت پاکستان کی بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر اب پانچ سال کر دی گئی ہے۔
سوموار کے روز اجلاس کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ جس کے تحت پاکستان کے بری فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں اضافے کے لیے آرمی ایکٹ 1952 کی شق 8اے، 8بی اور 8 سی میں ترمیم کی گئی۔
اسی طرح بحریہ کے سربراہ کی مدت ملازمت میں اضافے کے لیے پاکستان نیوی آرڈیننس 1961 کی شق 14 اے، 14 بی اور 14 سی میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اور پاکستان کی فضائیہ کے سربراہ کی مدت ملازمت میں اضافے کے لیے پاکستان ائیر فورس ایکٹ 1953 کی شق 10 اے ، 10 بی اور 10 سی میں تبدیلی کی گئی ہے۔
اس دوران قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے مسلسل احتجاج اور ’نو نو‘ کے نعرے لگائے گئے۔
بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اس بل کی سینیٹ سے منظوری کے بعد اس کا اطلاق فوری ہو گا۔
اس بل میں ترمیم کے بعد پاکستان کی بری فوج میں جنرل کی ریٹائرمنٹ کے قواعد کا اطلاق آرمی چیف پر نہیں ہو گا، تعیناتی، دوبارہ تعیناتی یا ایکسٹینشن کی صورت آرمی چیف بطور جنرل کام کرتا رہے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آرمی ایکٹ کے تحت آرمی چیف سمیت تمام سروسز چیفس کی مدت ملازمت تین سال مقرر تھی اور ایگزیکٹیو کے اختیارات کے تحت آرمی چیف کو تین سال کی ایکسٹینشن دی جاتی رہی تھی۔
آخری بار مدت ملازمت میں توسیع جنرل قمر جاوید باجوہ کو دی گئی تھی اور ان کی ایکسٹیشن کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی تھی جس کے بعد ایگزیکٹیو نے ان کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کر دی تھی۔
سپیکر کی جانب سے بلز کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس منگل کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ نے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔
اس ترمیمی بل کے تحت سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 34 تک کر دی گئی ہے۔
سوموار کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا جس میں سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے سے متعلق ترمیمی بل پیش کیا گیا۔
سپریم کورٹ میں نمبر آف ججز ایکٹ میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا اور بتایا کہ اس بل کے تحت سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 34 تک کر دی گئی ہے۔
حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں نے سپریم کورٹ ایکٹ 1997 کی شق 2 میں ترمیم کرتے ہوئے اس کے تحت سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 34 تک کی ہے۔
اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ ایکٹ 2010 کی شق 3 میں بھی تبدیلی کی گئی ہے جس کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد 9 سے بڑھا کر 12 کر دی گئی ہے۔
اس ترمیمی بل کے تحت سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 34 کی جا سکتی ہے، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان ضرورت کے مطابق ججز کی تعداد میں اضافہ کر سکے گا،ججز کی تعداد میں اضافے کے فیصلے کا اختیار جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو ہے۔
سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد میں اضافے کا بل قومی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد سینٹ سے بھی منظور کروالیا گیا ہے تاہم دونوں ایوانوں میں اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اب آئینی عدالت بنائی جانی ہے۔ اس کے لیے بھی ججز چاہیے ہیں۔ ججز کی تعداد بڑھانے کا مقصد زیر التوا مقدمات کی تعداد کم کرنا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے سینیٹ کی قائمہ کمٹیی نے سینیٹر عبدالقادر کے بل کی حمایت کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 25 کرنے کی منظوری دی تھی۔
بل کی شق وار منظوری کا عمل ہوا تو اس دوران اپوزیشن کی جانب سے مسلسل شور شرابا کیا گیا اور احتجاج کیا گیا تاہم اس دوران کثرت رائے سے اس بل کی مظوری دے دی گئی۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں ڈھائی فیصد کمی کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد اب شرح سود 15 فیصد پر آ گئی ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق اس کمی کا اطلاق پانچ نومبر سے ہو گا۔
سٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق زری پالیسی کمیٹی نے اپنے آج (سوموار) کے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 250 بیسز پوائنٹس کم کر کے 15 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سٹیٹ بینک کا بیان میں کہنا ہے کہ ’مہنگائی توقع سے زیادہ تیزی سے کم ہوئی ہے اور اکتوبر میں اپنے وسط مدتی ہدف کے قریب پہنچ گئی ہے۔‘
یاد رہے اس سے قبل 12 ستمبرکو سٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بنیادی شرح سود میں 200 بیسس پوائنٹس کی کمی کر کے 17.5 فیصد مقرر کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
جبکہ اس سے قبل 29 جولائی کو مانیٹری پالیسی کے حوالے سے پریس بریفنگ دیتے ہوئے سٹیٹ بینک کے حکام نے شرح سود 20.5 فیصد سے کم کرکے 19.5 فیصد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
سٹیٹ بینک کے بیان کے مطابق ’آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کے نئے پروگرام کی منظوری دی جس سے غیر یقینی کیفیت میں کمی ہوئی ہے اور مجوزہ بیرونی رقوم کی آمد کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔
اپنے بیان میں سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ غذائی مہنگائی میں تیز رفتار تنزلی، عالمی سطح پر تیل کی موافق قیمتیں، متوقع گیس ٹیرف اور پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کو ایڈجسٹ نہیں کی گئیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی کم ہوئی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ زری پالیسی کمیٹی اب یہ توقع کرتی ہے کہ مالی سال 2024 کے لیے اوسط مہنگائی پچھلی پیش گوئی کی حد 11.5 سے 13.5 فیصد سے نمایاں طور پر کم رہے گی۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک فضائی حملے میں حزب اللہ کے کمانڈر ابو علی ردا کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پیر کے روز اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ابو علی ردا شمالی لبنان میں ایک فضائی حملے میں مارے گئے ہیں۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ حملہ کب کیا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ابو علی ردا جنوبی لبنان میں اسرائیلی فورسز پر راکٹ اور ٹینک شکن میزائل حملوں کی نگرانی کرتے تھے۔
تاحال حزب اللہ کی جانب سے اس پر کوئی تنصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔
ایران کی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ صوبہ گلستان کے نینویٰ بریگیڈ کے کمانڈر حامد مازندرانی ایک فضائی حادثے میں مارے گئے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پیر کی صبح سراوان کے علاقے میں آپریشنل مشقوں کے دوران پاسداران انقلاب کی گراؤنڈ فورس کا ایک جائروپلین (چھوٹا ہوائی جہاز) سرحدی علاقے سرکان میں حادثے کا شکار ہوا۔
القدس بیس کے ڈپٹی کمانڈر احمد شافعی کے مطابق اس حادثے میں کمانڈر حامد مازندرانی کے علاوہ جہاز کا پائلٹ اور پاسدارن انقلاب کا ایک رکن بھی مارے گئے ہیں۔
ایرانی فوج کے مطابق گذشتہ ماہ عسکریت پسند گروپ جیش العدل کے حملے میں ایرانی پولیس فورس کے دس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد ان مشقوں کا آغاز کیا گیا تھا۔
سوموار کے روز ڈاکٹروں کی ایک چار رکنی ٹیم نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا طبی معائنہ کیا۔
عمران خان کا معائنہ کرنے والی ٹیم میں پمز ہسپتال کے تین ڈاکٹروں کے علاوہ شوکت خانم ہسپتال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عاصم یونس بھی شامل تھے۔ میڈیکل بورڈ کی تیار کردہ رپورٹ اسلام اباد ہائی کورٹ میں پیش کی جائے گی۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا تھا کہ معائنے کے بعد ڈاکٹر یونس نے انھیں بتایا ہے کہ عمران خان کی صحت ٹھیک ہے انکے صرف مسلز ڈھیلے ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے طبی معائنے کے لیے پمز ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو بھی اس ٹیم میں شامل کیا جائے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کے ایک سابق ترجمان کو بغیر اجازت پریس کو خفیہ دستاویزات لیک کرنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔
جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ لیک ہونے والی دستاویزات کے غلط ہاتھوں میں جانے سے غزہ میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔
اس کیس میں اس سے قبل تین اور افراد کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جن میں سکیورٹی سروسز کے ارکان بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیل کی اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ نتن یاہو خود ان لیکس میں ملوث ہیں تاہم وزیر اعظم کے دفتر سے اس بات کی تردید کی گئی ہے۔
نتن یاہو نے اپنے دفتر کے عملے کی طرف سے کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے۔ گذشتہ دنوں ایک بیان میں وزیراعظم آفس کا کہنا تھا کہ انھیں میڈیا کے ذریعے لیک ہونے والی دستاویزات کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔
اسرائیلی حکام نے ستمبر کے آواخر میں دستاویزات لیک ہونے کے معاملے کی تفتیش شروع کی تھی جب لندن کے جوئیش کرونیکل اور جرمن اخبار بِلد نے ایسی رپورٹس شائع کیں جن میں خفیہ فوجی دستاویزات کی معلومات موجود تھیں۔
ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک دستاویز میں تحریر تھا کہ حماس کے رہنما یحیٰ سنوار اور غزہ میں یرغمالیوں کو غزہ، مصر سرحد پر فلاڈیلفی کوریڈور کے ذریعے مصر میں سمگل کیا جائے گا۔ یہ رپورٹ شائع ہونے کے چند روز بعد یحیٰ سنوار اسرائیلی حملے میں ہلاک کر دیے گئے تھے۔
دوسری رپورٹ میں ایک میمو کا ذکر تھا جس میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے یحیٰ سنوار کی حکمت عملی کے حوالے سے بات کی گئی تھی۔ تاہم رپورٹس کے شائع ہونے کے چند دنوں بعد ہی جرمن اخبار بلد اور برطانوی جوئیش کرونیکل دونوں کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
ردعمل کے باعث جوئیش کرونیکل نے یہ کہ کر اپنی رپورٹ واپس لے لی کہ زیر بحث دستاویز کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور مصنف کا نام بھی من گھڑت ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جب جرمن اخبار بلد سے ان کے ذرائع کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے ردعمل دینے سے انکار کر دیا تاہم انھوں نے کہا کہ ’اسرائیلی فوج نے اس دستاویز کی صداقت کی تصدیق کی ہے۔‘
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیلی میڈیا اور دیگر مبصرین نے ان رپورٹس کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق رپورٹس میں نتن یاہو کی حمایت کی گئی ہے اور انھیں یرغمالیوں کو آزاد کروانے کے معاہدے میں ناکامی کی ذمہ داری سے بری الذمہ قرار دیا ہے۔
اسرائیلی اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق حالیہ گرفتار ہونے والا شخص نتن یاہو کے قریبی لوگوں میں سے ہیں اور ان کے ساتھ پچھلے ڈیڑھ سال سے بطور مشیر کام کر رہا تھا۔
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی جانب سے توشہ خانہ سے خلاف قانون تحائف خریدنے سے متعلق مقدمے میں دائر درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو 18 نومبر کو سنایا جائے گا۔
عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی چھ مختلف مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر دلائل بھی 18 نومبر کو طلب کر لیے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانتوں کی تمام درخواستوں پر فیصلہ ایک ساتھ سنایا جائے گا۔
توشہ خانہ میں ضمانت کی درخواستوں پر ہونے والے دلائل کے دوران بشری بی بی روسٹم پر آ گئیں اور اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج محمد افضل مجوکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے افراد سے انصاف کی کوئی امید نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ گذشتہ 9ماہ سے انصاف کی کرسی میں بیٹھے ہوئے منصفوں کی جانب سے ناانصافی ہو رہی ہے جبکہ انھیں اور ان کے شوہر کو ناانصافی پر مبنی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
بشری بی بی نے جج مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’انصاف تو ہے ہی نہیں، میں انصاف کے لیے نہیں آئی۔‘ یہ کہتے ہوئے بشری بی بی کمرہ عدالت میں آبدیدہ ہو گئیں۔
واضح رہے کہ افضل مجوکا نے عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں عمران خان اور بشری بی بی کو بری کیا تھا۔
سابق وزیر اعظم کی اہلیہ نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کمبل اور دیگر ضروری سامان گاڑی میں موجود ہے اور وہ ہر وقت جیل جانے کے لیے تیار رہتی ہیں۔
نظام عدل پر تنقید کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ اُن کی پارٹی کے وکلا سمیت تمام وکلا عدالتوں میں صرف وقت ضائع کرتے ہیں۔ اپنے شوہر کے حوالے سے بشری بی بی کا کہنا تھا کہ جو شخص (عمران خان) اندر بیٹھا ہے، کیا وہ انسان نہیں ہے، یہ کسی جج کو نظر نہیں آتا۔
بشری بی بی نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے اپنی بات کا اختتام اس بات پر کیا کہ ’میں اب اس عدالت میں نہیں آؤں گی کیونکہ یہاں صرف ناانصافیاں ہوتی ہیں۔‘
اس سے پہلے مقدمے کی سماعت کے دوران جج نے استفسار کیا کہ دوسرے ملزم عمران خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونا تھا۔ انھوں نے عدالتی عملے کو ہدایت کی کہ اڈیالہ جیل راولپنڈی کے حکام کو ہدایت کریں کہ وہ ملزم کو ویڈیو لنک کے ذریعے حاضر کریں۔
ملزمان کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ عمران خانکی حد تک عدالت سختی سے حکم دے تب ہی بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے گا۔ انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ جب تک عمران خان پیش ہوتے ہیں تب تک وہ بشری بی بی کے خلاف درج مقدمے پر دلائل دینا چاہتے ہیں۔
سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ اُن کے مؤکلین پر الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے فراڈ کیا اور تحائف کی قیمت سے متعلق جعلی رسیدیں دیں۔ اس موقع پر جج نے دریافت کیا کہ جعلی رسیدیں کہاں پر پیش کی گئیں، اس پر سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ اگرچہ الیکشن کمیشن نے اس کیس میں تین سال کی سزا دی لیکن اپنے فیصلے میں رسیدوں کا ذکر تک نہیں کیا۔
اس مقدمے کے پراسیکوٹر نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے وکلا نے رسیدیں صرف ٹی وی چینلز پر پیش کیں اور انھیں عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بنایا۔
سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ اس کیس کے سلسلے میں بشری بی بی 15 دفعہ عدالت میں پیش ہو چکی ہیں جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ وہ پہلی مرتبہ انھیں عدالت میں دیکھ رہے ہیں۔
سلمان صفدر نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بشری بی بی کو عدت کیس میں بری کیا گیا تو توشہ خانہ ٹو میں گرفتار کر لیا گیا۔ انھوں نے اس موقع پر استدعا کی کہ اگر عمران حان کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش نہیں کیا جا سکتا تو عدالت بشری بی بی کی حد تک اس مقدمے پر دلائل سن کر فیصلہ دے۔
سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ اس کیس میں نہ تو کوئی چالان پیش کیا گیا اور ڈیڑھ سال کے دوران کوئی تفتیش نہیں کی گئی اور یہ کہ یہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا مقدمہ ہے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے اتوار کی شب اسرائیلی قصبوں ایلات ہشاہر، شال، ہتزور اور ڈالٹن کو اپنے راکٹوں کی مدد سے نشانہ بنایا ہے۔
ٹیلی گرام پلیٹ فارم پر بیانات کی ایک سیریز میں حزب اللہ کی جانب سے مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس حملے میں انھوں نے اسرائیل کے میرون ہوائی اڈے پر واقع ایئر کنٹرول یونٹ کو بھی نشانہ بنایا۔ حزب اللہ کے مطابق اتوار کی رات ہونے والے 28 مجموعی راکٹ حملوں میں شمالی اسرائیل کے چار فوجی اڈوں اور 14 علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان حملوں کے بعد اتوار کی رات اسرائیلی فوج نے کہا کہ راکٹوں سے ہونے والے نقصان سے بچنے کے لیے شمالی اسرائیل کے شہر معالیہ اور اس کے اطراف میں انتباہی سائرن بجائے گئے۔ اسرائیلی فوج نے یہ بھی تصدیق کی کہ لبنان سے اسرائیل کی طرف 100 کے قریب راکٹ داغے گئے تھے جن میں سے کچھ کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا جبکہ کُچھ کُھلے میدان میں گر گئے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو نے اتوار کے روز لبنان کے ساتھ شمالی سرحد کے دورے کے دوران حزب اللہ کو ’مضبوط‘ جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ نتن یاہو نے کہا تھا کہ حزب اللہ کو دریائے لیتانی سے پیچھے دھکیلنا ضروری ہے تاکہ شمالی اسرائیل کے رہائشی ’اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔‘
دوسری جانب لبنان کی وزارت صحت نے اتوار کے روز کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی اسرائیلی کارروائیوں کے دوران 18 افراد ہلاک جبکہ 83 زخمی ہوئے ہیں۔ انھوں نے بیان میں مزید کہا کہ اکتوبر 2023 سے اب تک لبنان پر اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2986 ہو گئی ہے جبکہ 13 ہزار 400 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کم از کم 772 خواتین اور بچے شامل ہیں۔
کینیڈا کے شہر برامپٹن میں ایک مندر کے سامنے ہونے والے احتجاج کے بعد ہوئی جھڑپوں پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ ’مندر میں تشدد ناقابل قبول ہے اور ہر کینیڈین شہری کو آزادی اور محفوظ طریقے سے اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق ہے۔‘
سوشل میڈیا پر وائرل چند تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ برامپٹن میں واقع ایک مندر کے احاطے میں چند مظاہرین مندر میں آنے والے انڈین تارکین وطن سے جھگڑ رہے ہیں۔ ان میں سے چند مظاہرین نے خالصتان کی حمایت کا اظہار کرتے بینرز اٹھائے ہوئے ہیں۔
اوٹاوا میں انڈین ہائی کمیشن کے مطابق اتوار کے روز مندر کے قریب کونسلر کیمپ کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں انڈین نژاد تارکین وطن کی پینشن سے متعلق مسائل زیر غور آنے تھے۔ انڈین ہائی کمیشن کے مطابق 2 اور 3 نومبر کو وینکوور اور سرے میں بھی اسی طرح کے کیمپ لگائے تھے اور وہاں بھی قونصل خانے کے کام میں ’خلل ڈالنے کی کوششیں کی گئی تھیں۔‘
برامپٹن پولیس کے مطابق انھیں اس احتجاج کے بارے میں پہلے سے علم تھا چنانچہ انھوں نے اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے۔
کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے مندر کے سامنے ہونے والی جھڑپوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’برامپٹن میں ہندو سبھا مندر میں تشدد ناقابل قبول ہے۔ ہر کینیڈین کو آزادی اور محفوظ طریقے سے اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق ہے۔‘
اپنی ٹویٹ میں انھوں نے برامپٹن پولیس کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ’کمیونٹی کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات لیے۔‘
کینیڈا کے ایم پی چندر آریہ نے مندر پر حملے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 'کینیڈا میں خالصتانی انتہا پسند حد پار کر گئے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مندر میں موجود کینیڈین ہندو عقیدت مندوں پر ’خالصتانیوں کا حملہ ظاہر کرتا ہے کہ کینیڈا میں خالصتانی پُرتشدد انتہا پسندی کتنی گہری اور ڈھٹائی اختیار کر چکی ہے۔‘
یاد رہے کہ حال ہی میں کینیڈین سکھوں کے خلاف تشدد کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد کینیڈین اور انڈین حکومتوں کے درمیان سفارتی تعلقات بہت حد تک کشیدہ ہو چکے ہیں۔
سویز کینال اتھارٹی نے اپنے ایک بیان میں بین الاقوامی معاہدوں پر عملدرآمد کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چاہے حالت جنگ ہو یا امن ’اس بین الاقوامی نہر سے گزرنے والے بحری جہازوں کو قومیت یا کارگو کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔‘
اتھارٹی کا یہ بیان سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں ایک جنگی جہاز کو نہر سویز عبور کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اس جہاز پر اسرائیلی جھنڈا اور مصری جھنڈے لہرا رہے ہیں۔
ویڈیو میں لوگوں کی نعرے بازی کی بھی آوازیں سُنائی دے رہی ہیں جس میں وہ اسرائیلی جنگی جہاز کے نہر سویز سے گزرنے ہر ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں۔ متنازع ویڈیو کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بھی بحث جاری ہے جس میں کچھ صارفین مصر کو مبینہ طور ہر اسرائیل کا ساتھ دینے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
اس ویڈیو کی بنیاد پر ہونے والی تنقید کے بعد سویز کینال اتھارٹی نے بیان میں واضح کیا گیا کہ مصری حکام نے سنہ 1888 میں قسطنطنیہ کنونشن کی دفعات پر دستخط کیے تھے اور یہ کہ حکام اس کنونشن پر عمل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جنگی جہازوں کو نہر سوئز سے گزرنے کے لیے کسی الگ طریقہ کار کی پیروی کرنے کے ضرورت نہیں ہے یعنی ان کے لیے بھی وہی ضوابط ہیں جو تجارتی جہازوں کے لیے ہیں اور اس ضمن میں کسی ملک یا جہاز پر کوئی قدغن نہیں ہے۔
مگر اس بیان کے باوجود تنقید کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا ہے۔ ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’مصر چاہتا تو اسرائیلی جنگی جہاز کو نہر سویز سے گزرنے سے روک سکتا تھا۔ یہ کہنا کہ بین الاقوامی قوانین کی پیروی کی جا رہی ہے، ایک بے معنی بات ہے کیونکہ اسرائیل ان عالمی قوانین کو نہیں مانتا۔‘
تاہم دوسری جانب چند صارفین ایسے بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ کیونکہ سوئز کینال ایک بین الاقوامی نہر ہے تو مصر کا اس پر یکطرفہ کوئی حق نہیں اور اس کی یہ اتھارٹی بھی نہیں کہ وہ یہاں سے گزرنے والے کسی بھی ملک کے جہاز کو روکے۔
چند صارفین نے مزید وضاحت کی کہ جب جہاز سویز کینال سے گزر رہے ہوتے ہیں تو اس کے سرحدی ممالک کا جھنڈا لہرانا ’پروٹوکول‘ کا حصہ ہے۔ ایک صارف نے کہا کہ ’جھنڈا لہرانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جہاز صرف نہر سے گزر رہا ہے نہ کہ حملہ کرنے آیا ہے۔‘
نہر سویز کی کیا اہمیت ہے؟
150 قبل بنائی جانے والی نہر سویز 193 کلومیٹر طویل ہے اور اِس کی چوڑائی 205 میٹر ہے۔ اس نہر کے راستے میں تین قدرتی جھیلیں بھی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عالمی بحری تجارت کا دس فیصد حصہ اس نہر سے گزرتا ہے۔ سویز کینال کا افتتاح سنہ 1869 میں ہوا تھا اور اسے مکمل ہونے میں دس برس کا عرصہ لگا تھا۔
سویز نہر سنہ 1956 سے مصر کے قومی افتخار کی علامت بنی ہوئی ہے جب صدر جمال عبدالناصر نے برطانیہ اور فرانس سے لے کر اسے قومیا لیا تھا جس کے جواب میں ان دونوں ملکوں نے اسرائیل کے ساتھ مل کر مصر پر حملہ کر دیا تھا۔
یہ آبی گزرگاہ افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے ملکوں اور بحری جہازوں کو ایشیا کو یورپ سے ملانے کا سب سے تیز سمندری راستہ ہے اور دنیا کے مصروف ترین آبی راستوں میں شامل ہے۔
امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کے متعدد ’بی 52‘ بمبار طیارے مشرق وسطیٰ پہنچ چکے ہیں۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ بی 52 طیاروں کو ایران کو ’خبردار‘ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ سینٹرل کمانڈ آف یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ (سینٹکام) نے بھی اپنے ایکس اکاوئنٹ پر ایک پیغام میں اِن بمبار طیاروں کی مشرق وسطیٰ میں آمد کی تصدیق کی ہے۔
تاہم فی الوقت یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ بھیجے گئے اِن طیاروں کی تعداد کتنی ہے اور انھیں کس مقام پر اکھٹا کیا گیا ہے۔ گذشتہ جمعہ کو پینٹاگون نے بیان جاری کیا تھا کہ بی 52 بمبار طیاروں کو مشرق وسطیٰ میں بھیجا جا رہا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس کے علاوہ وہ طیارے بھی مشرق وسطیٰ بھیجے جا رہے ہیں جو دیگر طیاروں کی ری فیولنگ یعنی ایندھن بھرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
حالیہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی نیوی کے وار شِپ (جنگی جہاز) بھی روانہ کیے گئے ہیں تاکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی موجودگی مضبوط ہو سکے۔ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے خطے میں امریکی اہلکاروں یا امریکی مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکہ اس کےخلاف سخت اقدام لے گا۔
پینٹاگون کے ترجمان پیٹرک رائڈر نے بھی کہا ہے ’امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے مشرق وسطیٰ میں امریکی شہریوں، امریکی افواج اور اسرائیل کے دفاع اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے خطے میں مزید کئی سٹریٹجک بمبار اور اینٹی بیلسٹک میزائلوں کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔‘
یاد رہے کہ اسرائیل نے گذشتہ دنوں ایران میں کئی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا تھا۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خدشات کے پیش نظر ایران نے اسرائیل سے بدلہ لینے کا وعدہ کیا ہے۔
اپنے ایک حالیہ بیان میں ایران کے رہبر اعلیٰ نے کہا ہے کہ دشمنوں کو ’منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔‘ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کے حملوں کے بعد جو بھی ردعمل ہو گا وہ ’مذہب، اخلاق، شریعت اور بین الاقوامی قوانین‘ کے مطابق ہو گا۔
بی 52: ’بیسویں صدی کا سب سے خطرناک بمبار طیارہ‘
آٹھ انجن والے بی 52 کو 20ویں صدی کا سب سے زیادہ خطرناک بمبار طیارہ سمجھا جاتا ہے اور اسے امریکہ کی تین نسلوں نے اڑایا ہے۔ اس کی افادیت آج بھی اتنی ہی ہے جتنی چھ دہائیوں قبل اس کی پہلی اڑان میں تھی۔
ویت نام سے لے کر افغانستان تک ہونے والی جنگوں میں اس طیارے کا استعمال کیا گیا ہے اور توقع ہے کہ سنہ 2044 تک یہ امریکی فضائیہ کے استعمال میں رہے گا۔ سنہ 2018 میں بی 52 بمبار طیاروں کا دوبارہ استعمال شروع کیا گیا تھا اور اُن کے ذریعے شمالی صوبے بدخشاں میں طالبان کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
سنہ 2001 میں بھی بی 52 بمبار طیاروں کو افغانستان میں استعمال کیا گیا تھا جب امریکی فوج کا مقصد طالبان کی حکومت کو ختم کرنا اور پاکستان کی سرحد کے قریب تورہ بورہ کے پہاڑوں میں القاعدہ کے رہمنا اسامہ بن لادن کی پناہ گاہوں کو تباہ کرنا تھا۔
اس جہاز نے ویتنام جنگ، عراق کی دو جنگوں اور افغانستان کی جنگی مہمات میں کامیابی سے حصہ لیا ہے۔ اگرچہ امریکی فضائیہ کے یہ طیارے کافی پرانے ہو گئے ہیں مگر آج بھی امریکہ نے کسی کو پیغام پہنچانا ہو تو بی 52 بمبار طیارے بھجوائے جاتے ہیں۔
بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں حکام کے مطابق تین عسکریت پسندوں کو ہلاک جبکہ دو کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی بلوچستان کے ترجمان کے مطابق ہلاک اور گرفتار عسکریت پسندوں کا تعلق کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی سے ہے تاہم آزاد ذرائع سے تاحال ان افراد کا کسی تنظیم سے تعلق پتا نہ چل سکا اور نہ ہی مقابلے میں مارے جانے کی تصدیق ہو سکی۔
ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی بلوچستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع ملی تھی کہ راڑہ ہاشم کے علاقے میں ایک تخریبی سرگرمی کے لیے عسکریت پسند موجود ہیں جس پر سی ٹی ڈی، ایف سی اور پولیس کے اہلکار تعینات کیے گئے جن کا سامنا 10 سے زائد عسکریت پسندوں سے ہوا۔
اس موقع پر فائرنگ کے تبادلے میں تین عسکریت پسند ہلاک اور دو گرفتار ہوئے جبکہ ان میں سے پانچ سے سات رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ہلاک اور گرفتار ملزمان سے اسلحہ برآمد کیا گیا ہے ۔
ضلع دُکی میں نامعلوم افراد نے تین ٹرکوں کو نذرآتش کر دیا
بلوچستان کے ضلع دُکی کے علاقے چمالانگ میں نامعلوم افراد نے تین ٹرکوں کو نذرآتش کر دیا ہے۔ دُکی میں لیویز فورس کے ایک اہلکار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے ٹرکوں پر فائرنگ کی گئی اور بعد میں ان کو نذر آتش کیا۔
اہلکار کا کہنا ہے کہ ان میں سے دو ٹرک کوئلے سے لوڈ تھے جبکہ ایک ٹرک خالی تھا۔ آگ کی وجہ سے تینوں ٹرکوں کو شدید نقصان پہنچا۔
یاد رہے کہ چمالانگ میں کوئلے کے بڑے ذخائر ہیں جہاں سے کوئلہ نکال کر پنجاب اور دوسرے علاقوں میں فروخت کے لیے لے جایا جاتا ہے۔
چمالانگ اور ضلع دُکی کے دیگر علاقوں میں ماضی بھی کوئلہ لے جانے والے ٹرکوں کے علاوہ کوئلہ کانوں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔
گزشتہ ماہ دُکی میں کوئلہ کانوں پر ہونے والے ایک حملے میں 21 مزدور ہلاک ہوئے تھے۔
صوبہ پنجاب میں موٹروے ایم ٹو پر بھیرہ انٹرچینج کے قریب لاہور کے تبلیغی مرکز سے آنے والی مسافر وین حادثے کا شکار ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق اس حادثے میں دو ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ 10 افراد زخمی بھی ہوئے۔
موٹر وے پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ حادثہ مسافر وین کا پچھلا ٹائر پھٹنے کی وجہ سے ہوا۔
یاد رہے کہ پاکستان میں ہر سال صوبہ پنجاب کے علاقے رائیونڈ میں تبلیغی جماعت کا اجتماع منعقد ہوتا ہے جس میں اس اجتماع کی انتظامیہ کے مطابق ملک اور بیرون ملک سے ہزاروں افراد شرکت کرتے ہیں۔
ترجمان موٹروے پولیس نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ 15 مسافروں سے بھری وین تبلیغی مرکز رائیونڈ سے دیر بالا کی جانب بذریعہ موٹروے جا رہی تھی۔
حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت 35 سالہ صابر شاہ اور 40 سالہ نیک محمد کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ان کی میتیں اور 10 زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال بھیرہ منتقل کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ لاہور کے رائیونڈ تبلیغی مرکز میں اجتماع کا پہلا مرحلہ اتوار کو اختتام پذیر ہوا تھا جس کے بعد شرکا اپنے اپنے علاقوں کی طرف واپس جا رہے تھے۔
موٹر وے پولیس کے بیان کے مطابق حادثے کی اطلاع پاتے ہی موٹروے پولیس موقع پر پہنچ گئی اور وہاں امدادی کاروائیاں جاری ہیں۔
سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف نے میڈیا سے گفتگو میں ایک بار پھر پنجاب حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی خریداری کا عندیہ دیا ہے۔
اتوار کے روز امریکہ سے لندن واپس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو میں نواز شریف نے کہا کہ ’پنجاب حکومت کی جانب سے پی آئی اے خریداری پر غور کی جو بات کی تھی اس پر مزید کام کا ارادہ ہے۔‘
نواز شریف نے کہا کہ ’اگر ایسا ہو جائے تو ملک کو ایک اچھی ایئر لائن میسر آئے گی۔‘
یاد رہے کہ سنیچر کے روز لندن روانگی سے قبل امریکہ میں پارٹی ورکرز سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا تھا کہ پنجاب حکومت پی آئی اے خریدنے پر غور کر رہی ہے۔
نواز شریف نے کہا تھا کہ مریم نواز نے ان سے قومی ایئرلائن پی آئی اے خریدنے کی صلاح مانگی ہے۔ ان کو رائے دی ہے کہ یا تو پی آئی اے خرید لیں یا کوئی نئی ایئر لائن شروع کر دیں۔
دوسری جانب نجی ٹی وی چینل ’جیو نیوز‘ کی ایک خبر کے مطابق ’صوبائی حکومت نے پنجاب ایئرلائن کی فزیبیلٹی پرکام شروع کردیا ہے۔ پنجاب ایئرلائن پرائیویٹ سرمایہ کاروں کے اشتراک سے لائی جائے گی اور ائیرلائن میں حکومت پنجاب کے شیئرز بھی ہوں گے۔‘
تاہم اس خبر کی بی بی سی اب تک تا حال آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
دوسری جانب وزیر نجکاری علیم خان نے اتوار کے روز پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کا عمل جاری ہے۔ ہمیں کے پی حکومت نے کہا وہ خریدنا چاہتے ہیں، کل میں نواز شریف سے بھی سنا۔ اگر کوئی بھی صوبہ خریدنا چاہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘
یاد رہے کہ اسلام آباد میں جمعرات کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے ساٹھ فیصد حصص کی فروخت کے لیے بولی کھولی گئی۔ حکومت کو محض ایک پارٹی ’بلیو ورلڈ سٹی کنسورشیم‘ کی جانب سے بولی وصول ہوئی ہے۔
وزیر نجکاری علیم خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کا عمل جاری ہے۔
ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ’پی آئی اے کی نجکاری کا فریم ورک نگران حکومت میں بنایا گیا تھا۔ میں نجکاری کے فریم ورک میں تبدیلی نہیں کر سکتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پی آئی اے جس حالت میں ہے، اسے بیچنے کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔ مجھ پر پی آئی اے کو ٹھیک کرنے کی ذمہ داری نہیں ہے۔ پی آئی اے کے متعلق باتیں کرنے والے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں اور دیکھیں کہ کس کس نے پی آئی اے کو تباہ کرنے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔‘
یاد رہے کہ اسلام آباد میں جمعرات کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے ساٹھ فیصد حصص کی فروخت کے لیے بولی کھولی گئی۔ حکومت کو محض ایک پارٹی ’بلیو ورلڈ سٹی کنسورشیم‘ کی جانب سے بولی وصول ہوئی ہے۔
ریئل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کمپنی بلیو ورلڈ سٹی نے 85 ارب روپے کی کم از کم متوقع قیمت (ریفرنس پرائس) کے مقابلے میں صرف اس کا تقریباً 12 فیصد حصہ یعنی 10 ارب روپے کی بولی جمع کرائی گئی۔
علیم خان نے کہا کہ ’پی آئی اے قوم کا اثاثہ ہے۔ اس کو اونے پونے نہیں بیچا جا سکتا۔ ہمیں کے پی حکومت نے کہا وہ خریدنا چاہتے ہیں، کل میں نواز شریف سے بھی سنا۔ اگر کوئی بھی صوبہ خریدنا چاہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سندھ، پنجاب بلوچستان اور سندھ بھی سب صوبے اس میں اپنا اپنا حصہ ڈال دیں۔ میں آج بھی کہتا ہوں کہ اگر اس کو صحیح طریقے سے چلایا جائے تو اس سے پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ جو پی آئی اے کے ساتھ ہوا اور جس نے کیا وہ مجھے کہہ رہے ہیں کہ کوئی ایک پارٹی بتا دیں جس نے پی آئی اے کو نہ ڈبویا ہو۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’مجھ سے پہلے 25 وزیر نجکاری کے رہے ہیں۔ مجھے کاروبار چلانا بہت اچھا آتا ہے مگر یہ میرا کاروبار نہیں بلکہ قوم کی امانت ہے۔ اس کو بیچنا میری ذمہ داری ہے۔‘
خیال رہے کہ پی آئی اے ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جس کے سرمائے کا تقریباً 96 فیصد حصہ حکومت کے پاس ہے۔
بلیو ورلڈ سٹی کی جانب سے پی آئی اے کو خریدنے کے لیے 10 ارب کی بولی کا جائزہ پاکستان کی وفاقی کابینہ لے گی۔ یعنی یہ فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے کہ آیا اس بولی کو منظور یا مسترد کیا جائے گا۔
نجکاری کمیشن نے ابتدائی طور پر چھ بولی دہندگان کو اہل قرار دیا تھا تاہم ان میں سے پانچ اس عمل سے دور رہے۔